بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 48
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 48
آیت نمبر: 48 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۸﴾
ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں
اور ہم انہیں کوئی نشانی نہیں دکھاتے تھے مگر وہ پہلی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ (اپنی روش سے) باز آئیں۔
اور ہم انھیں کوئی نشانی نہیں دکھلاتے تھے مگر وہ اپنے جیسی (پہلی نشانی) سے بڑی ہوتی اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔

📖 احسن البیان

48۔ 1 ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائیں گئیں، جن کا تذکرہ سورة اعراف، آیات۔ (فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 133؁ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ 134؀ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ 135؁) 7۔ الاعراف:135-133) میں گزر چکا ہے۔ بعد میں آنے والی ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی چڑھی ہوتی، جس سے حضرت موسیٰ ؑ کی صداقت واضح سے واضح تر ہوجاتی۔ 48۔ 2 مقصد ان نشانیوں یا عذاب سے یہ ہوتا تھا کہ شاید وہ تکذیب سے باز آجائیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 48) {وَ مَا نُرِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا …:} فرعون اور اس کے سرداروں نے جب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہا اور ان کے معجزوں کو جادو قرار دے کر اپنے تمام ماہر جادوگر جمع کرکے ان کا مقابلہ کیا اور صاف شکست کے باوجود اپنے کفر پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کر دیا۔ اس پر انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے عذاب ہٹانے کی دعا کی درخواست کی اور قحط دور ہونے پر ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کیا۔ جب قحط دور ہوا تو وعدے سے مکر گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یکے بعد دیگرے کئی عذاب بھیجے، جن میں سے ہر ایک پہلے سے بڑی نشانی تھا اور ان عذابوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ کفر و تکبر سے پلٹ آئیں اور ایمان قبول کر لیں۔ تفصیل اس کی سورۂ اعراف (۱۳۳) میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (47) پوری سورۃ اگلی آیت (49) →