بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 49
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 49
آیت نمبر: 49 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ اِنَّنَا لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾
ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے
اور انہوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے
اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے
اور انہوں نے کہا کہ اے جادوگر! اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کرو۔ہم ضرور ہدایت پا جائیں گے۔
اور انھوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کے ذریعے دعا کر جو اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے، بے شک ہم ضرور ہی سیدھی راہ پر آنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔

📖 احسن البیان

49۔ 1 ' اپنے رب سے ' کے الفاظ اپنی مشرکانہ ذہنیت کی وجہ سے کہے کیونکہ مشرکوں میں مختلف رب اور اللہ ہوتے تھے، موسیٰ ؑ اپنے رب سے یہ کام کروا لو! 49۔ 2 یعنی ہمارے ایمان لانے پر عذاب ٹالنے کا وعدہ۔ 49۔ 3 اگر عذاب ٹل گیا تو ہم تجھے اللہ کا سچا رسول مان لیں گے اور تیرے ہی رب کی عبادت کریں گے لیکن ہر دفعہ وہ اپنا یہ عہد توڑ دیتے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور سورة اعراف میں بھی گزرا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 49) ➊ { وَ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ …:} یہاں یہ بات اختصار کے ساتھ ذکر ہوئی ہے، سورۂ اعراف میں تفصیل کے ساتھ ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۳۴ ] ”اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ! اپنے رب سے ہمارے لیے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور ہی بھیج دیں گے۔“ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی مشکل گھڑی میں جب وہ عذاب میں گرفتار تھے اور موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کر رہے تھے اس وقت بھی وہ موسیٰ علیہ السلام کو {” يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ “} (اے جادوگر!) کے ساتھ مخاطب کر رہے ہیں، حالانکہ اس وقت تو انھیں کسی اچھے لفظ سے مخاطب کرنا چاہیے تھا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام یہ صریح بہتان سن کر بھی انھیں کچھ نہیں کہتے، بلکہ ان کے لیے دعا کرکے انھیں عذاب سے نجات دلواتے ہیں۔ مفسرین نے اس کے کئی جواب دیے ہیں، یہاں ان میں سے دو جواب ذکر کیے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا: ”ساحر سے مراد عالم ہے، یہی ابن جریر نے فرمایا ہے۔ ان کے زمانے کے علماء جادوگر ہی تھے اور ان کے ہاں جادو بری چیز نہ تھا، اس لیے انھوں نے یہ الفاظ تنقیص کے لیے نہیں کہے، کیونکہ ان کی مجبوری کی حالت اس سے مناسبت نہیں رکھتی، بلکہ ان کے گمان کے مطابق یہ تعظیم کا لفظ تھا۔“ (ابن کثیر) دوسرا جواب یہ ہے کہ انھوں نے خطاب {” يَا مُوْسٰي “} کے الفاظ کے ساتھ ہی کیا تھا، جیسا کہ سورۂ اعراف کی آیت (۱۳۴) میں ہے، مگر وہ دل سے انھیں جادوگر سمجھتے تھے اور وہ جادو اور جادوگروں کو مذموم ہی سمجھتے تھے، جیسا کہ اس سے پہلے فرعون اور اس کے درباریوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا: «‏‏‏‏فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۲۴ ] ”تو انھوں نے کہا جادو گر ہے، بہت جھوٹا ہے۔“ اب ان کا حال دیکھیے کہ وہی شخص جسے وہ جادوگر سمجھتے تھے نہایت عاجزی کے ساتھ اسی سے دعا کی درخواست کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست کا ذکر فرماتے ہوئے ان کے دل کی حالت کا ذکر اپنے الفاظ میں فرمایا ہے۔ مقصود ان پر طعن ہے کہ جب جادوگر سمجھتے ہو اور ہمیشہ اسے اسی لفظ سے یاد کرتے ہو تو اس سے دعا کی درخواست کیسی؟ اور اگر مستجاب الدعاء کہتے ہو تو جادوگر کیوں سمجھتے ہو؟ یہ ایسے ہی ہے کہ قریش جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے، مشکل وقت میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست بھی کیا کرتے تھے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا حال بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: [ وَ إِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوْا عَنِ الْإِسْلاَمِ فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوْسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتّٰی هَلَكُوْا فِيْهَا، وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ وَ يَرَی الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَجَاءَهُ أَبُوْ سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! جِئْتَ تَأْمُرُنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا فَادْعُ اللّٰهَ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ الروم: ۴۷۷۴ ] ”قریش نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا کی: ”اے اللہ! ان کے خلاف یوسف(علیہ السلام) کے قحط والے سات سالوں جیسے سات سالوں کے ساتھ میری مدد فرما۔“ تو انھیں قحط نے آ لیا، یہاں تک کہ وہ اس میں برباد ہو گئے اور مردار اور ہڈیاں کھا گئے اور آدمی کو آسمان و زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوسفیان آیا اور کہنے لگا: ”اے محمد! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ آپ کی قوم برباد ہو گئی ہے، اس لیے اللہ سے دعا کیجیے۔“ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے قحط دور ہوا تو پھر منکر ہو گئے۔ مجھے یہ دوسرا جواب بہتر معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
← پچھلی آیت (48) پوری سورۃ اگلی آیت (50) →