بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 38
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 38
آیت نمبر: 38 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾
آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا، "کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بد ترین ساتھی نکلا"
یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے
یہاں تک کہ جب کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے،
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئیگا تو (اپنے شیطان سے) کہے گا اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرقومغرب کی دوری ہوتی تو بہت برا ساتھی ہے۔
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شیطان سے بچو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے ‘۔ آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ۱؎ [61-الصف:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «‏‏‏‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ» ۱؎ [41-فصلت:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں ‘، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ ‘ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔

ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ’ شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے ‘۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں ‘، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ‘۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔

📖 احسن البیان

38۔ 1 مراد مشرق اور مغرب کی دوری ہے، یہ کافر قیامت والے دن کہے گا لیکن اس دن اس اعتراف کا کیا فائدہ؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 38) ➊ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ …:} دنیا میں ہر وقت شیطان کے ساتھ رہنے کے بعد قیامت کے دن اللہ کے ذکر سے اندھا بننے والا انسان جب اپنے قرین کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہو گا تو حسرت و افسوس کے ساتھ اس سے کہے گا، کاش! میرے اور تیرے درمیان دو مشرقوں کی دوری ہوتی۔ دو مشرقوں سے مراد مشرق و مغرب ہیں۔ دونوں کو ”مشرقین “ کہہ دیا ہے، جیسے ابوبکر و عمر(رضی اللہ عنھما) کو ”عمرین “کہہ دیتے ہیں اور کھجور اور پانی کو ”اسودین “کہہ دیتے ہیں۔ دو مشرق بھی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ سردیوں میں سورج طلوع ہونے کی جگہ اور گرمیوں میں طلوع ہونے کی جگہ کے درمیان بہت فاصلہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ» ‏‏‏‏ [ الرحمان: ۱۷ ] ”(وہ) دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب۔“ ➋ { فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ: ”أَيْ بِئْسَ الْقَرِيْنُ أَنْتَ“} یعنی تو برا ساتھی ہے، جس نے دوست بن کر مجھے خراب و برباد کیا اور ہمیشہ کے عذاب میں پھنسا دیا۔ بعض مفسرین نے اسے اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دے کر معنی کیا ہے: {” فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ هُوَ “} یعنی پس وہ برا ساتھی ہے۔
← پچھلی آیت (37) پوری سورۃ اگلی آیت (39) →