جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیئے
احمد رضا خان بریلوی
جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اللہ نے ان کے عمل برباد کیے
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسرے لوگوں کو بھی) اللہ کے راستے سے روکا اس (اللہ) نے ان کے اعمال کو رائیگاں کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ،اس نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔ جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:23] ’ ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں ‘، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ { جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے }۔ [صحیح بخاری:6224] پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (1) اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے۔ (2)
اس سورت کا نام سورۂ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے، کیونکہ اس میں آپ کا اسم گرامی آیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا نام سورۂ قتال بھی ہے، کیونکہ اس میں لفظ قتال دو مرتبہ آیا ہے اور اس کا مرکزی مضمون کفار کے ساتھ قتال ہے۔ (آیت 1) ➊ {اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} چونکہ اس سورت کا اکثر حصہ مشرکین کے خلاف جنگ کے لیے ابھارنے پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورت کا آغاز کفار پر اپنے غضب اور ایمان والوں پر اپنی رحمت کے اظہار کے ساتھ کیا ہے، تاکہ ان کے کفر اور اللہ کی راہ سے روکنے کے جرم کی بنا پر مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ترغیب دی جا سکے۔ چنانچہ اس تمہید کے بعد فرمایا: «فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ» [ محمد: ۴ ] ”تو جب تم ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو خوب گردنیں مارنا ہے۔“ ➋ {صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ: ” صَدُّوْا “ ”صَدَّ يَصُدُّ “} (ن) لازم بھی آتا ہے ”اعراض کرنا“ اس کا مصدر{” صُدُوْدًا“} ہے اور متعدی بھی ”روکنا“ اس کا مصدر {”صَدًّا “} ہے،، یہاں دوسرا معنی مراد ہے، کیونکہ خود اعراض کرنے کی بات تو {” الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} میں آ گئی، بلکہ کفر اعراض سے زیادہ سخت ہے۔ اس لیے مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے یعنی اسلام قبول کرنے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع اور برباد کر دیے۔ یعنی کافر رہتے ہوئے ان لوگوں نے جو بظاہر اچھے کام کیے تھے، جیسے صدقہ و خیرات، مہمان نوازی، صلہ رحمی، خانہ کعبہ کی مرمت اور اس کا حج، مظلوم کی مدد وغیرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کو کوئی اجر نہیں ملے گا، کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۲۳) کی تفسیر۔ کافروں کے اعمال برباد کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام اعمال یعنی سازشیں اور منصوبے ناکام کر دیے جو وہ اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کام میں لاتے تھے۔ ➌ { صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ:} اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کسی کو زبردستی ایمان لانے سے روک دے۔ دوسری یہ کہ وہ ایمان لانے والوں پر ایسا ظلم و ستم ڈھائے کہ ان کے لیے ایمان پر قائم رہنا مشکل ہو جائے اور ان کی حالت زار دیکھ کر ایمان لانے کا ارادہ رکھنے والے ایمان لانے کی جرأت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لفظ ”فتنہ“ استعمال فرمایا ہے۔ تیسری یہ کہ وہ مختلف طریقوں سے اسلام کے خلاف لوگوں کو ورغلائے اور ان کے دلوں میں ایسے وسوسے ڈالے کہ وہ دین اسلام سے بدظن ہو جائیں۔ چوتھی یہ کہ ہر کافر اپنے بچوں اور زیر کفالت لوگوں کی تربیت کفر پر کرتا ہے جس سے ان کے لیے دینِ حق قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، اس طرح وہ اللہ کے راستے سے روکنے کا مجرم بنتا ہے۔ اللہ کے راستے سے روکنے کی ان تمام صورتوں کو ختم کرنے کے لیے کفار سے لڑنے کا حکم دیا۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اُس چیز کو مان لیا جو محمدؐ پر نازل ہوئی ہے اور ہے وہ سراسر حق اُن کے رب کی طرف سے اللہ نے ان کی برائیاں اُن سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور اچھے کام کیے اور اس پر بھی ایمان ﻻئے جو محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ پر اتاری گئی ہے اور دراصل ان کے رب کی طرف سے سچا (دین) بھی وہی ہے، اللہ نے ان کے گناه دور کر دیئے اور ان کے حال کی اصلاح کر دی
احمد رضا خان بریلوی
اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بھی کئے اور اس (قرآن) پر بھی ایمان لائے جو (حضرت) محمد (ص) پر نازل کیا گیا ہے جو کہ ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو اللہ نے ان کی برائیوں کا کفارہ ادا کر دیا (برائیاں دور کر دیں) اور انکی حالت کو درست کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کیا گیا اور وہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اس نے ان سے ان کی برائیاں دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔ جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:23] ’ ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں ‘، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ { جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے }۔ [صحیح بخاری:6224] پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔
2۔ 1 ایمان میں اگرچہ وحی محمدی یعنی قرآن پاک پر ایمان لانا بھی شامل ہے لیکن اس کی اہمیت اور شرف کو مزید واضح اور نمایاں کرنے کے لئے اس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔ 2۔ 2 یعنی ایمان لانے سے قبل کی غلطیاں اور کو تاہیاں معاف فرما دیں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے کہ اسلام ماقبل کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح الجامع الصغیر الالبانی) 2۔ 3 بالھم کے معنی امرھم شانھم حالھم یہ سب متقارب المعنی ہیں مطلب ہے کہ انہیں معاصی سے بچا کر رشد و خیر کی راہ پر لگا دیا ایک مومن کے لیے اصلاح حال کی یہی سب سے بہتر صورت ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ مال و دولت کے ذریعے سے ان کی حالت درست کردی کیونکہ ہر مومن کو مال ملتا بھی نہیں علاوہ ازیں محض دنیاوی مال اصلاح احوال کا یقینی ذریعہ بھی نہیں بلکہ اس سے فساد احوال کا زیادہ امکان ہے اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت مال کو پسند نہیں فرمایا۔
(آیت 2) ➊ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: ” اٰمَنُوْا “} میں اگرچہ عمل صالح بھی شامل ہے، کیونکہ عمل بھی ایمان کا جزو ہے، مگر اس کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے اسے علیحدہ بھی ذکر فرمایا۔ دیکھیے سورۂ عصر کی تفسیر۔ اسی طرح {”اٰمَنُوْا“} میں اگرچہ دوسری ایمانیات کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر نازل شدہ وحی پر ایمان بھی شامل ہے مگر اس کا شرف نمایاں کرنے کے لیے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ خصوصاً اس لیے کہ مدینہ میں کچھ ایسے یہود موجود تھے جو ایمان بالغیب کی تمام جزئیات پر ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجا لاتے تھے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننے کے باوجود یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کر دیتے تھے کہ آپ اُمیوں کے نبی ہیں۔ اب بھی کئی لوگ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی رہے یا نصرانی یا مسلمان، اگر اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں تو سب ٹھیک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اب ایمان وہی معتبر ہو گا جس میں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور آپ کی اطاعت کا عہد شامل ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ يَهُوْدِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوْتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ] [ مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۵۳ ] ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اس امت میں سے کوئی بھی شخص، یہودی ہو یا نصرانی، جو میرے بارے میں سنے، پھر اس حال میں فوت ہو کہ مجھے جو کچھ دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان نہ لایا ہو تو وہ آگ والوں میں سے ہو گا۔“ مزید دیکھیے سورۂ سبا (۲۸)۔ ➋ {وَ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ: ” الْحَقُّ “} جو واقع میں ثابت ہو اور کسی چیز کے اصل کے عین مطابق ہو۔ {” الْحَقُّ “} خبر پر الف لام لانے سے حصر پیدا ہو گیا۔ {” وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ “} مبتدا ہے اور {” كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ “} اس کی خبر ہے اور {” وَ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ “} درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی پر ایمان کی مزید تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی ہی کامل حق ہے جو رب تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ ➌ { كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ:} ایمان اور عمل صالح کی بدولت اللہ تعالیٰ پہلے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ فَلَمَّا جَعَلَ اللّٰهُ الْإِسْلَامَ فِيْ قَلْبِيْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِيْنَكَ فَلِأُبَايِعْكَ فَبَسَطَ يَمِيْنَهُ قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِيْ، قَالَ مَا لَكَ يَا عَمْرُو!؟ قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟ قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِيْ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَ أَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ ] [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یہدم ما قبلہ…: ۱۲۱ ] ”جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈالا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: ”اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو! تمھیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”میں شرط کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس بات کی شرط کرتے ہو؟“ میں نے کہا: ”یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اسلام اسے مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہو اور ہجرت اسے مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہو اور حج اسے مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہو۔“ ➍ {وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ:} طبری نے فرمايا: {” بَالٌ “} مصدر کی طرح ہے، جیسا کہ {”شَأْنٌ“} ہے، اس سے کوئی فعل نہیں بنایا جاتا۔ ضرورت شعری کے بغیر عرب اس کی جمع استعمال نہیں کرتے، اگر جمع بنائیں تو {”بَالَاتٌ“} بناتے ہیں۔“ شہاب نے فرمایا: {” بَالٌ“} حال اور شان کے معنی میں ہوتا ہے، بعض اوقات کسی عظیم معاملے کے ساتھ خاص ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ أَمْرٍ ذِيْ بَالٍ ] [ابن ماجہ: ۱۸۹۴] ”ہر بڑی شان والا کام۔“ اور کبھی دلی خیال کے لیے آتا ہے، مجازاً دل کو بھی کہہ لیا جاتا ہے۔“ اگر یہاں اس کی یہ تفسیر کی جائے تو یہ بھی اچھی تفسیر ہے۔ سفاقسی نے اس کی تفسیر فکر (سوچ) کے ساتھ کی ہے، کیونکہ جب دل اور سوچ درست ہو جائیں تو عقیدہ اور عمل سب درست ہو جاتے ہیں۔“ (تفسیر قاسمی) مطلب یہ ہے کہ کفار کے اعمال کو اللہ تعالیٰ ضائع اور برباد کر دیتا ہے، اس کے بر عکس ایمان اور عمل صالح والوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے، ان کا حال درست کر دیتا ہے اور ان کے دل اور سوچ کی اصلاح کر دیتا ہے اور انھیں شرک کے بجائے توحید کی، نافرمانی کے بجائے اتباعِ سنت کی اور گناہوں کے بجائے اعمالِ صالحہ کی توفیق سے نوازتا ہے، حتیٰ کہ ان کے گزشتہ گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۷۰)۔
یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اُس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اِس طرح اللہ لوگوں کو اُن کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے اس دین حق کی اتباع کی جو ان کے اللہ کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے احوال اسی طرح بتاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے حق کی پیروی کی اسی طرح خدا لوگوں کے حالات و اوصاف بیان کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے وہ اپنے رب کی طرف سے حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔ جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:23] ’ ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں ‘، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ { جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے }۔ [صحیح بخاری:6224] پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔
3۔ 1 ذلک یہ مبتدا ہے یا خبر ہے مبتدا محذوف کی ای الامر ذلک یہ اشارہ ہے ان وعیدوں کی طرف جو کافروں اور مومنوں کے لیے بیان ہوئے۔ 3۔ 2 تاکہ لوگ اس انجام سے بچیں جو کافروں کا مقدر ہے اور وہ راہ حق اپنائیں جس پر چل کر ایمان والے فلاح ابدی سے ہمکنار ہونگے۔
(آیت 3) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ …:} یعنی کفار کے اعمال برباد کرنے اور ایمان والوں کے گناہ دور کرنے اور ان کا حال درست کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے باطل کی پیروی اختیار کی اور اس کے پیچھے چل پڑے، جبکہ ایمان والے اس حق پر چلتے رہے جو ان کا اپنا طے کردہ نہیں تھا، بلکہ ان کے رب کی طرف سے نازل کیا ہوا تھا۔ دونوں کے راستے مختلف تھے، اس لیے ان کا انجام بھی مختلف ہوا۔ ➋ { كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ: ” أَمْثَالٌ“ ”مَثَلٌ“} کی جمع ہے، اس کا معنی مثال بھی ہے اور کسی چیز کا حال اور وصف بھی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، فرمایا: «مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [ محمد: ۱۵] ”اس جنت کا حال اور وصف جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے ہی سب لوگوں کے احوال بیان فرماتا ہے۔
پس جب اِن کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا، مگر (یہ طریقہ اُس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوتو گردنوں پر وار مارو۔ جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قید وبند سے گرفتار کرو، (پھر اختیار ہے) کہ خواه احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر تاوقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ یہی حکم ہے اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا، لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے، جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو تو گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو یہاں تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا مگر اس لئے تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ۔ یہاں تک کہ جب خوب خون ریزی کر چکو (خوب قتل کر لو) تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے)یا تو احسان کرو (رہا کردو)یا فدیہلے لو یہاں تک کہ جنگ میں اپنے ہتھیار ڈال دے (یہ حکم) اسی طرح ہے اور اگر خدا چاہتا تو خود ہی ان سے انتقاملے لیتا لیکن وہ تم لوگوں کے بعض کو بعض سے آزمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب تم ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کرچکو تو (ان کو) مضبوط باندھ لو، پھر بعد میں یا تو احسان کرنا ہے اور یا فدیہ لے لینا، یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے، (بات) یہی ہے۔ اور اگر اللہ چاہے تو ضرور ان سے انتقام لے لے اور لیکن تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ساتھ آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے تو وہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہو جائے ٭٭
یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہو جائے دستی لڑائی شروع ہو جائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قید و بند کے ساتھ مقید کر لو، جب لڑائی ختم ہو چکے، معرکہ پورا ہو جائے، تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لیے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی کرنے میں مسلمانوں پر عتاب کیا گیا تھا اور فرمایا تھا «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّـهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [8-الانفال:67] ، ’ نبی کو لائق نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ ایک مرتبہ جی کھول کر مخالفین میں موت کی گرم بازاری نہ ہو لے کیا تم دنیوی اسباب کی چاہت میں ہو؟ اللہ کا ارادہ تو آخرت کا ہے اور اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کا لکھا ہوا نہ ہوتا تو جو تم نے لیا اس کی بابت تمہیں بڑا عذاب ہوتا ‘۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یہ اختیار منسوخ ہے اور یہ آیت ناسخ ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبة:5] ، کی یعنی ’ حرمت والے مہینے جب گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ وہیں قتل کرو ‘۔ لیکن اکثر علماء کا فرمان ہے کہ منسوخ نہیں۔ اب بعض تو کہتے ہیں قتل کر ڈالنے کا بھی اختیار ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ { بدر کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابومعیط کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرا دیا تھا اور یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے جب کہ وہ اسیری حالت میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تھا کہ کہو ثمامہ! کیا خیال ہے؟، تو انہوں نے کہا: اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان رکھیں گے تو ایک شکر گزار پر احسان رکھیں گے اور اگر مال طلب کرتے ہیں تو جو آپ مانگیں گے مل جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4372]
امام شافعی رحمہ اللہ ایک چوتھی بات کا بھی اختیار بتاتے ہیں یعنی قتل، احسان، بدلے کا اور غلام بنا کر رکھ لینے کا۔ اس مسئلے کی تفصیل کی جگہ فروعی مسائل کی کتابیں ہیں۔ اور ہم نے بھی اللہ کے فضل و کرم سے کتاب الاحکام میں اس کے دلائل بیان کر دئیے ہیں۔ پھر فرماتا ہے یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے یعنی بقول مجاہد رحمہ اللہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/11:] ممکن ہے مجاہد رحمہ اللہ کی نظریں اس حدیث پر ہوں جس میں ہے { میری امت ہمیشہ حق کے ساتھ ظاہر رہے گی یہاں تک کہ ان کا آخری شخص دجال سے لڑے گا }۔۱؎ [سنن ابوداود:2484،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد اور نسائی میں ہے کہ { سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے میں نے گھوڑوں کو چھوڑ دیا اور ہتھیار الگ کر دئیے اور لڑائی نے اپنے ہتھیار رکھ دئیے اور میں نے کہہ دیا کہ اب لڑائی ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب لڑائی آ گئی، میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ لوگوں پر ظاہر رہے گی جن لوگوں کے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے، یہ ان سے لڑیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں ان سے روزیاں دے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے اور وہ اسی حالت پر ہوں گے مومنوں کی زمین شام میں ہے۔ گھوڑوں کی ایال میں قیامت تک کے لیے اللہ نے خیر رکھ دی ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1935،] یہ حدیث امام بغوی رحمہ اللہ نے بھی وارد کی ہے اور حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے بھی، اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ جو لوگ اس آیت کو منسوخ نہیں بتاتے گویا کہ یہ حکم مشروع ہے جب تک لڑائی باقی رہے اور اس حدیث نے بتایا کہ لڑائی قیامت تک باقی رہے گی یہ آیت مثل اس آیت کے ہے «قَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:193] ، یعنی ’ ان سے لڑتے رہو جب تک کہ فتنہ باقی ہے اور جب تک کہ دین اللہ ہی کیلئے نہ ہو جائے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑائی کے ہتھیار رکھ دینے سے مراد شرک کا باقی نہ رہنا ہے اور بعض سے مروی ہے کہ مراد یہ ہے کہ مشرکین اپنے شرک سے توبہ کر لیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کوششیں اللہ کی اطاعت میں صرف کرنے لگ جائیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ چاہتا تو خود ہی کفار کو برباد کر دیتا اپنے پاس سے ان پر عذاب بھیج دیتا لیکن وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں آزما لے ‘، اسی لیے جہاد کے احکام جاری فرمائے ہیں۔ سورۃ آل عمران اور برأت میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا ہے۔ آل عمران میں ہے «اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ’ کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ بغیر اس بات کے کہ اللہ جان لے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں اور تم میں سے صبر کرنے والے کون ہیں تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ ‘۔ سورۃ براۃ میں ہے «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّـهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» [9-التوبة:14-15] ’ ان سے جہاد کرو اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب کرے گا اور تمہیں ان پر نصرت عطا فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینے شفاء والے کر دے گا اور اپنے دلوں کے ولولے نکالنے کا انہیں موقعہ دے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا اللہ بڑا علیم و حکیم ہے ‘۔ اب چونکہ یہ بھی تھا کہ جہاد میں مومن بھی شہید ہوں اس لیے فرماتا ہے «وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:4] ’ شہیدوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ثواب انہیں دئیے جائیں گے ‘۔ بعض کو تو قیامت تک کے ثواب ملیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { شہید کو چھ انعامات حاصل ہوتے ہیں، اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی اس کے کل گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اسے اس کا جنت کا مکان دکھا دیا جاتا ہے اور نہایت خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے اس کا نکاح کرا دیا جاتا ہے وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتا ہے وہ عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے اسے ایمان کے زیور سے آراستہ کر دیا جاتا ہے }۔ ایک اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے۔ جو درو یاقوت کا جڑاؤ ہوتا ہے جس کا ایک یاقوت تمام دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے گراں بہا ہے۔ اسے بہتر حورعین ملتی ہیں اور اپنے خاندان کے ستر شخصوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے }۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے -۱؎ [سنن ترمذي:1663،قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح مسلم شریف میں ہے { سوائے قرض کے شہیدوں کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1886] شہیدوں کے فضائل کی اور بھی بہت حدیثیں ہیں۔
4۔ 1 جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا کہ اس تعبیر میں کفار کے ساتھ غلظت وشدت کا زیادہ اظہار ہے۔ (فتح القدیر) 4۔ 2 یعنی زور دار معرکہ آرائی اور زیادہ سے زیادہ ان کو قتل کرنے کے بعد ان کے جو آدمی قابو میں آجائیں انہیں قیدی بنا لو اور مضبوطی سے انہیں جکڑ کر رکھو تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔ 4۔ 3 من کا مطلب ہے بغیر فدیہ لیے بطور احسان چھوڑ دینا اور فداء کا مطلب کچھ معاوضہ لے کر چھوڑنا ہے قیدیوں کے بارے میں اختیار دے دیا گیا جو صورت حالات کے اعتبار سے اسلام اور مسلمانوں کے حق میں زیادہ بہتر ہو وہ اختیار کرلی جائے۔ 4۔ 4 یعنی کافروں کے ساتھ جنگ ختم ہوجائے یا مراد ہے کہ محارب دشمن شکست کھا کر یا صلح کر کے ہتھیار رکھ دے یا تمہاری معرکہ آرائی جاری رہے گی جس میں تم انہیں قتل بھی کرو گے قیدیوں میں تمہیں مذکورہ دونوں باتوں کا اختیار ہے بعض کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اور سوائے قتل کے کوئی صورت باقی نہیں ہے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں محکم ہے اور امام وقت کو چاروں باتوں کا اختیار ہے کافروں کو قتل کرے یا قیدی بنائے قیدیوں میں سے جس کو یا سب کو چاہے بطور احسان چھوڑ دے یا معاوضہ لے کر چھوڑ دے۔ (فتح القدیر) 4۔ 5 یا تم اسی طرح کرو افعلوا ذلک یا ذلک حکم الکفار۔ 4۔ 6 مطلب کافروں کو ہلاک کر کے یا انہیں عذاب میں مبتلا کر کے۔ یعنی تمہیں ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ 4۔ 7 یعنی ان کا اجر وثواب ضائع نہیں فرمائے گا۔
(آیت 4) ➊ { فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ: ” فَاِذَا “} میں فاء کا تعلق پہلے کلام سے ہے کہ جب کفار باطل کے پیروکار اور مومن حق کے پیروکار ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ حق کے پیروکار باطل کے پیروکاروں کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ زمین میں فساد پھیلاتے پھریں، لہٰذا جب تم (میدانِ جنگ میں) ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو ان کی گردنیں خوب اڑاؤ۔ ➋ {” فَاِذَا لَقِيْتُمْ“} کا لفظی معنی اگرچہ ”جب تم ملو“ ہے، مگر اس سے مراد یہ ہے کہ جب تمھارا ان سے مقابلہ ہو۔ یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی کافر سامنے آ جائے تو اسے قتل کر دو، کیونکہ قرآن مجید اور کلامِ عرب میں ”لقاءِ عدو“ سے مراد دشمن سے مقابلہ لیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» [ الأنفال: ۴۵ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ “ ➌ {” فَضَرْبَ الرِّقَابِ “} اصل میں {”فَاضْرِبُوا الرِّقَابَ ضَرْبًا“} ہے، فعل امر {”فَاضْرِبُوْا“} کو حذف کرکے مفعول مطلق {”ضَرْبًا“} کو اس کے قائم مقام کر دیا اور اسے مفعول بہ {” الرِّقَابِ “} کی طرف مضاف کر دیا۔ اس سے اختصار کے علاوہ کلام میں ہیبت اور زور بھی پیدا ہو گیا کہ کفار سے مقابلے کی صورت میں بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے گردنیں مارنا۔ ”ضرب“ کا لفظ عربی زبان میں تلوار کی کاٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے، نیزے کے لیے ”طعن“ اور تیر کے لیے ”رمي“ کا لفظ آتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قوت و شجاعت اور ہیبت کا مظاہرہ آمنے سامنے تیغ زنی میں ہے، خصوصاً جب تلوار گردن پر پڑے، اس لیے {” فَضَرْبَ الرِّقَابِ “} فرمایا، کیونکہ جو زورِ بیان اس لفظ میں ہے کسی اور میں نہیں۔ ورنہ مراد کسی بھی طریقے سے قتل کرنا ہے، تلوار سے ہو یا تیر سے یا نیزے سے یا کسی جدید اسلحہ سے اور اس اسلحے کی چوٹ خواہ گردن پر پڑے یا جسم کے کسی اور حصے پر۔ یا بلا اسلحہ ہی دشمن کو قتل کر دیا جائے، خواہ گلا گھونٹ کر، مکا مار کر یا جسم کے کسی نازک حصے پر چوٹ مار کر، غرض مقصد دشمن کو کسی بھی طریقے سے قتل کرنا ہے۔ ➍ {حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ: ” أَثْخَنَ يُثْخِنُ إِثْخَانًا“} (افعال) قتل اور خون ریزی میں مبالغہ کرنا۔ {”شَدَّ يَشُدُّ شَدًّا“ (ن) ”اَلشَّيْءَ“ } کسی چیز کو باندھنا۔ {”شَدَّ الْعُقْدَةَ أَوِ الْوَثَاقَ“} گرہ یا رسی کو مضبوطی سے باندھنا۔ {” الْوَثَاقَ “} رسی وغیرہ جس کے ساتھ باندھا جائے۔ یعنی جنگ کا اصل ہدف دشمن کی جنگی قوت کو توڑنا ہے، اس لیے جنگ کی ابتدا ہی میں دشمن کے آدمیوں کو گرفتار کرنے میں نہیں لگ جانا چاہیے، بلکہ زیادہ سے زیادہ خونریزی اور قتل کے بعد جب ان کا اچھی طرح قلع قمع ہو جائے اور لڑائی اختتام کو پہنچ چکی ہو تو پھر بچے کھچے لوگوں کو قیدی بنانا چاہیے، تاکہ ان میں دوبارہ مقابلے کی سکت باقی نہ رہے۔ جنگِ بدر میں مسلمانوں نے دشمن کو اچھی طرح تہ تیغ کرنے سے پہلے ہی اس کے آدمیوں کو قیدی بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ الأنفال:۶۷] ”کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ ➎ {فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً: ” مَنًّا “} اور {” فِدَآءً “} مفعول مطلق ہیں جن کا فعل حذف کر دیا گیا ہے اور تنوین تنکیر کے لیے ہے: {” أَيْ إِمَّا تَمُنُّوْنَ عَلَيْهِمْ مَنًّا بَعْدَ ذٰلِكَ وَ إِمَّا تُفَادُوْنَهُمْ فِدَاءً “} ”یعنی اس کے بعد یا تو ان پر احسان کر دو، کسی طرح احسان کرنا یا ان سے فدیہ لے لو، کسی طرح فدیہ لینا۔“ کسی طرح احسان کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں قتل نہ کیا جائے، بلکہ ان کی جان بخشی کرکے انھیں لونڈی و غلام بنا کر مسلمان افراد کے حوالے کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دائمی قید یا قتل کے مقابلے میں غلام بنا لینا کوئی کم احسان نہیں، خصوصاً اسلام میں لونڈی و غلام سے جس حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے اس کے ہوتے ہوئے دائمی قید یا قتل کے مقابلے میں یہ بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ بہت سے کاموں کے کفارے کی صورت میں اور مکاتبت یعنی کمائی کرکے اپنی قیمت ادا کرنے کی صورت میں ان کی آزادی کے مواقع موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم سے مفتوح لوگوں کو لونڈی و غلام بنانا تواتر سے ثابت ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر لونڈیوں اور غلاموں کا ذکر موجود ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۳،۲۴، ۳۶)، مومنون (۵، ۶)، احزاب (۵۰)، نحل (۷۱)، روم (۲۸)، نور (۳۱ تا ۳۳،۵۸) اور دوسری متعدد آیات۔ ان آیات و احادیث اور خلفائے راشدین کے عمل کے ہوتے ہوئے اسلام میں غلامی سے انکار کوئی ملحد ہی کر سکتا ہے، یا کوئی جاہل جسے کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم نہ ہو۔ قیدیوں پر کسی طرح احسان کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں بلامعاوضہ رہا کر دیا جائے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایسا کرنا مصلحت کا تقاضا ہو، مثلاً امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے، یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں سے باز آ جائیں گے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے سردار ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو بلامعاوضہ رہا کر دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۳۷۲) جنگ حنین کے کئی ہزار قیدیوں کو احسان فرما کر رہا کر دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۳۱۸، ۴۳۱۹) صلح حدیبیہ کے موقع پر اسّی (۸۰) آدمی تنعیم کی طرف سے آئے اور فجر کی نماز کے قریب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شب خون مارنے کا ارادہ کیا، مگر وہ سب کے سب پکڑ لیے گئے، پھر آپ نے سب کو چھوڑ دیا، تاکہ یہ معاملہ لڑائی کا باعث نہ بن جائے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح: ۲۴ ] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [ دیکھیے مسلم، الجہاد، باب قول اللہ تعالٰی: { وھو الذی کف أیدیہم عنکم }: ۱۸۰۸ ] فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو مستثنیٰ کرکے تمام اہلِ مکہ کو بطور احسان معاف فرما دیا۔ غزوۂ بنی مصطلق کے بعد جب اس قبیلے کے قیدی لائے گئے اور لوگوں میں تقسیم کر دیے گئے، تو اس وقت جویریہ رضی اللہ عنھا جس شخص کے حصے میں آئی تھیں اسے ان کا معاوضہ ادا کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدا اور آزاد کرکے ان سے نکاح کر لیا۔ اس پر تمام مسلمانوں نے اپنے حصے کے قیدی یہ کہہ کر رہا کر دیے کہ یہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار بن چکے ہیں۔ [ دیکھیے مسند أحمد: 277/6، ح: ۲۶۴۱۹ ] قیدیوں کے ساتھ احسان کی ایک صورت یہ ہے کہ ان پر جزیہ لگا کر انھیں مسلمانوں کا ذمی بنا لیا جائے، جیسا کہ فرمایا: «حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ» [ التوبۃ: ۲۹ ] ”یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔ “ قیدیوں پر احسان میں یہ بھی شامل ہے کہ جب تک وہ قید میں رہیں ان سے اچھا سلوک کیا جائے، ان کے کھانے پینے، لباس اور صحت وغیرہ کا خیال رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ دہر کی آیت (۸): «وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا» کی تفسیر۔ {” وَ اِمَّا فِدَآءً “} فدیہ لینے کی ایک صورت یہ ہے کہ ان سے کچھ مال لے کر انھیں آزاد کر دیا جائے، جیسا کہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لیا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۷۰) کی تفسیر۔ اور فدیے کی ایک صورت یہ ہے کہ رہائی کی شرط کے طور پر کوئی خاص خدمت لینے کے بعد ہی انھیں رہا کیا جائے، مثلاً وہ ان لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں جو ان کے سپرد کیے جائیں۔ اور فدیے کی ایک صورت یہ ہے کہ کفار کے ہاتھوں گرفتار کسی مسلم قیدی کی رہائی کے بدلے میں انھیں رہا کر دیا جائے، جیسا کہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ بنو فزارہ پر حملے میں جو قیدی آئے امیرِ لشکر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک نہایت حسین لونڈی انھیں زائد عطیہ کے طور پر دی، جب وہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ لونڈی اصرار کے ساتھ ہبہ کے طورپر مانگ لی، انھوں نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، تو: [ فَبَعَثَ بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰی أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدٰی بِهَا نَاسًا مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ كَانُوْا أُسِرُوْا بِمَكَّةَ ] [مسلم، الجہاد و السیر، باب التنفیل و فداء المسلمین بالأسارٰی: ۱۷۵۵ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کو کچھ مسلمانوں کے فدیے کے طور پر اہل مکہ کی طرف بھیج دیا، جو مکہ میں قید کیے ہوئے تھے۔“ ➏ اس آیت کے الفاظ سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ کفار کو قیدی بنا لینے کے بعد احسان یا فدیہ ہی میں سے کوئی ایک صورت اختیار کی جائے گی، انھیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے امیر کو انھیں قتل کرنے کا بھی اختیار ہے، جیسا کہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا۔ بنو قریظہ کے قیدیوں کو، جو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اپنے قلعوں سے نیچے اترے انھیں قتل کیا۔ فتح مکہ کے دن ابن خطل اور مقیس بن صبابہ کو قتل کیا اور اُحد کے بعد ابوعزہ شاعر کو قتل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ عمل کے بعد کسی کو یہ کہنے کا اختیار نہیں کہ کافر کو قید کرنے کے بعد کسی صورت قتل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ آپ سے بڑھ کر کوئی شخص قرآن مجید کا مطلب نہیں سمجھ سکتا۔ اگر کوئی شخص آیت کے الفاظ پر غور کرے تو خود اس میں قیدیوں کو قتل کرنے کا اختیار موجود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کو مضبوطی سے باندھنے کے حکم کے بعد فرمایا: «فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً» { ” مَنًّا “} کا معنی انعام و احسان ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک {”اَلْمَنَّانُ“} بھی ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ انعام کرنے والے پر لازم نہیں ہوتا کہ وہ انعام کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو انعام کیے ہیں وہ نہ اللہ پر واجب تھے نہ بندوں کا حق تھے، جسے ادا کرنا اللہ کے ذمے لازم ہو۔ اس لفظ {” مَنًّا “} (انعام و احسان) سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا قیدیوں کو زندہ رکھنا ان کی طرف سے قیدیوں کے لیے انعام ہے۔ اگر انھیں قتل کرنے کا اختیار ہی نہ ہو بلکہ انھیں ہر حال میں زندہ رکھنا ان پر واجب ہو تو انھیں چھوڑ دینا ان پر کوئی احسان و انعام نہیں ہو گا، بلکہ انھیں چھوڑ کر ان کا حق ادا کیا جائے گا جو مسلمانوں کے ذمے واجب تھا۔ اس لیے {” مَنًّا “} اور {” فِدَآءً “} کے دو الفاظ میں وہ چاروں صورتیں آ جاتی ہیں جن کا مسلمانوں کے امیر کو اختیار ہے اور وہ ہے قتل کرنا یا غلام بنانا یا بلامعاوضہ چھوڑنا یا فدیہ لے کر چھوڑنا۔ (بقاعی) صحیح بخاری میں ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیدی کو چھوڑنا اس کا استحقاق نہیں، اس پر انعام ہے۔ چنانچہ اس نے کہا: [ إِنْ تَقْتُلْنِيْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيْدُ الْمَالَ فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ ] [ بخاري، المغازي، باب وفد بني حنیفۃ…: ۴۳۷۲۔ مسلم: ۱۷۶۴ ] ”(اے محمد!) اگر تم مجھے قتل کرو تو ایک خون والے کو قتل کرو گے اور اگر انعام کرو تو ایک شکر گزار پر انعام کرو گے اور اگر مال چاہتے ہو تو مانگو جتنا چاہتے ہو۔“ ➐ {حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا: ” اَوْزَارَهَا “ ”وِزْرٌ“} کی جمع ہے جس کا معنی بوجھ ہے، مراد اس سے لڑائی کے ہتھیار ہیں، کیونکہ جب تک لڑائی باقی رہے ہتھیار اٹھانا پڑتے ہیں جو اٹھانے والوں کے لیے بوجھ ہوتے ہیں، یعنی کفار کی گردنیں مارتے رہو اور ان سے لڑائی جاری رکھو، حتیٰ کہ لڑائی ختم ہو جائے اور کسی کافر میں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی جرأت اور طاقت نہ رہے۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب مسلمان پوری زمین پر غالب ہوں اور کفار میں ان کے مقابل آنے کی اور ان کے حکم سے سر پھیرنے کی جرأت و ہمت باقی نہ رہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ» [ الأنفال: ۳۹] ”اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کفر و اسلام کا یہ معرکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يَبْرَحَ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا، يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰي تَقُوْمَ السَّاعَةُ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : ” لا تزال طائفۃ من أمتي ظاھرین علی الحق… “: ۱۹۲۲ ] ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ ➑ {ذٰلِكَ:} یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے: {” أَيْ اَلْأَمْرُ ذٰلِكَ“} یعنی بات یہی ہے جو گردنیں مارنے، قید کرنے، احسان کرنے اور فدیہ لینے کی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی، یا یہ فعل محذوف کا مفعول بہ ہے: {” أَيْ اِفْعَلُوْا ذٰلِكَ“} یعنی یہ کام کرو۔ یہ مختصر سا لفظ گزشتہ پوری تفصیل کو ذہن میں پختہ کرنے اور اس کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ ➒ {وَ لَوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اگر کفار اتنے ہی برے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود انھیں سزا کیوں نہیں دیتا؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے گردنیں مارنے اور دوسری باتوں کا حکم تمھیں دیا ہے، حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ خود کفار سے انتقام لے سکتا ہے۔ اس کے لیے اس کی طرف سے زلزلے کا ایک جھٹکا، بجلی کی ایک کڑک، سیلاب کا ایک ریلا یا آندھی کا ایک جھونکا کافی ہے، جیسا کہ اس نے گزشتہ کئی کافر اقوام کے ساتھ کیا۔ (دیکھیے عنکبوت:۴۰) لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو سب لوگ ہلاکت سے بچنے کے لیے ایمان لے آتے جو جبری اور اضطراری ہوتا، اپنی مرضی اور اختیار سے نہ ہوتا، اس طرح آزمائش اور امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا۔ ➓ { وَ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَاْ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ: ” لِيَبْلُوَاْ“} فعل محذوف کے متعلق ہے: {” أَيْ وَلٰكِنَّهُ أَمَرَكُمْ بِالْجِهَادِ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ“} ”یعنی لیکن اس نے تمھیں جہاد کا حکم اس لیے دیا ہے کہ تمھارے بعض کو بعض کے ساتھ آزمائے“ اور ظاہر ہو جائے کہ کون مخلص مومن ہے اور کون منافق، جیسا کہ فرمایا: «اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ» [ آل عمران: ۱۴۲ ] ”یا تم نے گمان کر لیا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔“ ایمان والوں کو جہاد کا حکم دینے میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتوں میں سے چند حکمتیں اس آیت میں بیان ہوئی ہیں، فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ (14) وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» [ التوبۃ: ۱۴،۱۵ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔ اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی تفصیل سورۂ توبہ کی مذکورہ بالا آیات میں ملاحظہ فرمائیں۔ ⓫ {وَ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ:} یعنی شہداء کے اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی جان سے گئے، انھیں کچھ بھی نہ ملا اور ان کی قربانی سے فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا جو اس دنیا میں زندہ رہے۔ فرمایا ایسا ہر گز نہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہر گز ضائع نہیں کرے گا، بلکہ اس سودے کا اصل نفع خود انھی کو حاصل ہو گا۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۱۱۱) کی تفسیر۔ شہداء کو ملنے والی چند نعمتوں کا ذکر اس آیت کے بعد متصل آیات میں بھی آ رہا ہے۔
وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں راه دکھائے گا اور ان کے حاﻻت کی اصلاح کر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
جلد انہیں راہ دے گا اور ان کا کام بنادے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (منزلِ مقصود کی طرف) ان کی راہنمائی کرے گا اور ان کی حالت کو درست کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ضرور انھیں راستہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [10-یونس:9] یعنی ’ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں ‘۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔ یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا }۔ صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے { جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535]
پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ’ اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا ‘ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔ حدیث میں ہے { جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا }۔ پھر فرماتا ہے ’ کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے ‘۔ حدیث میں ہے { دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2887] ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔
5۔ 1 یعنی انہیں ایسے کاموں کی توفیق دے گا جن سے ان کے لئے جنت کا راستہ آسان ہوجائے گا۔
(آیت 5) {سَيَهْدِيْهِمْ وَ يُصْلِحُ بَالَهُمْ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کی محنت ٹھکانے لگائے گا، انھیں جنت کے راستے پر لے جائے گا اور آخرت میں پیش آنے والے تمام مراحل میں ان کی حالت کو درست رکھے گا۔ عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُغْفَرُ لِلشَّهِيْدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب من قتل في سبیل اللہ کفرت خطایاہ إلا الدین: ۱۸۸۶ ] ”قرض کے سوا شہید کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ شہادت اور شہداء کے مزید بہت سے فضائل کی تفصیل کے لیے کتبِ احادیث میں سے جہاد کے ابواب ملاحظہ فرمائیں۔
اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہیں اس جنت میں لے جائے گا جس سے انہیں شناسا کر دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کو بہشت میں داخل کرے گا جس کا وہ ان سے تعارف کرا چکا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کروا دی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [10-یونس:9] یعنی ’ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں ‘۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔ یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا }۔ صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے { جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535]
پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ’ اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا ‘ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔ حدیث میں ہے { جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا }۔ پھر فرماتا ہے ’ کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے ‘۔ حدیث میں ہے { دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2887] ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔
6۔ 1 یعنی جسے وہ بغیر راہنمائی کے پہچان لیں گے اور جب وہ جنت میں داخل ہونگے تو از خود ہی اپنے اپنے گھروں میں جا داخل ہونگے۔ اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک جنتی کو اپنے جنت والے گھر کے راستوں کا اس سے زیادہ علم ہوگا جتنا دنیا میں اسے اپنے گھر کا تھا (صحیح بخاری)
(آیت 6) {وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ:} یعنی اللہ تعالیٰ انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان اس نے قرآن کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بہت اچھی طرح کروا دی ہے۔ اس سورت کی آیت (۱۵) میں بھی اس کی کچھ شناخت آ رہی ہے۔ جب وہ اس جنت میں جائیں گے تو وہ ان کے لیے اجنبی نہیں ہو گی، بلکہ عین اس وعدے اور شناخت کے مطابق ہو گی جو اللہ تعالیٰ نے انھیں کروا رکھی ہے۔ {” عَرَّفَهَا لَهُمْ “} میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی جنتی کو جنت میں اپنے گھر جانے کے لیے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِّنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتّٰی إِذَا هُذِّبُوْا وَنُقُّوْا أُذِنَ لَهُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَأَحَدُهُمْ أَهْدٰی بِمَنْزِلِهِ فِی الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا ] [بخاری، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ:۶۵۳۵ ] ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں ایک پل پر روک لیا جائے گا، جو جنت اور آگ کے درمیان ہے، پھر انھیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا قصاص دلایا جائے گا جو دنیا میں ہوئیں، یہاں تک کہ جب وہ خوب صاف ستھرے ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ سو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! ان میں سے ہر ایک کو جنت میں اپنے گھر کا راستہ اس سے زیادہ معلوم ہو گا جتنا اسے دنیا میں اپنے گھر کا راستہ معلوم تھا۔“
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وه تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ﺛابت قدم رکھے گا
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو اگر تم دین خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا (اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا)۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جما دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [10-یونس:9] یعنی ’ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں ‘۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔ یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا }۔ صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے { جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535]
پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ’ اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا ‘ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔ حدیث میں ہے { جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا }۔ پھر فرماتا ہے ’ کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے ‘۔ حدیث میں ہے { دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2887] ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔
7۔ 1 اللہ کی مدد کرنے سے مطلب اللہ کے دین کی مدد ہے کیونکہ وہ اسباب کے مطابق اپنے دین کی مدد اپنے مومن بندوں کے ذریعے سے ہی کرتا ہے یہ مومن بندے اللہ کے دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ ودعوت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے یعنی انہیں کافروں پر فتح و غلبہ عطا کرتا ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور قرون اولی کے مسلمانوں کی روشن تاریخ ہے وہ دین کے ہوگئے تھے تو اللہ بھی ان کا ہوگیا تھا انہوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ نے نہیں بھی دنیا پر غالب فرما دیا جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ ولینصرن اللہ من ینصرہ۔ الحج۔ اللہ اس کی ضرور مدد فرماتا ہے جو اس کی ضرور مدد فرماتا ہے جو اس کی مدد کرتا ہے۔ 7۔ 2 یہ لڑائی کے وقت تثبیت اقدام یہ عبارت ہے مواطن حرب میں نصرو معونت سے بعض کہتے ہیں اسلام یا پل صراط پر ثابت قدم رکھے گا۔
(آیت 7) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ:} اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین اور اللہ کے دوستوں کی مدد کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا: «وَ لَوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ» [ محمد: ۴ ] ”اور اگر اللہ چاہے تو ضرور ان سے انتقام لے لے۔“ اللہ کے دین کی مدد اس کی راہ میں جہاد اور جان و مال کی قربانی سے بھی ہوتی ہے اور اس کے دشمنوں پر دینِ حق کے دلائل و براہین قائم کرنے کے ساتھ بھی۔ ➋ { يَنْصُرْكُمْ:} اللہ تعالیٰ کی مدد دو طرح سے آتی ہے، ایک یہ کہ وہ ہمیں دنیا میں دشمنوں پر فتح اور غلبہ عطا فرما دے، مگر ایسا کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ ہمیں آخرت عطا فرما دے، خواہ دنیا میں کسی موقع پر شکست سے بھی دو چار ہونا پڑے۔ ➌ {وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ:} یعنی وہ تمھیں دین پر قائم رکھے گا، کسی شک و شبہ کا شکار نہیں ہونے دے گا، جنگ میں ثابت قدمی عطا فرمائے گا کبھی فرار کا خیال تک نہیں آنے دے گا، خواہ دشمن کتنی زیادہ تعداد میں ہوں اور قیامت کے دن ”صراط“ پر تمھارے قدم جمائے رکھے گا اور پھسلنے اور جہنم میں گرنے سے محفوظ رکھے گا، جب سب لوگ {” اَللّٰهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ“} (اے اللہ! سلامت رکھنا، سلامت رکھنا) کہہ رہے ہوں گے۔ [ دیکھیے بخاري: ۶۵۷۳ ]
رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے، تو اُن کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ کافر ہوئے انہیں ہلاکی ہو اللہ ان کے اعمال غارت کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے کفر کیا تو ان پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تو ان کیلئے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے کفر کیا سو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [10-یونس:9] یعنی ’ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں ‘۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔ یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا }۔ صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے { جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535]
پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ’ اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا ‘ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔ حدیث میں ہے { جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا }۔ پھر فرماتا ہے ’ کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے ‘۔ حدیث میں ہے { دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2887] ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8) ➊ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ: ” تَعْسًا “} کا معنی ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا ہے، یا کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہو جانا ہے۔ (مفردات) گویا اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کے تو اللہ تعالیٰ پاؤں جما دیتا ہے، اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے اور مومنوں کی تو مدد کی جاتی ہے جب کہ کافروں کے تمام اعمال برباد اور ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ (کیلانی) ➋ {” تَعْسًا“} کا فعل {” مَنَعَ “} اور {”سَمِعَ“} دونوں سے آتا ہے۔ {”تَعْسًا“} مصدر مفعول مطلق ہے جس کا فعل حذف ہونا واجب ہے: {” أَيْ تَعِسُوْا تَعْسًا۔“} پھر {” تَعِسُوْا “} کو حذف کرکے {”تَعْسًا“} مصدر کو اس کے قائم مقام کر دیا اور فعل کے فاعل جمع مذکر غائب کی ضمیر کو ظاہر کر دیا۔ ابن ہشام نے فرمایا کہ {” لَهُمْ “} میں لام تبیین کا ہے جو {” تَعْسًا“} کے فاعل کے بیان کے لیے ہے۔ معنی یہی ہے کہ وہ ہلاک ہوئے، بری طرح ہلاک ہونا۔
کیونکہ انہوں نے اُس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے، لہٰذا اللہ نے اُن کے اعمال ضائع کر دیے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ وه اللہ کی نازل کرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیئے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ انہیں ناگوار ہوا جو اللہ نے اتارا تو اللہ نے ان کا کیا دھرا اِکارت کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اسے ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ پس اس (اللہ) نے ان کے سب اعمال اکارت کر دئیے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» ۱؎ [10-یونس:9] یعنی ’ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں ‘۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔ یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا }۔ صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے { جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535]
پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ’ اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا ‘ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔ حدیث میں ہے { جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا }۔ پھر فرماتا ہے ’ کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے ‘۔ حدیث میں ہے { دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2887] ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔
9۔ 1 یعنی قرآن اور ایمان کو انہوں نے ناپسند کیا۔ 9۔ 2 اعمال سے مراد وہ اعمال ہیں جو صورۃ اعمال خیر ہیں لیکن عدم ایمان کی وجہ سے اللہ کے ہاں ان پر اجر وثواب نہیں ملے گا۔
(آیت 9) {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ …:} یعنی اس انجام کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کر دیے، کیونکہ اعمال کے بار آور ہونے کی شرط ان کا اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق ہونا ہے۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت کی تفسیر۔
کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ اُن لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ اللہ نے اُن کا سب کچھ اُن پر الٹ دیا، اور ایسے نتائج اِن کافروں کے لیے مقدر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر اس کا معائنہ نہیں کیا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لئے اسی طرح کی سزائیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کافروں کیلئے بھی ایسے ہی انجام ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور ان کافروں کے لیے بھی اسی جیسی( سزائیں) ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ { اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (صخر) بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا ”جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔“ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: { کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» } یعنی وہ کہتا تھا ”ہبل بت کا بول بالا ہو“، جس کے جواب میں کہا گیا ”سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔“ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ”ہمارا عزیٰ (بت) ہے اور تمہارا نہیں۔“ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا { «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4043]
10۔ 1 جن کے بہت سے آثار ان کے علاقوں میں موجود ہیں نزول قرآن کے وقت بعض تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات اور آثار موجود تھے اس لیے انہیں چل پھر کر ان کے عبرت ناک انجام دیکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی کہ شاید ان کو دیکھ کر ہی یہ ایمان لے آئیں۔ 10۔ 2 یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارے لئے بھی ایسی ہی سزا ہوسکتی ہے؟ اور گزشتہ کافر قوموں کی ہلاکت کی طرح، تمہیں بھی ہلاکت سے دو چار کیا جاسکتا ہے۔
(آیت 10) ➊ {اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یہ {” فَتَعْسًا لَّهُمْ “} ہی کی وضاحت ہے کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر پہلی تباہ شدہ قوموں کے آثار دیکھ کر ان کی ہلاکت کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا؟ نزولِ قرآن کے وقت ان میں سے بہت سے آثار موجود تھے اور بعض اب بھی باقی ہیں۔ {” اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا “} کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۹) اور سورۂ مومن (۲۱)۔ ➋ {دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ: ” دَمَّرَ “} ہلاک کر دیا۔ {”اَلدَّمَارُ“} ہلاکت۔ {” دَمَّرَ “} خود بھی متعدی ہے، اصل میں {”دَمَّرَهُمُ اللّٰهُ“} تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر دیا۔ مگر {” عَلَيْهِمْ “} لانے سے ہلاک کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے: {” أَيْ أَلْقٰي عَلَيْهِمُ الدَّمَارَ “} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ہلاکت اور تباہی ڈال دی۔ ➌ {وَ لِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا:” اَمْثَالُهَا “} میں ضمیر{”هَا“ ” عَاقِبَةُ “} کی طر ف لوٹ رہی ہے۔ {”أَمْثَالٌ“} کو جمع اس لیے لایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس جیسے بے شمار عذاب موجود ہیں۔ {” اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا “} کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ پہلی قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انھیں تباہ و برباد کر دیا اور ان موجودہ کافروں کے لیے بھی سرکشی اختیار کرنے کی صورت میں اس جیسے بے شمار عذاب تیار ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام پر رسولوں کی نافرمانی کی پاداش میں دنیا میں تباہی اور بربادی نازل کی، جس کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کافروں کے لیے دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی ایسے کئی عذاب تیار ہیں۔
یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اس لئے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لئے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کا سرپرست ہے اور جو کافر ہیں ان کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ اللہ ان لوگوں کا مدد گار ہے جو ایمان لائے اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ { اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (صخر) بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا ”جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔“ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: { کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» } یعنی وہ کہتا تھا ”ہبل بت کا بول بالا ہو“، جس کے جواب میں کہا گیا ”سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔“ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ”ہمارا عزیٰ (بت) ہے اور تمہارا نہیں۔“ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا { «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4043]
11۔ 1 چناچہ جنگ احد میں کافروں کے نعروں کے جواب میں مسلمانوں نے جو نعرے بلند کیے مثلا اعل ھبل اعل ھبل (ھبل بت کا نام ہے) کے جواب میں اللہ اعلی واجل کافروں کے انہی نعروں میں سے ایک نعرے لنا العزی ولا عزی لکم کے جواب مسلمانوں کا نعرہ تھا اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ ہمارا مددگار ہے تمہارا کوئی مددگار نہیں۔
(آیت 11) {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} یعنی کافروں پر ہلاکت نازل کرنے کا باعث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہلاکت سے بچا سکے۔ جب جنگِ اُحد میں ابوسفیان نے اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر نعرہ لگایا: {” إِنَّ لَنَا الْعُزَّي وَلاَ عُزَّي لَكُمْ “} (ہماری مددگار عزیٰ ہے اور تمھارا کوئی بھی مدد گار نہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا: [ اَللّٰهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَكُمْ ] [ بخاري، الجہاد، باب ما یکرہ من التنازع …: ۳۰۳۹ ] ”اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمھارا کوئی مدد گار نہیں۔“ یہ جواب اسی آیت سے ماخوذ ہے۔
ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے انہیں اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وه (دنیا ہی کا) فائده اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں، ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھائیں اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ (دنیا میں) بہرہ مند ہو رہے ہیں (عیش کر رہے ہیں) اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور (ان کا آخری) ٹھکانہ دوزخ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا فائدہ اٹھاتے اور کھاتے ہیں، جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور آگ ان کے لیے رہنے کی جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر جناب باری خبر دیتے ہیں کہ ایماندار قیامت کے دن جنت نشین ہوں گے اور کفر کرنے والے دنیا میں تو خواہ کچھ یونہی سا نفع اٹھا لیں لیکن ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔ دنیا میں ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور پیٹ بھرنا ہے اسے یہ لوگ مثل جانوروں کے پورا کر رہے ہیں، جس طرح وہ ادھر ادھر منہ مار کر گیلا سوکھا پیٹ میں بھرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے اسی طرح یہ ہے کہ حلال حرام کی اسے کچھ تمیز نہیں، پیٹ بھرنا مقصود ہے۔ حدیث شریف میں ہے { مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5396] جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [11-هود:20] دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟ جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“ پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔
12۔ 1 یعنی جس طرح جانور کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہی حال کافروں کا ہے، ان کا مقصد زندگی بھی کھانے کے علاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ اس ضمن میں کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے، جس کا آجکل دعوتوں میں عام رواج ہے کیونکہ اس میں بھی جانوروں سے مشابہت ہے جسے کافروں کا شیوا بتلایا گیا ہے احادیث میں کھڑے کھڑے پانی پینے سے نہایت سختی سے منع فرمایا گیا، جس سے کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے اس لئے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر کھانے سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔
(آیت 12) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} دنیا میں پہلی قوموں پر آنے والے عذابوں کا اور ایمان والوں کی نصرت کا ذکر فرمانے کے بعد آخرت میں دونوں کا انجام ذکر فرمایا۔ چونکہ مومن اپنے ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کے پابند رہے، انھوں نے دنیا کی نعمتوں اور لذتوں سے فائدہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند رہ کر اٹھایا۔ وہی کھایا اور پہنا جو ان کے رب نے ان کے لیے حلال فرمایا، وہ تمام حرام کردہ اشیاء سے بچے۔ شراب، ریشم اور سونے کے استعمال سے پرہیز کرتے رہے۔ زنا، چوری، دوسرے کا حق کھانے، غرض ہر معصیت سے اجتناب کیا۔ ان کی لذتیں اٹھانے کی بے شمار حسرتیں ان کے دل میں رہ گئیں اور انھوں نے یہاں ایک قیدی کی سی زندگی گزاری، جو صرف انھی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو انھیں قید کرنے والا مہیا کرے۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ انھیں عظیم الشان باغات میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور فرمائے گا کہ یہاں تمھارے دل کی ہر خواہش اور ہر طلب پوری ہو گی، بلکہ وہ کچھ ملے گا جو نہ تمھاری آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اور اکثر جگہ باغات اور نہروں ہی کا ذکر فرمایا ہے، اس لیے کہ دنیا کے مکانوں اور کوٹھیوں کا ایک حصہ گھر کے چمن پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے کہ پودوں، چشموں اور نہروں سے انسان کو فطری طور پر محبت ہے، مگر اصل مکان ان سے کہیں وسیع، خوبصورت اور قیمتی ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مکانات اور ان میں موجود رہنے سہنے، کھانے پینے، بیوی بچوں اور دوسری بے شمار اشیاء کی عظمت و شوکت کا اندازہ ان باغوں اور نہروں سے لگا لو جو بطورِ چمن ان مکانوں کے ساتھ ہیں۔ ➋ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ:} ایمان والوں کے برعکس کفار کھانے پینے اور دنیا کی لذتیں اٹھانے میں کسی پابندی کی پروا نہیں کرتے، انھیں حلال و حرام، اپنے یا دوسرے کے حق سے کوئی غرض نہیں، وہ خنزیر، مردار اور ہر حرام چیز کھاتے، شراب پیتے، زنا کرتے غرض دل کا ہر ارمان پورا کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہیا نہ ہو سکنے کی وجہ سے وہ کسی لذت سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، کیونکہ دنیا میں ہر شخص کو اتنا ہی ملتا ہے جو مالک نے لکھ دیا ہے، مگر اپنی حسرتیں پوری کرنے میں وہ کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے۔ دنیا ان کے لیے جنت ہے جہاں وہ ہر قید اور پابندی سے آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کاحال ہو بہو جانوروں جیسا ہے جو کھانے پینے، رہنے سہنے اور اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں کسی قید کے پابند نہیں ہیں، ان میں سے ہر طاقتور کمزور سے اس کا حق بھی چھین لیتا ہے۔ انھیں نہ عاقبت یاد ہے نہ باز پرس کی کوئی فکر ہے۔ ➌ {وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ:} چونکہ انھوں نے اپنے رب سے کفر کیا، نہ ایمان لائے نہ عمل صالح کیا، نہ اس کے احکام کی پابندی کی، اس لیے ان کا مستقل ٹھکانا آگ ہے۔ ➍ بعض لوگ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جانور کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں، اس لیے کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، مگر اس مقصد کے لیے اس آیت کے بجائے احادیث سے استدلال کرنا چاہیے اور اس مسئلے میں اتنی ہی سختی کرنی چاہیے جتنی احادیث سے ثابت ہے، کیونکہ ضرورت کے وقت سنت سے اس کی اجازت بھی ثابت ہے۔ ➎ چونکہ جانوروں کی ساری جدوجہد ہی کھانے پینے کے لیے ہوتی ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے کم کھانے پر زور دیا ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِيْ مِعًی وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِيْ سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ] [ بخاري، الأطعمۃ، باب المؤمن یأکل في معی واحد …: ۵۳۹۳ ] ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ اور مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاَتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ ] [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل: ۲۳۸۰، و قال الألباني صحیح ] ”کسی آدمی نے پیٹ سے برا برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ سو اگر کوئی چارہ نہیں تو تیسرا حصہ اس کے کھانے کے لیے، تیسرا اس کے پینے کے لیے اور تیسرا سانس کے لیے ہے۔“ جس طرح شریعت نے ہر بات میں انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے اسی طرح یہاں بھی اگر کبھی پیٹ بھر کر کھا لے تو اس کی گنجائش ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار بار اصرار پر دودھ پینا ہے، حتیٰ کہ انھیں کہنا پڑا کہ اب میرے پیٹ میں اس کی گنجائش نہیں۔ [ دیکھیے بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۴۵۲ ]
اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے کتنی بستیوں کو جو طاقت میں تیری اس بستی سے زیاده تھیں جس سے تجھے نکالا ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ہے، جن کا مددگار کوئی نہ اٹھا
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو تمہاری اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس نے تمہیں نکالا ہے کہ ہم نے انہیں ہلاک کر دیا پس ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو تیری اس بستی سے قوت میں زیادہ تھیں جس نے تجھے نکالا، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، پھر کوئی ان کا مددگار نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر جناب باری خبر دیتے ہیں کہ ایماندار قیامت کے دن جنت نشین ہوں گے اور کفر کرنے والے دنیا میں تو خواہ کچھ یونہی سا نفع اٹھا لیں لیکن ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔ دنیا میں ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور پیٹ بھرنا ہے اسے یہ لوگ مثل جانوروں کے پورا کر رہے ہیں، جس طرح وہ ادھر ادھر منہ مار کر گیلا سوکھا پیٹ میں بھرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے اسی طرح یہ ہے کہ حلال حرام کی اسے کچھ تمیز نہیں، پیٹ بھرنا مقصود ہے۔ حدیث شریف میں ہے { مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5396] جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [11-هود:20] دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟ جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“ پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) ➊ {وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِيَ اَشَدُّ قُوَّةً …:} اس کا عطف {” اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا “} پر ہے، درمیان میں بات سے بات نکلتی گئی ہے، دوبارہ پھر وہی سلسلۂ کلام شروع فرمایا ہے۔ اس میں کفارِ مکہ کے لیے وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ اہلِ مکہ جنھوں نے آپ کو اپنی بستی سے نکلنے پر مجبور کر دیا، اپنی قوت و شوکت پر مغرور نہ ہوں اور آپ ان کی قوت دیکھ کر دل برداشتہ نہ ہوں، ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، پھر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دیکھیے سورۂ روم (۹، ۱۰) اور سورۂ مومن (۲۱)۔ ➋ { ” قَرْيَةٍ “} سے مراد قریہ والے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے والد ماجد سے کہا: «وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا» [ یوسف:۸۲ ] ”اور اس بستی سے پوچھ لے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔“ اس لیے آگے {”أَهْلَكْنَا هَا“} کے بجائے {” اَهْلَكْنٰهُمْ “} (ہم نے انھیں ہلاک کر دیا) فرمایا، یعنی اس بستی والوں کو ہلاک کر دیا۔ پوری بستی کو نکالنے والا قرار دینے میں ناراضی کا اظہار ہے، کیونکہ کچھ نکالنے والے تھے اور کچھ خاموش رہ کر ان کا ساتھ دینے والے، جیسا کہ قومِ عاد کے متعلق فرمایا: «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا» [الشمس: ۱۴] ”تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔“ حالانکہ اونٹنی کو کاٹنے والا تو ایک ہی شخص تھا۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی اس لیے بھی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنے کا شدید رنج اور صدمہ تھا۔ عبد اللہ بن عدی بن حمراء الزہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {”حزوَرَه“} مقام پر کھڑے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاللّٰهِ! إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰهِ إِلَی اللّٰهِ وَ لَوْ لَا أَنِّيْ أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ] [ ترمذي، المناقب، باب في فضل مکۃ: ۳۹۲۵، و قال الألباني صحیح ] ” اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمین میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے تجھ سے نکال دیا گیا تو میں نہ نکلتا۔“
بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ اُن لوگوں کی طرح ہو جائے جن کے لیے اُن کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اُس جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کی بدعملی اس کی نگاہ میں خوشنما بنا دی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد:19] یعنی ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے ‘۔ اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] یعنی ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں ‘۔ پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید، بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پرذائقہ۔“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی البعث والنشور:293] «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» ۱؎ [37-الصافات:46] ’ جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے ‘۔ بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:19] ’ جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے ‘۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» ۱؎ [37-الصافات:47] ’ نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے }۔ حدیث شریف میں ہے کہ { یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں }۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے { یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:316/4:ضعیف] ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
طبرانی میں ہے { لقیط بن عامر نے جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بے مثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:211/19:] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔“ پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» ۱؎ [44-الدخان:55] ، یعنی ’ وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:52] ، ’ دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ‘۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔ جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟
14، 1 برے کام سے مراد شرک اور معصیت ہیں، مطلب وہی ہے جو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن و کافر، مشرک و موحد اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے ایک کے لئے اللہ کے ہاں اجر وثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لئے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن جس کا وعدہ متقین سے ہے۔
(آیت 14) ➊ {اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ …:} اس آیت میں مومن و کافر کے درمیان ایک اور فرق بیان فرمایا ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کفر کرنے والوں کا ٹھکانا آگ ہو گا۔ {” بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ “} (اپنے رب کی طرف سے دلیل) سے مراد ایک تو انسانی فطرت میں رکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی توحید ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہونے والی ہدایت اور علم ہے جس کی وجہ سے مومن کو اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو اس یقین کے ساتھ کہ میں حق پر ہوں اور دشمن کے مقابلے میں لڑتا اور شہید ہوتا ہے تو اسی یقین کے ساتھ۔ وہ جس راستے پر چل رہا ہے اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ فرمایا کیا یہ شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال خوش نما بنا دیے گئے ہیں، حتیٰ کہ رسول اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بھی اسے اچھا کام نظر آتا ہے اور وہ وحی اور ہدایت کے نور سے منہ موڑ کر کفر و شرک اور اندھا دھند اپنی خواہش کی پیروی کی راہ پر چل نکلا ہے جس سے اس کا نورِ فطرت بھی بجھ چکا ہے؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہر گز برابر نہیں ہو سکتے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کا انجام بھی کسی صورت ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورۂ رعد (۱۹)، سورۂ ص (۲۸) اور سورۂ جاثیہ (۲۱)۔ ➋ احسن التفاسیر میں ہے: ”حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے پاس یہ سند (بینہ اور دلیل) ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورتوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحدہٗ لا شریک لہ ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی شرعی یا عقلی دلیل نہیں ہے۔ بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کرکے دکھا دیا ہے، اس لیے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسے کے سبب اپنی خواہش پر چلتے ہیں۔ اسی کو {” وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ “} فرمایا۔“ (مختصراً) ➌ { ” كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ “} (اس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے) میں برے اعمال مزین کرنے والے کا ذکر مجہول رکھا ہے، کیونکہ آدمی کے لیے اس کے اعمال بد کو مزین کرنے والی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن میں اس کی خواہش نفس بھی ہے، انسانی اور جنی شیطان بھی اور اس کے اعمالِ بد کی نحوست بھی۔ فعل مجہول (مزین کر دیے گئے) میں مزین کرنے والی یہ سب اشیاء آ جاتی ہیں۔
پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں تغیر نہیں ہوتا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلتا اور ایسے شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہے اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو صاف شفاف ہے اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے کیا ایسے (پرہیزگار) لوگ ان لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد:19] یعنی ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے ‘۔ اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] یعنی ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں ‘۔ پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید، بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پرذائقہ۔“ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی البعث والنشور:293] «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» ۱؎ [37-الصافات:46] ’ جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے ‘۔ بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:19] ’ جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے ‘۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» ۱؎ [37-الصافات:47] ’ نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے }۔ حدیث شریف میں ہے کہ { یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں }۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے { یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:316/4:ضعیف] ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
طبرانی میں ہے { لقیط بن عامر نے جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بے مثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:211/19:] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔“ پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» ۱؎ [44-الدخان:55] ، یعنی ’ وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:52] ، ’ دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ‘۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔ جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟
15۔ 1 آسن کے معنی متغیر یعنی بدل جانے والا غیر آسن نہ بدلنے والا یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہوجاتا ہے جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب پیو تازہ مفرح اور صحت افزا۔ جب دنیا کا پانی خراب ہوسکتا ہے تو شریعت نے اسی لیے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہوجائے گا۔ 15۔ 2 جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعص دفعہ خراب ہوجاتا ہے جو گایوں بھینسوں اور بکریوں وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے جنت کا دودھ چونکہ اس طرح جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ اس کی نہریں ہوں گی اس لیے جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا۔ 15۔ 3 دنیا میں جو شراب ملتی ہے وہ عام طور پر نہایت تلخ بدمزہ اور بدبودار ہوتی ہے علاوہ ازیں اسے پی کر انسان بالعموم حواس باختہ ہوجاتا ہے اول فول بکتا ہے اور اپنے جسم تک کا ہوش اسے نہیں رہتا جنت کی شراب دیکھنے میں حسین ذائقے میں اعلی اور نہایت خوشبودار ہوگی اور اسے پی کر کوئی انسان بہکے گا نہ کوئی گرانی محسوس کرے گا بلکہ ایسی لذت و فرحت محسوس کرے گا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ) 37۔ الصافات:48)۔ نہ اس سے چکر آئے گا نہ عقل جائے گی۔ 15۔ 4 یعنی شہد میں بالعموم جن چیزوں کی آمیزش کا امکان رہتا ہے جس کا مشاہدہ دنیا میں عام ہے جنت میں ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا بالکل صاف شفاف ہوگا کیونکہ یہ دنیا کی طرح مکھیوں سے حاصل کردہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی بھی نہریں ہوں گی اسی لیے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی تم سوال کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو اس لیے کہ وہ جنت کا درمیانہ اور اعلی درجہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے۔ صحیح بخاری۔ کتاب الجہاد۔ 15۔ 5 یعنی جن کو جنت میں وہ اعلٰی درجے نصیب ہونگے جو مذکور ہوئے کیا وہ ایسے جہنمیوں کے برابر ہیں جن کا یہ حال ہوگا؟ ظاہر بات ہے ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ایک درجات میں ہوگا اور دوسرا درکات (جہنم) میں۔ ایک نعمتوں میں دادو طرب و عیش لے رہا ہوگا، دوسرا عذاب جہنم کی سختیاں جھیل رہا ہوگا۔ ایک اللہ کا مہمان ہوگا جہاں انواع اقسام کی چیزیں اس کی تواضع اور اکرام کے لئے ہونگی اور دوسرا اللہ کا قیدی، جہاں اس کو کھانے کے لئے زقوم جیسا تلخ و کسیلہ کھانا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔
(آیت 15) ➊ { مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ…: ” مَثَلُ “} کا معنی یہاں حال یا صفت ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو جنتوں میں داخل کرنے کا ذکر فرمایا، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور کفار کا ٹھکانا آگ بیان فرمایا۔ اب اس جنت اور جہنم کا کچھ مزید حال بیان فرمایا، خصوصاً جنت کی نہروں کا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر جنت کے ساتھ اس کی نہروں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں جنت کی چار قسم کی نہروں کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ جنت کی تمام نہروں کا سرچشمہ عرش کے نیچے جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَسَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ، وَ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ] [ بخاري، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء» …: ۷۴۲۳ ] ”تو جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا افضل اور جنت کا سب سے بلند مقام ہے اور اس سے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“ اور معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ وَ بَحْرَ الْعَسَلِ وَبَحْرَ اللَّبَنِ وَبَحْرَ الْخَمْرِ ثُمَّ تُشَقَّقُ الْأَنْهَارُ بَعْدُ ] [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ أنھار الجنۃ: ۲۵۷۱، و قال الترمذي و الألباني صحیح ] ”جنت میں پانی کا سمندر ہے اور شہد کا سمندر ہے اور دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر بعد میں نہریں پھوٹتی ہیں۔“ ➋ { فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ: ” اٰسِنٍ “ ”أَسِنَ يَأْسَنُ“} سے اسم فاعل ہے، جس طرح {”أَمِنَ يَأْمَنُ“} سے {”آمِنٌ“} اسم فاعل ہے۔ یہ باب {”ضَرَبَ“} اور {” نَصَرَ“} کے وزن پر بھی آتا ہے: {”أَيْ مُتَغَيَّرُ اللَّوْنِ وَالرِّيْحِ وَالطَّعْمِ“} ”جس کا رنگ، بو اور ذائقہ بدلا ہوا ہو۔“ یعنی جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو ایسا صاف ہے کہ اس کے ذائقے یا رنگ یا بو میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، بخلاف دنیا کے پانی کے جو کچھ عرصہ گزرنے پر اپنے رنگ، ذائقہ اور بو کی صفائی کھو بیٹھتا ہے، اس پر کائی آ جاتی ہے، گرد و غبار کے ساتھ گندا ہو جاتا ہے اور اس میں پیدا ہونے والے جراثیم اور دوسری چیزیں اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑتیں۔ ➌ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ:} دنیا میں جانوروں کے تھنوں سے جو دودھ نکلتا ہے اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہو جاتی ہے اور کچھ دوہنے والے کے ہاتھوں اور ماحول کے گرد و غبار کی، پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے، اس کا ذائقہ ترش اور بد مزہ ہو جاتا ہے اور اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے۔ جنت میں دودھ تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ پانی کی طرح چشموں سے رواں ہو گا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا، اس کے ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ➍ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ: ” لَذَّةٍ “ ”لَذٌّ“} کی مؤنث ہے، کیونکہ یہ {” خَمْرٍ “} کی صفت ہے جو مؤنث سماعی ہے۔ {” لَذٌّ“} اور {”لَذِيْذٌ“} دونوں صفت مشبّہ ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ دنیا میں لوگ شراب صرف اس سرور کے لیے پیتے ہیں جو اس کے پینے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اس سرور کی خاطر شراب کی ان تمام قباحتوں کو برداشت کرتے ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں کہ وہ نہایت بدبو دار ہوتی ہے، تلخ اور بدذائقہ ہوتی ہے۔ اس کے پینے سے آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے، الٹیاں آتی ہیں اور جب نشہ ٹوٹتا ہے تو سر چکرانا اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب کی کوئی خرابی نہیں ہو گی، نہ درد سر، نہ چکر، نہ بدبو اور نہ ذائقے کی تلخی، بلکہ وہ نہایت لذیذ ہو گی اور فرحت و سرور لائے گی، عقل پر پردہ یا کوئی اور خرابی نہیں لائے گی۔ ➎ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى:} دنیا کا شہد مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے، اسے حاصل کرتے وقت مکھیوں اور اس کے بچوں کے کچھ اجزا، موم، گرد و غبار اور تنکے وغیرہ لازماً شامل ہو جاتے ہیں، پھر دیر تک پڑا رہنے سے کھٹا ہو جاتا ہے، اس میں خمیر پیدا ہو جاتا ہے۔ غرض اس کے پوری طرح صاف ہونے اور رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں، جب کہ جنت کی نہروں کا شہد مکھیوں کے پیٹ کا مرہونِ منت نہیں بلکہ براہ راست شہد کے سمندر سے نکل کر ہر جنتی کے گھر پہنچتا ہے اور ہمیشہ نہایت صاف شفاف اور ہر قسم کی کدورت سے پاک رہتا ہے۔ صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں: ”اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے، برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہو جائے۔ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہو جائے۔“ ➏ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ:} پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا اختصار کے ساتھ ذکر فرمایا اور ان میں سے بھی اناج وغیرہ کے بجائے پھلوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ جنت کے کھانے بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ محض لذت کے لیے ہوں گے، فرمایا: «اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى» [طٰہٰ: ۱۱۸] ”بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔ “ اور لذت میں پھلوں کا مقام سب جانتے ہیں۔ ➐ {وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ: ” مَغْفِرَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی یا عظیم مغفرت“ ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت یہ ہو گی کہ انھیں عظیم مغفرت سے نوازا جائے گا۔ {”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے، یعنی جنت میں ان کے گناہوں پر ان کے رب کی طرف سے ایسا عظیم پردہ ڈالا جائے گا کہ ان کا ذکر تک ان کے سامنے نہیں آئے گا کہ وہ کہیں شرمندہ نہ ہوں۔ ➑ { كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ:} یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو پچھلی آیت: «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ» سے سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ أَفَمَنْ هُوَ مِنْ أَهْلِ هٰذِهِ الْجَنَّةِ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ“} ”یعنی تو کیا وہ شخص جو ان اوصاف والی جنت والوں میں سے ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟“ ➒ { وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا:} اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ اس سے پہلے جملے {” كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ “} میں لفظ {”مَنْ“} کے مفرد ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ واحد کا صیغہ {” هُوَ “} استعمال ہوا ہے اور اس جملے میں {”مَنْ“} کے معنی کے عام ہونے کو ملحوظ رکھتے ہوئے جمع کا صیغہ {” سُقُوْا “} استعمال ہوا ہے۔ ➓ { فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ: ”قَطَعَ يَقْطَعُ قَطْعًا“} (ف) کاٹنا۔{ ” قَطَّعَ يُقَطِّعُ تَقْطِيْعًا “} (تفعیل) میں مبالغہ ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ {” اَمْعَآءَهُمْ “ ”مِعًي“} کی جمع ہے جو اصل میں {”مِعَيٌ“} بروزن {”عِنَبٌ“} ہے۔ یاء پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرا دیا، یاء اور نونِ تنوین دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء کو گرا دیا تو {”مِِعًي“} ہو گیا، جس کا تثنیہ {”مِعَيَانِ“} اور {”مِعَيَيْنِ“} آتا ہے۔ اس جیسا ایک اور لفظ {” آنَاءٌ“} ہے جو {” إِنًي“} کی جمع ہے۔ {” آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ“} ”دن رات کی گھڑیاں۔“ یعنی جہنمیوں کو انتہا درجے کا گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان میں بعض (ایسے بھی ہیں کہ) تیری طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے (بوجہ کند ذہنی وﻻپرواہی کے) پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وه اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں علم والوں سے کہتے ہیں ابھی انہوں نے کیا فرمایا یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو (بظاہر) تمہاری طرف کان لگا کر (بات سنتے ہیں) یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان (خاص) لوگوں سے پوچھتے ہیں جن کو علم عطا کیا گیا ہے کہ انہوں (رسول(ص)) نے ابھی کیا کہاتھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں ابھی اس نے کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124] بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346] ۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔ ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
1 6 ۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اسلیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ ؓ سے پوچھتے کہ آپ نے کیا فرمایا۔
(آیت 16) ➊ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ:} مشرکین اور ان کے انجامِ بد کے ذکر کے بعد اہل کتاب کفار اور کفار کی بدترین قسم منافقین کا ذکر فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے، آپ کی باتیں کان لگا کر سنتے، مگر ماننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی مفید مطلب باتیں ڈھونڈنے کے لیے، جن کے ساتھ وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرتے۔ چونکہ ان کے دل و دماغ پر کفر حاوی تھا، قیامت پر ایمان وہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اجنبی تھیں، ان کے دل میں وہ مفہوم بیٹھتا ہی نہیں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہوتا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص ان کے خیال میں موہوم آخرت کے لیے اپنی دنیا کا نقصان بھی کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کی ساری تگ و دو ہی دنیا کے لیے ہو وہ پیغمبروں کی بات سمجھ ہی نہیں سکتا، جیسا کہ شعیب علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا: «يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ» [ھود: ۹۱] ”اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے۔“ ➋ {حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ …: ” اُوْتُوا الْعِلْمَ “} سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی ذات و صفات، اپنے پیغمبروں، اپنی کتابوں، اپنے فرشتوں، یوم آخرت اور تقدیر کے علم اور ان سب پر ایمان کی روشنی عطا فرما رکھی تھی۔ یعنی جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے نکلتے ہیں تو آپ کی باتوں کی تحقیر کرتے ہوئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے علم و ایمان سے آراستہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا کہ ابھی ابھی اس نے کیا کہا ہے، کیا آپ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آیا ہے؟ ➌ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:} فرمایا ان کے نہ سمجھنے کی دو وجہیں ہیں، ایک تو یہ کہ ان کے کفر پر اصرار اور عناد کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اس لیے وہ سمجھ سکتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا» [النساء: ۱۵۵] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کر دی تو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔ “ ➍ {وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ:} یہ نہ سمجھنے کی دوسری وجہ ہے کہ وہ کوئی عقلی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ صرف وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کی خواہش کے مطابق ہوں اور مرضی کے خلاف وہ کوئی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب کسی کی یہ حالت ہو جائے تو فی الواقع اس کی خواہش کے خلاف کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، نہ ہی وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی اچھی ہو۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ اُن کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں اُن کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے راہ پائی اللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے ہدایت طلب کی ہے اللہ ان کی ہدایت میں اور اضافہ کرتا ہے اور ان کو (ان کے حصے کی) پرہیزگاری عطا کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت قبول کی اس نے انھیں ہدایت میں بڑھادیا اور انھیں ان کا تقویٰ عطا کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124] بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346] ۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔ ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
17۔ 1 یعنی جن کی نیت ہدایت حاصل کرنے کی ہوتی ہے تو اللہ ان کو ہدایت کی توفیق بھی دے دیتا ہے اور ان کو اس ثابت قدمی بھی عطا کرتا ہے۔
(آیت 17) {وَ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى …:} یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چل پڑتے ہیں تو وہی باتیں ان کی ہدایت میں اضافے کا باعث بن جاتی ہیں جو منافقین کی سمجھ میں نہیں آتیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے انھیں مزید ہدایت عطا فرماتا ہے اور انھیں ان کاموں کی توفیق عطا فرماتا ہے جن کے ذریعے سے وہ جہنم کی آگ سے بچ جاتے ہیں۔
اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک اِن پر آ جائے؟ اُس کی علامات تو آ چکی ہیں جب وہ خود آ جائے گی تو اِن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
علامہ محمد حسین نجفی
سو یہ لوگ تو بس اب قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ اچانک ان پر آجائے تو اس کے آثار و علا مات تو آہی چکے ہیں اور جب وہ آجائے گی تو پھر ان کو نصیحت حاصل کرنے کاموقع کہاں رہے گا؟
عبدالسلام بن محمد
تو وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ ان پر اچانک آجائے، پس یقینا اس کی نشانیاں آچکیں، پھر ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہو گی ، جب وہ ان کے پاس آجائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124] بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346] ۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔ ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
18۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین۔ صحیح بخاری۔ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔ 18۔ 2 یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کرسکیں گے؟ مطلب ہے اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو مقبول نہیں ہوگی اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔
(آیت 18) ➊ { فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً:} یعنی کون سی نصیحت اور کون سی وعید ہے جو انھیں نہیں سنائی گئی اور کون سی دلیل ہے جو ان کے سامنے پیش نہیں کی گئی، مگر وہ اتنے بدبخت ہیں کہ جب تک قیامت کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے گویا اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے سامنے آ کھڑی ہو، نہ پہلے علم ہونے کی وجہ سے اس پر ایمان لا سکیں نہ اس کی تیاری کر سکیں۔ ➋ { فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا:} یعنی جس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس کے آنے میں دیر بھی کیا رہ گئی ہے، اس کی نشانیاں تو آ ہی چکی ہیں، اب اس کے آنے میں کیا شبہ باقی ہے؟ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا ہونا ہے۔ سب نبی خاتم النّبیین کی راہ دیکھتے تھے، جب وہ آ چکے تو قیامت ہی آنی رہ گئی ہے۔“ (موضح) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ] [ بخاري، الرقاق، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” بعثت أنا والساعۃ کھاتین… “: ۶۵۰۵ ] ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں۔“ یعنی جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ایک دوسری سے ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے بعد متصل آ رہی ہے۔ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے شقِ قمر کی نشانی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ظاہر ہو چکی تھی، جیسا کہ فرمایا: «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ» [ القمر: ۱ ] ”قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ “ آلوسی نے فرمایا: ”ظاہر یہ ہے کہ ان نشانیوں سے وہی نشانیاں مراد ہیں جو اس آیت کے نزول کے وقت نمودار ہو چکی تھیں۔“ ➌ {فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ: ” ذِكْرٰىهُمْ “} مبتدا ہے اور {” فَاَنّٰى لَهُمْ “} اسم استفہام خبر مقدم ہے۔ {” فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ “} (پھر جب وہ ان کے پاس آ گئی تو ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہو گی)، {” اِذَا جَآءَتْهُمْ “} میں {”جَاءَتْ“} کا فاعل {” السَّاعَةَ “} کی ضمیر ہے۔ (التسہیل) یعنی جب ان کے پاس قیامت آ گئی تو نصیحت قبول کرنے یا مان لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یہی بات اس آیت میں بیان ہوئی ہے: «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [ الفجر: ۲۳] ”اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور (اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔“ مزید دیکھیے سورۂ سبا (۵۱، ۵۲) اور سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔
پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا اور رات کو تمہارا آرام لینا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) خوب جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدانہیں ہے اور خدا سے اپنے ذنب اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی مغفرت طلب کریں۔ اللہ تمہاری گردش (چلنے پھر نے) کی جگہ کو اور تمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ تمھارے چلنے پھرنے اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124] بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771] اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346] ۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔ ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
19۔ 1 یعنی اس عقیدے پر ثابت اور قائم رہیں کیونکہ یہی توحید اور اطاعت الہی مدار خیر ہے اور اس سے انحراف یعنی شرک اور معصیت مدار شر ہے۔ 19۔ 2 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے، اپنے لئے بھی اور مومنین کے لئے بھی استغفار کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ احادیث میں بھی اس پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یَا اّیُّھَا النَّاسُ! تُوْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ فَاِنِّی اَسْتَغْعِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیہِ فِی الیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً (صحیح بخا ری) لوگو! استغفار کیا کرو، میں بھی اللہ کے حضور روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔ بارگاہ الٰہی میں توبہ واستغفار کرتا ہوں۔ 19۔ 3 یعنی دن کو تم جہاں پھرتے اور جو کچھ کرتے ہو اور رات کو جہاں آرام کرتے اور استقرار پکڑتے ہو اللہ تعالیٰ جانتا ہے مطلب ہے شب وروز کی کوئی سرگرمی اللہ سے مخفی نہیں ہے۔
(آیت 19) ➊ { فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ:} اس فاء کو فصیحہ (اظہار کرنے والی) کہتے ہیں، یعنی اس سے اس شرط کا اظہار ہوتا ہے جو گزشتہ کلام سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کا تعلق سورت کی گزشتہ تمام آیات کے ساتھ ہے، یعنی جب تم کفار اور ایمان والوں کا حال جان چکے اور یہ بھی کہ بھلائی اور کامیابی کا دارومدار توحید اور اطاعت پر ہے اور برائی اور ناکامی کا دار ومدار شرک اور نافرمانی پر ہے تو یہ بات بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (ابو السعود) ابوالعالیہ اور ابن عیینہ نے فرمایا کہ اس کا تعلق اس سے پہلی آیت کے ساتھ ہے، یعنی جب ان کے پاس قیامت آ گئی تو جان لو کہ اس کے قائم ہونے پر اللہ کے سوا بھاگنے یا پناہ حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں (کیونکہ معبود برحق وہی ہے)۔ (بغوی) ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس حقیقت کو پہلے ہی جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَ أَعْلَمَكُمْ بِاللّٰهِ أَنَا ] [ بخاري، الإیمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” أنا أعلمکم باللّٰہ …“: ۲۰ ] ”یقینا میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والا ہوں۔“ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ”جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات دیے ہیں اور وہ سب درست ہیں۔ ایک یہ کہ {” فَاعْلَمْ “} کے مخاطب اگرچہ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر خطاب امت کے ہر فرد کو ہے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ ہیں جن میں صراحتاً سب کو مخاطب فرمایا ہے: «وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ» ”اور اللہ تمھارے چلنے پھرنے کو اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔“ جیسا کہ سورۂ طلاق کے شروع میں فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» [ الطلاق: ۱ ] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنو اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کوئی کھلی بے حیائی (عمل میں) لائیں۔“ دوسرا جواب یہ ہے کہ {” فَاعْلَمْ “} کا معنی یہ ہے کہ {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ “} کے علم پر ثابت اور قائم رہو، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ» [النساء: ۱۳۶] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے اس سے پہلے نازل کی۔“ اکثر مفسرین نے یہاں {” فَاعْلَمْ “} کا یہی معنی بیان فرمایا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ کسی حقیقت کے علم کی ابتدا اس کی معرفت سے ہوتی ہے کہ دل اسے جان لے، پھر اس کے یقین کا مرتبہ آتا ہے اور اس علم کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرے۔ مطلب یہ ہے کہ {”لا الٰه الا الله“} کی معرفت اور اس کا یقین حاصل کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو۔ ظاہر ہے کہ علم اور یقین کے بے شمار درجے ہیں اور عمل کے لحاظ سے درجوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا قول: «وَ لٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِيْ» [البقرۃ: ۲۶۰] (اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے) اس کی دلیل ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: «وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۴ ] ”اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ اور کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے: چومی گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات لا الٰہ را ”جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں، کیونکہ میں {”لا الٰه“} کی مشکلات کو جانتا ہوں۔“ سورۂ نساء کی آیت (۱۳۶): «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کرو۔ خلاصہ یہ کہ ہر لمحے {”لا الٰه الا الله“} کی معرفت، اس کے یقین اور اس پر عمل میں اضافے کی کوشش کرتے رہو۔ چوتھا یہ کہ ہر وقت اس حقیقت کو یاد اور نظر کے سامنے رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، گویا {”اِعْلَمْ“} بمعنی {” اُذْكُرْ“} ہے۔ ➌ اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ہر قول اور عمل سے پہلے علم کا حصول لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ» [ الحدید: ۲۰ ] ”جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ہے۔“ اس کے بعدفرمایا: «سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ» [ الحدید: ۲۱ ] ”اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے۔“ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں فرمایا: {”بَابُ الْعِلْمِ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللّٰهِ تَعَالٰي: «فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ“} [ بخاري، العلم، قبل ح: ۶۸ ] ”علم مقدم ہے قول اور عمل پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ محمد میں) فرمایا: ”پس تو جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس آیت میں اللہ نے علم کو پہلے بیان کیا ہے۔“ ➍ {وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ:} قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے رہے اور امت کو بھی اس کی تاکید فرماتے رہے۔ چنانچہ اس سے متعلق یہاں دو احادیث نقل کی جاتی ہیں، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ خَطِيْئَتِيْ وَجَهْلِيْ وَ إِسْرَافِيْ فِيْ أَمْرِيْ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ جِدِّيْ وَهَزْلِيْ وَخَطَئِيْ وَعَمْدِيْ وَكُلُّ ذٰلِكَ عِنْدِيْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ] [ مسلم، الذکر و الدعاء، باب في الأدعیۃ: ۲۷۱۹ ] ”اے اللہ! میری خطا کو، میرے جہل کو، میرے کام میں میری زیادتی کو اور ان تمام گناہوں کو میرے لیے بخش دے جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! میرے سنجیدگی سے کیے ہوئے کاموں کو، میرے مذاق سے کیے ہوئے کاموں کو، میرے بھول کر کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہوں کو میرے لیے بخش دے اور یہ سب میرے پاس موجود ہیں۔ اے اللہ! تو مجھے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے پہلے کیے اور جو میں نے بعد میں کیے اور جو چھپا کر کیے اور جو علانیہ کیے اور جنھیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: [ وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً ] [ بخاري، الدعوات، باب استغفار النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الیوم واللیلۃ:۶۳۰۷ ] ”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر (۷۰) بار سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ ➎ { وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہے اور امت کے تمام افراد کو بھی کہ وہ اپنے علاوہ دوسرے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی استغفار کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں پر اپنے مومن بھائیوں کے لیے استغفار واجب ہے۔ پہلے جلیل القدر انبیاء علیھم السلام کا بھی یہی عمل رہا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے دعا کی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا» [ نوح: ۲۸ ] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔“ اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: «رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ» [ إبراہیم: ۴۱ ] ”اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔“ ➏ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام ایمان والوں کو مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کا جب خود حکم دیا تو یہ دلیل ہے کہ وہ اسے قبول بھی فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر مومن، مرد ہو یا عورت، زندہ ہو یا فوت شدہ، استغفار کی ان دعاؤں میں شامل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر امت کے آخری آدمی نے ایمان والوں کے حق میں کی ہیں اور جس کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار مقبول بندوں کی مغفرت کی دعائیں ہوتی ہوں اس کی مغفرت سے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے کسی بھی مومن کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ وہ جہنمی ہے، یا اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا، خواہ وہ کتنا زیادہ گناہ گار ہو۔ شرط یہ ہے کہ وہ ایمان کی دولت اپنے دامن میں رکھتا ہو اور شرک کی نجاست سے آلودہ نہ ہو۔ ➐ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ: ” مُتَقَلَّبٌ“} اور {”مَثْوٰي“ ” تَقَلَّبَ يَتَقَلَّبُ“} (تفعل) اور {” ثَوَي يَثْوِيْ“} (ض) سے مصدر میمی بھی ہو سکتے ہیں اور ظرف مکان بھی۔ پہلی صورت میں معنی ہے تمھارا چلنا پھرنا اور تمھارا ٹھہرنا اور دوسری صورت میں معنی ہے تمھارے چلنے پھرنے کی جگہ اور تمھارے ٹھہرنے کی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری نقل و حرکت کو اور تمھارے ٹھہرنے کو اور تمھارے چلنے پھرنے کے اور تمھارے ٹھہرنے کے مقامات کو خوب جانتا ہے۔ اس میں کفار اور نافرمانوں کے لیے وعید ہے اور اللہ کے فرماں بردار بندوں کے لیے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری جائز یا ناجائز ہر حرکت و سکون سے واقف ہے اور واقف ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ فرماں برداروں کو انعام دے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو افسوس اُن کے حال پر
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ایمان ﻻئے وه کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وه آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو، پس بہت بہتر تھا ان کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ تمہاری طرف اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ (جہاد کے بارے میں) کوئی سورہ کیوں نازل نہیں کی جاتی؟ پس جب ایک محکم سورہ نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتل و قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ(ص) ان لوگوں کو دیکھئے گا کہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ آپ(ص) کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے اس شخص کا دیکھنا ہوتا ہے جس پر موت کی غشی ڈالی گئی ہو۔ پس ان کے لیے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77] یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔ پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔ پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ ۱؎ [47-محمد:22] } ۱؎ [صحیح بخاری:4830] اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991] مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ { سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]
20۔ 1 جب جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو مومنین جو جذبہ جہاد سے سرشار تھے جہاد کی اجازت کے خواہش مند تھے اور کہتے تھے کہ اس بارے میں کوئی سورت نازل کیوں نہیں کی جاتی یعنی جس میں جہاد کا حکم ہو۔ 20۔ 2 یعنی ایسی سورت جو غیر منسوح ہو۔ 20۔ 3 یہ ان منافقین کا ذکر ہے جن پر جہاد کا حکم نہایت گراں گزرتا تھا، ان میں بعض کمزور ایمان والے بھی بعض دفعہ شامل ہوجاتے تھے سورة نساء آیت 77 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 20) ➊ { وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور ایمان والوں کا حال ان آیات کو سننے کے وقت فرمایا جو توحید، قیامت اور دوسرے اعتقادی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ {” وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ “} میں منافقین کا حال بیان فرمایا اور {” وَ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى “} میں ایمان والوں کا حال بیان فرمایا۔ اب عمل سے تعلق رکھنے والی آیات مثلاً جہاد، نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے متعلق ان کا طرزِ عمل بیان فرمایا۔ وہ یہ کہ مخلص مومن ہمیشہ ایسے کاموں کے بارے میں وحی کے نزول کے منتظر اور امیدوار رہتے، تاکہ ان پر عمل کرکے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکیں، جب اس کے نزول میں تاخیر ہوتی تو کہتے کہ ایسی کوئی آیت یا سورت کیوں نازل نہیں کی گئی اور منافقین کا یہ حال تھا کہ جب مشقت والی ایسی کوئی سورت یا آیت اترتی تو ان پر بہت شاق گزرتی، خصوصاً جہاد کا ذکر آنے پر تو خوف اور دہشت کے مارے ان کی آنکھیں کھلی رہ جاتیں۔ ➋ { وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ:} ہجرت کے بعد اگرچہ سورۂ حج کی آیت (۳۹): «اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا» (ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا)کے ساتھ کفار سے قتال کی اجازت ہو چکی تھی، مگر اس کی فرضیت کا واضح حکم ابھی نہیں آیا تھا۔ مخلص مومن جو کفار کے ظلم و ستم سے شدید تنگ دل تھے اور فتح یا شہادت کے متمنی تھے، کہتے رہتے تھے کہ جہاد کے حکم والی کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی۔ ➌ { فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ:} محکم سورت سے مراد ایسی سورت ہے جس میں دیا جانے والا حکم واضح ہو، جس میں کوئی تاویل نہ کی جا سکے اور نہ وہ منسوخ ہو۔ مراد اس سے یہی سورۂ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے جس کا نام سورۂ قتال بھی ہے، کیونکہ اس میں {”جَاهِدُوْا“} (جہاد کرو) یا {” قَاتِلُوْا “} (لڑو) کے بجائے قتال کا حکم {” فَضَرْبَ الرِّقَابِ “} کے بالکل صریح الفاظ کے ساتھ دیا گیا کہ کفار سے مڈ بھیڑ ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو اور خوب خون ریزی کے بعد انھیں قیدی بناؤ وغیرہ۔ ➍ { رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ …:} یعنی جب قتال کے واضح حکم والی سورت نازل کی گئی تو منافقین کا یہ حال ہوا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”مسلمان سورت مانگتے تھے، یعنی کافروں کی ایذا سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزریں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافق اور کچے لوگوں پر بھاری ہوا، خوف زدہ اور بے رونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش! ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بے حد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی، جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔“ (موضح) اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۷۷) اور سورۂ احزاب (۱۹)۔ ➎ { فَاَوْلٰى لَهُمْ:} مفسرین نے اس لفظ کی مختلف تفسیریں کی ہیں جن میں سب سے واضح اور تکلف سے خالی یہ ہے کہ یہ {” وَلِيَ يَلِيْ وَلْيًا “} (س) سے اسم تفضیل ہے، جس کا معنی ہے زیادہ لائق، زیادہ قریب، بہتر۔ اب اس کی ترکیب دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو اس سے پہلے جملے سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی {”فَالْمَوْتُ أَوْلٰي لَهُمْ“} ”پس موت ہی ان کے لیے بہتر ہے، یا موت ہی ان کے لائق ہے۔“ دوسری تفسیر حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ {” فَاَوْلٰى لَهُمْ “} خبر مقدم ہے اور اگلی آیت میں {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ “} مبتدا مؤخر ہے۔ ان کے الفاظ میں عبارت یوں ہے: {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ أَوْلٰي لَهُمْ، أَيْ وَكَانَ الْأَوْلٰي لَهُمْ أَنْ يَّسْمَعُوْا وَ يُطِيْعُوْا “} یعنی ان کے لیے بہتر تھا کہ وہ سنتے اور اطاعت کرتے۔
(اُن کی زبان پر ہے) اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اُس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمان کا بجا ﻻنا اور اچھی بات کا کہنا۔ پھر جب کام مقرر ہو جائے، تو اللہ کے ساتھ سچے رہیں تو ان کے لئے بہتری ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہوچکا تو اگر اللہ سے سچے رہتے تو ان کا بھلا تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے لئے بہتر تو یہ تھا کہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے اور جب (جہاد کا) قطعی فیصلہ ہو جاتا تو اگر یہ اللہ سے (اپنے عہد میں) سچے ثابت ہوتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
حکم ماننا اور اچھی بات کہنا، پھر جب حکم لازم ہو جائے تو اگر وہ اللہ سے سچے رہیں تو یقینا ان کے لیے بہتر ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77] یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔ پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔ پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ ۱؎ [47-محمد:22] } ۱؎ [صحیح بخاری:4830] اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991] مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ { سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]
21۔ 1 یعنی جہاد کی تیاری مکمل ہوجائے اور وقت جہاد آجائے۔ 21۔ 2 یعنی اگر اب بھی نفاق چھوڑ کر، اپنی نیت اللہ کے لئے خالص کرلیں، یا رسول کے سامنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے کا عہد کرتے ہیں، اس میں اللہ سے سچے رہیں۔ 21۔ 3 یعنی نفاق اور مخالفت کے مقابلے میں توبہ و اخلاص کا مظاہرہ بہتر ہے۔
(آیت 21) ➊ {طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ:} اس کا تعلق یا تو پچھلی آیت کے آخری لفظ {” فَاَوْلٰى لَهُمْ “} کے ساتھ ہے، جیسا کہ گزرا اور اگر اسے نیا جملہ سمجھا جائے تو اس کی ترکیب دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر {” خَيْرٌ لَّهُمْ“} محذوف ہے، یعنی حکم ماننا اور اچھی بات کہنا ان کے لیے بہتر ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ مبتدا محذوف {”أَمْرُنَا“} کی خبر ہے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام تو اطاعت کرنا اور اچھی بات کہنا ہے۔ ➋ {فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ …:} یعنی کہتے تو وہ یہی ہیں کہ ہمارا کام {”سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا“} یعنی حکم ماننا اور اچھی بات کہنا ہے، مگر جب جہاد کا قطعی اور لازمی حکم آ جائے تو وہ اپنی بات میں جھوٹے نکلتے ہیں، اگر وہ اس وقت اپنی بات میں اللہ سے سچے رہیں تو یقینا ان کے لیے بہتر ہے۔
اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو،
علامہ محمد حسین نجفی
پھرتم سے یہی توقع ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ (تمہیں اقتدار مل جائے) تو تم زمین میں فساد برپا کرو۔اور اپنی قرابتوں کو قطع کرو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر یقینا تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کر دو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77] یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔ پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔ پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ ۱؎ [47-محمد:22] } ۱؎ [صحیح بخاری:4830] اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991] مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ { سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]
22۔ 1 ایک دوسرے کو قتل کر کے یعنی اختیار و اقتدار کا غلط استعمال کرو امام ابن کثیر نے تولیتم کا ترجمہ کیا ہے تم جہاد سے پھر جاؤ اور اس سے اعراض کرو یعنی تم پھر زمانہ جاہلیت کی طرف لوٹ جاؤ اور باہم خون ریزی اور قطع رحمی کرو اس میں فساد فی الارض کی عموما اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت اور اصلاح فی الارض اور صلہ رحمی کی تاکید ہے جس کا مطلب ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ زبان سے عمل سے اور بذل اموال کے ذریعے سے اچھا سلوک کرو احادیث میں بھی اس کی بڑی تاکید اور فضلیت آئی ہے۔
(آیت 22) {فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ …: ”هَلْ“} کے معنی کی تحقیق کے لیے دیکھیے سورۂ دہر کی پہلی آیت: «هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ» کی تفسیر۔ یہاں یہ {” قَدْ “} (یقینا) کے معنی میں ہے۔ {” عَسَيْتُمْ “} تم قریب ہو، تم سے امید ہے۔ {” تَوَلَّيْتُمْ “} یا تو {”تَوَلَّي الْوِلاَيَةَ“} سے ہے، حاکم یا صاحب اقتدار ہونا، یا {” تَوَلّٰي عَنْهُ“} سے ہے، منہ موڑنا، اعراض کرنا۔ اگر حاکم ہونے سے ہو تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ طاعت اور قول معروف اختیار کرو، کیونکہ اگر تم اسی نفاق کی حالت میں حکومت پر متمکن ہو جاؤ تو یقینا تم قریب ہو کہ ایمان سے خالی ہونے کی وجہ سے اسلام سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹ جاؤ گے، اپنی خواہشاتِ نفس پوری کرنے کے لیے زمین میں فساد کرو گے اور اپنی رشتہ داریاں بری طرح قطع کر دو گے۔ اور اگر {” تَوَلَّيْتُمْ “} کا معنی اعراض اور منہ موڑنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ جب جہاد کا حکم قطعی اور لازمی ہو جائے تو اپنا صدق ثابت کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، کیونکہ اگر تم نے جہاد سے منہ موڑا تو ہر گز امن و امان سے نہیں رہو گے، بلکہ نافرمانی اور قطع رحمی کرو گے، جس کے نتیجے میں خانہ جنگی، نافرمانی اور لوٹ مار کی وہی حالت لوٹ آئے گی جو اسلام سے پہلے تھی۔ {” تُقَطِّعُوْۤا “} (تفعیل) میں مبالغہ ہے، یعنی تم اپنی رشتہ داریاں بری طرح قطع کرو گے، یا بالکل قطع کر دو گے۔
یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور انہیں بہرا بنا دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس انھیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77] یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔ پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔ پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ ۱؎ [47-محمد:22] } ۱؎ [صحیح بخاری:4830] اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991] مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ { سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]
23۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کے کانوں کو اللہ نے (حق کے سننے سے) بہرہ اور آنکھوں کو (حق کے دیکھنے سے) اندھا کردیا ہے۔ یہ نتیجہ ہے انکے مذکورہ اعمال کا۔
(آیت 23){ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ …:} یعنی یہ لوگ جو قریب تھے کہ حکومت میں آ جائیں تو اندھے بہرے ہو کر ظلم و فساد پھیلائیں اور قطع رحمی کرنے لگیں، یا قریب تھے کہ اطاعت اور جہاد سے منہ موڑیں تو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتہ داریوں کو بری طرح قطع کر دیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور انھیں ایسا بہرا، اندھا اور سنگ دل بنا دیا کہ وہ جہاد کی برکات سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی پریشانیاں اور مصیبتیں ختم ہوتی ہیں، انھیں عزت اور سربلندی ملتی ہے، فتنہ و فساد اور شرک و کفر ختم ہوتا ہے اور زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ» [ المنافقون: ۳ ] ”یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔ “
کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔
24۔ 1 جس وجہ سے قرآن کے معانی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔
(آیت 24){ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ …:} اوپر کی آیت کے سیاق کو ملحوظ رکھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے یا تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے، یا کرتے ہیں تو اس کے معانی و مطالب ان کی سمجھ میں نہیں آتے، کیونکہ ان کے دلوں پر کفر و نفاق کے قفل چڑھے ہوتے ہیں۔ ہاں، اگر صدقِ نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لیتے کہ جہاد میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اِس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھر گئے اس کے بعد ان کے لئے ہدایت واضح ہو چکی یقیناً شیطان نے ان کے لئے (ان کے فعل کو) مزین کر دیا ہے اور انہیں ڈھیل دے رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی شیطان نے انہیں فریب دیا اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ پیٹھ پھیر کر (کفر کی طرف) پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو گئی تھی۔ شیطان نے انہیں فریب دیا اورانہیں دور دور کی سجھائی۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو اپنی پیٹھوں پر پھر گئے، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ واضح ہو چکا، شیطان نے ان کے لیے (ان کا عمل) مزین کر دیا اور ان کے لیے مہلت لمبی بتائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔
25۔ 1 اس سے مراد منافقین ہی ہیں جنہوں نے جہاد سے گریز کر کے کفر و ارتداد کو ظاہر کردیا۔ 25۔ 2 اس کا فاعل بھی شیطان ہے یعنی مدلھم فی الامل ووعدھم طول العمر یعنی انہیں لمبی آرزوؤں اور اس دھوکے میں مبتلا کردیا کہ ابھی تو تمہاری بڑی عمر ہے کیوں لڑائی میں اپنی جان گنواتے ہو یا فاعل اللہ ہے اللہ نے انہیں ڈھیل دی یعنی فورا ان کا مواخذہ نہیں فرمایا۔
(آیت 25) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ …:} ان سے مراد منافقین ہی ہیں جنھوں نے راہِ حق واضح ہونے اور اسلام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد سے گریز کرتے ہوئے کفر و ارتداد کی راہ اختیار کی۔ ➋ { الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ وَ اَمْلٰى لَهُمْ:} یعنی شیطان نے ان کے لیے ان کے کفر و ارتداد اور جہاد سے فرار کو خوش نما بنا دیا اور ان کے لیے مہلت لمبی بتائی، یعنی ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ اگر جہاد نہ کرو گے تو لمبی مدت تک زندہ رہو گے اور دنیا کے عیش و آرام سے فائدہ اٹھاؤ گے۔ شیطان کا کام ہی خواہش اور آرزوئیں دلا کر گمراہ کرنا ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۱۹، ۱۲۰) حالانکہ انھیں سمجھنا چاہیے تھا کہ موت اپنے وقت پر آتی ہے، اس میں لمحہ بھر تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی، پھر جہاد سے بھاگنے کا کیا فائدہ؟
اِسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے اللہ اُن کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کی نازل کرده وحی کو برا سمجھا یہ کہا کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں میں تمہارا کہا مانیں گے، اور اللہ ان کی پوشیده باتیں خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں سے جنہیں اللہ کا اتارا ہوا ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اللہ کی نازل کردہ (کتاب) کو ناپسند کرتے ہیں کہ ہم بعض معاملات میں تمہاری بات مان لیں گے اللہ ان کی رازداری کو جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ انھوںنے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اس چیز کو نا پسند کیاجو اللہ نے نازل کی، عنقریب ہم بعض کا موں میں تمھارا کہا مانیں گے اور اللہ ان کے چھپانے کو جانتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔
26۔ 1 ' یہ ' سے مراد ان کا مرتد ہونا ہے۔ 26۔ 2 یعنی منافقین نے مشرکین سے یا یہود سے کہا۔ 26۔ 3 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی مخالفت میں۔ 2 6 ۔ 4 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ) 4۔ النساء:81)۔
(آیت 26) ➊ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ:” لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ “} سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا: «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ» [محمد: ۹] ”یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ “ ➋ { سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ:} بعض کاموں سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقع آئے مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقے سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ یعنی ان کے ایمان قبول کرنے کے بعد کفر و ارتداد کی طرف پلٹنے، جہاد سے فرار اور منافقت اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ دوسرے مخلص مسلمانوں کی طرح وہ تمام کاموں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والے کفار سے کہا کہ ہم اسلام قبول کرنے اور مسلمانوں میں رہنے کی وجہ سے تمھاری ہر بات نہیں مان سکتے، نہ کھلم کھلا اپنے کفر کا اظہار کر سکتے ہیں، مگر ہم کچھ کاموں میں تمھاری اطاعت ضرور کریں گے۔ وہ اس طرح کہ جنگ کے موقع پر تمھاری مدد کریں گے، جیسا کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی اُحد کے موقع پر عین میدانِ جنگ سے تین سو آدمیوں کو واپس لے گیا اور جس طرح منافقین نے بنو نضیر کے یہودیوں کو ہلاشیری دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ڈٹے رہو، اگر تمھیں نکالا گیا تو ہم تمھارے ساتھ نکلیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمھارے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ دیکھیے سورۂ حشر (۱۱)۔ ➌ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ:} اور اللہ تعالیٰ ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جو وہ چھپ کر کرتے ہیں خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ انھیں اس کی سزا ضرور دے گا۔ اس آیت کا مضمون سورۂ نساء کی آیت (۸۱) میں بھی بیان ہوا ہے۔
پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور اِن کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ان کی کیسی (درگت) ہوگی جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی سرینوں پر ماریں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے ان کے منہ اور ان کی پیٹھیں مارتے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے، ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا، قہرا، ڈانٹ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے۔ جیسے ارشاد باری ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [8-الأنفال:50] ، یعنی ’ کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] ، یعنی ’ کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لیے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے ‘۔ یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے۔ پس ان کے اعمال اکارت ہو گئے۔
27۔ 1 یہ کافروں کی اس وقت کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ روحیں فرشتوں سے بچنے کے لئے جسم کے اندر چھپتی اور ادھر ادھر بھاگتی ہیں تو فرشتے سختی اور زور سے انہیں پکڑتے، کھنچتے اور مارتے ہیں یہ مضمون اس سے قبل (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ) 6۔ الانعام:93) (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ) 8۔ الانفال:50) میں بھی گزر چکا ہے۔
(آیت 28،27) ➊ {فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …:} یعنی دنیا میں تو انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفار کا ساتھ اس لیے دیا کہ کفر و اسلام کی جنگ میں دونوں جانب سے مفادات حاصل کر سکیں، اپنے آپ کو جنگ کے نقصانات اور خطرات سے بچائیں اور اپنے چہروں اور پیٹھوں کو تیر و تلوار کی مار سے بچائے رکھیں، مگر مرتے وقت ان کے چہروں اور پیٹھوں کو فرشتوں کی مار سے کون بچائے گا؟ ➋ { فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ:} یعنی وہ تمام اعمال جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے، مثلاً ان کی نماز، ان کے روزے، زکوٰۃ اور تمام عبادتیں جو بظاہر نیکیاں تھیں، اللہ تعالیٰ نے برباد کر دیے، کیونکہ یہ سب کچھ تب قبول ہوتا جب وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ہوتا۔ جب اسلام اور مسلمانوں سے بے وفائی اور غداری کرکے وہ چل ہی اس راستے پر پڑے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہی پسند نہ رہا تو ان کے نماز روزے، صدقات اور دوسری نیکیوں سے کیا حاصل۔
یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اُس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا اِسی بنا پر اُس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس بنا پر کہ یہ وه راه چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے اور اس کی خوشی انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کی ناراضی کا با عث تھی اور اس کی خوشنودی کو ناپسند کیا پس اللہ نے ان کے اعمال کو اکارت کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا، قہرا، ڈانٹ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے۔ جیسے ارشاد باری ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [8-الأنفال:50] ، یعنی ’ کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] ، یعنی ’ کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لیے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے ‘۔ یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے۔ پس ان کے اعمال اکارت ہو گئے۔
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو ﻇاہر نہ کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی ان کے (سینوں کے) کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں کوئی بیماری ہے، یہ خیال کر لیا ہے کہ اللہ ان کے کینے کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭
یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ «اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔“ حدیث شریف میں ہے { جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو }۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (تعیین) آ چکی ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:273/5:ضعیف] پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔
29۔ 1 منافقین کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد تھا، اس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے پر قادر نہیں ہے؟
(آیت 29){ اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ …: ” أَضْغَانٌ“ ”ضِغْنٌ“} کی جمع ہے، شدید کینہ، مراد اس سے وہ شدید حسد اور عداوت ہے جو منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف دلوں میں رکھتے تھے۔ یعنی کیا ان منافقین نے گمان کر رکھا ہے کہ انھوں نے اپنے دل میں مسلمانوں کے خلاف جو شدید حسد اور بغض کی بے شمار باتیں چھپا رکھی ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ظاہر نہیں کرے گا اور ان پر پردہ ہی پڑا رہے گا؟ نہیں، ایسا نہیں ہو گا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے خبثِ باطن کو ضرور ظاہر کرے گا۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں منافقین کی سازشوں، عداوتوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی زہریلی باتوں کو {” وَ مِنْهُمْ “، ” وَ مِنْهُمْ “} کہہ کر اس طرح کھول کر رکھ دیا کہ ان کی پہچان میں کوئی مشکل باقی نہ رہی۔ اس لیے سورۂ توبہ کا نام سورۂ فاضحہ یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی سورت بھی ہے۔
ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لو گے اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے سے ہی پہچان لیتا، اور یقیناً تو انہیں ان کی بات کے ڈھب سے پہچان لے گا، تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھادیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ہم چاہیں تو وہ لوگ آپ کو دکھا دیں اور آپ انہیں علامتوں سے پہچان لیں اور (خاص کر) آپ انہیں ان کے اندازِ گفتگو سے تو ضرور پہچان لیں گے اور اللہ تم سب کے اعمال کو جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہیں تو ضرور تجھے وہ لوگ دکھادیں، پھر یقینا تو انھیں ان کی نشانی سے پہچان لے گا اور تو انھیں بات کے انداز سے ضرور ہی پہچان لے گا اور اللہ تمھارے اعمال جانتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭
یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ «اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔“ حدیث شریف میں ہے { جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو }۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (تعیین) آ چکی ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:273/5:ضعیف] پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔
30۔ 1 یعنی ایک ایک شخص کی اس طرح نشان دہی کردیتے ہیں کہ ہر منافق کو پہچان لیا جاتا۔ لیکن تمام منافقین کے لئے اللہ نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ یہ اللہ کی صفت ستاری کے خلاف ہے، وہ بالعموم پردہ پوشی فرماتا ہے، پردہ دری نہیں۔ دوسرا اس نے انسانوں کو ظاہر پر فیصلہ کرنے کا اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔ 30۔ 2 البتہ ان کا لہجہ اور انداز گفتگو ہی ایسا ہوتا ہے جو ان کے باطن کا غماز ہوتا ہے وہ اسے لاکھ چھپائے لیکن انسان کی گفتگو حرکات و سکنات اور بعض مخصوص کیفیات اس کے دل کے راز کو آشکار کردیتی ہیں۔
(آیت 30) ➊ {وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ: ”سِيْمَا“} علامت۔ پچھلی آیت سے ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ منافقین کی دلی عداوتوں اور ان کے نفاق کو ظاہر کر دے گا۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ پھر اس نے منافقین کا نام لے کر یا ان پر کوئی علامت لگا کر انھیں کیوں ظاہر نہیں کیا؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کی وجہ منافقین کا خوف یا کوئی اور خطرہ نہیں بلکہ محض ہماری مشیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات لفظ {” لَوْ “} کے ساتھ بیان فرمائی ہے، جس کا استعمال ایسی شرط کے لیے ہوتا ہے جو واقع نہیں ہوتی، اس لیے اس کی جزا بھی واقع نہیں ہوتی۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر منافق کا نام لے کر یا اس پر خاص نشانی لگا کر اسے شخصی طور پر آپ کو دکھا دیتے، جس کے ساتھ آپ ان سب کو صاف پہچان لیتے، مگر ہم نے یہ چاہا نہ کوئی ایسی علامت مقرر کرکے شخصی طور پر آپ کو ان کی پہچان کروائی، کیونکہ ہماری مصلحت و حکمت اور ہمارے ستر و حلم کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو اس طرح رسوا نہ کیا جائے کہ کوئی توبہ کرنا چاہے تو نہ کر سکے، کیونکہ ہمارے ہاں منافقین کے لیے بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، جیسا کہ فرمایا: «لِيَجْزِيَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [الأحزاب: ۲۴ ] ”تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا بدلا دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر چاہے، یا ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ “ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ بھی حکمت تھی کہ لوگ ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں اور باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ ➋ {وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْقَوْلِ: ” وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ “} تاکید کا لام اور نون ثقیلہ قسم کے جواب میں آتا ہے، یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کا نام لے کر یا ان کے چہروں پر کوئی نشانی لگا کر ان کی اطلاع نہیں دی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ انھیں بالکل نہیں پہچانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ان کی بات کے لہجے اور انداز میں یقینا انھیں پہچان لیں گے۔ سورۂ توبہ میں منافقین کے بہت سے اقوال و احوال اور افعال ذکر فرمائے ہیں جن سے ان کی شناخت میں کچھ مشکل پیش نہیں آتی۔ ایسی ہی باتوں کا حوالہ دے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن اُبی کا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کا جنازہ پڑھنے یا ان کی قبر پر کھڑے ہونے سے صراحت کے ساتھ منع فرما دیا۔ منافقین کی یہ پہچان بھی اللہ تعالیٰ نے ان کا نام لے کر یا ان پر نشانی لگا کر نہیں کروائی بلکہ بلا عذر جنگ تبوک سے پیچھے رہنے کو ان کی شناخت بنا دیا۔ چنانچہ جہاں ان پر جنازہ پڑھنے یا ان کی قبر پر کھڑا ہونے سے منع فرمایا ہے اس سے پہلے ان کا جرم بیان فرمایا ہے: «فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ» [ التوبۃ: ۸۱ ] ”وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انھوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انھوں نے کہا اس گرمی میں مت نکلو۔“ پھر فرمایا: «فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْ (83) وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ» [ التوبۃ: 84،83 ] ”پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بے شک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ “ منافقین کی ایسی ہی حرکتوں اور باتوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی پہچان ہو جاتی تھی اور کئی مواقع پر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بعض منافقین کے بارے میں آگاہ بھی فرمایا۔ صحیح مسلم کی {”كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِيْنَ وَ أحْكَامِهِمْ “} میں مذکور احادیث میں ایسے کئی منافقین کا ذکر ہے۔ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بعض منافقین کے بارے میں جو آگاہ فرمایا مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اس کی اور توجیہ فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: ”اس آیت کے نزول تک آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کی تشخیص کا علم نہ تھا، بعد اس کے کرایا گیا، جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ صحابی کو بتا دیا تھا۔“ (تفسیر ثنائی) ➍ {وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ:} یعنی ممکن ہے بندوں کو کسی کے نفاق کا علم نہ ہو سکے مگر اللہ تعالیٰ تمھارے سب کام جانتا ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی۔
ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ﻇاہر کر دیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ کر لیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیں تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائیںگے تاکہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم (و ممیز) کریں اور تمہارے حالات کی جانچ کر لیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم ضرور ہی تمھیں آزمائیں گے،یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات جانچ لیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭
یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ «اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔“ حدیث شریف میں ہے { جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو }۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (تعیین) آ چکی ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:273/5:ضعیف] پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔
31۔ 1 اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی سب کچھ ہے۔ یہاں علم سے مراد اس کا وقوع اور ظہورہے تاکہ دوسرے بھی جان لیں اور دیکھ لیں۔ اسی لئے امام ابن کثیر نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے کہ ہم اس کے وقوع کو جان لیں یا ہم دیکھ لیں۔
(آیت 31) ➊ { وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ …:} یہ مسلمانوں سے عام خطاب ہے کہ منافقوں کے ذکر سے یہ خیال نہ کرنا کہ تم امتحان سے مستثنیٰ ہو۔ ہر گز نہیں، بلکہ ہم ہر حال میں مختلف احکام کے ساتھ تمھاری آزمائش کریں گے، حتیٰ کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات کی خوب جانچ پڑتال کر لیں۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ کاموں کا علم ہے وہ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو آئندہ ہونے والے ہیں، پھر اس بات کا کیا مطلب کہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ ہم اس بات کا واقع ہونا جان لیں۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس جیسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ{” نَعْلَمَ “} کا معنی {” نَرٰي “} ہے، یعنی حتیٰ کہ ہم دیکھ لیں۔“ (ابن کثیر) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ پہلے جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، مگر یہ بات کہ وہ کام واقع ہو چکا ہے اس کے علم میں اسی وقت آتی ہے جب وہ کام واقع ہو اور اس وقت ہی وہ اس کے واقع ہونے کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ جو کام واقع ہی نہیں ہوا اس کے متعلق کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ واقع ہو چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۴۲)۔
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہو چکی تھی، در حقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے لوگوں کو روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت ﻇاہر ہو چکی یہ ہرگز ہرگز اللہ کا کچھ نقصان نہ کر سکیں گے۔ عنقریب ان کے اعمال وه غارت کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسرے لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے (ہاں البتہ) اللہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ صاف ظاہر ہو گیا، وہ ہرگز اللہ کا کوئی نقصان نہ کریں گے اور عنقریب وہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہو گی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کر دیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی یہ «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:33] ، اتری اس پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ڈرنے لگے کہ گناہ نیکیوں کو باطل نہ کر دیں۔
دوسری سند سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ ہر نیکی بالیقین مقبول ہے یہاں تک کہ یہ آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] اتری تو کہنے لگے کہ ہمارے اعمال برباد کرنے والی چیز کبیرہ گناہ اور بدکاریاں کرنے والے پر انہیں خوف رہتا تھا اور ان سے بچنے والے کے لیے امید رہتی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو اپنی اور اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی سعادت کی چیز ہے اور مرتد ہونے سے روک رہا ہے جو اعمال کو غارت کرنے والی چیز ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ سے کفر کرنے والے، راہ اللہ سے روکنے والے اور کفر ہی میں مرنے والے اللہ کی بخشش سے محروم ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ شرک کو نہیں بخشتا ‘۔ اس کے بعد جناب باری «عز اسمہ» فرماتا ہے کہ ’ اے میرے مومن بندو! تم دشمنوں کے مقابلے میں عاجزی کا اظہار نہ کرو اور ان سے دب کر صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ قوت و طاقت میں، زور و غلبہ میں، تعداد و اسباب میں تم قوی ہو ‘۔ ہاں جبکہ کافر قوت میں، تعداد میں، اسباب میں تم سے زیادہ ہوں اور مسلمانوں کا امام مصلحت صلح میں ہی دیکھے تو ایسے وقت بیشک صلح کی طرف جھکنا جائز ہے جیسے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر کیا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے اور صلح قائم رکھنے پر معاہدہ کر لیا۔ پھر ایمان والوں کو بہت بڑی بشارت و خوشخبری سناتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس وجہ سے نصرت و فتح تمہاری ہی ہے تم یقین مانو کہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی وہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس کا پورا پورا اجر و ثواب تمہیں عنایت فرمائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
32۔ 1 بلکہ اپنا ہی بیڑا غرق کریں گے۔ 32۔ 2 کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کو اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔ ایمان و اخلاص ہی ہر عمل خیر کو اس قابل بناتا ہے کہ اس پر اللہ کے ہاں سے اجر ملے۔
(آیت 32){ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} یعنی منافقین اور یہود جنھیں یہ معلوم ہو چکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں موجود ہیں مگر انھوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کی مخالفت کی، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، نہ اللہ کے رسول اور اللہ کے بندوں کا کچھ نقصان کر سکیں گے، بلکہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، کیونکہ اپنے خیال میں وہ جو اچھے کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں برباد کر دے گا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کو اللہ کے دین سے روکنے کے لیے وہ جو سازشیں اور منصوبے تیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ناکام بنا دے گا۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت میں {” اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ “} کی تفسیر۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ص) کی اور (ان کی مخالفت کر کے) اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور اس رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل مت کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہو گی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کر دیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی یہ «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:33] ، اتری اس پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ڈرنے لگے کہ گناہ نیکیوں کو باطل نہ کر دیں۔
دوسری سند سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ ہر نیکی بالیقین مقبول ہے یہاں تک کہ یہ آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] اتری تو کہنے لگے کہ ہمارے اعمال برباد کرنے والی چیز کبیرہ گناہ اور بدکاریاں کرنے والے پر انہیں خوف رہتا تھا اور ان سے بچنے والے کے لیے امید رہتی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو اپنی اور اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی سعادت کی چیز ہے اور مرتد ہونے سے روک رہا ہے جو اعمال کو غارت کرنے والی چیز ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ سے کفر کرنے والے، راہ اللہ سے روکنے والے اور کفر ہی میں مرنے والے اللہ کی بخشش سے محروم ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ شرک کو نہیں بخشتا ‘۔ اس کے بعد جناب باری «عز اسمہ» فرماتا ہے کہ ’ اے میرے مومن بندو! تم دشمنوں کے مقابلے میں عاجزی کا اظہار نہ کرو اور ان سے دب کر صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ قوت و طاقت میں، زور و غلبہ میں، تعداد و اسباب میں تم قوی ہو ‘۔ ہاں جبکہ کافر قوت میں، تعداد میں، اسباب میں تم سے زیادہ ہوں اور مسلمانوں کا امام مصلحت صلح میں ہی دیکھے تو ایسے وقت بیشک صلح کی طرف جھکنا جائز ہے جیسے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر کیا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے اور صلح قائم رکھنے پر معاہدہ کر لیا۔ پھر ایمان والوں کو بہت بڑی بشارت و خوشخبری سناتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس وجہ سے نصرت و فتح تمہاری ہی ہے تم یقین مانو کہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی وہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس کا پورا پورا اجر و ثواب تمہیں عنایت فرمائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
33۔ 1 یعنی منافقین اور مرتدین کی طرح ارتداد ونفاق اختیار کر کے اپنے عملوں کو برباد مت کرو یہ گویا اسلام پر استقامت کا حکم ہے بعض نے کبائر و فواحش کے ارتکاب کو بھی حبط اعمال کا باعث گردانا ہے اسی لیے مومنین کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑے گناہ اور فواحش سے بچتے ہیں (النجم) اس اعتبار سے کبائر و فواحش سے بچنے کی اس میں تاکید ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عمل خوانہ کتنا ہی بہتر کیوں نہ معلوم ہوتا ہو اگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے دائرے سے باہر ہے تو رائیگاں اور برباد ہے۔
(آیت 33){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ …:} یعنی اعمال کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند رہے۔ اگر کوئی شخص اطاعت سے نکل کر مخالفت پر اتر آئے اور دشمنوں کے ساتھ ساز باز شروع کر دے تو اس کے سارے اعمال باطل ہیں، خواہ وہ اپنے خیال میں کتنے اچھے عمل کرتا رہے، جیسا کہ منافقین تھے کہ انھوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اور عہدِ اطاعت کے بعد مخالفت کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں آیت سے یہی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی منافقین کا ذکر ہے اور بعد میں بھی۔ گویا آیت کا مطلب یہ ہوا: ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی طرح اپنے اعمال باطل مت کرو جن کے اعمال ان کے کفر اور اللہ کے راستے سے روکنے اور رسول کی مخالفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے برباد کر دیے۔“ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آدمی کسی نافرمانی یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس کے پہلے تمام اعمال باطل ہوگئے، کیونکہ یہ اس آیت کے خلاف ہے: «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا» [النساء:۴۸] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کا شریک بنائے تو یقینا اس نے بہت بڑا گناہ گھڑا۔“ ہاں آیت کا یہ مطلب ضرور ہو سکتا ہے کہ ہر عمل جس میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ ہو اور وہ ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ ہو وہ باطل ہے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص اور اتباع سنت شرط ہے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ] [ مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ و رد محدثات الأمور: ۱۸ /۱۷۱۸ ] ”جو شخص وہ عمل کرے جس پر ہمارا عمل نہیں وہ مردود ہے۔“ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ کوئی نفلی عمل، نماز ہو یا روزہ یا کوئی اور، اگر شروع کرے تو اسے پورا کرنا واجب ہے، کیونکہ اگر اسے پہلے چھوڑ دے گا تو اس نے عمل باطل کر دیا مگر یہ بات درست نہیں نہ آیت سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ نفل پہلے بھی نفل ہوتا ہے بعد میں بھی۔ جس کا شروع کرنا واجب نہیں اسے پورا کرنا بھی واجب نہیں۔ تفصیل امہات الکتب میں دیکھیں۔
کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے اوروں کو روکا پھر کفر کی حالت میں ہی مرگئے (یقین کر لو) کہ اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہر گز انہیں نہ بخشے گا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا اور پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مر گئے اللہ ان کو کبھی نہیں بخشے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، پھر اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے تو انھیں اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہو گی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کر دیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی یہ «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:33] ، اتری اس پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ڈرنے لگے کہ گناہ نیکیوں کو باطل نہ کر دیں۔
دوسری سند سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ ہر نیکی بالیقین مقبول ہے یہاں تک کہ یہ آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] اتری تو کہنے لگے کہ ہمارے اعمال برباد کرنے والی چیز کبیرہ گناہ اور بدکاریاں کرنے والے پر انہیں خوف رہتا تھا اور ان سے بچنے والے کے لیے امید رہتی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو اپنی اور اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی سعادت کی چیز ہے اور مرتد ہونے سے روک رہا ہے جو اعمال کو غارت کرنے والی چیز ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ سے کفر کرنے والے، راہ اللہ سے روکنے والے اور کفر ہی میں مرنے والے اللہ کی بخشش سے محروم ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ شرک کو نہیں بخشتا ‘۔ اس کے بعد جناب باری «عز اسمہ» فرماتا ہے کہ ’ اے میرے مومن بندو! تم دشمنوں کے مقابلے میں عاجزی کا اظہار نہ کرو اور ان سے دب کر صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ قوت و طاقت میں، زور و غلبہ میں، تعداد و اسباب میں تم قوی ہو ‘۔ ہاں جبکہ کافر قوت میں، تعداد میں، اسباب میں تم سے زیادہ ہوں اور مسلمانوں کا امام مصلحت صلح میں ہی دیکھے تو ایسے وقت بیشک صلح کی طرف جھکنا جائز ہے جیسے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر کیا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے اور صلح قائم رکھنے پر معاہدہ کر لیا۔ پھر ایمان والوں کو بہت بڑی بشارت و خوشخبری سناتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس وجہ سے نصرت و فتح تمہاری ہی ہے تم یقین مانو کہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی وہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس کا پورا پورا اجر و ثواب تمہیں عنایت فرمائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34){ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں کفار و منافقین کے لیے ترغیب ہے کہ کفر و نفاق اور اسلام کی مخالفت سے مرنے سے پہلے پہلے توبہ کر لو تو اللہ تعالیٰ تمھارے گزشتہ گناہ معاف کر دے گا، ورنہ اگر اسی حالت میں موت آگئی تو تمھاری بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں دہرائی ہے، دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۱)، بقرہ (۱۶۱، ۱۶۲، ۲۱۷) اور سورۂ نساء (۱۸)۔
پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اتر آؤ جبکہ تم ہی بلند وغالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے، ناممکن ہے کہ وه تمہارے اعمال ضائع کر دے
احمد رضا خان بریلوی
تو تم سستی نہ کرو اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم کمزور نہ پڑو (اور ہمت نہ ہارو) اور (دشمن کو) صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے اعمال (کے ثوا ب) میں ہرگز کمی نہیں کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس نہ کمزور بنو اور نہ صلح کی طرف بلاؤ اور تم ہی سب سے اونچے ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تم سے تمھارے اعمال کم نہ کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہو گی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کر دیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی یہ «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:33] ، اتری اس پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ڈرنے لگے کہ گناہ نیکیوں کو باطل نہ کر دیں۔
دوسری سند سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ ہر نیکی بالیقین مقبول ہے یہاں تک کہ یہ آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] اتری تو کہنے لگے کہ ہمارے اعمال برباد کرنے والی چیز کبیرہ گناہ اور بدکاریاں کرنے والے پر انہیں خوف رہتا تھا اور ان سے بچنے والے کے لیے امید رہتی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو اپنی اور اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی سعادت کی چیز ہے اور مرتد ہونے سے روک رہا ہے جو اعمال کو غارت کرنے والی چیز ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ سے کفر کرنے والے، راہ اللہ سے روکنے والے اور کفر ہی میں مرنے والے اللہ کی بخشش سے محروم ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ شرک کو نہیں بخشتا ‘۔ اس کے بعد جناب باری «عز اسمہ» فرماتا ہے کہ ’ اے میرے مومن بندو! تم دشمنوں کے مقابلے میں عاجزی کا اظہار نہ کرو اور ان سے دب کر صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ قوت و طاقت میں، زور و غلبہ میں، تعداد و اسباب میں تم قوی ہو ‘۔ ہاں جبکہ کافر قوت میں، تعداد میں، اسباب میں تم سے زیادہ ہوں اور مسلمانوں کا امام مصلحت صلح میں ہی دیکھے تو ایسے وقت بیشک صلح کی طرف جھکنا جائز ہے جیسے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر کیا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے اور صلح قائم رکھنے پر معاہدہ کر لیا۔ پھر ایمان والوں کو بہت بڑی بشارت و خوشخبری سناتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس وجہ سے نصرت و فتح تمہاری ہی ہے تم یقین مانو کہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی وہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس کا پورا پورا اجر و ثواب تمہیں عنایت فرمائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
35۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جب تم تعداد اور قوت وطاقت کے اعتبار سے دشمن پر غالب اور فائق تر ہو تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو بلکہ کفر پر ایسی کاری ضرب لگاؤ کہ اللہ کا دین سر بلند ہوجائے غالب و برتر ہوتے ہوئے کفر کے ساتھ مصالحت کا مطلب کفر کے اثر ونفوذ کے بڑھانے میں مدد دینا ہے یہ ایک بڑا جرم ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کے ساتھ صلح کرنے کی اجازت نہیں ہے یہ اجازت یقینا ہے لیکن ہر وقت نہیں صرف اس وقت ہے جب مسلمان تعداد میں کم اور وسائل کے لحاظ سے فروتر ہوں ایسے حالات میں لڑائی کی بہ نسبت صلح میں زیادہ فائدہ ہے تاکہ مسلمان اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر بھرپور تیاری کرلیں جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ سے جنگ نہ کرنے کا دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ 35۔ 2 اس میں مسلمانوں کے لئے دشمن پر فتح و نصرت کی عظیم بشارت ہے۔ جس کے ساتھ اللہ ہو، اس کو کون شکست دے سکتا ہے۔ 35۔ 2 بلکہ وہ اس پر پورا اجر دے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔
(آیت 35) ➊ { فَلَا تَهِنُوْا: ” فَلَا تَهِنُوْا “} کی فاء فصیحہ کہلاتی ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت: (۱۹) «فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» کی تفسیر۔ یعنی جب تم منافقین کا جہاد سے فرار اختیار کرنا اور دوسروں کو بھی اس سے روکنا، کفار کے ساتھ دوستی اور اسلام اور مسلمانوں سے بے وفائی کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنا، اس کے نتیجے میں ان پر لعنت ہونا اور ان کے اعمال برباد ہونا جان چکے تو تم وہ کام نہ کرنا جن کے نتیجے میں ان کا یہ انجام ہوا۔ ➋ { فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ:} منافقین چونکہ بزدلی اور موت کے خوف کی وجہ سے جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اس لیے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے، وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے رہتے تھے کہ جنگ کے بجائے صلح سے معاملات طے کرنے چاہییں۔ حالانکہ ان کی صلح جوئی کے پیچھے ان کی بے ہمتی، بزدلی اور کمزوری کے سوا کچھ نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی راہ اختیار کرنے سے منع فرما دیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئیں جب مدینہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، جس میں مہاجرین و انصار کی مٹھی بھر جماعت اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھی اور اس کا مقابلہ صرف عرب کے سب سے طاقتور قبیلے قریش کے ساتھ نہیں تھا بلکہ پورے عرب کے کفار و مشرکین اور یہود کے ساتھ تھا۔ اس حالت میں فرمایا کہ ہمت ہار کر دشمنوں سے صلح کی درخواست مت کرو، بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ بدر و احد اور خندق میں تعداد کی کمی، بے حد کمزوری اور بے سرو سامانی کے باوجود مسلمانوں نے نہ ہمت ہاری، نہ کمزوری دکھائی، نہ صلح کی پیش کش کی، بلکہ ڈٹ کر لڑے، یہاں تک کہ جب جنگِ خندق کی گرد چھٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلَا يَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِيْرُ إِلَيْهِمْ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۰ ] ”اب ہم ان پر حملے کے لیے جائیں گے، وہ ہم پر حملے کے لیے نہیں آئیں گے، ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔“ طالوت و جالوت کی جنگ بھی اس کی واضح مثال ہے۔“ ➌ {” فَلَا تَهِنُوْا “} کے بعد {” تَدْعُوْۤا “} بھی نہی کے اس {”لَا‘} ‘ کی وجہ سے مجزوم ہے جو {” تَهِنُوْا “} پر آیا ہے اور اسی کی وجہ سے اس سے نون اعرابی گرا ہے، کیونکہ یہ اصل میں {” تَدْعُوْنَ“} تھا، لائے نہی کی وجہ سے نون گر گیا تو {” تَدْعُوْۤا “} رہ گیا۔ گویا اصل کلام {”فَلاَ تَهِنُوْا وَلاَ تَدْعُوْا إِلَي السَّلْمِ “} ہے، واؤ عطف کی وجہ سے {”لَا“} کو دوبارہ لانے کی ضرورت نہ رہی، اس لیے ترجمہ ہو گا: ”پس تم نہ کمزور بنو (نہ ہمت ہارو) اور نہ صلح کی طرف دعوت دو۔“ اس کی ایک مثال یہ آیت ہے: «وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [البقرۃ: ۴۲] ”اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جب کہ تم جانتے ہو۔ “مطلب یہ ہے کہ دشمن سے جنگ میں ہمت نہ ہارو اور نہ ان کا خوف تم پر مسلط ہو بلکہ صبر کرو، ثابت قدم رہو، اپنے آپ کو لڑائی اور مقابلے پر جمائے رکھو اور صلح اور جنگ بندی کے سمجھوتے کی دعوت مت دو۔ ➍ {وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ …: ” وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ “ ”وَتَرَ يَتِرُ“ ({وَعَدَ يَعِدُ}) وَتْرًا وَ تِرَةً “} کسی کا حق مارنا، اس میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمت نہ ہارنے اور دشمن کو صلح کی دعوت نہ دینے کی تین وجہیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی وجہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم نے ہمت نہ ہاری تو تم ہی غالب رہو گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [ آل عمران: ۱۳۹ ] ”اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔ “ دوسری وجہ {” وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ “} ہے کہ اللہ تمھارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمت ہارے اور صلح کی پیش کش کرے۔ اسی حوصلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارِ مکہ کے مقابلے میں اس وقت بھی ہمت نہیں ہاری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو میں سے دوسرے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ التوبۃ: ۴۰ ] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ تیسری وجہ {” وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ “} ہے کہ وہ ہر گز تم سے تمھارے اعمال کم نہیں کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جہاد میں تم جو عمل بھی سرانجام دو گے تمھیں اس کا پورا پورا اجر ملے گا، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ تمھارے اور تمھارے دشمن کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے کہ تمھیں اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب، شہادت اور جنت کی امید ہے جب کہ کفار اس سے محروم ہیں۔ پھر ہمت ہارنے یا صلح کی پیش کش کا کیا مطلب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ» [ النساء: ۱۰۴ ] ”اور اس قوم کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقینا وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے۔ “ اور فرمایا: «مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (120) وَ لَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً وَّ لَا يَقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ التوبۃ: ۱۲۰، ۱۲۱ ] ”مدینہ والوں کا اور ان کے ارد گرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔ یہ اس لیے کہ وہ، اللہ کے راستے میں انھیں نہ کوئی پیاس پہنچتی ہے اور نہ کوئی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور نہ وہ خرچ کرتے ہیں کوئی چھوٹا خرچ اور نہ کوئی بڑا اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہیں، مگر وہ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے، تاکہ اللہ انھیں اس عمل کی بہترین جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ ➎ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دشمن کو صلح کی دعوت دینے سے منع فرمایا ہے، جبکہ دوسری جگہ فرمایا: «وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [ الأنفال: ۶۱ ] ”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہو جا اور اللہ پر بھروسا کر۔“ ان دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمت ہار کر دشمن کو صلح کی پیش کش کرنے سے منع فرمایا ہے اور اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو اس کی طرف مائل ہو جانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ پیش کش دشمن کی طرف سے ہے۔ ➏ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ”پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا: «فَلَا تَهِنُوْا» یعنی دشمن کے مقابلے میں کمزور مت بنو اور: «وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ» یعنی کفار کو صلح کی اور ایک دوسرے سے جنگ ترک کرنے کی دعوت مت دو، اس حال میں کہ تمھاری قوت، تعداد اور تیاری دشمن سے زیادہ ہو۔ اسی لیے فرمایا: «فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ» یعنی دشمن پر تمھارے غلبے کی حالت میں انھیں صلح کی دعوت مت دو۔ لیکن جب کفار تمام مسلمانوں کے مقابلے میں قوت و کثرت میں زیادہ ہوں اور امام صلح اور جنگ بندی میں مصلحت دیکھے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا جب کفارِ قریش نے آپ کو مکہ جانے سے روک دیا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح کی اور آپس میں دس سال تک جنگ ختم کرنے کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دعوت قبول فرمائی۔“ (ابن کثیر) مفسر شنقیطی نے اضواء البیان میں وہ تفسیر جو پہلے ذکر ہوئی ہے، بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”یہ معنی جو ہم نے اس آیت کا بیان کیا ہے اس تفسیر سے بہتر اور زیادہ درست ہے جو ابن کثیر نے کی ہے کہ اس وقت صلح اور سمجھوتے کی دعوت مت دو جب تم غالب ہو، یعنی تم جہاد کی قوت و طاقت رکھتے ہو۔ یعنی اگر تم کمزور ہو اور طاقت نہیں رکھتے تو اس بات سے کوئی مانع نہیں کہ تم صلح اور سمجھوتے کی دعوت دو۔“ شنقیطی کے ابنِ کثیر سے اتفاق نہ کرنے کی کئی وجہیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابن کثیر نے صرف {” وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ “} کو حال بنایا ہے، حالانکہ یہاں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ» دوسری یہ ہے کہ حدیبیہ کے زمانے میں مسلمان قوت میں کفار پر غالب تھے، جیسا کہ پیچھے صحیح بخاری کی حدیث {” اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ“} گزری۔ آپ نے انھیں صلح کی پیش کش اپنے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں کی تھی، ورنہ آپ اس سے بہت پہلے بدر و احد اور خندق میں صلح کی پیش کش کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انھیں صلح کی پیش کش کا مطلب یہ تھا کہ آپس کے میل جول سے اسلام کی تعلیم پھیلے گی تو یہ لوگ اسلام لے آئیں گے۔ کفار پہلے لڑائی پر آمادہ تھے مگر جب انھوں نے بیعتِ رضوان کے متعلق سنا تو ڈر گئے اور صلح پر آمادہ ہو گئے، جیسا کہ صحیح بخاری کی مفصل حدیث میں ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ابن کثیر نے فرمایا کہ صلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی۔ اگر ایسا ہو تو پھر یہ واقعہ اس مقصد کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمان کمزور ہوں تو ان کا امام صلح کی دعوت دے سکتا ہے، کیونکہ ابنِ کثیر کے اس قول کے مطابق توصلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اسے قبول فرمایا تھا، حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صلح کا پیغام بھیجا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی {”كِتَابُ الشُّرُوْطِ، بَابُ الشُّرُوْطِ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ وَ كِتَابَةِ الشُّرُوْطِ“} کی حدیث (۲۷۳۱،۲۷۳۲)۔ ➐ یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ”تم صلح کے لیے دعوت مت دو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر صلح کی دعوت کیوں دی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ صلح کی دعوت دینے کی ممانعت اس وقت ہے جب مسلمان ہمت ہارتے ہوئے اور بزدلی اور کمینگی اختیار کرتے ہوئے صلح کی دعوت دیں، جیسا کہ {” فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ “} (پس ہمت نہ ہارو اور نہ صلح کی طرف دعوت دو) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ حدیبیہ کی صلح کی دعوت دشمن کی طاقت توڑنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مبین قرار دیا، جیسا کہ آگے سورئہ فتح میں آ رہا ہے۔ بھلا جو صلح دشمن کے غالب اور مسلمانوں کے مغلوب ہونے کی صورت میں کی جائے اسے فتح مبین کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا کرنا فتح مبین ہوتا تو یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر و احد سے بہت پہلے کر لیتے۔ پھر نہ ہجرت کی نوبت آتی، نہ جنگیں لڑنا پڑتیں اور نہ ہی اتنی شہادتیں ہوتیں، مگر یاد رکھیں! پھر مشرق سے مغرب تک اسلام کا پھر یرا بھی نہیں لہرا سکتا تھا۔ ➑ ان آیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو میدانِ قتال میں اتر چکے ہیں، جو مسلمان کفار کے نرغے سے نکل ہی نہ سکیں کہ ہجرت کے بعد جہاد کر سکیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں مستضعفین کہہ کر معذور قرار دیا ہے۔ (دیکھیے نساء: ۹۷ تا ۹۹) اور ایسے مستضعفین کو آزادی دلانے کے لیے تمام مسلمانوں کو لڑنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے سورئہ نساء (۷۵)۔
یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
واقعی زندگانیٴ دنیا تو صرف کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور وه تم سے تمہارے مال نہیں مانگتا
احمد رضا خان بریلوی
دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا
علامہ محمد حسین نجفی
یہ دنیا کی زندگی تو بس کھیل اور تماشا ہے اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو وہ (خدا) تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے مال نہیں مانگے گا۔
عبدالسلام بن محمد
دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور دل لگی کے سوا کچھ نہیں اور اگر تم ایمان لاؤ اور بچے رہو، تو وہ تمھیں تمھارے اجر دے گا اور تم سے تمھارے اموال نہیں مانگے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔ پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہو گئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہو گی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے، حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے ‘۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2546] ، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔
36۔ 1 یعنی ایک فریب اور دھوکا ہے، اس کی کسی چیز کی بنیاد ہے نہ اس کو ثبات اور نہ اس کا اعتبار۔ 36۔ 2 یعنی وہ تمہارے مالوں سے بےنیاز ہے۔ اسی لئے اس نے تم سے زکوٰۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت قلیل حصے صرف ڈھائی فیصد کا اور وہ بھی ایک سال کے بعد اپنی ضرورت سے زیادہ ہونے پر، علاوہ ازیں اس کا مقصد بھی تمہارے اپنے ہی بھائی بندوں کی مدد اور خیر خواہی ہے نہ کہ اللہ اس مال سے اپنی حکومت کے اخراجات پورے کرتا ہے۔
(آیت 36) ➊ { اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت کی آیت (۶۴) کی تفسیر۔ جہاد سے روکنے والی سب سے بڑی چیز دنیا کی زندگی، اس کے مال و دولت اور اس کی دل فریبیوں سے محبت ہے، کیونکہ جہاد میں جان و مال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ یہ چند دن کا کھیل اور دل لگی ہے، اس کی محبت میں پھنس کر اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو اور یقین رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ اختیار کرو گے، جس میں جان و مال پیش کر دینا بھی شامل ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں تمھارے اجر پورے پورے دے گا اور تم سے تمھارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرے گا بلکہ ان میں سے معمولی حصے پر اکتفا کرے گا۔ مثلاً سال کے بعد اموال میں سے چالیسواں حصہ، کھیتی میں سے بیسواں یا دسواں حصہ، جنگ کے بعد غنیمت میں سے پانچواں حصہ اور دوسرے پیش آنے والے مواقع پر ضرورت کے مطابق مال کا کچھ حصہ۔ لیکن اگر تم نے ایمان و تقویٰ کے بجائے کفر و عناد پر اصرار کیا تو وہ اپنے مجاہد بندوں کے ذریعے سے تم سے تمھارے سارے اموال چھین لے گا۔ ایمان و تقویٰ کے تقاضے کے مطابق وہ معمولی حصہ جو تم نے خرچ کیا ہے اس کا بھی پورا پورا بدلا وہ تمھیں دنیا اور آخرت میں دے دے گا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ” حق تعالیٰ نے ملک فتح کر دیے، مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن مال خرچ کرنا پڑا، سو جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو سو گنا ہاتھ لگا۔ اسی لیے (قرآن کریم میں کئی جگہ) فرمایا ہے کہ اللہ کو قرض دو۔“ ➋ { وَ لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ:} ”اور تم سے تمھارے اموال نہیں مانگے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمھارے اموال پورے کے پورے نہیں مانگے گا۔ ہاں، وہ تمھارے اموال میں سے ایک حصہ خرچ کرنے کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ اس مطلب کے کئی قرینے ان آیات میں موجود ہیں جن میں سے ایک قرینہ {” أَمْوَالٌ“} کی اضافت ضمیر {”كُمْ“} کی طرف ہے۔ ظاہر ہے ”تمھارے اموال“ میں وہ تمام اموال آ جاتے ہیں جو تمھاری ملکیت ہیں۔ دوسرا قرینہ {” يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ “} ہے، کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ تمھیں تمھارے اجر پورے پورے دے گا۔ تو جس طرح {” اُجُوْرَكُمْ “} سے پورے اجر مراد ہیں اسی طرح {” اَمْوَالَكُمْ “} سے بھی پورے اموال مراد ہیں۔ تیسرا قرینہ اس آیت سے اگلی آیت میں لفظ {” فَيُحْفِكُمْ “} ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے ان کے اموال کا {”إِحْفَاءٌ“} نہیں چاہتا، یعنی پورے نہیں مانگنا۔ ان تمام قرائن کی وجہ سے {” لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ “} کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمھارے سارے اموال نہیں مانگے گا۔
اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کر لے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر وه تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وه تمہارے کینے ﻇاہر کر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اگر انہیں تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ تم سے وہ (مال) مانگے اورپھر اصرار بھی کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے دلی کینوں (اور دلی ناگواریوں) کو ظاہر کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اگر وہ تم سے ان کا مطالبہ کرے، پھر تم سے اصرار کرے توتم بخل کرو گے اور وہ تمھارے کینے ظاہر کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔ پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہو گئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہو گی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے، حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے ‘۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2546] ، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔
37۔ 1 یعنی ضرورت سے زائد کل مال کا مطالبہ کرے وہ بھی اصرار کے ساتھ اور زور دے کر تو یہ انسانی فطرت ہے کہ تم بخل بھی کرو گے اور اسلام کے خلاف اپنے بغض وعناد کا اظہار بھی اور اس صورت میں خود اسلام کے خلاف بھی تمہارے دلوں میں عناد پیدا ہوجاتا کہ یہ اچھا دین ہے جو ہماری محنت کی ساری کمائی اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہے۔
(آیت 37){ اِنْ يَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا …: ” فَيُحْفِكُمْ “ ” أَحْفٰي يُحْفِيْ إِحْفَاءً “} (افعال) کا معنی کسی چیز کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینا، یا کسی چیز کا اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے سارے اموال مانگ لے تو یہ اس کا حق ہے، کیونکہ وہ سب اسی کے دیے ہوئے ہیں مگر یہ اس کا کرم ہے کہ وہ تم سے تمھارے اموال پورے کے پورے نہیں مانگتا، کیونکہ اگر وہ سب کے سب اصرار کے ساتھ مانگ لے تو تم بخل کرو گے اور تمھارا بخل تمھارے دل میں پیدا ہونے والے تمام کینے ظاہر کر دے گا، جو سارا مال مانگنے کی وجہ سے تمھارے دل میں پیدا ہوں گے، کیونکہ مال تمھارا محبوب ہے اور جس کے محبوب کو اس سے مانگا جائے اس کے دل میں مانگنے والے کے خلاف کینہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تم سے مطالبہ ہی اتنا کیا ہے جس سے تم اتنی سخت آزمائش میں نہ پڑو اور اگر کسی دل میں نفاق یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کینے کی کوئی بات ہو بھی تو اس پر پردہ پڑا رہے۔ آیات کا مقصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ حوصلہ دلانا ہے کہ تم سے کوئی مشکل مطالبہ نہیں کیا جا رہا جو تم پورا نہ کر سکو، اس لیے خوش دلی کے ساتھ جہاد میں اپنے اموال خرچ کرو۔
دیکھو، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اِس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اللہ تو غنی ہے، تم ہی اس کے محتاج ہو اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
خبردار! تم وه لوگ ہو کہ اللہ کی راه میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو، تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وه تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وه تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو ﻻئے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں تم ہی ایسے لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں سے کچھ لوگ بُخل کرنے لگتے ہیں اور جو بُخل کرتا ہے وہ (دراصل) اپنے ہی نفس سے بُخل کرتا ہے اور اللہ بےنیاز ہے البتہ تم (اس کے) محتاج ہو اور اگر تم رُوگردانی کروگے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کولے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سنو! تم وہ لوگ ہو کہ تم بلائے جاتے ہو، تاکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو،توتم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ ہی بے پروا ہے اور تم ہی محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمھاری جگہ تمھارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمھاری طرح نہیں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔ پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہو گئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہو گی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے، حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے ‘۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2546] ، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔
38۔ 1 یعنی کچھ حصہ زکوٰۃ کے طور پر اور کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ 38۔ 2 یعنی اپنے ہی نفس کو انفاق فی سبیل اللہ کے اجر سے محروم رکھتا ہے۔ 38۔ 3 یعنی اللہ تمہیں خرچ کرنے کی ترغیب اس لیے نہیں دیتا کہ وہ تمہارے مال کا ضرورت مند ہے نہیں وہ تو غنی ہے بےنیاز ہے وہ تو تمہارے ہی فائدے کے لیے تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اس سے ایک تو تمہارے اپنے نفسوں کا تزکیہ ہو دوسرے تمہارے ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری ہوں تیسرے تم دشمن پر غالب اور برتر رہو اس لیے اللہ کی رحمت اور مدد کے محتاج تم ہو نہ کہ اللہ تمہارا محتاج ہے۔ 38۔ 4 یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جاؤ۔ 35۔ 5 بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور رسول کے اطاعت گزار اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرنے والے ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی ؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس سے مراد یہ اور اس کی قوم ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا ستارے کے ساتھ بھی لٹکا ہوا ہو تو اس کو فارس کے کچھ لوگ حاصل کرلیں گے۔ الترمذی۔
(آیت 38) ➊ {هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا …: ”هَا“} حرف تنبیہ ہے، خبردار، یاد رکھو، سن لو۔ {” أَنْتُمْ “} مبتدا اور {” هٰۤؤُلَآءِ “} اس کی خبر ہے جو {” اَلَّذِيْنَ “} کے معنی میں ہے اور {” تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “ ” هٰۤؤُلَآءِ “} کا صلہ ہے۔ یعنی یاد رکھو! تم وہ لوگ ہو کہ تمھیں دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ ➋ { وَ مَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ:} یعنی جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے وہ اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بخل کیا ہے اور اسے مال نہیں دیا، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اور اپنے آپ پر وہ مال خرچ نہیں کر رہا، کیونکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کہنے پر خرچ کرتا تو اس کا سارا فائدہ اسی کو ہونا تھا۔ اب اس نے بخل کیا تو اپنی ذات سے بخل کیا اور خود ہی محروم رہا۔ ➌ { وَ اللّٰهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ: ” الْغَنِيُّ “} اور {” الْفُقَرَآءُ “} پر الف لام آنے سے حصر پیدا ہو گیا، یعنی اللہ ہی غنی ہے اور کوئی غنی نہیں اور تم ہی محتاج ہو اللہ تعالیٰ کو کوئی محتاجی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں خرچ کرنے کا حکم اپنی کسی ضرورت کے لیے نہیں دیا، وہ تو غنی ہے، محتاج تم ہی ہو اور تم جو کچھ خرچ کرو گے وہ بے حساب اضافے کے ساتھ تمھی کو لوٹا دے گا، جیسا کہ فرمایا: «مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً وَ اللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصُۜطُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ البقرۃ: ۲۴۵ ] ”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے اور اللہ بند کرتا اور کھولتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “ ➍ {وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (۵۴) کی تفسیر۔