بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 11
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوۡلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اَنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ لَا مَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿٪۱۱﴾
یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں
وه اس لئے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لئے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں
یہ اس لیے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں،
یہ اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کا سرپرست ہے اور جو کافر ہیں ان کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں ہے۔
یہ اس لیے کہ اللہ ان لوگوں کا مدد گار ہے جو ایمان لائے اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ { اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (‏‏‏‏صخر)‏‏‏‏‏‏‏‏ بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا ”جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔‏‏‏‏“ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: { کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» } یعنی وہ کہتا تھا ”ہبل بت کا بول بالا ہو“، جس کے جواب میں کہا گیا ”سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔‏‏‏‏“ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ‏‏‏‏ ”ہمارا عزیٰ (‏‏‏‏بت)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہے اور تمہارا نہیں۔‏‏‏‏“ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا { «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4043] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

11۔ 1 چناچہ جنگ احد میں کافروں کے نعروں کے جواب میں مسلمانوں نے جو نعرے بلند کیے مثلا اعل ھبل اعل ھبل (ھبل بت کا نام ہے) کے جواب میں اللہ اعلی واجل کافروں کے انہی نعروں میں سے ایک نعرے لنا العزی ولا عزی لکم کے جواب مسلمانوں کا نعرہ تھا اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ ہمارا مددگار ہے تمہارا کوئی مددگار نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} یعنی کافروں پر ہلاکت نازل کرنے کا باعث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہلاکت سے بچا سکے۔ جب جنگِ اُحد میں ابوسفیان نے اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر نعرہ لگایا: {” إِنَّ لَنَا الْعُزَّي وَلاَ عُزَّي لَكُمْ “} (ہماری مددگار عزیٰ ہے اور تمھارا کوئی بھی مدد گار نہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا: [ اَللّٰهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَكُمْ ] [ بخاري، الجہاد، باب ما یکرہ من التنازع …: ۳۰۳۹ ] ”اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمھارا کوئی مدد گار نہیں۔“ یہ جواب اسی آیت سے ماخوذ ہے۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →