بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 19
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَ مَثۡوٰىکُمۡ ﴿٪۱۹﴾
پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے
سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، اللہ تم لوگوں کی آمد ورفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا اور رات کو تمہارا آرام لینا
(اے رسول(ص)) خوب جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدانہیں ہے اور خدا سے اپنے ذنب اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی مغفرت طلب کریں۔ اللہ تمہاری گردش (چلنے پھر نے) کی جگہ کو اور تمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے۔
پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ تمھارے چلنے پھرنے اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭

منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ‏‏‏‏ ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔

حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124] ‏‏‏‏ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ‏‏‏‏ ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔

صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏‏‏‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏‏‏‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346] ‏‏‏‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔ ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏‏‏‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ‏‏‏‏، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

19۔ 1 یعنی اس عقیدے پر ثابت اور قائم رہیں کیونکہ یہی توحید اور اطاعت الہی مدار خیر ہے اور اس سے انحراف یعنی شرک اور معصیت مدار شر ہے۔ 19۔ 2 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے، اپنے لئے بھی اور مومنین کے لئے بھی استغفار کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ احادیث میں بھی اس پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یَا اّیُّھَا النَّاسُ! تُوْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ فَاِنِّی اَسْتَغْعِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیہِ فِی الیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً (صحیح بخا ری) لوگو! استغفار کیا کرو، میں بھی اللہ کے حضور روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔ بارگاہ الٰہی میں توبہ واستغفار کرتا ہوں۔ 19۔ 3 یعنی دن کو تم جہاں پھرتے اور جو کچھ کرتے ہو اور رات کو جہاں آرام کرتے اور استقرار پکڑتے ہو اللہ تعالیٰ جانتا ہے مطلب ہے شب وروز کی کوئی سرگرمی اللہ سے مخفی نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ:} اس فاء کو فصیحہ (اظہار کرنے والی) کہتے ہیں، یعنی اس سے اس شرط کا اظہار ہوتا ہے جو گزشتہ کلام سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کا تعلق سورت کی گزشتہ تمام آیات کے ساتھ ہے، یعنی جب تم کفار اور ایمان والوں کا حال جان چکے اور یہ بھی کہ بھلائی اور کامیابی کا دارومدار توحید اور اطاعت پر ہے اور برائی اور ناکامی کا دار ومدار شرک اور نافرمانی پر ہے تو یہ بات بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (ابو السعود) ابوالعالیہ اور ابن عیینہ نے فرمایا کہ اس کا تعلق اس سے پہلی آیت کے ساتھ ہے، یعنی جب ان کے پاس قیامت آ گئی تو جان لو کہ اس کے قائم ہونے پر اللہ کے سوا بھاگنے یا پناہ حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں (کیونکہ معبود برحق وہی ہے)۔ (بغوی) ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس حقیقت کو پہلے ہی جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَ أَعْلَمَكُمْ بِاللّٰهِ أَنَا ] [ بخاري، الإیمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” أنا أعلمکم باللّٰہ …“: ۲۰ ] ”یقینا میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والا ہوں۔“ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ”جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات دیے ہیں اور وہ سب درست ہیں۔ ایک یہ کہ {” فَاعْلَمْ “} کے مخاطب اگرچہ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر خطاب امت کے ہر فرد کو ہے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ ہیں جن میں صراحتاً سب کو مخاطب فرمایا ہے: «وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ» ‏‏‏‏ ”اور اللہ تمھارے چلنے پھرنے کو اور تمھارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔“ جیسا کہ سورۂ طلاق کے شروع میں فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ‏‏‏‏ [ الطلاق: ۱ ] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنو اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کوئی کھلی بے حیائی (عمل میں) لائیں۔“ دوسرا جواب یہ ہے کہ {” فَاعْلَمْ “} کا معنی یہ ہے کہ {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ “} کے علم پر ثابت اور قائم رہو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۳۶] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے اس سے پہلے نازل کی۔“ اکثر مفسرین نے یہاں {” فَاعْلَمْ “} کا یہی معنی بیان فرمایا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ کسی حقیقت کے علم کی ابتدا اس کی معرفت سے ہوتی ہے کہ دل اسے جان لے، پھر اس کے یقین کا مرتبہ آتا ہے اور اس علم کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرے۔ مطلب یہ ہے کہ {”لا الٰه الا الله“} کی معرفت اور اس کا یقین حاصل کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو۔ ظاہر ہے کہ علم اور یقین کے بے شمار درجے ہیں اور عمل کے لحاظ سے درجوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا قول: «‏‏‏‏وَ لٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِيْ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۶۰] (اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے) اس کی دلیل ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: «‏‏‏‏وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۱۱۴ ] ”اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ اور کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے: چومی گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات لا الٰہ را ”جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں، کیونکہ میں {”لا الٰه“} کی مشکلات کو جانتا ہوں۔“ سورۂ نساء کی آیت (۱۳۶): «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» ‏‏‏‏ کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کرو۔ خلاصہ یہ کہ ہر لمحے {”لا الٰه الا الله“} کی معرفت، اس کے یقین اور اس پر عمل میں اضافے کی کوشش کرتے رہو۔ چوتھا یہ کہ ہر وقت اس حقیقت کو یاد اور نظر کے سامنے رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، گویا {”اِعْلَمْ“} بمعنی {” اُذْكُرْ“} ہے۔ ➌ اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ہر قول اور عمل سے پہلے علم کا حصول لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۰ ] ”جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ہے۔“ اس کے بعدفرمایا: «‏‏‏‏سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۱ ] ”اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے۔“ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں فرمایا: {”بَابُ الْعِلْمِ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللّٰهِ تَعَالٰي: «‏‏‏‏فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ“} [ بخاري، العلم، قبل ح: ۶۸ ] ”علم مقدم ہے قول اور عمل پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ محمد میں) فرمایا: ”پس تو جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس آیت میں اللہ نے علم کو پہلے بیان کیا ہے۔“ ➍ {وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ:} قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے رہے اور امت کو بھی اس کی تاکید فرماتے رہے۔ چنانچہ اس سے متعلق یہاں دو احادیث نقل کی جاتی ہیں، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ خَطِيْئَتِيْ وَجَهْلِيْ وَ إِسْرَافِيْ فِيْ أَمْرِيْ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ جِدِّيْ وَهَزْلِيْ وَخَطَئِيْ وَعَمْدِيْ وَكُلُّ ذٰلِكَ عِنْدِيْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ] [ مسلم، الذکر و الدعاء، باب في الأدعیۃ: ۲۷۱۹ ] ”اے اللہ! میری خطا کو، میرے جہل کو، میرے کام میں میری زیادتی کو اور ان تمام گناہوں کو میرے لیے بخش دے جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! میرے سنجیدگی سے کیے ہوئے کاموں کو، میرے مذاق سے کیے ہوئے کاموں کو، میرے بھول کر کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہوں کو میرے لیے بخش دے اور یہ سب میرے پاس موجود ہیں۔ اے اللہ! تو مجھے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے پہلے کیے اور جو میں نے بعد میں کیے اور جو چھپا کر کیے اور جو علانیہ کیے اور جنھیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: [ وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً ] [ بخاري، الدعوات، باب استغفار النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الیوم واللیلۃ:۶۳۰۷ ] ”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر (۷۰) بار سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ ➎ { وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہے اور امت کے تمام افراد کو بھی کہ وہ اپنے علاوہ دوسرے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی استغفار کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں پر اپنے مومن بھائیوں کے لیے استغفار واجب ہے۔ پہلے جلیل القدر انبیاء علیھم السلام کا بھی یہی عمل رہا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے دعا کی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا» ‏‏‏‏ [ نوح: ۲۸ ] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔“ اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: «رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ» ‏‏‏‏ [ إبراہیم: ۴۱ ] ”اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔“ ➏ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام ایمان والوں کو مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کا جب خود حکم دیا تو یہ دلیل ہے کہ وہ اسے قبول بھی فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر مومن، مرد ہو یا عورت، زندہ ہو یا فوت شدہ، استغفار کی ان دعاؤں میں شامل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر امت کے آخری آدمی نے ایمان والوں کے حق میں کی ہیں اور جس کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار مقبول بندوں کی مغفرت کی دعائیں ہوتی ہوں اس کی مغفرت سے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے کسی بھی مومن کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ وہ جہنمی ہے، یا اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا، خواہ وہ کتنا زیادہ گناہ گار ہو۔ شرط یہ ہے کہ وہ ایمان کی دولت اپنے دامن میں رکھتا ہو اور شرک کی نجاست سے آلودہ نہ ہو۔ ➐ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ:مُتَقَلَّبٌ“} اور {”مَثْوٰي“تَقَلَّبَ يَتَقَلَّبُ“} (تفعل) اور {” ثَوَي يَثْوِيْ“} (ض) سے مصدر میمی بھی ہو سکتے ہیں اور ظرف مکان بھی۔ پہلی صورت میں معنی ہے تمھارا چلنا پھرنا اور تمھارا ٹھہرنا اور دوسری صورت میں معنی ہے تمھارے چلنے پھرنے کی جگہ اور تمھارے ٹھہرنے کی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری نقل و حرکت کو اور تمھارے ٹھہرنے کو اور تمھارے چلنے پھرنے کے اور تمھارے ٹھہرنے کے مقامات کو خوب جانتا ہے۔ اس میں کفار اور نافرمانوں کے لیے وعید ہے اور اللہ کے فرماں بردار بندوں کے لیے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری جائز یا ناجائز ہر حرکت و سکون سے واقف ہے اور واقف ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ فرماں برداروں کو انعام دے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →