بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 18
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰىہُمۡ ﴿۱۸﴾
اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک اِن پر آ جائے؟ اُس کی علامات تو آ چکی ہیں جب وہ خود آ جائے گی تو اِن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟
تو کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
سو یہ لوگ تو بس اب قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ اچانک ان پر آجائے تو اس کے آثار و علا مات تو آہی چکے ہیں اور جب وہ آجائے گی تو پھر ان کو نصیحت حاصل کرنے کاموقع کہاں رہے گا؟
تو وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ ان پر اچانک آجائے، پس یقینا اس کی نشانیاں آچکیں، پھر ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہو گی ، جب وہ ان کے پاس آجائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭

منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ‏‏‏‏ ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔

حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124] ‏‏‏‏ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ‏‏‏‏ ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔

صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏‏‏‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏‏‏‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346] ‏‏‏‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔ ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏‏‏‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ‏‏‏‏، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

18۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین۔ صحیح بخاری۔ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔ 18۔ 2 یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کرسکیں گے؟ مطلب ہے اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو مقبول نہیں ہوگی اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ { فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً:} یعنی کون سی نصیحت اور کون سی وعید ہے جو انھیں نہیں سنائی گئی اور کون سی دلیل ہے جو ان کے سامنے پیش نہیں کی گئی، مگر وہ اتنے بدبخت ہیں کہ جب تک قیامت کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے گویا اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے سامنے آ کھڑی ہو، نہ پہلے علم ہونے کی وجہ سے اس پر ایمان لا سکیں نہ اس کی تیاری کر سکیں۔ ➋ { فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا:} یعنی جس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس کے آنے میں دیر بھی کیا رہ گئی ہے، اس کی نشانیاں تو آ ہی چکی ہیں، اب اس کے آنے میں کیا شبہ باقی ہے؟ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا ہونا ہے۔ سب نبی خاتم النّبیین کی راہ دیکھتے تھے، جب وہ آ چکے تو قیامت ہی آنی رہ گئی ہے۔“ (موضح) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ] [ بخاري، الرقاق، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” بعثت أنا والساعۃ کھاتین… “: ۶۵۰۵ ] ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں۔“ یعنی جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ایک دوسری سے ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے بعد متصل آ رہی ہے۔ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے شقِ قمر کی نشانی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ظاہر ہو چکی تھی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ» [ القمر: ۱ ] ”قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ “ آلوسی نے فرمایا: ”ظاہر یہ ہے کہ ان نشانیوں سے وہی نشانیاں مراد ہیں جو اس آیت کے نزول کے وقت نمودار ہو چکی تھیں۔“ ➌ {فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ:ذِكْرٰىهُمْ “} مبتدا ہے اور {” فَاَنّٰى لَهُمْ “} اسم استفہام خبر مقدم ہے۔ {” فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ “} (پھر جب وہ ان کے پاس آ گئی تو ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہو گی)، {” اِذَا جَآءَتْهُمْ “} میں {”جَاءَتْ“} کا فاعل {” السَّاعَةَ “} کی ضمیر ہے۔ (التسہیل) یعنی جب ان کے پاس قیامت آ گئی تو نصیحت قبول کرنے یا مان لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یہی بات اس آیت میں بیان ہوئی ہے: «‏‏‏‏يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [ الفجر: ۲۳] ”اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور (اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔“ مزید دیکھیے سورۂ سبا (۵۱، ۵۲) اور سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →