بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 26
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ کَرِہُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِسۡرَارَہُمۡ ﴿۲۶﴾
اِسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے اللہ اُن کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے
یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کی نازل کرده وحی کو برا سمجھا یہ کہا کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں میں تمہارا کہا مانیں گے، اور اللہ ان کی پوشیده باتیں خوب جانتا ہے
یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں سے جنہیں اللہ کا اتارا ہوا ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اللہ کی نازل کردہ (کتاب) کو ناپسند کرتے ہیں کہ ہم بعض معاملات میں تمہاری بات مان لیں گے اللہ ان کی رازداری کو جانتا ہے۔
یہ اس لیے کہ انھوںنے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اس چیز کو نا پسند کیاجو اللہ نے نازل کی، عنقریب ہم بعض کا موں میں تمھارا کہا مانیں گے اور اللہ ان کے چھپانے کو جانتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔

📖 احسن البیان

26۔ 1 ' یہ ' سے مراد ان کا مرتد ہونا ہے۔ 26۔ 2 یعنی منافقین نے مشرکین سے یا یہود سے کہا۔ 26۔ 3 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی مخالفت میں۔ 2 6 ۔ 4 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ) 4۔ النساء:81)۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) ➊ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ:” لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ “} سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ» ‏‏‏‏ [محمد: ۹] ”یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ “ ➋ { سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ:} بعض کاموں سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقع آئے مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقے سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ یعنی ان کے ایمان قبول کرنے کے بعد کفر و ارتداد کی طرف پلٹنے، جہاد سے فرار اور منافقت اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ دوسرے مخلص مسلمانوں کی طرح وہ تمام کاموں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والے کفار سے کہا کہ ہم اسلام قبول کرنے اور مسلمانوں میں رہنے کی وجہ سے تمھاری ہر بات نہیں مان سکتے، نہ کھلم کھلا اپنے کفر کا اظہار کر سکتے ہیں، مگر ہم کچھ کاموں میں تمھاری اطاعت ضرور کریں گے۔ وہ اس طرح کہ جنگ کے موقع پر تمھاری مدد کریں گے، جیسا کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی اُحد کے موقع پر عین میدانِ جنگ سے تین سو آدمیوں کو واپس لے گیا اور جس طرح منافقین نے بنو نضیر کے یہودیوں کو ہلاشیری دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ڈٹے رہو، اگر تمھیں نکالا گیا تو ہم تمھارے ساتھ نکلیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمھارے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ دیکھیے سورۂ حشر (۱۱)۔ ➌ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ:} اور اللہ تعالیٰ ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جو وہ چھپ کر کرتے ہیں خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ انھیں اس کی سزا ضرور دے گا۔ اس آیت کا مضمون سورۂ نساء کی آیت (۸۱) میں بھی بیان ہوا ہے۔
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →