بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 24
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾
کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟
کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں
تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں
کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 جس وجہ سے قرآن کے معانی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24){ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ …:} اوپر کی آیت کے سیاق کو ملحوظ رکھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے یا تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے، یا کرتے ہیں تو اس کے معانی و مطالب ان کی سمجھ میں نہیں آتے، کیونکہ ان کے دلوں پر کفر و نفاق کے قفل چڑھے ہوتے ہیں۔ ہاں، اگر صدقِ نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لیتے کہ جہاد میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →