بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 31
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَ نَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾
ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں
یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ﻇاہر کر دیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ کر لیں
اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیں تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں
اور ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائیںگے تاکہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم (و ممیز) کریں اور تمہارے حالات کی جانچ کر لیں۔
اور ہم ضرور ہی تمھیں آزمائیں گے،یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات جانچ لیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭

یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ «اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔

امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔‏‏‏‏“ حدیث شریف میں ہے { جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو }۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (‏‏‏‏تعیین)‏‏‏‏‏‏‏‏ آ چکی ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔‏‏‏‏“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:273/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔

📖 احسن البیان

31۔ 1 اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی سب کچھ ہے۔ یہاں علم سے مراد اس کا وقوع اور ظہورہے تاکہ دوسرے بھی جان لیں اور دیکھ لیں۔ اسی لئے امام ابن کثیر نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے کہ ہم اس کے وقوع کو جان لیں یا ہم دیکھ لیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31) ➊ { وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ …:} یہ مسلمانوں سے عام خطاب ہے کہ منافقوں کے ذکر سے یہ خیال نہ کرنا کہ تم امتحان سے مستثنیٰ ہو۔ ہر گز نہیں، بلکہ ہم ہر حال میں مختلف احکام کے ساتھ تمھاری آزمائش کریں گے، حتیٰ کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات کی خوب جانچ پڑتال کر لیں۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ کاموں کا علم ہے وہ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو آئندہ ہونے والے ہیں، پھر اس بات کا کیا مطلب کہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ ہم اس بات کا واقع ہونا جان لیں۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس جیسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ{” نَعْلَمَ “} کا معنی {” نَرٰي “} ہے، یعنی حتیٰ کہ ہم دیکھ لیں۔“ (ابن کثیر) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ پہلے جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، مگر یہ بات کہ وہ کام واقع ہو چکا ہے اس کے علم میں اسی وقت آتی ہے جب وہ کام واقع ہو اور اس وقت ہی وہ اس کے واقع ہونے کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ جو کام واقع ہی نہیں ہوا اس کے متعلق کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ واقع ہو چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۴۲)۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →