بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 32
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡہُدٰی ۙ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیُحۡبِطُ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۳۲﴾
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہو چکی تھی، در حقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے لوگوں کو روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت ﻇاہر ہو چکی یہ ہرگز ہرگز اللہ کا کچھ نقصان نہ کر سکیں گے۔ عنقریب ان کے اعمال وه غارت کردے گا
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسرے لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے (ہاں البتہ) اللہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ صاف ظاہر ہو گیا، وہ ہرگز اللہ کا کوئی نقصان نہ کریں گے اور عنقریب وہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہو گی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کر دیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی یہ «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:33] ‏‏‏‏، اتری اس پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ڈرنے لگے کہ گناہ نیکیوں کو باطل نہ کر دیں۔

دوسری سند سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ ہر نیکی بالیقین مقبول ہے یہاں تک کہ یہ آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏ اتری تو کہنے لگے کہ ہمارے اعمال برباد کرنے والی چیز کبیرہ گناہ اور بدکاریاں کرنے والے پر انہیں خوف رہتا تھا اور ان سے بچنے والے کے لیے امید رہتی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو اپنی اور اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی سعادت کی چیز ہے اور مرتد ہونے سے روک رہا ہے جو اعمال کو غارت کرنے والی چیز ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ سے کفر کرنے والے، راہ اللہ سے روکنے والے اور کفر ہی میں مرنے والے اللہ کی بخشش سے محروم ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ شرک کو نہیں بخشتا ‘۔ اس کے بعد جناب باری «عز اسمہ» فرماتا ہے کہ ’ اے میرے مومن بندو! تم دشمنوں کے مقابلے میں عاجزی کا اظہار نہ کرو اور ان سے دب کر صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ قوت و طاقت میں، زور و غلبہ میں، تعداد و اسباب میں تم قوی ہو ‘۔ ہاں جبکہ کافر قوت میں، تعداد میں، اسباب میں تم سے زیادہ ہوں اور مسلمانوں کا امام مصلحت صلح میں ہی دیکھے تو ایسے وقت بیشک صلح کی طرف جھکنا جائز ہے جیسے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر کیا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے اور صلح قائم رکھنے پر معاہدہ کر لیا۔ پھر ایمان والوں کو بہت بڑی بشارت و خوشخبری سناتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس وجہ سے نصرت و فتح تمہاری ہی ہے تم یقین مانو کہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی وہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس کا پورا پورا اجر و ثواب تمہیں عنایت فرمائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

32۔ 1 بلکہ اپنا ہی بیڑا غرق کریں گے۔ 32۔ 2 کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کو اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔ ایمان و اخلاص ہی ہر عمل خیر کو اس قابل بناتا ہے کہ اس پر اللہ کے ہاں سے اجر ملے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32){ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} یعنی منافقین اور یہود جنھیں یہ معلوم ہو چکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں موجود ہیں مگر انھوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کی مخالفت کی، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، نہ اللہ کے رسول اور اللہ کے بندوں کا کچھ نقصان کر سکیں گے، بلکہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، کیونکہ اپنے خیال میں وہ جو اچھے کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں برباد کر دے گا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کو اللہ کے دین سے روکنے کے لیے وہ جو سازشیں اور منصوبے تیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ناکام بنا دے گا۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت میں {” اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ “} کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →