بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ محمد — Surah Muhammad
آیت نمبر 13
کل آیات: 38
قرآن کریم محمد آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ محمد islamicurdubooks.com ↗
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنۡ قَرۡیَتِکَ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَتۡکَ ۚ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَہُمۡ ﴿۱۳﴾
اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا
ہم نے کتنی بستیوں کو جو طاقت میں تیری اس بستی سے زیاده تھیں جس سے تجھے نکالا ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ہے، جن کا مددگار کوئی نہ اٹھا
اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں
اور کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو تمہاری اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس نے تمہیں نکالا ہے کہ ہم نے انہیں ہلاک کر دیا پس ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو تیری اس بستی سے قوت میں زیادہ تھیں جس نے تجھے نکالا، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، پھر کوئی ان کا مددگار نہ تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر جناب باری خبر دیتے ہیں کہ ایماندار قیامت کے دن جنت نشین ہوں گے اور کفر کرنے والے دنیا میں تو خواہ کچھ یونہی سا نفع اٹھا لیں لیکن ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔ دنیا میں ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور پیٹ بھرنا ہے اسے یہ لوگ مثل جانوروں کے پورا کر رہے ہیں، جس طرح وہ ادھر ادھر منہ مار کر گیلا سوکھا پیٹ میں بھرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے اسی طرح یہ ہے کہ حلال حرام کی اسے کچھ تمیز نہیں، پیٹ بھرنا مقصود ہے۔ حدیث شریف میں ہے { مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5396] ‏‏‏‏ جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [11-هود:20] ‏‏‏‏ دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟ جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“ پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13) ➊ {وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِيَ اَشَدُّ قُوَّةً …:} اس کا عطف {” اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا “} پر ہے، درمیان میں بات سے بات نکلتی گئی ہے، دوبارہ پھر وہی سلسلۂ کلام شروع فرمایا ہے۔ اس میں کفارِ مکہ کے لیے وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ اہلِ مکہ جنھوں نے آپ کو اپنی بستی سے نکلنے پر مجبور کر دیا، اپنی قوت و شوکت پر مغرور نہ ہوں اور آپ ان کی قوت دیکھ کر دل برداشتہ نہ ہوں، ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، پھر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دیکھیے سورۂ روم (۹، ۱۰) اور سورۂ مومن (۲۱)۔ ➋ { ” قَرْيَةٍ “} سے مراد قریہ والے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے والد ماجد سے کہا: «‏‏‏‏وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا» ‏‏‏‏ [ یوسف:۸۲ ] ”اور اس بستی سے پوچھ لے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔“ اس لیے آگے {”أَهْلَكْنَا هَا“} کے بجائے {” اَهْلَكْنٰهُمْ “} (ہم نے انھیں ہلاک کر دیا) فرمایا، یعنی اس بستی والوں کو ہلاک کر دیا۔ پوری بستی کو نکالنے والا قرار دینے میں ناراضی کا اظہار ہے، کیونکہ کچھ نکالنے والے تھے اور کچھ خاموش رہ کر ان کا ساتھ دینے والے، جیسا کہ قومِ عاد کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا» ‏‏‏‏ [الشمس: ۱۴] ”تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔“ حالانکہ اونٹنی کو کاٹنے والا تو ایک ہی شخص تھا۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی اس لیے بھی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنے کا شدید رنج اور صدمہ تھا۔ عبد اللہ بن عدی بن حمراء الزہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {”حزوَرَه“} مقام پر کھڑے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاللّٰهِ! إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰهِ إِلَی اللّٰهِ وَ لَوْ لَا أَنِّيْ أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ] [ ترمذي، المناقب، باب في فضل مکۃ: ۳۹۲۵، و قال الألباني صحیح ] ” اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمین میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے تجھ سے نکال دیا گیا تو میں نہ نکلتا۔“
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →