اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بھی کر، جو چنا ہوا اور رسول اور نبی تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول) کتاب (قرآن) میں موسیٰ کا ذکر کیجئے! بےشک وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی مرسل تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر کر، یقینا وہ خالص کیا ہوا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ’ وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے ‘۔ مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“ دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ’ اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ‘۔ ’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34] ، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36] ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔ آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13] الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
51۔ 1 مخلص، مصطفیٰ، مجتبیٰ اور مختار، چاروں الفاظ کا مفہوم ایک ہے یعنی رسالت وپیامبری کے لیے چنا ہوا پسندیدہ شخص رسول بمعنی مرسل ہے (بھیجا ہوا) اور نبی کے معنی اللہ کا پیغام لوگوں کو سنانے والا یا وحی الہٰی کی خبر دینے والا تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہے کہ اللہ جس بندے کو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے چن لیتا ہے اور اسے اپنی وحی سے نوازتا ہے، اسے رسول اور نبی کہا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے اہل علم میں ایک بحث یہ چلی آرہی ہے کہ آیا کہ ان دونوں میں فرق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ فرق کرنے والے بالعموم کہتے ہیں کہ صاحب شریعت یا صاحب کتاب کو رسول اور نبی کہا جاتا ہے اور جو پیغمبر اپنی سابقہ پیغمبر کی کتاب یا شریعت کے مطابق ہی لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا رہا، وہ صرف نبی ہے، رسول نہیں۔ تاہم قرآن کریم میں ان کا اطلاق ایک دوسرے پر بھی ہوا ہے اور بعض جگہ مقابلہ کرنے والے بھی آئے ہیں، مثلاً سورة الحج آیت 52 میں۔ ْْ
(آیت 51) ➊ {وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا: ” مُخْلَصًا “} کا معنی ہے ”خالص کیا ہوا، چنا ہوا۔“ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ }» [ طٰہٰ: ۴۱ ] (اور میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لیے بنایا ہے)، طٰہٰ کی آیت (۱۳) اور اعراف کی آیت (۱۴۴) سے ہوتی ہے۔ ➋ {وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا: ” رَسُوْلًا “} کا لفظی معنی بھیجا ہوا ہے اور {” نَبِيًّا “ ” نَبَأٌ “} سے {” فَعِيْلٌ “} کے وزن پر ہے جو فاعل اور مفعول دونوں معنوں میں آتا ہے۔ مفعول ہو تو وہ جسے اللہ کی طرف سے خبر دی جائے اور اگر فاعل ہو تو وہ جو اللہ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ {” نَبَأٌ “} عام خبر کو نہیں بلکہ اس خبر کو کہتے ہیں جو بڑی عجیب یا اہم ہو۔ قرآن مجید میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں، تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے کافی فرق پایا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۵۲) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جس کو اللہ تعالیٰ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں سے جو خاص ہیں اور امت رکھتے ہیں یا کتاب وہ رسول ہیں۔“ (موضح) ➌ یہاں {” رَسُوْلًا “} کے بعد {” نَبِيًّا “} لانے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پیغام پہنچانے کے لیے کوئی بھی بھیجا جائے اسے رسول کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھیجے تو اس کا رسول، کوئی اور بھیجے تو اس کا رسول۔ جیسا کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق سورۂ یس میں مذکور مرسلین کسی نبی کی طرف سے بھیجے ہوئے داعی تھے اور جیسا کہ یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ وقوف کیے ہوئے تھے (ان کے شاگرد عمرو بن عبد اللہ وہ جگہ امام کی جگہ سے دور بیان کرتے تھے) تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور انھوں نے کہا: [ إِنِّيْ رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ] [ أبوداوٗد، المناسک، باب موضع الوقوف بعرفۃ: ۱۹۱۹۔ ابن ماجہ: ۳۰۱۱ و صححہ الألباني ] ”میں تمھاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول یعنی پیغام لانے والا ہوں۔“ اس آیت میں {” رَسُوْلًا “} کی تاکید {” نَبِيًّا “} کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ موسیٰ علیہ السلام کو کسی کی طرف سے بھیجا ہوا محض ایک داعی نہ سمجھا جائے، بلکہ وہ نبی بھی تھے جو وحی الٰہی سے سرفراز تھے۔
ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے کوہِ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور راز و نیاز کی باتیں کرنے کیلئے انہیں اپنا مقرب بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے پہاڑ کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ’ وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے ‘۔ مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“ دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ’ اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ‘۔ ’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34] ، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36] ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔ آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13] الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
52۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں فرمایا، ان کا علم نہ تجھے ہے نہ مجھے۔ البتہ ان کا علم میرے رب کو ہے، جو اس کے پاس کتاب میں موجود ہے وہ اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، پھر اس کا علم اس طرح ہر چیز کو محیط ہے کہ اس کی نظر سے کوئی چھوٹی بڑی چیز اوجھل نہیں ہوسکتی، نہ اسے بھول ہی لا حق ہوسکتی ہے۔ جب کہ مخلوق کے علم میں دونوں نقص موجود ہیں۔ ایک تو ان کا علم محیط کل نہیں، بلکہ ناقص ہے۔ دوسرے، علم کے بعد وہ بھول بھی سکتے ہیں، میرا رب ان دونوں نقصوں سے پاک ہے۔ آگے، رب کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔
(آیت 52) ➊ {وَ نَادَيْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ …:} طور کا معنی پہاڑ ہے، بعض خاص پہاڑوں کا نام بھی طور ہے، جیسے ایلہ کے قریب صحرائے سینا کے ایک پہاڑ کو طورِ سینا یا طور سینین کہتے ہیں۔ صاحب قاموس نے چند اور مقامات پر واقع پہاڑوں کا بھی ذکر کیا ہے جنھیں طور کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ موسیٰ علیہ السلام کے مدین سے واپس مصر جاتے ہوئے پیش آیا۔ اس کی تفصیل سورۂ طٰہٰ (۹تا۳۶)، نمل (۷ تا ۱۴) اور قصص (۲۹ تا ۳۵) میں موجود ہے۔ ابن کثیر نے سورۂ قصص کی آیت (۳۰) «{ نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ }» کی تفسیر میں فرمایا: ”یعنی وادی کی اس جانب سے جو موسیٰ علیہ السلام کے دائیں طرف پہاڑ کے مغربی کنارے سے ملتی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ }» [ القصص: ۴۴ ] ”اور اس وقت تو مغربی جانب نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے آگ کی طرف رخ قبلہ کی جانب کیا تھا اور انھوں نے پہاڑ کے مغربی حصے کو اپنی دائیں طرف کیا ہوا تھا۔“ آلوسی نے فرمایا: {” مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ “} سے مراد پہاڑ کی وہ جانب ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی دائیں جانب تھی، کیوں کہ خود پہاڑ کا کوئی دایاں ہوتا ہے نہ بایاں۔ {” الْاَيْمَنِ “ ” يُمْنٌ “} سے بھی ہو سکتا ہے جس کا معنی برکت ہے، یعنی اس کی مبارک جانب سے، اس معنی کے لحاظ سے پہاڑ کی مبارک جانب بھی مراد ہو سکتی ہے، مگر پہلا معنی بہتر ہے۔ {” نَادَيْنٰهُ “} (ہم نے اسے آواز دی) آواز دینے سے مراد اس جانب سے اللہ کا کلام ظاہر ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا کلام الفاظ کی صورت میں سنا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جو سنا تھا اس میں نہ حرف تھے، نہ آواز تھی۔ انھوں نے صرف کانوں سے نہیں بلکہ تمام اعضاء کے ساتھ سنا تھا، جس سے انھیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اسی لیے کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہم نے اسے طور کی مبارک جانب سے آتے ہوئے آواز دی، مگر یہ بات عقل کی دسترس سے باہر ہے اور احادیث کے دلائل اس کے صاف خلاف ہیں۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا آواز دینا اور کلام کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر اس کے کلام کے بھی منکر ہیں، اس لیے وہ نہ اس میں حروف مانتے ہیں، نہ آواز اور نہ اس کا کانوں سے سنا جانا۔ مگر الفاظ اور آواز سے خالی چیز کو کلام کہنا جس طرح عقل سے بعید ہے اسی طرح قرآن و حدیث کے بھی صریح خلاف ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، کہف (۱۰۹) اور توبہ (۶)۔ ➋ {وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا: ” نَجِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} بمعنی {”مُفَاعِلٌ“} ہے، جیسے {”جَلِيْسٌ“} بمعنی {”مُجَالِسٌ“} اور {”نَدِيْمٌ“} بمعنی {”مُنَادِمٌ“} ہے۔ {”مُنَاجَاةٌ“} ایک دوسرے سے چھپی آواز میں بات کرنا، سرگوشی کرنا، یعنی ہم نے اسے سرگوشی کرتے ہوئے قریب کر لیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ان سے کلام ہوا، بیچ میں فرشتہ نہ تھا۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ نے جس طرح واضح الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام سے خود کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے کسی اور کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔
اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی)
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں اپنی خاص رحمت سے آواز دی اور راز و نیاز کی باتیں کرنے کے لئے اپنا مقرب بنایا اور (بطور وزیر) ان کو ان کا بھائی ہارون عطا کیا جو نبی تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ’ وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے ‘۔ مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“ دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ’ اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ‘۔ ’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34] ، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36] ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔ آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13] الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 53){ هٰرُوْنَ نَبِيًّا:} موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو انھوں نے اپنی مدد کے لیے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا اور اپنی خاص رحمت سے ان کے بھائی کو نبی بنا کر انھیں ہبہ فرما دیا۔ آج تک موسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے اتنے اونچے مرتبے کی دعا نہیں کی اور نہ ہارون علیہ السلام کے سوا کسی کو سفارش سے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست کا ذکر سورۂ طہ (۲۹ تا ۳۵)، شعراء (۱۲، ۱۳)اور قصص (۳۴، ۳۵) میں ہے۔
اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وه بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی
احمد رضا خان بریلوی
اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر(ص)) آپ کتاب (قرآن) میں اسماعیل (ع) کا ذکر کیجئے جو وعدہ کے سچے اور نبی مرسل تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کر، یقینا وہ وعدے کا سچا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابوالحجاز علیہ السلام ٭٭
حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہم السلام کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے۔ آپ علیہ السلام سارے حجاز کے باپ ہیں۔ جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے، جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے، پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ میں فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آ جانا۔ حسب وعدہ اسماعیل علیہ السلام وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا۔ اب اس شخص کو یاد آیا، اس نے آ کر دیکھا کہ آپ علیہ السلام وہیں انتظار میں ہیں۔ پوچھا کہ کیا آپ علیہ السلام کل سے یہیں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جب وعدہ ہو چکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا۔“ اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔ سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ تو کہتے ہیں، یہیں انتظار میں ہی آپ علیہ السلام کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں، وہیں مکان کر لیا تھا۔ عبداللہ بن ابو الحما کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا، میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہریے۔ میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا، وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا، تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے مجھ کو مشقت میں ڈال دیا، میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4996،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ علیہ السلام نے بوقت ذبح کیا تھا کہ ”اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔“ چنانچہ فی الواقع آپ علیہ السلام نے وعدے کی وفا کی اور صبر و برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [61-الصف:2-3] ’ ایمان والو! وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ یہی وعدے کی سچائی اسماعیل علیہ السلام میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ابوالعاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ { اس نے مجھ سے جو بات کی، سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا، پورا کیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3729] سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا کہ { جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدہ کیا ہو، میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کاقرض ہو، میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو بلوا کر فرمایا، لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4383] پھر اسماعیل علیہ السلام کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ اسحاق علیہ السلام کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2276] ۔
پھر آپ علیہ السلام کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ ’ آپ علیہ السلام اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے ‘۔ یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے «وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى» ۱؎ [20-طه:132] ، ’ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ ‘۔ اور آیت میں ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» ۱؎ [66-التحريم:6] ، ’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی، زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے، اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں ‘۔ پس مسلمانوں کو حکم الٰہی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں، گناہوں سے روکتے رہیں، یونہی بے تعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1308،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کر لیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لیے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1309،قال الشيخ الألباني:صحیح]
54۔ 1 یعنی بیشمار اقسام کی پیداوار میں کچھ چیزیں تمہاری خوراک اور لذت اور راحت کا سامان ہیں اور کچھ تمہارے چوپاؤں اور جانوروں کے لئے ہیں۔ 54۔ 2 اُولُو النُّھَیٰ عقل والے۔ عقل کو نُھْبَۃ اور عقلمند کو ذُوْ نُھْیَۃٍ، اس لئے کہا جاتا ہے کہ بالآخر انہی کی رائے پر معاملہ انتہا پذیر ہوتا ہے، یا اس لئے کہ یہ نفس کو گناہوں سے روکتے ہیں (فتح القدیر)
(آیت 54) ➊ {وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ …:} یہ پانچواں قصہ اسماعیل علیہ السلام کا ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے اور تمام حجاز کے باپ۔ (ابن کثیر) گو تمام انبیاء وعدے کے سچے ہوتے ہیں مگر اسماعیل علیہ السلام میں یہ صفت خاص طور پر پائی جاتی تھی۔ سب سے پہلے تو ان میں یہ وصف تھا کہ وہ وعدے کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ کہہ لیا کرتے تھے، جیسا کہ انھوں نے والد سے وعدہ کرتے وقت کہا تھا: «{ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ }» [ الصافات: ۱۰۲ ] ”اگر اللہ نے چاہا تو تُو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔“ پھر یہ وعدے کی سچائی ہی تھی کہ انھوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا کہ ذبح ہوتے وقت صبر کروں گا، پھر بے دھڑک چھری کے نیچے لیٹ گئے اور اف تک نہ کیا۔ اس سے بڑھ کر وعدہ وفائی کیا ہو گی؟ وعدہ پورا کرنا ایمان ہے اور وعدہ خلافی نفاق۔ ابوسفیان نے ہرقل کے پاس اقرار کیا تھا: [ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ ] [ بخاري، الجھاد والیسر، باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی الإسلام…: ۲۹۴۱ ] کہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں نماز، سچ، پاک دامنی، وعدہ پورا کرنے اور امانت ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ خلافی کو منافق کی تین نشانیوں میں سے ایک قرار دیا۔ [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق: ۳۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➋ یہاں طبری اور ابن کثیر نے سہل بن عقیل سے نقل کیا ہے کہ اسماعیل علیہ السلام نے ایک آدمی سے ا س کے آنے تک ایک جگہ میں رہنے کا وعدہ کیا، وہ بھول گیا تو ایک دن رات اس کے آنے تک وہیں ٹھہرے رہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ }» اور سفیان ثوری سے نقل کیا ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ایک سال وہیں ٹھہرے رہے۔ مگر یہ دونوں روایات بعض علماء کے اقوال ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز بیان نہیں فرمائیں۔ ظاہر ہے ان دونوں بزرگوں نے یہ روایات بنی اسرائیل سے لی ہیں اور ہم اہل کتاب کی کسی بات کو سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ ➌ سنن ابی داؤد وغیرہ میں اسی طرح کا واقعہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی مروی ہے کہ نبوت سے پہلے ایک آدمی کے آنے تک ٹھہرنے کے وعدے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن رات وہیں ٹھہرے رہے، مگر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ➍ { وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا:} اللہ تعالیٰ نے اسحاق اور یعقوب علیھما السلام کو صرف نبی (مریم: ۴۹) اور اسماعیل علیہ السلام کو {”رَسُوْلًا نَّبِيًّا “ } فرمایا، اس سے ان کے بلند مرتبے کا اظہار ہوتا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام بنو جرہم کی طرف رسول تھے، جن کے وہ داماد بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ اصْطَفی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيْمَ إِسْمَاعِيْلَ ] [ ترمذي، المناقب عن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ، باب ما جاء في فضل النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۳۶۰۵ ] ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کو منتخب فرمایا۔“
وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کاحکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسندیده اور مقبول
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسند کیا ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابوالحجاز علیہ السلام ٭٭
حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہم السلام کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے۔ آپ علیہ السلام سارے حجاز کے باپ ہیں۔ جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے، جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے، پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ میں فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آ جانا۔ حسب وعدہ اسماعیل علیہ السلام وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا۔ اب اس شخص کو یاد آیا، اس نے آ کر دیکھا کہ آپ علیہ السلام وہیں انتظار میں ہیں۔ پوچھا کہ کیا آپ علیہ السلام کل سے یہیں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جب وعدہ ہو چکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا۔“ اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔ سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ تو کہتے ہیں، یہیں انتظار میں ہی آپ علیہ السلام کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں، وہیں مکان کر لیا تھا۔ عبداللہ بن ابو الحما کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا، میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہریے۔ میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا، وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا، تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے مجھ کو مشقت میں ڈال دیا، میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4996،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ علیہ السلام نے بوقت ذبح کیا تھا کہ ”اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔“ چنانچہ فی الواقع آپ علیہ السلام نے وعدے کی وفا کی اور صبر و برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [61-الصف:2-3] ’ ایمان والو! وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ یہی وعدے کی سچائی اسماعیل علیہ السلام میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ابوالعاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ { اس نے مجھ سے جو بات کی، سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا، پورا کیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3729] سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا کہ { جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدہ کیا ہو، میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کاقرض ہو، میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو بلوا کر فرمایا، لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4383] پھر اسماعیل علیہ السلام کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ اسحاق علیہ السلام کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2276] ۔
پھر آپ علیہ السلام کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ ’ آپ علیہ السلام اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے ‘۔ یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے «وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى» ۱؎ [20-طه:132] ، ’ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ ‘۔ اور آیت میں ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» ۱؎ [66-التحريم:6] ، ’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی، زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے، اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں ‘۔ پس مسلمانوں کو حکم الٰہی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں، گناہوں سے روکتے رہیں، یونہی بے تعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1308،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کر لیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لیے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1309،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 55) ➊ {وَ كَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ:} اسماعیل علیہ السلام کے اس عمل کی پابندی کا حکم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے ذریعے سے ہمیں بھی دیا گیا، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى }» [ طٰہٰ: ۱۳۲ ] ”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچانے کا حکم دیا۔ دیکھیے سورۂ تحریم (۶)۔ ➋ {وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا:} رب تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہونے کا باعث سب سے پہلے تو خود اس ذات پاک کاکسی کو منتخب فرما لینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ }» [ الحج: ۷۵ ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَجْتَبِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ }» [ الشورٰی: ۱۳ ] ”اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔“ پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ({مَرْضِيًّا}) ہونے کا ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کسی بندے کا فرائض کی ادائیگی اور نوافل کی کثرت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ [ دیکھیے بخاري، الرقاق، باب التواضع: ۶۵۰۲، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا أَحَبَّ اللّٰهُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِيْلَ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِيْ جِبْرِيْلُ فِيْ أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوْضَعُ لَهٗ الْقَبُوْلُ فِي الْاَرْضِ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیھم: ۳۲۰۹ ] ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے سو تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل اس سے محبت کرتا ہے، پھر جبریل آسمان والوں میں اعلان کر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“ {” مَرْضِيًّا “} کا حقیقی مصداق ایسا شخص ہوتا ہے۔
اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وه بھی نیک کردار پیغمبر تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) کتاب (قرآن) میں ادریس کا ذکر کیجئے بےشک وہ بڑے سچے نبی تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر، بے شک وہ ایسا نہایت سچا تھا، جو نبی تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ادریس علیہ السلام کا تعارف ٭٭
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ آپ علیہ السلام سچے نبی تھے، اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ علیہ السلام کو ہم نے بلند مکان پر اٹھا لیا ‘۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ { چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7517] اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”اس آیت کا مطلب کیا ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ السلام کو خیال آیا کہ آپ عمل میں اور سبقت کریں۔ جب آپ علیہ السلام کے پاس آپ کا دوست فرشتہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس سے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے، اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ علیہ السلام کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا۔ جب چوتھے آسمان پر آپ علیہ السلام پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا، وہ کہاں ہیں؟ اس نے کہا، یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر ان کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔“ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمہ اللہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت اور سند سے بھی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں، دیکھ کر فرمایا، صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام درزی تھے، سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے۔ مجاہد رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بے موت اٹھا لیے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں بلند مکان سے مراد جنت ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 56){وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ …:} یہ چھٹا قصہ ادریس علیہ السلام کا ہے، بعض مفسرین نے ادریس علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو {”مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ“} (صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا) کہہ کر خطاب کیا اور آدم اور ابراہیم علیھما السلام کی طرح {”مَرْحَبًا بِالْوَلَدِ الصَّالِحِ“} (صالح بیٹے کو مرحبا) نہیں کہا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے، کیونکہ {”بَابُ ذِكْرِ إِدْرِيْسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ “} میں وہ حدیث معراج لائے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری {” بَابُ ذِكْرِ اِدْرِيْسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ“} اس سے پہلے باب میں امام بخاری نے فرمایا: ”ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنھم سے ذکر کیا جاتا ہے کہ الیاس ہی ادریس ہیں۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس قول کے لانے کو بھی امام بخاری کی اس رائے کا اظہار کہا ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں ہوئے ہیں، کیونکہ قرآن مجید میں الیاس علیہ السلام کو نوح یا ابراہیم علیھما السلام کی اولاد میں شمار فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۸۴، ۸۵) لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا زمانہ نوح علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے، چنانچہ بخاری نے {”بَابُ ذِكْرِ إِدْرِيْسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ“} کے ترجمۃ الباب میں فرمایا: {” وَ هُوَ جَدُّ أَبِيْ نُوْحٍ وَ يُقَالُ جَدُّ نُوْحٍ عَلَيْهُمَا السَّلاَمُ “} یعنی وہ نوح علیہ السلام کے والد کے دادا ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کے دادا ہیں۔ ابن جریر، قرطبی اور ابن کثیر رضی اللہ عنھا کی رائے بھی یہی ہے، دلیل اسی سورت کی آیت (۵۸) کی تفسیر میں آ رہی ہے۔
اور ہم نے انہیں بڑے ہی اونچے مقام تک بلند کیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے بہت اونچے مقام پر بلند کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ادریس علیہ السلام کا تعارف ٭٭
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ آپ علیہ السلام سچے نبی تھے، اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ علیہ السلام کو ہم نے بلند مکان پر اٹھا لیا ‘۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ { چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7517] اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”اس آیت کا مطلب کیا ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ السلام کو خیال آیا کہ آپ عمل میں اور سبقت کریں۔ جب آپ علیہ السلام کے پاس آپ کا دوست فرشتہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس سے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے، اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ علیہ السلام کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا۔ جب چوتھے آسمان پر آپ علیہ السلام پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا، وہ کہاں ہیں؟ اس نے کہا، یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر ان کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔“ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمہ اللہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت اور سند سے بھی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں، دیکھ کر فرمایا، صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام درزی تھے، سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے۔ مجاہد رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بے موت اٹھا لیے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں بلند مکان سے مراد جنت ہے۔
57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی گئی۔ واللہ اعلم
(آیت 57){وَ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا: } حدیثِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات مذکور ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس مقام کے {” مَكَانًا عَلِيًّا “} (بہت اونچا مقام) ہونے میں کوئی شک نہیں۔ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ انھیں زندہ آسمان پر اٹھایا گیا، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قوی سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ صرف کعب کا قول ہے جو اسرائیلی روایات بیان کرتے ہیں۔
یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه انبیا ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل وکرم کیا جو اوﻻد آدم میں سے ہیں اور ان لوگوں کی نسل سے ہیں جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا، اور اوﻻد ابراہیم ویعقوب سے اور ہماری طرف سے راه یافتہ اور ہمارے پسندیده لوگوں میں سے۔ ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجده کرتے اور روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہیں جن پر ا لله نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (السجدة) ۵
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ نبی ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ آدم (ع) کی نسل سے اور ان کی نسل سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور ابراہیم و اسرائیل (یعقوب) کی نسل سے اور (یہ سب) ان لوگوں میں سے تھے جنہیں ہم نے راہ رست دکھائی اور منتخب کیا جب ان کے سامنے خدائے رحمن کی آیتین پڑھی جاتی تھیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا نبیوں میں سے، آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد سے اور ان لوگوں سے جنھیں ہم نے ہدایت دی اور ہم نے چن لیا۔ جب ان پر رحمان کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی جماعت کا ذکر ٭٭
فرمان الٰہی ہے کہ ’ یہ ہے جماعت انبیاء ‘ یعنی جن کا ذکر اس سورۃ میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا۔ یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی ادریس «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ، اور اولاد سے ان کی جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے، اس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم علیہ السلام سے مراد اسحاق، یعقوب، اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ہیں «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔ یہی قول ہے سدی رحمۃاللہ علیہ اور ابن جریر رحمہ اللہ کا، اسی لیے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے کیونکہ ادریس تو نوح علیہ السلام کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں، بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ نوح علیہ السلام کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر ادریس علیہ السلام ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ادریس علیہ السلام بنی اسرائیلی نبی ہیں۔
یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں ادریس علیہ السلام کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو نبی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو۔ تو بھائی صالح کہا، نہ کہ صالح ولد، جیسے کہ ابراہیم اور آدم علیہم السلام نے کہا تھا۔ مروی ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام سے پہلے کے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل اور معتقد بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لیے قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل سورۃ الانعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یونس علیہ السلام وغیرہ کا ذکر اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:90] ’ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی۔ تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتداء کر ‘۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کر دیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { مجاہد رحمۃاللہ علیہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں، پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا، تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتداء کا حکم کیا گیا ہے اور داؤد علیہ السلام بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4807] فرمان ہے کہ ’ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل و براہین کو سن کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے ‘۔ اسی لیے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتداء ہو جائے۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے سورۃ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا ”سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں“؟ [ابن ابی حاتم اور ابن جریر]
58۔ 1 گویا اللہ کی آیات کو سن کر وجد کی کیفیت کا طاری ہوجانا اور عظمت الٰہی کے آگے سجدہ ریز ہوجانا، بندگان الٰہی کی خاص علامت ہے۔ سجدہ تلاوت کی مسنوں دعا یہ ہے (وَ سَجَدَ وَ جْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَہُ، وَصَوَّرَہُ، وَ شَقَّ سَمْعَہُ وَ بَصَرَہَ بِحَوْلِہِ وَ قُوَّتِہِ) (ابو داؤد، ترمذی، نسائی۔ بحالہ مشکوۃ، باب سجود القرآن) بعض روایات میں اضافہ ہے۔
(آیت 58) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ …: } مراد وہ انبیاء ہیں جن کا اس سورت میں ذکر ہے۔ یہ دس ہیں جن میں پہلے زکریا اور آخری ادریس علیھم السلام ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا، سدی اور ابن جریر اور قرطبی(رحمھم اللہ) نے فرمایا: ”یہاں آدم کی اولاد سے مراد ادریس ہیں اور نوح کے ساتھ سوار ہونے والوں کی اولاد سے مراد ابراہیم ہیں اور ابراہیم کی اولاد سے مراد اسحاق، یعقوب اور اسماعیل ہیں اور اسرائیل کی اولاد سے مراد موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ابن مریم علیھم السلام ہیں۔“ ابن جریر فرماتے ہیں: ”اسی لیے ان کے نسب الگ الگ ذکر فرمائے ہیں، ورنہ آدم کی اولاد تو سب ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ان لوگوں کی اولاد میں سے نہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے اور وہ ادریس ہیں جو نوح علیہ السلام کے دادا ہیں۔“ ابن کثیر نے فرمایا: ”یہی بات زیادہ ظاہر ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام کے آبائی نسب میں شامل ہیں۔“ رہا ادریس علیہ السلام کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹے کے بجائے بھائی کہنا، تو یہ تواضع سے بھی ہو سکتا ہے اور امام بخاری کا حدیث معراج کو لانا {” وَ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا “} کی تفسیر کے طور پر بھی ہو سکتا ہے اور جو ادریس اور الیاس علیھما السلام کو ایک قرار دینا ہے تو صحابہ کرام اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کریں تو وہ بات یقینی ہے، ورنہ وحی الٰہی کے بغیر ہزاروں سال پہلے کے متعلق ان کی بات یقینی کیسے ہو سکتی ہے؟ خصوصاً جب یہ بھی امکان ہو کہ وہ بات اہل کتاب میں سے کسی سے سن کر بیان ہوئی ہے۔ اس لیے امام بخاری کا ادریس علیہ السلام کو جزم کے ساتھ نوح علیہ السلام کے والد کا دادا قرار دینا ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم) ➋ {وَ مِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا …:} چند انبیاء علیھم السلام کے نام ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ کے ساتھ تمام انبیاء کو بھی شامل فرما دیا، جیسا کہ سورۂ انعام کی آیت (۸۷) میں ہے۔ اس آیت میں جو فرمایا: «{ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْاسُجَّدًا وَّ بُكِيًّا }» اس میں صراحت فرمائی کہ ان انبیاء کے سامنے جب رحمان کی آیات پڑھی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے۔ {”بُكِيًّا “ ”بَكَي يَبْكِيْ بُكَاءً“} (ض) سے اسم فاعل {”بَاكٍ“} کی جمع ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیاء کی اقتدا میں یہاں سجدہ کرنا مشروع ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ذکر فرمایا: [ قَرَأَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُوْرَةَ مَرْيَمَ فَسَجَدَ وَقَالَ هٰذَا السُّجُوْدُ فَأَيْنَ الْبُكِيُّ؟ ] ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم پڑھی تو سجدہ کیا اور فرمایا: ”یہ تو سجدہ ہوا مگر رونے والے کہاں ہیں؟“ حکمت بن بشیر نے اسے صحیح کہا ہے۔ آیاتِ الٰہی سن کر رونا، دل کا ڈر جانا، رونگٹے کھڑے ہونا اور روتے ہوئے سجدے میں گر جانا، یہ صفات اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی اور نیک بندوں کی بیان کی ہیں۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۷ تا ۱۰۹)، مائدہ (۸۳)، انفال (۲) اور زمر (۲۳) وغیرہ۔
پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان کے بعد کچھ وہ ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور خواہشات کی پیروی کی پس وہ عنقریب گمراہی (کے انجام) سے دوچار ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حدود الہٰی کے محافظ ٭٭
نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الٰہی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے، بدیوں سے بچتے تھے۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بے پرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل و بہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ گئے، انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا، بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑ بیٹھنا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔ یہی ایک قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ { بندے کے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:82] دوسری حدیث میں ہے کہ { ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے، جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2621،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔“ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”یہ تو کفر ہے۔“ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں، پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا، ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔“
عطابن ابو رباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے، بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو، قاری تین قسم کے ہوتے ہیں۔ مومن، منافق اور فاجر } }۔ راوی حدیث ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا، ”ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:258:حسن] ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:244/2:منقطع] محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ ”مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔“
حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشاء کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کر کے پیٹو بن کرکھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو اشہب عطا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ ”اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں، جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں۔ جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں۔“ مسند احمد میں ہے، { مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:156/4:حسن]
«غَیّاً» کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” «غی» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔“ ابن جریر میں ہے، لقمان بن عامر فرماتے ہیں، میں ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا، سنو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ { اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے }۔ غی کا ذکر آیت «فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا» ۱؎ [19-مريم:59] میں ہے اور اثام کا ذکر آیت «وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] میں ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23790:] اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث سند کی رو سے بھی غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ ہاں جو ان کاموں سے توبہ کر لے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا، اس کی عاقبت سنوار دے گا، اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے ‘۔ اور حدیث میں ہے کہ { توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4250،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ لوگ جو نیکیاں کریں، ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہو گا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہو گی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:68-70] گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنأ کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔
59۔ 1 انعام یافتہ بندگان الٰہی کا تذکرہ کرنے کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو ان کے برعکس اللہ کے احکام سے غفلت و اعراض کرنے والے ہیں۔ نماز ضائع کرنے سے مراد یا تو بالکل نماز کا ترک ہے جو کفر ہے یا ان کے اوقات کو ضائع کرنا ہے یعنی وقت پر نماز نہ پڑھنا، جب جی چاہا، نماز پڑھ لی، یا بلا عذر اکٹھی کر کے پڑھنا کبھی دو، کبھی چار، کبھی ایک اور کبھی پانچوں نمازیں۔ یہ بھی تمام صورتیں نماز ضائع کرنے کی ہیں جس کا مرتکب سخت گناہ گار اور آیت میں بیان کردہ وعید کا سزاوار ہوسکتا ہے۔ غیا کے معنی ہلاکت، انجام بد کے ہیں یا جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔
(آیت 59) ➊ {فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ: } لفظ{ ” خَلْفٌ “} لام کے سکون کے ساتھ ”اولاد“، واحد و جمع دونوں کے لیے ایک ہی لفظ آتا ہے اور اکثر بری اولاد اور مذمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ{” خَلَفٌ“} ”جانشین“ کے معنی میں آتا ہے، وہ چاہے اولاد ہو یا کوئی اور۔ اس کا استعمال اکثر مدح و تعریف کے لیے ہوتا ہے اور دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ➋ { اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ:} نماز ضائع کرنے میں سب سے پہلے اس عقیدے کی ایجاد ہے کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے اور ان دونوں چیزوں سے ایمان مکمل ہو جاتا ہے۔ عمل کرے تو اچھا ہے، درجہ بڑھ جائے گا، ورنہ ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ اضافہ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا ہے، فرمایا: «{ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ }» [ البقرۃ: ۱۴۳] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔“ مگر ان لوگوں نے نماز کو ایمان ماننے سے انکار کر دیا، پڑھنے والا بھی مومن، نہ پڑھنے والا بھی، جو انکار نہ کرے پکا مومن۔ پھر اس عقیدے کی ایجاد کہ نماز تو دل کی ہوتی ہے، قیام، سجدے اور رکوع کی کیا ضرورت ہے اور اسے طریقت اور معرفت قرار دینا نماز ضائع کرنے کا عام بہانہ ہے۔ اس کے علاوہ نماز کو صحیح وقت پر نہ پڑھنا، یا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ پڑھنا، کبھی پڑھنا، کبھی نہ پڑھنا، یا سرے سے اسے ترک کر دینا، سب نماز ضائع کرنے کی صورتیں ہیں۔ نماز ترک کر دینے سے انسان کے پاس اسلام کی آخری عملی شہادت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے امام احمد کے قول اور امام شافعی کے ایک قول کے مطابق نماز کا تارک کافر ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، دیکھیے سورۂ توبہ کی آیات (۵) اور (۱۱) کی تفسیر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اس بحث کے لیے فیصلہ کن نظر آتی ہے، ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَتُنْتَقَضَنَّ عُرَی الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِيْ تَلِيْهَا فَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَ آخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ ] [ صحیح ابن حبان، التاریخ، باب ذکر الأخبار بأن أول ما یظھر…: ۶۷۱۵۔ مسند أحمد: 251/5، ح: ۲۲۲۲۲ ] ”اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی، جب بھی کوئی کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کو مضبوطی سے پکڑ لیں گے، چنانچہ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی ”حکم“ ہو گی (یعنی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلے کرنا) اور سب سے آخری کڑی نماز ہو گی۔“ ➌ { وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ:} انسان میں کئی شہوات و خواہشات پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر خواہش کی تکمیل کے لیے جائز طریقے بتائے ہیں، مثلاً عبادت کی جبلی خواہش پوری کرنے کے لیے اپنے ایک ہی رب اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق کرنا، جنسی خواہش کے لیے نکاح کرنا اور لونڈیاں رکھنا۔ مالی حرص کے لیے جائز طریقے سے مال کمانا، خرچ کرنا اور اس کی زکاۃ دینا، غصے کی جبلت کا رخ کفار اور دشمنان اسلام کے ساتھ جہاد کی طرف موڑنا، غرض ہر فطری جذبے کو پورا کرنے کا سامان بھی فرمایا اور اللہ کے حکم سے تجاوز پر حد بھی نافذ فرمائی۔ شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا، زنا پر حد رکھی، قوم لوط کے عمل کو حرام قرار دیا، سود کو حرام قرار دیا، ڈاکے اور چوری کی حد مقرر کی، قتل یا زخمی کرنے والوں پر قصاص یا دیت لازم فرمائی۔ پہلے انبیاء کے نالائق جانشینوں نے جس طرح اللہ کے احکام کی پیروی کے بجائے اپنی خسیس خواہشات کی پیروی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ہماری امت کے خواہش پرستوں نے بھی وہی کام کیا، بلکہ انھوں نے اپنے پاس سے ایسے فقہی ضابطے بنائے اور انھیں اللہ کا حکم باور کروایا کہ جن سے اللہ کی حدود سرے سے باطل ہو گئیں۔ ساتھ ہی ہر حرام کام کی سزا سے بچنے کے لیے اس کا نام بدل دیا، یا اس کی حد سے بچنے کا حیلہ ایجاد کر دیا۔ وحدت الوجود اور تصور شیخ کے شرکیہ عقیدے اور عمل کو طریقت اور معرفت کا خوش نما نام دے لیا۔ زنا کی سزا سے بچنے کے لیے کہہ دیا کہ اجرت پر لا کر عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں۔ زنا کا نام حلالہ اور متعہ رکھ دیا۔ ماں، بہن، بیٹی اور دوسری محرمات سے، یہ جانتے ہوئے کہ حرام ہیں، نکاح کرکے زنا کرے تو حد معاف قرار دی۔ کانوں اور آنکھوں کے زنا کو سماع، روح کی غذا یا آرٹ اور فنون لطیفہ کہہ دیا۔ سود حلال کر لیا مگر نام اس کا منافع رکھ دیا۔ دار الحرب میں سود کو بالکل ہی جائز قرار دے لیا۔ جان بوجھ کر زکوٰۃ سے بچنے کے لیے کوئی بھی حیلہ کرنا جائز کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ مکروہ بھی نہیں۔ کوئی خوبصورت لڑکی پسند آ جائے اور جھوٹے گواہ بھگتا کر قاضی سے اپنے حق میں فیصلہ کروا کر اس سے زنا کرلے تو اسے اللہ کے ہاں بھی گرفت سے بری قرار دیا۔ زنا پر پکڑا جائے، چار گواہ بھی بھگت جائیں مگر زانی کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ یہ میری بیوی ہے، حد ختم کر دی، خواہ وہ بیوی ہونے کا کوئی ثبوت بھی پیش نہ کر سکے اور خواہ وہ عورت چیختی چلاتی رہے کہ میں اس کی بیوی نہیں بلکہ فلاں کی بیوی ہوں۔ انگور اور کھجور کے سوا کسی بھی چیز سے بنی ہوئی شراب حلال قرار دی اور نشہ آنے کے باوجود بھی اس سے حد ساقط کر دی اور نام بدل کر نبیذ، طلا یا کوئی اور رکھ لیا۔ قتل جان بوجھ کر کرے مگر تیز دھار آلے سے نہ کرے، یا آگ اور فائر سے نہ کرے تو قصاص ختم کر دیا، خواہ جان بوجھ کر اس سے بدفعلی کرکے مار دے، یا پتھروں سے مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر یا ڈبو کر مار دے، یا اسے قید کرکے بھوکا مار دے، یا دیوار میں چن کر مار دے، قصاص ختم کر دیا، صرف دیت لی جا سکتی ہے۔ چوری شہادتوں سے ثابت ہو جائے مگر صرف چور کے دعویٰ کر دینے سے کہ میں اس کا مالک ہوں، خواہ وہ مالک ہونے کی کوئی دلیل بھی نہ دے، حد موقوف کر دی گئی۔ غرض یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ہاں جان، مال اور عزت و آبرو اس قدر برباد نہیں تھی جس قدر مسلمانوں نے خواہش پرستی میں آ کر اسے برباد کیا اور نام اس کا قوانین اسلام رکھ دیا۔ ان لوگوں نے تو یہ سب کچھ حیلے ایجاد کرکے کیا مگر موجودہ اکثر مسلم حکمرانوں نے حیلے کا تکلف بھی چھوڑ دیا اور صاف الفاظ میں حکم الٰہی کو وحشیانہ کہہ کر اسلام کی آخری کڑی نماز سے بھی فارغ ہو گئے۔ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات سچی ہو گئی: [ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ سَلَكُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوْهُ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم علیھا السلام: ۳۴۵۶، عن أبي سعید رضی اللہ عنہ ] ”تم اپنے سے پہلوں کے طریقوں پر چل نکلو گے (جس طرح) بالشت بالشت کے ساتھ اور ہاتھ ہاتھ کے ساتھ (برابر ہوتا ہے) حتیٰ کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اس میں ضرور داخل ہو گے۔“ نتیجہ مسلمانوں کی غلامی اور اللہ کے دشمنوں کے ان پر مسلط ہونے کی صورت میں سب کے سامنے ہے، جسے اللہ نے {” غَيًّا “} (گمراہی) فرمایا ہے۔ علاج اس کا بھی وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ➍ { فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا:} ”گمراہی کو ملیں گے“ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا و آخرت دونوں میں جنت کی راہ نہیں پا سکیں گے اور اس سے بھٹکے ہی رہیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {” غَيًّا “} کی تفسیر خسارا فرمائی ہے۔ [ طبري بسند ثابت ] {” غَيًّا “} کی تفسیر جہنم کی ایک وادی یا کنواں صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ ہاں، یہ درست ہے کہ ساری کی ساری جہنم ہی گمراہی کا انجام بد ہے، جسے مجرم جا ملیں گے۔
البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز ان کے جو توبہ کر لیں اور ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ جو توبہ کر لیں، ایمان لائیں اور نیک عمل بجا لائیں تو یہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حدود الہٰی کے محافظ ٭٭
نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الٰہی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے، بدیوں سے بچتے تھے۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بے پرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل و بہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ گئے، انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا، بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑ بیٹھنا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔ یہی ایک قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ { بندے کے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:82] دوسری حدیث میں ہے کہ { ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے، جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2621،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔“ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”یہ تو کفر ہے۔“ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں، پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا، ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔“
عطابن ابو رباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے، بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو، قاری تین قسم کے ہوتے ہیں۔ مومن، منافق اور فاجر } }۔ راوی حدیث ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا، ”ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:258:حسن] ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:244/2:منقطع] محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ ”مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔“
حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشاء کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کر کے پیٹو بن کرکھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو اشہب عطا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ ”اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں، جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں۔ جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں۔“ مسند احمد میں ہے، { مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:156/4:حسن]
«غَیّاً» کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” «غی» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔“ ابن جریر میں ہے، لقمان بن عامر فرماتے ہیں، میں ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا، سنو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ { اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے }۔ غی کا ذکر آیت «فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا» ۱؎ [19-مريم:59] میں ہے اور اثام کا ذکر آیت «وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68] میں ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23790:] اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث سند کی رو سے بھی غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ ہاں جو ان کاموں سے توبہ کر لے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا، اس کی عاقبت سنوار دے گا، اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے ‘۔ اور حدیث میں ہے کہ { توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4250،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ لوگ جو نیکیاں کریں، ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہو گا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہو گی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:68-70] گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنأ کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔
60۔ 1 یعنی جو توبہ کر کے ترک صلٰوۃ اور جنسی خواہش کی پیروی سے باز آجائیں اور ایمان وعمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرلیں تو ایسے لوگ مذکورہ انجام بد سے محفوظ اور جنت کے مستحق ہوں گے۔
(آیت 60){اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ …: } نماز ضائع کرنے اور خواہشات کی پیروی جیسی بیماریوں کے لیے نسخۂ شفا توبہ، ایمان اور عمل صالح ہے۔ توبہ، ایمان اور عمل صالح، یعنی نماز کی پابندی اور اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے والا شخص جنت میں داخل ہو گا اور اس کا کوئی اجر مارا نہ جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الذنوب: ۴۲۵۰، عن أبي عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ و حسنہ الألباني ] ”گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔“
ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعده اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ بیشک اس کا وعده پورا ہونے واﻻ ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں کیا بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کا خدائے رحمن نے غائبانہ وعدہ کر رکھا ہے۔ بےشک اس کا وعدہ (سامنے) آنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشگی کے باغات میں، جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے (ان کے) بن دیکھے وعدہ کیا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وعدہ ہمیشہ سے پورا ہو کر رہنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے وعدے برحق ہیں ٭٭
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے، یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہے۔ ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے۔ بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں «وَعْدُهُ مَفْعُولًا» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ وہ حقائق ہیں جو سامنے آ کر ہی رہیں گے ‘۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے، یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ «مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے، ان کا بخور خوشبودار اگر ہو گا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے۔ ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر سے نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہو گی نہ بغض، سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہو گا۔ صبح شام اللہ کی تسبیح میں گزریں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3245] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن] پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف] یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1] کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)
61۔ 1 یعنی یہ ان کے ایمان و یقین کی پختگی ہے کہ انہوں نے جنت کو دیکھا بھی نہیں، صرف اللہ کے غائبانہ وعدے پر ہی اس کے حصول کے لئے ایمان وتقویٰ کا راستہ اختیار کیا۔
(آیت 61){جَنّٰتِ عَدْنٍ الَّتِيْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ …:} ہمیشگی کی جنتوں کا وعدہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اپنے رحمان ہونے اور بندوں کو اپنا بندہ کہنے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کس قدر بے حساب و بے کنار ہے اور فرماں بردار بندوں سے اس کا تعلق کتنا گہرا اور پیارا ہے۔ ”بن دیکھے“ کا مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اس رحمان نے وعدہ کیا ہے جس رحمان کو انھوں نے نہیں دیکھا، یعنی بن دیکھے اس پر ایمان لائے ہیں۔ دوسرا معنی ہے کہ رحمان نے ان سے ایسی جنتوں کا وعدہ کیا ہے جو انھوں نے دیکھی نہیں مگر انھیں دیکھے بغیر ہی ان کے ملنے کا یقین ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ رحمان کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ {”اِنَّ“} تعلیل کے لیے ہے۔ {” مَاْتِيًّا “ ”أَتَي يَأْتِيْ“} سے اسم مفعول ہے۔ اللہ کا وعدہ جنت ہے اور اس کے بندے یقینا اس میں آنے والے ہیں، یہ بات اس لیے فرمائی کہ عموماً لوگ ان دیکھی چیزوں کے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کرتے۔ (بقاعی) اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہنے پر مشتمل آیات کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۳۱)، آل عمران (۱۹۴، ۱۹۵)، بنی اسرائیل (۱۰۸)، مزمل (۱۷، ۱۸) اور فرقان (۱۵، ۱۶)۔
وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں گے، ان کے لئے وہاں صبح شام ان کا رزق ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام اور انہیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شام
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہاں سلامتی کی صداؤں کے سوا کوئی بے ہودہ بات نہیں سنیں گے اور ان کا مقررہ رزق انہیں صبح و شام ملتا رہے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے مگر سلام اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح و شام ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے وعدے برحق ہیں ٭٭
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے، یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہے۔ ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے۔ بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں «وَعْدُهُ مَفْعُولًا» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ وہ حقائق ہیں جو سامنے آ کر ہی رہیں گے ‘۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے، یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ «مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے، ان کا بخور خوشبودار اگر ہو گا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے۔ ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر سے نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہو گی نہ بغض، سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہو گا۔ صبح شام اللہ کی تسبیح میں گزریں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3245] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن] پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف] یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1] کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)
62۔ 1 یعنی فرشتے بھی انھیں ہر طرف سے سلام کریں گے اور اہل جنت بھی آپس میں ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کیا کریں گے۔ 62۔ 2 امام احمد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ جنت میں رات اور دن نہیں ہونگے، صرف اجالا ہی اجالا اور روشی ہی روشنی ہوگی۔ حدیث میں ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی، وہاں انھیں تھوک آئے گا نہ رینٹ اور بول وبزاز۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے کی ہونگی، ان کا بخور، خوشبودار (لکڑی) ہوگی۔ ان کا پسینہ کستوری (کی طرح) ہوگا۔ ہر جنتی کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی پنڈلیوں کا گودا ان کے گوشت کے پیچھے نظر آئے گا، ان کے حسن جمال کی وجہ سے۔ ان میں باہم بغض اور اختلاف نہیں ہوگا، ان کے دل، ایک دل کی طرح ہوں گے، صبح شام اللہ کی تسبیح کریں گے (صحیح بخاری)
(آیت 62) ➊ { لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا:} اہل ایمان کے لیے دنیا میں ایک شدید تکلیف لغو کلام سننا ہے، جسے وہ سننا نہیں چاہتے۔ اس تکلیف کا اندازہ اور اس سے بچے رہنے کی نعمت کی قدر صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جنھیں اس سے سابقہ پڑا ہو۔ جنت میں انھیں ایسی باتوں کے بجائے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے یا ایک دوسرے کی طرف سے سلام کی آواز آئے گی۔ دیکھیے سورۂ یس (۵۸) اور سورۂ رعد (۲۳، ۲۴) یا ایسی بات سنائی دے گی جو ہر طرح کی تکلیف سے پاک اور سراسر سلامتی والی ہو گی، یعنی کوئی لغو یا تکلیف دہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔ ➋ { بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا:} بظاہر معنی یہ ہے کہ اتنی دیر کے بعد جتنی دیر کے بعد دنیا میں صبح سے شام ہوتی ہے مگر یہ معنی راجح نہیں، کیونکہ اتنی دیر تو دنیا میں کھانے پینے سے صبر کرنا مشکل ہے، تو وہ جنت ہی کیا ہوئی جس میں صرف صبح و شام راشن ملے۔ اس لیے اس کا معنی ہر وقت اور ہمیشہ ہے، یعنی ہر وقت جب بھی انھیں کھانے کی یا لذت کی کسی بھی چیز کی خواہش ہو گی، کیونکہ جنت میں دنیا کی طرح کا نہ دن ہو گا اور نہ رات۔ صبح شام بول کر ہمیشگی مراد لینا صرف عربی ہی نہیں ہر زبان کا عام محاورہ ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ جنتیوں کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی انھیں خواہش ہو گی، خواہ کسی وقت خواہش ہو۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۷۱)۔
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے وه جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں
احمد رضا خان بریلوی
یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے وہ بہشت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے وعدے برحق ہیں ٭٭
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے، یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہے۔ ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے۔ بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں «وَعْدُهُ مَفْعُولًا» ۱؎ [73-المزمل:18] ’ وہ حقائق ہیں جو سامنے آ کر ہی رہیں گے ‘۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے، یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ «مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے، ان کا بخور خوشبودار اگر ہو گا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے۔ ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر سے نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہو گی نہ بغض، سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہو گا۔ صبح شام اللہ کی تسبیح میں گزریں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3245] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن] پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف] یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1] کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 63) {تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ …:} یعنی جنت کا وارث وہ ہو گا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کفر و شرک اور گناہوں سے بہت بچنے والا ہو۔ اس آیت میں متقی لوگوں کو جنت کا وارث بنانے کا ذکر ہے۔ یہی بات سورۂ مومنون (۱ تا ۱۰) اور اعراف (۴۲، ۴۳) میں بیان کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل جنت کس کے وارث بنیں گے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ان کے باپ آدم کو جنت ملی تھی اور اولاد اپنے باپ کی جائداد کی وارث ہوتی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم دونوںمیں بنی آدم کی جگہ بنائی ہے۔ اہل جہنم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جنت میں اپنی جگہ سے محروم ہو جائیں گے تو اس کے وارث جنتی ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرٰی مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُوْلُ لَوْلاَ أَنَّ اللّٰهَ هَدَانِيْ فَيَكُوْنُ لَهُ شُكْرٌ، وَ كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرٰی مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ لَوْلاَ أَنَّ اللّٰهَ هَدَانِيْ فَيَكُوْنُ عَلَيْهِ حَسْرَةٌ ] [صحیح الجامع: ۴۵۱۴۔ مسند أحمد: 512/2، ح: ۱۰۶۶۳۔ مستدرک حاکم: 436/2، ح: ۳۶۲۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”تمام اہل جنت آگ میں اپنا ٹھکانا دیکھیں گے تو کہیں گے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے مجھے ہدایت دی (تو میں یہاں ہوتا)، تو وہ بہت شکر کرے گا اور تمام اہل نار جنت میں اپنی جگہ دیکھیں گے تو کہیں گے، اگر ایسا ہوتا کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا (تو میں یہاں ہوتا)، تو اس کے لیے بہت حسرت ہوگی۔“ مگر اس جواب میں یہ خیال گزرتا ہے کہ جنتیوں کو صرف جہنمیوں والی جگہ بطور میراث ملے گی، حالانکہ جنت میں ان کا اپنا حصہ بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ }» [ آل عمران: ۱۳۳ ] ”(یہ جنت) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“ لہٰذا یہ معنی مرجوح ہے۔ اس لیے اکثر مفسرین نے {”نُوْرِثُ“} کا معنی یہ کیا ہے کہ ہم متقی لوگوں کو ہر طرح سے اس کا مالک بنا دیں گے، وہ کبھی ان سے واپس نہ لی جائے گی، بلکہ وہ میراث کی طرح انھی کی ہو جائے گی، کیونکہ کسی چیز کی ملکیت حاصل ہونے کی سب سے پکی صورت میراث ہے، اس لیے کہ ملکیت حاصل ہونے کی دوسری تمام صورتوں میں ملکیت چھننے کی گنجائش ہوتی ہے، بیع ہو یا ہبہ یا غصب، اس کا مالک اسے واپس لے سکتا ہے، یا بدل سکتا ہے، مگر وارث کو یہ فکر نہیں ہوتی۔ یہ معنی بھی مضبوط ہے۔
اے محمدؐ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے، ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اسی کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے واﻻ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
(اور جبریل نے محبوب سے عرض کی (ٖف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ہم (فرشتے) آپ کے پروردگار کے حکم کے بغیر (زمین پر) نازل نہیں ہوتے جو کچھ ہمارے آگے ہے یا جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کچھ اسی کا ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم کے ساتھ۔ اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر کیوں؟ ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: { آپ جتنا آتے ہیں، اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ } } اس کے جواب میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3218] یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف] روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
مسند امام احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا { مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کر لو آج وہ فرشتہ آ رہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف] ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جو حرام کر دیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کر لو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تلاوت فرمایا } }۔ ۱؎ [فتح الباری:266/13:قال الشيخ الألباني:حسن] آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔
64۔ 1 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل ؑ سے زیادہ اور جلدی جلدی ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی جس پر یہ آیت اتری (صحیح بخاری)، تفسیر سورة مریم)
(آیت 65،64) ➊ {وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ: ”نَنْزِلُ“} کے بجائے {” نَتَنَزَّلُ “} اس لیے فرمایا کہ باب تفعّل میں ٹھہر ٹھہر کر کام کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم وقفے وقفے سے، ٹھہر ٹھہر کر تیرے رب ہی کے حکم سے اترتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيْلَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُوْرُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُوْرُنَا فَنَزَلَتْ: «{ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا وَ مَا خَلْفَنَا }» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «وما نتنزل إلا بأمر ربک…» : ۴۷۳۱ ] ”ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: ”آپ ہماری ملاقات کے لیے جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟“ تو یہ آیت اتری: «{ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ }» “ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے یہ کلام سکھایا جبریل علیہ السلام کو کہ جواب میں یوں کہو۔ سو یہ کلام ہے اللہ کا جبریل کی طرف سے، جیسا کہ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} ہم کو سکھایا۔ ➋ { لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا …:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم اپنی مرضی سے اترنے کا اختیار نہیں رکھتے، بلکہ ہم اپنی مرضی سے کسی کام کا اختیار بھی نہیں رکھتے، کیونکہ جو کچھ ہمارے آگے ہے، یا ہمارے پیچھے ہے، یا اس کے درمیان ہے، یعنی دائیں اور بائیں ہے، چاروں جہتوں کی ہر چیز کا مالک صرف اللہ ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان کے مابین اشیاء کا رب بھی وہی ہے۔ اس میں اوپر نیچے کی جہتیں اور ان کے درمیان کی ہر چیز بھی آ گئی، اس کے علاوہ جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے بھی آ گئے، یعنی جس ہستی کا قبضہ، ملکیت اور ربوبیت اتنی مستحکم اور وسیع ہے کہ زمان و مکان میں سے کوئی چیز اس سے باہر نہیں، تو اس کی مرضی کے بغیر زمین پر اترنا تو کجا ہم کوئی حرکت بھی نہیں کر سکتے۔ ➌ { وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا: ” نَسِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر مبالغہ ہے، بہت بھولنے والا۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بہت بھولنے والا تو نہیں مگر کم بھولتا ہے، بلکہ اس طرح مبالغے کا لفظ آئے تو مبالغے کی نفی مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے، اس لیے معنی یہ ہو گا کہ تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔ کبھی کا مفہوم {” كَانَ “} سے واضح ہو رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) کی تفسیر۔ یہاں رب تعالیٰ سے بھولنے کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام اگر دیر سے اتریں تو یہ مطلب نہیں کہ آپ کے رب نے آپ کو بھلا دیا ہے، جیسا کہ یہ مشرکین باتیں بنا رہے ہیں، وہاں بھولنے کا تو کسی طرح سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی حکمت کا تقاضا جبریل علیہ السلام کا اجازت کے ساتھ وقفے سے آنا ہی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ضحی کی تفسیر۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ فِيْ كِتَابِهِ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ فَاقْبَلُوٓا مِنَ اللّٰهِ الْعَافِيَةَ فَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الْآيَةَ: «{ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا }» ] [مستدرک حاکم: 375/2، ح: ۳۴۱۹ و سندہ حسن ({حكمت بن بشير}) ] ”اللہ نے جو کچھ اپنی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف ہے، کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی چیز بھول جائے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «{ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا }» ۔“ ➍ {” وَ اصْطَبِرْ “ ”صَبَرَ يَصْبِرُ“} سے باب افتعال کا فعل امر ہے۔ ”تاء“ کو ”طاء“ کر دیا اور حرف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہو گیا، خوب صابر رہ، یعنی اس کی بندگی کرتے رہیے اور اس راہ میں جو مصائب و مشکلات پیش آئیں ان کا پورے صبر کے ساتھ مقابلہ کیجیے، اگر ہماری طرف سے کبھی یاد فرمائی یا مدد یا تسلی دینے میں کچھ تاخیر ہو جائے تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ➎ {هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا:} وہ دو شخص جن کا نام ایک ہو ایک دوسرے کے {”سَمِيٌّ“} (ہم نام)کہلاتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں سب اس کی صفت ہیں، یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا؟“(موضح) یہاں {” سَمِيًّا “} کا معنی ”نظیر“ اور ”مثیل“ ہے۔ گویا اس آیت اور دوسری آیت: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» [ الشوریٰ: ۱۱ ] کا معنی ایک ہی ہے، یعنی جب اس جیسا آپ کسی کو نہیں سمجھتے تو پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ اس کے راستے پر چلتے رہیے۔ ➏ { ” وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ “} کے ربط کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیت (۱۶): «{ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ }» کی تفسیر۔
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پس تم اُس کے بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہمنام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو، کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہو کیا تم اس کا کوئی ہمنام و ہمسر جانتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
جو آسمانوں کا اور زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے، سو اس کی عبادت کر اور اس کی عبادت پر خوب صابر رہ ۔ کیا تو اس کا کوئی ہم نام جانتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر کیوں؟ ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: { آپ جتنا آتے ہیں، اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ } } اس کے جواب میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3218] یہ بھی مروی ہے کہ { ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں بہت تاخیر ہو گئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے۔ پھر آپ علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23807:ضعیف] روایت ہے کہ { بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، { اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ } مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23811:ضعیف] پس گویا یہ آیت سورۃ والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ { چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرا شوق تو بہت ہی بے چین کئے ہوئے تھا }۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا، ”اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں، اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:103/16:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی، آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [الواحدی:607:ضعیف]
مسند امام احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا { مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کر لو آج وہ فرشتہ آ رہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف] ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی یاد سے فراموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:3-1] ’ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جو حرام کر دیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کر لو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تلاوت فرمایا } }۔ ۱؎ [فتح الباری:266/13:قال الشيخ الألباني:حسن] آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق، مالک، مدبر، متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ۔ اس کے مثیل، شبیہ، ہم نام، ہم پلہ کوئی نہیں۔ وہ با برکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔
65۔ 1 یعنی نہیں ہے، جب اس کی مثل کوئی اور نہیں تو پھر عبادت بھی کسی اور کی جائز نہیں
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زنده کر کے نکالا جاؤں گا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (غافل) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤں گا تو کیا پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟
عبدالسلام بن محمد
اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مرگیا تو کیا واقعی عنقریب مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کی سوچ ٭٭
بعض منکرین قیامت، قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد کا جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا۔ وہ قیامت کا اور اس دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے «وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» ۱؎ [13-الرعد:5] یعنی ’ اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا، ہم جب مر کر مٹی ہو جائیں گے، پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے؟ ‘ سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-یس:77-79] ، ’ کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل سڑ گئی ہیں، کون زندہ کر دے گا؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیقی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے ‘۔
یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا، کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے؟ ‘ پس ابتدائے آفرینش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ جس نے ابتداء کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ لائق نہ تھا، مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں، اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتداء کی، اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتداء بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں، نہ میرے ماں باپ نہ اولاد، نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے، انہیں بھی میں جمع کروں گا۔ پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4974] جیسے فرمان ہے «وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً» ۱؎ [45-الجاثية:28] ’ ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ‘۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشر ہوگا۔ جب تمام اول و آخر جمع ہو جائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کر لیں گے۔ ان کے رئیس و امیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے یہ پیشوا، انہیں شرک و کفر کی تعلیم دینے والے، انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لیے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے «حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] الخ، ’ جب وہاں سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر ‘ الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ ’ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے؟ ‘ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک کیلئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو ‘۔
66۔ 1 انسان سے مراد یہاں کافر باحیثیت جنس کے ہے، جو قیامت کے وقوع اور بعث بعد الموت کے قائل نہیں۔ 66۔ 2 استفہام، انکار کے لئے ہے۔ یعنی جب میں بوسیدہ اور مٹی میں رل مل جاؤں گا، تو مجھے دوبارہ کس طرح نیا وجود عطا کردیا جائے گا؟ یعنی ایسا ممکن نہیں۔
(آیت 66){ وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یس (۷۷ تا ۷۹)۔
کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا حاﻻنکہ وه کچھ بھی نہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا آدمی کو یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انسان کو یاد نہیں رہا کہ ہم ہی نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے ہی اسے اس سے پہلے پیدا کیا، جب کہ وہ کوئی چیز نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کی سوچ ٭٭
بعض منکرین قیامت، قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد کا جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا۔ وہ قیامت کا اور اس دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے «وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» ۱؎ [13-الرعد:5] یعنی ’ اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا، ہم جب مر کر مٹی ہو جائیں گے، پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے؟ ‘ سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-یس:77-79] ، ’ کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل سڑ گئی ہیں، کون زندہ کر دے گا؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیقی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے ‘۔
یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا، کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے؟ ‘ پس ابتدائے آفرینش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ جس نے ابتداء کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ لائق نہ تھا، مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں، اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتداء کی، اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتداء بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں، نہ میرے ماں باپ نہ اولاد، نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے، انہیں بھی میں جمع کروں گا۔ پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4974] جیسے فرمان ہے «وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً» ۱؎ [45-الجاثية:28] ’ ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ‘۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشر ہوگا۔ جب تمام اول و آخر جمع ہو جائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کر لیں گے۔ ان کے رئیس و امیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے یہ پیشوا، انہیں شرک و کفر کی تعلیم دینے والے، انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لیے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے «حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] الخ، ’ جب وہاں سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر ‘ الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ ’ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے؟ ‘ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک کیلئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو ‘۔
67۔ 1 اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ جب پہلی مرتبہ بغیر نمونے کے ہم نے انسان پیدا کردیا، تو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے کیوں کر مشکل ہوگا؟ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہے یا دوبارہ اسے پیدا کرنا؟ انسان کتنا نادان اور خود فراموش ہے اسی خود فراموشی نے اسے خدا فراموش بنادیا ہے۔
(آیت 67){ اَوَ لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ …:} تو کیا جس ذات پاک نے اس وقت اسے پیدا فرمایا جب یہ کچھ بھی نہ تھا، اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی دے سکے؟ دوبارہ زندہ کرنے کی یہ سب سے قوی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ دہر (۱، ۲)، واقعہ (۴۳ تا ۶۲)، روم (۲۷)، حج (۵)، بنی اسرائیل (۵۱) اور انبیاء (۱۰۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی كَذَّبَنِيْ ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيْبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيْدَنِيْ كَمَا بَدأَنِيْ، وَ لَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَ أَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِّيْ كُفُوًا أَحَدٌ ] [ بخاري، التفسیر، باب تفسیر سورۃ «قل ھو اللّٰہ أحد» : ۴۹۷۴، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا اور ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا، اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح اس نے مجھے پہلے پیدا کیا دوبارہ پیدا نہیں کرے گا، حالانکہ مجھے پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں اور رہا اس کا مجھے گالی دینا، تو اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے، حالانکہ میں ایک ہوں، بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ کسی نے مجھے جنا اور نہ ہی کبھی میرا کوئی ہمسر ہے۔“
تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے اردگرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو تمہارے رب کی قسم ہم انہیں اور شیطانوں سب کو گھیر لائیں گے اور انہیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے،
علامہ محمد حسین نجفی
تو قسم ہے تمہارے پروردگار کی کہ ہم ان کو اور شیطانوں کو اکٹھا کریں گے پھر ان سب کو جہنم کے اردگرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو قسم ہے تیرے رب کی! بے شک ہم ان کو اور شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے، پھر بے شک ہم انھیں جہنم کے گرد ضرور گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کی سوچ ٭٭
بعض منکرین قیامت، قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد کا جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا۔ وہ قیامت کا اور اس دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے «وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» ۱؎ [13-الرعد:5] یعنی ’ اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا، ہم جب مر کر مٹی ہو جائیں گے، پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے؟ ‘ سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-یس:77-79] ، ’ کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل سڑ گئی ہیں، کون زندہ کر دے گا؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیقی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے ‘۔
یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا، کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے؟ ‘ پس ابتدائے آفرینش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ جس نے ابتداء کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ لائق نہ تھا، مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں، اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتداء کی، اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتداء بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں، نہ میرے ماں باپ نہ اولاد، نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے، انہیں بھی میں جمع کروں گا۔ پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4974] جیسے فرمان ہے «وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً» ۱؎ [45-الجاثية:28] ’ ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ‘۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشر ہوگا۔ جب تمام اول و آخر جمع ہو جائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کر لیں گے۔ ان کے رئیس و امیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے یہ پیشوا، انہیں شرک و کفر کی تعلیم دینے والے، انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لیے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے «حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] الخ، ’ جب وہاں سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر ‘ الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ ’ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے؟ ‘ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک کیلئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو ‘۔
68۔ 1 جثیی، جاث کی جمع ہے جثا یجثو سے۔ جَاثٍ گھٹنوں کے بل گرنے والے کو کہتے ہیں۔ یہ حال ہے یعنی ہم دوبارہ انھیں کو نہیں بلکہ ان شیاطین کو بھی زندہ کردیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا یا جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ان سب کو اس حال میں جہنم کے گرد جمع کردیں گے کہ یہ محشر کی ہولناکیوں اور حساب کے خوف سے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونگے، میرے لئے پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے (یعنی مشکل اگر ہے تو پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری مرتبہ) اور اس کا مجھے ایذا پہنچانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میری اولاد ہے، حالانکہ میں ایک ہوں، بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ خود جنا گیا ہوں میرا کوئی ہمسر نہیں ہے (صحیح بخاری۔ تفسیر سورة اخلاص)
(آیت 68) ➊ {فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ …:” جِثِيًّا “ ”جَثَا يَجْثُوْ جُثُوًّا“} اور {”جَثَي يَجْثِيْ جُثِيًا“} (ن، ض) سے اسم فاعل {”جَاثٍ“} ({اَلْجَاثِيْ}) کی جمع ہے، گھٹنوں کے بل گرنے والے۔ قیامت کے منکروں کو اس کا یقین دلانے کے لیے قسم اٹھا کر فرمایا کہ تیرے رب کی قسم ہے کہ ہم انھیں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے۔ شیطانوں میں قرین بھی شامل ہیں (دیکھیے سورۂ ق: ۲۳) اور ابلیس کی اولاد اور انسانوںمیں سے گمراہ کرنے والے شیطان بھی۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۲) جہنم کے گرد ان کی حاضری کی تصویر دکھانے کے لیے فرمایا کہ وہ جہنم کے گرد نہایت ذلیل و خوار اور خوف زدہ ہو کر گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے اور ان میں کھڑا ہونے کی طاقت نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورۂ جاثیہ (۲۸)۔ ➋ ”تیرے رب کی قسم“ اس میں دو فائدے حاصل ہو رہے ہیں، ایک تو قسم کی وجہ سے بات کی تاکید، دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی رفعت، جیسا کہ سورۂ ذاریات کی آیت (۲۳): «{فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ}» سے آسمان و زمین کی عظمت ظاہر ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)
پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمان کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہُوا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم پھر ہر ہر گروه سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمنٰ سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم ہر گروہ میں سے اس شخص کو جدا کریں گے جو خدائے رحمن کے مقابلہ میں زیادہ سرکش تھا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک ہم ہر گروہ میں سے اس شخص کو ضرور کھینچ نکالیں گے جو ان میں سے رحمان کے خلاف زیادہ سرکش ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کی سوچ ٭٭
بعض منکرین قیامت، قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد کا جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا۔ وہ قیامت کا اور اس دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے «وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» ۱؎ [13-الرعد:5] یعنی ’ اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا، ہم جب مر کر مٹی ہو جائیں گے، پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے؟ ‘ سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-یس:77-79] ، ’ کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل سڑ گئی ہیں، کون زندہ کر دے گا؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیقی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے ‘۔
یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا، کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے؟ ‘ پس ابتدائے آفرینش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ جس نے ابتداء کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ لائق نہ تھا، مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں، اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتداء کی، اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتداء بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں، نہ میرے ماں باپ نہ اولاد، نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے، انہیں بھی میں جمع کروں گا۔ پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4974] جیسے فرمان ہے «وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً» ۱؎ [45-الجاثية:28] ’ ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ‘۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشر ہوگا۔ جب تمام اول و آخر جمع ہو جائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کر لیں گے۔ ان کے رئیس و امیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے یہ پیشوا، انہیں شرک و کفر کی تعلیم دینے والے، انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لیے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے «حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] الخ، ’ جب وہاں سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر ‘ الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ ’ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے؟ ‘ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک کیلئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو ‘۔
69۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہر گمراہ فرقے کے بڑے بڑے سرکشوں اور لیڈروں کو ہم الگ کرلیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیں گے۔ کیونکہ یہ قائدین دوسرے جہنمیوں کے مقابلے میں سزا و عقوبت کے زیادہ سزا وار ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
(آیت 69) { ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ …: ” عِتِيًّا “ ”عَتَا يَعْتُوْ“ } سے {”عُتُوًّا“} کی طرح مصدر ہے، تکبر، سرکشی، حد سے گزرنا۔ {” شِيْعَةٍ “} وہ گروہ جو ایک ہی قسم کا ہو، یعنی پھر ہم ہر باغی گروہ میں سے اس کے سب سے بڑے سرکش اور پیشوا کو، جس نے انھیں کفر و شرک میں پھنسایا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی کی راہ دکھائی، نکال کر الگ کھڑا کریں گے اور ایسے لوگوں کو سب سے پہلے جہنم میں جھونکیں گے، کیونکہ انھوں نے دو جرم کیے، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، پھر درجہ بدرجہ ان کے پیروکاروں کی باری آئے گی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹)، نحل (۲۵) اور عنکبوت (۱۳)۔
پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیاده سزاوار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کون اس (جہنم) میں داخل ہونے کا زیادہ سزاوار ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر یقینا ہم ان لوگوں کو زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں جھونکے جانے کے زیادہ حق دار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کی سوچ ٭٭
بعض منکرین قیامت، قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد کا جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا۔ وہ قیامت کا اور اس دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے «وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» ۱؎ [13-الرعد:5] یعنی ’ اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا، ہم جب مر کر مٹی ہو جائیں گے، پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے؟ ‘ سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-یس:77-79] ، ’ کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل سڑ گئی ہیں، کون زندہ کر دے گا؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیقی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے ‘۔
یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا، کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے؟ ‘ پس ابتدائے آفرینش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ جس نے ابتداء کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ لائق نہ تھا، مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں، اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتداء کی، اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتداء بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں، نہ میرے ماں باپ نہ اولاد، نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے، انہیں بھی میں جمع کروں گا۔ پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4974] جیسے فرمان ہے «وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً» ۱؎ [45-الجاثية:28] ’ ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ‘۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشر ہوگا۔ جب تمام اول و آخر جمع ہو جائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کر لیں گے۔ ان کے رئیس و امیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے یہ پیشوا، انہیں شرک و کفر کی تعلیم دینے والے، انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لیے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے «حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] الخ، ’ جب وہاں سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر ‘ الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ ’ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے؟ ‘ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا «لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک کیلئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو ‘۔
70۔ 1 یعنی جہنم میں داخل ہونے اور اس میں جلنے کے کون زیادہ مستحق ہیں، ہم ان کو خوب جانتے ہیں
(آیت 70){ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ هُمْ …: ” صِلِيًّا “ ”صَلِيَ يَصْلٰي“} بروزن {” رَضِيَ يَرْضَي“} کا مصدر ہے، آگ میں داخل ہو کر اس کی تپش کی تکلیف اٹھانا، یعنی پھر ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس جہنم میں جھونکے جانے کے زیادہ لائق کون ہے اور وہ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے دونوں ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ }» [ الأعراف: ۳۸ ] ”اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا (عذاب)ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ کیونکہ گمراہ ہونے والوں نے بھی کئی لوگوں کو گمراہ کیا۔
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے واﻻ ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو (جو وہاں سے نہ گزرے) یہ حتمی طے شدہ فیصلہ ہے جس کا پورا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم میں سے جو بھی ہے اس پر وارد ہونے والا ہے۔ یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم میں دخول یا ورود ؟ ٭٭
مسند امام احمد بن حنبل کی ایک غریب حدیث میں ہے { ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے، اس بارے میں ہم میں اختلاف ہوا، کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقویٰ کے نجات پا جائیں گے۔ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، وارد تو سب ہوں گے }۔ اور روایت میں ہے کہ { داخل تو سب ہوں گے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی، لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی، پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہو جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:329/3:ضعیف] خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے، کہیں گے کہ اللہ نے تو فرمایا تھا کہ ہر ایک جہنم پر وارد ہونے والا ہے اور ہمارا ورود تو ہوا ہی نہیں تو ان سے فرمایا جائے گا کہ تم وہیں سے گزر کر تو آ رہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگ ٹھنڈی کر دی تھی۔“
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ایک بار اپنی بیوی صاحبہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ صاحبہ بھی رونے لگیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کیوں روئیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو روتا دیکھ کر۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو آیت «وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» ۱؎ [19-مريم:71] ، یاد آگئی اور رونا آگیا۔ مجھے کیا معلوم کہ میں نجات پاؤں گا نہیں؟ اس وقت آپ بیمار تھے۔ ابومیسرہ رحمہ اللہ جب رات کو اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتے تو رونے لگتے اور زبان سے بےساختہ نکل جاتا کہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے دھونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمایا یہی آیت ہے۔ یہ تو ثابت ہے کہ وہاں جانا ہوگا اور یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں؟ ایک بزرگ شخص نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ہمیں جہنم پر سے گزرنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں یقیناً معلوم ہے۔ پھر پوچھا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں سے پار ہو جاؤ گے؟ انہوں نے فرمایا اس کا کوئی علم نہیں، پھر فرمایا ہمارے لیے ہنسی خوشی کیسی؟ یہ سن کر اس وقت سے لے کر موت کی گھڑی تک ان کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں آئی۔ نافع بن ارزق اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے تو آپ نے دلیل میں آیت قرآن «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] پیش کر کے فرمایا، دیکھو یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے یا نہیں؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دوسری آیت تلاوت فرمائی «يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:98] اور فرمایا بتاؤ فرعون اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا یا نہیں؟ پس اب غور کرو کہ ہم اس میں داخل تو ضرور ہوں گے اب نکلیں گے بھی یا نہیں؟ غالباً تجھے تو اللہ نہ نکالے گا اس لیے کہ تو اس کا منکر ہے۔ یہ سن کر نافع کھسیانا ہو کر ہنس دیا۔ یہ نافع خارجی تھا اس کی کنیت ابو راشد تھی۔
دوسری روایت میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے سمجھاتے ہوئے آیت «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] بھی پڑھی تھی۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ پہلے بزرگ لوگوں کی ایک دعا یہ بھی تھی کہ «اللَّهُمَّ أَخْرِجْنِي مِنْ النَّار سَالِمًا وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّة غَانِمًا» اے اللہ مجھے جہنم سے صحیح سالم نکال لے اور جنت میں ہنسی خوشی پہنچا دے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد طیالسی میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کے مخاطب کفار ہیں۔ عکرمہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، یہ ظالم لوگ ہیں، اسی طرح ہم اس آیت کو پڑھتے تھے۔ یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نیک بد سب وارد ہوں گے۔ دیکھو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اور گہنگاروں کے لیے بھی «ورود» کا لفظ دخول کے معنی میں خود قرآن کریم کی دو آیتوں میں وارد ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وارد تو سب ہوں گے، پھر گزر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3159،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا۔ یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے۔ اب بعض تو بجلی کی طرح گزر جائیں گے، بعض ہوا کی طرح، بعض پرندوں کی طرح، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح، بعض تیز چال والے پیدل انسان کی طرح۔ یہاں تک کہ سب سے آخر جو مسلمان اس سے پار ہوگا، یہ وہ ہوگا جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا، گرتا پڑتا نجات پائے گا۔ پل صراط پھسلنی چیز ہے جس پر ببول جیسے اور گو گھرو جیسے کانٹے ہیں، دونوں طرف فرشتوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں جہنم کے اٹکس ہوں گے جن سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے الخ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا۔ پہلا گروہ تو بجلی کی طرح آن کی آن میں پار ہو جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح جائے گا، تیسرا تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، چوتھا تیز رفتار جانور کی طرح۔ فرشتے ہر طرف سے دعائیں کر رہے ہونگے کہ اے اللہ سلامت رکھ الٰہی بچا لے۔
بخاری و مسلم کی بہت سی مرفوع احادیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جہنم اپنی پیٹھ پر تمام لوگوں کو جما لے گی۔ جب سب نیک و بد جمع ہو جائیں گے تو حکم باری ہو گا کہ اپنے والوں کو تو پکڑ لے اور جنتیوں کو چھوڑ دے۔ اب جہنم سب برے لوگوں کا نوالہ کر جائے گی۔ وہ برے لوگوں کو اس طرح جانتی پہچانتی ہے جس طرح تم اپنی اولاد کو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ مومن صاف بچ جائیں گے۔ سنو جہنم کے داروغوں کے قد ایک سو سال کی راہ کے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس گرز ہیں ایک مارتے ہیں تو سات لاکھ آدمیوں کا چورا ہو جاتا ہے۔ مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے اپنے رب کی ذات پاک سے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ کے جہاد میں جو ایماندار شریک تھے ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا }۔ یہ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا، یہ کیسے؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد کی دوسری آیت پڑھ دی کہ ’ متقی لوگ اس سے نجات پا جائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں رہ جائیں گے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2496] بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے تین بچے فوت ہو گئے ہوں، اسے آگ نہ چھوئے گی مگر صرف قسم پوری ہونے کے طور پر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6656] اس سے مراد یہی آیت ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو بخار چڑھا ہوا تھا جس کی عیادت کے لیے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تشریف لے چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جناب باری عزوجل کا فرمان ہے کہ یہ بخار بھی ایک آگ ہے۔ میں اپنے مومن بندوں کو اس میں اس لیے مبتلا کرتا ہوں کہ یہ جہنم کی آگ کا بدلہ ہو جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23851:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے بھی یہی فرما کر پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جو شخص سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» ۱؎ [112-الإخلاص:1-4] دس مرتبہ پڑھ لے، اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا ہے }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو ہم بہت سے محل بنا لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں وہ بہتر سے بہتر اور بہت سے بہت دینے والا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں لکھ لیں گے۔ فی الواقع ان کا ساتھ بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:859:حسن] { اور جو شخص کسی تنخواہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی خوشی کے لیے مسلمان لشکروں کی ان کی پشت کی طرف سے حفاظت کرنے کے لیے پہرہ دے، وہ اپنی آنکھ سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری کرنے کے لیے، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں اس کا ذکر کرنا، خرچ کرنے سے بھی سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے اور روایت میں ہے سات ہزار گنا }۔ ۱؎ [مسند احمد:437/3:ضعیف] ابوداؤد میں ہے کہ { نماز، روزہ اور ذکر اللہ، اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا درجہ رکھتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2498،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس آیت سے گزرنا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان تو پل صراط سے گزر جائیں گے اور مشرک جہنم میں جائیں گے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس دن بہت سے مرد و عورت اس پر سے پھسل جائیں گے۔ اس کے دونوں کنارے فرشتوں کی صف بندی ہوگی جو اللہ سے سلامتی کی دعائیں کر رہے ہونگے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23849:] یہ تو اللہ کی قسم ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔ اس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ اسے اپنے ذمے لازم کر چکا ہے۔ پل صراط پر جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہو جائیں گے، ہاں گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی۔ پھر نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے۔ ملائکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء علیہم السلام بھی۔ پھر بہت سے لوگ تو جہنم میں سے اس حالت میں نکلیں گے کہ آگ انہیں کھا چکی ہو گی مگر چہرے کی سجدہ کی جگہ بچی ہوئی ہوگی۔ پھر اپنے اپنے باقی ایمان کے حساب سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ جن کے دلوں میں بقدر دینار کے ایمان ہو گا، وہ اول نکلیں گے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے کم والے یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان والے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے بھی کمی والے، پھر وہ جس نے اپنی پوری عمر میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا ہو گو کچھ بھی نیکی نہ کی ہو۔ پھر تو جہنم میں وہی رہ جائیں گے جن پر ہمیشہ اور دوام لکھا جا چکا ہے۔ یہ تمام خلاصہ ہے ان احادیث کا جو صحت کے ساتھ آ چکی ہیں۔ پس پل صراط پر جانے کے بعد نیک لوگ پار ہو جائیں گے اور بد لوگ کٹ کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 71) {وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا …:} لغت کے اعتبار سے ”وارد ہونے“ کے معنی ”داخل ہونا“ اور ”اوپر سے گزرنا“ دونوں ہو سکتے ہیں، اس لیے ترجمہ ”وارد ہونے والا“ ہی کر دیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ”وارد ہونے“ سے مراد جسر (پل) سے گزرنا ہے، جسے بعض احادیث میں ”صراط“ بھی کہا گیا ہے۔ عام لوگوں نے فارسی اور عربی کو جمع کرکے اس کا نام ”پل صراط“ رکھ لیا ہے۔ یہ پل چونکہ جہنم کے اوپر رکھا جائے گا، اس لیے یہ جہنم پر سے گزرنا ہی ہے۔ متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ہر نیک و بد اور ہر کافر و مومن کو اس پل پر سے گزرنا پڑے گا۔ جن مفسرین نے اس کے معنی ”داخل ہونا“ کیے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حدیث کے مطابق {”تَحِلَّةَ الْقَسَمِ“} یعنی قسم پوری کرنے کے لیے ہر مومن و کافر ایک مرتبہ جہنم میں داخل ہوگا، مگر مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور باعث رحمت بنا دی جائے گی۔ مگر پہلا معنی راجح ہے، اگر کسی حدیث میں لفظ ”دخول“ (داخل ہونا) آیا ہے تو صراط والی حدیث کے مطابق اس سے مراد بھی گزرنا ہے۔ اس معنی سے کتاب و سنت کے دلائل کے درمیان تطبیق ہو جاتی ہے۔
پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہُوا چھوڑ دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جو پرہیزگار ہوں گے ہم انہیں نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا چھوڑ دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو ڈر گئے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم میں دخول یا ورود ؟ ٭٭
مسند امام احمد بن حنبل کی ایک غریب حدیث میں ہے { ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے، اس بارے میں ہم میں اختلاف ہوا، کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقویٰ کے نجات پا جائیں گے۔ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، وارد تو سب ہوں گے }۔ اور روایت میں ہے کہ { داخل تو سب ہوں گے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی، لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی، پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہو جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:329/3:ضعیف] خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے، کہیں گے کہ اللہ نے تو فرمایا تھا کہ ہر ایک جہنم پر وارد ہونے والا ہے اور ہمارا ورود تو ہوا ہی نہیں تو ان سے فرمایا جائے گا کہ تم وہیں سے گزر کر تو آ رہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگ ٹھنڈی کر دی تھی۔“
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ایک بار اپنی بیوی صاحبہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ صاحبہ بھی رونے لگیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کیوں روئیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو روتا دیکھ کر۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو آیت «وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» ۱؎ [19-مريم:71] ، یاد آگئی اور رونا آگیا۔ مجھے کیا معلوم کہ میں نجات پاؤں گا نہیں؟ اس وقت آپ بیمار تھے۔ ابومیسرہ رحمہ اللہ جب رات کو اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتے تو رونے لگتے اور زبان سے بےساختہ نکل جاتا کہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے دھونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمایا یہی آیت ہے۔ یہ تو ثابت ہے کہ وہاں جانا ہوگا اور یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں؟ ایک بزرگ شخص نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ہمیں جہنم پر سے گزرنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں یقیناً معلوم ہے۔ پھر پوچھا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں سے پار ہو جاؤ گے؟ انہوں نے فرمایا اس کا کوئی علم نہیں، پھر فرمایا ہمارے لیے ہنسی خوشی کیسی؟ یہ سن کر اس وقت سے لے کر موت کی گھڑی تک ان کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں آئی۔ نافع بن ارزق اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے تو آپ نے دلیل میں آیت قرآن «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] پیش کر کے فرمایا، دیکھو یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے یا نہیں؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دوسری آیت تلاوت فرمائی «يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:98] اور فرمایا بتاؤ فرعون اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا یا نہیں؟ پس اب غور کرو کہ ہم اس میں داخل تو ضرور ہوں گے اب نکلیں گے بھی یا نہیں؟ غالباً تجھے تو اللہ نہ نکالے گا اس لیے کہ تو اس کا منکر ہے۔ یہ سن کر نافع کھسیانا ہو کر ہنس دیا۔ یہ نافع خارجی تھا اس کی کنیت ابو راشد تھی۔
دوسری روایت میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے سمجھاتے ہوئے آیت «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] بھی پڑھی تھی۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ پہلے بزرگ لوگوں کی ایک دعا یہ بھی تھی کہ «اللَّهُمَّ أَخْرِجْنِي مِنْ النَّار سَالِمًا وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّة غَانِمًا» اے اللہ مجھے جہنم سے صحیح سالم نکال لے اور جنت میں ہنسی خوشی پہنچا دے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد طیالسی میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کے مخاطب کفار ہیں۔ عکرمہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، یہ ظالم لوگ ہیں، اسی طرح ہم اس آیت کو پڑھتے تھے۔ یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نیک بد سب وارد ہوں گے۔ دیکھو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اور گہنگاروں کے لیے بھی «ورود» کا لفظ دخول کے معنی میں خود قرآن کریم کی دو آیتوں میں وارد ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وارد تو سب ہوں گے، پھر گزر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3159،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا۔ یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے۔ اب بعض تو بجلی کی طرح گزر جائیں گے، بعض ہوا کی طرح، بعض پرندوں کی طرح، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح، بعض تیز چال والے پیدل انسان کی طرح۔ یہاں تک کہ سب سے آخر جو مسلمان اس سے پار ہوگا، یہ وہ ہوگا جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا، گرتا پڑتا نجات پائے گا۔ پل صراط پھسلنی چیز ہے جس پر ببول جیسے اور گو گھرو جیسے کانٹے ہیں، دونوں طرف فرشتوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں جہنم کے اٹکس ہوں گے جن سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے الخ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا۔ پہلا گروہ تو بجلی کی طرح آن کی آن میں پار ہو جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح جائے گا، تیسرا تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، چوتھا تیز رفتار جانور کی طرح۔ فرشتے ہر طرف سے دعائیں کر رہے ہونگے کہ اے اللہ سلامت رکھ الٰہی بچا لے۔
بخاری و مسلم کی بہت سی مرفوع احادیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جہنم اپنی پیٹھ پر تمام لوگوں کو جما لے گی۔ جب سب نیک و بد جمع ہو جائیں گے تو حکم باری ہو گا کہ اپنے والوں کو تو پکڑ لے اور جنتیوں کو چھوڑ دے۔ اب جہنم سب برے لوگوں کا نوالہ کر جائے گی۔ وہ برے لوگوں کو اس طرح جانتی پہچانتی ہے جس طرح تم اپنی اولاد کو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ مومن صاف بچ جائیں گے۔ سنو جہنم کے داروغوں کے قد ایک سو سال کی راہ کے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس گرز ہیں ایک مارتے ہیں تو سات لاکھ آدمیوں کا چورا ہو جاتا ہے۔ مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے اپنے رب کی ذات پاک سے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ کے جہاد میں جو ایماندار شریک تھے ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا }۔ یہ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا، یہ کیسے؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد کی دوسری آیت پڑھ دی کہ ’ متقی لوگ اس سے نجات پا جائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں رہ جائیں گے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2496] بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے تین بچے فوت ہو گئے ہوں، اسے آگ نہ چھوئے گی مگر صرف قسم پوری ہونے کے طور پر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6656] اس سے مراد یہی آیت ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو بخار چڑھا ہوا تھا جس کی عیادت کے لیے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تشریف لے چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جناب باری عزوجل کا فرمان ہے کہ یہ بخار بھی ایک آگ ہے۔ میں اپنے مومن بندوں کو اس میں اس لیے مبتلا کرتا ہوں کہ یہ جہنم کی آگ کا بدلہ ہو جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23851:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے بھی یہی فرما کر پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جو شخص سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» ۱؎ [112-الإخلاص:1-4] دس مرتبہ پڑھ لے، اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا ہے }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر تو ہم بہت سے محل بنا لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں وہ بہتر سے بہتر اور بہت سے بہت دینے والا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں لکھ لیں گے۔ فی الواقع ان کا ساتھ بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:859:حسن] { اور جو شخص کسی تنخواہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی خوشی کے لیے مسلمان لشکروں کی ان کی پشت کی طرف سے حفاظت کرنے کے لیے پہرہ دے، وہ اپنی آنکھ سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری کرنے کے لیے، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں اس کا ذکر کرنا، خرچ کرنے سے بھی سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے اور روایت میں ہے سات ہزار گنا }۔ ۱؎ [مسند احمد:437/3:ضعیف] ابوداؤد میں ہے کہ { نماز، روزہ اور ذکر اللہ، اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا درجہ رکھتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2498،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس آیت سے گزرنا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان تو پل صراط سے گزر جائیں گے اور مشرک جہنم میں جائیں گے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس دن بہت سے مرد و عورت اس پر سے پھسل جائیں گے۔ اس کے دونوں کنارے فرشتوں کی صف بندی ہوگی جو اللہ سے سلامتی کی دعائیں کر رہے ہونگے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23849:] یہ تو اللہ کی قسم ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔ اس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ اسے اپنے ذمے لازم کر چکا ہے۔ پل صراط پر جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہو جائیں گے، ہاں گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی۔ پھر نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے۔ ملائکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء علیہم السلام بھی۔ پھر بہت سے لوگ تو جہنم میں سے اس حالت میں نکلیں گے کہ آگ انہیں کھا چکی ہو گی مگر چہرے کی سجدہ کی جگہ بچی ہوئی ہوگی۔ پھر اپنے اپنے باقی ایمان کے حساب سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ جن کے دلوں میں بقدر دینار کے ایمان ہو گا، وہ اول نکلیں گے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے کم والے یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان والے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے بھی کمی والے، پھر وہ جس نے اپنی پوری عمر میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا ہو گو کچھ بھی نیکی نہ کی ہو۔ پھر تو جہنم میں وہی رہ جائیں گے جن پر ہمیشہ اور دوام لکھا جا چکا ہے۔ یہ تمام خلاصہ ہے ان احادیث کا جو صحت کے ساتھ آ چکی ہیں۔ پس پل صراط پر جانے کے بعد نیک لوگ پار ہو جائیں گے اور بد لوگ کٹ کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے۔
72۔ 1 اس کی تفسیر صحیح حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر پل بنایا جائے گا جس میں ہر مومن و کافر کو گزرنا ہوگا۔ مومن تو اپنے اعمال کے مطابق جلد یا بدیر گزر جائیں گے، کچھ تو پلک جھپکنے میں، کچھ بجلی اور کچھ ہوا کی طرح، کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ عمدہ گھوڑوں اور دیگر سواریوں کی طرح گزر جائیں گے یوں کچھ بالکل صحیح سالم، کچھ زخمی تاہم پل عبور کرلیں گے کچھ جہنم میں گرپڑیں گے جنہیں بعد میں شفاعت کے ذریعے سے نکال لیا جائے گا۔ لیکن کافر اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے اور سب جہنم میں گرپڑیں گے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ' جس کے تین بچے بلوغت سے پہلے وفات پا گئے ہوں، اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم حلال کرنے کے لئے (البخاری) یہ قسم وہی ہے جسے اس آیت میں حَتْمًا مَّقْضِیًّا (قطعی طے شدہ امر) یعنی اس کا در جہنم میں صرف پل پر گزرنے کی حد تک ہی ہوگا۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر وایسر التفاسیر)
(آیت 72){ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا …:} یعنی پھر ہم پرہیز گاروں کو جہنم سے بچا لیں گے (صراط سے سلامت گزار کر یا صراط سے جہنم میں گرنے کے بعد) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے اسی میں گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین اور عام مسلمان جہنم کے اوپر صراط سے اپنے اعمال کے مطابق تیزی سے یا گرتے پڑتے گزر جائیں گے اور کافر اور زیادہ گناہ گار مسلمان پل پر سے جہنم میں گر پڑیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو سزا پوری ہونے کے بعد یا شفاعت سے یا محض اپنے فضل سے جہنم سے نکال لے گا اور صرف کافر ومشرک ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ اس کی دلیل ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت میں رب تعالیٰ کو دیکھنے کا ذکر فرمایا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ثُمَّ يُؤْتِي بِالْجَسْرِ فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، قُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا الْجَسْرُ؟ قالَ مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيْفُ وَكَلاَلِيْبُ، وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكَةٌ عَقِيْفَةٌ تَكُوْنُ بِنَجْدٍ، يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ، الْمُؤْمِنُ عَلَيْهَا كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيْحِ وَكَأَجَاوِيْدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَنَاجٍ مَخْدُوْشٌ، وَمَكْدُوْسٌ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ، حَتّٰی يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا، فَمَا أَنْتُمْ بِأَشَدَّ لِيْ مُنَاشَدَةً فِي الْحَقِّ، قَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ لِلْجَبَّارِ، وَ إِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا فِيْ إِخْوَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوْا يُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَيَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَيَعْمَلُوْنَ مَعَنَا، فَيَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالَی: اذْهَبُوْا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِيْنَارٍ مِنْ إِيْمَانٍ فَأَخْرِجُوْهُ … فَيَشْفَعُ النَّبِيُّوْنَ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ فَيَقُوْلُ الْجَبَّارُ بَقِيَتْ شَفَاعَتِيْ، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوْا ] [ بخاری، التوحید، باب: «وجوہ یومئذ ناضرۃ…» : ۷۴۳۹، عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ ] ”پھر حسر (پل) کو لایا جائے گا اور اسے جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا۔“ ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ! اور وہ حسر (پل) کیا چیز ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”وہ بہت پھسلانے والا ہے، اس پر کنڈے اور آنکڑے ہیں اور بہت چوڑے اونٹ کٹارے، جن میں مڑے ہوئے کانٹے ہیں، جو نجد میں ہوتے ہیں، انھیں سعدان کہتے ہیں، مومن اس پر سے نگاہ کی طرح اور بجلی کی طرح اور آندھی کی طرح اور بہترین گھڑ سواروں اور اونٹ کے سواروں کی طرح گزر جائیں گے، پھر کوئی صحیح سلامت بچ کر نکلنے والا ہو گا، کوئی زخمی ہو کر بچ نکلنے والا، کوئی جہنم کی آگ میں گرا دیا جانے والا، یہاں تک کہ ان کا آخری شخص گھسٹتا ہوا گزر جائے گا۔ تو تم مجھ سے اس حق کا جو تمھارے لیے ثابت ہو چکا ہو، اس سے زیادہ مطالبہ کرنے والے نہیں جس قدر مومن اپنے بھائیوں کے بارے میں اس دن جبار (اللہ تعالیٰ) سے مطالبہ کرے گا اور اس وقت جب وہ دیکھیں گے کہ وہ بچ نکلے ہیں، کہیں گے، اے ہمارے رب! ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جاؤ اور جسے پاؤ کہ اس کے دل میں دینار کے برابر ایمان ہے اسے نکال لو …(لمبی حدیث ہے جس میں نصف دینار کے برابر ایمان والوں کو، پھر ذرہ برابر ایمان والوں کو آگ سے نکالنے کا ذکر ہے) چنانچہ انبیاء، فرشتے اور مومن شفاعت کریں گے، پھر جبار فرمائے گا، میری شفاعت باقی رہ گئی تو وہ آگ میں سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔“
اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیاده ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ (دیکھو ہم) دونوں گروہوں میں سے رہائش گاہ کس کی اچھی ہے اور محفل کس کی زیادہ شاندار ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے کہتے ہیں جو ایمان لائے کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام میں بہتر اور مجلس کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت مال فریب زندگی ٭٭
اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل و برہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان و شوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پرتکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی ہیں اور آباد اور بارونق ہیں؟ پس ہم جو کہ مال و دولت، شان و شوکت، عزت و آبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں، ہم اللہ کے پیارے ہیں؟ یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے۔ کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے، کافروں نے کہا «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:11] ’ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ؟ ‘ نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] ’ تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدارنہیں بن سکتے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ’ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے؟ ‘ پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ’ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کر دیا ‘۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات، ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان و شوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ’ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کر دیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو، ان کے باغات، ان کی نہریں، ان کی کھیتیاں، ان کے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کر دیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے ‘۔ ”مقام“ سے مراد مسکن اور نعمتیں ہیں۔ ”ندی“ سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں۔ جیسے آیت «وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ» ۱؎ [29-العنكبوت:29] میں ہے۔ یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں، لباس میں، مال میں، متاع میں، صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔
73۔ 1 یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقرا مسلمین اور اغنیائے قریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں، کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے فقیر لوگ ہیں، انکا دار الشوریٰ دار ارقم ہے۔ جب کہ کافروں میں ابو جہل، نفر بن حارث، عتبہ، شیبہ وغیرہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات ہیں، ان کی اجتماع گاہ بہت عمدہ ہے۔
(آیت 73){وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ …: ” مَقَامًا “} جائے قیام، یعنی رہنے کی جگہ، گھر وغیرہ۔ {” نَدِيًّا “ ”نَدَوْتُ الْقَوْمَ أَنْدُوْهُمْ“ } (میں نے قوم کو جمع کیا) سے ہے۔ {”اَلنَّادِيْ“ ”اَلنَّدِيُّ“} اور {” اَلْمُنْتَدَي“} کا معنی لوگوں کی مجلس، اکٹھے ہونے کی جگہ۔ کفار جب اللہ تعالیٰ کی واضح آیات سنتے اور ان کا حق ہونا اس قدر واضح ہوتا کہ وہ کسی صورت نہ ان کا جواب دے پاتے اور نہ غلط کہہ سکتے، تو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے دنیوی لحاظ سے کمزور ایمان والوں سے کہتے کہ اپنی حالت اور ہماری حالت دیکھو! کس کے رہنے کے مکانات بہتر اور کس کی مجلس زیادہ شان و شوکت والی اور سجی ہوئی ہے؟ گویا انھوں نے دنیوی سازو سامان اور شان و شوکت کو اپنے حق پر ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے کی دلیل قرار دیا۔ قرآن مجید میں تمام انبیاء کے زمانے کے کفار کی یہی سوچ بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۱۱)، انعام (۵۳)، سبا (۳۵)، مومنون (۵۵، ۵۶)، مریم (۷۷)، کہف (۳۵، ۳۶) اور حم السجدہ (۵۰)۔
حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو اِن سے زیادہ سر و سامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں اِن سے بڑھی ہوئی تھیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم تو ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو غارت کر چکے ہیں جو ساز وسامان اور نام ونمود میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپادیں (قومیں ہلاک کردیں) کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں بہتر تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ ہم ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ساز و سامان اور ظاہری شان و شوکت میں ان سے بڑھی ہوئی تھیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے جو سازوسامان میں اور دیکھنے میں کہیں اچھے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت مال فریب زندگی ٭٭
اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل و برہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان و شوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پرتکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی ہیں اور آباد اور بارونق ہیں؟ پس ہم جو کہ مال و دولت، شان و شوکت، عزت و آبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں، ہم اللہ کے پیارے ہیں؟ یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے۔ کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے، کافروں نے کہا «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:11] ’ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ؟ ‘ نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] ’ تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدارنہیں بن سکتے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ’ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے؟ ‘ پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ’ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کر دیا ‘۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات، ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان و شوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ’ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کر دیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو، ان کے باغات، ان کی نہریں، ان کی کھیتیاں، ان کے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کر دیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے ‘۔ ”مقام“ سے مراد مسکن اور نعمتیں ہیں۔ ”ندی“ سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں۔ جیسے آیت «وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ» ۱؎ [29-العنكبوت:29] میں ہے۔ یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں، لباس میں، مال میں، متاع میں، صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔
74۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، دنیا کی یہ چیزیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر فخر اور ناز کیا جائے، یا ان کو دیکھ کر حق وباطل کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ چیزیں تو تم سے پہلی امتوں کے پاس تھیں، لیکن تکذیب حق کی پاداش میں انھیں ہلاک کردیا گیا، دنیا کا یہ مال و اسباب انھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکا۔
(آیت 74){وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ …: ” اَثَاثًا “} گھر کا سازو سامان جس میں اونٹ، گھوڑے، بھیڑ بکریاں اور غلام وغیرہ بھی شامل ہیں۔ {” رِءْيًا “ ”رَأَيَ يَرَي “} (ف) کا مصدر ہے، بمعنی مفعول یعنی دیکھنے کی چیزیں۔ مصدری معنی بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ ترجمہ میں کیا گیا ہے۔ یعنی جب نافرمانی کے بعد ان سے کہیں بڑھ کر سازو سامان اور شان و شوکت والوں کو ان کی دنیوی خوش حالی ہمارے عذاب سے نہ بچا سکی تو یہ بے چارے کس شمار و قطار میں ہیں؟ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹھ باٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پرلے درجے کی حماقت ہے۔
اِن سے کہو، جو شخص گمراہی میں مُبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا اللہ رحمنٰ اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ وه ان چیزوں کو دیکھ لیں جنکا وعده کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو، اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے واﻻ اور کس کا جتھا کمزور ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب یا قیامت تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ جو کوئی گمراہی میں مبتلا ہو تو خدائے رحمن اسے برابر ڈھیل دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب یہ لوگ اسے دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ وعید ہوا ہے خواہ وہ (یہاں کا) عذاب ہو یا قیامت کی گھڑی! تب انہیں معلوم ہوگا کہ مکان کے لحاظ سے زیادہ برا کون ہے اور لاؤ لشکر کے اعتبار سے زیادہ کمزور کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے جو شخص گمراہی میں پڑا ہو تو لازم ہے کہ رحما ن اسے ایک مدت تک مہلت دے، یہا ںتک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا تو عذاب اور یا قیامت کو، تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مقام میں زیادہ برا اور لشکر کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں سے مباہلہ ٭٭
’ ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطمینان کئے بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دیجئیے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے، انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے جب تک کہ قیامت نہ آ جائے یا ان کی موت نہ آ جائے۔ اس وقت انہیں پورا پتہ چل جائے گا کہ فی الواقع برا شخص کون تھا اور کس کے ساتھی کمزور تھے۔ دنیا تو ڈھلتی چڑھتی چھاؤں ہے نہ خود اس کا اعتبار نہ اس کے سامان اسباب کا۔ یہ تو اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی رہیں گے ‘۔ گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے۔ جیسے یہودیوں سے سورۃ الجمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّـهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [62-الجمعة:6] ’ آؤ ہمارے مقابلہ میں موت کی تمنا کرو ‘۔ اسی طرح سورۃ آل عمران میں مباہلے کا ذکر ہے کہ «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:61] ’ جب تم اپنے خلاف دلیلیں سن کر بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کے مدعی ہو تو آؤ بال بچوں سمیت میدان میں جا کر جھوٹے پر اللہ کی لعنت پڑنے کی دعا کریں ‘۔ پس نہ تو مشرکین مقابلے پر آئے، نہ یہود کی ہمت پڑی، نہ نصرانی مرد میدان بنے۔
75۔ 1 علاوہ ازیں یہ چیزیں گمراہوں اور کافروں کو مہلت کے طور پر بھی ملتی ہیں، اس لئے یہ کوئی معیار نہیں۔ اصل اچھے برے کا پتہ تو اس وقت چلے گا، جب مہلت عمل ختم ہوجائے گی اور اللہ کا عذاب انھیں آ گھیرے گا یا قیامت برپا ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت کا علم، کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ وہاں ازالے اور تدارک کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
(آیت 75) ➊ {قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ …:} اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار سے کیا کہیں؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو، آؤ! مباہلہ کر لیں اور ہم تم دونوں مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو فریق گمراہی پر ہے اسے اللہ تعالیٰ ایک مدت تک مہلت دے اور اسے اس کی اسی حالت میں رکھے، تاکہ کفار جب اس استدراج اور مہلت کی وجہ سے کفر کی حالت میں فوت ہوں تو انھیں پتا چل جائے کہ کس کے رہنے کی جگہ بد ترین اور کس کا لشکر اور جتھا کمزور ترین ہے۔ اس تفسیر میں {”فَلْيَمْدُدْ “ } کو اصل معنی ”امر“ پر رکھا گیا ہے۔ ابن کثیر اور ابن جریر نے صرف یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال سورۂ آل عمران کی آیت (۶۱) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۹۴) ہے۔ (شنقیطی) ➋ دوسری تفسیر اس آیت کی یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار کی اس دلیل کا کیا جواب دیں؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ جو لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ مہلت دے، تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ یہ نہ کہیں کہ ہمیں سوچنے کا وقت نہیں ملا۔ پھر جب دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوں گے، یا موت کے وقت اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے، تو خود ہی اچھی طرح جائزہ لے لیں گے کہ کس کی رہنے کی جگہ زیادہ بری اور کس کا جتھا اور لشکر زیادہ کمزور ہے۔ آیت میں لفظ {” الرَّحْمٰنُ “} کی حکمت یہ ہے کہ گمراہوں کو مہلت دینا اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کفر سے توبہ کر لیں۔ قرآن مجید میں کئی آیات میں یہ بات مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۷۸)، انعام (۴۴)، سبا (۱۷) اور قلم (۴۴، ۴۵) اس تفسیر کی صورت میں {” فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ “} میں امر بمعنی خبر ہے۔ یہ معنی زیادہ قوی ہے، کیونکہ اس کے بعد والی آیت: «{ وَ يَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى }» میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کی گمراہی میں مہلت دیتا ہے اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔
اس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ﺛواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
او رجنہوں نے ہدایت پائی اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اور اضافہ کرتا ہے اور جو باقی رہنے والی نیکیاں ہیں وہ تمہارے پروردگار کے نزدیک ثواب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے ہدایت پائی، ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے کہیں اچھی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گمراہوں کی گمراہی میں ترقی ٭٭
جس طرح گمراہوں کی گمراہی بڑھتی رہتی ہے، اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت بڑھتی رہتی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» الخ ۱؎ [9-التوبة:124] ’ جہاں کوئی سورت اترتی ہے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں، تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں زیادہ کر دیا؟ ‘ الخ۔ باقیات صالحات کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورۃ الکہف میں گزر چکی ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ ’ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لیے بہتر ہیں ‘۔ عبدالرزاق میں ہے کہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُِ ﷲِ» کہنے سے جھڑتے ہیں۔ اے ابودرداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے، یہی باقیات صالحات ہیں، یہی جنت کے خزانے ہیں }۔ اس کو سن کر ابودرداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا، کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے۔
76۔ 1 اس میں ایک دوسرے اصول کا ذکر ہے جس طرح قرآن سے، جن کے دلوں میں کفر اور شرک و ضلالت کا روگ ہے۔ ان کی بدبختی و ضلالت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اسی طرح اہل ایمان کے دل ایمان و ہدایت میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ 76۔ 2 اس میں فقرا مسلمین کو تسلی ہے کہ کفار و مشرکین جن مال و اسباب پر فخر کرتے ہیں، وہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے اور تم جو نیک اعمال کرتے ہو، یہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ جن کا اجر وثواب تمہیں اپنے رب کے ہاں ملے گا۔ اور ان کا بہترین صلہ اور نفع تمہاری طرف لوٹے گا۔
(آیت 76) ➊ {وَ يَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى:} یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے، جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی {”زَادَهُمْ هُدًي“} (انھیں ہدایت کی مزید توفیق دینا) میں داخل ہے۔ (کبیر) ➋ {وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۴۶)۔
پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال واوﻻد ضرور ہی دی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال ضرور دیا جائے گا اور اولاد بھی۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہمار ی آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور ہی مال اور اولاد دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091] دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ } اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔ اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں }۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 77){اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا …:} اوپر کی آیات میں حشر کے یقینی ہونے کے دلائل بیان فرمائے اور کفار کے شبہات کا جواب دیا تھا، اب ان لوگوں کا قول نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ صحیحین میں ہے، خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِيْ عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهٗ، قَالَ: لاَ أُعْطِيْكَ حَتّٰی تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لاَ أَكْفُرُ حَتّٰی يُمِيْتَكَ اللّٰهُ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ دَعْنِيْ حَتّٰی أَمُوْتَ وَ أُبْعَثَ فَسَأُوْتیٰ مَالًا وَوَلدًا فَأَقْضِيْكَ فَنَزَلَتْ: «{ اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا (77) اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا }» ] [بخاری، البیوع، باب ذکر الفین والحداد: ۲۰۹۱۔ مسلم،: ۳۵، 2795/36 ] ”میں زمانۂ جاہلیت میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا اور میرا عاص بن وائل (ایک مال دار کافر) پر کچھ قرض تھا۔ میں (ایک دن) تقاضے کے لیے اس کے پاس گیا، وہ کہنے لگا: ”میں تمھارا قرض اس وقت تک ادا نہیں کروں گا جب تک تم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت سے انکار نہ کرو۔“ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے) ہر گز انکار نہیں کروں گا، یہاں تک کہ اللہ تجھے موت دے، پھر دوبارہ زندہ کرے۔“ کافر کہنے لگا: ”جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو تم میرے پاس آنا، اس وقت میرے پاس خوب مال بھی ہو گا اور اولاد بھی، میں تمھارا قرض ادا کروں گا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (چار آیات {” فَرْدًا “} تک) نازل فرمائیں۔“ اس واقعہ میں کفار کا قیامت سے مذاق کی صورت میں انکار کرنا بھی ہے اور اس کے خیال میں بالفرض قائم ہونے کی صورت میں دنیا پر قیاس کرتے ہوئے وہاں بھی مال و اولاد ملنے کے یقین کا اظہار بھی ہے۔ ایک ہی سانس میں اللہ تعالیٰ کے قیامت قائم کرنے پر قادر ہونے سے انکار ہے اور اسی سانس میں قیامت کے دن اسے مال و اولاد دینے پر قادر ہونے کا اظہار ہے۔ مشرک ایسے ہی جاہل ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ زیادہ نمایاں قیامت کے دن دنیا کی طرح مال و اولاد ملنے کے یقین کا اظہار ہے، اس لیے اس سے پہلے آیات (۷۳، ۷۴) میں اس کا رد کیا ہے، اب مزید تین آیات میں اس کا رد فرمایا ہے۔
کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعده لے چکا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا ہے؟ یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد و پیمان حاصل کر لیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے؟ یا اس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091] دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ } اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔ اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں }۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 78){ اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ …:} یعنی یہ بات تو ”کہ وہ جنت میں جائے گا اور خوب مال و دولت پائے گا“ وہی کرسکتا ہے جس نے غیب پر اطلاع پائی ہو، یا اس بے حد رحم والی ذات پاک سے کوئی عہد لے رکھا ہو جس نے اپنی بے حد رحمت کی بنا پر اپنے فرماں بردار بندوں سے انعام کا عہد کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ علم غیب جب پوری مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں تو اسے کیسے حاصل ہو گیا؟ رہا قیامت کے دن نعمتوں کا عہد، تو وہ رحمت کے حق داروں ہی سے ہے، جو ایمان دار ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸) اس کافر سے وہ عہد کب اور کیسے ہوا؟
ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز ایسا نہیں ہے جو کچھ یہ کہتا ہے ہم اسے لکھ لیں گے۔ اور اس کے عذاب میں برابر اضافہ کرتے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں! ہم ضرور لکھیں گے جو کچھ یہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب میں سے بڑھائیں گے، بہت بڑھانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091] دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ } اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔ اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں }۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 79) ➊ {” كَلَّا “} یہ لفظ انکار اور ڈانٹ کے لیے آتا ہے، یعنی یہ دونوں باتیں ہر گز نہیں ہیں، تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے پاس سے ایک جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دی ہے۔ یہاں سورۂ مریم میں اس تیسری بات کا ذکر نہیں، کیونکہ اس سے پہلے سورۂ بقرہ میں یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے یہ بات گزر چکی ہے اور قرآن کی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں، فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ }» [ البقرۃ: ۸۰ ] ”اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے؟ تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔“ (شنقیطی) ➋ { وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا:} یعنی ہم اسے کئی گنا زیادہ عذاب دیں گے، ایک عذاب کفر کا، ایک استہزا اور مذاق اڑانے کا، ایک اللہ کی راہ سے روکنے کا، ایک دوسروں کو کفر کی راہ پر لگانے کا، ایک فساد پھیلانے کا۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۸۸)، اعراف (۳۸) اور عنکبوت (۱۳) اسی طرح دنیا میں بھی مال و اولاد اور ہر قسم کی زیب و زینت کے ذریعے سے اسے عذاب دیں گے، پھر موت اور آخرت میں مزید عذاب دیں گے، فرمایا: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا }» [ التوبۃ: ۸۵ ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان (اموال و اولاد) کے ذریعے سے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“
جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جو کہتا ہے (کہ اس کے پاس مال و اولاد ہے) اس کے وارث ہم ہی ہوں گے۔ اور یہ تو اکیلا ہماری بارگاہ میں حاضر ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم اس کے وارث ہوں گے ان چیزوں میں جو یہ کہہ رہا ہے اور یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091] دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ } اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔ اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں }۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔
80۔ 1 ان آیات کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے۔ کہ حضرت عمرو بن العاص ؓ کے والد عاص بن وائل، جو اسلام کے شدید دشمنوں میں سے تھا۔ اس کے ذمے حضرت خباب بن ارت کا قرضہ تھا جو آہن گری کا کام کرتے تھے۔ حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کرے گا میں تجھے تیری رقم نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا یہ کام تو، تو مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے تب بھی نہیں کرونگا۔ اس نے کہا اچھا پھر ایسے ہی سہی، جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہاں بھی مجھے مال واولاد سے نوازا جائے گا تو میں وہاں رقم ادا کر دونگا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ کر رہا ہے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہوگی؟ یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے یہ صرف اللہ تعالیٰ اور آیات الہٰی کا استہزا و تمسخر ہے یہ جس مال واولاد کی بات کر رہا ہے اس کے وارث تو ہم ہیں یعنی مرنے کے ساتھ ہی ان سے اس کا تعلق ختم ہوجائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا نہ مال ساتھ ہوگا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ۔ البتہ عذاب ہوگا جو اس کے لیے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔
(آیت 80) ➊ {وَ نَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ:} یعنی جس مال و اولاد پر یہ فخر کر رہا ہے اس کے ہلاک ہونے کے بعد ان سب کے وارث ہم بنیں گے، جیسا کہ اسی سورت میں ارشاد فرمایا: «{ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا وَ اِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ }» [ مریم: ۴۰ ] ”بے شک ہم، ہم ہی اس زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔“ ➋ {وَ يَاْتِيْنَا فَرْدًا:} یعنی قیامت کے دن جب ہمارے پاس آئے گا تو اس کے ساتھ نہ اولاد ہو گی، نہ مال اور نہ کوئی جتھا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۴)۔
اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں کہ وه ان کے لئے باعﺚ عزت ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے سوا اور خدا بنالیے کہ وہ انہیں زور دیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر بہت سے خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کیلئے عزت و قوت کا باعث ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے، تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔ «كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔ ’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 81){وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً …:} حشر و نشر کے بیان کے بعد اب ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی نفی ہے، خواہ انسان ہوں یا فرشتے یا جن یا بت یا آستانے یا قبریں۔ یعنی اللہ کے سوا انھوں نے اس لیے معبود بنا رکھے ہیں کہ ضرورت اور حاجت کے وقت اللہ تعالیٰ سے سفارش کرکے کام کروا سکیں، مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے کہہ کر اسے ٹال دیں، یا وہ موت اور قیامت کے وقت ان کو عذاب سے بچا لیں اور اس طرح وہ ان کے لیے قوت و عزت کا باعث بن جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳) میں مشرکین کا یہی عقیدہ بیان فرمایا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا اور نہ کر سکے گا، آیت الکرسی میں ہے: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟“
کوئی پشتیبان نہ ہوگا وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور الٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن ایسا ہرگز ہونا نہیں۔ وه تو ان کی پوجا سے منکر ہو جائیں گے، اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز نہیں کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز ایسا نہیں ہے وہ عنقریب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز ایسا نہ ہوگا، عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور ان کے خلاف مد مقابل ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔ «كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔ ’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔
82۔ 1 عِزًّا کا مطلب ہے یہ معبود ان کے لئے عزت کا باعث اور مددگار ہوں گے اور ضِدًّا کے معنی ہیں، دشمن، جھٹلانے والے اور ان کے خلاف دوسروں کے مددگار۔ یعنی یہ معبود ان کے گمان کے برعکس ان کے حمایتی ہونے کی بجائے، ان کے دشمن، ان کو جھٹلانے والے اور ان کے خلاف ہونگے۔
(آیت 82) ➊ { كَلَّا سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ:} انکار اس معنی میں کریں گے کہ وہ کہیں گے، ہم نے کبھی ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو، یا ہمیں مصیبت کے وقت پکارو اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ وہ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۲۸، ۲۹)، نحل (۸۶)، قصص (۶۳)، فاطر (۱۳، ۱۴) اور احقاف (۵، ۶) اسی طرح کفار بھی اپنے معبودوں کی عبادت سے مکر جائیں گے اور ان کے خلاف ہو جائیں گے، بلکہ قسم کھا کر کہیں گے کہ اللہ کی قسم! ہم مشرک نہیں تھے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۳) بلکہ وہ اور ان کے معبود ایک دوسرے کو لعنت کریں گے۔ دیکھیے عنکبوت (۲۵) اور سورۂ بقرہ (۱۶۶، ۱۶۷)۔ ➋ {وَ يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا: } یعنی بجائے اس کے کہ وہ ان کے لیے بچاؤ یا عزت کا سبب بنیں، الٹا ان کی پکڑ کا سبب بنیں گے اور قیامت کے دن ان کے شدید مخالف اور ان کے لیے باعث حسرت ہوں گے۔ بے شمار معبودوں کے لیے {” ضِدًّا “} واحد کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ {” ضِدًّا “} کا لفظ مصدر ہے، جو واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان پوجنے والوں کے خلاف ان کے معبودوں کے اتحاد و اتفاق کی وجہ سے ان کو {”شَيْءٌ وَاحِدٌ“} (ایک ہی چیز) فرض کرکے واحد کا صیغہ لایا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کے متعلق فرمایا: [ وَ هُمْ يَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاهُمْ ] [ أبوداوٗد، الدیات، باب أیُقاد المسلم من الکافر؟: ۴۵۳۰۔ نسائی: ۴۷۳۸۔ صحیح الجامع: ۶۶۶۶ ] ”وہ اپنے سوا سب کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوتے ہیں۔“
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم کافروں کے پاس شیطانوں کو بھیجتے ہیں جو انہیں خوب اکساتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے (رسول(ص)) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے جو انہیں برابر اکساتے رہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تونے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں ابھارتے ہیں، خوب ابھارنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔ «كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔ ’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔
83۔ 1 یعنی گمراہ کرتے، بہکاتے اور گناہ کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں
(آیت 83){ اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ …:” اَزًّا “} قاموس میں ہے:{ ” أَزَّ يَئِزُّ “} اور {” اَزَّ يَؤُزُّ اَزًّا “ } (ض، ن){ ” أَزَّ الشَّيْءَ “ } اس نے کسی چیز کو سخت حرکت دی۔ {” اَزَّ النَّارَ “} اس نے آگ کو بھڑکایا۔ {” اَزَّتِ الْقِدْرُ “} ہانڈی سخت ابلنے لگی۔ {”أَزِيْزٌ كَأَزِيْزِ الْمِرْجَلِ“} ہانڈی ابلنے جیسی آواز۔ یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کافر لوگ جنھوں نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے کسی صورت حق کو تسلیم نہیں کرنا، ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کر دیا ہے، جو انھیں برائی پر شدت سے ابھارتے رہتے ہیں اور انھیں گناہوں کی آگ میں اس طرح مسلسل جھونکے رکھتے ہیں کہ وہ اسی پیچ و تاب میں ہانڈی کی طرح ابلتے اور شعلوں کی طرح بھڑکتے رہتے ہیں۔ (بقاعی) اس آیت کی ہم معنی اور وضاحت کرنے والی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ زخرف (۳۶، ۳۷)، حم السجدہ (۲۵)، اعراف (۲۰۲) اور بنی اسرائیل (۶۴)۔
اچھا، تو اب اِن پر نزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو ہم اِن کے دن گن رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر، ہم تو خود ہی ان کے لئے مدت شماری کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو اچھی طرح ان کے دن گن رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو ان پر جلدی نہ کر، ہم تو بس ان کے لیے گن رہے ہیں، اچھی طرح گننا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭
کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔ «كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔ ’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔
84۔ 1 اور جب وہ مہلت ختم ہوجائے گی تو عذاب الٰہی ان کیلئے ہمیشگی کے لئے بن جائیگا۔ آپ کو جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے
(آیت 84) ➊ { فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ:} یعنی ایسا نہ کریں کہ جس طرح وہ شیاطین کے ابھارنے سے برائیوں میں جلدی کرتے ہیں کہ آپ بھی ان پر جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگیں، بلکہ صبر اور حوصلے سے انتظار کریں اور ان پر حجت پوری ہونے دیں۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۳۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلتَّأَنِّيْ مِنَ اللّٰهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ] [ مسند أبی یعلٰی: ۴۲۵۶۔ السنن الکبرٰی للبیہقی: ۲۰۷۶۷۔ سلسلۃ الأحادیث صحیحۃ: 294/4،ح:۱۷۹۵، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اناۃ (بردباری، وقار، آہستہ روی) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ ➋ { اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا:} آدمی کے اطمینان، صبر و ثبات اور خوشی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہو سکتی کہ اس کا سب سے زیادہ قوت والا مددگار مسلسل اس کے دشمن کی نگرانی کر رہا ہو اور نہ دشمن کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز پریشان کن ہو سکتی ہے۔ فرمایا، ہم تو بس ان کو دی ہوئی مہلت کا ایک ایک سانس گن رہے ہیں اور گنی ہوئی چیز نے آخر ختم ہونا ہے، پھر یہ کسی صورت بچ نہیں سکیں گے، تو پھر جلدی کیسی؟ دیکھیے سورۂ ہود (۸) روزوں کے جلدی گزرنے کی وجہ بھی {” اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةٍ “} فرمائی۔ بعض سلف یہ آیت پڑھتے تو روتے اور کہتے کہ گنتی ختم ہونے کا نتیجہ تیری جان کا نکلنا ہے، تیرا قبر میں داخل ہونا اور تیرا اہل و عیال سے جدا ہونا ہے۔ ایک اور بزرگ نے فرمایا، ہر سانس جو تجھے زندگی بخش رہا ہے تیری زندگی کے سانسوں کی گنتی کم کرتا جا رہا ہے، پھر اس شخص کی زندگی کا کیا حال ہے جسے زندہ رکھنے والی چیز ہی اس کی زندگی کے زوال کا باعث ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے: {إِنَّ الْحَبِيْبَ مِنَ الْأَحْبَابِ مُخْتَلَسٌ لاَ يَمْنَعُ الْمَوْتَ بَوَّابٌ وَلَا حَرَسُ وَكَيْفَ يَفْرَحُ بِالدُّنْيَا وَلَذَّتِهَا فَتًي يُعَدُّ عَلَيْهِ اللَّفْظُ وَالنَّفَسُ} ”ہر دوست اپنے دوستوں سے اچانک چھین لیا جانے والا ہے۔ موت کو کوئی دربان روک سکتا ہے نہ کوئی پہرے دار۔ دنیا اور اس کی لذت کے ساتھ کیسے خوش ہو سکتا ہے وہ جوان جس کا ایک ایک لفظ اور سانس گنا جا رہا ہو۔“ (روح المعانی)
وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن ہم پرہیزگاروں کو اللہ رحمان کی طرف بطور مہمان جمع کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ہم پرہیزگاروں کو اپنے حضور مہمانوں کی طرح لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہم متقی لوگوں کو رحمان کی طرف مہمان بناکر اکٹھا کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4733] ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔
ابن ابی حاتم کی روایت ہے { سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی }۔
{ یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع] یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:101،100] ’ ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے ‘۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے ‘۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 86،85){يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ …: ” وَفْدًا “ ”وَافِدٌ“} کی جمع ہے۔ {”وَفَدَ يَفِدُ وَفْدًا وَ وُفُوْدًا“ } بروزن {”وَعَدَ يَعِدُ “} کسی کے پاس جانا۔ وفد چند آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں جو کسی اہم کام کے لیے یا کوئی عطیہ حاصل کرنے کے لیے کسی بادشاہ یا بڑی شخصیت کے پاس جائے۔ {” نَسُوْقُ “ ”سَاقَ يَسُوْقُ سَوْقًا“} بروزن {”قَالَ يَقُوْلُ“} جانوروں کو ہانکنا۔ بعض اوقات کسی کو بھی چلانے کے معنی میں آ جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا }» [ الزمر: ۷۳ ] ”اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔“ {” الْمُجْرِمِيْنَ “} جرم وہ گناہ جسے کرنے والا سزا کا حق دار ہو۔ {”وِرْدًا “ ”وَارِدٌ“ } کی جمع ہے۔ {”وَرَدَ يَرِدُ وُرُوْدًا“ } پانی پینے کے لیے جانا، چونکہ اس مقصد کے لیے پیاسا ہی جاتا ہے، اس لیے {”وِرْدًا“} کا معنی ”پیاسے“ ہے۔ ان آیات میں متقین اور مجرمین کا انجام بیان ہوا ہے۔ پہلی آیت میں رحمان کی طرف جانے کا ذکر فرمایا، جنت وغیرہ کا ذکر نہیں فرمایا، یعنی متقی لوگ رحمان کے معزز مہمان بن کر جائیں گے۔ دنیا میں شاہی مہمانوں کے قدم زمین پر نہیں ٹکتے، اس دن بے حد و بے انتہا رحم والے، شاہوں کے شاہ کے معزز مہمانوں کے اعزاز و اکرام کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟ دوسری آیت میں جہنم کا ذکر ہے، رحمان کا ذکر نہیں۔ کیونکہ آخر دم تک جرم سے باز نہ آنے والے مجرم اس رحمان کے کسی رحم کے مستحق نہیں جو زمین و آسمان سے بھی زیادہ گناہوں کو سچے دل سے معافی کی ایک درخواست پر معاف کر دیتا ہے۔ سورۂ زمر (۷۱ تا ۷۳) میں متقین اور کفار کے اس مرحلے کا تفصیل سے ذکر آیا ہے۔
اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور گناه گاروں کوسخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے
علامہ محمد حسین نجفی
اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک کر لے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4733] ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔
ابن ابی حاتم کی روایت ہے { سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی }۔
{ یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع] یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:101،100] ’ ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے ‘۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے ‘۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ۔
86۔ 1 وفد وافد کی جمع ہے جیسے رکب راکب کی جمع ہے۔ مطلب یہ کہ انھیں اونٹوں، گھوڑوں پر سوار کرا کے نہایت عزت و احترام سے جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ وزدا کے معنی پیاسے۔ اس کے برعکس مجرمین کو بھوکا پیاسا جہنم میں ہانک دیا جائے گا۔
اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
انہیں شفاعت کا کوئی اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے اللہ سے عہد لے لیا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭
جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4733] ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔
ابن ابی حاتم کی روایت ہے { سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی }۔
{ یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع] یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:101،100] ’ ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے ‘۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے ‘۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ۔
87۔ 1 قول وقرار (عہد) کا مطلب ایمان و تقوٰی ہے۔ یعنی اہل ایمان و تقوٰی میں سے جن کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، وہی شفاعت کریں گے، ان کے سوا کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
(آیت 87){لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ …:} یعنی شفاعت کا حق دار وہ ہو گا جسے رحمان کے ہاں عہد نجات حاصل ہو۔ اس عہد سے مراد کلمۂ شہادت کا اقرار ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر مع حاشیہ حکمت بن بشیر) ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْعَهْدُ الَّذِيْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ] [ مسند أحمد: 346/5، ح: ۲۳۰۰۱۔ ترمذي: ۲۶۲۱۔ ابن ماجہ: ۱۰۷۹، عن بریدۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني ] ”وہ عہد جو ہمارے اور ان (مشرکین) کے درمیان ہے نماز ہے، جس نے اسے ترک کر دیا تو وہ بلاشبہ کافر ہو گیا۔“ معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ایمان والوں کی تو شفاعت ہو گی مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا۔ پس {” لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ “} کے معنی یہ ہیں کہ شفاعت کے مستحق صرف وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے رحمان کے ہاں عہد حاصل کر رکھا ہے، کفار نہیں۔ اس معنی کی شاہد کئی آیات ہیں۔ دیکھیے سورۂ مدثر (۴۸)، شعراء (۱۰۰، ۱۰۱)، مومن (۱۸)، انبیاء (۲۸) اور دوسری آیات۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب مجرمین کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا تو وہ خود دوسروں کے حق میں شفاعت کا اختیار بالاولیٰ نہیں رکھیں گے۔ دوسرا مطلب آیت کا یہ ہے کہ شفاعت کا اختیار صرف اسی کو ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا، کوئی نبی یا فرشتہ اپنی مرضی سے کسی کی شفاعت نہیں کر سکے گا، فرمایا: «{مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ اس آیت میں تمام مشرکین کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ مشرک بت پرست ہوں یا قبر پرست، زندہ پرست ہوں یا مردہ پرست، ہر قسم کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔ گویا یہ {” لِيَكُوَنُوْا لَهُمْ عِزًّا “ } کا جواب ہے۔ (کبیر، شوکانی، شنقیطی)
ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اوﻻد اختیار کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے رحمن نے اولاد اختیار کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (نصاریٰ) کہتے ہیں کہ خدا نے اپنا ایک بیٹا بنا رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 88تا95) ➊ پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہو جائے اور ہر اس عزت کی نفی ہو جائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی) ➋ { وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا:} اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمان نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بے پناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ وہ کسی کا محتاج نہیں، سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ» [ فاطر: ۱۵ ] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ بیٹا باپ کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ باپ اپنی کمزوری کی وجہ سے اولاد کا محتاج ہوتا ہے اور جس عقیدے، یعنی مسیح کو کفارہ بنانے کے لیے اسے اللہ کا بیٹا قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کو رحمان ماننے کے بعد اس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ➌ یہود عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، جبکہ امت مسلمہ کے کئی نادان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا جزو قرار دیتے ہیں۔ ➍ { لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّا …:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دینے والوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شدت غضب میں ان ظالموں کو مخاطب فرما کر بات کی اور تاکید کے دو لفظوں {”لام“} اور {”قَدْ“} کے ساتھ، جن کے جمع ہونے سے قسم کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے، فرمایا قسم ہے کہ تم ایک بہت ہی بھاری بات تک آ پہنچے ہو، جو اس قدر خوفناک اور بھاری ہے کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے تصور اور اس بات کے بوجھ سے {”سَبْعٌ شِدَادٌ“} یعنی ساتوں نہایت مضبوط آسمان پھٹ پڑیں، یہ وسیع اور محکم زمین شق ہو جائے اور انتہائی ٹھوس اور سخت پہاڑ مٹی کی بوسیدہ دیوار کی طرح ڈھے کر گر پڑیں کہ ان لوگوں نے (یہاں پھر نفرت سے مشرکوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا ہے) رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کر دیا، حالانکہ رحمان کے لائق ہی نہیں کہ وہ (کسی کو بھی، خواہ پیغمبر ہو یا فرشتہ) اولاد بنائے۔ قوسین کے الفاظ مفعول اول ہیں جو محذوف ہیں، {”وَلَدًا“} مفعول ثانی ہے، یعنی اس کی اولاد ہونا ناممکن اور محال ہے، اس لیے کہ اولاد ہم جنس ہوتی ہے اور اللہ کا کوئی ہم جنس نہیں۔ پھر اولاد کمزوری میں سہارے کے لیے ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر کمزوری سے پاک اور اپنی ذات و صفات میں ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہمیشہ سے عزیز و غالب ہے اور ہمیشہ عزیز و غالب رہے گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس کے علاوہ اولاد بیوی سے ہوتی ہے اور خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے، جب اللہ کی بیوی ہی نہیں اور وہ کسی کا محتاج ہی نہیں تو اولاد کیسی؟ فرمایا: «{ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ }» [ الأنعام: ۱۰۱ ] ”اس کی اولاد کیسے ہو گی، جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔“ ➎ { اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا:} آسمان و زمین میں جو بھی ہے اس کا غلام بن کر حاضر ہونے والا ہے۔ اگر کوئی اولاد ہوتی تو غلام کیسے ہوتی؟ ➏ { لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّا:} اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے، ایک ایک اس کے شمار میں ہے اور سب اکیلے اکیلے اس کے پاس آنے والے ہیں، اگر زمین و آسمان میں کوئی بھی اس کی اولاد ہوتا تو یقینا اسے معلوم ہوتا۔ کیا تم اللہ سے بھی زیادہ باخبر ہو، فرمایا: «{ قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ }» [ یونس: ۱۸ ] ”کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ “ نیز دیکھیے سورۂ یونس (۶۸)، بنی اسرائیل (۴۰) اور نجم (۱۹ تا ۲۲) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلٰی أَذًی سَمِعَهٗ مِنَ اللّٰهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُوْنَ لَهٗ وَلَدًا وَ إِنَّهٗ لَيُعَافِيْهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ ] [ بخاری، الأدب، باب الصبر في الأذی: ۶۰۹۹ ] ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات پر صبر کرنے والا، جسے وہ سن رہا ہو اور کوئی نہیں۔ لوگ اس کے لیے اولاد بتاتے ہیں اور وہ (اس کے باوجود) انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔“
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزے ریزے ہو جائیں
احمد رضا خان بریلوی
قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہوکر)
علامہ محمد حسین نجفی
کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں۔
عبدالسلام بن محمد
آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا!
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ وه رحمان کی اوﻻد ﺛابت کرنے بیٹھے
احمد رضا خان بریلوی
اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی،
علامہ محمد حسین نجفی
کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ خدائے رحمن کا بیٹا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
91۔ 1 ادا کے معنی بہت بھیانک معاملہ اور داھیۃ (بھاری چیز اور مصبیت) کے ہیں۔ یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اللہ کی اولاد قرار دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے آسمان و زمین پھٹ سکتے ہیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں۔
اور یہ بات رحمن کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
زمین اور آسمان کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمان وزمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ خدائے رحمن کی بارگاہ میں بندہ بن کر حاضر ہونے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
93۔ 1 جب سب اللہ کے غلام اور اس کے عاجز بندے ہیں تو پھر اسے اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور یہ اس کے لائق بھی نہیں ہے
ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس (اللہ) نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انہیں اچھی طرح شمار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
94۔ 1 یعنی آدم سے لے کر صبح قیامت تک جتنے بھی انسان، جن ہیں، سب کو اس نے گن رکھا ہے، سب اس کے قابو اور گرفت میں ہیں، کوئی اس سے چھپا ہے اور نہ چھپا رہ سکتا ہے۔
سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں ہر ایک روز قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک تنہا تنہا اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔ «اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { { اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: { اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔
مسند احمد میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔
95۔ 1 یعنی کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوگا، نہ مال ہی وہاں کچھ کام آئے گا (يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ) 26۔ الشعراء:88) اس دن نہ مال نفع دے گا، نہ بیٹے، ہر شخص کو تنہا اپنا اپنا حساب دینا پڑے گا اور جن کی بابت انسان دنیا میں یہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے وہاں حمائتی اور مددگار ہوں گے، وہاں سب غائب ہوجائیں گے۔ کوئی کسی کی مدد کے لئے حاضر نہیں ہوگا۔
یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لیے اللہ رحمٰن محبت پیدا کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے۔ ان کیلئے عنقریب خدائے رحمن (لوگوں کے دلوں میں) محبت قرار دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے رحمان عظیم محبت پیدا کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭
فرمان ہے کہ ’ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ’ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ ‘۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ’ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ ‘، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3209]
مسند احمد میں ہے کہ { جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ’ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں ‘۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/5:حسن] یہ حدیث غریب ہے۔ ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ { محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2637] پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔“ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
’ ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے ‘، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ ’ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی ‘۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔
96۔ 1 یعنی دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی نیکی اور پارسائی کی وجہ سے محبت پیدا کر دے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ' جب اللہ تعالیٰ کسی (نیک) بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ جبرائیل ؑ کو کہتا ہے، میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس جبرائیل ؑ بھی اس سے محبت کرنی شروع کردیتے ہیں پھر جبرائیل ؑ آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت اور پذیرائی رکھ دی جاتی ہے ' (صحیح بخاری)۔
(آیت 96){ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا: ” وُدٌّ “} اور {” حُبٌّ “} ہم معنی ہیں۔ {” وُدًّا “} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ کافروں کے برے عقائد و اعمال اور ان کے انجام بد کا ذکر کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کے تین معنی ہو سکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، جن کی قرآن و حدیث سے تائید ہوتی ہے۔ اللہ کے کلام سے بڑھ کر جامع کلام کوئی نہیں کہ جس کے تھوڑے سے کلمات میں بہت سے معانی جمع ہیں۔ پہلا معنی یہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے اور انھوں نے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کتاب و سنت کے مطابق اخلاص کے ساتھ عمل کیے (کیونکہ عمل صالح کے تین اجزا ہیں: ایمان، اخلاص اور اتباع کتاب و سنت) تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایمان والوں کے دلوں میں ان کے لیے عظیم محبت رکھ دے گا، جب کہ دشمنوں کے دلوں میں ان کی ہیبت اور رعب ڈال دے گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب ایک مہینے کی مسافت پر دور دشمن پر پڑ جاتا تھا۔ اصبہانی نے فرمایا کہ یہ محبت انھیں لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کسی کوشش یا لوگوں کی دوستی کے اسباب میں سے کسی سبب، مثلاً قرابت، کسی پر احسان، مروت یا خوش اخلاقی وغیرہ کے بغیر محض رحمان کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے (جن لوگوں سے وہ ملا بھی نہیں ہوتا وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہیں)۔ (بقاعی) صفت رحمان اور دلوں میں محبت پیدا کرنے کے درمیان مناسبت بالکل واضح ہے۔قرآن مجید میں اس کی مثال موسیٰ علیہ السلام کو محبوبِ خلائق بنانا ہے، فرمایا: «{ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ }» [ طٰہٰ: ۳۹ ] ”اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے عظیم محبت ڈال دی۔“ اسی طرح {”رَبُّنَا اللّٰهُ “} (ہمارا رب اللہ ہی ہے) کہہ کر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتے بشارت دیتے ہیں: «{ نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ}» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۱ ] ”ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا أَحَبَّ اللّٰهُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِيْلَ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهٗ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِيْ جِبْرِيْلُ فِيْ أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْهٗ فَيُحِبُّهٗ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوْضَعُ لَهٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللہ علیہم: ۳۲۵۹، ۷۴۸۵ ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے (اور کہتا ہے کہ) بے شک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل بھی اس سے محبت کرتا ہے اور آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم سب اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“ صحیح مسلم میں مزید یہ الفاظ ہیں: [ وَإِذَا أَبْغَضَ اللّٰهُ عَبْدًا دَعَا جِبْرَئِيْلَ فَيَقُوْلُ إِنِّيْ أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ، قَالَ: فَيُبْغِضُهُ جِبْرَئِيْلُ، ثُمَّ يُنَادِيْ فِيْ أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوْهُ، قَالَ فَيُبْغِضُوْنَهُ، ثُمَّ تُوْضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ] [مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أحب اللہ عبدا، أمر جبرئیل…: ۲۶۳۷ ] ”اور جب وہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔“ فرمایا: ”تو جبریل اس سے بغض رکھتا ہے، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کر دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے، اس لیے تم بھی اس سے بغض رکھو۔“ فرمایا: ”تو وہ اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں دلی دشمنی رکھ دی جاتی ہے۔“ واضح رہے کہ یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جہاں مسلمان انتہائی مظلومیت و کس مپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے، گویا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ عنقریب حالات بدلیں گے (لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گے) اور تم ذلیل و رسوا ہونے کے بجائے محبوبِ خلائق بن کر زندگی گزارو گے۔ چنانچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی وہ محبت پیدا ہوئی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے آپس میں محبت پیدا فرما دے گا، جو پہلے جانی دشمن تھے ایمان کے بعد دلی دوست بن جائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْۤ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ (62) وَ اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ اِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ }» [الأنفال: ۶۲، ۶۳ ] ”وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی۔ اگر تو زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتا ان کے دلوں میں الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی، بے شک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ یہ رحمان کی اس رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ مدتوں لڑنے والے اوس و خزرج بھائی بھائی بن گئے، حبش کے بلال، روم کے صہیب، ایران کے سلمان، مدینہ کے انصار اور مکہ کے قریش آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور {” اِنَّمَا الْمُوْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ “} کا عملی نقشہ دنیا کے سامنے آ گیا۔ اگر ان کی کوئی باہمی رنجش رہ بھی گئی تو اللہ تعالیٰ نے جنت میں جانے سے پہلے اسے دور کرنے کا وعدہ فرمایا۔ دیکھیے سورۂ حجر (۴۷) جیسا کہ اوپر گزرا، یہ محبت ایمان داروں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے، کفار کے دلوں میں نہیں، اس کی مثال ثمامہ بن اثال اور ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنھما ہیں جنھوں نے شہادت دی کہ اسلام لانے سے پہلے ان کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مبغوض کوئی نہ تھا، لیکن پھر ایمان لانے کے بعد آپ سے بڑھ کر محبوب کوئی نہ تھا۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ {” وُدًّا “} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، محبوب چیز، یعنی ایمان اور عمل صالح والے جو چیز محبوب رکھیں گے، پسند کریں گے رحمان جنت میں انھیں وہی عطا فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۱ ] ”اور تمھارے لیے اس (جنت) میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔“ یہ معنی ابومسلم نے بیان فرمایا ہے۔ (قاسمی)
پس اے محمدؐ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت ہی آسان کر دیا ہے کہ تو اس کے ذریعہ سے پرہیزگاروں کو خوشخبری دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے (رسول(ص)) ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں آسان کر دیا ہے تاکہ آپ پرہیزگاروں کو خوشخبری سنائیں اور جھگڑالو قوم کو ڈرائیں۔
عبدالسلام بن محمد
سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭
فرمان ہے کہ ’ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ’ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ ‘۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ’ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ ‘، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3209]
مسند احمد میں ہے کہ { جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ’ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں ‘۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/5:حسن] یہ حدیث غریب ہے۔ ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ { محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2637] پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔“ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
’ ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے ‘، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ ’ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی ‘۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔
97۔ 1 قرآن کو آسان کرنے کا مطلب اس زبان میں اتارنا ہے جس کو پیغمبر جانتا تھا یعنی عربی زبان میں، پھر اس کے مضمون کا کھلا ہونا، واضح اور صاف ہونا۔ 97۔ 2 لُدَّا (أَلَدُّ کی جمع) کے معنی جھگڑا لو کے ہیں مراد کفار و مشرکین ہیں۔
(آیت 97) {فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ …:} یہ ساری سورت بلکہ پورا قرآن متقین کو خوش خبری اور منکرین کو ڈرانے کے لیے ہے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والوں کی تردید اور ان کا انجام بد مذکور ہے اور ایمان اور عمل صالح والوں کو حصول محبت کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے قرآن مجید میں تین خوبیاں رکھنے کا ذکر فرمایا، تاکہ بشارت و نذارت بہترین طریقے سے ہو سکے۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آسان کر دیا ہے اور اللہ کی آسان کی ہوئی چیز سے زیادہ آسان کیا چیز ہو گی۔ دیکھیے سورۂ قمر (۱۷) دوسری یہ کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ”عربی“ میں اتارا جس سے زیادہ بات واضح کرنے کی خوبی کسی زبان میں نہیں اور جس کے اولین مخاطب یہ زبان بولنے والے تھے، جو اس زبان کے باریک سے باریک اشاروں کو بھی سمجھتے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۹۲ تا ۱۹۵)، یوسف (۱، ۲)، زخرف (۱ تا ۳) اور نحل (۱۰۳)۔ تیسری یہ کہ اس کے ساتھ خوش خبری دینے اور ڈرانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دے کر بھیجا گیا جو خود اہل عرب سے تھے، تاکہ وہ اسے پڑھ کر سنائیں اور عمل کر کے دکھائیں۔ دیکھیے سورۂ نحل(۴۴) پہلی خوبی لفظ {” يَسَّرْنٰهُ “} میں، دوسری {” بِلِسَانِكَ “} میں اور تیسری {” تُنْذِرَ بِهٖ “} اور {” تُنْذِرَ بِهٖ “} کے صیغہ خطاب میں بیان ہوئی ہے۔ {” لُّدًّا “” أَلَدُّ “} کی جمع ہے، سخت جھگڑالو اور ضدی شخص، جو کسی طرح حق بات کو نہ مانے۔ اس سے مراد قریش اور دوسرے معاند کفار ہیں۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۵۷، ۵۸)۔
ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دی ہیں، کیا ان میں سے ایک کی بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کی ہیں کیا آپ ان میں سے کسی کو بھی محسوس کرتے ہیں یا ان کی کوئی بھنک بھی سنتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کر دیا، کیا تو ان میں سے کسی ایک کو محسوس کرتا ہے، یا ان کی کوئی بھنک سنتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭
فرمان ہے کہ ’ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے ‘۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ’ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ ‘۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ’ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ ‘، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3209]
مسند احمد میں ہے کہ { جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ’ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں ‘۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/5:حسن] یہ حدیث غریب ہے۔ ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ { محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2637] پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔“ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
’ ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے ‘، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ ’ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی ‘۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔
98۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حس کے ذریعے سے معلومات حاصل کرنا۔ یعنی کیا تو ان کو آنکھوں سے دیکھ سکتا یا ہاتھوں سے چھو سکتا ہے؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ان کا وجود ہی دنیا میں نہیں ہے کہ تو انھیں دیکھ یا چھو سکے یا دیکھ سکے یا اس کی ہلکی سی آواز ہی تجھے کہیں سے سنائی دے سکے۔ حضرت عمر ؓ کے قبول اسلام کے متعدد اسباب بیان کئے گئے ہیں۔ بیض تاریخ وسیر کی روایتات میں اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر میں سورة طہ کا سننا اور اس سے مثاثر ہونا بھی مذکور ہے۔ (فتح القدیر)
(آیت 98){وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ …:} یہاں گزشتہ آیت میں مذکور سخت جھگڑالو قوم کو ان سے پہلی سخت جھگڑالو قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرکے ڈرایا گیا ہے کہ ہم نے ان سے پہلے ایسی کتنی ہی سخت ضدی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ غور سے دیکھو! ان میں سے کوئی تمھیں کہیں کھٹکتا ہے، یا اس کی بھنک ہی کان میں پڑتی ہے؟ یہی حال اس زمانے کے کافروں کا ہونے والا ہے۔