بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 84
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 84
آیت نمبر: 84 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمۡ عَدًّا ﴿ۚ۸۴﴾
اچھا، تو اب اِن پر نزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو ہم اِن کے دن گن رہے ہیں
تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر، ہم تو خود ہی ان کے لئے مدت شماری کر رہے ہیں
تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں
آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو اچھی طرح ان کے دن گن رہے ہیں۔
پس تو ان پر جلدی نہ کر، ہم تو بس ان کے لیے گن رہے ہیں، اچھی طرح گننا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کے سوا معبود ٭٭

کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی و مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے۔ ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا، «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5،6] ‏‏‏‏ ’ ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں، ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ‘۔ «كَلَّا» کی دوسری قرأت «کُلٌ» بھی ہے۔ خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر، یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو جائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہو گی۔ معبود عابدوں کے لیے اور عابد معبودوں کے لیے بلائے بیدرماں حسرت بے پایاں ہو جائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے رہتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] ‏‏‏‏ ’ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہو جاتے ہیں ‘۔ ’ تو جلدی نہ کر، ان کے لیے کوئی بد دعا نہ کر، ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لیے جائیں گے ‘۔ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں یہ اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں، آخر سخت عذابوں کی طرف بے بس ی کے ساتھ جا پڑیں گے۔ تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال، مہینے، دن اور وقت شمار کر رہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں۔ مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

84۔ 1 اور جب وہ مہلت ختم ہوجائے گی تو عذاب الٰہی ان کیلئے ہمیشگی کے لئے بن جائیگا۔ آپ کو جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 84) ➊ { فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ:} یعنی ایسا نہ کریں کہ جس طرح وہ شیاطین کے ابھارنے سے برائیوں میں جلدی کرتے ہیں کہ آپ بھی ان پر جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگیں، بلکہ صبر اور حوصلے سے انتظار کریں اور ان پر حجت پوری ہونے دیں۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۳۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلتَّأَنِّيْ مِنَ اللّٰهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ] [ مسند أبی یعلٰی: ۴۲۵۶۔ السنن الکبرٰی للبیہقی: ۲۰۷۶۷۔ سلسلۃ الأحادیث صحیحۃ: 294/4،ح:۱۷۹۵، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اناۃ (بردباری، وقار، آہستہ روی) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ ➋ { اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا:} آدمی کے اطمینان، صبر و ثبات اور خوشی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہو سکتی کہ اس کا سب سے زیادہ قوت والا مددگار مسلسل اس کے دشمن کی نگرانی کر رہا ہو اور نہ دشمن کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز پریشان کن ہو سکتی ہے۔ فرمایا، ہم تو بس ان کو دی ہوئی مہلت کا ایک ایک سانس گن رہے ہیں اور گنی ہوئی چیز نے آخر ختم ہونا ہے، پھر یہ کسی صورت بچ نہیں سکیں گے، تو پھر جلدی کیسی؟ دیکھیے سورۂ ہود (۸) روزوں کے جلدی گزرنے کی وجہ بھی {” اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةٍ “} فرمائی۔ بعض سلف یہ آیت پڑھتے تو روتے اور کہتے کہ گنتی ختم ہونے کا نتیجہ تیری جان کا نکلنا ہے، تیرا قبر میں داخل ہونا اور تیرا اہل و عیال سے جدا ہونا ہے۔ ایک اور بزرگ نے فرمایا، ہر سانس جو تجھے زندگی بخش رہا ہے تیری زندگی کے سانسوں کی گنتی کم کرتا جا رہا ہے، پھر اس شخص کی زندگی کا کیا حال ہے جسے زندہ رکھنے والی چیز ہی اس کی زندگی کے زوال کا باعث ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے: {إِنَّ الْحَبِيْبَ مِنَ الْأَحْبَابِ مُخْتَلَسٌ لاَ يَمْنَعُ الْمَوْتَ بَوَّابٌ وَلَا حَرَسُ وَكَيْفَ يَفْرَحُ بِالدُّنْيَا وَلَذَّتِهَا فَتًي يُعَدُّ عَلَيْهِ اللَّفْظُ وَالنَّفَسُ} ”ہر دوست اپنے دوستوں سے اچانک چھین لیا جانے والا ہے۔ موت کو کوئی دربان روک سکتا ہے نہ کوئی پہرے دار۔ دنیا اور اس کی لذت کے ساتھ کیسے خوش ہو سکتا ہے وہ جوان جس کا ایک ایک لفظ اور سانس گنا جا رہا ہو۔“ (روح المعانی)
← پچھلی آیت (83) پوری سورۃ اگلی آیت (85) →