اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379] رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“ «الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
تفسیر احسن البیان
کہیعص
{سورة مريم} (آیت 1){ كٓهٰيٰعٓصٓ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی
احمد رضا خان بریلوی
یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول (ص)) آپ کے پروردگار نے اپنے (خاص) بندے زکریا(ع) پر جو (خاص) رحمت کی تھی یہ اس کا تذکرہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا اور قبولیت ٭٭
اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379] رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“ «الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
2۔ 1 حضرت زکر یا علیہ السلام، انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ یہ بڑھئی تھے اور یہی پیشہ ان کا ذریعہ آمدنی تھا (صحیح مسلم)
(آیت 2) ➊ { ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا:} یہاں {”هٰذَا“} محذوف ہے، یعنی یہ تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ رحمت سے مراد یہاں زکریا علیہ السلام کی دعا قبول کرنا اور انھیں سخت بڑھاپے اور بیوی بانجھ ہونے کے باوجود یحییٰ علیہ السلام جیسا عظیم مرتبے والا بیٹا عطا فرمانا ہے۔ ➋ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَ زَكَرِيَّاءُ نَجَّارًا ] [ مسلم، الفضائل، باب من فضائل زکریا علیہ السلام: ۲۳۷۹ ] ”زکریا علیہ السلام نجار (ترکھان) تھے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ داؤد علیہ السلام کی طرح اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَّأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَ إِنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ] [ بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ: ۲۰۷۲، عن المقدام رضی اللہ عنہ ] ”کسی شخص نے کبھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر نہیں کھایا اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔“
اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379] رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“ «الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
3۔ 1 خفیہ دعا اس لئے کی کہ ایک تو یہ اللہ کو زیادہ پسند ہے کیونکہ اس میں تضرع وانابت اور خشوع وخضوع زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ انھیں بیوقوف نہ قرار دیں کہ یہ بڈھا اب بڑھاپے میں اولاد مانگ رہا ہے جب کہ اولاد کے تمام ظاہری امکانات ختم ہوچکے ہیں۔
(آیت 3) ➊ {اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا:} اس آیت میں اس جگہ اور وقت کا ذکر نہیں جب ان کے دل میں اس دعا کا داعیہ پیدا ہوا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۳۷، ۳۸)۔ ➋ { نِدَآءً خَفِيًّا:} چھپی آواز سے آہستہ آواز بھی مراد ہو سکتی ہے اور لوگوں سے الگ جگہ میں دعا بھی۔ اس کی وجہ بعض اہلِ علم نے یہ لکھی ہے کہ بڑھاپے میں بیٹا مانگنا لوگوں کی ہنسی کا باعث ہوتا، پھر اگر نہ ملتا تو لوگ مزید ہنستے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ خفیہ دعا ریا کا امکان نہ ہونے کی وجہ سے افضل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً }» [ الأعراف: ۵۵ ] ”اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو۔“ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز کو قرار دیا۔ [ مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم: ۱۱۶۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] اور اس شخص کو عرش کا سایہ پانے والے سات خوش نصیبوں میں شمار فرمایا جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ پڑیں، حدیث کے الفاظ ہیں: [ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهٗ ] اسی طرح اس شخص کو بھی جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ کیا کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دایاں کیا خرچ کر رہا ہے، حدیث کے الفاظ ہیں: [ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهٗ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهٗ ] [ بخاري، الزکوٰۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳ ]
اُس نے عرض کیا "اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے، لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سرے سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا
علامہ محمد حسین نجفی
کہا اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر میں بڑھاپے کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ (بال سفید ہوگئے ہیں) اور میرے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہااے میرے رب! یقینا میں ہوں کہ میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سر بڑھاپے سے شعلے مارنے لگا اور اے میرے رب! میں تجھے پکارنے میں کبھی بے نصیب نہیں ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا اور قبولیت ٭٭
اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379] رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“ «الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
4۔ 1 یعنی جس طرح لکڑی آگ سے بھڑک اٹھتی ہے اسی طرح میرا سر بالوں کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے مراد ضعف وکبر (بڑھاپے) کا اظہار ہے۔ 4۔ 2 اور اسی لیے ظاہری اسباب کے فقدان کے باوجود تجھ سے اولاد مانگ رہا ہوں۔
(آیت 4) ➊ {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ وَهَنَ الْعَظْمُ …: ” الْعَظْمُ “} اگرچہ واحد ہے مگر مراد جنس ہے، یعنی میری جو ہڈی بھی ہے کمزور ہو گئی ہے۔ اگر جمع کا لفظ بولتے {” اَلْعِظَامُ “} یعنی ہڈیاں، تو اس سے ہڈیوں کا کوئی مجموعہ بھی مراد ہو سکتا تھا۔ {” اشْتَعَلَ الرَّاْسُ “} سارے سر کے بال سفید ہونے کو آگ کے شعلے مارنے سے تشبیہ دے کر آگ کا لفظ حذف کر دیا اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کو شعلے مارنے والا بنا دیا، اسے استعارہ کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں اپنی انتہائی کمزوری کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے، کیونکہ وہ کمزوروں پر زیادہ رحم فرماتا ہے۔ یہ دعا کے آداب میں سے ایک ادب ہے۔ ➋ { وَ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا: ” كَانَ “} ہمیشگی کے لیے ہوتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا، اس لیے ترجمہ ”میں کبھی بے نصیب نہیں ہوا“ کیا گیا ہے۔ اس میں اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ لطف و کرم کا واسطہ دے کر دعا کی ہے، خصوصاً اس بات کا واسطہ دے کر کہ تو نے مجھے ہمیشہ دعا قبول ہو جانے کی عادت ڈال دی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا ذکر کرکے دعا کرنا بھی دعا کے آداب میں شامل ہے، جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں عرض مطلب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا }» [ الأعراف: ۱۸۰ ] ”اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو۔“
مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے، اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے، میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما
احمد رضا خان بریلوی
اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں اپنے بعد بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں۔ اور میری بیوی بانجھ ہے سو تو ہی مجھے (خاص) اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک میں اپنے پیچھے قرابت داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی شروع سے بانجھ ہے، سو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا اور قبولیت ٭٭
اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379] رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“ «الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
5۔ 1 اس ڈر سے مراد یہ ہے کہ اگر میرا کوئی وارث میری مسند وعظ وارشاد نہیں سنبھالے گا تو میرے قرابت داروں میں اور تو کوئی اس مسند کا اہل نہیں ہے۔ میرے قرابت دار بھی تیرے راستے سے گریز و انحراف نہ اختیار کرلیں۔ 5۔ 2 ' اپنے پاس سے ' کا مطلب یہی ہے کہ گو ظاہری اسباب اس کے ختم ہوچکے ہیں، لیکن تو اپنے فضل خاص سے مجھے اولاد سے نواز دے۔
(آیت 5) ➊ {وَ اِنِّيْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَآءِيْ …:” الْمَوَالِيَ “ ”مَوْلٰي“} کی جمع ہے۔ یہاں مراد قریبی رشتے دار اور چچوں کے بیٹے ہیں جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے ان میں سے کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس لائق ہو کہ میرے مرنے کے بعد بنی اسرائیل کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکے اور میرا اور آل یعقوب کا علمی و عملی وارث بن سکے، جس سے تیرے دین پر عمل اور اس کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہ سکے، بلکہ مجھے ان سے خطرہ ہے کہ وہ دین کو بگاڑیں گے اور اپنی من مانیاں کریں گے، جیسا کہ سورۂ اعراف (۱۶۹) میں بنی اسرائیل میں سے کتاب کے وارث بننے والے بعض لوگوں کا حال ذکر ہوا ہے۔ ➋ بعض لوگ اس آیت کو انبیاء کی دنیاوی جائداد کی وراثت کی دلیل بناتے ہیں، حالانکہ ان آیات ہی میں اس کا رد موجود ہے، کیونکہ زکریا علیہ السلام ایسے وارث کی دعا کر رہے ہیں جو ان کا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ ظاہر ہے کہ اولاد تو اپنے باپ کی دنیوی جائداد کی وارث ہوتی ہے، پورے خاندان اور قوم کی وارث نہیں ہوتی، اس لیے یہاں علمی ورثہ ہی مراد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ] [ بخاري،، فرض الخمس، باب فرض الخمس: ۳۰۹۳، عن أبي بکر رضی اللہ عنہ ] ”ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ جو لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو فدک اور دوسری جائدادوں میں سے ورثہ نہیں دیا انھیں سوچنا چاہیے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو اور اپنی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنھا اور دوسری ازواج مطہرات کو بھی تو حصہ نہیں دیا اور دلیل کے طور پر یہ (مذکورہ بالا) حدیث پڑھی۔ پھر اگر انھوں نے حصہ نہیں دیا تو علی رضی اللہ عنہ ہی اپنی خلافت میں عباس اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم کو اور امہات المومنین کو وہ حصہ دے کر اپنے فرض سے سبک دوش ہو جاتے، مگر ان کا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر کار بند رہنا اس حدیث کی عملی تائید و تصدیق ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۱۶)۔ ➌ { وَ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا: ” عَاقِرًا “} وہ ہے جس کے ہاں اولاد نہ ہوتی ہو۔ یہ لفظ مرد اور عورت دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ {” كَانَتْ “} کا لفظ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے، اس لیے ترجمہ ”شروع سے بانجھ ہے“ کیا گیا ہے۔ اتنے الحاح و اصرار سے اپنی ضرورت بیان کرنے کے بعد اپنی صلب سے وارث عطا کرنے کی دعا کی، جو ان کی اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت، علم اور اوصاف حمیدہ کا وارث بنے۔
جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا"
مولانا محمد جوناگڑھی
جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بنده بنا لے
احمد رضا خان بریلوی
وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر
علامہ محمد حسین نجفی
جو میرا بھی وارث بنے اور آل یعقوب کا بھی اور اے میرے پروردگار! تو اسے پسندیدہ بنا۔
عبدالسلام بن محمد
جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! اسے پسند کیا ہوا بنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا اور قبولیت ٭٭
اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2379] رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔
بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ’ لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں ‘۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔“ «الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ’ میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ‘۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ’ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ‘۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3094] ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ’ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ‘۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، { ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے }۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔
عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6) ➊ {وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا: ” رَضِيًّا “ ”فَعِيْلٌ“} بمعنی {”مَفْعُوْلٌ“} ہے، مطلب پسند کیا ہوا، یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں سب کا پسندیدہ ہو۔ اللہ جسے پسند کرلے لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا أَحَبَّ اللّٰهُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِيْلَ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهٗ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِيْ جِبْرِيْلُ فِيْ أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْهٗ فَيُحِبُّهٗ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوْضَعُ لَهٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ ] [ بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیہم: ۳۲۰۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتے ہیں، سو تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“ ➋ زکریا علیہ السلام کی بیٹے کے لیے دعا ایک تو یہاں آئی ہے، ایک سورۂ آل عمران (۳۸) میں اور ایک سورۂ انبیاء (۸۹) میں۔ تینوں جگہ ہی الفاظ معانی کا خزینہ اور موتیوں کا نگینہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور بانجھ اور بوڑھی بیوی کو اولاد کے قابل بنا کر یحییٰ علیہ السلام عطا فرما دیے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۹۰)۔
(جواب دیا گیا) "اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰؑ ہو گا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحيٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا
احمد رضا خان بریلوی
اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
(ارشاد ہوا) اے زکریا! ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ جس کا نام یحییٰ ہوگا جس کا اس سے پہلے ہم نے کوئی ہمنام نہیں بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اے زکریا! بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں، جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا قبول ہوئی ٭٭
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ’ آپ علیہ السلام ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:38-39] ’ زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس سے بہترین اولاد عطا فرما، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔“ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں نماز میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہو گا اور پاکباز ہو گا اور نبی ہوگا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہو گا ‘۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہو گا، یہی معنی «سَمِيًّا» کے آیت «هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا» ۱؎ [19-مريم:65] میں ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی۔ زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بے اولاد تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بے حد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بے اولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا، یہ تعجب کی وجہ تھی اور زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی ہی نہ تھی۔ اس لیے خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَىٰ أَن مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ» [15-الحجر:54] ’ مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو؟ ‘ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے بھی اس خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72،73] ’ اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہو گی؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا تھا کہ کیا تمہیں امر الٰہی سے تعجب ہے؟ اے ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے والو! تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں۔ اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے ‘۔
7۔ 1 اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دعا قبول فرمائی بلکہ اس کا نام بھی تجویز فرما دیا
(آیت 7) ➊ {يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ اسْمُهٗ يَحْيٰى …:} یہ بشارت دوران نماز ہی فرشتوں کے ذریعے سے مل گئی تھی۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۳۹) اس میں یحییٰ علیہ السلام کی فضیلت دو پہلوؤں سے بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا، دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔ عربی زبان میں {” يَحْيٰى “} کا معنی ”زندہ رہے“ ہے۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش سے پہلے بھی بچے کا نام رکھا جا سکتا ہے، ساتویں دن نام رکھنے کا حکم آخری حد ہے۔
عرض کیا، "پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، جبکہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا
علامہ محمد حسین نجفی
زکریا نے (از راہ تعجب) کہا اے میرے پروردگار! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا؟ جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچا ہوا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی شروع سے بانجھ ہے اور میں تو بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ گیا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بشارت قبولیت سن کر ٭٭
حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستبعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت محض ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی، میں بوڑھا اور بے حد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا، خشک ٹہنی جیسا ہو گیا ہوں، گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے، پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہو گی؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب و خوشی دریافت کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو «عَتِیاً» پڑھتے تھے یا «عَسِیاً» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:809،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرشتے نے جواب دیا کہ ”یہ تو وعدہ ہو چکا، اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہو گا۔ اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے، جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا، وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔“ جیسے فرمان ہے «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:1] یعنی ’ یقیناً انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے، جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ‘۔
8۔ 1 عَاقِر اس عورت کو بھی کہتے ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے اولاد جننے کی صلاحیت سے محروم ہوچکی ہو اور اس کو بھی کہتے ہیں جو شروع سے ہی بانجھ ہو۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہی ہے۔ جو لکڑی سوکھ جائے، اسے عِتِیًّا کہتے ہیں۔ مراد بڑھاپے کا آخری درجہ ہے۔ جس میں ہڈیاں اکڑ جاتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میری بیوی تو جوانی سے ہی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کے آخری درجے پر پہنچ چکا ہوں، اب اولاد کیسے ممکن ہے؟ کہا جاتا ہے کہ حضرت زکریا ؑ کی اہلیہ کا نام اشاع بنت فاقود بن میل ہے یہ حضرت حنہ (والدہ مریم) کی بہن ہیں۔ لیکن زیادہ قول صحیح یہ لگتا ہے کہ اشاع بھی حضرت عمران کی دختر ہیں جو حضرت مریم کے والد تھے۔ یوں حضرت یٰحیٰی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ حدیث صحیح سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (فتح القدیر)
(آیت 8){ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ …:” عِتِيًّا “ ”عَتَا يَعْتُوْ عِتِيًّا“} بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ جانا۔ خشک لکڑی کو {”عَاتٍ“ } اور{”عَاسٍ“} کہتے ہیں، جو بھی بڑھاپے یا فساد یا کفر کی انتہا کو پہنچ جائے اسے {”عَاتٍ“} ({عَتَا يَعْتُوْ} سے اسم فاعل) کہا جاتا ہے۔(طبری) یہاں خیال پیدا ہوتا ہے کہ خود ہی دعا کی، پھر یہ پوچھنے کا کیا مطلب کہ میرے لیے لڑکا کیسے ہو گا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ زکریا علیہ السلام نے یہ سوال عام دستور کے خلاف بیٹے کی خوش خبری سن کر مزید اطمینان حاصل کرنے کے لیے غیر اختیاری طور پر کیا۔ اس کے علاوہ یہ سوال بے پناہ خوشی اور تعجب کے اظہار کی ایک شکل بھی ہو سکتا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”انوکھی چیز مانگنے پر تعجب نہ ہوا، جب سنا کہ ملے گی تب تعجب کیا۔“ (موضح) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ پوچھنا دراصل معلوم کرنے کے لیے تھا کہ بیٹا اسی بانجھ بیوی سے ہو گا یا کسی اور بیوی سے اور میرے بڑھاپے کا کیا بنے گا؟
جواب ملا "ایسا ہی ہو گا تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
ارشاد ہوا کہ وعده اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تک کچھ بھی نہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا: ایسا ہی ہوگا۔ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ مجھ پر آسان ہے اور میں نے ہی اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور یقینا میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بشارت قبولیت سن کر ٭٭
حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستبعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت محض ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی، میں بوڑھا اور بے حد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا، خشک ٹہنی جیسا ہو گیا ہوں، گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے، پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہو گی؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب و خوشی دریافت کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو «عَتِیاً» پڑھتے تھے یا «عَسِیاً» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:809،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرشتے نے جواب دیا کہ ”یہ تو وعدہ ہو چکا، اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہو گا۔ اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے، جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا، وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔“ جیسے فرمان ہے «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:1] یعنی ’ یقیناً انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے، جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ‘۔
9۔ 1 فرشتوں نے حضرت زکریا کا تعجب دور کرنے کے لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے بیٹا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے مطابق یقیناً تجھے بیٹا ملے گا، اور یہ اللہ کے لئے قطعاً مشکل کام نہیں ہے کیونکہ جب وہ تجھے نیست سے ہست کرسکتا ہے تو تجھے ظاہری اسباب سے ہٹ کر بیٹا بھی دے سکتا ہے۔
(آیت 9){ قَالَ كَذٰلِكَ …:} یعنی ایسے ہی ہے کہ تیرے بڑھاپے اور تیری اسی بیوی کے بانجھ پن کے باوجود تیرے ہاں لڑکا ہو گا، کیونکہ جس نے تجھے اس وقت پیدا کر لیا جب تو کچھ بھی نہ تھا تو اس کے لیے یہ کام تو بہت آسان ہے۔
زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے، ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر
علامہ محمد حسین نجفی
زکریا (ع) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے لئے کوئی علامت قرار دے۔ ارشاد ہوا تمہارے لئے علامت یہ ہے کہ تم تندرست ہوتے ہوئے بھی برابر تین رات (دن) تک لوگوں سے بات نہیں کر سکوگے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تندرست ہوتے ہوئے لوگوں سے تین راتیں بات نہیں کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ ٭٭
حضرت زکریا علیہ السلام اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ”اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما۔“ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لیے ظاہر فرمائی تھی «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» ۱؎ [2-البقرہ:260] تو ارشاد ہوا کہ ’ تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی ‘۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح، استغفار، حمد و ثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کر سکتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ «سَوِيًّا» کے معنی پے در پے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ «قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:41] علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ ’ تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کر سکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو ‘۔ پس ان تین دن رات میں آپ علیہ السلام کسی انسان سے کوئی بات نہیں کر سکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ علیہ السلام گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ علیہ السلام اپنے حجرے سے، جہاں جا کر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی، باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ علیہ السلام پر انعام کی تھی اور جس تسبیح و ذکر کا آپ علیہ السلام کو حکم ہوا تھا، وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔
10۔ 1 راتوں سے مراد، دن اور رات ہیں اور سَوِیاًّ کا مطلب ہے بالکل ٹھیک ٹھاک، تندرست، یعنی ایسی کوئی بیماری نہیں ہوگی جو تجھے بولنے سے روک دے۔ لیکن اس کے باوجود تیری زبان سے گفتگو نہ ہو سکے تو سمجھ لینا کہ خوشخبری کے دن قریب آگئے ہیں۔
(آیت 10) ➊ {قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْۤ اٰيَةً:} یعنی کوئی ایسی نشانی بتا دے کہ ان حالات میں ہمارے ہاں لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہو تو مجھے پہلے سے اس کا پتا چل جائے۔ ➋ { قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ …: ” سَوِيًّا “} تندرست، صحیح اعضا والا نہ گونگا نہ بہرا۔ یہاں تین راتوں کا ذکر ہے، جبکہ سورۂ آل عمران میں تین دنوں کا ذکر ہے، یعنی نشانی یہ ہے کہ تین دن رات صحیح سالم، تندرست ہوتے ہوئے تم لوگوں سے بات چیت نہ کر سکو تو سمجھ لو کہ حمل قرار پا گیا۔ لوگوں کے ساتھ کلام سے زبان بند ہو گئی تھی، اللہ کے ذکر اور تسبیح و تحمید سے نہیں۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۴۱)۔
چنانچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اب زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشاره کرتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام (خدا کی) تسبیح و تقدیس کرو۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ عبادت خانے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آیا، پس انھیں اشارے سے کہا کہ پہلے اور پچھلے پہر تسبیح کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ ٭٭
حضرت زکریا علیہ السلام اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ”اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما۔“ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لیے ظاہر فرمائی تھی «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» ۱؎ [2-البقرہ:260] تو ارشاد ہوا کہ ’ تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی ‘۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح، استغفار، حمد و ثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کر سکتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ «سَوِيًّا» کے معنی پے در پے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ «قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:41] علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ ’ تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کر سکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو ‘۔ پس ان تین دن رات میں آپ علیہ السلام کسی انسان سے کوئی بات نہیں کر سکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ علیہ السلام گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ علیہ السلام اپنے حجرے سے، جہاں جا کر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی، باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ علیہ السلام پر انعام کی تھی اور جس تسبیح و ذکر کا آپ علیہ السلام کو حکم ہوا تھا، وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔
11۔ 1 مِحْرَاب سے مراد حجرہ ہے جس میں وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ یہ حَرْب سے ہے جس کے معنی لڑائی کے ہیں۔ گویا عبادت گاہ میں اللہ کی عبادت کرنا ایسے ہے گویا وہ شیطان سے لڑ رہا ہے۔ 11۔ 2 صبح وشام اللہ کی تسبیح سے مراد عصر اور فجر کی نماز ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ دو وقتوں میں اللہ کی تسبیح و تمحید اور پاکی کا خصوصی اہتمام کرو۔
(آیت 11) ➊ {فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ: ” الْمِحْرَابِ “} نماز کی جگہ، یا وہ کمرہ جس میں وہ عبادت کیا کرتے تھے، یا مسجد، کیونکہ بنی اسرائیل کی مساجد کو {” مَحَارِيْبُ “} کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ ایسے مقامات ہیں جن میں شیطانوں سے حرب (جنگ) کی جاتی ہے۔ (طنطاوی) ➋ { فَاَوْحٰۤى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا:} یعنی حمل کی نشانی کے طور پر زبان بند ہوگئی تو اشارے سے لوگوں کو پہلے اور پچھلے پہر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا حکم دیا، کیونکہ خود انھیں علامت ظاہر ہونے پر اللہ کی طرف سے یہی حکم تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِبْكَارِ }» [ آل عمران: ۴۱ ] ”اور اپنے رب کو بہت یاد کر اور شام اور صبح تسبیح بیان کر۔“
"اے یحییٰؑ! کتاب الٰہی کو مضبوط تھام لے" ہم نے اُسے بچپن ہی میں "حکم" سے نوازا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے یحيٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی
احمد رضا خان بریلوی
اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی
علامہ محمد حسین نجفی
(جب حکم خدا کے مطابق وہ لڑکا پیدا ہوا اور بڑھا تو ہم نے کہا) اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں علم و حکمت سے نوازا۔
عبدالسلام بن محمد
اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭
بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔ نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔“ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف] یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
12۔ 1 یعنی اللہ نے حضرت زکریا ؑ کو یٰحیٰی ؑ عطا فرمایا اور جب وہ کچھ بڑا ہوا، گو ابھی بچہ ہی تھا، اس اللہ نے کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے یعنی اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ کتاب سے مراد تورات ہے یا ان پر مخصوص نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔ 12۔ 2 حُکْم سے مراد دانائی، عقل، شعور، کتاب میں درج احکام دین کی سمجھ، علم وعمل کی جامعیت یا نبوت سے مراد ہے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ حکم میں یہ ساری ہی چیزیں داخل ہوں۔
(آیت 12){ يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ …:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی وہ باتیں چھوڑ دیں جو خود ہی سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، کچھ سمجھدار ہوئے تو والد کے جانشین کے طور پر تیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ اے یحییٰ! تورات کو قوت کے ساتھ پکڑو، یعنی اسے حفظ کرو، معانی و مطالب سمجھو، اس پر عمل کرو اور اس کے احکام پوری قوت کے ساتھ اپنے آپ پر اور پوری قوم پر نافذ کرو۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں بچپن ہی میں فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرما دی اور وہ نو عمری ہی میں اپنے والد کے علم و فضل، بنی اسرائیل کی سیادت اور وحی و نبوت کے وارث بن گئے اور پوری قوت سے بنی اسرائیل کو تورات پڑھانے اور فیصلے کرنے لگے۔ والد کمزور تھے اور یہ نوجوان، سو والد کی جگہ لوگوں کو کتاب کا علم سکھانے لگے۔ اگر کوئی کہے کہ بچپن میں یہ کیسے ہو سکتا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ نبوت کا سارا معاملہ خرقِ عادت یعنی دنیا کے عام معمول، عادت اور دستور کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اس خرق عادت پر بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیزگار
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وه پرہیزگار شخص تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی طرف سے مہربانی اور ستھرائی اور کمال ڈر والا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اپنے والدین سے نیکی کرنے والا تھا وہ سرکش اور نافرمان نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی طرف سے بڑی شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭
بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔ نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔“ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف] یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
13۔ 1 حَنَانًا، شفقت، مہربانی، یعنی ہم نے اس کو والدین اوراقربا پر شفقت و مہربانی کرنے کا جذبہ اور اسے نفس کی آلائشوں اور گناہوں سے پاکیزگی و طہارت بھی عطا کی۔
(آیت 13) {وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا …: ” حَنَانًا “} کا عطف {” الْحُكْمَ “} پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوتِ فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ {” حَنَانًا “} اور {” زَكٰوةً “} پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی شفقت اور پاکیزگی“ کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ {” تَقِيًّا “ ”وَقٰي يَقِيْ“} سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔ {” مِنْ لَّدُنَّا “} اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔
اور اپنے والدین کا حق شناس تھا وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمان
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے واﻻ تھا وه سرکش اور گناه گار نہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا زبردست و نافرمان نہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے خاص اپنے پاس سے (اسے) رحمدلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ پرہیزگار تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش، نافرمان نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭
بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔ نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔“ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف] یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
14۔ 1 یعنی اپنے ماں باپ کی یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والا نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں والدین کے لئے شفقت و محبت کا اور ان کی اطاعت وخدمت اور حسن سلوک کا جذبہ اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے تو یہ اس کا خاص فضل وکرم ہے اور اس کے برعکس جذبہ یا رویہ، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل خاص سے محرومی کا نتیجہ ہے۔
(آیت 14){ وَ بَرًّۢا بِوَالِدَيْهِ …:} آرزوؤں اور امنگوں سے پیدا ہونے والی اولاد عموماً مغرور، سرکش اور نافرمان ہوتی ہے، یحییٰ علیہ السلام ایسے نہ تھے، بلکہ ماں باپ کے ساتھ بہت نیک سلوک کرنے والے تھے۔ وہ نہ سرکش تھے اور نہ اپنے والدین یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے تھے۔ ظاہر یہ ہے کہ {” عَصِيًّا “ ”عَصَي يَعْصِيْ“} سے {” فَعُوْلٌ “} کے وزن پر ہے، تعلیل کے بعد {”عَصِيًّا“} بن گیا۔ {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر بھی ہو سکتا ہے، دونوں وزن مبالغہ کے لیے ہیں۔ (شنقیطی)
سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس پر سلام ہے جس دن وه پیدا ہوا اور جس دن وه مرے اور جس دن وه زنده کرکے اٹھایا جائے
احمد رضا خان بریلوی
اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
سلام ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وفات پائے گا اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭
بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔ نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔“ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف] یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
15۔ 1 تین مواقع انسان کے لئے سخت ودہشت ناک ہوتے ہیں، 1۔ جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے، 2۔ جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے، 3۔ اور جب اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنے کو میدان محشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تینوں جگہوں میں اس کیلئے ہماری طرف سے سلامتی اور امان ہے۔ بعض اہل بدعت اس آیت سے یوم ولادت پر عید میلاد " کا جواز ثابت کرتے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے تو پھر یوم وفات پر عید وفات یا عید ممات " بھی منانی ضروری ہوئی کیونکہ جس طرح یوم ولادت کے لیے سلام ہے یوم وفات کے لیے بھی سلام ہے اگر محض لفظ " سلام " سے عید میلاد " کا اثبات ممکن ہے تو پر اسی لفظ سے " عید وفات " کا بھی اثبات ہوتا ہے لیکن کہاں وفات کی عید تو کجا سرے سے وفات وممات ہی کا انکار ہے یعنی وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے نص قرآنی کا تو انکار کرتے ہی ہیں خود اپنے استدلال کی رو سے بھی آیت کے ایک جز کو تو مانتے ہیں اور اسی آیت کے دوسرے جز سے ان ہی کے استدلال کی روشنی میں جو ثابت ہوتا ہے اس کا انکار ہے۔ (ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ) 2۔ البقرۃ:85) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟
(آیت 15) ➊ { وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ …:} یعنی ان تینوں وقتوں میں وہ ہر پریشانی سے سلامت رہیں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ جو بندے پر سلام کہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔“ (موضح) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: {” أَوْحَشُ مَا يَكُوْنُ الْخَلْقُ فِيْ ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ يَوْمَ يُوْلَدُ فَيَرَي نَفْسَهٗ خَارِجًا مِمَّا كَانَ فِيْهِ وَيَوْمَ يَمُوْتُ فَيَرَي قَوْمًا لَمْ يَكُنْ عَايَنَهُمْ وَيَوْمَ يُبْعَثُ فَيَرَي نَفْسَهٗ فِيْ مَحْشَرٍ عَظِيْمٍ قَالَ فَأَكْرَمَ اللّٰهُ فِيْهَا يَحْيَي بْنَ زَكَرِيًّا فَخَصَّهُ بِالسَّلاَمِ عَلَيْهِ “} [ طبري: ۲۳۷۵۱، بسند صحیح ] ”آدمی سب سے زیادہ خوف زدہ تین مواقع پر ہوتا ہے، جس دن پیدا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ سے نکلتے ہوئے دیکھتا ہے جہاں وہ تھا اور جس دن فوت ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جنھیں اس نے نہیں دیکھا تھا اور جس دن وہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے آپ کو بہت بڑے محشر (اکٹھ) میں دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں وقتوں میں یحییٰ بن زکریا علیھما السلام کو عزت بخشی اور انھیں سلامت رکھنے کی خاص نعمت عطا فرمائی۔“ ➋ یحییٰ علیہ السلام کے کچھ اوصافِ حمیدہ اس سے پہلے سورۂ آل عمران (۳۹) میں گزر چکے ہیں۔
اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وه اپنے گھر کے لوگوں سے علیحده ہو کر مشرقی جانب آئیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے۔ جب کہ وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہوکر ایک مشرقی مکان میں گئیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتاب میں مریم کا ذکر کر، جب وہ اپنے گھروالوں سے ایک جگہ میں الگ ہوئی جو مشرق کی جانب تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭
اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔
حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔ آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭
جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:193،194] میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔
یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟ «بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ { «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2337] فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔“ آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔
پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:45،46] ’ فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ‘۔
مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ‘۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [66-التحریم:12] ’ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی ‘۔ اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [21-الأنبياء:91] ’ وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی ‘۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ { وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مَرْيَمَ:} زکریا اور مریم علیھما السلام کے واقعات میں مناسبت کی وجہ سے ان کا ذکر سورۂ آل عمران (۳۵ تا ۴۰)، سورۂ انبیاء (۳۹ تا ۴۱) اور یہاں اکٹھا آیا ہے، کیونکہ ان میں کئی طرح سے مناسبت ہے۔ مریم علیھا السلام کی کرامت بے موسم پھل دیکھ کر زکریا علیہ السلام کے دل میں بے وقت اولاد کی خواہش اور امید پیدا ہوئی۔ پھر زکریا علیہ السلام کو خلاف عادت بیٹا عطا ہوا اور مریم علیھا السلام کے ہاں ان سے بھی بڑھ کر خلاف عادت بیٹا پیدا ہوا۔ دونوں قصے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی دلیل ہیں۔ ➋ { اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا: ”نَبَذَ“} کا معنی پھینکنا ہے۔ {” انْتَبَذَتْ “} الگ ہوئی، یعنی بالکل الگ ہو گئی، گویا اس نے اپنے آپ کو گھر والوں سے دور پھینک دیا۔ یاد رہے کہ مریم علیھا السلام کو ان کی والدہ نے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا اور وہ اپنے بہنوئی زکریا علیہ السلام کی کفالت میں وہاں مصروف عبادت رہتی تھیں۔ حدیثِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یحییٰ اور عیسیٰ علیھما السلام کو خالہ زاد بھائی فرمایا۔ مریم علیھا السلام کی نیکی، پاکیزگی اور شرافت ضرب المثل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيْرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ تعالٰی: «وضرب اللّٰہ مثلا …» : ۳۴۱۱۔ مسلم:۲۴۳۱ ] ”مردوں میں بہت سے کامل ہوئے ہیں اور عورتوں میں سے کامل نہیں ہوئیں مگر فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اس طرح ہے جیسے ثرید (گوشت کے سالن میں بھگوئی ہوئی روٹی) کی فضیلت تمام کھانوں پر۔“ علیحدہ ہونے کا مطلب بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ایام آنے کی وجہ سے الگ ہوئیں اور بعض نے فرمایا کہ عبادت کے لیے مکمل تنہائی کی خاطر الگ ہوئیں، بظاہر ان دونوں میں سے کوئی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وجہ بیان نہیں فرمائی۔ اصل حقیقت وہی بہتر جانتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ نصاریٰ نے مشرق کو اسی لیے قبلہ بنا لیا کہ مریم علیھا السلام کے ہاں مسیح علیہ السلام کی پیدائش بیت المقدس کی مشرقی جانب میں ہوئی۔ [ طبري و صححہ ابن بشیر: ۲۳۷۵۷ ]
اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں کی طرف سے پرده کر لیا، پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وه اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ﻇاہر ہوا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سے ادھر ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس نے ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا پس ہم نے اس کی طرف اپنی جانب سے روح (یعنی فرشتہ) کو بھیجا تو وہ اس کے سامنے ایک تندرست انسان کی صورت میں نمودار ہوا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس نے ان کی طرف سے ایک پردہ بنالیا تو ہم نے اس کی طرف اپنا خاص فرشتہ بھیجا تو اس نے اس کے لیے ایک پورے انسان کی شکل اختیار کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭
اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔
حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔ آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭
جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:193،194] میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔
یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟ «بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ { «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2337] فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔“ آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔
پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:45،46] ’ فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ‘۔
مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ‘۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [66-التحریم:12] ’ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی ‘۔ اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [21-الأنبياء:91] ’ وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی ‘۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
17۔ 1 یہ علیحدگی اور حجاب (پردہ) اللہ کی عبادت کی غرض سے تھا تاکہ انھیں کوئی نہ دیکھے اور یکسوئی حاصل رہے یا طہارت حیض کے لئے۔ اور مشرقی مکان سے مراد بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ 17۔ 2 رُوْح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، جنہیں کامل انسانی شکل میں حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ ایک شخص بےدھڑک اندر آگیا ہے تو ڈر گئیں کہ یہ بری نیت سے نہ آیا ہو۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا میں وہ نہیں ہوں جو تو گمان کر رہی ہے بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں اور یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے لڑکا عطا فرمائے گا، بعض قرائتوں میں لِیَھَبَ صیغہ غائب ہے۔ متکلم کا صیغہ (جو موجودہ قراءت میں ہے) اس لئے بولا کہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے باذن اللہ ان کو حمل ٹھہر گیا تھا۔ اس لئے ہبہ کا تناسب اپنی طرف منسوب کرلیا۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کا قول ہو اور یہاں حکایتًا نقل ہوا ہو۔ اس اعتبار سے تقدیر کلام یوں ہوگی۔ (اَ رْسَلَنِیْ، یَقُولُ لَکَ اَرْسَلٰتُ رَسُوْلِیْ اِلَیْکِ الأھَبَ لَکِ) ' یعنی اللہ نے مجھے تیرے لئے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میں نے تیری طرف اپنا قاصد یہ بتلانے کے لئے بھیجا ہے کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ عطا کروں گا ' اس طرح حذف اور تقدیر کلام قرآن میں کئی جگہ ہے۔
(آیت 17) ➊ {فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا:} ایام سے فارغ ہونے پر غسل کے لیے پردہ تان لیا، یا عبادت میں مکمل تنہائی کے لیے۔ ➋ { فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَيْهَا رُوْحَنَا:} روح سے مراد یہاں جبریل علیہ السلام ہیں، جیسا کہ سورۂ شعراء (۱۹۳) اور سورۂ قدر (۴) میں انھی کے متعلق روح کا لفظ آیا ہے۔ اگرچہ ہر روح کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر جبریل علیہ السلام کو خاص طور پر اپنا قرار دینے میں ان کی شان کی بلندی کا اظہار ہے، جیسا کہ ہر گھر اور ہر اونٹنی اللہ کی ملکیت ہے، مگر بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کی شان انوکھی ہے۔ اس لیے {” رُوْحَنَا “} کا ترجمہ ”اپنا خاص فرشتہ“ کیا ہے۔ ➌ {فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا: ” سَوِيًّا “} پورے اعضا والا تندرست (انسان)۔ جبریل علیہ السلام انسان کی شکل میں اس لیے آئے کہ مریم علیھا السلام کے لیے انھیں ان کی اصل صورت میں دیکھنا شدید خوف کا باعث یا ناقابل برداشت ہوتا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زندگی میں جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں صرف دو بار دیکھا ہے۔ دیکھیے سورۂ نجم (۵ تا ۱۸) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کے حکم سے اپنی شکل بدل سکتے ہیں۔
مریم یکایک بول اٹھی کہ"اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناه مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
مریم نے (گھبرا کر) کہا کہ اگر تو پرہیزگار آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا بے شک میں تجھ سے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تو کوئی ڈر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭
اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔
حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔ آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭
جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:193،194] میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔
یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟ «بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ { «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2337] فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔“ آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔
پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:45،46] ’ فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ‘۔
مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ‘۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [66-التحریم:12] ’ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی ‘۔ اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [21-الأنبياء:91] ’ وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی ‘۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18){ قَالَتْ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ …:} تنہائی میں ایک کامل حسین و جوان مرد کو دیکھ کر مریم علیھا السلام سخت گھبرا گئیں کہ کہیں اس کی نیت بری نہ ہو۔ اس لیے بچاؤ کا کوئی اقدام کرنے سے پہلے اس ذات کی پناہ پکڑی جس کے رحم کی کوئی حد نہیں، تاکہ وہ اپنی بندی پر رحم فرما کر اس کی عصمت محفوظ رکھے۔ ساتھ ہی اس مرد کو اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تجھ میں اللہ تعالیٰ کا ذرا برابر بھی ڈر ہے تو میں تجھ سے رحمان کی پناہ پکڑتی ہوں۔{ ” تَقِيًّا “} کو نکرہ لانے سے یہ مفہوم پیدا ہوا کہ اگر تجھ میں کسی بھی قسم کا اللہ کا خوف ہے، کیونکہ اللہ کا خوف انسان کو برائی سے ہٹا دیتا ہے۔
اُس نے کہا "میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزه لڑکا دینے آیا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس (فرشتہ) نے کہا میں تو تمہارے پروردگار کا فرستادہ ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭
اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔
حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔ آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭
جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:193،194] میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔
یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟ «بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ { «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2337] فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔“ آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔
پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:45،46] ’ فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ‘۔
مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ‘۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [66-التحریم:12] ’ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی ‘۔ اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [21-الأنبياء:91] ’ وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی ‘۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19){ قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ …:} جبریل علیہ السلام نے کہا کہ میں تو تیرے اسی رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں جس کی تو پناہ پکڑ رہی ہے، تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔بعض شرک کے بیمار یہاں سے کشید کرتے ہیں کہ دیکھو! جبریل بیٹا دے سکتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو لفظ {” رَسُوْلُ “ } میں ان کی غلط فہمی کا علاج موجود ہے۔ قاصد کا اپنا کچھ نہیں ہوتا، اسے جو پیغام یا جو چیز دے کر بھیجا جاتا ہے وہ اسے وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں اسے حکم ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ صاف الفاظ میں عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے کلمہ {” كُنْ “} کے ساتھ پیدا کرنے کا ذکر فرمایا، دیکھیے سورۂ آل عمران (۵۹) چونکہ وہ چیز قاصد کے ہاتھ بھیجی گئی ہوتی ہے، اس لیے بعض اوقات وہ اس کی نسبت اپنی طرف کر دیتا ہے، جیسا کہ یہاں جبریل علیہ السلام نے پاکیزہ لڑکا عطا کرنے کی نسبت اپنی طرف فرمائی، حالانکہ عطا وہ بھیجنے والے ہی کی تھی۔ مشہور سات قراء میں سے ابو عمرو بن العلاء بصری کی قراء ت {”لِيَهَبَ لَكِ“ } ہے، جس کا معنی ہے کہ میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ وہ تجھے ایک لڑکا عطا کرے۔ (ابن کثیر) جس طرح دوسرے چھ قاریوں کی قراء ت کے صحیح ہونے پر امت کا اتفاق ہے اسی طرح ابوعمرو بن العلاء بصری کی قراء ت صحیح ہونے پر بھی امت کا اتفاق ہے۔ اس قراء ت سے دوسری قراء ت کی بھی تفسیر ہو گئی کہ اصل عطا اللہ تعالیٰ کی ہے۔ رسول ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت جبریل علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے۔
مریم نے کہا "میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ میں بدکار ہوں
احمد رضا خان بریلوی
بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
مریم نے کہا میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کسی بشر نے مجھے چھوا تک نہیں ہے اور نہ ہی میں بدکردار ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ مجھے نہ کسی بشر نے چھوا ہے اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭
اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔
حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔ آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭
جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:193،194] میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔
یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟ «بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ { «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2337] فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔“ آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔
پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:45،46] ’ فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ‘۔
مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ‘۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [66-التحریم:12] ’ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی ‘۔ اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [21-الأنبياء:91] ’ وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی ‘۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20){قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ …: ” بَغِيًّا “} کا معنی زانیہ ہے، اس کی جمع {” بَغَايَا “} اور مصدر{ ” بِغَاءٌ “} ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ }» [ النور: ۳۳ ] ”اور اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔“ مریم علیھاالسلام نے کہا کہ اولاد کے لیے تو مرد اور عورت کا ملنا ضروری ہے، جبکہ مجھے نہ کسی بشر نے نکاح کے ساتھ چھوا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔ {” لَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ“} میں اگرچہ نکاح یا زنا کسی بھی طریقے سے کسی مرد کے چھونے کی نفی ہے اور یہی معنی سورۂ آل عمران (۴۷) میں مراد ہے، مگر یہاں زنا کے مقابلے میں آنے کی وجہ سے چھونے کا مطلب نکاح کے ساتھ چھونا ہے۔
فرشتے نے کہا "ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے کہا بات تو یہی ہے۔ لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وه مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت، یہ تو ایک طے شده بات ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا یونہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ٹھہرچکا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
فرشتہ نے کہا یونہی ہے (مگر) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے وہ کام میرے لئے آسان ہے۔ اور یہ اس لئے بھی ہے کہ ہم اسے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی قرار دیں اور اپنی طرف سے رحمت اور یہ ایک طے شدہ بات ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے کہا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی اور اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں اور یہ شروع سے ایک طے کیا ہوا کام ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭
اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔
حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔ آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭
جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:193،194] میں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔
یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟ «بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ { «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2337] فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔“ آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔
پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:45،46] ’ فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ‘۔
مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ‘۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [66-التحریم:12] ’ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی ‘۔ اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» ۱؎ [21-الأنبياء:91] ’ وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی ‘۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
21۔ 1 یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔ 21۔ 2 یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ ؑ کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کردینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔ 21۔ 3 اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت خاص ہے اور ان کے لئے بھی جو اس نبوت پر ایمان لائیں گے۔ 21۔ 4 یہ اسی کلام کا ضمیمہ ہے جو جبرائیل ؑ نے اللہ کی طرف سے نقل کیا ہے۔ یعنی یہ اعجازی تخلیق۔ تو اللہ کے علم اور اس کی قدرت ومشیت میں مقدر ہے۔
(آیت 21) ➊ { قَالَ كَذٰلِكِ:} جبریل علیہ السلام نے کہا، ایسے ہی ہو گاکہ نکاح یا زنا کے بغیر ہی تمھیں بیٹا عطا ہو گا۔ ➋ { قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ:} مزید کہا کہ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ کسی مرد کے بغیر تجھے بیٹا دینا میرے لیے بالکل آسان ہے۔ ➌ { وَ لِنَجْعَلَهٗۤ …:} واؤ کے بعد یہاں الفاظ محذوف ہیں، یعنی اور (ہم نے اس طرح کیا) تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی بہت بڑی نشانی اور معجزہ بنائیں کہ ہم صرف عورت سے بھی انسان پیدا کر سکتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے تین نشانیاں موجود ہیں کہ ماں باپ کے بغیر انسان (آدم علیہ السلام)، ماں کے بغیر انسان (حوا علیھا السلام) اور ماں باپ دونوں کے ساتھ انسان۔ تینوں ہماری قدرتِ کاملہ کا اظہار ہیں، اب اس سے ہماری قدرت کی چوتھی نشانی بھی پوری ہو گئی۔ چاروں میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا، انسان تو دور، ایک مکھی پیدا کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۳) اس لحاظ سے ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے۔ {وَ فِيْ كُلِّ شَيْءٍ لَهُ آيَةٌ تَدُلُّ عَلٰي أَنَّهُ وَاحِدٌ } شرک کے بیماروں کو دیکھیے، وہ مسیح علیہ السلام کا خالق جبریل علیہ السلام کو قرار دے رہے ہیں۔ [ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ عَافَانَا مِنْ بَلِیَّۃِ الْإِشْرَاکِ بِہِ وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِيَ لَوْ لَا أَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ ] ➍ {وَ رَحْمَةً مِّنَّا:} اور اسے اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں بنی اسرائیل کے لیے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے بھی، کیونکہ مسیح علیہ السلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کا حکم دیا، اس طرح وہ ان کے لیے جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا باعث بنے۔ {” اٰيَةً “ } اور {” رَحْمَةً “} میں تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ بہت بڑی نشانی اور عظیم رحمت کیا گیا ہے۔ ➎ { وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا: ” مَقْضِيًّا “ ”قَضَي يَقْضِيْ“} کا اسم مفعول ہے، جو اصل میں {”مَقْضُوْيٌ“} تھا، معنی فیصلہ کیا ہوا۔ {” كَانَ “} ہمیشگی کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”شروع سے طے کیا ہوا“ کیا ہے، یعنی یہ بات تقدیر میں طے ہو چکی ہے، کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔
مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس وه حمل سے ہو گئیں اوراسی وجہ سے وه یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں
احمد رضا خان بریلوی
اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ اس (لڑکے) کے ساتھ حاملہ ہوگئی پھر وہ اس حمل کو لئے ہوئے دور جگہ چلی گئی۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ اس (لڑکے) کے ساتھ حاملہ ہوگئی تو اسے لے کر ایک دور جگہ میں الگ چلی گئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم علیہا السلام اور جبرائیل علیہ السلام ٭٭
مروی ہے کہ جب آپ فرمان الٰہی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا۔ اب تو سخت گھبرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لاکھ اپنی برأت پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں، کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا۔ ہاں جب آپ اپنی خالہ زکریا علیہ السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کر کے کہنے لگیں، بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہو گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا، خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں۔ چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا، وہ قدرت الٰہی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا، اسی وجہ سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الٰہی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اکثر مریم رضی اللہ عنہا سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لیے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموماً زندہ نہیں رہتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ رضی اللہ عنہ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور درد زہ کا ذکر ان آیتوں میں ”ف“ کے ساتھ ہے اور ”ف“ تعقیب کے لیے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہرچیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» ۱؎ [23-المؤمنون:13،12] میں ہوا ہے۔ کہ ’ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا، پھر نطفے کو پھٹکی بنایا، پھر اس پھٹکی کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں ‘۔ یہاں بھی دو جگہ ”ف“ ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ { ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3208]
قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:63] ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے ‘۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بہت بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ ”ف“ یہاں بھی ہے۔ پس تعقیب ہرچیز کی اس چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ رضی اللہ عنہا نے حمل کا زمانہ پورا گزارا۔ مسجد میں ہی، مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن مریم کے زہد وتقویٰ، عبادت و ریاضت، خشیت الٰہی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی۔ لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے، حمل کا اظہار ہوتا گیا۔ اب تو خاموش نہ رہ سکے، ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا۔ بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے، سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایا وہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی۔ سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ بے باپ کے تھے بلکہ بے ماں کے بھی۔ ان کی تو سمجھ میں آگیا اور مریم علیہا السلام کو اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔
امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے، قوم نے پھبتیاں پھینکنی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں۔ نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب درد زہ اٹھا تو آپ ایک کھجور کے درخت کی جڑ میں آبیٹھیں۔ کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کے مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں، اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت اللحم تھا۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ { عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت اللحم تھا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منکر] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا۔ ان کے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت و اطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔ اس قدر شرم و حیاء دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے نہ ڈھونڈے نہ ذکر کرے۔ احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:101] ، کی تفسیر میں بیان کر دیا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22){فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا: ” قَصِيًّا “ ”قَصِيَ يَقْصَي قُصُوًّا“ ”رَضِيَ يَرْضَي“} کی طرح ناقص واوی {”عَلِمَ يَعْلَمُ“} سے ہے۔ {” قَصِيًّا أَيْ بَعِيْدًا “} یعنی دور۔ {” فَحَمَلَتْهُ “} جبریل علیہ السلام کے یہ کہنے اور ان میں روح پھونکنے کے بعد وہ حاملہ ہو گئیں۔ روح پھونکنے کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۹۱) اور سورۂ تحریم (۱۲) حاملہ ہونے کے بعد فطری تقاضے کے مطابق حمل کی مدت پوری کرنے کے دوران لوگوں کے طعن و ملامت سے بچنے کے لیے وہ بیت المقدس سے دور ایک مقام پر منتقل ہو گئیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے وہب کا قول ذکر کیا ہے کہ وہ بیت اللحم میں منتقل ہوئیں، جو بیت المقدس سے آٹھ میل دور تھا اور وہیں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ نصاریٰ اس میں کوئی شک نہیں کرتے۔ مگر وہب کا قول اسرائیلیات ہی سے ماخوذ ہے، نہ اس کے صحیح ہونے کا یقین ہو سکتا ہے اور نہ نصاریٰ کے کہنے کا۔ البتہ اکثر علماء کا کہنا یہی ہے۔حمل کے کتنا عرصہ بعد عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی؟ بعض مفسرین نے فرمایا کہ بس حمل ہونے کی دیر تھی کہ اس کے ساتھ ہی ولادت ہو گئی۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے نہیں آئی اور وحی الٰہی کے بغیر کسی واقعہ کے متعلق سیکڑوں برس بعد اگر کوئی شخص سنی سنائی بات بیان کرے تو خواہ وہ کتنا عظیم ہو وہ بات یقین کی ٹھنڈک نہیں پہنچا سکتی۔ اس لیے ظاہر یہی ہے کہ حمل کی عام مدت پوری ہوئی اور جمہور مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔
پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھُجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی " کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر درِد زه ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے بعد دردِ زہ اسے کھجور کے درخت کے تنا کے پاس لے گیا (اور) کہا کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بالکل نسیاً منسیاً (بھول بسری) ہوگئی ہوتی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر دردزہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، کہنے لگی اے کاش! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم علیہا السلام اور جبرائیل علیہ السلام ٭٭
مروی ہے کہ جب آپ فرمان الٰہی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا۔ اب تو سخت گھبرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لاکھ اپنی برأت پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں، کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا۔ ہاں جب آپ اپنی خالہ زکریا علیہ السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کر کے کہنے لگیں، بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہو گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا، خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں۔ چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا، وہ قدرت الٰہی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا، اسی وجہ سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الٰہی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اکثر مریم رضی اللہ عنہا سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لیے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموماً زندہ نہیں رہتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ رضی اللہ عنہ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور درد زہ کا ذکر ان آیتوں میں ”ف“ کے ساتھ ہے اور ”ف“ تعقیب کے لیے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہرچیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» ۱؎ [23-المؤمنون:13،12] میں ہوا ہے۔ کہ ’ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا، پھر نطفے کو پھٹکی بنایا، پھر اس پھٹکی کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں ‘۔ یہاں بھی دو جگہ ”ف“ ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ { ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3208]
قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ» ۱؎ [22-الحج:63] ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے ‘۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بہت بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ ”ف“ یہاں بھی ہے۔ پس تعقیب ہرچیز کی اس چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ رضی اللہ عنہا نے حمل کا زمانہ پورا گزارا۔ مسجد میں ہی، مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن مریم کے زہد وتقویٰ، عبادت و ریاضت، خشیت الٰہی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی۔ لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے، حمل کا اظہار ہوتا گیا۔ اب تو خاموش نہ رہ سکے، ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا۔ بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے، سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایا وہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی۔ سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ بے باپ کے تھے بلکہ بے ماں کے بھی۔ ان کی تو سمجھ میں آگیا اور مریم علیہا السلام کو اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔
امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے، قوم نے پھبتیاں پھینکنی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں۔ نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب درد زہ اٹھا تو آپ ایک کھجور کے درخت کی جڑ میں آبیٹھیں۔ کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کے مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں، اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت اللحم تھا۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ { عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت اللحم تھا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منکر] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا۔ ان کے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت و اطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔ اس قدر شرم و حیاء دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے نہ ڈھونڈے نہ ذکر کرے۔ احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:101] ، کی تفسیر میں بیان کر دیا ہے۔
23۔ 1 موت کی آرزو اس ڈر سے کی کہ میں بچے کے مسئلے پر لوگوں کو کس طرح مطمئن کرسکوں گی، جب کہ میری بات کی کوئی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا۔ اور یہ تصور بھی روح فرسا تھا کہ کہاں شہرت ایک عابدہ و زاہدہ کے طور پر ہے اور اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں بدکار ٹھہروں گی۔
(آیت 23) ➊ {فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ …: ” جَاءَ يَجِيْئُ مَجِيْئًا “} کا معنی ہے آنا اور{” أَجَاءَ يُجِيْئُ “} (افعال) کا معنی ہے لانا، مگر اس کے مفہوم میں مجبور کرکے لانا پایا جاتا ہے۔ (زمخشری){ ” الْمَخَاضُ “} عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد، یعنی درد زِہ۔ {” مَخِضَتِ الْمَرْأَةُ “} (ع) جب عورت کے ہاں پیدائش کا وقت قریب ہو۔ یہ {”مَخْضٌ“ } سے ماخوذ ہے، جس کا معنی شدید حرکت ہے اور یہ نام رکھنے کی وجہ ولادت کے قریب ماں کے پیٹ میں بچے کا شدت سے حرکت کرنا ہے۔ یعنی درد زِہ کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور آنے والے وقت کا تصور کرکے، جب ہر طرف سے برائی کی تہمت لگے گی، طعنے ملیں گے، گزشتہ زندگی کی ساری نیکی، پاک بازی اور شرافت کا خاکہ اڑایا جائے گا، کہنے لگیں کہ اے کاش! میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور کسی کو یاد ہی نہ ہوتا کہ کوئی مریم بھی تھی۔ ➋ یہ آیت دلیل ہے کہ دین میں فتنے کے وقت موت کی تمنا جائز ہے۔ حدیث میں کسی تکلیف مثلاً مرض یا فقر وغیرہ کی وجہ سے موت کی تمنا سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے پہنچے، ہر گز نہ کرے، اگر اسے ضرور ہی کرنی ہے تو یوں کہے: [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِّيْ وَتَوَفَّنِيْ إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّيْ ] ”اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہو اور مجھے فوت کر لے جب وفات میرے لیے بہتر ہو۔“ [ بخاری، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۱ ]
فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا "غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزرده خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایک منادی نے اس کے نیچے سے آواز دی کہ (اے مریم) رنجیدہ نہ ہو۔ تیرے پروردگار نے تیرے نیچے ایک چھوٹی سی نہر جاری کر دی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے اسے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، بے شک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی (جاری) کر دی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭
«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ { بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف] ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے، { کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،] یہ حدیث بالکل منکر ہے۔ «تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ‘۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ ”آپ گھبرائیں نہیں“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں ”نسیا منسیا“ ہو گئی ہوتی۔ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، ”اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24){فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ …: ” سَرِيًّا “ ”سَرَي يَسْرِيْ “} (ض) (چلنا) سے ہو تو معنی ہے ندی، کیونکہ اس میں پانی چلتا ہے اور {”سَرُوَ يَسْرُوْ“} ({شَرُفَ يَشْرُفُ}) سے ہو تو معنی ہے سردار۔ مریم علیھا السلام کو ان کے نیچے سے کس نے آواز دی؟ اس کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کے طعن و ملامت کے وقت ہی بات کی تھی۔ طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہ بات نقل فرمائی ہے کہ یہ جبریل تھے اور عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کے پاس لے جانے سے پہلے کلام نہیں کیا۔ مگر یہ روایت عوفی کے طریق سے ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سعید بن جبیر، ضحاک، عمرو بن میمون اور قتادہ کا کہنا بھی یہی ہے کہ انھیں نیچے سے جبریل علیہ السلام نے آواز دی تھی اور ان کے نیچے ایک ندی چلنے کی بشارت دی تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ انھیں ان کے نیچے سے عیسیٰ علیہ السلام نے آواز دی تھی۔ ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ اس کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو ضمیر قریب ترین مرجع کی طرف لوٹتی ہے اور یہاں اس سے پہلے قریب ترین ذکر عیسیٰ علیہ السلام کا ہے، یعنی {” فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ “} اور اگر جبریل علیہ السلام نے آواز دی ہوتی تو ان کا نام آنا تھا۔ دوسری یہ کہ اس وقت مریم علیھا السلام کا حوصلہ مضبوط کرنے کی ضرورت تھی اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اس وقت بولنا ایک معجزہ تھا، جس سے انھیں اطمینان حاصل ہوا۔ تیسری یہ کہ قوم کے پاس جانے سے پہلے ان کے کلام کرنے سے مریم علیھا السلام کو یقین ہو جائے کہ قوم کے لوگوں کی ملامت کے وقت بھی یہ بول کر ان کی تسلی کر دیں گے۔ بظاہر ابن جریر کی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ (واللہ اعلم)
اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تروتازه پکی کھجوریں گرا دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی
علامہ محمد حسین نجفی
اور کھجور کے تنا کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا۔ وہ تم پر تر و تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭
«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ { بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف] ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے، { کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،] یہ حدیث بالکل منکر ہے۔ «تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ‘۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ ”آپ گھبرائیں نہیں“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں ”نسیا منسیا“ ہو گئی ہوتی۔ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، ”اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔“
25۔ 1 سَرِبّاَ چھوٹی نہر یا پانی کا چشمہ۔ یعنی بطور کرامت اور خلاف قانون قدرت، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے پاؤں تلے پینے کے لئے پانی کا اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے درخت میں پکی ہوئے تازہ کھجوروں کا انتطام کردیا۔ آواز دینے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے، جنہوں نے وادی کے نیچے سے آواز دی اور کہا جاتا ہے کہ سَرِیّ بمعنی سردار ہے اور اس سے مراد عیسیٰ ؑ ہیں اور انہی نے حضرت مریم کو نیچے سے آواز دی تھی۔
(آیت 26،25) ➊ {وَ هُزِّيْۤ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ …: ” قَرِّيْ عَيْنًا “} مشہور نحوی فراء نے فرمایا کہ قریش اور ان کے آس پاس کے لوگ {” قَرَّ يَقَرُّ “} (قاف کے فتحہ کے ساتھ) کہتے ہیں اور قیس، تمیم اور اہل نجد {”قَرَّ يَقِرُّ“ } (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ پہلی صورت میں {” قَرِّيْ “} قاف کے فتحہ کے ساتھ ہو گا جو مشہور قراء ت ہے، دوسری صورت میں قاف کے کسرہ کے ساتھ {”قِرِّيْ“} ہو گا جو شاذ قراء ت ہے۔ مصدر {” قُرَّةٌ وَ قُرُوْرٌ“} ہے، ٹھنڈا ہونا۔ (بقاعی) تنہائی، بھوک، پیاس، ولادت کی تکلیف، ولادت کے بعد کی کمزوری اور بدنامی کے خوف میں سے ہر چیز کا اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بہترین علاج فرما دیا۔ ایک کمزور خاتون جو ابھی ولادت کے جان شکن مرحلے سے نکلی ہو کھجور کے تنے کو کس قدر حرکت دے سکتی ہے؟ مگر فرمایا کہ اسے حرکت دو، وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں تم پر گرائے گی۔ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ وہ کھجوروں کے پھل دینے کا وقت نہ تھا۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو، کیونکہ مریم علیھا السلام کو ان کے کمرے میں بے موسم رزق ملتا تھا، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۳۷) لیکن اگر کھجوروں کے پھل کا موسم بھی مانا جائے تو کوئی جوان اور مضبوط آدمی کھجور کا تنا ہلا کر دیکھ لے کہ کتنی کھجوریں گرتی ہیں؟ ولادت کی کمزوری کے لیے تمام اطباء تازہ پکی ہوئی کھجور کے مفید ہونے پر متفق ہیں۔ پینے کے لیے ان کے نیچے رب تعالیٰ نے ندی جاری فرما دی۔ تنہائی اور پریشانی کے علاج کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک، خوبصورت اور عظیم المرتبت بیٹا عطا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی تمام عنایات عام عادت کے خلاف معجزانہ طور پر ہوئیں۔ رہی آئندہ کی ملامت جو قوم کے پاس جانے کی صورت میں پیش آنے والی تھی، اس کا علاج یہ بتایا گیا کہ اگر کسی بھی وقت کوئی آدمی دیکھو تو اسے اشارے سے کہہ دو کہ میں نے رحمان کی خاطر روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے میں کسی انسان سے کسی صورت بات نہیں کروں گی۔ کسی بھی وقت کسی انسان کو دیکھنے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کے دوران وہ تنہا رہیں۔ ➋ { اِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا:} چونکہ شادی کے بغیر بچہ پیدا ہونے پر ملامت کرنے والوں کا کسی طرح کی صفائی دینے سے بھی مطمئن ہونا ممکن نہ تھا، اس لیے ان کے جواب میں مکمل خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ جاہلوں کے جواب میں دانش مند لوگوں کا یہی وتیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا }» [ الفرقان: ۶۳ ] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ عربی کا مقولہ ہے: {”أَذَلُّ النَّاسِ سَفِيْهٌ لَا يَجِدُ مُسَافِهًا“} کہ سب سے زیادہ ذلیل وہ بے وقوف ہے جسے اپنے جواب میں کوئی بے وقوفی کرنے والا نہ ملے۔ ➌ { فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّا:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں خاموشی کا روزہ رکھنا جائز تھا، مگر ہماری شریعت میں اس سے منع کر دیا گیا، بلکہ اس طرح کی نذر ماننا بھی منع ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ فَسَأَلَ عَنْهٗ فَقَالُوْا أَبُوْ إِسْرَائِيْلَ نَذَرَ أَنْ يَّقُوْمَ وَلاَ يَقْعُدَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُوْمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْهٗ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهٗ ] [ بخاري، الأیمان والنذور، باب النذر فیما لا یملک و في معصیۃ: ۶۷۰۴ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اس دوران میں آپ نے ایک آدمی کو کھڑے ہوئے دیکھا تو اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، سائے میں نہیں جائے گا اور کلام نہیں کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ بیٹھ جائے اور سائے میں بھی جائے اور کلام کرے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“ {” فَاِمَّا “} میں {”اِنْ“ } شرطیہ اور{ ”مَا“ } ابہامیہ برائے تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا ہے۔
پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی"
مولانا محمد جوناگڑھی
اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ، اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمنٰ کے نام کا روزه مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی
احمد رضا خان بریلوی
تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی
علامہ محمد حسین نجفی
پس تو (خرمے) کھا اور (نہر کا پانی) پی اور (بیٹے کو دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کسی آدمی کو دیکھے اور (وہ تم سے کچھ پوچھے) تو (اشارہ سے) کہہ دینا کہ میں نے خدائے رحمن کے لئے (چپ کے) روزہ کی منت مانی ہے تو میں آج کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔
عبدالسلام بن محمد
پس کھا اور پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ، پھر اگر کبھی تو آدمیوں میں سے کسی کو دیکھے تو کہہ میں نے تو رحمان کے لیے روزے کی نذرمانی ہے، سو آج میں ہرگز کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭
«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ { بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف] ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے، { کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،] یہ حدیث بالکل منکر ہے۔ «تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ‘۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ ”آپ گھبرائیں نہیں“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں ”نسیا منسیا“ ہو گئی ہوتی۔ اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، ”اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔“
26۔ 1 یعنی کھجوریں کھا، چشمے کا پانی پی اور بچے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر۔ 26۔ 2 یہ کہنا بھی اشارے سے تھا، زبان سے نہیں، علاوہ ازیں ان کے ہاں روزے کا مطلب ہی کھانے اور بولنے سے پرہیز ہے۔
پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے " اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا
مولانا محمد جوناگڑھی
اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لئے ہوئے وه اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے گود میں لے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم! بیشک تو نے بہت بری بات کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے بعد وہ بچہ کو (گود میں) اٹھائے اپنی قوم کے پاس لائی۔ انہوں نے کہا اے مریم تو نے بڑا برا کام کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ اسے اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لے آئی، انھوں نے کہا اے مریم! یقینا تو نے تو بہت انوکھا کام کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقدس مریم اور عوام ٭٭
حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔“ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔“ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔
ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2442] پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:251-246] ، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» ۱؎ [2-البقرہ:251] اور لفظ موجود ہیں کہ ’ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے ‘۔ انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔
مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2135] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔
ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ { یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27) ➊ { فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ:} اپنے بچے کی بات سن کر اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کرامات دیکھ کر مریم علیھا السلام کو اطمینان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل نہیں ہونے دے گا۔ چنانچہ وہ ایام نفاس گزرنے اور طبیعت بحال ہونے کے بعد کسی جھجک کے بغیر اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آ گئیں۔ ➋ { قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْـًٔا فَرِيًّا: ” فَرَي يَفْرِيْ “} (ض) کا معنی چمڑے کو قطع کرنا ہے۔ {” فَرِيًّا “} بروزن {”فَعِيْلٌ“} بمعنی فاعل یا مفعول ہے، قطع کرنے والی یا قطع کی ہوئی، یعنی عام عادت اور معمول کے خلاف چیز، اس لیے اس کا معنی بعض نے عظیم، بعض نے عجیب اور بعض نے منکر یعنی انوکھی کیا ہے۔ بہتان کو بھی افترا کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ لفظی معنی ہے ”تو ایک انوکھی چیز کو آئی ہے “ یعنی تو نے ایک انوکھا کام کیا ہے۔ مراد کنواری کے ہاں بچے کی پیدائش ہے۔
اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی
احمد رضا خان بریلوی
اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں کوئی بدکار تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقدس مریم اور عوام ٭٭
حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔“ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔“ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔
ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2442] پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:251-246] ، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» ۱؎ [2-البقرہ:251] اور لفظ موجود ہیں کہ ’ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے ‘۔ انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔
مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2135] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔
ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ { یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟
28۔ 1 ہارون سے مراد ممکن ہے ان کا کوئی عینی یا علاتی بھائی ہو، یہ بھی ممکن ہے ہارون سے مراد ہارون رسول (برادر موسیٰ علیہ السلام) ہی ہوں اور عربوں کی طرح ان کی نسبت اخوت ہارون کی طرف کردی، جیسے کہا جاتا ہے، تقویٰ و پاکیزگی اور عبادت میں حضرت ہارون ؑ کی طرح انھیں سمجھتے ہوئے، انھیں کی مثل اور مشابہت میں اخت ہارون کہا ہو، اس کی مثالیں قرآن کریم میں بھی موجود ہیں (ابن کثیر)
(آیت 28) ➊ {يٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ …:} مریم علیھا السلام کے بھائی کا نام ہارون تھا جو اپنی نیکی اور شرافت میں مشہور تھا، یعنی ایسے صالح بھائی کی بہن، ایسے باپ کی بیٹی جو کسی طرح برا نہ تھا اور ایسی ماں کی بیٹی جس میں بدکاری کی کوئی خصلت نہ تھی، تو نے یہ کیا گل کھلا دیا؟ ان الفاظ میں وہ مریم علیھا السلام کو اشارتاً برائی سے متہم کر رہے تھے۔ ”کسی طرح برا“ اور ”بدکاری کی کسی خصلت والی“ کا مفہوم {” إِمْرَاَ سَوْءٍ “} اور {” بَغِيًّا “} کے نکرہ ہونے سے واضح ہو رہا ہے، جو عموم پر دلالت کرتا ہے۔ ➋ عظیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا اور وہ بھی نبی تھے۔ اس آیت میں مذکور ہارون کو بعض اہل کتاب نے موسیٰ علیہ السلام کا بھائی ہارون سمجھ لیا اور اعتراض جڑ دیا کہ مریم علیھا السلام ہارون علیہ السلام کی بہن کیسے ہو سکتی ہیں، ان کے درمیان تو مدت دراز ہے۔ علمائے اسلام نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، مثلاً یہ کہ ہارون علیہ السلام کی بہن سے مراد ہارون علیہ السلام جیسی نیک اور صالح خاتون ہے وغیرہ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بعد وہ سب جواب محض تکلف ہیں۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور ہارون مریم علیھا السلام کے بھائی تھے۔ یہ ایک حُسنِ اتفاق ہے کہ موسیٰ و ہارون علیھما السلام کے والد بھی عمران تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم اور ان کے بھائی ہارون کے والد بھی عمران تھے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا تو وہاں کے لوگوں (نصاریٰ) نے کہا، یہ بتاؤ کہ تم جو پڑھتے ہو {” يٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ “} (اے ہارون کی بہن!) موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے۔ میں واپس آیا اور اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلاَ أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوْا يُسَمُّوْنَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِيْنَ قَبْلَهُمْ ] [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ مریم: ۳۱۵۵۔ مسلم: ۲۱۳۵ ] ”تم نے انھیں یہ کیوں نہ بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور صالحین کے ناموں پر (اپنے بچوں کے) نام رکھتے تھے (یعنی مریم علیھا السلام کے بھائی کا نام ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا تھا)۔“
مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا لوگوں نے کہا " ہم اِس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
مریم نے اپنے بچے کی طرف اشاره کیا۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟
احمد رضا خان بریلوی
اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
مریم نے (نومولود) بچہ کی طرف اشارہ کیا (کہ اس سے پوچھو کہ کہاں سے آیا؟) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم اس سے کس طرح بات کریں گے جو ابھی گہوارہ میں (کمسن) بچہ ہے؟
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے اس کی طرف اشارہ کر دیا، انھوں نے کہا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقدس مریم اور عوام ٭٭
حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔“ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔“ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔
ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2442] پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:251-246] ، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» ۱؎ [2-البقرہ:251] اور لفظ موجود ہیں کہ ’ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے ‘۔ انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔
مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2135] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔
ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ { یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29){فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ قَالُوْا كَيْفَ …:} مریم علیھا السلام نے خاموشی کے روزے کی وجہ سے اپنی پاکدامنی کی شہادت کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لو۔ وہ سب کہنے لگے کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے؟ یہاں {” كَانَ “} زمانۂ حال تک استمرار (ہمیشگی) کے معنی میں ہے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ آئندہ آیات میں عیسیٰ علیہ السلام کی گفتگو گود کے وقت کی گفتگو ہے۔ معجزات کے بعض منکروں نے اسے عیسیٰ علیہ السلام کی جوانی کی گفتگو قرار دیا ہے، مگر یہ آیات اور سورۂ آل عمران کی آیت (۴۶) عیسیٰ علیہ السلام کی گود میں گفتگو کی صریح دلیل ہیں۔ علاوہ ازیں صحیح حدیث میں تین بچوں کی گود میں گفتگو کا ذکر ہے جن میں سے ایک عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: «و اذکر فی الکتاب مریم…» : ۳۴۳۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
بچہ بول اٹھا "میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بنده ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا
علامہ محمد حسین نجفی
(مگر) وہ بچہ بولا: میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99] ’ مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ ‘۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“ پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
30۔ 1 یعنی قضا وقدر ہی میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مجھے کتاب اور نبوت سے نوازے گا
(آیت 30) ➊ { قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ:} گویا سب سے پہلا کلمہ جو عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان سے ادا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اعتراف تھا، جو ان کے خود اللہ تعالیٰ ہونے یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے یا تین معبودوں میں سے ایک ہونے کی صاف نفی ہے۔ ➋ { اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ......:} ظاہر ہے کہ کتاب اور نبوت کا ملنا کچھ مدت بعد ہی ہوا ہو گا، کیونکہ دودھ پیتا بچہ نبوت کے فرائض دعوت و تبلیغ، اصلاح امت وغیرہ کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس لیے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازل سے اللہ تعالیٰ نے میرا نبی ہونا اور مجھے کتاب ملنا لکھ دیا ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ ] [ صحیح الجامع للألباني: ۴۵۸۱، عن میسرۃ الفجر رضی اللہ عنہ ] ”میں اس وقت نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔“ حالانکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں نبوت عطا ہوئی، اس لیے مراد تقدیر میں نبی لکھا ہونا ہے۔ دوسرا معنی یہ کہ ماضی کا لفظ بول کر مستقبل مراد لیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اتنے یقینی ہیں کہ سمجھو واقع ہو چکے ہیں۔ یہ اندازبیان قرآن مجید میں عام ہے، جیسے قیامت کے متعلق فرمایا: «{اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ}» [ النحل: ۱ ] ”اللہ کا حکم آ گیا، سو اس کے جلدی آنے کا مطالبہ مت کرو۔“ اسی طرح سورۂ زمر کی آیت (۶۸) میں ماضی کے چاروں صیغے مستقبل کے معنی میں ہیں۔
اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زنده رہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰة کی تاکید فرمائی جب تک جیوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس نے مجھے نماز (پڑھنے) اور زکوٰۃ (دینے) کا حکم دیا ہے جب تک کہ میں زندہ ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور مجھے بہت برکت والا بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی خاص تاکید کی، جب تک میں زندہ رہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99] ’ مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ ‘۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“ پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
31۔ 1 اللہ کے دین میں ثابت قدم، یا ہر چیز میں زیادتی، برتری اور کامیابی میرا مقدر ہے یا لوگوں کے لئے نافع، نیکی کے کام کرنے کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا۔ (فتح القدیر)
(آیت 31) ➊ {وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ: ” مُبٰرَكًا “} یہاں باب مفاعلہ مقابلے کے معنی میں نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بہت برکت والا۔ برکت کا معنی خیر کثیر ہے جو {” بِرْكَةٌ “} سے ہے، جس کا معنی تالاب ہے جس میں بہت پانی ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کے لیے بہت خیر و برکت اور نفع پہنچانے والا بنایا ہے۔ ➋ { وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ:} نماز اور زکاۃ کی خاص تاکید کی وجہ کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱) اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز، زکاۃ اور شریعت کے دوسرے احکام موت تک کسی کو معاف نہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فوت ہونے تک عبادت کا حکم ہوا، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ }» [ الحجر: ۹۹ ] ”اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین (موت) آ جائے۔“ موسیٰ علیہ السلام کو نبوت ملی تو توحید کی تاکید کے بعد نماز کا حکم ہوا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۴) ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے نماز کا پابند رہنے کی دعا کی۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۰) جب اولوالعزم پیغمبروں کو کسی صورت نماز معاف نہیں ہوئی تو بعض صوفیوں کو کیسے معاف ہو گئی اور پیغمبروں کو صرف دل کی نماز کافی نہیں ہوئی تو انھیں کیسے کافی ہو گئی؟ درحقیقت یہ لوگ اسی سورۂ مریم کی آیت (۵۹) کی حقیقی تصویر ہیں۔ ➌ چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے یہ بات موجود تھی کہ کچھ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنائیں گے، اس لیے انھیں ساری زندگی نماز اور زکاۃ کا حکم دیا، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ جو خود کسی معبود کے سامنے نماز پڑھتا ہے وہ کسی صورت معبود نہیں ہو سکتا۔ (بقاعی)
اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس نے مجھے اپنی والده کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس نے مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99] ’ مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ ‘۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“ پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
32۔ 1 صرف والدہ کے ساتھ حسن سلوک کے ذکر سے بھی واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت بغیر باپ کے ایک اعجازی شان کی حامل ہے، ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ لسلام بھی، حضرت یحیٰی ؑ کی طرح (ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا) کہتے، یہ نہ کہتے کہ میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔ 32۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ماں باپ کا خدمت گزار اور اطاعت شعار نہیں ہوتا، اس کی فطرت میں سرکشی اور قسمت میں بدبختی لکھی ہے، حضرت عیسیٰ ؑ نے ساری گفتگو ماضی کے صیغوں میں کی ہے حالاں کہ ان تمام باتوں کا تعلق مستقبل سے تھا، کیونکہ ابھی تو وہ شیر خوار بچے ہی تھے۔ یہ اس لئے کہ یہ اللہ کی تقدیر کے اٹل فیصلے تھے کہ گو ابھی یہ معرض ظہور میں نہیں آئے تھے لیکن ان کا وقوع اس طرح یقینی تھا جس طرح کے گزرے ہوئے واقعات شک وشبہ سے بالا ہوتے ہیں۔
(آیت 32) ➊ {وَبَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ …:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۴) وہاں {” عَصِيًّا “} فرمایا اور یہاں {” شَقِيًّا۔“} معلوم ہوا کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والا شقی اور بدنصیب ہے، خصوصاً ایسی والدہ سے جو باپ اور ماں دونوں کی جگہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِيْلَ مَنْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ أو أحدھما…: ۲۵۵۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو!“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! کون؟“ فرمایا: ”جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔“ جنت میں داخلے سے محروم ہو جانے سے بڑھ کر کیا بدبختی ہو گی؟ ➋ عیسیٰ علیہ السلام نے صرف والدہ کا نام لیا، تاکہ لوگوں کو ان کے باپ کے بغیر پیدا ہونے کا یقین ہو جائے اور والدہ کا ہر تہمت سے پاک ہونا ثابت ہو جائے۔
سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوباره زنده کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں
علامہ محمد حسین نجفی
سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، جس دن میں مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور خاص سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں گا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99] ’ مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ ‘۔ پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“ پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 33){ وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ …:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۵) وہاں {” سَلٰمٌ “} اور یہاں {” السَّلٰمُ “} ہے، اس لیے ترجمہ ”خاص سلامتی“ کیا ہے۔ اس خاص سلامتی میں وہ خصوصیت بھی شامل ہے جو صرف عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو حاصل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِيْنَ يُوْلَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُوْ هُرَيْرَةَ وَاقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ: «{ وَ اِنِّيْ اُعِيْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ }» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و إنی أعیذھا بک…» : ۴۵۴۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”کوئی بچہ نہیں مگر اس کا حال یہ ہے کہ شیطان اسے پیدا ہوتے وقت چھوتا ہے تو وہ اس کے چھونے کی وجہ سے چلاتے ہوئے اونچی آواز سے روتا ہے، سوائے مریم کے اور اس کے بیٹے کے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے:”اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «{ وَ اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ }» ”(یعنی مریم علیھا السلام کی والدہ نے دعا کی تھی کہ یا اللہ!) میں اس (مریم) کو اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“
یہ ہے عیسٰی ابن مریم اور یہ ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا، یہی ہے وه حق بات جس میں لوگ شک وشبہ میں مبتلا ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے عیسیٰ بن مریم (اور یہ ہے) اس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے عیسیٰ ابن مریم۔ حق کی بات، جس میں یہ شک کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:147] ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ’ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ‘۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:59-60] یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے ‘۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] یعنی ’ تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ’ بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ‘۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ’ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے، { جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3435]
34۔ 1 یعنی یہ ہیں وہ صفات، جن سے حضرت عیسیٰ ؑ صفت کئے گئے تھے نہ کہ ان صفات کے حامل، جو نصاریٰ نے حد سے گزر کر ان کے بارے میں باور کرائیں اور نہ ایسے، جو یہودیوں نے کمی کی اور نقص نکالنے سے کام لیتے ہوئے ان کی بابت کہا۔ اور یہی حق بات ہے۔ جس میں لوگ خواہ مخواہ شک کرتے ہیں۔
(آیت 34){ ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ …: ” قَوْلَ الْحَقِّ “} اصل میں {”اَلْقَوْلَ الْحَقَّ“} تھا، یعنی وہ بات جو حق اور سچ ہے، تخفیف کے لیے موصوف کو صفت کی طرف مضاف کر دیا، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سچ بات صرف وہ ہے جو یہاں خود ان کی زبانی بیان کر دی گئی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں اور ان کا نسب ہر شک و شبہ اور ہر عیب سے پاک ہے۔ رہے ان کی والدہ اور ان پر تہمت تراشنے والے یہود اور انھیں رب قرار دینے والے نصاریٰ، تو ان کی بات محض شکوک و شبہات پر مبنی ہے، اس میں حق کا کوئی شائبہ نہیں۔
اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ذات ہے وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور بس وہ ہو جاتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کے لئے اوﻻد کا ہونا ﻻئق نہیں، وه تو بالکل پاک ذات ہے، وه تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا اراده کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بات اللہ کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ پاک ہے اس کی ذات جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے کہتا ہے ہو جا تو وہ (کام) ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کبھی اللہ کے لائق نہ تھا کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوجاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:147] ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ’ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ‘۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:59-60] یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے ‘۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] یعنی ’ تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ’ بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ‘۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ’ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے، { جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3435]
35۔ 1 جس اللہ کی یہ شان اور قدرت ہو اسے بھلا اولاد کی کیا ضرورت ہے؟ اور اسی طرح اس کے لئے بغیر باپ کے پیدا کردینا کون سا مشکل امر ہے۔ گویا جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں یا حضرت عیسیٰ ؑ کی اعجازی ولادت سے انکار کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی قدرت وطاقت کے منکر ہیں۔
(آیت 35) ➊ { مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ …: ” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ کے لائق نہ پہلے کبھی تھا اور نہ ہے کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے۔ {” وَلَدٍ “} نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ تھا ”کوئی اولاد“ لیکن اس سے پہلے {” مِنْ “} آنے کی وجہ سے عموم اور زیادہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے“ لڑکا یا لڑکی، کسی فرشتے کو یا جن کو، یا انسان کو یا کسی اور مخلوق کو۔ ➋ { يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ:} یعنی جسے یہ قدرت حاصل ہو کہ کلمہ {” كُنْ “} سے ہر چیز وجود میں لا سکتا ہو اسے بیٹا بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ بیٹے کی ضرورت تو اسے ہے جو بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے محتاج ہو، یا فنا ہونے والا ہو اور اسے وارث کی ضرورت ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت۔ پھر جب وہ آدم کو {”كُنْ“} کہہ کر پیدا کر سکتا ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آدم علیہ السلام کی طرح {” كُنْ “} کہہ کر پیدا کر سکتا ہے، دیکھیے سورۂ آل عمران (۵۹، ۶۰)۔
(اور عیسٰیؑ نے کہا تھا کہ) "اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو، یہی سیدھی راہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو، یہ راہ سیدھی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(عیسیٰ نے کہا) بےشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے پس تم اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:147] ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ’ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ‘۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:59-60] یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے ‘۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] یعنی ’ تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ’ بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ‘۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ’ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے، { جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3435]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 36){ وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ …:} یہ گود میں عیسیٰ علیہ السلام کے کلام کا آخری حصہ اور خلاصہ ہے۔ اس کا عطف {” قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ “} پر ہے، یعنی انھوں نے کہا کہ بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس کے بعد اللہ کی عطا کردہ نعمتیں بیان کیں، درمیان میں {” ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ “} سے {” كُنْ فَيَكُوْنُ “} تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ معترضہ ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی اس بات {” وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ …“} پر ان کا کلام مکمل ہوتا ہے۔ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو ہمارا رب ہے، میری اور تمھاری پرورش کرنے والا ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔
مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے، پس کافروں کے لئے ویل ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر مختلف گروہ آپ کے بارے میں اختلاف کرنے لگے تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے ہلاکت ہے جب وہ ایک بہت بڑے سخت دن کا سامنا کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان گروہوں نے اپنے درمیان اختلاف کیا تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ایک بہت بڑے دن کی حاضری کی وجہ سے بڑی ہلاکت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:147] ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ’ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ‘۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:59-60] یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے ‘۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] یعنی ’ تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ’ بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ’ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ‘۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ’ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے، { جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3435]
37۔ 1 یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور یوسف نجار کے بیٹے ہیں نصا ریٰ کے ایک فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثالث ثَلَاثلَۃِ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر) 37۔ 2 ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ ؑ کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔
(آیت 37) ➊ { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ:} عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حق بات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر بنی اسرائیل سے باہر کے کسی گروہ نے نہیں بلکہ خود ان کے اپنے گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ {” مِنْۢ بَيْنِهِمْ “} میں اسی طرف اشارہ ہے۔ یہود نے انھیں ولد الزنا اور جادوگر قرار دیا اور نصاریٰ کئی گروہوں میں بٹ گئے، کسی نے کہا اللہ مسیح ہی تو ہے۔ (مائدہ: ۷۲) کسی نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ (توبہ: ۳۰) کسی نے کہا مسیح تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے وغیرہ۔ مائدہ (۷۳) یہود نے ان کی شان گھٹانے کی کوشش کی تو نصاریٰ نے انھیں ان کی حد سے بڑھا دیا۔ ہاں اہل حق نے یہی کہا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہود ان کی شان گھٹانے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہو گئے اور نصاریٰ ان کی شان میں غلو کی وجہ سے کافر ہو گئے، البتہ اہل حق ایمان پر قائم رہے۔ ➋ { فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” فَوَيْلٌ “} پر تنوین (تہویل) یعنی اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا ہے۔ {” مَشْهَدِ “} یہاں راجح قول میں مصدر میمی ہے، یعنی اس عظیم دن میں حاضری کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جنھوں نے کفر کیا، اگر اس دن کی حاضری نہ ہوتی تو یہ لوگ اس ہلاکت سے بچ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ”ان لوگوں کے لیے “ کہنے کے بجائے صراحت سے فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا بہت بڑی ہلاکت ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس ویل کا باعث کفر ہے۔ یوم عظیم پچاس ہزار سال کا دن (معارج: ۴) اور اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے کا دن ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ]
جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اُس روز تو اُن کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو اس دن ان کے کان کیسے سننے والے اور آنکھیں کیسی دیکھنے والی ہوں گی۔ مگر آج یہ ظالم کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس قدر دیکھنے والے، جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے، لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12] الخ، ’ کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ‘ الخ۔ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [19-مريم:39] ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4830]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔“ اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:56] ، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
38۔ 1 یہ تعجب کے صیغے ہیں یعنی دنیا میں تو یہ حق کے دیکھنے اور سننے سے اندھے اور بہرے رہے لیکن آخرت میں یہ کیا خوب دیکھنے اور سننے والے ہونگے؟ لیکن وہاں یہ دیکھنا سننا کس کام کا؟
(آیت 38) {اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ …:} یہ دونوں فعل تعجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ تعجب سے فرماتے ہیں کہ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو وہ کس قدر سننے والے اور کس قدر دیکھنے والے ہوں گے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کو نہیں مانتے، کیونکہ تعجب تو انسان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان جیسا تو نہیں کہ تعجب کرے۔ اس لیے وہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ ان کی حالت ایسی ہو گی کہ اس پر تعجب کیا جائے، اگرچہ ان کی حالت واقعی ایسی ہو گی مگر جب انسان کے سننے، دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو بھی سننے دیکھنے والا مانتے ہیں تو اس کے تعجب کرنے میں کیا تعجب ہے۔ ہاں انسان کا سننا، دیکھنا اور تعجب اس کی ہستی کے مطابق ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا اس کی شان کے مطابق، جیسا کہ فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ لطف کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کے منکر اس کے سمیع و بصیر ہونے اور دوسری صفات کے بھی منکر ہیں، مگر انکار ایسی تاویل کے پردے میں کرتے ہیں جو درحقیقت آیات و احادیث کی تحریف ہے۔یعنی آج تو حق سے اندھے اور بہرے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور کہیں گے: «{ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا }» [ السجدۃ: ۱۲ ] ”اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا“ مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آئے گا۔ {” الظّٰلِمُوْنَ “} پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ ظالم“ کیا گیا ہے۔
اے نبیؐ، اِس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیں، اِنہیں اس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو انہیں اس رنج وافسوس کے دن کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا، اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور نہیں مانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) انہیں حسرت و ندامت کے دن سے ڈرائیں جبکہ ہر بات کا (آخری) فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور یہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12] الخ، ’ کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ‘ الخ۔ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [19-مريم:39] ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4830]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔“ اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:56] ، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
39۔ 1 روز قیامت کو یوم حسرت کہا، اس لئے کہ اس روز سب ہی حسرت کریں گے۔ بدکار حسرت کریں گے کہ کاش انہوں نے برائیاں نہ کی ہوتیں اور نیکوکار اس بات پر حسرت کریں گے کہ انہوں نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہیں کمائیں؟ 39۔ 2 یعنی حساب کتاب کر کے صحیفے لپیٹ دیئے جائیں گے اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس کے بعد موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کردیا جائے گا، جنتیوں اور دوزخیوں دونوں سے پوچھا جائے گا، اسے پہچانتے ہو، یہ کیا ہے؟ وہ کہیں گے، ہاں یہ موت ہے پھر ان کے سامنے اسے ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا کہ اہل جنت! تمہارے لئے جنت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے، اب موت نہیں آئے گی۔ دوزخیوں سے کہا جائے گا۔ اے دوزخیو! تمہارے لئے دوزخ کا عذاب دائمی ہے۔ اب موت نہیں آئے گی (صحیح بخاری)
(آیت 39) ➊ { وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ …:} مراد قیامت کا دن ہے جس میں حسرت اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہو گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۵۶)، انعام (۳۱) اور بقرہ (۱۶۷)۔ ➋ { اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ …:} ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُؤْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ هٰذَا الْمَوْتُ وَكُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ وَ كُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ }» وَهٰؤُلَاءِ فِيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا «{ وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل: «و أنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰ ] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: ”اے جنت والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا: ”اے آگ والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے تو اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: ”اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ }» (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موت کے ذبح کے ذکر کے بعد اس آیت کو پڑھنا دلیل ہے کہ {” قُضِيَ الْاَمْرُ “} (فیصلہ کر دیے جانے) سے مراد موت کا ذبح کر دیا جانا ہے۔ مسند احمد (۳؍۹، ح: ۱۱۰۷۲) میں اسی حدیث کے شروع میں ہے کہ جب (تمام) جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔
آخرکار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
خود زمین کے اور تمام زمین والوں کے وارث ہم ہی ہوں گے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا کر ﻻئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے
علامہ محمد حسین نجفی
(آخرکار) ہم ہی زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:12] الخ، ’ کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ‘ الخ۔ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [19-مريم:39] ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4830]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔“ اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:56] ، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40){اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ …:} اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ذکر تین دفعہ جمع متکلم کی ضمیر سے کیا ہے۔ دنیا کے بادشاہ بھی حکم دیتے وقت یا اپنی شان و شوکت کے اظہار کے وقت کہا کرتے ہیں کہ ”ہم حکم دیتے ہیں“ ”ہم یہ کریں گے“ وغیرہ، حالانکہ وہ اکیلے حکم دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جس کی عظمت کی کوئی حد نہیں، اکیلا ہونے کے باوجود اپنی عظمت کے اظہار کے لیے کیوں نہ فرمائے گا کہ بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اردو ترجمے میں ”ہی“ کا لفظ تیسرے ”ہم“ کی جگہ لگایا گیا ہے، جو لفظ {” نَرِثُ “} میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہو جائیں گے اور ہمارے سوا ان کا وارث (پیچھے رہنے والا) کوئی نہ ہو گا۔
اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر، بیشک وه بڑی سچائی والے پیغمبر تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور قرآن میں ابراہیم (ع) کا ذکر کیجئے۔ بےشک وہ بڑے راست باز تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ بہت سچا تھا، نبی تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117] ، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“ ”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“ جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔
41۔ 1 صدیق صدق (سچائی سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ بہت راست باز، یعنی جس کے قول وعمل میں مطابقت اور راست بازی اس کا شعار ہو۔ صدیقیت کا یہ مقام، نبوت کے بعد سب سے اعلٰی ہے ہر نبی اور رسول بھی اپنے وقت کا سب سے بڑا راست باز اور صداقت شعار ہوتا ہے، اس لئے وہ صدیق بھی ہوتا ہے۔ تاہم ہر صدیق، نبی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں حضرت مریم کو صدیقہ کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقویٰ و طہارت اور راست بازی میں بہت اونچے مقام پر فائز تھیں تاہم نبیہ نہیں تھیں۔ امت محمدیہ میں بھی صدیقین ہیں۔ اور ان میں سر فہرست حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو انبیاء کے بعد امت میں خیر البشر تسلیم کئے گئے ہیں۔ رَ ضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
(آیت 41) ➊ { وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ:} اس سورت کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ توحید کے منکر دو قسم کے لوگ تھے، ایک یہود و نصاریٰ جنھوں نے عیسیٰ اور عُزیر علیھما السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا اور اس طرح شرک میں مبتلا ہو گئے، چنانچہ پچھلی آیات میں مریم اور مسیح علیھما السلام کا قصہ بیان کرکے ان کے غلط عقائد کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب، جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور اس غلط عقیدے کے باوجود ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہونے کے دعوے دار تھے۔ یہاں سے ابراہیم علیہ السلام کا قصہ بیان کرکے ان کی تردید مقصود ہے، تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور بالآخر وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کی، مگر تم ہو کہ ایک طرف تو ان کی اولاد میں سے ہو اور ان کے دین پر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہو، لیکن دوسری طرف بت پرستی کی لعنت میں گرفتار ہو اور توحید کی آواز اٹھانے والوں کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر واقعی تم ابراہیم علیہ السلام کے دین کے پیرو ہو تو اس شرک پر عمل پیرا ہونے اور توحید پرستوں سے دشمنی کا کیا مطلب؟ ➋ {اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا: ” صِدِّيْقًا “ ”صِدْقٌ“} سے مبالغہ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو صدیق اس لیے فرمایا کہ وہ بات میں بہت سچے تھے اور اپنے رب کے ساتھ معاملے میں بھی سچے تھے۔ اللہ کی خاطر گھر سے بے گھر ہونا، آگ میں جلنے کو گوارا کرنا، وطن سے بے وطن ہونا، پردیس میں اپنی عزت و ناموس کے خطرے میں ہونے کو برداشت کرنا، بیوی بچے کو بے آباد سنگلاخ وادی میں چھوڑنا، اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کی تعمیل، اسّی(۸۰) برس کی عمر میں ختنے کا حکم ہونے پر فوراً عمل کرنا، یہ ان کے ہر معاملہ میں صدق کی چند مثالیں ہیں۔ {” صِدِّيْقًا “} کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۶۹) اور یوسف (۴۶)۔
(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ "ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا جان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائده پہنچا سکیں
احمد رضا خان بریلوی
جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے
علامہ محمد حسین نجفی
جب انہوں نے اپنے (منہ بولے) باپ (حقیقی چچا) آذر سے کہا کہ اے باپ! آپ ان چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117] ، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“ ”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“ جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42) ➊ {” يٰۤاَبَتِ “} کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۴)۔ ➋ { اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کا والد بت پرست تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام(۷۴) ابراہیم علیہ السلام نے اسے نہایت ادب، نرمی، حسن اخلاق اور بہترین دلائل کے ساتھ بت پرستی ترک کرنے کی نصیحت کی کہ کہیں وہ بڑے پن اور ضد میں آکر حق سے انکار نہ کر دے۔ چنانچہ سب سے پہلے انھوں نے اس سے ان بتوں کو پوجنے کی وجہ پوچھی کہ جن کی کسی عقل مند کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، کجا یہ کہ ان کی عبادت کی جائے، جو تعظیم، محبت اور عاجزی کا انتہائی مرتبہ ہے۔ کیونکہ عبادت تو اس کی ہونی چاہیے جو ہر طرح سے دوسروں سے غنی ہو، کسی کا محتاج نہ ہو، سب نعمتوں کا مالک ہو، سب کو پیدا کرنے والا، رزق دینے والا ہو، زندگی، موت، ثواب اور عذاب کا مالک ہو۔ ابراہیم علیہ السلام نے اسے توجہ دلائی کہ صاحب عقل کو لازم ہے کہ جو بھی کرے کسی صحیح مقصد کے لیے کرے۔ کوئی بھی چیز یا شخص جو زندہ ہو، صاحب عقل ہو، سنتا دیکھتا ہو، کوئی فائدہ یا نقصان بھی پہنچا سکتا ہو مگر عدم سے وجود میں آیا ہو اور اس کا اختیار کسی اور کا عطا کردہ ہو تو عقل سلیم اس کی عبادت میں عار محسوس کرے گی، خواہ وہ کتنی اونچی مخلوق مثلاً انسان ہو یا فرشتہ، کیونکہ وہ خود اپنی ضروریات کے لیے اس ہستی کا محتاج ہے جو نہ اپنے وجود میں کسی کی محتاج ہے اور نہ اپنی بقا میں۔ پھر پتھر، لکڑی یا دھات کے بنے ہوئے بت یا مٹی اور اینٹوں سے بنی ہوئی قبریں کہ جن میں زندہ لوگوں والی کوئی خوبی ہے ہی نہیں، جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں، نہ کسی کے کام آ سکیں، ان کی عبادت کیوں؟
ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے مہربان باپ! آپ دیکھیئے میرے پاس وه علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راه کی طرف آپ کی رہبری کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں
علامہ محمد حسین نجفی
اے باپ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ آپ میری پیروی کیجئے میں آپ کو سیدھا راستہ دکھا دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے باپ! بے شک میں، یقینا میرے پاس کچھ وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میرے پیچھے چل، میں تجھے سیدھے راستے پر لے جاؤں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117] ، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“ ”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“ جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔
43۔ 1 جس سے مجھے اللہ کی معرفت اور اس کا یقین حاصل ہوا، بعث بعد الموت اور غیر اللہ کے پجاریوں کے لئے دائمی عذاب کا علم ہوا۔ 43۔ 2 جو آپ کی سعادت کو ابدی اور نجات سے ہمکنار کر دے گی۔
(آیت 43) ➊ {يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ قَدْ جَآءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ …: ” مِنَ الْعِلْمِ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ علم۔ دوسری بات میں بھی ان کی نرمی، دانائی اور حسن ادب دیکھیے۔ ”ابا جی“ کے لقب کے ساتھ مخاطب کیا، یہ نہیں کہا کہ آپ حد درجہ کے جاہل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے صدیقیت اور نبوت کا عظیم مرتبہ عطا کیا ہے، بلکہ یہ کہا کہ میرے پاس کچھ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا اور وہ ہے سیدھے راستے کا علم، اس لیے اس میں میرے پیچھے چلنے میں عار محسوس نہ کریں۔ بے شک آپ باپ ہیں مگر یوں سمجھیں کہ میں اور آپ ایک سفر پر ہیں، مجھے راستے کا علم ہے اور آپ کو نہیں، تو آپ کو باپ ہونے کے باوجود میرے پیچھے چلنا ہو گا، تاکہ میں آپ کو صحیح منزل تک پہنچا دوں اور آپ غلط راستے پر چل کر بھٹکتے نہ پھریں۔ (زمحشری) ➋ {اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا: ” سَوِيًّا “ ”سَوِيَ يَسْوٰي“} (ع) سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے، سیدھا برابر راستہ جس میں نہ زیادتی ہے کہ اس کی عبادت ہو جو اس کا حق دار نہیں اور نہ کمی کہ حق دار کی عبادت بھی نہ کی جائے۔ (قاسمی)
ابّا جان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے ابّا جان آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں شیطان تو رحم وکرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے باپ شیطان کا بندہ نہ بن بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے باپ! شیطان کی پرستش نہ کیجئے (کیونکہ) بےشک خدائے رحمن کا وہ نافرمان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر، بے شک شیطان ہمیشہ سے رحمان کا سخت نافرمان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117] ، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“ ”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“ جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔
44۔ 1 یعنی شیطان کے وسوسے اور اس کے بہکاوے سے آپ جو ایسے بتوں کی پرستش کرتے ہیں جو سننے اور دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ نفع نقصان پہنچانے کی قدرت، تو یہ دراصل شیطان ہی کی پرستش ہے۔ جو اللہ کا نافرمان ہے اور دوسروں کو بھی اللہ کا نافرمان بنا کر ان کو اپنے جیسا بنانے پر تلا رہتا ہے۔
(آیت 44){ يٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ …:} تیسری بات کی ابتدا بھی محبت اور ادب میں ڈوبے ہوئے الفاظ ”ابا جان“ سے کی اور اسے بت پرستی سے منع کرنے اور ہٹانے کے لیے اس کی حقیقی تصویر ایسی کھینچی کہ ہر عقلمند کو اس سے نفرت ہو جائے، یعنی یہی نہیں کہ بت پرستی کسی بھی نفع سے خالی ہے، بلکہ اس میں بے حد نقصان ہے، کیونکہ یہ درحقیقت شیطان کی عبادت ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۷) کیونکہ وہی اس پر آمادہ کرتا اور اسے خوش نما بنا کر دکھاتا ہے، خود شیطان کی عبادت تو کوئی نہیں کرتا۔ {” اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّا “} میں {” اِنَّ “} کے ساتھ شیطان کی عبادت سے منع کرنے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ سے تمھارے اس رب کا سخت نافرمان ہے جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے ناشکرے اور سخت نافرمان کی بات ماننے والا بھی سخت نافرمان ہو گا۔ ہمیشہ کا معنی {” كَانَ “} سے واضح ہو رہا ہے۔
ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
ابّا جان! مجھے خوف لگا ہوا کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائے
علامہ محمد حسین نجفی
اے باپ! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ پر خدائے رحمن کا عذاب نازل نہ ہو جائے اور آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے باپ! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ پڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117] ، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“ ”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“ جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔
45۔ 1 اگر آپ اپنے شرک وکفر پر باقی رہے اور اسی حال میں آپ کو موت آگئی، تو عذاب الٰہی سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یا دنیا میں ہی آپ عذاب کا شکار نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر ہمیشہ کے لئے راندہ بارگاہ الٰہی ہوجائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے ادب و احترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے، نہایت شفقت اور پیار کے لہجے میں باپ کو توحید کا وعظ سنایا، لیکن توحید کا سبق کتنے ہی شریں اور نرم لہجے میں بیان کیا جائے، مشرک کے لئے ناقابل برداشت ہی ہوتا ہے۔ چناچہ مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت درشتی اور تلخی کے ساتھ موحد بیٹے کو کہا اگر تو میرے معبودوں سے روگردانی کرنے سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔
(آیت 45){ يٰۤاَبَتِ اِنِّيْۤ اَخَافُ …:} چوتھی بات یہ کہ اسے بت پرستی کے برے انجام اور اس کے وبال اور عذاب سے ڈرایا اور اس میں بھی حسن ادب کو ملحوظ رکھا۔ صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ تم پر عذاب آ پڑے گا، بلکہ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ لگے اور پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔ یہاں ”میں ڈرتا ہوں“ اور ”کوئی عذاب آ لگے“ کے الفاظ قابل غور ہیں کہ وہ کتنی سخت بات کو کس قدر نرمی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ پھر یہ بات کہ عذاب کا نتیجہ شیطان کا دوست اور ساتھی بننا ہو گا۔ معلوم ہوا کہ شیطان کا ساتھی بننا عذاب سے بھی بدتر ہے۔ یہ آخری نصیحت بھی {” يٰۤاَبَتِ “} کے پیارے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ (زمخشری)
باپ نے کہا "ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ ره
احمد رضا خان بریلوی
بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا
علامہ محمد حسین نجفی
آزر نے کہا: اے ابراہیم کیا تم میرے خداؤں سے روگردانی کرتے ہو؟ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا۔ اور تم ایک مدت تک مجھ سے دور ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا کیا بے رغبتی کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم!؟ یقینا اگر تو باز نہ آیا تو میں ضرور ہی تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھے چھوڑ جا، اس حال میں کہ تو صحیح سالم ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باپ کی ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا، وہ بیان ہو رہا ہے کہ ”اس نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے، اچھا سن رکھ، اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا اور انہیں برا کہتا رہا اور ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے، نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لیے گیا گزرا۔“ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» ۱؎ [25-الفرقان:63] ’ جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے ‘۔ پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“ اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
آپ علیہ السلام ہی کی اقتداء میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لیے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس بات میں ان کا فعل اس قابل نہیں۔ اور آیت میں فرمایا «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» الخ ۱؎ [9-التوبة:114،113] ، یعنی ’ نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنا چاہیئے ‘ الخ۔ ’ اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ استغفار صرف اس بناء پر تھا کہ آپ علیہ السلام اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام اس سے بری ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے ‘۔ پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
46۔ 1 دراز مدت، ایک عرصہ۔ دوسرے معنی اس کے صحیح وسالم کے کئے گئے ہیں۔ یعنی مجھے میرے حال پر چھوڑ دے، کہیں مجھ سے اپنے ہاتھ پیر نہ تڑوا لینا۔
(آیت 46) ➊ {قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِيْ يٰۤاِبْرٰهِيْمُ: ” رَغِبَ فِيْهِ “} کا معنی رغبت کرنا اور {” رَغِبَ عَنْهُ “} کا معنی بے رغبتی کرنا ہوتا ہے۔ والد نے جواب میں بیٹے کی بات کا انکار کرتے ہوئے ہمزہ استفہام سے بات شروع کی کہ ”کیا بے رغبتی کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم!؟“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک بتوں سے بے رغبتی زیادہ قابل گرفت تھی، اس لیے {” اَرَاغِبٌ “} کا ذکر خبر ہونے کے باوجود پہلے کیا، رہا بیٹا تو شرک سے منع کرنے کی وجہ سے اسے {” اَنْتَ “ } کے ساتھ مبتدا ہونے کے باوجود بعدمیں مخاطب کیا اور ابراہیم کا نام ایسا قابل نفرت ٹھہرا کہ اسے سب سے آخر میں لیا۔ ابراہیم علیہ السلام کو دیکھیے کہ وہ ہر بات {” يٰۤاَبَتِ “} سے شروع کرتے ہیں، ادھر مشرک باپ کی خصوصی مہربانی دیکھیے کہ اس نے مخاطب کیا بھی تو آخر میں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقیدے کی بنا پر پیدا ہونے والی دوستی اور دشمنی نسب کی وجہ سے پیدا ہونے والی دوستی اور دشمنی سے زیادہ قوی ہوتی ہے۔ ➋ { لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ …:” تَنْتَهِ “} اصل میں {”تَنْتَهِيْ“} تھا، {” لَمْ “} کی وجہ سے یاء گر گئی۔ {” مَلِيًّا “} کا معنی ہے صحیح سالم اور ایک دوسرا معنی ہے لمبی مدت۔ اگر تو بتوں کی تردید اور نفرت سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، یعنی پتھر مار مار کر ختم کر دوں گا۔ تو مجھے چھوڑ کر صحیح سلامت نکل جا، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ لمبی مدت تک مجھے چھوڑ کر نکل جا کہ میں تمھاری شکل نہ دیکھوں۔ ➌ اس واقعہ میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا سامان موجود ہے، کیونکہ آپ کو بھی اپنے اقارب کی طرف سے ایسے ہی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح حق کے ہر داعی کے لیے بھی تسلی ہے کہ اعلان حق پر اسے اپنے قریب ترین عزیزوں کی طرف سے شدید مخالفت کے سامنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ خصوصاً جب کفار دلیل کے سامنے لاجواب ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا غیظ و غضب حد سے گزر جاتا ہے، جیسے یہاں ابراہیم علیہ السلام سے لاجواب ہو کر باپ نے سنگسار کرنے کی دھمکی دے کر گھر سے نکال دیا۔ بتوں کو توڑنے کے بعد ان کے پروہت لاجواب ہوئے تو انھوں نے کہا: «{ حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ }» [ الأنبیاء: ۶۸ ] ”اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔“ لوط علیہ السلام کی قوم لاجواب ہوئی تو کہا: «{ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ }» [ الأعراف: ۸۲ ] ”انھیں اپنی بستی سے نکال دو۔“ نوح علیہ السلام کی قوم نے لاجواب ہو کر کہا: «{ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ }» [ الشعراء: ۱۱۶ ] ”اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں میں سے ہو جائے گا۔“ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے دلائل کے سامنے بے بس ہونے پر کہا تھا: «{ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ }» [الشعراء: ۲۹ ] ”یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔“ کفار کی ان تمام دھمکیوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کے دلائل ذکر فرمائے ہیں جو قابل دید ہیں اور ان کے جواب میں کفار کی بے بسی بالکل واضح ہے۔ ہمارے پیارے پیغمبر کے سامنے بھی جب کفار کی کوئی پیش نہ گئی تو انھوں نے آپ کو قتل، قید یا جلا وطن کرنے کی سازش کی، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: «{ وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ }» [ الأنفال: ۳۰ ] ”اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تاکہ تجھے قید کر دیں، یا تجھے قتل کر دیں، یا تجھے نکال دیں۔“
ابراہیمؑ نے کہا "سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہا اچھا تم پر سلام ہو، میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا، وه مجھ پر حد درجہ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ابراہیم نے کہا: (اچھا خدا حافظ) آپ پر میرا سلام! میں عنقریب اپنے پروردگار سے آپ کے لئے مغفرت طلب کروں گا۔ بےشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا تجھ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے تیرے لیے ضرور بخشش کی دعا کروں گا، بے شک وہ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باپ کی ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا، وہ بیان ہو رہا ہے کہ ”اس نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے، اچھا سن رکھ، اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا اور انہیں برا کہتا رہا اور ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے، نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لیے گیا گزرا۔“ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» ۱؎ [25-الفرقان:63] ’ جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے ‘۔ پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“ اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
آپ علیہ السلام ہی کی اقتداء میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لیے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس بات میں ان کا فعل اس قابل نہیں۔ اور آیت میں فرمایا «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» الخ ۱؎ [9-التوبة:114،113] ، یعنی ’ نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنا چاہیئے ‘ الخ۔ ’ اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ استغفار صرف اس بناء پر تھا کہ آپ علیہ السلام اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام اس سے بری ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے ‘۔ پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
47۔ 1 یہ سلام دعایہ نہیں ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کرتا ہے بلکہ ترک مخاطب کا اظہار ہے جیسے (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) 25۔ الفرقان:63) ' جب بےعلم لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے ' اس میں اہل ایمان اور بندگان الٰہی کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ 47۔ 2 یہ اس وقت کہا جب حضرت ابراہیم ؑ کو مشرک کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کی ممانعت کا علم نہیں تھا، جب یہ علم ہوا تو آپ نے دعا کا سلسلہ موقوف کردیا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9۔ التوبہ:114)
(آیت 47) ➊ {قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ:} ابراہیم علیہ السلام نے اپنے جاہل باپ کے اس سنگ دلانہ جواب کے مقابلے میں پھر انتہائی نرمی کا مظاہرہ کیا اور اسے {” سَلٰمٌ عَلَيْكَ “} کہا کہ آپ سلامت رہیں۔ جاہلوں کے جواب میں ہمیں بھی یہی کہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۶۳) اور قصص (۵۵) جب کوئی ضد اور عناد پر تل جائے تو یہ رخصت ہونے اور ترک تعلق کا سلام ہے اور یہ جائز ہے، البتہ عام حالات میں کفار کو سلام میں پہل جائز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَبْدَءُ وا الْيَهُوْدَ وَلاَ النَّصَارٰی بِالسَّلَامِ ] [ مسلم، السلام، باب النھي عن ابتداء أھل الکتاب…: ۲۱۶۷، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل مت کرو۔“ ➋ { سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ:} ابراہیم علیہ السلام نے اس وعدے کو نبھایا، دیکھیے سورۂ شعراء (۸۶) اور ابراہیم (۴۱) مگر اب فوت شدہ مشرک دوستوں یا رشتہ داروں کے لیے استغفار جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ(۱۱۳) اور سورۂ ممتحنہ(۴)۔ ➌ {اِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا: ” حَفِيًّا “ ”حَفِيَ حِفَاوَةً“} ({رَضِيَ}) سے ہے، کسی پر بہت مہربان ہونا، اس کے معاملات کی فکر رکھنا، اس کے متعلق کثرت سے پوچھتے رہنا۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷) {” كَانَ “} سے ہمیشہ کا معنی واضح ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان رہا ہے اور اس نے مجھے دعا قبول ہونے کی عادت ڈال دی ہے۔
میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں آپ لوگوں سے اور ان سے جنہیں آپ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کنارہ کرتا ہوں۔ میں تو اپنے پروردگار کو ہی پکاروں گا۔ مجھے امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کی دعا و پکار کی برکت سے نامراد نہیں رہوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں تم سے اور ان چیزوں سے جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کنارہ کرتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بے نصیب نہیں ہوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باپ کی ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا، وہ بیان ہو رہا ہے کہ ”اس نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے، اچھا سن رکھ، اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا اور انہیں برا کہتا رہا اور ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے، نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لیے گیا گزرا۔“ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» ۱؎ [25-الفرقان:63] ’ جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے ‘۔ پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“ اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
آپ علیہ السلام ہی کی اقتداء میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لیے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس بات میں ان کا فعل اس قابل نہیں۔ اور آیت میں فرمایا «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» الخ ۱؎ [9-التوبة:114،113] ، یعنی ’ نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنا چاہیئے ‘ الخ۔ ’ اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ استغفار صرف اس بناء پر تھا کہ آپ علیہ السلام اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام اس سے بری ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے ‘۔ پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48) ➊ {وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یعنی تم سے اور تمھارے معبودوں سے تعلق توڑ کر جب میں اپنے اکیلے رب کو پکاروں گا تو مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بے نصیب نہیں رہوں گا اور وہ کسی بھی مرحلے پر مجھے بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اشارے سے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا رب تمھارے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ انھیں کتنا ہی پکارتے رہو، وہ خاک نفع نہیں پہنچا سکتے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار بھی کہ اس پر میرا یا کسی کا زور نہیں، محض اس کے فضل سے امید ہے، کیونکہ اس اکیلے کو پکارنے والا کبھی بے نصیب نہیں رہتا۔ ➋ ابراہیم علیہ السلام کی کفار سے اور ان کے بتوں سے علیحدگی اور ایمان لانے تک واضح دشمنی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ ہے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۵۱ تا ۶۷)، سورۂ شعراء (۷۵ تا ۷۷) اور سورۂ ممتحنہ (۴)۔
پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے، اور دونوں کو نبی بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب وہ ان لوگوں کے اور ان کے خداؤں سے کنارہ کش ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق و یعقوب جیسی اولاد عنایت فرمائی اور ہم نے سب کو نبی بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب وہ ان سے اور ان چیزوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، الگ ہوگیا تو ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو ہم نے نبی بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لاتعلق ہونے کا اعلان ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام ماں باپ کو، رشتے کنبے کو، قوم و ملک کو اللہ کے دین پر قربان کر چکے، سب سے یک طرف ہو گئے، اپنی برأت اور علیحدگی کا اعلان کر دیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کر دی۔ آپ علیہ السلام کے ہاں اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام ہوئے۔ جیسے فرمان ہے «وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:72] اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ اسحاق کے پیچھے یعقوب ‘۔ پس اسحاق علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے والد تھے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:133] الخ، میں صاف لفظ ہیں کہ ’ یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام ‘۔ پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ’ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی، بیٹا دیا، بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے فرزند یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لیے کہ یوسف علیہ السلام کی نبوت کے وقت خلیل اللہ علیہ السلام زندہ نہ تھے۔ یہ دونوں نبوتیں یعنی اسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام کی نبوت آپ علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لیے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یوسف نبی اللہ بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3383] اور حدیث میں ہے { کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں علیہم الصلوۃ والسلام }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3382] ’ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں ‘۔ «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔
49۔ 1 حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر بھی بیٹے کے ساتھ اور بیٹے ہی کی طرح کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ توحید الٰہی کی خاطر باپ کو، گھر کو اور اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تو ہم نے انھیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) سے نوازا تاکہ ان کی انس و محبت، باپ کی جدائی کا صدمہ بھلا دے۔
(آیت 49) ➊ { فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ …:} وطن سے ہجرت اور مشرکین سے کنارہ کشی کے عوض اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بے شمار نعمتیں عطا کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھیں بڑی شان والا بیٹا اور پوتا یعنی اسحاق اور یعقوب (علیھما السلام) عطا کیے، تاکہ ان کا دل لگ جائے اور بے وطنی سے وحشت نہ ہو۔ ➋ { وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا:} یہ آیت دلیل ہے کہ اسحاق اور یعقوب علیھما السلام ان کی زندگی ہی میں نبی بن چکے تھے، کیونکہ اگر بعد میں نبی بننا مراد ہوتا تو یوسف علیہ السلام کا بھی ذکر ہوتا، کیونکہ وہ بھی نبی تھے۔ بیٹے اور پوتے کی خوشی ہی کچھ کم نہیں ہوتی، کجا یہ کہ ان کی پہلے ہی خوش خبری بھی مل جائے (ہود: ۷۱) اور اپنی آنکھوں سے انھیں نبوت کے عالی مقام پر فائز بھی دیکھ لیا جائے۔ یہاں اسماعیل علیہ السلام کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ ان کے پاس نہیں رہے۔ ان کا ذکر الگ آگے آ رہا ہے۔ ➌ یہ آیت اس حقیقت کی بھی ایک مثال ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بہتر چیز اسے عطا فرماتا ہے۔
اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان ہستیوں کو اپنی (خاص) رحمت سے حصہ عطا کیا اور ان کے لئے سچائی کی زبان کو بلند قرار دیا۔ (یعنی آئندہ نسلوں میں ان کے ذکر جمیل کی آواز بلند کی)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت سے حصہ عطا کیا اور انھیں سچی ناموری عطا کی، بہت اونچی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لاتعلق ہونے کا اعلان ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام ماں باپ کو، رشتے کنبے کو، قوم و ملک کو اللہ کے دین پر قربان کر چکے، سب سے یک طرف ہو گئے، اپنی برأت اور علیحدگی کا اعلان کر دیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کر دی۔ آپ علیہ السلام کے ہاں اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام ہوئے۔ جیسے فرمان ہے «وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:72] اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ اسحاق کے پیچھے یعقوب ‘۔ پس اسحاق علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے والد تھے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:133] الخ، میں صاف لفظ ہیں کہ ’ یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام ‘۔ پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ’ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی، بیٹا دیا، بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ‘۔ یہ ظاہر ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے فرزند یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لیے کہ یوسف علیہ السلام کی نبوت کے وقت خلیل اللہ علیہ السلام زندہ نہ تھے۔ یہ دونوں نبوتیں یعنی اسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام کی نبوت آپ علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لیے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یوسف نبی اللہ بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3383] اور حدیث میں ہے { کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں علیہم الصلوۃ والسلام }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3382] ’ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں ‘۔ «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔
50۔ 1 یعنی نبوت کے علاوہ بھی اور بہت سی رحمتیں ہم نے انھیں عطا کیں، مثلا مال مزید اولاد اور پھر اسی سلسلہ نسب میں عرصہ دراز تک نبوت کے سلسلے کو جاری رکھنا یہ سب سے بڑی رحمت تھی جو ان پر ہوئی اسی لیے حضرت ابراہیم ؑ ابو الانبیا کہلاتے ہیں۔ 50۔ 2 لسان صدق سے مراد ثنائے حسن اور ذکر جمیل ہے لسان کی اضافت صدق کی طرف کی اور پھر اس کا وصف علو بیان کیا جس سے اس طرف اشارہ کردیا کہ بندوں کی زبانوں پر جو ان کا ذکر جمیل رہتا ہے، تو وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ تمام دیگر مذاہب کو ماننے والے بلکہ مشرکین بھی حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد کا تذکرہ بڑے اچھے الفاظ میں اور نہایت ادب و احترام سے کرتے ہیں۔ یہ نبوت واولاد کے بعد ایک اور انعام ہے جو ہجرت فی سبیل اللہ کی وجہ سے انھیں حاصل ہوا۔
(آیت 50) ➊ { وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا: ” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”حصہ“ کیا ہے۔ اس رحمت سے مراد نبوت اور دینی و دنیوی بے شمار برکتیں ہیں، مثلاً اموال و اولاد کی کثرت، ارض مقدس کی خلافت، نسل در نسل نبوت و امامت وغیرہ۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر {”ثَنَاءٌ حَسَنٌ“} (اچھی شہرت) فرمائی۔ [ طبری بسند ثابت ] {” لِسَانَ “} بول کر وہ چیز مراد لی ہے جو زبان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی شہرت و ناموری، جیسا کہ {”يَدٌ“ } بول کر احسان مراد لیتے ہیں، کیونکہ وہ ہاتھ کے ساتھ ہوتا ہے۔ {” لِسَانَ صِدْقٍ “} سچی ناموری کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعی اس ناموری اور شہرت کے حق دار تھے اور ان کا عمل اس شہرت کو سچا ثابت کرتا تھا، اس لیے ان کا ذکر خیر ہمیشہ کے لیے لوگوں کی زبان پر جاری کر دیا۔ چنانچہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب ان کی تعظیم کرتے ہیں اور نماز میں درود ابراہیمی بھی ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی مقبولیت ہی کا ثمر ہے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۸۴)۔