بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 37
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡہَدِ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا
پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے، پس کافروں کے لئے ویل ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے
پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے
پھر مختلف گروہ آپ کے بارے میں اختلاف کرنے لگے تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے ہلاکت ہے جب وہ ایک بہت بڑے سخت دن کا سامنا کریں گے۔
پھر ان گروہوں نے اپنے درمیان اختلاف کیا تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ایک بہت بڑے دن کی حاضری کی وجہ سے بڑی ہلاکت ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭

[2-البقرة:147] ‏‏‏‏اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:147] ‏‏‏‏، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ’ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ‘۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے ‘۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔‏‏‏‏“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔

کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔

اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، { اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏ یعنی ’ تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099] ‏‏‏‏ خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ‏‏‏‏ ’ بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:42] ‏‏‏‏ ’ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ‘۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ’ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ‘۔

صحیح حدیث میں ہے، { جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3435] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

37۔ 1 یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور یوسف نجار کے بیٹے ہیں نصا ریٰ کے ایک فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثالث ثَلَاثلَۃِ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر) 37۔ 2 ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ ؑ کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 37) ➊ { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ:} عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حق بات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر بنی اسرائیل سے باہر کے کسی گروہ نے نہیں بلکہ خود ان کے اپنے گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ {” مِنْۢ بَيْنِهِمْ “} میں اسی طرف اشارہ ہے۔ یہود نے انھیں ولد الزنا اور جادوگر قرار دیا اور نصاریٰ کئی گروہوں میں بٹ گئے، کسی نے کہا اللہ مسیح ہی تو ہے۔ (مائدہ: ۷۲) کسی نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ (توبہ: ۳۰) کسی نے کہا مسیح تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے وغیرہ۔ مائدہ (۷۳) یہود نے ان کی شان گھٹانے کی کوشش کی تو نصاریٰ نے انھیں ان کی حد سے بڑھا دیا۔ ہاں اہل حق نے یہی کہا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہود ان کی شان گھٹانے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہو گئے اور نصاریٰ ان کی شان میں غلو کی وجہ سے کافر ہو گئے، البتہ اہل حق ایمان پر قائم رہے۔ ➋ { فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” فَوَيْلٌ “} پر تنوین (تہویل) یعنی اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا ہے۔ {” مَشْهَدِ “} یہاں راجح قول میں مصدر میمی ہے، یعنی اس عظیم دن میں حاضری کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جنھوں نے کفر کیا، اگر اس دن کی حاضری نہ ہوتی تو یہ لوگ اس ہلاکت سے بچ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ”ان لوگوں کے لیے “ کہنے کے بجائے صراحت سے فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا بہت بڑی ہلاکت ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس ویل کا باعث کفر ہے۔ یوم عظیم پچاس ہزار سال کا دن (معارج: ۴) اور اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے کا دن ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ]
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →