بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 41
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 41
آیت نمبر: 41 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿۴۱﴾
اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا
اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر، بیشک وه بڑی سچائی والے پیغمبر تھے
اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،
اور قرآن میں ابراہیم (ع) کا ذکر کیجئے۔ بےشک وہ بڑے راست باز تھے۔
اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ بہت سچا تھا، نبی تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بتوں کی پوجا ٭٭

مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [36-يس:60] ‏‏‏‏، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:117] ‏‏‏‏، ’ یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں ‘۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔‏‏‏‏“ ”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔‏‏‏‏“ جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ‘۔

📖 احسن البیان

41۔ 1 صدیق صدق (سچائی سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ بہت راست باز، یعنی جس کے قول وعمل میں مطابقت اور راست بازی اس کا شعار ہو۔ صدیقیت کا یہ مقام، نبوت کے بعد سب سے اعلٰی ہے ہر نبی اور رسول بھی اپنے وقت کا سب سے بڑا راست باز اور صداقت شعار ہوتا ہے، اس لئے وہ صدیق بھی ہوتا ہے۔ تاہم ہر صدیق، نبی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں حضرت مریم کو صدیقہ کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقویٰ و طہارت اور راست بازی میں بہت اونچے مقام پر فائز تھیں تاہم نبیہ نہیں تھیں۔ امت محمدیہ میں بھی صدیقین ہیں۔ اور ان میں سر فہرست حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو انبیاء کے بعد امت میں خیر البشر تسلیم کئے گئے ہیں۔ رَ ضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 41) ➊ { وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ:} اس سورت کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ توحید کے منکر دو قسم کے لوگ تھے، ایک یہود و نصاریٰ جنھوں نے عیسیٰ اور عُزیر علیھما السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا اور اس طرح شرک میں مبتلا ہو گئے، چنانچہ پچھلی آیات میں مریم اور مسیح علیھما السلام کا قصہ بیان کرکے ان کے غلط عقائد کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب، جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور اس غلط عقیدے کے باوجود ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہونے کے دعوے دار تھے۔ یہاں سے ابراہیم علیہ السلام کا قصہ بیان کرکے ان کی تردید مقصود ہے، تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور بالآخر وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کی، مگر تم ہو کہ ایک طرف تو ان کی اولاد میں سے ہو اور ان کے دین پر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہو، لیکن دوسری طرف بت پرستی کی لعنت میں گرفتار ہو اور توحید کی آواز اٹھانے والوں کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر واقعی تم ابراہیم علیہ السلام کے دین کے پیرو ہو تو اس شرک پر عمل پیرا ہونے اور توحید پرستوں سے دشمنی کا کیا مطلب؟ ➋ {اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا:صِدِّيْقًا”صِدْقٌ“} سے مبالغہ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو صدیق اس لیے فرمایا کہ وہ بات میں بہت سچے تھے اور اپنے رب کے ساتھ معاملے میں بھی سچے تھے۔ اللہ کی خاطر گھر سے بے گھر ہونا، آگ میں جلنے کو گوارا کرنا، وطن سے بے وطن ہونا، پردیس میں اپنی عزت و ناموس کے خطرے میں ہونے کو برداشت کرنا، بیوی بچے کو بے آباد سنگلاخ وادی میں چھوڑنا، اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کی تعمیل، اسّی(۸۰) برس کی عمر میں ختنے کا حکم ہونے پر فوراً عمل کرنا، یہ ان کے ہر معاملہ میں صدق کی چند مثالیں ہیں۔ {” صِدِّيْقًا “} کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۶۹) اور یوسف (۴۶)۔
← پچھلی آیت (40) پوری سورۃ اگلی آیت (42) →