بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 15
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
وَ سَلٰمٌ عَلَیۡہِ یَوۡمَ وُلِدَ وَ یَوۡمَ یَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ یُبۡعَثُ حَیًّا ﴿٪۱۵﴾
سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے
اس پر سلام ہے جس دن وه پیدا ہوا اور جس دن وه مرے اور جس دن وه زنده کرکے اٹھایا جائے
اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گا
سلام ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وفات پائے گا اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔
اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭

بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ’ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا ‘۔ نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ’ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے } }۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:254/1:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏‏‏‏“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏‏‏‏“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔‏‏‏‏“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 تین مواقع انسان کے لئے سخت ودہشت ناک ہوتے ہیں، 1۔ جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے، 2۔ جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے، 3۔ اور جب اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنے کو میدان محشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تینوں جگہوں میں اس کیلئے ہماری طرف سے سلامتی اور امان ہے۔ بعض اہل بدعت اس آیت سے یوم ولادت پر عید میلاد " کا جواز ثابت کرتے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے تو پھر یوم وفات پر عید وفات یا عید ممات " بھی منانی ضروری ہوئی کیونکہ جس طرح یوم ولادت کے لیے سلام ہے یوم وفات کے لیے بھی سلام ہے اگر محض لفظ " سلام " سے عید میلاد " کا اثبات ممکن ہے تو پر اسی لفظ سے " عید وفات " کا بھی اثبات ہوتا ہے لیکن کہاں وفات کی عید تو کجا سرے سے وفات وممات ہی کا انکار ہے یعنی وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے نص قرآنی کا تو انکار کرتے ہی ہیں خود اپنے استدلال کی رو سے بھی آیت کے ایک جز کو تو مانتے ہیں اور اسی آیت کے دوسرے جز سے ان ہی کے استدلال کی روشنی میں جو ثابت ہوتا ہے اس کا انکار ہے۔ (ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ) 2۔ البقرۃ:85) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ { وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ …:} یعنی ان تینوں وقتوں میں وہ ہر پریشانی سے سلامت رہیں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ جو بندے پر سلام کہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔“ (موضح) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: {” أَوْحَشُ مَا يَكُوْنُ الْخَلْقُ فِيْ ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ يَوْمَ يُوْلَدُ فَيَرَي نَفْسَهٗ خَارِجًا مِمَّا كَانَ فِيْهِ وَيَوْمَ يَمُوْتُ فَيَرَي قَوْمًا لَمْ يَكُنْ عَايَنَهُمْ وَيَوْمَ يُبْعَثُ فَيَرَي نَفْسَهٗ فِيْ مَحْشَرٍ عَظِيْمٍ قَالَ فَأَكْرَمَ اللّٰهُ فِيْهَا يَحْيَي بْنَ زَكَرِيًّا فَخَصَّهُ بِالسَّلاَمِ عَلَيْهِ “} [ طبري: ۲۳۷۵۱، بسند صحیح ] ”آدمی سب سے زیادہ خوف زدہ تین مواقع پر ہوتا ہے، جس دن پیدا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ سے نکلتے ہوئے دیکھتا ہے جہاں وہ تھا اور جس دن فوت ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جنھیں اس نے نہیں دیکھا تھا اور جس دن وہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے آپ کو بہت بڑے محشر (اکٹھ) میں دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں وقتوں میں یحییٰ بن زکریا علیھما السلام کو عزت بخشی اور انھیں سلامت رکھنے کی خاص نعمت عطا فرمائی۔“ ➋ یحییٰ علیہ السلام کے کچھ اوصافِ حمیدہ اس سے پہلے سورۂ آل عمران (۳۹) میں گزر چکے ہیں۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →