بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 87
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 87
آیت نمبر: 87 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾
اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے
لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے
انہیں شفاعت کا کوئی اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے اللہ سے عہد لے لیا ہوگا۔
وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کے معزز مہمان ٭٭

جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا، وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے۔ نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف بے ترس، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہراً جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لیے کھڑا ہے، پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں۔ آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے، آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لیے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4733] ‏‏‏‏ ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے۔

ابن ابی حاتم کی روایت ہے { سیدنا علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لیے موجود پائیں گے، جن پر سونے کے پالان ہوں گے، جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا، جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گی جہاں تک نگاہ کام کرے۔ یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے، ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے۔ دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے۔ اس کے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں، ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہو گا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے، نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آ گئے۔ خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے، جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں، آپ کا حکم بردار ہوں، اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سرتاج ہیں، ہمارے محبوب ہیں، میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں، میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی، میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی، میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی }۔

{ یہ اندر داخل ہوں گے، دیکھیں گے کہ سو سو گز بلند بالاخانے ہیں، لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے۔ ہر مکان میں ستر تخت ہیں، ہر تخت پر ستر حوریں ہیں، ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے۔ ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے، چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز و سفید پرند اڑ رہے ہیں جس کا گوشت کھانے کو جی چاہا، وہ خودبخود حاضر ہو گیا، جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھا لیا اور پھر وہ قدرت الٰہی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آ رہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دئیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئیے گئے ہو۔ یہ ہے بدلہ تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6724:باطل و موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے، اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا، ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا۔ مومن تو ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں۔ یہ خود کہیں گے کہ «فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:101،100] ‏‏‏‏ ’ ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ سچا دوست ہے ‘۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے، یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کی گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بیزاری اور لاتعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ جس سے میرا عہد ہے، وہ کھڑا ہو جائے ‘۔ لوگوں نے کہا ہمیں بھی وہ بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا یوں کہو «اللَّـهُمَّ فَاطِرَ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَإِنِّي أَعْهَد إِلَيْك فِي هَذِهِ الْحَيَاة الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكِلنِي إِلَى عَمَل يُقَرِّبنِي مِنْ الشَّرّ وَيُبَاعِدنِي مِنْ الْخَيْر وَإِنِّي لَا أَثِق إِلَّا بِرَحْمَتِك فَاجْعَلْ لِي عِنْدك عَهْدًا تُؤَدِّيه إِلَيَّ يَوْم الْقِيَامَة إِنَّك لَا تُخْلِف الْمِيعَاد» اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا مُسْتَغْفِرًا رَاهِبًا رَاغِبًا إِلَيْك» [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏۔

📖 احسن البیان

87۔ 1 قول وقرار (عہد) کا مطلب ایمان و تقوٰی ہے۔ یعنی اہل ایمان و تقوٰی میں سے جن کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، وہی شفاعت کریں گے، ان کے سوا کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 87){لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ …:} یعنی شفاعت کا حق دار وہ ہو گا جسے رحمان کے ہاں عہد نجات حاصل ہو۔ اس عہد سے مراد کلمۂ شہادت کا اقرار ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر مع حاشیہ حکمت بن بشیر) ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْعَهْدُ الَّذِيْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ] [ مسند أحمد: 346/5، ح: ۲۳۰۰۱۔ ترمذي: ۲۶۲۱۔ ابن ماجہ: ۱۰۷۹، عن بریدۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني ] ”وہ عہد جو ہمارے اور ان (مشرکین) کے درمیان ہے نماز ہے، جس نے اسے ترک کر دیا تو وہ بلاشبہ کافر ہو گیا۔“ معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ایمان والوں کی تو شفاعت ہو گی مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا۔ پس {” لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ “} کے معنی یہ ہیں کہ شفاعت کے مستحق صرف وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے رحمان کے ہاں عہد حاصل کر رکھا ہے، کفار نہیں۔ اس معنی کی شاہد کئی آیات ہیں۔ دیکھیے سورۂ مدثر (۴۸)، شعراء (۱۰۰، ۱۰۱)، مومن (۱۸)، انبیاء (۲۸) اور دوسری آیات۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب مجرمین کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا تو وہ خود دوسروں کے حق میں شفاعت کا اختیار بالاولیٰ نہیں رکھیں گے۔ دوسرا مطلب آیت کا یہ ہے کہ شفاعت کا اختیار صرف اسی کو ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا، کوئی نبی یا فرشتہ اپنی مرضی سے کسی کی شفاعت نہیں کر سکے گا، فرمایا: «{مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ اس آیت میں تمام مشرکین کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ مشرک بت پرست ہوں یا قبر پرست، زندہ پرست ہوں یا مردہ پرست، ہر قسم کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔ گویا یہ {” لِيَكُوَنُوْا لَهُمْ عِزًّا “ } کا جواب ہے۔ (کبیر، شوکانی، شنقیطی)
← پچھلی آیت (86) پوری سورۃ اگلی آیت (88) →