بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 77
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوۡتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ؕ۷۷﴾
پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟
کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال واوﻻد ضرور ہی دی جائے گی
تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال ضرور دیا جائے گا اور اولاد بھی۔
تو کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہمار ی آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور ہی مال اور اولاد دی جائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭

سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ } اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔ اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] ‏‏‏‏ تک اتریں }۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] ‏‏‏‏ میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 77){اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا …:} اوپر کی آیات میں حشر کے یقینی ہونے کے دلائل بیان فرمائے اور کفار کے شبہات کا جواب دیا تھا، اب ان لوگوں کا قول نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ صحیحین میں ہے، خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِيْ عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهٗ، قَالَ: لاَ أُعْطِيْكَ حَتّٰی تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لاَ أَكْفُرُ حَتّٰی يُمِيْتَكَ اللّٰهُ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ دَعْنِيْ حَتّٰی أَمُوْتَ وَ أُبْعَثَ فَسَأُوْتیٰ مَالًا وَوَلدًا فَأَقْضِيْكَ فَنَزَلَتْ: «{ اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا (77) اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا }» ] [بخاری، البیوع، باب ذکر الفین والحداد: ۲۰۹۱۔ مسلم،: ۳۵، 2795/36 ] ”میں زمانۂ جاہلیت میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا اور میرا عاص بن وائل (ایک مال دار کافر) پر کچھ قرض تھا۔ میں (ایک دن) تقاضے کے لیے اس کے پاس گیا، وہ کہنے لگا: ”میں تمھارا قرض اس وقت تک ادا نہیں کروں گا جب تک تم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت سے انکار نہ کرو۔“ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے) ہر گز انکار نہیں کروں گا، یہاں تک کہ اللہ تجھے موت دے، پھر دوبارہ زندہ کرے۔“ کافر کہنے لگا: ”جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو تم میرے پاس آنا، اس وقت میرے پاس خوب مال بھی ہو گا اور اولاد بھی، میں تمھارا قرض ادا کروں گا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (چار آیات {” فَرْدًا “} تک) نازل فرمائیں۔“ اس واقعہ میں کفار کا قیامت سے مذاق کی صورت میں انکار کرنا بھی ہے اور اس کے خیال میں بالفرض قائم ہونے کی صورت میں دنیا پر قیاس کرتے ہوئے وہاں بھی مال و اولاد ملنے کے یقین کا اظہار بھی ہے۔ ایک ہی سانس میں اللہ تعالیٰ کے قیامت قائم کرنے پر قادر ہونے سے انکار ہے اور اسی سانس میں قیامت کے دن اسے مال و اولاد دینے پر قادر ہونے کا اظہار ہے۔ مشرک ایسے ہی جاہل ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ زیادہ نمایاں قیامت کے دن دنیا کی طرح مال و اولاد ملنے کے یقین کا اظہار ہے، اس لیے اس سے پہلے آیات (۷۳، ۷۴) میں اس کا رد کیا ہے، اب مزید تین آیات میں اس کا رد فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →