بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 53
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
وَ وَہَبۡنَا لَہٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ نَبِیًّا ﴿۵۳﴾
اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیا
اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا
اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی)
اور ہم نے انہیں اپنی خاص رحمت سے آواز دی اور راز و نیاز کی باتیں کرنے کے لئے اپنا مقرب بنایا اور (بطور وزیر) ان کو ان کا بھائی ہارون عطا کیا جو نبی تھا۔
اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا کیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭

اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ’ وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے ‘۔ مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔‏‏‏‏“ دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» ۱؎ [7-الأعراف:144] ‏‏‏‏ آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ’ ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ‘۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔‏‏‏‏“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ’ اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ‘۔ ’ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی ‘۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» ۱؎ [28-القص:34] ‏‏‏‏، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» ۱؎ [20-طه:36] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ‘۔ آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:13] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہارون کو بھی رسول بنا ‘ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 53){ هٰرُوْنَ نَبِيًّا:} موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو انھوں نے اپنی مدد کے لیے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا اور اپنی خاص رحمت سے ان کے بھائی کو نبی بنا کر انھیں ہبہ فرما دیا۔ آج تک موسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے اتنے اونچے مرتبے کی دعا نہیں کی اور نہ ہارون علیہ السلام کے سوا کسی کو سفارش سے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست کا ذکر سورۂ طہ (۲۹ تا ۳۵)، شعراء (۱۲، ۱۳)اور قصص (۳۴، ۳۵) میں ہے۔
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →