بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 79
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 79
آیت نمبر: 79 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
کَلَّا ؕ سَنَکۡتُبُ مَا یَقُوۡلُ وَ نَمُدُّ لَہٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا ﴿ۙ۷۹﴾
ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے
ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے
ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے،
ہرگز ایسا نہیں ہے جو کچھ یہ کہتا ہے ہم اسے لکھ لیں گے۔ اور اس کے عذاب میں برابر اضافہ کرتے جائیں گے۔
ہرگز نہیں! ہم ضرور لکھیں گے جو کچھ یہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب میں سے بڑھائیں گے، بہت بڑھانا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭

سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ [صحیح بخاری:2091] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ ‘ } اور روایت میں ہے کہ { اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں }۔ اور روایت میں ہے کہ { کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] ‏‏‏‏ تک اتریں }۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ’ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ ‘ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» ۱؎ [19-مریم:78] ‏‏‏‏ میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ’ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 79) ➊ {” كَلَّا “} یہ لفظ انکار اور ڈانٹ کے لیے آتا ہے، یعنی یہ دونوں باتیں ہر گز نہیں ہیں، تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے پاس سے ایک جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دی ہے۔ یہاں سورۂ مریم میں اس تیسری بات کا ذکر نہیں، کیونکہ اس سے پہلے سورۂ بقرہ میں یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے یہ بات گزر چکی ہے اور قرآن کی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں، فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ }» [ البقرۃ: ۸۰ ] ”اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے؟ تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔“ (شنقیطی) ➋ { وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا:} یعنی ہم اسے کئی گنا زیادہ عذاب دیں گے، ایک عذاب کفر کا، ایک استہزا اور مذاق اڑانے کا، ایک اللہ کی راہ سے روکنے کا، ایک دوسروں کو کفر کی راہ پر لگانے کا، ایک فساد پھیلانے کا۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۸۸)، اعراف (۳۸) اور عنکبوت (۱۳) اسی طرح دنیا میں بھی مال و اولاد اور ہر قسم کی زیب و زینت کے ذریعے سے اسے عذاب دیں گے، پھر موت اور آخرت میں مزید عذاب دیں گے، فرمایا: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا }» [ التوبۃ: ۸۵ ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان (اموال و اولاد) کے ذریعے سے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“
← پچھلی آیت (78) پوری سورۃ اگلی آیت (80) →