بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 73
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا ۙ اَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ خَیۡرٌ مَّقَامًا وَّ اَحۡسَنُ نَدِیًّا ﴿۷۳﴾
اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"
جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیاده ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے؟
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے
جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ (دیکھو ہم) دونوں گروہوں میں سے رہائش گاہ کس کی اچھی ہے اور محفل کس کی زیادہ شاندار ہے؟
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے کہتے ہیں جو ایمان لائے کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام میں بہتر اور مجلس کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کثرت مال فریب زندگی ٭٭

اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل و برہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان و شوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پرتکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی ہیں اور آباد اور بارونق ہیں؟ پس ہم جو کہ مال و دولت، شان و شوکت، عزت و آبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں، ہم اللہ کے پیارے ہیں؟ یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے۔ کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے، کافروں نے کہا «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:11] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ؟ ‘ نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] ‏‏‏‏ ’ تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدارنہیں بن سکتے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے؟ ‘ پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ’ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کر دیا ‘۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات، ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان و شوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ’ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کر دیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو، ان کے باغات، ان کی نہریں، ان کی کھیتیاں، ان کے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کر دیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے ‘۔ ”مقام“ سے مراد مسکن اور نعمتیں ہیں۔ ”ندی“ سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں۔ جیسے آیت «وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ» ۱؎ [29-العنكبوت:29] ‏‏‏‏ میں ہے۔ یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں، لباس میں، مال میں، متاع میں، صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔

📖 احسن البیان

73۔ 1 یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقرا مسلمین اور اغنیائے قریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں، کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے فقیر لوگ ہیں، انکا دار الشوریٰ دار ارقم ہے۔ جب کہ کافروں میں ابو جہل، نفر بن حارث، عتبہ، شیبہ وغیرہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات ہیں، ان کی اجتماع گاہ بہت عمدہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 73){وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ …: ” مَقَامًا “} جائے قیام، یعنی رہنے کی جگہ، گھر وغیرہ۔ {” نَدِيًّا”نَدَوْتُ الْقَوْمَ أَنْدُوْهُمْ“ } (میں نے قوم کو جمع کیا) سے ہے۔ {”اَلنَّادِيْ“ ”اَلنَّدِيُّ“} اور {” اَلْمُنْتَدَي“} کا معنی لوگوں کی مجلس، اکٹھے ہونے کی جگہ۔ کفار جب اللہ تعالیٰ کی واضح آیات سنتے اور ان کا حق ہونا اس قدر واضح ہوتا کہ وہ کسی صورت نہ ان کا جواب دے پاتے اور نہ غلط کہہ سکتے، تو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے دنیوی لحاظ سے کمزور ایمان والوں سے کہتے کہ اپنی حالت اور ہماری حالت دیکھو! کس کے رہنے کے مکانات بہتر اور کس کی مجلس زیادہ شان و شوکت والی اور سجی ہوئی ہے؟ گویا انھوں نے دنیوی سازو سامان اور شان و شوکت کو اپنے حق پر ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے کی دلیل قرار دیا۔ قرآن مجید میں تمام انبیاء کے زمانے کے کفار کی یہی سوچ بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۱۱)، انعام (۵۳)، سبا (۳۵)، مومنون (۵۵، ۵۶)، مریم (۷۷)، کہف (۳۵، ۳۶) اور حم السجدہ (۵۰)۔
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →