بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ مريم — Surah Maryam
آیت نمبر 63
کل آیات: 98
قرآن کریم مريم آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ مريم islamicurdubooks.com ↗
تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ کَانَ تَقِیًّا ﴿۶۳﴾
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے
یہ ہے وه جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں
یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،
یہ ہے وہ بہشت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا۔
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کے وعدے برحق ہیں ٭٭

جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے، یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہے۔ ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے۔ بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں «وَعْدُهُ مَفْعُولًا» ۱؎ [73-المزمل:18] ‏‏‏‏ ’ وہ حقائق ہیں جو سامنے آ کر ہی رہیں گے ‘۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے، یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ «مَأْتِيًّا» کے معنی «اَتِیًا» کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں، وہ ہمارے پاس آ ہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں، مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہو گی۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ‏‏‏‏ ’ وہاں کوئی بے ہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ یہ استثنا منقطع ہے۔ صبح شام پاک، طیب، عمدہ، خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بے مشقت و زحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے، نہیں، بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔

چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے، ان کا بخور خوشبودار اگر ہو گا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے۔ ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر سے نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہو گی نہ بغض، سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہو گا۔ صبح شام اللہ کی تسبیح میں گزریں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3245] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں } [مسند احمد:266/1:حسن] ‏‏‏‏ پس صبح و شام بااعتبار دنیا کے ہے، وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کا سماں ہے، پردے گر جانے اور دروازے بند ہو جانے سے اہل جنت وقت شام کو اور اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیں گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی، اس لیے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لیے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ { صبح شام کا کیا ٹھیکہ ہے، رزق تو بے شمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں }۔ ۱؎ [الکامل لا بن عدی:239/6:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے، جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے، جن کی صفتیں «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» سے «هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» تک [23-المؤمنون:11-1] ‏‏‏‏ کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ ’ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لیے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے ‘۔ (‏‏‏‏اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63) {تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ …:} یعنی جنت کا وارث وہ ہو گا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کفر و شرک اور گناہوں سے بہت بچنے والا ہو۔ اس آیت میں متقی لوگوں کو جنت کا وارث بنانے کا ذکر ہے۔ یہی بات سورۂ مومنون (۱ تا ۱۰) اور اعراف (۴۲، ۴۳) میں بیان کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل جنت کس کے وارث بنیں گے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ان کے باپ آدم کو جنت ملی تھی اور اولاد اپنے باپ کی جائداد کی وارث ہوتی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم دونوںمیں بنی آدم کی جگہ بنائی ہے۔ اہل جہنم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جنت میں اپنی جگہ سے محروم ہو جائیں گے تو اس کے وارث جنتی ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرٰی مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُوْلُ لَوْلاَ أَنَّ اللّٰهَ هَدَانِيْ فَيَكُوْنُ لَهُ شُكْرٌ، وَ كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرٰی مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ لَوْلاَ أَنَّ اللّٰهَ هَدَانِيْ فَيَكُوْنُ عَلَيْهِ حَسْرَةٌ ] [صحیح الجامع: ۴۵۱۴۔ مسند أحمد: 512/2، ح: ۱۰۶۶۳۔ مستدرک حاکم: 436/2، ح: ۳۶۲۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”تمام اہل جنت آگ میں اپنا ٹھکانا دیکھیں گے تو کہیں گے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے مجھے ہدایت دی (تو میں یہاں ہوتا)، تو وہ بہت شکر کرے گا اور تمام اہل نار جنت میں اپنی جگہ دیکھیں گے تو کہیں گے، اگر ایسا ہوتا کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا (تو میں یہاں ہوتا)، تو اس کے لیے بہت حسرت ہوگی۔“ مگر اس جواب میں یہ خیال گزرتا ہے کہ جنتیوں کو صرف جہنمیوں والی جگہ بطور میراث ملے گی، حالانکہ جنت میں ان کا اپنا حصہ بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ }» [ آل عمران: ۱۳۳ ] ”(یہ جنت) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“ لہٰذا یہ معنی مرجوح ہے۔ اس لیے اکثر مفسرین نے {”نُوْرِثُ“} کا معنی یہ کیا ہے کہ ہم متقی لوگوں کو ہر طرح سے اس کا مالک بنا دیں گے، وہ کبھی ان سے واپس نہ لی جائے گی، بلکہ وہ میراث کی طرح انھی کی ہو جائے گی، کیونکہ کسی چیز کی ملکیت حاصل ہونے کی سب سے پکی صورت میراث ہے، اس لیے کہ ملکیت حاصل ہونے کی دوسری تمام صورتوں میں ملکیت چھننے کی گنجائش ہوتی ہے، بیع ہو یا ہبہ یا غصب، اس کا مالک اسے واپس لے سکتا ہے، یا بدل سکتا ہے، مگر وارث کو یہ فکر نہیں ہوتی۔ یہ معنی بھی مضبوط ہے۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →