اے نبیؐ! اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ اور بڑی حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہیں اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کریں۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان۔ یقینا اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر توکل رکھو ٭٭
تنبیہ کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔ تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لیے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بے پایاں حکمت سے اس کی کوئی بات، کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو، تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچا رہے۔ جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے۔
اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا 1 اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا اللہ تعالیٰ بڑے علم والا اور بڑی حکمت والا ہے 2۔
(آیت 1) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ …:} سورت کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے خطاب سے ہوتا ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم و تشریف مقصود ہے، کیونکہ قرآن مجید میں دوسرے انبیاء کو ان کے ناموں کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، جیسا کہ {” يٰۤاٰدَمُ، يٰنُوْحُ، يٰۤاِبْرٰهِيْمُ، يٰعِيْسَي ابْنَ مَرْيَمَ “} وغیرہ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} اور {” يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ “} کے ساتھ ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ ➋ اس سورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ دفعہ {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے ساتھ مخاطب فرمایا ہے، ایک یہ آیت، دوسری آیت (۲۸): «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا }» ، تیسری آیت (۴۵): «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا }» ، چوتھی آیت (۵۰): «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ» اور پانچویں آیت (۵۹): «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ }» اس سے ظاہر ہے کہ اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی معاملات کا خاص طور پر ذکر ہے۔ اگرچہ مقصود امت کی تعلیم بھی ہے۔ ➌ { اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ:} یہ سورت سن پانچ ہجری کے آخر میں غزوۂ احزاب کے زمانے میں نازل ہوئی۔ یہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر نہایت مشکل اور آزمائش کا تھا، کیونکہ قریش، غطفان، ہذیل اور پورے عرب کے مشرکین مل کر اسلام کو مٹانے کی آخری کوشش کے لیے دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ان کی مدد مدینہ کے یہود اور منافقین بھی کر رہے تھے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اسی زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانۂ جاہلیت کی کچھ ایسی رسوم کو توڑنے کا حکم ہوا جو اس وقت سب لوگوں کے ہاں مسلّمہ تھیں، مثلاً بیوی کو ماں کہہ دیا جائے تو اسے ماں ہی کی طرح حرام سمجھنا، منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کا مقام دے کر وارث بنانا، اس کی بیوی کے ساتھ بہو کی طرح نکاح حرام سمجھنا وغیرہ۔ متبنٰی (منہ بولا بیٹا) بنانے کی یہ رسم اتنی مستحکم تھی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے عمل سے اسے نہ توڑتے اس کا ختم ہونا مشکل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ جاہلیت کی رسوم میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ غلام آزاد بھی ہو جائے تو وہ اسے حقیر ہی سمجھتے اور آزاد لوگوں کا درجہ دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس رسم کو توڑا اور اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کا نکاح، جو نہایت عالی خاندان سے تھیں، اپنے آزاد کردہ غلام زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دیا، مگر دونوں میں موافقت نہ ہو سکی، تو زید رضی اللہ عنہ نے اسے طلاق دے دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح کر لیں، کیونکہ اس نے زید سے نکاح کرکے بہت بڑی قربانی دی تھی اور اس کی دل جوئی بھی مقصود تھی۔ مگر ڈر یہ تھا کہ پورے عرب کے مشرکین اور منافقین اس پر طعن و تشنیع کا طوفان برپا کر دیں گے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) بہو سے نکاح کو حرام کہتے ہیں اور خود بہو سے نکاح کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چار بیویوں سے نکاح جائز تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب سے نکاح کرتے تو یہ پانچویں بیوی ہوتی، کیونکہ اس سے پہلے سودہ، عائشہ، حفصہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھن آپ کے نکاح میں تھیں۔ اس پر بھی کفار و منافقین کو طعن کا موقع ملتا، اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ …“} کہہ کر زیادہ بیویاں رکھنے کی خصوصی اجازت عطا فرمائی۔ غرض اس قسم کی کئی باتوں کی اصلاح کرنا تھی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار و منافقین کے طوفان اٹھانے کے خوف سے انقباض محسوس کرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورت کا آغاز ہی اس بات سے کیا: ”اے نبی! اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان۔“ یہ لمبی بات کو مختصر کرنے کی ایک خوب صورت مثال ہے، جو یہ تھی کہ اللہ سے ڈر، کفار و منافقین یا کسی اور سے مت ڈر اور اللہ کا حکم مان اور کفار و منافقین کا کہنا مت مان۔ ➍ {اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:” اِنَّ “} عموماً تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ کسی بات کی وجہ بیان کرتا ہے۔ ”بے شک اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کا علم رکھنے والا، کمال حکمت والا ہے“ یعنی اس کے احکام، علم و حکمت پر مبنی ہیں، جب کہ کفار کے رسوم و رواج اور ضابطوں کی بنیاد وہم و گمان، جہل اور بے وقوفی پر ہے۔ آگے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ منہ سے کہہ دینے سے کوئی عورت ماں نہیں بن جاتی، نہ کوئی شخص منہ سے کہہ دینے سے بیٹا بن جاتا ہے۔ وہ تقدیس جو حقیقی ماں، بہن، بیٹی اور بہو کے رشتے میں ہوتی ہے، مصنوعی رشتے میں کبھی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ رشتے عام میل ملاپ کی وجہ سے برائی پھیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے کسی کافر یامنافق سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ایک اللہ سے ڈریں اور اسی کا حکم مان کر جاہلیت کی ان تمام رسوم کا خاتمہ کر دیں۔ ➎ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے امت کو تنبیہ کی مؤثر ترین صورت اختیار فرمائی گئی ہے کہ جب یہ حکم سب سے بڑے شخص کو ہے تو دوسروں کے لیے تو اس کی تاکید اس سے بھی زیادہ ہے۔
پیروی کرو اُس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جا رہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اس کی تابعداری کریں (یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی پیروی رکھنا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں وحی ہوتی ہے، اے لوگو! اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کریں بے شک تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی پیروی کر جو تیرے رب کی جانب سے تیری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ پورا باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر توکل رکھو ٭٭
تنبیہ کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔ تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لیے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بے پایاں حکمت سے اس کی کوئی بات، کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو، تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچا رہے۔ جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے۔
2-1یعنی قرآن کی اور احادیث کی بھی، اس لئے کہ احادیث کے الفاظ گو نبی کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے معانی و مفہوم من جانب اللہ ہی ہیں۔ اس لئے ان کو وحی خفی کہا یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے۔
(آیت 2) ➊ { وَ اتَّبِعْ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ:} یعنی منہ بولے بیٹوں کے متعلق، جاہلیت کی کسی رسم کے متعلق، یا دنیا و آخرت کی کسی بھی بات کے متعلق آپ کسی کافر یا منافق کی بات ماننے کے بجائے اس حکم کی پیروی کریں جو آپ کو آپ کے پروردگار کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا:} تم اللہ کی وحی یعنی قرآن و سنت کی پیروی کے بارے میں جو کچھ بھی کرتے ہو، وہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ تم اس کے احکام پر خوش دلی سے عمل کرو یا تنگ دلی سے، یا عمل نہ کرو، وہ تمھیں تمھارے عمل کے مطابق جزا دے گا۔ ➌ یہاں جمع کے ساتھ خطاب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ پہلے تمام خطاب بھی دراصل پوری امت کے لیے ہیں۔
اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں، وه کار سازی کے لئے کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تم اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کام بنانے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ اپنے پروردگار پر توکل کریں بے شک اللہ تعالیٰ کارسازی کیلئے کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ پر بھروسا کر اور اللہ وکیل کی حیثیت سے کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر توکل رکھو ٭٭
تنبیہ کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہو جائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔ تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لیے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بے پایاں حکمت سے اس کی کوئی بات، کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو، تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچا رہے۔ جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے۔
3-1اپنے تمام معاملات اور احوال میں۔ 3-2ان لوگوں کے لئے جو اس پر بھروسہ رکھتے، اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
(آیت 3){ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ …:} یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنے کے نتیجے میں کفار و منافقین کی طرف سے جو کچھ کہا جائے یا کیا جائے اس کی پروا مت کریں، اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ اس کے سپرد جو کام کر دیاجائے وہ اس کے لیے کافی ہے۔
اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دِل نہیں رکھے ہیں، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے کسی مرد کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے اور نہ ہی تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو اور نہ ہی اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (حقیقی) بیٹا بنایا ہے اور وہی (سیدھے) راستے کی ہدایت کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے کسی آدمی کے لیے اس کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ اس نے تمھاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے بیٹے بنایا ہے، یہ تمھارا اپنے مونہوں سے کہنا ہے اور اللہ سچ کہتا ہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔ بیان فرمایا کہ ’ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہو جاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہو جاتا ‘۔ اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی۔ جیسے فرمایا «مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا» ۱؎ [58-المجادلة:3] ’ ایسا کہہ دینے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں ‘۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ ’ تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں ‘۔ یہ آیت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنا رکھا تھا۔ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔
اس آیت سے اس نسبت اور اس الحاق کا توڑ دینا منظور ہے۔ جیسے کہ اسی سورت کے اثنا میں ہے آیت «مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:40] ، ’ تم میں سے کسی مرد کے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے ‘۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک قریشی کے بارے میں اتری ہے جس نے مشہور کر رکھا تھا کہ اس کے دو دل ہیں اور دونوں عقل و فہم سے پر ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3199، قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد] زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔“ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
پہلے تو رخصت تھی کہ لے پالک لڑکے کو پالنے والے کی طرف نسبت کرکے اس کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے لیکن اب اسلام نے اس کو منسوخ کر دیا ہے اور فرما دیا ہے کہ ’ ان کے جو اپنے حقیقی باپ ہیں ان ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو۔ عدل نیکی انصاف اور سچائی یہی ہے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4782] بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آ جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہو جاؤگی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1453]
الغرض یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے اب صاف لفظوں میں ایسے لڑکوں کی بیویوں کی بھی حلت انہیں لڑکا بنانے والے کے لیے بیان فرما دی۔ اور جب زید رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی صاحبہ زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح ان سے کر لیا «لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» ۱؎ [33-الأحزاب:37] اور مسلمان اس ایک مشکل سے بھی چھوٹ گئے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت «وَحَلَاىِٕلُ اَبْنَاىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ» [4-النساء:23] یعنی ’ تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں ‘۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2645] یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں۔
مسند احمد وغیرہ میں ہے، { سیدنا ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم سب خاندان عبدالمطلب کے چھوٹے بچوں کو مزدلفہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ہی جمرات کی طرف رخصت کر دیا اور ہماری رانیں تھپکتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹو سورج نکلنے سے پہلے جمرات پر کنکریاں نہ مارنا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1940، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ واقعہ سنہ ١٠ ہجری ماہ ذی الحجہ کا ہے اور اس کی دلالت ظاہر ہے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں یہ حکم اترا یہ سنہ ۸ ھجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔ صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ { انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2151]
اسے بیان فرما کر کہ ’ لے پالک لڑکوں کو ان کے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو پالنے والوں کی طرف نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں ‘۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور فرمایا ”یہ تمہاری چچازاد بہن ہے انہیں اچھی طرح رکھو۔“ سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم فرمانے لگے ”اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی“، سیدنا علی رضی اللہ عنہا نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرے بھائی کی لڑکی ہے۔“ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میرے چچا کی لڑکی ہیں اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں“ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ { صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے }۔ سیدنا علی رضی اللہ سے فرمایا: { تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں }۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے }، حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4251] اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں۔
سب سے بہتر تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم حق سنا کر اور دعویداروں کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو }۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔“ ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”واللہ!اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3508] حدیث شریف میں ہے کہ { جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:35080] اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ جب تم نے اپنے طور پر جتنی طاقت تم میں ہے تحقیق کرکے کسی کو کسی کی طرف نسبت کیا اور فی الحقیقت وہ نسبت غلط ہے تو اس خطا پر تمہاری پکڑ نہیں ‘۔ چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں کہیں «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا» ۱؎ [2-البقرة:286] ’ اے اللہ! ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عزاسمہ نے فرمایا ’ میں نے یہ دعاقبول فرمائی ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:126] صحیح بخاری شریف میں ہے { جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے در گزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ’ ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمداً کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں ‘۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ { باوجود جاننے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3508] آیت قرآن جو اب تلاوتاً منسوخ ہے اس میں تھا «أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ» یعنی ’ تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا (یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔“ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:47/1:صحیح] ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔ اور حدیث میں ہے { تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں، نسب میں طعنہ زنی، میت پر نوحہ، ستاروں سے باران طلبی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:934]
4-1بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک منافق یہ دعوی کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں۔ ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا دل کفر اور کافروں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت اس کی تردید میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہر تھا، جو بڑا ہوشیار مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعوی تھا کہ میرے تو دو دل ہیں جن سے میں سوچتا سمجھتا ہوں۔ جب کہ محمد کا ایک ہی دل ہے۔ یہ آیت اس کے رد میں نازل ہوئی۔ (ایسر التفاسیر) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آگے جو دو مسئلے بیان کیے جا رہے ہیں، یہ ان کی تمہید ہے یعنی جس طرح ایک شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرلے یعنی یہ کہہ دے کہ تیری پشت میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کی پشت تو اس طرح کہنے سے اس کی بیوی، اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔ یوں اس کی دو مائیں نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کو اپنا بیٹا لے پالک بیٹا بنا لے تو وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں بن جائے گا بلکہ وہ بیٹا اپنے باپ کا ہی رہے گا اس کے دو باپ نہیں ہوسکتے۔ 4-2یہ مسئلہ ظہار کہلاتا ہے ِ اس کی تفصیل سورة مجادلۃ میں آئے گی۔ 4-3اس کی تفصیل اسی سورت میں آگے آئے گی۔ 4-4یعنی کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جائے گی، نہ بیٹا کہنے سے بیٹا بن جائے گا، یعنی ان پر بنوت کے شرعی احکام جاری نہیں ہونگے۔ 4-5اس لئے اس کا اتباع کرو اور ظہار والی عورت کو ماں اور لے پالک کو بیٹا مت کہو، خیال رہے کہ کسی کو پیار اور محبت میں بیٹا کہنا اور بات ہے اور لے پالک کو حقیقی بیٹا تصور کر کے بیٹا کہنا اور بات ہے۔ پہلی بات جائز ہے، یہاں مقصود دوسری بات کی ممانعت ہے۔
(آیت 4) ➊ { مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِهٖ …: ” أَدْعِيَاءُ“ ”دَعِیٌّ“} ({فَعِيْلٌ } بمعنی مفعول) کی جمع ہے۔ اصل مقصود کو بیان کرنے سے پہلے تمہید کے طور پر یہ بات بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے کہ ایک میں ایمان ہو اور ایک میں کفر۔ سینے میں دل ایک ہی ہے، وہ یا مومن ہو گا یا منافق یا کافر۔ اسی طرح ہر شخص کی ماں ایک ہی ہے، جس کے پیٹ میں سے وہ پیدا ہوا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے بعد کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ اس کی ماں بن جائے، نہ تمھارے اپنی بیویوں کو ماں کی طرح حرام کہنے سے وہ ماں بن جاتی ہیں، اور ہر شخص کا باپ بھی ایک ہی ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ پہلے تو اس کا باپ ایک تھا، پھر کسی نے اس کو بیٹا کہہ دیا تو وہ اس کا باپ بن گیا۔ یہ صرف تمھارے منہ کی باتیں ہیں اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی بات کو نہیں مانتا، وہ تو وہی بات کہتا ہے جو حقیقت اور سچ ہے اور وہ اصل سیدھے راستے ہی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ظہار کا لفظ {” ظَهْرٌ “} سے مشتق ہے، جس کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اپنی بیوی کو یہ کہہ دینا کہ تم مجھ پر ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہو۔ اس کے تفصیلی احکام سورۂ مجادلہ میں آئیں گے۔ منہ بولے بیٹے کے متعلق تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے، اس کی مطلقہ سے نکاح کی تفصیل چند آیات کے بعد آئے گی۔ ➋ ان آیات میں کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے منع کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اسے حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا، وہ بیٹا بنانے والے کی ولدیت کے ساتھ مشہور ہوتا اور اس کا وارث قرار پاتا تھا، البتہ محبت اور شفقت کے اظہار کے لیے کسی کو بیٹا کہہ کر پکارا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کو {”يَا بُنَيَّ“ } کہہ کر پکارا۔ [دیکھیے مسلم، الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ یا بنيّ …: ۲۱۵۱ ] اور ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبد المطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھیوں پر سوار کرکے آگے بھیج دیا تھا، تو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر تھپکیاں دے کر فرمانے لگے: [ أُبَيْنِيَّ! لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ] [ أبوداوٗد، المناسک، باب التعجیل من جمع: ۱۹۴۰ ] ”میرے پیارے بیٹو! جب تک سورج طلوع نہ ہو جمرات کو کنکر نہ مارو۔“
منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں نا دانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم نہ ہو تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم سے جو بھول چوک ہو جائے اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں البتہ (گناہ اس پر ہے) جو تم دل سے ارادہ کرکے کرو۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپ نہ جانو تو وہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے دوست ہیں اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جس میں تم نے خطا کی اور لیکن جو تمھارے دلوں نے ارادے سے کیا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔ بیان فرمایا کہ ’ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہو جاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہو جاتا ‘۔ اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی۔ جیسے فرمایا «مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا» ۱؎ [58-المجادلة:3] ’ ایسا کہہ دینے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں ‘۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ ’ تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں ‘۔ یہ آیت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنا رکھا تھا۔ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔
اس آیت سے اس نسبت اور اس الحاق کا توڑ دینا منظور ہے۔ جیسے کہ اسی سورت کے اثنا میں ہے آیت «مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:40] ، ’ تم میں سے کسی مرد کے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے ‘۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک قریشی کے بارے میں اتری ہے جس نے مشہور کر رکھا تھا کہ اس کے دو دل ہیں اور دونوں عقل و فہم سے پر ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3199، قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد] زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔“ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
پہلے تو رخصت تھی کہ لے پالک لڑکے کو پالنے والے کی طرف نسبت کرکے اس کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے لیکن اب اسلام نے اس کو منسوخ کر دیا ہے اور فرما دیا ہے کہ ’ ان کے جو اپنے حقیقی باپ ہیں ان ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو۔ عدل نیکی انصاف اور سچائی یہی ہے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4782] بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آ جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہو جاؤگی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1453]
الغرض یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے اب صاف لفظوں میں ایسے لڑکوں کی بیویوں کی بھی حلت انہیں لڑکا بنانے والے کے لیے بیان فرما دی۔ اور جب زید رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی صاحبہ زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح ان سے کر لیا «لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» ۱؎ [33-الأحزاب:37] اور مسلمان اس ایک مشکل سے بھی چھوٹ گئے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت «وَحَلَاىِٕلُ اَبْنَاىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ» [4-النساء:23] یعنی ’ تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں ‘۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2645] یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں۔
مسند احمد وغیرہ میں ہے، { سیدنا ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم سب خاندان عبدالمطلب کے چھوٹے بچوں کو مزدلفہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ہی جمرات کی طرف رخصت کر دیا اور ہماری رانیں تھپکتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹو سورج نکلنے سے پہلے جمرات پر کنکریاں نہ مارنا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1940، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ واقعہ سنہ ١٠ ہجری ماہ ذی الحجہ کا ہے اور اس کی دلالت ظاہر ہے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں یہ حکم اترا یہ سنہ ۸ ھجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔ صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ { انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2151]
اسے بیان فرما کر کہ ’ لے پالک لڑکوں کو ان کے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو پالنے والوں کی طرف نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں ‘۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور فرمایا ”یہ تمہاری چچازاد بہن ہے انہیں اچھی طرح رکھو۔“ سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم فرمانے لگے ”اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی“، سیدنا علی رضی اللہ عنہا نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرے بھائی کی لڑکی ہے۔“ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میرے چچا کی لڑکی ہیں اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں“ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ { صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے }۔ سیدنا علی رضی اللہ سے فرمایا: { تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں }۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے }، حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4251] اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں۔
سب سے بہتر تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم حق سنا کر اور دعویداروں کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو }۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔“ ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”واللہ!اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3508] حدیث شریف میں ہے کہ { جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:35080] اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ جب تم نے اپنے طور پر جتنی طاقت تم میں ہے تحقیق کرکے کسی کو کسی کی طرف نسبت کیا اور فی الحقیقت وہ نسبت غلط ہے تو اس خطا پر تمہاری پکڑ نہیں ‘۔ چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں کہیں «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا» ۱؎ [2-البقرة:286] ’ اے اللہ! ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عزاسمہ نے فرمایا ’ میں نے یہ دعاقبول فرمائی ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:126] صحیح بخاری شریف میں ہے { جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے در گزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ’ ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمداً کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں ‘۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ { باوجود جاننے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3508] آیت قرآن جو اب تلاوتاً منسوخ ہے اس میں تھا «أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ» یعنی ’ تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا (یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔“ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:47/1:صحیح] ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔ اور حدیث میں ہے { تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں، نسب میں طعنہ زنی، میت پر نوحہ، ستاروں سے باران طلبی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:934]
5-1اس حکم سے اس رواج کی ممانعت کردی گئی جو زمانہ جاہلیت سے چلا آرہا تھا اور ابتدائے اسلام میں بھی رائج تھا کہ لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے، حتی کہ قرآن کریم کی آیت ادعوھم لآبائھم نازل ہوگئی اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو حذیفہ کے گھر میں بھی ایک مسئلہ پیدا ہوگیا، جنہوں نے سالم کو بیٹا بنایا ہوا تھا جب منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھنے سے روک دیا گیا تو اس سے پردہ کرنا ضروری ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ کی بیوی کو کہا کہ اسے دودھ پلا کر اپنا رضاعی بیٹا بنالو کیونکہ اس طرح تم اس پر حرام ہوجاؤ گی چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یعنی جن کے حقیقی باپوں کا علم ہے۔ اب دوسری نسبتیں ختم کر کے انھیں کی طرف انھیں منسوب کرو۔ البتہ جن کے باپوں کا علم نہ ہو سکے تو تم انھیں اپنا دینی بھائی اور دوست سمجھو، بیٹا مت سمجھو۔ 5-2اس لئے کہ خطا معاف ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی صراحت ہے۔ 5-3یعنی جو جان بوجھ کر انتساب کرے گا وہ سخت گناہگار ہوگا، حدیث میں آتا ہے، ' جس نے جانتے بوجھتے اپنے غیر باپ کی طرف منسوب کیا۔ اس نے کفر کا ارتکاب کیا (صحیح بخاری)
(آیت 5) ➊ { اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ:} یعنی جو متبنٰی بنائے جا چکے ہیں اب انھیں ان کے باپوں ہی کی نسبت سے پکارو۔ ان آیات کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل باپ کے سوا کسی دوسرے باپ کی طرف منسوب کرنے سے منع کر دیا اور اس کی سخت وعید بیان فرمائی، چنانچہ زید رضی اللہ عنہ کو بھی زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوْهُ إِلاَّ زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتّٰی نَزَلَ الْقُرْآنُ: «{ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ }» ] [ بخاري، التفسیر، باب: «أدعوھم لآبائھم…» : ۴۷۸۲ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) زید بن حارثہ کو ہم زید بن محمد ہی کہا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن اترا: «{ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ }» ”انھیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَيْرِ أَبِيْهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيْهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ] [ بخاري، الفرائض، باب من ادعٰی إلیٰ غیر أبیہ: ۶۷۶۶ ] ”جس شخص نے اپنے باپ کے غیر کی طرف اپنی نسبت کی اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں، تو اس پر جنت حرام ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَرْغَبُوْا عَنْ آبَاءِ كُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيْهِ فَهُوَ كُفْرٌ ] [ بخاري، الفرائض، باب من ادعی إلی غیر أبیہ: ۶۷۶۸] ”اپنے باپوں سے بے رغبتی مت کرو، کیونکہ جس نے اپنے باپ سے بے رغبتی کی تو یہ کام کفر ہے۔“ واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرٰی أَنْ يَّدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلٰی غَيْرِ أَبِيْهِ، أَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ، أَوْ يَقُوْلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ ] [بخاري، المناقب، باب: ۳۵۰۹ ] ”سب سے بڑے بہتانوں میں سے یہ بات ہے کہ آدمی اپنی نسبت اپنے باپ کے غیر کی طرف کرے، یا اپنی آنکھوں کو وہ دکھائے جو انھوں نے نہیں دیکھا (خواب گھڑ کر سنائے) یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ بات کہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔“ ➋ { هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ:” اَقْسَطُ “} اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منہ بولا بیٹا بنانے والے کی طرف باپ ہونے کی نسبت کرنا بھی قسط (انصاف) ہے، ہاں، اصل باپ کی طرف نسبت زیادہ انصاف ہے۔ اس کا جواب شعراوی نے یہ دیا ہے کہ زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ پر ترجیح دے کر آپ کے پاس رہنا پسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بیٹے جیسی سعادت دیکھ کر اسے بیٹا بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔ ہاں، اصل باپ کی طرف نسبت کو {” اَقْسَطُ “} کہہ کر دوسرے کی طرف نسبت سے منع فرما دیا، کیونکہ حق یہی ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات ہی فرماتا ہے۔ ➌ {فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ مَوَالِيْكُمْ: ”مَوَالِيْ“ ”مَوْلٰي“} کی جمع ہے، یہاں اس سے مراد دوست ہیں۔ یعنی اگر ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ دین میں تمھارے بھائی اور دوست ہیں۔ کسی کی طرف نسبت کے بجائے انھیں {”يَا أَخِيْ، يَا مَوْلَايَ“} (اے میرے بھائی، اے میرے دوست) کہہ کر پکارو۔ ➍ { وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ …:} یعنی ممانعت سے پہلے تم منہ بولے بیٹوں کو ان کے پرورش کرنے والوں کا بیٹا کہتے رہے، یا کسی کو علم نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ دیا، یا بلا ارادہ زبان سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ بیٹھے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ گناہ تو اس میں ہے کہ ممانعت کے بعد دیدہ و دانستہ کسی کو اس کے باپ کے سوا دوسرے کا بیٹا کہو۔ تمھاری خطا پر گناہ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اس نے خطا اور نسیان کو معاف فرما دیا ہے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ منہ بولے بیٹے بنانے کو ان آیات کے ساتھ منسوخ قرار دیتے ہیں، مگر یہ درست نہیں، کیونکہ منسوخ تو تب ہوتا جب وہ پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا۔ وہ تو اسلام سے پہلے کی ایک رسم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ختم فرمایا، اسے منسوخ نہیں کہا جا سکتا۔
بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، مگر کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کر سکتے ہو یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو یہ کتاب میں لکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
نبی مؤمنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق (تصرف) رکھتے ہیں۔ اور آپ کی بیویاں ان (مؤمنین) کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتہ دار بہ نسبت عام مؤمنین و مہاجرین کے (وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ان کا بعض، بعض پر دوسرے ایمان والوں اور ہجرت کرنے والوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے کوئی نیکی کرو۔ یہ (حکم) کتاب میں ہمیشہ سے لکھا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تکمیل ایمان کی ضروری شرط ٭٭
چونکہ رب العزت «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو علم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیار دیا۔ یہ خود اپنے لیے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ دل و جان قبول کرتے جائیں۔ جیسے فرمایا «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:65] ، ’ تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو دل و جان بہ کشادہ پیشانی قبول نہ کر لیں ‘۔ صحیح حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی با ایمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اس کی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:15] ایک اور صحیح حدیث میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں نہیں عمر! جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں }۔ یہ سن کر جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ”قسم اللہ کی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب ٹھیک ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6632] بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے { حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مر جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2399]
پھر فرماتا ہے ’ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود ان کی اپنی مائیں ‘۔ ہاں ماں کے اور احکام مثلاً خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھا ہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ کہ حکم کا اثبات۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المؤمنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو المؤمنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ خیال رہے کہ ابوالمؤمنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آ جائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ”نہیں کہہ سکتے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «اُمَّهَاتُهُمْ» کے بعد یہ لفظ ہیں «وَهُوَ اَبٌ لَّهُمْ» یعنی ’ آپ ان کے والد ہیں ‘۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔ اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہارے لیے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو! تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجا کرے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے کی ممانعت فرماتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:8،قال الشيخ الألباني:حسن]
دوسرا قول یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے «مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:40] ’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں ‘۔ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کر دیا۔ پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی چارہ کرا دیا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”یہ حکم خاص ہم انصار و مہاجرین کے بارے میں اترا ہے ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس کچھ مال نہ تھا یہاں آ کر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فلاں کے ساتھ۔ تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک زرقی شخص کے ساتھ۔ خود میرا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہو جاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لیے بھی ہوگیا۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم:443/3] پھر فرماتا ہے ’ ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے ان مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی ‘۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لیے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
6-1نبی اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپکو مومنوں کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حق دار، آپ کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان کے جن مالوں کا مطالبہ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ پر نچھاور کردیں چاہے انھیں خود کتنی ہی ضرورت ہو۔ آپ سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں (جیسے حضرت عمر کا واقعہ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہوگی (فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ) (النساء۔65 کے مطابق آدمی مومن نہیں ہوگا۔ اسی طرح جب تک آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی وہ صحیح مومن نہ ہوگا۔ 6-2یعنی احترام و تکریم میں اور ان سے نکاح نہ کرنے میں۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مائیں بھی ہیں 6-3یعنی اب مہاجرت، اخوت کی وجہ سے وراثت نہیں ہوگی۔ اب وراثت صرف قریبی رشتہ کی بنیاد پر ہوگی۔ 6-4ہاں غیر رشتہ داروں کے لئے احسان اور بر و صلہ کا معاملہ کرسکتے ہو، نیز ان کے لئے ایک تہائی مال میں وصیت بھی کرسکتے ہو۔ 6-5یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو عارضی طور پر مصلحتًا دوسروں کو بھی وارث قرار دیا گیا تھا، لیکن اللہ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ کردیا جائے گا۔ چناچہ اسے منسوخ کر کے پہلا حکم بحال کردیا ہے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی تو لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ۔ کی رو سے مومن نہیں، ٹھیک اسی طرح اطاعت رسول میں کوتاہی بھی لا یومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ کا مصداق بنا دے گی۔ 6-2یعنی احترام و تکریم میں اور ان سے نکاح نہ کرنے میں۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مائیں بھی ہیں۔ 6-3یعنی اب مہاجرت، اخوت اور موالات کی وجہ سے وراثت نہیں ہوگی۔ اب وراثت صرف قریبی رشتہ کی بنیاد پر ہی ہوگی۔ 6-4ہان تم غیر رشتے داروں کے لیے احسان اور بر و صلہ کا معاملہ کرسکتے ہو، نیز انکے لیے ایک تہائی مال میں سے وصیت بھی کرسکتے ہو۔ 6-5یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے گو عارضی طور پر مصلحتا دوسروں کو بھی وارث قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اللہ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ کردیا جائے گا۔ چناچہ اسے منسوخ کر کے پہلا حکم بحال کردیا گیا ہے۔
(آیت 6) ➊ { اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ:} پچھلی آیات میں منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارنے کا حکم دیا، جس میں زید رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہنا بھی شامل تھا، تو ضروری تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں سے تعلق واضح کیا جائے کہ باپ کی طرف نسبت کی تاکید کو دیکھ کر باپ کے تعلق کو نبی کے تعلق سے زیادہ اہم نہ سمجھ لینا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمھارا جو تعلق ہے وہ باپ ہی نہیں تمھاری جان سے بھی زیادہ قرب کا ہے۔ ➋ {” اَلنَّبِيُّ “} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ نبی“ کیا گیا ہے۔ ➌ {” اَوْلٰى “} کا معنی {”أَقْرَبُ“} (زیادہ قریب) بھی ہے اور {”أَحَقُّ“} (زیادہ حق رکھنے والا) بھی۔ یہاں اگر معنی {”أَقْرَبُ“} کیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ کسی قرابت دار کا قرب آدمی کے ساتھ اتنا نہیں جتنا قرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ اس قرب سے مراد تعلق کا قرب ہے نہ کہ جسمانی قرب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ہر مومن کے ساتھ اس کی جان سے بھی زیادہ قریب رہتے ہوں۔ بلکہ جس طرح تمام قرابت دار جہاں بھی ہوں ان کا آپس میں نسبی قرب اور تعلق قائم رہتا ہے، اسی طرح مومن جہاں بھی ہو اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت تمام رشتہ داروں حتیٰ کہ اس کی اپنی جان کی قرابت سے بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ اس کے رشتہ دار، حتیٰ کہ اس کا نفس بھی بعض اوقات اسے نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لیے خیر ہی خیر کا باعث ہیں۔ مگر یہاں{ ”أَحَقُّ“} کا معنی زیادہ مناسب ہے، بلکہ {”أَقْرَبُ“} سے مراد بھی {”أَحَقُّ“} (زیادہ حق دار) ہی ہے، یعنی اس قرب کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق رکھنے والے ہیں، کیونکہ اس کے متصل بعد رشتہ داروں کے بارے میں یہی لفظ فرمایا: «{ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ }» یعنی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اس کے تمام رشتہ داروں سے، حتیٰ کہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان مال میں اپنا تصرف (اتنا) نہیں چلتا جتنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی حکم کرے تو فرض ہے۔“ (موضح) آگے اسی سورت میں فرمایا: «{ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا }» [ الأحزاب: ۳۶ ] ”اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو یقینا وہ گمراہ ہو گیا، واضح گمراہ ہونا۔“ اپنی جان سے بھی زیادہ حق رکھنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی ذات سے بھی بڑھ کر آپ کا حکم مانا جائے۔ ایک طرف دنیا جہاں کے کسی بھی شخص، حتیٰ کہ اپنی ذات کا تقاضا ہو، دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہو تو آپ کے فرمان کو ترجیح دی جائے، اور یہ بات بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰی أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَ وَلَدِهِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِيْنَ ] [ بخاري، الإیمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان: ۱۴، ۱۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس کے لیے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! حَتّٰی أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ ] ”نہیں (اے عمر!) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک میں تیرے لیے تیری جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: [ فَإِنَّهُ الْآنَ، وَاللّٰهِ! لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ ] ”اب اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْآنَ يَا عُمَرُ! ] ”اب، اے عمر!“ [ بخاري، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي صلی اللہ علیہ وسلم ؟: ۶۶۳۲ ] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلٰی بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُ وْا إِنْ شِئْتُمْ: «{ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ }» [الأحزاب: ۶] فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوْا، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِيْ فَأَنَا مَوْلاَهُ ] [بخاري، الاستقراض، باب الصلاۃ علی من ترک دینا: ۲۳۹۹، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جو بھی مومن ہے، میں دنیا اور آخرت میں اس پر زیادہ حق رکھنے والا، یا سب سے زیادہ اس سے قرب رکھنے والا ہوں، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ» تو جو مومن کوئی مال چھوڑ جائے اس کے وارث اس کے عصبہ ہوں گے، جو بھی ہوں اور جو کوئی قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو (اس کا وارث) میرے پاس آئے، میں اس کا ولی ہوں۔“ ➍ { وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کی بنا پر جو اوپر ذکر ہوئی، ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی منہ بولی مائیں تو کسی معنی میں بھی ان کی مائیں نہیں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ مائیں ہونے سے مراد ان کی تعظیم و تکریم ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان سے نکاح جائز نہیں۔ دوسرے احکام مثلاً، خلوت، پردہ، ان کی اولاد سے شادی وغیرہ میں وہ ان کی ماں کی طرح نہیں۔ ➎ { وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی آبادکاری اور معاشی ضرورتوں کے لیے ایک مہاجر اور ایک انصاری کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا، اسے مؤاخات کہتے ہیں۔ یہ بھائی چارہ اتنا بڑھا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث اور ولی قرار پا گئے۔ فوت ہونے پر مہاجر کی میراث رشتہ داروں کے بجائے اس کے انصاری بھائی کو ملتی اور انصاری کی میراث مہاجر کو ملتی۔ سورۂ احزاب کی اس آیت میں اس کے منسوخ ہونے کا حوالہ دیا گیا۔ دیکھیے سورۂ انفال (۷۲ تا ۷۴) یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ منہ کے ساتھ کہنے سے نہ کوئی ماں بنتی ہے، نہ بیٹا، نہ ہی بھائی، اس لیے اب وراثت کے زیادہ حق دار رشتے کے بھائی ہیں، نہ کہ حلیف ہونے یا عقد مؤاخات کی وجہ سے بننے والے بھائی۔ ➏ { اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِيٰٓىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا:} یعنی اپنے مومن یا مہاجر بھائیوں کے ساتھ میراث کے سوا کوئی نیکی کرو تو درست ہے، مثلاً زندگی میں ان سے احسان والا سلوک کرو، انھیں ہدیہ وغیرہ دو، مرنے کے بعد ان کے حق میں ثلث تک وصیت کر جاؤ، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ➐ { كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا:} یعنی لوحِ محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو لوگوں نے دوسروں کو وارث بنانے کا رواج بنا لیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ ہو گا، اس لیے اسے منسوخ کر کے اصل حکم بحال کر دیا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم کتاب اللہ، یعنی قرآن مجید میں پہلے لکھا جا چکا ہے، کیونکہ یہ حکم سورۂ انفال (۷۲ تا ۷۴) میں نازل ہوا جو سورۂ احزاب سے پہلے نازل ہوئی۔ (ابن عاشور)
اور (اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسی ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو۔ جب ہم نے نبیوں سے عہد و پیمان لیا تھا اور آپ سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی اور ہم نے ان سب سے سخت عہد لیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میثاق انبیاء ٭٭
فرمان ہے کہ ’ ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہدو وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے ‘۔ اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ» ۱؎ [3-آل عمران:81] ، یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب و حکمت دے کر میں تمہیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آ جائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔ بولو تمہیں اس کا اقرار ہے؟ اور میرے سامنے اس کا پختہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں ہمیں اقرار ہے ‘۔ جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ’ بس اب گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ‘۔ یہاں عام نبیوں کا ذکر کر کے پھر خاص جلیل القدر پیغمبروں کا نام بھی لے دیا۔ اسی طرح ان کے نام اس آیت میں بھی ہیں «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ» ۱؎ [42-الشورى:13] ، یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے جو زمین پر اللہ کے پہلے پیغمبر تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے جو سب سے آخری پیغمبر تھے۔ اور ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر ہے جو درمیانی پیغمبر تھے۔ ایک لطافت اس میں یہ ہے کہ پہلے پیغمبر آدم علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر نوح علیہ السلام کا ذکر کیا اور آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور درمیانی پیغمبروں میں سے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر کیا۔ یہاں تو ترتیب یہ رکھی کہ فاتح اور خاتم کا ذکر کر کے بیچ کے نبیوں کا بیان کیا اور اس آیت میں سب سے پہلے خاتم الانیباء کا نام لیا اس لیے کہ سب سے اشرف وافضل آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ پھر یکے بعد دیگرے جس طرح آئے ہیں اسی طرح ترتیب وار بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے تمام نبیوں پر اپنا درود وسلام نازل فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { پیدائش کے اعتبار سے میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں پس مجھ سے ابتداء کی ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:661، ] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن اس کے ایک راوی سعید بن بشیر ضعیف ہیں۔ اور سند سے یہ مرسل مروی ہے اور یہی مشابہت رکھتی ہےاور بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ پانچ پیغمبر ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور محمد «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» اور ان میں بھی سب سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا ایک راوی حمزہ ضعیف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں جس عہد ومیثاق کا ذکر ہے یہ وہ ہے جو روز ازل میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے تمام انسانوں کو نکال کر لیا تھا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بلند کیا گیا آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا ان میں مالدار مفلس خوبصورت اور ہر طرح کے لوگ دیکھے تو کہا کہ اللہ کیا اچھا ہوتا کہ تو نے ان سب کو برابر ہی رکھا ہوتا اللہ تعالیٰ جل و علا نے فرمایا کہ ’ یہ اس لئے ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے ‘۔ ان میں جو انبیاء کرام علیہم السلام تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا وہ روشنی کے مانند نمایاں تھے اور ان پر نور برس رہا تھا ان سے نبوت و رسالت کا ایک اور خاص عہد لیا گیا تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ صادقوں سے ان کے صدق کا سوال ہو یعنی ان سے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچانے والے تھے۔ ان کی امتوں میں سے جو بھی ان کو نہ مانے اسے سخت عذاب ہوگا۔ اے اللہ! تو گواہ رہ ہماری گواہی ہے ہم دل سے مانتے ہیں کہ بیشک تیرے رسولوں نے تیرا پیغام تیرے بندوں کو بلا کم وکاست پہنچا دیا۔ انہوں نے پوری خیر خواہی اور حق کو صاف طور پر نمایاں طریقے سے واضح کر دیا جس میں کوئی پوشیدگی کوئی شبہ کسی طرح کا شک نہ رہا گو بدنصیب ضدی جھگڑالو لوگوں نے انہیں نہ مانا۔ ہمارا ایمان ہے کہ تیرے رسولوں کی تمام باتیں سچ اور حق ہیں اور جس نے ان کی راہ نہ پکڑی وہ گمراہ اور باطل پر ہے۔
7-1اس عہد سے مراد ہے؟ بعض کے نزدیک یہ وہ عہد ہے جو ایک دوسرے کی مدد اور تصدیق کا انبیاء (علیہم السلام) سے لیا گیا تھا (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ) 3۔ آل عمران:81) میں ہے، بطور خاص پانچ انبیاء (علیہم السلام) کا نام لیا گیا جن سے ان کی اہمیت و عظمت واضح ہے اور ان میں بھی نبی کا ذکر سب سے پہلے ہے درآں حالیکہ نبوت کے لحاظ سے آپ سب سے متأخر ہیں، اس سے آپ کی عظمت اور شرف کا جس طرح اظہار ہو رہا ہے، محتاج وضاحت نہیں۔
(آیت 7) ➊ { وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ …:} جاہلی معاشرے میں منہ بولے بیٹوں کی ان کے باپ کی طرف نسبت کرنے کے حکم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنٰی زید رضی اللہ عنہ کی طلاق کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کے حکم پر عمل نہایت مشکل تھا، کیونکہ متبنٰی کا مسئلہ ان کے دینی عقیدے کی شکل اختیار کر چکا تھا اور ان کے رگ و پے میں رچ چکا تھا۔ پھر زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح میں طرح طرح کی باتوں کا اندیشہ بھی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عہد کی طرف توجہ دلائی جو اس نے تمام انبیاء سے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا، جس میں ان پر یہ فریضہ عائد کیا کہ وہ ہر حال میں احکام پر عمل کرنے میں اور انھیں لوگوں تک پہنچانے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کریں گے، نہ ہی اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ڈریں گے۔ یہی بات اس سورۂ احزاب میں دوبارہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آیت (۳۸، ۳۹) میں آ رہی ہے۔ انبیاء سے لیے جانے والے میثاق کا ذکر سورۂ احزاب کی اس آیت اور آیت (۳۸، ۳۹) کے علاوہ سورۂ آل عمران کی آیت (۸۱) اور سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۳) میں بھی آیا ہے کہ ہر پیغمبر دوسرے تمام پیغمبروں کی تصدیق کرے گا، اپنے آپ پر اور لوگوں پر دین قائم کرے گا۔ دین میں تفرقے سے بچے گا۔ مشرکین پر گراں گزرنے کے باوجود اللہ کے دین کی دعوت میں کوتاہی نہیں کرے گا۔ ➋ { وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ …:} تمام انبیاء سے عہد لینے کے بعد پانچ پیغمبروں کا نام لے کر عہد لینے کی صراحت فرمائی۔ اس سے ان پیغمبروں کی شان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر پیغمبر کی دعوت مدت دراز تک جاری رہی، پھر سب سے آخر میں آنے کے باوجود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پہلے ذکر فرمایا۔ آپ کے بعد باقی انبیاء کا نام ان کے تشریف لانے کی ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت کا اظہار مقصود ہے اور یہ بھی کہ یہاں اس عہد کا ذکر خاص آپ کے لیے کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ دنیا میں سب سے آخر میں تشریف لائے، مگر وجود میں سب سے پہلے آئے، یعنی سب سے پہلے پیدا ہوئے، مگر یہ بات بالکل بے دلیل ہے۔ جس حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کب سے نبی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُنْتُ نَبِيًّا وَ آدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَ الْجَسَدِ ] [ مستدرک حاکم: 608/2، ح: ۴۲۰۹ ] (میں اس وقت نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی طے ہونے کا بیان ہے۔ یہ معنی نہیں کہ آپ اس وقت پیدا ہو چکے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے آخر میں پیدا ہونا سب کو معلوم ہے۔ ➌ خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دینے کی تاکید کا ذکر سورۂ مائدہ (۶۷) میں ہے اور اہلِ کتاب کو اس تاکید کا ذکر سورۂ آل عمران (۱۸۷) اور اعراف (۱۶۹) میں ہے۔ ➍ اس مقام پر اس عہد کو یاد دلانے اور بالخصوص {” مِنْكَ “} کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملے میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے ڈر رہے ہیں، تو آپ لوگوں کے طعن و تشنیع کی قطعاً پروا نہ کریں، دوسرے پیغمبروں کی طرح آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم آپ کو حکم دیں گے اسے بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے، لہٰذا جو فریضہ ہم نے آپ پر عائد کیا ہے اسے بلا تامل سرانجام دیں اور کفار و منافقین کی باتوں کی پروا مت کریں، ان سے آپ کو محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ }» [المائدۃ: ۶۷ ] ”اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔“
تاکہ سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ وہ (پروردگار) ان سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے اور اس نے کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میثاق انبیاء ٭٭
فرمان ہے کہ ’ ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہدو وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے ‘۔ اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ» ۱؎ [3-آل عمران:81] ، یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب و حکمت دے کر میں تمہیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آ جائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔ بولو تمہیں اس کا اقرار ہے؟ اور میرے سامنے اس کا پختہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں ہمیں اقرار ہے ‘۔ جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ’ بس اب گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ‘۔ یہاں عام نبیوں کا ذکر کر کے پھر خاص جلیل القدر پیغمبروں کا نام بھی لے دیا۔ اسی طرح ان کے نام اس آیت میں بھی ہیں «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ» ۱؎ [42-الشورى:13] ، یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے جو زمین پر اللہ کے پہلے پیغمبر تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے جو سب سے آخری پیغمبر تھے۔ اور ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر ہے جو درمیانی پیغمبر تھے۔ ایک لطافت اس میں یہ ہے کہ پہلے پیغمبر آدم علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر نوح علیہ السلام کا ذکر کیا اور آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور درمیانی پیغمبروں میں سے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر کیا۔ یہاں تو ترتیب یہ رکھی کہ فاتح اور خاتم کا ذکر کر کے بیچ کے نبیوں کا بیان کیا اور اس آیت میں سب سے پہلے خاتم الانیباء کا نام لیا اس لیے کہ سب سے اشرف وافضل آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ پھر یکے بعد دیگرے جس طرح آئے ہیں اسی طرح ترتیب وار بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے تمام نبیوں پر اپنا درود وسلام نازل فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { پیدائش کے اعتبار سے میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں پس مجھ سے ابتداء کی ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:661، ] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن اس کے ایک راوی سعید بن بشیر ضعیف ہیں۔ اور سند سے یہ مرسل مروی ہے اور یہی مشابہت رکھتی ہےاور بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ پانچ پیغمبر ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور محمد «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» اور ان میں بھی سب سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا ایک راوی حمزہ ضعیف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں جس عہد ومیثاق کا ذکر ہے یہ وہ ہے جو روز ازل میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے تمام انسانوں کو نکال کر لیا تھا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بلند کیا گیا آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا ان میں مالدار مفلس خوبصورت اور ہر طرح کے لوگ دیکھے تو کہا کہ اللہ کیا اچھا ہوتا کہ تو نے ان سب کو برابر ہی رکھا ہوتا اللہ تعالیٰ جل و علا نے فرمایا کہ ’ یہ اس لئے ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے ‘۔ ان میں جو انبیاء کرام علیہم السلام تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا وہ روشنی کے مانند نمایاں تھے اور ان پر نور برس رہا تھا ان سے نبوت و رسالت کا ایک اور خاص عہد لیا گیا تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ صادقوں سے ان کے صدق کا سوال ہو یعنی ان سے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچانے والے تھے۔ ان کی امتوں میں سے جو بھی ان کو نہ مانے اسے سخت عذاب ہوگا۔ اے اللہ! تو گواہ رہ ہماری گواہی ہے ہم دل سے مانتے ہیں کہ بیشک تیرے رسولوں نے تیرا پیغام تیرے بندوں کو بلا کم وکاست پہنچا دیا۔ انہوں نے پوری خیر خواہی اور حق کو صاف طور پر نمایاں طریقے سے واضح کر دیا جس میں کوئی پوشیدگی کوئی شبہ کسی طرح کا شک نہ رہا گو بدنصیب ضدی جھگڑالو لوگوں نے انہیں نہ مانا۔ ہمارا ایمان ہے کہ تیرے رسولوں کی تمام باتیں سچ اور حق ہیں اور جس نے ان کی راہ نہ پکڑی وہ گمراہ اور باطل پر ہے۔
8-1یہ لام کئ ہے یعنی یہ عہد اس لئے لیا تھا تاکہ اللہ سچے نبیوں سے پوچھے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اپنی قوموں تک پہنچایا تھا یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انبیاء سے پوچھے کہ تمہاری قوموں نے تمہاری دعوت کا جواب کس طرح دیا؟ مثبت انداز میں یا منفی طریقے سے، اس میں داعیان حق کے لئے بھی تنبیہ ہے کہ وہ دعوت حق کا فریضہ پوری تن دہی اور اخلاص سے ادا کریں تاکہ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہو سکیں، اور ان لوگوں کے لئے بھی وعید ہے جن کو حق کی دعوت پہنچائی جائے کہ اگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے تو عند اللہ مجرم اور مستوجب سزا ہوں گے۔
(آیت 8) {لِيَسْـَٔلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد محض قول و قرار کے لیے نہیں لیا، بلکہ اس لیے لیا ہے کہ وہ قیامت کے دن پیغمبروں سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے قوم کو میرا پیغام پہنچایا؟ پھر قوم نے تمھیں کیا جواب دیا اور دعوت کا نتیجہ کیا ہوا؟ پیغمبروں سے جو عہد لیا، وہ ان کی امت کے لوگوں کے لیے بھی ہے اور ”صادقين“ کا لفظ بھی عام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مومن سے بھی اس عہد کے متعلق سوال ہو گا، پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے اس عہد کو پورا کیا وہی صادق قرار پائیں گے اور اجر کے مستحق ہوں گے اور جنھوں نے اس کا انکار کیا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے عذابِ الیم تیار کر رکھا ہے۔
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جب (کفار کے) لشکر تم پر چڑھ آئے اور ہم نے (تمہاری مدد کیلئے) ان پر ہوا (آندھی) بھیجی اور (فرشتوں کے) ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ پر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم پر کئی لشکر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی اور ایسے لشکر جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے خوب دیکھنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭
جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ ٤ ہجری میں ہوئی تھی۔ اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آ کر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کر کے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عیینہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کر کے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کر لیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ مشورہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم شامل تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مشرکین کا لشکر بلا مزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا۔
یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو جو تین ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف سات سو تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔ سلع پہاڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بیروک آنے نہیں دیتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کر دیا۔ یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریباً آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کر لیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔ باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نمک کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ ’ آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہو گئے ‘۔ مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کر دیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان اور فن سپہ سالاری میں یکتا تھا ساتھ ہی بہادر جی دار اور قوی تھا ایک مرتبہ ہمت کر کے اپنے ساتھ چند جانباز پہلوانوں کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کو گزارلایا۔ یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر علی رضی اللہ عنہ نے کفر کے اس دیو کو تہہ تیغ کیا ـ جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔ پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہو گیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی۔
بالآخر تنگ آ کر نا مرادی سے واپس ہوئے۔ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ جس ہوا کا اس آیت میں ذکر ہے بقول مجاہد رحمۃ اللہ یہ صبا ہے اور اس کی تائید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ { میں صبا ہوا سے مدد دیا گیا ہوں اور قوم عاد کے لوگ تند و تیز ہواؤں سے ہلاک کئے گئے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4105] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ گرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ { میرے جو صحابی تمہیں ملیں انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں }۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دھکے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے نیچے پھینک دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28361:ضعیف] اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلا بلا کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو، بچاؤ کا انتظام کرو۔ یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا ڈر اور رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ ’ اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا ‘۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابوعبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ! ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔ نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ! آپ کو قدم زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ { کوئی ہے جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گا }۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔
پھر فرمایا { کوئی جو جا کر یہ خبر دے کہ مخالفین نے کیا کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق کرے }۔ اب تک بھی کوئی کھڑا نہ ہوا اور کھڑا ہوتا کیسے؟ بھوک کے مارے پیٹ کمر سے لگ رہا تھا سردی کے مارے دانت بج رہے تھے، خوف کے مارے پتے پانی ہو رہے تھے۔ بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بے کھڑے ہوئے چارہ نہ تھا۔ فرمانے لگے { حذیفہ (رضی اللہ عنہ) تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا }۔ میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جا کر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کر رہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی۔ اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں! اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسا نہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔ میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔
پھر ابوسفیان نے کہا قریشیو اللہ گواہ ہے ہم اس وقت کسی ٹھہرنے کی جگہ پر نہیں ہیں۔ ہمارے مویشی ہمارے اونٹ ہلاک ہو رہے ہیں۔ بنو قریظہ نے ہم سے وعدہ خلافی کی اس نے ہمیں بڑی تکلیف پہنچائی، پھر اس ہوا نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم پکا کھا نہیں سکتے آگ تک نہیں جلا سکتے خیمے ڈیرے ٹھہر نہیں سکتے۔ میں تو تنگ آ گیا ہوں اور میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ واپس ہو جاؤں پس میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ واپس چلو۔ اتنا کہتے ہی اپنے اونٹ پر جو زانوں بندھا ہوا بیٹھا تھا چڑھ گیا اور اسے مارا وہ تین پاؤں سے ہی کھڑا ہو گیا پھر اس کا پاؤں کھولا۔ اس وقت ایسا اچھا موقع تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابوسفیان کا کام تمام کر دیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ { کوئی نیا کام نہ کرنا } اس لیے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔ اب میں واپس لوٹا اور اپنے لشکر میں آ گیا جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کراپنے دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھا رہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28362:]
اور روایت میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب میں چلا تو باوجود کڑاکے کی سخت سردی کے قسم اللہ کی مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کسی گرم حمام میں ہوں۔“ اس میں یہ بھی ہے کہ جب میں لشکر کفار میں پہنچا ہوں اس وقت ابوسفیان آگ سلگائے ہوئے تاپ رہا تھا میں نے اسے دیکھ کر اپنا تیر کمان پر چڑھالیا اور چاہتا تھا کہ چلادوں اور بالکل زد میں تھا ناممکن تھا کہ میر انشانہ خالی جائے لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ { کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ وہ چوکنے ہو کر بھڑک جائیں }، تو میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھے اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتا رہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ { اے سونے والے بیدار ہو جا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1788] اور روایت میں ہے کہ جب اس تابعی رحمہ اللہ نے کہا کہ ”کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے“، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”کاش! کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باوجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمنا ہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں۔“ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہوا جھڑی اور آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:454/3:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے واقعات کو بیان فرما رہے تھے جو اہل مجلس نے کہا کہ اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو یوں اور یوں کرتے اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما دیا کہ باہر سے تو دس ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے اندر سے بنو قریظہ کے آٹھ سو یہودی بگڑے ہوئے ہیں بال بچے اور عورتیں مدینے میں ہیں خطرہ لگا ہوا ہے اگر بنو قریظہ نے اس طرف کا رخ کیا تو ایک ساعت میں ہی عورتوں بچوں کا فیصلہ کر دیں گے۔ واللہ! اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر کبھی نہیں گزری۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بنا کر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر اجازت چاہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شوق سے جاؤ }۔ وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لیے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی کپڑا تھا۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { یہ کون ہیں؟ } میں نے کہا حذیفہ۔ فرمایا: { حذیفہ سن! } واللہ مجھ پر تو زمین تنگ آگئی کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ }۔
واللہ اس وقت مجھ سے زیادہ نہ تو کسی کو خوف تھا نہ گھبراہٹ تھی نہ سردی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا تو میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کر رہے ہیں کہ { اے اللہ اس کے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے اس کی حفاظت کر }۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کسی قسم کا خوف ڈر دہشت میرے دل میں تھی ہی نہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دے کر فرمایا: { دیکھو حذیفہ وہاں جا کر میرے پاس واپس آنے تک کوئی نئی بات نہ کرنا }۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو۔ ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہٰ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔ جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مات دی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:450/3:حسن] اس میں یہ بھی بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:صحیح] جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری۔ پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئی تھیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آ جائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے۔ جیسا کہ فرمان ہے «وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:22] ، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عین اس گھبراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا مانگو «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے }۔ ادھر مسلمانوں کی یہ دعائیں بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیا پانچا کر دیا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:3/3:اسنادہ ضعیف]
9-1ان آیات میں غزوہ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو-5ہجری میں پیش آیا۔ اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز ' مدینہ ' پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینہ کے اندر نہ آسکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ نے مسلسل بد عہدی کی وجہ سے مدینے سے جلا وطن کردیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا، اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو بھی امداد کا یقین دلا کر آمادہ قتال کیا یوں یہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اکٹھا کر کے مدینے پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرکین مکہ کی قیادت ابو سفیان کے پاس تھی، انہوں نے احد کے آس پاس پڑاؤ ڈال کر تقریباً مدینے کا محاصرہ کرلیا ان کی مجموعی تعداد10ہزار تھی، جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی رخ پر یہودیوں کا تیسرا قبیلہ بنو قریظہ آباد تھا۔ جس سے ابھی تک مسلمانوں کا معاہدہ قائم اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کا پابند تھا۔ لیکن اسے بھی بنو نضیر کے یہودی سردار حیی بن اخطب نے ورغلا کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے حوالے سے، اپنے ساتھ ملا لیا یوں مسلمان چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھر گئے۔ اس موقع پر حضرت سلیمان فارسی کے مشورے سے خندق کھودی گئی، جس کی وجہ سے دشمن کا لشکر مدینے سے اندر نہیں آسکا اور مدینے کے باہر قیام پذیر رہا۔ تاہم مسلمان اس محاصرہ اور دشمن کی متحدہ یلغار سے سخت خوفزدہ تھے، کم و بیش ایک مہینے تک محاصرہ قائم رہا اور مسلمان سخت خوف اور اضطراب کے عالم میں مبتلا تھے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب سے مسلمانوں کی مدد فرمائی ان آیات میں ان ہی سراسیمہ حالات اور امداد غیبی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے پہلے جُنُودًا سے مراد کفار کی فوجیں ہیں، جو جمع ہو کر آئی تھیں۔ تیز و تند ہوا سے مراد ہوا ہے جو سخت طوفان اور آندھی کی شکل میں آئی، جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا جانور رسیاں تڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے، ہانڈیاں الٹ گئیں اور سب بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہی ہوا ہے۔ جس کی بابت حدیث میں آتا ہے، (بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا) 9۔ التوبہ:40) سے مراد فرشتے ہیں۔ جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے، انہوں نے دشمن کے دلوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری کردی کہ انہوں نے وہاں سے جلد بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
(آیت 9) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ …:} سورت کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اور اس کا ہر حکم علی الاعلان سنا دینے اور کفار و منافقین کی پروا نہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس معاملے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم دیا۔ اب اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس پر توکل کی صورت میں اس کے کافی ہو جانے کی دلیل کے طور پر جنگِ احزاب میں مسلمانوں کو اپنی نصرت کی نعمت یاد دلائی، یہ جنگ مسلمانوں کو پیش آنے والی تمام جنگوں سے زیادہ خوف ناک تھی۔ اس میں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرماں بردار بندے صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ ایسے لشکروں کے ساتھ ان کی مدد کرتا ہے جو نظر بھی نہیں آتے۔ اس آیت میں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا “} کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب فرمایا، معلوم ہوا کہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب بھی تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اس لیے ہے کہ جب نبی اس حکم کی تعمیل کا پابند ہے تو امت تو بدرجۂ اولیٰ اس کی تعمیل کی پابند ہو گی۔ (بقاعی) ➋ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ غزوۂ خندق کا ذکر ہے، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، جو صحیح اور مشہور روایات کے مطابق شوال سن پانچ ہجری میں واقع ہوا۔ اس کی مختصر روداد یہ ہے کہ سن چار (۴) ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو مدینہ کی سرزمین سے جلا وطن کر دیا تھا۔ اس کے کچھ اشراف (سرکردہ لوگ) مکہ گئے اور سرداران قریش سے ملاقات کر کے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر تم مدینہ پر حملہ کرو تو ہم تمھارا ساتھ دیں گے اور ہر طریقے سے تمھاری مدد کریں گے۔ جب قریش نے آمادگی کا اظہار کیا تو وہ نجد کے قبائل غطفان اور ہذیل وغیرہ کی طرف گئے اور انھیں بھی مدینہ پر حملے کے لیے اکسایا اور ہر ممکن طریقے سے امداد کرنے کا وعدہ کیا، یہاں تک کہ وہ بھی آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ سن پانچ (۵) ہجری میں ایک طرف ابو سفیان کی سرکردگی میں قریش اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر اور دوسری طرف غطفان، ہذیل اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر عیینہ بن حصن کی سرکردگی میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے پہنچ گئے اور جنوب اور مشرق سے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ شمال کی طرف سے بنو نضیر اور بنو قینقاع کے وہ یہودی آئے جو مدینہ سے جلا وطن ہونے کے بعد خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہو گئے تھے۔ مجموعی طور پر ان سب کی تعداد دس ہزار تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالات کا اندازہ کرکے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے ان سمتوں میں خندق کھدوائی اور عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی زمین کھودنے اور مٹی اٹھانے کا کام کرتے رہے۔ پیچھے یعنی مغرب کی سمت میں قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی آباد تھے، جو مسلمانوں کے حلیف تھے، اس لیے مسلمان ان کی طرف سے بے فکر تھے، بلکہ انھوں نے اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھیج دیے تھے جو ان کی جانب تھیں۔ لیکن بنو نضیر کا سردار حُیی بن اخطب ان کے پاس پہنچا اور انھیں حالات کی سازگاری کا واسطہ دے کر مسلمانوں سے بد عہدی پر آمادہ کر لیا۔ اس طرح گویا مدینہ منورہ ہر طرف سے مشرکوں اور یہودیوں کے نرغہ میں آ گیا۔ ان آیات میں انھی نازک حالات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان و انعام بیان کیا ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ قرآن مجید میں اس غزوہ کی تفصیل مؤرخین کے طریقے والی ترتیب پر نہیں، بلکہ نصیحت و عبرت کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے، اس لیے واقع ہونے کے لحاظ سے کئی بعد والی باتیں پہلے بیان ہوئی ہیں اور کئی پہلے والی بعد میں۔ ➌ غزوۂ احزاب میں کفار کی تعداد دس ہزار تھی، جب کہ مشہور قول کے مطابق مسلمان تین ہزار تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ نو سو تھے۔ ابن حزم نے ”جوامع السیرۃ “ میں فرمایا: ”یہی بات صحیح ہے بلاشک اور پہلی وہم ہے۔“ اس وقت مسلمانوں کی حالت کا نقشہ پیش کرنے کے لیے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے تو مہاجرین و انصار سردی میں صبح صبح خندق کھود رہے تھے، ان کے پاس کوئی غلام نہ تھے، جو ان کے بجائے یہ کام سرانجام دیتے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشقت اور بھوک کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا: {اَللّٰهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَهْ} ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، سو تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“ صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں کہا: {نَحْنُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَي الْجِهَادِ مَا بَقِيْنَا أَبَدَا} ”ہم وہ ہیں جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جہاد پر بیعت کی ہے، ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان باقی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں کہتے: {اَللّٰهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَهْ} ”اے اللہ! خیر تو بس آخرت ہی کی خیر ہے، سو تو انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفَّيَّ مِنَ الشَّعِيْرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوْضَعُ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ، وَهِيَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ وَلَهَا رِيْحٌ مُنْتِنٌ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۰۹۹، ۴۱۰۰ ] ” صحابہ کرام کو دو ہتھیلیاں بھرنے کے برابر جو دیے جاتے، ان کے لیے اس سے بدلی ہوئی بو والی چربی کے ساتھ کھانا تیار کیا جاتا، جو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا، وہ بھوکے ہوتے، یہ کھانا ان کے گلوں میں اٹکتا جس میں ناگوار بو ہوتی۔“ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيْدَةٌ، فَجَاؤا النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا هٰذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ، فَقَالَ أَنَا نَازِلٌ ثُمَّ قَامَ وَ بَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ، وَ لَبِثْنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ لاَ نَذُوْقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فِي الْكُدْيَةِ، فَعَادَ كَثِيْبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ائْذَنْ لِيْ إِلَي الْبَيْتِ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِيْ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ شَيْئًا، مَا كَانَ فِيْ ذٰلِكَ صَبْرٌ، فَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ عِنْدِيْ شَعِيْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ، حَتّٰی جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَالْعَجِيْنُ قَدِ انْكَسَرَ، وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ فَقُلْتُ طُعَيِّمٌ لِيْ، فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ رَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ، قَالَ كَمْ هُوَ؟ فَذَكَرْتُ لَهُ، قَالَ كَثِيْرٌ طَيِّبٌ قَالَ قُلْ لَّهَا لاَ تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَ لاَ الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّوْرِ حَتّٰی آتِيَ فَقَالَ قُوْمُوْا، فَقَامَ الْمُهَاجِرُوْنَ وَ الْأَنْصَارُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی امْرَأَتِهِ قَالَ وَيْحَكِ، جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ، قَالَتْ هَلْ سَأَلَكَ؟ قُلْتُ نَعَمْ، فَقَالَ ادْخُلُوْا وَلاَ تَضَاغَطُوْا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَ يَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّوْرَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ إِلٰی أَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ، فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَ يَغْرِفُ حَتّٰی شَبِعُوْا وَ بَقِيَ بَقِيَّةٌ قَالَ كُلِيْ هٰذَا وَ أَهْدِيْ، فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۱ ] ”خندق کے دن ہم کھدائی کر رہے تھے، تو ایک سخت چٹان پیش آگئی۔ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا کہ یہ ایک سخت چٹان پیش آ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں اترتا ہوں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہمیں تین دن گزر چکے تھے کہ ہم نے کوئی چیز چکھی تک نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال پکڑی، چٹان پر ماری تو وہ بھر بھرے تودے کی طرح ہو گئی۔ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔“ گھر جا کر میں نے بیوی سے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا، تو تیرے پاس کچھ (کھانے کے لیے) ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ جو اور ایک بکری کی پٹھوری ہے۔“ میں نے پٹھوری ذبح کی، اس نے جو پیسے اور ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں آٹا پکنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور ہانڈی چولھے پر پکنے کے قریب تھی۔ میں نے جا کر کہا: ”تھوڑا سا کھانا ہے یا رسول اللہ! آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی چلیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا ہے؟“ میں نے بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہے اور عمدہ ہے، بیوی سے کہو کہ میرے آنے تک نہ ہانڈی اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔“ آپ نے صحابہ سے فرمایا: ”چلو۔“ مہاجرین و انصار اٹھ کھڑے ہوئے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیوی کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے: ”تجھ پر افسوس ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار اور جو بھی ان کے ساتھ ہیں انھیں لے کر آ رہے ہیں۔“ اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے پوچھا تھا؟“ میں نے کہا: ”ہاں!“ خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندر آ جاؤ اور بھیڑ نہ کرو۔“ آپ روٹی توڑ توڑ کر اس پر گوشت ڈالتے رہے۔ ہانڈی اور تنور سے سالن اور روٹی نکالنے کے بعد اسے ڈھانک دیتے اور صحابہ کے سامنے رکھ دیتے، پھر دوبارہ اسی طرح کرتے، آپ روٹی اور سالن ڈالتے رہے، یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا تو جابر کی بیوی سے فرمایا: ”کھاؤ اور ہدیہ بھی دو، لوگوں کو بھوک آ پہنچی ہے۔“ اس سے اگلی روایت میں جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اُدْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ ] ”اپنے ساتھ روٹیاں پکانے والی ایک اور عورت بلا لو۔“ اور جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ایک ہزار تھے اور اللہ کی قسم! وہ کھا کر کھانا چھوڑ گئے، ہانڈی اسی طرح اُبل رہی تھی اور آٹا پکایا جا رہا تھا۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۲ ] اس حدیث سے ابن حزم کی بات کی تائید ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر تین ہزار نہیں بلکہ ایک ہزار کے قریب تھا۔ کفار کا خندق کو عبور کرنے کے لیے اتنا زبردست دباؤ تھا کہ مسلسل دفاع کی وجہ سے بعض اوقات آپ کی نماز بھی رہ جاتی اور آپ بعد میں ادا کرتے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں نماز کے قریب بھی نہیں جا سکا، حتیٰ کہ سورج ڈوبنے کے قریب پہنچ گیا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاللّٰهِ! مَا صَلَّيْتُهَا ] ”اللہ کی قسم! میں نے بھی (عصر) نہیں پڑھی۔“ تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطحان میں اترے، آپ نے اور ہم نے نماز کے لیے وضو کیا، تو آپ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر پڑھی، پھر مغرب پڑھی۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۲ ] عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (اتحادی لشکروں) کے خلاف بد دعا کی اور عرض کیا: [ اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ! سَرِيْعَ الْحِسَابِ! اِهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَ زَلْزِلْهُمْ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۵ ] ”اے اللہ! اے کتاب نازل کرنے والے! بہت جلد حساب لینے والے! ان لشکروں کو شکست دے۔ اے اللہ! انھیں شکست دے اور انھیں سخت ہلا کر رکھ دے۔“ اللہ تعالیٰ نے {” جُنُوْدًا “} کا لفظ ارشاد فرمایا، حالانکہ اس کا واحد {”جُنْدٌ“} (لشکر) بھی بڑی تعداد کے اظہار کے لیے کافی تھا، لیکن کیونکہ یہ مختلف گروہ تھے، قریشِ مکہ، بنو غطفان وغیرہ، اس لیے {” جُنُوْدًا “} کا لفظ استعمال فرمایا۔ ➍ { فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا:} الرحیق المختوم میں ہے: ”مشرکین نے مدینہ کا محاصرہ ایک ماہ یا ایک ماہ کے قریب جاری رکھا تھا۔“ آزمائش کے یہ ایام بہت سخت تھے۔ اس دوران مسلمانوں کی حالت اس کے بعد والی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ کفار اس ارادے سے آئے تھے کہ مسلمانوں کا نام و نشان مٹا کر دم لیں گے اور جاتے ہی مردوں کو قتل کرکے عورتوں اور بچوں کو باندھ کر ساتھ لے آئیں گے۔ دس ہزار کے مقابلے میں ایک ہزار کی حیثیت ہی کیا تھی، مگر اللہ کی توفیق سے خندق کی وجہ سے وہ نہ مدینہ میں داخل ہو سکے، نہ انھیں کوئی کامیابی حاصل ہو سکی۔ وہ تو ایک ہلّے میں فتح کا منصوبہ لے کر آئے تھے، لیکن یہاں انھیں محاصرے کے لیے ایک ماہ رکنا پڑا، جس کے لیے وہ تیار ہو کر نہیں آئے تھے، نہ ہی ان کے پاس اتنے دن رہنے کے لیے درکار خور و نوش کی اور دوسری اشیاء موجود تھیں، اس لیے وہ ہر لمحے زیادہ سے زیادہ قوت سے حملہ آور ہو رہے تھے۔ مسلمانوں نے اگرچہ اپنی حد تک مدافعت کی، مگر ان کی تعداد، ان کی تیاری اور تدابیر ہرگز ایسی نہ تھیں کہ ان لشکروں کا مقابلہ کر سکتیں، لیکن ان کی حالتِ زار دیکھ کر اور ان کی فریاد سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور غیب سے ان کی مدد فرمائی۔ یہ مدد دو چیزوں پر مشتمل تھی، ایک سخت آندھی اور دوسرے ایسے لشکر جو مسلمانوں کی نگاہ سے اوجھل تھے۔ {” رِيْحًا “} سے مراد وہ نہایت سرد اور سخت آندھی ہے جس سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے، ان کے چولھوں کی آگ بجھ گئی، دیگیں الٹ گئیں، گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑوا کر بھاگ گئے اور ان پر ایسا شدید خوف طاری ہوا کہ وہ راتوں رات محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُوْرِ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۵ ] ”میری مدد صبا (مشرق سے آنے والی ہوا) کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور (مغرب سے آنے والی ہوا) کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔“ ➎ { وَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا:} ان لشکروں سے مراد فرشتوں کے لشکر ہیں، جنھوں نے کفار کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کی ہمتیں توڑ دیں اور انھیں تتر بتر کر دیا۔ بعض حضرات نے لکھ دیا کہ غزوۂ خندق میں فرشتوں کا اترنا صحیح احادیث سے صراحت کے ساتھ ثابت نہیں، مگر یہ بات درست نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: [ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَ وَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللّٰهِ! مَا وَضَعْنَاهُ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ فَإِلٰی أَيْنَ؟ قَالَ هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلٰی بَنِيْ قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلَيْهِمْ ] [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۷ ] ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس آئے، ہتھیار اتار دیے اور غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے ہتھیار اتار دیے، اللہ کی قسم! ہم نے تو نہیں اتارے، سو آپ ان کی طرف نکلیے۔“ آپ نے فرمایا: ”کس طرف؟“ انھوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اس طرف۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکل پڑے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ كَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلَی الْغُبَارِ سَاطِعًا فِيْ زُقَاقِ بَنِيْ غَنْمٍ مَوْكِبِ جِبْرِيْلَ حِيْنَ سَارَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلٰی بَنِيْ قُرَيْظَةَ ] [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۸ ] ”گویا کہ میں وہ غبار چمکتا ہوا دیکھ رہا ہوں جو جبریل علیہ السلام کی سواری سے بنو غنم کی گلی میں اٹھ رہا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قریظہ کی طرف گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں فرشتوں کے نزول اور اس کے جنود کی آمد کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے، جنگ حنین میں فرمایا: «{ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا }» [ التوبۃ: ۲۶ ] ”پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے۔“ یہ ”جنود“ فرشتے تھے، اس کی وضاحت غزوۂ بدر کے بیان میں سورۂ انفال میں آئی ہے، فرمایا: «{ اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّيْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ }» [ الأنفال: ۱۲ ] ”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔“ سورۂ توبہ میں غار کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نظر نہ آنے والے انھی لشکروں کے ساتھ کرنے کا ذکر فرمایا: «{ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ }» [ التوبۃ: ۴۰ ] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں میں بارہا فرشتوں کے نزول کا مشاہدہ ہوا ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، شرط اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد اور اس پر استقامت ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال کی آیت (۱۰) کی تفسیر۔ ➏ یہ جنگ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی سب سے بڑی مہم تھی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اس کے بعد اتنے لشکر کبھی جمع نہ کر سکے، نہ پھر انھیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت ہو سکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیش گوئی پہلے ہی فرما دی۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لشکر آپ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلاَ يَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِيْرُ إِلَيْهِمْ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۰ ] ”اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے، وہ ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے، ہم ان کی طرف پیش قدمی کریں گے۔“ ➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قسم کے فخر یا غرور کے بجائے ان لشکروں کی شکست کو ہمیشہ اپنے اکیلے رب کا کام قرار دیتے تھے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: [ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَ غَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلاَ شَيْءَ بَعْدَهُ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۴ ] ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلا تمام جماعتوں پر غالب آیا، سو اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔“ ➑ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی تم دشمن کے مقابلے میں جو کچھ کر رہے تھے، خندق کھود رہے تھے، بھوک پیاس اور خوف کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور استقامت اختیار کیے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا، سو اس نے تمھاری حالت دیکھ کر غیب سے تمھاری مدد فرمائی۔
جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس آگئے اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے
علامہ محمد حسین نجفی
جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے اور (شدتِ خوف سے) آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (کلیجے) منہ کو آگئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ تم پر تمھارے اوپر سے اور تمھارے نیچے سے آگئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں گمان کرتے تھے، کئی طرح کے گمان۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭
جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ ٤ ہجری میں ہوئی تھی۔ اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آ کر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کر کے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عیینہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کر کے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کر لیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ مشورہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم شامل تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مشرکین کا لشکر بلا مزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا۔
یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو جو تین ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف سات سو تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔ سلع پہاڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بیروک آنے نہیں دیتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کر دیا۔ یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریباً آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کر لیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔ باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نمک کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ ’ آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہو گئے ‘۔ مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کر دیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان اور فن سپہ سالاری میں یکتا تھا ساتھ ہی بہادر جی دار اور قوی تھا ایک مرتبہ ہمت کر کے اپنے ساتھ چند جانباز پہلوانوں کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کو گزارلایا۔ یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر علی رضی اللہ عنہ نے کفر کے اس دیو کو تہہ تیغ کیا ـ جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔ پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہو گیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی۔
بالآخر تنگ آ کر نا مرادی سے واپس ہوئے۔ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ جس ہوا کا اس آیت میں ذکر ہے بقول مجاہد رحمۃ اللہ یہ صبا ہے اور اس کی تائید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ { میں صبا ہوا سے مدد دیا گیا ہوں اور قوم عاد کے لوگ تند و تیز ہواؤں سے ہلاک کئے گئے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4105] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ گرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ { میرے جو صحابی تمہیں ملیں انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں }۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دھکے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے نیچے پھینک دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28361:ضعیف] اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلا بلا کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو، بچاؤ کا انتظام کرو۔ یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا ڈر اور رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ ’ اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا ‘۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابوعبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ! ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔ نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ! آپ کو قدم زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ { کوئی ہے جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گا }۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔
پھر فرمایا { کوئی جو جا کر یہ خبر دے کہ مخالفین نے کیا کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق کرے }۔ اب تک بھی کوئی کھڑا نہ ہوا اور کھڑا ہوتا کیسے؟ بھوک کے مارے پیٹ کمر سے لگ رہا تھا سردی کے مارے دانت بج رہے تھے، خوف کے مارے پتے پانی ہو رہے تھے۔ بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بے کھڑے ہوئے چارہ نہ تھا۔ فرمانے لگے { حذیفہ (رضی اللہ عنہ) تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا }۔ میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جا کر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کر رہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی۔ اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں! اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسا نہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔ میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔
پھر ابوسفیان نے کہا قریشیو اللہ گواہ ہے ہم اس وقت کسی ٹھہرنے کی جگہ پر نہیں ہیں۔ ہمارے مویشی ہمارے اونٹ ہلاک ہو رہے ہیں۔ بنو قریظہ نے ہم سے وعدہ خلافی کی اس نے ہمیں بڑی تکلیف پہنچائی، پھر اس ہوا نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم پکا کھا نہیں سکتے آگ تک نہیں جلا سکتے خیمے ڈیرے ٹھہر نہیں سکتے۔ میں تو تنگ آ گیا ہوں اور میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ واپس ہو جاؤں پس میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ واپس چلو۔ اتنا کہتے ہی اپنے اونٹ پر جو زانوں بندھا ہوا بیٹھا تھا چڑھ گیا اور اسے مارا وہ تین پاؤں سے ہی کھڑا ہو گیا پھر اس کا پاؤں کھولا۔ اس وقت ایسا اچھا موقع تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابوسفیان کا کام تمام کر دیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ { کوئی نیا کام نہ کرنا } اس لیے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔ اب میں واپس لوٹا اور اپنے لشکر میں آ گیا جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کراپنے دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھا رہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28362:]
اور روایت میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب میں چلا تو باوجود کڑاکے کی سخت سردی کے قسم اللہ کی مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کسی گرم حمام میں ہوں۔“ اس میں یہ بھی ہے کہ جب میں لشکر کفار میں پہنچا ہوں اس وقت ابوسفیان آگ سلگائے ہوئے تاپ رہا تھا میں نے اسے دیکھ کر اپنا تیر کمان پر چڑھالیا اور چاہتا تھا کہ چلادوں اور بالکل زد میں تھا ناممکن تھا کہ میر انشانہ خالی جائے لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ { کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ وہ چوکنے ہو کر بھڑک جائیں }، تو میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھے اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتا رہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ { اے سونے والے بیدار ہو جا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1788] اور روایت میں ہے کہ جب اس تابعی رحمہ اللہ نے کہا کہ ”کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے“، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”کاش! کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باوجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمنا ہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں۔“ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہوا جھڑی اور آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:454/3:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے واقعات کو بیان فرما رہے تھے جو اہل مجلس نے کہا کہ اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو یوں اور یوں کرتے اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما دیا کہ باہر سے تو دس ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے اندر سے بنو قریظہ کے آٹھ سو یہودی بگڑے ہوئے ہیں بال بچے اور عورتیں مدینے میں ہیں خطرہ لگا ہوا ہے اگر بنو قریظہ نے اس طرف کا رخ کیا تو ایک ساعت میں ہی عورتوں بچوں کا فیصلہ کر دیں گے۔ واللہ! اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر کبھی نہیں گزری۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بنا کر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر اجازت چاہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شوق سے جاؤ }۔ وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لیے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی کپڑا تھا۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { یہ کون ہیں؟ } میں نے کہا حذیفہ۔ فرمایا: { حذیفہ سن! } واللہ مجھ پر تو زمین تنگ آگئی کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ }۔
واللہ اس وقت مجھ سے زیادہ نہ تو کسی کو خوف تھا نہ گھبراہٹ تھی نہ سردی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا تو میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کر رہے ہیں کہ { اے اللہ اس کے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے اس کی حفاظت کر }۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کسی قسم کا خوف ڈر دہشت میرے دل میں تھی ہی نہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دے کر فرمایا: { دیکھو حذیفہ وہاں جا کر میرے پاس واپس آنے تک کوئی نئی بات نہ کرنا }۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو۔ ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہٰ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔ جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مات دی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:450/3:حسن] اس میں یہ بھی بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:صحیح] جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری۔ پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئی تھیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آ جائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے۔ جیسا کہ فرمان ہے «وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:22] ، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عین اس گھبراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا مانگو «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے }۔ ادھر مسلمانوں کی یہ دعائیں بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیا پانچا کر دیا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:3/3:اسنادہ ضعیف]
10-1اس سے مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے دشمن آگئے یا اوپر سے مراد غطفان، ہوازن اور دیگر نجد کے مشرکین ہیں اور نیچے کی سمت سے قریش اور ان کے اعوان و انصار۔ 10-2یہ مسلمانوں کی اس کیفیت کا اظہار ہے جس سے اس وقت دو چار تھے۔
(آیت 10) ➊ { اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ:} اس سے مراد مدینہ کا بالائی حصہ، یعنی مشرقی جانب ہے۔ اس طرف سے عیینہ بن حصن کی قیادت میں قبیلہ غطفان، عوف بن مالک کی قیادت میں قبیلہ ہوازن اور طلیحہ بن خویلد اسدی کی قیادت میں نجد کے قبائل آئے اور ان کے ساتھ بنو نضیر کے یہودی بھی مل گئے۔ ➋ { وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ:} نیچے کی جانب سے مراد مدینے کا مغربی حصہ ہے۔ اس طرف سے ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں کفار مکہ اور کچھ دوسرے لوگ آئے۔ عین حالت جنگ میں بنو قریظہ نے بھی صلح توڑ دی اور دشمن کے ساتھ مل گئے۔ ➌ { وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ: ” زَاغَ يَزِيْغُ زَيْغًا “} (ض) کا معنی ہے {”مَالَ“} یعنی جھکنا، ٹیڑھا ہونا۔ سورۂ نجم میں ہے: «{ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى }» [ النجم: ۱۷ ] ”نہ نگاہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔“ اللہ تعالیٰ نے آنکھ کے اوپر نیچے اور دائیں بائیں کی جہتوں میں حرکت کرنے کی خاص کیفیت رکھی ہے، جب زیادہ خوف یا گھبراہٹ آ پڑے تو نگاہ ان جہتوں سے پھر جاتی ہے، پھر کبھی وہ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا }» [ الأنبیاء: ۹۷ ] ”تو اچانک یہ ہو گا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔“ کبھی ایک ہی طرف پھری ہوئی رہ جاتی ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے اور کبھی بے اختیار گھومنے لگتی ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے: «{ تَدُوْرُ اَعْيُنُهُمْ كَالَّذِيْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ }» [ الأحزاب: ۱۹ ] ”ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہیں جس پر موت کی غشی طاری کی جا رہی ہو۔“ مراد خوف کی شدت ہے۔ ➍ {وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ: ” الْحَنَاجِرَ “ ”حَنْجَرَةٌ“ } کی جمع ہے، حلق کا آخری حصہ۔ خوف کی شدت کی تصویر کھینچی ہے، جیسے دل شدید دکھڑکن اور گھبراہٹ کی وجہ سے اپنی جگہ چھوڑ کر حلق تک آ پہنچا ہو۔ بقاعی نے کہا، ہو سکتا ہے یہ تشبیہ کے بجائے حقیقت ہو کہ طحال اور پھیپھڑا پھول کر دل کو گلے کی طرف دھکیل دیں، اس لیے بزدل کو کہتے ہیں: {” اِنْتَفَخَ مَنْخِرُهُ أَيْ رِئَتُهُ “} یعنی اس کا پھیپھڑا پھول گیا۔ خوف کی وجہ سے دل گلے کی طرف جانے کی وجہ سے بعض اوقات سانس بند ہو کر آدمی کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ شَرُّ مَا فِيْ رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ ] [ مسند أحمد: 320/2، ح: ۸۲۸۳، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ، صحیح ] ”بد ترین چیز جو آدمی میں ہے، وہ شدید حرص ہے جو بے حوصلہ بنا دینے والی ہے اور بزدلی ہے جو دل نکال دینے والی ہے۔“ ➎ { وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا:} اس سے مراد یا تو کمزور ایمان والے لوگ ہیں، کیونکہ پختہ ایمان والوں کا ذکر آگے آ رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا }» [ الأحزاب: ۲۲ ] ”اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انھوں نے کہا یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اوراس کے رسول نے سچ کہا، اور اس چیز نے ان کو ایمان اور فرماں برداری ہی میں زیادہ کیا۔“ ایسے کمزور ایمان والے لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ اب کے بار نہیں بچیں گے۔ یا سبھی مومن مراد ہیں اور کئی طرح کے گمانوں سے مراد وہ گمان ہیں جو بے اختیار اس موقع پر دل میں آجاتے ہیں، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۲۱۴) اور سورۂ یوسف (۱۱۰) میں ہے۔
اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہیں مومن آزمائے گئے اور پوری طرح وه جھنجھوڑ دیئے گئے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جگہ تھی کہ مسلمانوں کی جانچ ہوئی اور خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت ایمان والوں کو خوب آزمایا گیا اور انہیں سخت زلزلہ میں ڈال دیا (سخت جھنجھوڑا گیا)۔
عبدالسلام بن محمد
اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور ہلائے گئے، سخت ہلایا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقوں کا فرار ٭٭
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لیے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹو لوٹو واپس چلو۔ یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3622] اور روایت میں ہے کہ { وہ جگہ مدینہ ہے }۔
البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے { جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے، وہ طابہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:285/4:ضعیف] یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آ کر ٹھہرا تھا چونکہ اس کا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لیے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔ کچھ لوگ تو اس موقعۂ خندق پر کہنے لگے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔ بنو حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ ’ یہ تو ڈھونگ رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں ‘۔
11-1یعنی مسلمانوں کو خوف، قتال، بھوک اور محاصرے میں مبتلا کر کے ان کو جانچا پرکھا گیا تاکہ منافق الگ ہوجائیں۔
(آیت 11) ➊ { هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ:} یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ امتحان ہو جائے کہ ایسے سخت حالات میں کون ایمان پر قائم رہتا ہے اور کس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ ➋ { وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا:} چاروں طرف سے لشکروں کے ہجوم اور شہر کے اندر سے بنو قریظہ کی عہد شکنی کی خبر سے مسلمانوں کی یہ حالت ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اس وقت خوف کی حالت کا اور مسلمانوں کی جانفشانی کا اندازہ زبیر اور حذیفہ رضی اللہ عنھما کے بیانات سے ہوتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: [ مَنْ يَأْتِيْنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ ] ”کون ہے جو ہمارے پاس ان (بنو قریظہ کے یہودی) لوگوں کی خبر لائے؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں ہوں۔“ آپ نے پھر فرمایا: ”کون ہے جو ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر لائے؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں ہوں۔“ پھر فرمایا: ”کون ہے جو ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر لائے؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَ إِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۱۳ ] ”ہر نبی کا ایک حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“ ابراہیم تیمی کے والد بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک آدمی کہنے لگا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیتا تو آپ کے ساتھ مل کر لڑتا اور پوری کوشش لگا دیتا۔“ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو ایسا کرتا؟ حالانکہ میں نے اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احزاب کی رات دیکھا اور ہمیں سخت آندھی اور سردی نے گھیرا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِيْنِيْ بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَعِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ] ”کیا کوئی آدمی ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لائے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن میرے ساتھ کر دے گا؟“ ہم خاموش رہے، کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا، پھر فرمایا: ”کیا کوئی آدمی ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لائے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن میرے ساتھ کر دے گا؟“ ہم خاموش رہے اور کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہیں دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قُمْ يَا حُذَيْفَةُ! فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ] ”حذیفہ! اٹھو اور ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر لے کر آؤ۔“ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، کیونکہ آپ نے میرا نام لے کر مجھے اٹھنے کا کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: [ اِذْهَبْ فَأْتِنِيْ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ ] ”جاؤ، میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے کر آؤ اور انھیں مجھ پر اکسا نہ دینا (یعنی ایسا کوئی کام نہ کرنا جس کی وجہ سے وہ بھڑک اٹھیں)۔“ جب میں آپ کے پاس سے نکلا تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں، یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ابوسفیان آگ کے ساتھ اپنی پیٹھ سینک رہا تھا۔ میں نے تیر کمان پر چڑھایا اور ارادہ کیا کہ اسے نشانہ بناؤں، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی کہ انھیں مجھ پر اکسا نہ دینا اور اگر میں تیر مار دیتا تو سیدھا اسے لگتا، پھر میں واپس آیا تو ایسے ہی محسوس ہوتا تھا جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو میں نے آپ کو ان لوگوں کی خبر بیان کی اور فارغ ہوا تو مجھے سردی نے آ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا ایک زائد کمبل اوڑھا دیا، جسے آپ اوڑھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ میں صبح تک سویا رہا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قُمْ يَا نَوْمَانُ! ] ”بہت زیادہ سونے والے! اٹھ جاؤ۔“ [ مسلم، الجھاد والسیر، باب غزوۃ الأحزاب: ۱۷۸۸ ]
یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگے کہ خدا اور رسول نے ہم سے (فتح کا) جو وعدہ کیا تھا وہ دھوکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کچھ بیماری ہے، کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا دینے کے لیے وعدہ کیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقوں کا فرار ٭٭
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لیے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹو لوٹو واپس چلو۔ یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3622] اور روایت میں ہے کہ { وہ جگہ مدینہ ہے }۔
البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے { جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے، وہ طابہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:285/4:ضعیف] یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آ کر ٹھہرا تھا چونکہ اس کا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لیے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔ کچھ لوگ تو اس موقعۂ خندق پر کہنے لگے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔ بنو حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ ’ یہ تو ڈھونگ رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں ‘۔
12-1یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ایک فریب تھا۔ یہ تقریباً ستر منافقین تھے جن کی زبانوں پر وہ بات آگئی جو دلوں میں تھی۔
(آیت 12) ➊ {وَ اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ …:” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا “} سے لے کر آیت (۲۷) تک کی آیات غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنو قریظہ کے بعد نازل ہوئیں۔ ان میں دونوں جنگوں کا تذکرہ ہوا ہے۔ پچھلی آیت تک ایمان والوں کے خوف، آزمائش اور سخت جھنجوڑے جانے کا ذکر ہوا ہے، جس کے دوران ان کے دلوں میں طرح طرح کے گمان بھی آتے رہے، مگر ان کی زبان پر کفر یا مایوسی کا کوئی لفظ نہیں آیا۔ اب اس دوران منافقین کے رویے اور ان کی منافقانہ باتوں کا ذکر ہوتا ہے، جن سے ان کا نفاق کھل کر سب کے سامنے آگیا۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ساتھ ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دلوں میں بیماری ہے۔ سوال یہ ہے کہ منافقین کے دلوں میں بھی تو بیماری ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں فرمایا: «{ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ }» [ البقرۃ: ۱۰ ] ”ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے۔“ تو یہاں منافقین کے بعد {” الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ “} سے کون لوگ مراد ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں منافقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پکے منافق تھے، جیسے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی۔ ان کے متعلق جو سورۂ بقرہ میں {” فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ “} فرمایا ہے، وہاں {” مَرَضٌ “} کی ”تنوین“ تعظیم و تہویل کے لیے ہے، اس لیے وہاں مراد یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ایک بھاری بیماری ہے۔ اس آیت میں {” الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ “} سے مراد وہ لوگ ہیں جو ابھی نفاق میں پختہ نہیں ہوئے تھے، بلکہ ان کے دلوں میں شک و شبہ اور نفاق کی کچھ بیماری تھی۔ گویا یہاں {” مَرَضٌ “} میں تنوین تنکیر و تبعیض کے لیے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ }» [ الحج: ۱۱ ] ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے۔“ غرض اس موقع پر صرف پکے ایمان والے ثابت قدم رہے۔ رہے منافقین یا ڈِھلمل یقین والے، تو ان سب کا نفاق کھل کر سامنے آ گیا۔ ➌ { مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا:} جنگ خندق کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو کئی بشارتیں دی تھیں۔ خندق کھودنے کے دوران ایک چٹان جو کھدائی میں رکاوٹ بن گئی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال ماری تو وہ تین ضربوں میں تین ٹکڑے ہو گئی اور ہر ضرب پر اس سے ایک چمک نکلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی ضرب کے ساتھ مجھے کسریٰ کے شہر اور ان کے اردگرد کے شہر اور بہت سے شہر دکھائے گئے، جنھیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ وہاں موجود صحابہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! دعا کیجیے اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے، ان کے گھر ہمیں بطور غنیمت عطا کرے اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں برباد کرے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کر دی اور فرمایا: ”پھر میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر کے شہر اور ان کے اردگرد کی بستیاں میرے سامنے لائی گئیں، یہاں تک کہ میں نے انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے، ان کے گھر ہمیں بطور غنیمت عطا فرمائے اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں برباد کرے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کر دی اور فرمایا: ”پھر میں نے تیسری ضرب ماری تو حبشہ کے شہر اور ان کے اردگرد کی بستیاں میرے سامنے لائی گئیں، حتیٰ کہ میں نے انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حبشیوں کو اپنے حال پر رہنے دو جب تک وہ تمھیں تمھارے حال پر رہنے دیں اور ترکوں کو کچھ نہ کہو جب تک وہ تمھیں کچھ نہ کہیں۔“ [ نسائي، الجہاد، باب غزوۃ الترک والحبشۃ: ۳۱۷۸، و قال الألباني حسن ] جب مدینہ کو کفار نے ہر طرف سے گھیر لیا اور یہودیوں کی عہدشکنی کی وجہ سے مدینہ کے اندر سے بھی ہر وقت حملے کا خطرہ پیدا ہو گیا، تو اس وقت مسلمانوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث یہ بات ہوئی کہ منافقین اور کچے ایمان والے لوگوں نے ایسی باتیں کہنا شروع کر دیں جن سے لوگوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور بددلی پھیل جائے، مثلاً یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ہمیں قیصرو کسریٰ کے شہر فتح ہونے کی بشارتیں سناتے تھے، جبکہ اب ہماری یہ حالت ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نہیں جا سکتے۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے تھے سب دھوکا تھے۔ دراصل منافقین کا خیال یہ تھا کہ بس ایمان کا دعویٰ کرنے کی دیر ہے، آسمان سے فرشتے اتریں گے اور انھیں فتح حاصل ہو جائے گی، انھیں انگلی تک نہیں ہلانا پڑے گی، حالانکہ ایمان کے بعد آزمائش تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، تاکہ کھرے کھوٹے الگ الگ ہو جائیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بعض منافق کہنے لگے، پیغمبر کہتاہے کہ میرا دین پہنچے گا مشرق مغرب، یہاں جائے ضرور (قضائے حاجت) کو نہیں نکل سکتے۔ مسلمان کو چاہیے اب بھی نا امیدی کے وقت بے ایمانی کی باتیں نہ بولے۔“
جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ "اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو" جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کر رہا تھا کہ "ہمارے گھر خطرے میں ہیں،" حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے، دراصل وہ (محاذ جنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں چلو لوٹ چلو، اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حاﻻنکہ وه (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے (لیکن) ان کا پختہ اراده بھاگ کھڑے ہونے کا تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے مدینہ والو! یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بے حفاظت ہیں، اور وہ بے حفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ کہنے لگا کہ اے یثرب والو! اب (یہاں) تمہارے ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے سو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ہمارے گھر خالی (غیر محفوظ) ہیں حالانکہ وہ خالی (غیر محفوظ) نہیں تھے وہ تو صرف (محاذ سے) بھاگنا چاہتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے یثرب والو! تمھارے لیے ٹھہرنے کی کوئی صورت نہیں، پس لوٹ چلو، اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت مانگتا تھا، کہتے تھے ہمارے گھر تو غیر محفوظ ہیں، حالانکہ وہ کسی طرح غیر محفوظ نہیں، وہ بھاگنے کے سوا کچھ چاہتے ہی نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقوں کا فرار ٭٭
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لیے۔ کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والا ہے۔ بھاگ چلو لوٹو لوٹو واپس چلو۔ یثرب سے مراد مدینہ ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3622] اور روایت میں ہے کہ { وہ جگہ مدینہ ہے }۔
البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے { جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے، وہ طابہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:285/4:ضعیف] یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آ کر ٹھہرا تھا چونکہ اس کا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لیے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔ کچھ لوگ تو اس موقعۂ خندق پر کہنے لگے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔ بنو حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ ’ یہ تو ڈھونگ رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں ‘۔
13-1یثرب اس پورے علاقے کا نام تھا، مدینہ اسی کا ایک حصہ تھا، جسے یہاں یثرب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا نام یثرب اس لیے پڑا کہ کسی زمانے میں عمالقہ میں سے کسی نے یہاں پڑاؤ کیا تھا جس کا نام یثرب بن عمیل تھا۔ 13-2یعنی مسلمانوں کے لشکر میں رہنا سخت خطرناک ہے، اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ۔ 13-3یعنی بنو قریظہ کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے یوں اہل خانہ کی جان مال اور آبرو کا خطرے میں ہے۔ 13-3یعنی جو خطرہ وہ ظاہر کر رہے ہیں، نہیں ہے وہ اس بہانے سے راہ فرار چاہتے ہیں۔
(آیت 13) ➊ { وَ اِذْ قَالَتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ يٰۤاَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ:} ”یثرب“ مدینے کا پرانا نام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد اس کا نام ”مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم “ پڑ گیا، جو اختصار کے ساتھ مدینہ مشہور ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّيْ أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلٰی أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، فَذَهَبَ وَهَلِيْ إِلٰی أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِيْنَةُ يَثْرِبُ ] [بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام: ۳۶۲۲ ] ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جو کھجوروں والی ہے، تو مجھے گمان ہوا کہ وہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے، لیکن وہ یثرب یعنی مدینہ منورہ ہے۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرٰی يَقُوْلُوْنَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِيْنَةُ، تَنْفِی النَّاسَ كَمَا يَنْفِی الْكِيْرُ خَبَثَ الْحَدِيْدِ ] [ بخاري، فضائل المدینۃ، باب فضل المدینۃ…: ۱۸۷۱ ] ”مجھے ایک بستی کے متعلق حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، حالانکہ وہ ”المدینہ“ ہے۔ وہ (منافق) لوگوں کو اس طرح دور کرے گی جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے۔“ ➋ { فَارْجِعُوْا:} منافقین کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی ہمتیں پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سلع پہاڑی اور خندق کے درمیان (جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معسکر تھا) اب رہنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے واپس لوٹ جاؤ۔ اس واپس لوٹ جاؤ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مدینہ واپس چلو اور یہ بھی کہ دوبارہ پہلے دین پر واپس ہو جاؤ اور مشرکین کے ساتھ مل جاؤ، تاکہ وہ تمھیں نقصان نہ پہنچائیں۔ یعنی وہ مسلمانوں کو ارتداد کی ترغیب دیتے، مگر ایسے الفاظ میں کہ اگر کوئی بازپرس کرے تو کہیں کہ ہمارا مطلب تو مدینہ واپس چلنا تھا۔ ➌ {وَ يَسْتَاْذِنُ فَرِيْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ:} ان میں سے کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ کر اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت مانگی کہ ہمارے گھر بالکل غیر محفوظ ہیں اور ڈر ہے کہ کہیں بنو قریظہ حملہ کر کے ہمارے بچوں اور عورتوں کو ہلاک نہ کر دیں، یا چور لوٹ مار نہ کریں۔ ➍ { وَ مَا هِيَ بِعَوْرَةٍ:} حالانکہ وہ کسی طرح غیر محفوظ نہیں تھے، کیونکہ مسلمانوں نے تمام عورتوں اور بچوں کو شہر کی مضبوط حویلیوں میں رکھ کر اور ناکے لگا کر محفوظ کر دیا تھا۔ ➎ { اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا:} یعنی ان کی اجازت مانگنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے، بلکہ وہ کسی طرح میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔
اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ان پر اسی (مدینہ) کے اطراف سے (دشمن) گھس آتے اور پھر انہیں اس فتنہ (میں شرکت) کی دعوت دی جاتی تو یہ اس میں پڑ جاتے اور اس میں زیادہ توقف نہ کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اس (شہر) میں ان پر اس کے کناروں سے داخل ہوا جاتا، پھر ان سے فتنہ برپا کرنے کا سوال کیا جاتا تو یقینا وہ اسے (عمل میں) لے آتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں ‘۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے ‘۔
14-1یعنی مدینے یا گھروں میں چاروں طرف سے دشمن داخل ہوجائیں اور ان سے مطالبہ کریں کے تم کفر و شرک کی طرف دوبارہ واپس آجاؤ، تو یہ ذرا توقف نہ کریں گے اور اس وقت گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا عذر بھی نہیں کریں گے بلکہ فوراً مطالبہ شرک کے سامنے جھک جائیں مطلب یہ کہ کفر و شرک ان کو مرغوب ہے اور اس کی طرف لپکتے ہیں۔
(آیت 14) {وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا …: ” دُخِلَتْ “} کی ضمیر ”مدینہ“ کی طرف جا رہی ہے، یعنی {” وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمُ الْمَدِيْنَةُ مِنْ جِهَاتِهَا أَيْ وَلَوْ دَخَلَ الْأَحْزَابُ عَلَيْهِمُ الْمَدِيْنَةَ۔“ ” الْفِتْنَةَ “} سے مراد کفرو شرک اور مسلمانوں کے خلا ف جنگ ہے، یعنی اگر کفار شہر میں داخل ہو کر ان منافقین کو دعوت دیتے کہ آؤ دوبارہ ہمارے ساتھ کفر میں واپس آ جاؤ اور ہم سے مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے لڑو تو وہ فوراً ان کی پیش کش قبول کرتے اور ذرا دیر نہ کرتے۔
ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ کا وعدہ پوچھا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ (مقابلہ میں) پیٹھ نہیں پھیریں گے اور اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے متعلق بازپرس کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں ‘۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے ‘۔
15-1بیان کیا جاتا ہے کہ یہ منافقین جنگ بدر تک مسلمان نہیں ہوئے۔ لیکن جب مسلمان فاتح ہو کر اور مال غنیمت لے کر واپس آئے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام کا اظہار کیا بلکہ یہ عہد بھی کیا کہ آئندہ جب بھی کفار سے معرکہ پیش آیا تو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ضرور لڑیں گے، یہاں ان کو وہی عہد یاد کرایا گیا ہے۔ 15-2یعنی اسے پورا کرنے کا ان سے مطالبہ کیا جائے گا اور عدم وفا پر سزا کے مستحق ہوں گے۔
(آیت 15) {وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ …:} یہ عہد ان منافقوں نے احد کے موقع پر جنگ سے گریز اور پسپائی کے بعد کیا تھا کہ اگر آئندہ آزمائش کا کوئی موقع آیا تو ہم اپنی سابقہ کوتاہی کی تلافی کریں گے اور لڑائی سے پیٹھ نہیں پھیریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ عہد یاد دلایا کہ اسے کوئی لمبی مدت نہیں گزری، بلکہ غزوۂ احزاب سے کچھ ہی پہلے انھوں نے وہ عہد کیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ کو صرف زبانی عہد کے ساتھ دھوکا نہیں دیا جا سکتا، بلکہ وہ آزمائش کا کوئی موقع لا کر پوچھتا ضرور ہے کہ تمھارا وعدہ سچا تھا یا جھوٹا۔ اس کے علاوہ قیامت کے دن وہ ایمان کے عہد سے لے کر لڑائی سے فرار نہ کرنے تک کے ہر عہد کے متعلق بھی پوچھے گا کہ پورا کیا یا نہیں۔
اے نبیؐ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گا اگر ایسا کیا بھی تو پھر بھی (زندگانی دنیا سے) تمہیں لطف اندوز ہونے کا بہت تھوڑا موقع دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے تمھیں بھاگنا ہرگز نفع نہیں دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو اور اس وقت تمھیں فائدہ نہیں دیا جائے گا مگر بہت کم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں ‘۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے ‘۔
16-1یعنی موت سے کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آ بھی جاؤ گے تو کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا پڑے گا۔
(آیت 16) ➊ { قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ …:} یعنی فرار سے تمھاری عمر کچھ بڑھ نہیں جائے گی، نہ ہی فرار اختیار کرنے سے تم قتل سے یا موت سے بچ جاؤ گے، کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہو چکا ہے۔ پھر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا رتبہ پاؤ۔ ➋ { وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی اگر تم نے فرار اختیار کیا اور تمھاری کچھ عمر باقی ہوئی تب بھی دنیا کی لذتوں سے تم تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے، کیونکہ ایسے بزدلوں کا مقدر دشمن کے غلبہ کی صورت میں ذلت اور غلامی ہوتا ہے اور اگر اس سے بچ بھی گئے تو کتنی دیر زندہ رہ لو گے۔
اِن سے کہو، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مدد گار نہیں پا سکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہئے! کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے یا اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے (تو اسے کون روک سکتا ہے؟) اور وہ لوگ اللہ کے سوا اپنا نہ کوئی سرپرست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے وہ کون ہے جو تمھیں اللہ سے بچائے گا، اگر وہ تم سے کسی برائی کا ارادہ کرے، یا تم پر کسی مہربانی کا ارادہ کرے اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں ‘۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے ‘۔
17-1یعنی تمہیں ہلاک کرنا، بیمار کرنا، یا مال و جائداد میں نقصان پہنچانا یا قحط سالی میں مبتلا کرنا چاہے، تو کون ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے؟ یا اپنا فضل و کرم کرنا چاہے تو وہ روک سکے؟
(آیت 17) {قُلْ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۷) اور سورۂ زمر (۳۸) یعنی اپنے خیال میں تم نے عرب کے مشرکین سے بچنے کے لیے فرار اختیار کیا، لیکن اگر اللہ حکم دے اور مسلمان تمھیں اب قتل کر دیں تو تمھیں کون بچائے گا، یا وہ تم پر رحم کا ارادہ کرے تو کون اس کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے؟ بہرحال اللہ کی گرفت سے انھیں کوئی حمایتی یا مددگار نہیں بچا سکے گا۔
اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ "آؤ ہماری طرف" جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔ اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جہاد سے) روکتے ہیں اور انہیں بھی جو اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ (محاذِ جنگ چھوڑ کر) ہماری طرف آجاؤ اور یہ لوگ میدانِ جنگ میں بہت کم آتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اللہ تم میں سے رکاوٹیں ڈالنے والوں کو جانتا ہے اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والوں کو بھی کہ ہماری طرف آجائو اور وہ لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت کم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ’ ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے ‘۔
18-1یہ کہنے والے منافقین تھے، جو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے سے روکتے تھے۔ 18-2کیونکہ وہ موت کے خوف سے پیچھے ہی رہتے تھے۔
(آیت 18) ➊ { قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ۠ مِنْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے یار دوست لوگوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے کے بجائے ہمارے پاس چلے آؤ اور ہماری طرح آرام سے گھروں میں رہو۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔ ➋ { وَ لَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی کبھی کبھار دکھاوے اور نام لکھوانے کے لیے چلے آتے ہیں۔
جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے اور یہ اللہ کو آسان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ تمہارے معاملہ میں سخت بخیل ہیں اور جب خوف (کا وقت) آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھوم رہی ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو یہ لوگ (اپنی) تیز زبانوں سے طعنہ دیتے ہیں یہ مال (غنیمت) کے بڑے حریص ہیں (دراصل) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں چنانچہ اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے ہیں اور ایسا کرنا اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے بارے میں سخت بخیل ہیں، پس جب خوف آپہنچے تو توُانھیں دیکھے گا کہ تیری طرف ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہیں جس پر موت کی غشی طاری کی جا رہی ہو، پھر جب خوف جاتا رہے تو تمھیں تیز زبانوں کے ساتھ تکلیف دیں گے، اس حال میں کہ مال کے سخت حریص ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے اور یہ ہمیشہ سے اللہ پر بہت آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ’ ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے ‘۔
19-1یعنی تمہارے ساتھ خندق کھود کر تم سے تعاون کرنے میں یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں یا تمہارے ساتھ مل کر لڑنے میں بخیل ہیں۔ 19-2یہ ان کی بزدلی اور پست ہمتی کی کیفیت کا بیان ہے۔ 19-3یعنی اپنی شجاعت و مردانگی کی ڈینگیں مارتے ہیں، جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، یا غنیمت کی تقسیم کے وقت اپنی زبان کی تیزی و طراری سے لوگوں کو مثاثر کرکے زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں، غنیمت کی تقسیم کے وقت یہ سب سے زیادہ بخیل اور سب سے زیادہ بڑا حصہ لینے والے اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ بزدل اور ساتھیوں کو بےیارو مددگار چھوڑنے والے ہیں۔ 19-3یا دوسرا مفہوم ہے کہ خیر کا جذبہ بھی ان کے اندر نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ خرابیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ خیر اور بھلائی سے بھی وہ محروم ہیں۔ 19-4یعنی دل سے بلکہ یہ منافق ہیں، کیونکہ ان کے دل کفر وعناد سے بھرے ہوئے ہیں۔ 19-5ان کے اعمال کا برباد کردینا، یا ان کا نفاق۔
(آیت 19){ اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ …: ” اَشِحَّةً “ ”شَحِيْحٌ“} کی جمع ہے، سخت حرص اور بخل کے مجموعے کو {”اَلشُّحُّ“} کہتے ہیں۔ {” حِدَادٍ “} جمع ہے {”حَدِيْدٌ“} کی، تیز۔ {” سَلَقُوْكُمْ “ ”سَلَقَ يَسْلُقُ“} (ن) {”سَلَقَهُ بِالسَّوْطِ“} یعنی اس نے اسے کوڑے سے اتنا مارا کہ کھال اتار دی۔ {”سَلَقَ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ“} ہڈی سے گوشت اتار دیا۔ جب کوئی کسی کو بہت سخت بات کہے تو کہتے ہیں: {”سَلَقَهُ بِالْكَلَامِ۔“ ” الْخَيْرِ “} سے مراد مال غنیمت ہے۔ مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ نے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر کا جو اردو ترجمہ کیا ہے وہ بہت پر لطف ہے، لکھتے ہیں: ”یہ بڑے بخیل ہیں، نہ ان سے تمھیں کوئی مدد پہنچے، نہ ان کے دل میں تمھاری کوئی ہمددری، نہ مال غنیمت میں تمھارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں، آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہیں، مایوسانہ نگاہوں سے تکنے لگتے ہیں، لیکن خوف دور ہوا کہ انھوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو، ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں، ہم آپ کے ساتھی ہیں، ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں، ہمارا حصہ ہے اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے، بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہا کرتے ہیں۔ دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری، بد خلقی، بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی، روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے دل شروع ہی سے ایمان سے خالی ہیں، اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے۔“
یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ آور ہو جائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر یہ کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام
احمد رضا خان بریلوی
وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر تمہاری خبریں پوچھتے اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے
علامہ محمد حسین نجفی
(دشمن چلا گیا مگر) یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ابھی لشکر گئے نہیں ہیں اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو یہ پسند کریں گے کہ کاش ہم صحرا میں بدوؤں کے ساتھ جا کر رہیں اور وہاں سے تمہاری خبریں پوچھتے رہیں اور اگر تم میں ہوتے تو جب بھی (دشمن سے) جنگ نہ کرتے مگر بہت کم۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لشکروں کو سمجھتے ہیں کہ نہیں گئے اور اگر لشکر آجائیں تو وہ پسند کریں گے کاش! واقعی وہ بدویوں میں باہر نکلے ہوئے ہوتے، تمھاری خبریں پوچھتے رہتے اور اگر وہ تم میں موجود ہوتے تو نہ لڑتے مگر بہت کم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دشمن کا خوف ٭٭
ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر میں ہی نہ ہوتے بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دوردراز کے جنگل میں ہوتے کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی لڑائی کا کیا حشر ہوا؟ اللہ فرماتا ہے ’ یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بے کار ہیں۔ ان کے دل مردہ ہیں نامردی کے گھن نے انہیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کون سی بہادری دکھائیں گے؟ ‘
20-1یعنی ان منافقین کی بزدلی، کم ہمتی اور خوف و دہشت کا یہ حال ہے کہ کافروں کے گروہ اگرچہ ناکام و نامراد واپس جا چکے ہیں۔ لیکن یہ اب تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک اپنے مورچوں اور خیموں میں موجود ہیں۔ 20-2یعنی بالفرض اگر کفار کی ٹولیاں دوبارہ لڑائی کی نیت سے واپس آجائیں تو منافقین کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ مدینہ شہر کے اندر رہنے کے بجائے باہر صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوں اور وہاں لوگوں سے تمہاری بابت پوچھتے رہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھی ہلاک ہوئے یا نہیں؟ یا لشکر کفار کامیاب رہا یا ناکام؟ 20-3محض عار کے ڈر سے یا ہم وطنی کی حمیت کی وجہ سے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو جہاد سے گریز کرتے یا اس سے پیچھے رہتے ہیں۔
(آیت 20) {يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوْا …: ” بَادُوْنَ “ ”بَدَا يَبْدَوْ“} سے اسم فاعل کی جمع ہے، یہاں مراد {”خَارِجُوْنَ إِلَي الْبَدْوِ“} ہے، یعنی بدویوں کی طرف نکلنے والے۔ ابن کثیر میں ہے: ”یعنی ان کی بزدلی اور ڈرپو کی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انھیں اس بات کا یقین نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا ہے، انھیں خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں نہ آ پڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر ہی میں نہ ہوتے، بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دور دراز کے جنگل میں ہوتے، کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی، لڑائی کا کیا حشر ہوا؟ اللہ فرماتا ہے کہ یہ اگر تمھارے ساتھ بھی ہوں تو بے کار ہے۔ ان کے دل مردہ ہیں، نامردی کے گھن نے انھیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کون سی بہادری دکھائیں گے؟“
در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک تمہارے لئے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات میں (پیروی کیلئے) بہترین نمونہ موجود ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرار دیتے ہیں ٭٭
یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتداء پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی، مثلاً راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائی یقیناً یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنا لیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے بہترین نمونہ بنا لیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔ اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ ’ تم نے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لیے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے؟‘
پھر اللہ کی فوج کے سچے مومنوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ ’ انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے ‘ اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ غلط ہو یقیناً ہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہو گا۔ ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ آیت «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّـهِ قَرِيبٌ» ۱؎ [2-البقرة:214] ، یعنی ’ کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے ‘۔ یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے۔ فرماتا ہے کہ ’ ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی ‘۔ اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کر دی ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔ پس فرماتا ہے کہ ’ اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں مانا کرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے ‘۔
21-1یعنی اے مسلمانو! اور منافقو! تم سب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے اندر بہترین نمونہ ہے، پس تم جہاد میں اور صبر ثبات میں اسی کی پیروی کرو۔ ہمارا یہ پیغمبر جہاد میں بھوکا رہا حتی کہ اسے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے، اس کا چہرہ زخمی ہوگیا اس کا رباعی دانت ٹوٹ گیا، خندق اپنے ہاتھوں سے کھودی اور تقریبا ایک مہینہ دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا۔ یہ آیت اگرچہ جنگ احزاب کے ضمن میں نازل ہوئی ہے جس میں جنگ کے موقعے پر بطور خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھنے اور اس کی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حکم عام ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے آپ کی اقتدا ضروری ہے چاہے ان کا تعلق عبادات سے یا معاشرت سے، معیشت سے یا سیاست سے، زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی ہدایات واجب الاتباع ہیں۔ (ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا) 59۔ الحشر:7) (اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 3۔ آل عمران:31)، کا بھی یہی مفاد ہے۔ 21-2اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اسوہ رسول کو وہی اپنائے گا جو آخرت میں اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ آجکل مسلمان بھی بالعموم ان دونوں وصفوں سے محروم ہیں، اس لئے اسوہ رسول کی بھی کوئی اہمیت ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ان میں جو اہل دین ہیں ان کے پیشوا پیر اور مشائخ ہیں اور جو اہل دنیا و سیاست ہیں ان کے مرشد و رہنما آقایان مغرب ہیں۔ رسول اللہ سے عقیدت کے زبانی دعوے بڑے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرشد اور پیشوا ماننے کے لیے ان میں سے کوئی بھی آمادہ نہیں ہے۔ فالی اللہ المشتکی۔
(آیت 21) ➊ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ …:” اُسْوَةٌ “} اور {”قُدْوَةٌ“} جس کی پیروی کی جائے، نمونہ۔ اس میں لڑائی سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے، یعنی تمھارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے، تم بھی جان لڑاتے۔ ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں تو خطرے میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ میں آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں! اگر وہ ایسا کرتے تو تمھارے لیے وجہ جواز ہو سکتی تھی، مگر وہ تو ہر کام میں پیش پیش تھے۔ خندق کھودنے میں، کدال چلانے میں، مٹی ڈھونے میں، بلکہ صحابہ کے ساتھ جنگی ترانے پڑھنے میں، بھوکے اور بیدار رہنے میں، پوری جنگ میں بہ نفس نفیس محاذ پر رہنے میں سب کے ساتھ، بلکہ آگے آگے تھے۔ {” كَانَ “} کا لفط استمرار کے لیے ہے، یعنی اس سے بھی پہلے مکہ اور طائف میں کفار کی طرف سے آنے والی تکلیفیں برداشت کرنے میں، ہجرت کے پر خطر سفر میں، احد میں پیش آنے والے زخم اور صدمے اٹھانے میں، غرض پوری زندگی میں ہر مشکل مرحلے پر وہ سب سے آگے اور تمھارے لیے نمونہ تھے۔ پھر تمھارا بزدلی دکھانا اور کسی کام سے بچنے کی فکر کرنا کسی بھی لحاظ سے معقول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ➋ یہ آیت گو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی، مگر اس کے لفظ عام ہیں، اس لیے یہ ہر موقع اور محل کے لیے عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اقوال، افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں، جن پر انھیں چلنا لازم ہے اور ان کے لیے جائز نہیں کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے گریز کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ }» [ آل عمران: ۳۱ ] ”کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گااور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ اعراف کی آیات (۱۵۶ تا ۱۵۸) اور سورۂ حشر (۷)۔ ➌ {اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ:} اُسوہ (نمونہ) دو طرح کا ہے، ایک اسوۂ حسنہ (اچھا نمونہ) اور دوسرا اسوۂ سیئہ (برا نمونہ)۔ اسوۂ حسنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ آپ کی پیروی کرنے والا صراط مستقیم پر چل کر عزت و نعمت کی جنت تک پہنچ جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو بھی ہے وہ اسوۂ سیئہ ہے، جیسا کہ کفار کو جب رسولوں نے اپنی پیروی کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: «{ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ }» [ الزخرف: ۲۲ ] ”بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔“ ➍ {لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ …:} اس اسوۂ حسنہ پر وہی لوگ چلتے ہیں اور انھی کو اس کی توفیق ملتی ہے جن میں تین وصف ہوں، ایک اللہ پر ایمان، اس سے ملاقات اور اس کے دیدار کی امید، دوسرا آخرت پر ایمان اور اس کے ثواب کی امید اور تیسرا کثرت سے اللہ کو یاد کرنا۔ ان لوگوں کو یہ تینوں چیزیں رسول کی پیروی کے لیے ہر وقت آمادہ اور مستعد رکھتی ہیں، بخلاف کافر اور منافق کے جس کا نہ اللہ پر ایمان ہے، نہ آخرت پر اور نہ کبھی اس نے اپنے مالک کو یاد کیا، تو ان لوگوں کے سامنے دنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں، اس لیے وہ رسول کو نمونہ بنانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
اور سچے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ "یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی" اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایمان والوں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے! کہ انہیں کا وعده ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہٴ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے اور اس سے انہیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (سچے) اہلِ ایمان کا حال یہ تھا کہ جب انہوں نے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ ہے وہ (لشکر) جس کا خدا اور رسول نے وعدہ کیا تھا اور خدا اور رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس (بات) نے ان کے ایمان اور (جذبۂ) تسلیم میں مزید اضافہ کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انھوں نے کہا یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اوراس کے رسول نے سچ کہا، اور اس چیز نے ان کو ایمان اور فرماں برداری ہی میں زیادہ کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرار دیتے ہیں ٭٭
یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتداء پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی، مثلاً راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائی یقیناً یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنا لیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے بہترین نمونہ بنا لیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔ اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ ’ تم نے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لیے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے؟‘
پھر اللہ کی فوج کے سچے مومنوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ ’ انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے ‘ اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ غلط ہو یقیناً ہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہو گا۔ ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ آیت «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّـهِ قَرِيبٌ» ۱؎ [2-البقرة:214] ، یعنی ’ کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے ‘۔ یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے۔ فرماتا ہے کہ ’ ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی ‘۔ اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کر دی ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔ پس فرماتا ہے کہ ’ اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں مانا کرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے ‘۔
22-1یعنی منافقین نے دشمن کی کثرت تعداد اور حالات کی سنگینی دیکھ کر کہا تھا کہ اللہ اور رسول کے وعدے فریب تھے، ان کے برعکس اہل ایمان نے کہا کہ اللہ اور رسول نے جو وعدہ کیا ہے کہ امتحان سے گزارنے کے بعد تمہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کیا جائے گا، وہ سچا ہے۔ 22-2یعنی حالات کی شدت اور ہولناکی نے ان کے ایمان کو متزلزل نہیں کیا، بلکہ ان کے ایمان میں جذبہ اطاعت اور تسلیم و رضا میں مذید اضافہ کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں اور ان کے مختلف احوال کے اعتبار سے ایمان اور اس کی قوت میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔
(آیت 22) ➊ {وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ …:} کفار کے لشکروں کی کثرتِ تعداد، محاصرے کی سختی، سردی اور بھوک کی شدت اور بنو قریظہ کی عہد شکنی کی وجہ سے جب حالات نہایت سنگین ہو گئے تو اس وقت منافقوں کا اور شکوک و شبہات کے مریض مسلمانوں کا حال اوپر بیان ہوا کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدے محض فریب تھے، اب مخلص مومنوں کا حال بیان ہوتا ہے کہ انھوں نے ان سختیوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو آزمائش، تنگی اور تکلیف کے وہی مرحلے ہیں جن کے آنے کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پہلے ہی خبر دے رکھی ہے اور جن پر صبر کے بعد اس کی نصرت کا وعدہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ}» [ البقرۃ:۲۱۴ ] ”یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ وہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی؟ سن لو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔“ ➋ {وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ:} یعنی اللہ اور اس کے رسول نے آزمائش کا جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور اس پر صبر کے بعد مسلمانوں کی فتح و نصرت اور کفار کی شکست کا وعدہ بھی سچا تھا، جو سورۂ بقرہ (۲۱۴) میں {” اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ “} کے الفاظ کے ساتھ کیا گیا اور اس سے پہلے مکہ میں نازل ہونے والی سورۂ قمر (۴۵) میں {” سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ “} کے الفاظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ➌ { وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا:} یعنی وہ پہلے سے بھی زیادہ ایمان میں پختہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ماننے والے بن گئے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ آدمی کے ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں آٹھ آیات اور متعدد احادیث سے یہ بات مدلل فرمائی ہے۔ ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو صریح آیات و احادیث کے باوجود مصر ہیں کہ ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے، نہ زیادتی۔
ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی
مولانا محمد جوناگڑھی
مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی
احمد رضا خان بریلوی
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اہلِ ایمان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے وہ عہد و پیمان سچا کر دکھایا جو اللہ سے کیا تھا۔ سو ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنا وقت پورا کر چکے ہیں اور کچھ اس (وقت) کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنی روش میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کی۔
عبدالسلام بن محمد
مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا، پھر ان میں سے کوئی تو وہ ہے جو اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وہ ہے جو انتظار کر رہا ہے اور انھوں نے نہیں بدلا، کچھ بھی بدلنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہو گیا ٭٭
منافقوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے ‘۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بے چین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { ثابت رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ الاحزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ «عَلَيْهِ أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» نے دو گواہوں کے برابر کر دیا تھا۔ وہ آیت «مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» [ 33- الأحزاب: 23 ] ، ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2807]
یہ آیت انس بن نضیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4783] واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ { سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہو سکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ واپس آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابوعمرو! (رضی اللہ عنہ) کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آ رہی ہیں۔ یہ کہتے ہی آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بے پناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کر دئیے تھے اور کفار لڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو (۸۰) اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا۔ شہادت کے بعد کوئی آپ رضی اللہ عنہ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1903] اور روایت میں ہے کہ { جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو وہ کر رہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2805] طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ { جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہو گئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آ رہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا: { اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3203، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ان کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہا نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کر دی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3720،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گزاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں ‘۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کر دی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گزرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں۔ یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث و طیب کی تمیز ہو جائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر و باطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہو چکا۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کر لے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔ جیسے اس کا فرمان ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:31] ، ’ ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے ‘۔ پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔ جیسے فرمایا آیت «مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ» ۱؎ [3-آل عمران:179] ، ’ اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کر لے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ یہ اس لیے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہو جائے اور ان کو معاف فرما دے۔ اس لیے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت و رحمت غضب و غصے سے بڑھی ہوئی ہے ‘۔
23-1یہ آیت ان بعض صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اس موقع پر جاں نثاری کے عجیب و غریب جوہر دکھائے تھے اور انھیں میں وہ صحابہ بھی شامل ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے لیکن انہوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ اب آئندہ کوئی معرکہ پیش آیا تو جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے۔ جیسے نضر بن انس وغیرہ جو بالآخر لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے جسم پر تلوار نیزے اور تیروں کے اسی سے کچھ اوپر زخم تھے، شہادت کے بعد ان کی ہمشیرہ نے انھیں ان کی انگلی کے پور سے پہچانا۔ 23-2نَحْبہ، نحب کے معنی ہیں عہد، نذر اور موت کے کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ ان صادقین میں کچھ نے اپنا وعدہ اور نذر پوری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا ہے۔ 23-3اور دوسرے وہ ہیں جو ابھی تک عروس شہادت سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں تاہم اس کے شوق میں شریک جہاد ہوتے ہیں اور شہادت کی سعادت کے آرزو مند ہیں اپنی اس نذر یا عہد میں انہوں نے تبدیلی نہیں کی۔
(آیت 23) ➊ { مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ:} پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا، جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا اور بزدلی اور نامردی سے میدان سے بھاگ گئے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْـُٔوْلًا }» [ الأحزاب: ۱۵ ] ”حالانکہ بلاشبہ یقینا اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔“ اب ان لوگوں پر چوٹ کے لیے ان ایمان والوں کا ذکر ہوتا ہے جو فی الواقع مرد تھے اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ پورا کر دیا۔ اس آیت میں ان تمام مخلص مسلمانوں کی تعریف ہے جو اپنی جان و مال کی پروا نہ کرتے ہوئے اتنے مشکل حالات اور اتنے کثیر دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔ ان میں سب سے آگے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جو کسی جنگ اور کسی موقع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہے اور جنھوں نے اپنا جان و مال سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا تھا، پھرعمر، عثمان، علی اور درجہ بدرجہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں۔ اس معاہدے سے مراد وہ معاہدہ ہے جو ایمان لانے کے ساتھ ہی مومن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود بخود ہو جاتا ہے، اس کا ذکر اس آیت میں ہے: «{ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا۠ بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ }» [ التوبۃ: ۱۱۱ ] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ ➋ {فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ …: ”نَحْبٌ“} کا معنی عہد، نذر اور موت ہے، یہاں {”نَحْبٌ“} سے مراد ایسا عہد ہے جو نذر کی طرح موت تک کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنھوں نے شہادت پا کر وہ نذر پوری کر دی کہ مرتے دم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور کچھ اس انتظار میں ہیں اور انھوں نے اپنے عہد میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جنگ خندق سے پہلے جنگ بدر اور اُحد میں شہید ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے، مثلاً حمزہ، مصعب بن عمیر، عبداللہ بن جحش، سعد بن ربیع اور انس بن نضر رضی اللہ عنھم وغیرہ۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے چچا (انس بن نضر رضی اللہ عنہ) جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تو یہ بات ان پر شاق گزری۔ انھوں نے کہا: ”پہلی لڑائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے، میں اس سے غائب رہا، اب اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔“ اس کے سوا وہ کچھ کہنے سے ڈرے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”ابو عمرو! کہاں جا رہے ہو؟“ پھر کہنے لگے: ”واہ واہ! مجھے تو احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔“ پھر وہ لڑے یہاں تک کہ قتل ہو گئے۔ (لڑائی کے بعد دیکھا گیا) تو ان کے بدن پر اسی (۸۰) سے زائد تلوار، نیزے اور تیر کے زخم تھے۔ ان کی بہن اور میری پھوپھی رُبیع بنت نضر رضی اللہ عنھا نے کہا: ”میں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا مگر ان کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔“ اور یہ آیت نازل ہوئی: «{ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا}» [الأحزاب: ۲۳ ] انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”صحابہ رضی اللہ عنھم سمجھتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید: ۱۹۰۳ ] معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ ] [ ترمذي، التفسیر، باب و من سورۃ الأحزاب: ۳۲۰۲ ] ”طلحہ(رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی نذر پوری کر چکے۔“ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں انھیں شہید قرار دے دیا۔ قیس بن حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا، جس کے ساتھ انھوں نے احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا تھا۔ [ بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب ذکر طلحۃ بن عبید اللہ: ۳۷۲۴ ] ➌ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ:} اس سے مراد وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں جو منتظر تھے کہ کب کوئی موقع ملتا ہے جس میں وہ جان کی قربانی پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنا کیا ہوا عہد پورا کریں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ عہد کے سچے صرف وہی ہیں جو شہید ہو چکے، بلکہ {”إِحْدَي الْحُسْنَيَيْنِ“} (فتح یا شہادت) کا ہر طالب اس کا مصداق ہے۔ ➍ { وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا:} منافقین نے تو اپنا عہد بدل ڈالا، لیکن یہ سچے مومن اپنے عہد پر پوری طرح قائم رہے۔
(یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو اُن کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ بہت ہی مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے، یا انہیں توبہ دے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر چاہے، یا ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہو گیا ٭٭
منافقوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے ‘۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بے چین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { ثابت رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ الاحزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ «عَلَيْهِ أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» نے دو گواہوں کے برابر کر دیا تھا۔ وہ آیت «مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» [ 33- الأحزاب: 23 ] ، ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2807]
یہ آیت انس بن نضیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4783] واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ { سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہو سکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ واپس آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابوعمرو! (رضی اللہ عنہ) کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آ رہی ہیں۔ یہ کہتے ہی آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بے پناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کر دئیے تھے اور کفار لڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو (۸۰) اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا۔ شہادت کے بعد کوئی آپ رضی اللہ عنہ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1903] اور روایت میں ہے کہ { جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو وہ کر رہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2805] طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ { جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہو گئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آ رہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا: { اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3203، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ان کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہا نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کر دی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3720،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گزاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں ‘۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کر دی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گزرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں۔ یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث و طیب کی تمیز ہو جائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر و باطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہو چکا۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کر لے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔ جیسے اس کا فرمان ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:31] ، ’ ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے ‘۔ پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔ جیسے فرمایا آیت «مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ» ۱؎ [3-آل عمران:179] ، ’ اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کر لے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے ‘۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ یہ اس لیے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہو جائے اور ان کو معاف فرما دے۔ اس لیے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت و رحمت غضب و غصے سے بڑھی ہوئی ہے ‘۔
24-1یعنی انھیں قبول اسلام کی توفیق دے۔
(آیت 24) ➊ {لِيَجْزِيَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ:} جنگ احزاب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا، مثلاً مشرکین کے لشکروں کی آمد، مدینہ کا محاصرہ، مسلمانوں پر شدید خوف کا طاری ہونا،منافقوں کے طعنے اور بزدلی کی باتیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ثابت قدمی اور قربانی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثال کردار۔ اب ان سب باتوں کی حکمت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسلمانوں کو ان پریشانیوں کے بغیر ہی نعمتوں سے نواز دیتا، مگر اس نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ وہ چاہتا تھا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا امتحان لے اور جو لوگ اپنے امتحان میں سچے اور پکے ثابت ہوں انھیں ان کی سچائی کا بدلا دے اور یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ }» [ محمد: ۳۱ ] ” اور ہم ضرور ہی تمھیں آزمائیں گے،یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات جانچ لیں۔“ اور فرمایا: «{ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ }» [ آل عمران: ۱۷۹ ] ”اللہ کبھی ایسا نہیں کہ ایمان والوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر تم ہو، یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے۔“ ➋ { وَ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو منافقین کو عذاب دے، چاہے تو نہ دے، کیونکہ کفر پر مرنے والوں کے لیے عذاب تو وہ خود طے کر چکا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ چاہے تو عہد توڑنے والے منافقین کو موت سے پہلے توبہ کی توفیق نہ دے اور انھیں ان کے نفاق کی سزا دے اور چاہے تو توبہ کی توفیق دے کر ان کی توبہ قبول فرمائے۔ دلیل اس کی {” اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ “} کے الفاظ ہیں۔ ➌ {اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ منافق جو آگ کے درک اسفل کے حق دار بن چکے، وہ توبہ کیسے کریں گے؟ فرمایا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بے حد مغفرت والا، یعنی گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ وہ جس پر چاہے مہربان ہو کر اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دے، پھر اپنی مزید رحمت کے ساتھ نواز دے۔ اس میں عہد توڑنے والے منافقین کے لیے توبہ کی ترغیب اور ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت ہے۔
اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نےکافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائده نہیں پایا، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ اور غالب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے کافروں کو غم و غصہ کی حالت میں (بے نیل مُرام) لوٹایا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے اور اللہ نے مؤمنوں کو جنگ (کی زحمت) سے بچا لیا اور اللہ بڑا طاقتور (اور) غالب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے غصے سمیت لوٹا دیا، انھوں نے کوئی بھلائی حاصل نہ کی اور اللہ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کفار سے خود نپٹے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ ’ اس نے طوفان باد و باراں بھیج کر اور اپنے نہ نظر آنے والے لشکر اتار کر کافروں کی کمر توڑی دی اور انہیں سخت مایوسی اور نامرادی کے ساتھ محاصرہ ہٹانا پڑا۔ بلکہ اگر رحمۃ اللعالمین کی امت میں یہ نہ ہوتے تو یہ ہوائیں ان کے ساتھ وہی کرتیں جو عادیوں کے ساتھ اس بے برکت ہوا نے کیا تھا ‘۔ چونکہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ «وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» ۱؎ [8-الأنفال:33] ’ تو جب تک ان میں ہے اللہ انہیں عام عذاب نہیں کرے گا لہٰذا انہیں صرف ان کی شرارت کا مزہ چکھا دیا۔ ان کے مجمع کو منتشر کر کے ان پر سے اپنا عذاب ہٹالیا ‘۔ چونکہ ان کا یہ اجتماع محض ہوائے نفسانی تھا اس لیے ہوا نے ہی انہیں پراگندہ کر دیا جو سوچ سمجھ کر آئے تھے سب خاک میں مل گیا کہاں کی غنیمت؟ کہاں کی فتح؟ جان کے لالے پڑے گئے اور ہاتھ ملتے دانت پیستے پیچ و تاب کھاتے ذلت ورسوائی کے ساتھ نامرادی اور ناکامی سے واپس ہوئے۔ دنیا کا خسارہ الگ ہوا اور آخرت کا وبال الگ۔ کیونکہ جو کوئی شخص کسی کام کا قصد کرتا ہے اور وہ اپنے کام کو عملی صورت بھی دیدے پھر وہ اس میں کامیاب نہ ہو تو گنہگار تو وہ ہو ہی گیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو فنا کرنے کی آرزو پھر اہتمام پھر اقدام سب کچھ انہوں نے کر لیا۔ لیکن قدرت نے دونوں جہان کا بوجھ ان پر لادھ کر انہیں جلے دل سے واپس کیا اللہ تعالیٰ نے خود ہی مومنوں کی طرف سے ان کا مقابلہ کیا۔ نہ مسلمان ان سے لڑے نہ انہیں ہٹایا۔ بلکہ مسلمان اپنی جگہ رہے اور وہ بھاگتے رہے۔ اللہ نے اپنے لشکر کی لاج رکھ لی اور اپنے بندے کی مدد کی اور خود ہی کافی ہو گیا۔ { اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اپنے لشکر کی عزت کی تمام دشمنوں سے آپ ہی نمٹ لیا اور سب کو شکست دے دی۔ اس کے بعد اور کوئی بھی نہیں }۔ [صحیح بخاری:4114] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے موقعہ پر جناب باری تعالیٰ سے جو دعا کی تھی وہ بھی بخاری مسلم میں مروی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ . اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» اے اللہ اے کتاب کے اتارنے والے جلد حساب لینے والے ان لشکروں کو شکست دے اور انہیں ہلا ڈال } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4115] اس فرمان «وَكَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ وَكَان اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا» ۱؎ [33-الأحزاب:25] یعنی ’ اللہ نے مومنوں کی کفایت جنگ سے کر دی ‘۔ اس میں نہایت لطیف بات یہ ہے کہ نہ صرف اس جنگ سے ہی مسلمان چھوٹ گئے بلکہ آئندہ ہمیشہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم اس سے بچ گئے کہ مشرکین ان پر چڑھ دوڑیں۔ چنانچہ آپ تاریخ دیکھ لیں جنگ خندق کے بعد کافروں کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ مدینے پر یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جگہ خود چڑھائی کرتے۔ ان کے منحوس قدموں سے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسکن و آرام گاہ کو محفوظ کر لیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
بلکہ برخلاف اس کے مسلمان ان پر چڑھ چڑھ گئے یہاں تک کہ عرب کی سر زمین سے اللہ نے شرک و کفر ختم کر دیا۔ جب اس جنگ سے کافر لوٹے اسی وقت رسول اکرم صلی اللہ علہ وسلم نے بطور پیشن گوئی فرما دیا تھا کہ { اس سال کے بعد قریش تم سے جنگ نہیں کریں گے بلکہ تم ان سے جنگ کرو گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4110] چنانچہ یہی ہوا، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا۔ اللہ کی قوت کا مقابلہ بندے کے بس کا نہیں۔ اللہ کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ اسی نے اپنی مدد وقوت سے ان بپھرے ہوئے اور بکھرے ہوئے لشکروں کو پسپا کیا۔ انہیں برائے نام بھی کوئی نفع نہ پہنچا۔ اس نے اسلام اور اہل اسلام کو غالب کیا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے عبد و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
25-1یعنی مشرک جو مختلف طرفوں سے جمع ہو کر آئے تھے تاکہ مسلمانوں کا نشان مٹا دیں۔ اللہ نے انھیں اپنے غیظ و غضب سمیت واپس لوٹا دیا۔ نہ دنیا کا مال متاع ان کے ہاتھ لگا اور نہ آخرت میں ہی اجر وثواب کے مستحق ہوں گے، کسی بھی قسم کی خیر انھیں حاصل نہیں ہوئی۔ 25-2یعنی مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہوا اور فرشتوں کے ذریعے سے اپنے مومن بندوں کی مدد کا سامان بہم پہنچا دیا۔ اسلئے نبی نے فرمایا (لَا اِلَہَ اَلَّا للّٰہُ وَحْدَہُ، صَدَقَ وَعْدَۃُ، نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ اَعَزَّ جُنْدَہُ، وَحَزَمَ الاَّحْزَابَ وَحْدَہَ، فَلَا شَیْءٍ بَعْدَ ہُ) (صحیح بخاری) ' ' ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اپنے لشکر کو سرخرو کیا، اور تمام گروہوں کو اکیلے اس نے ہی شکست دے دی، اس کے بعد کوئی شئ نہیں ' یہ دعا حج عمرہ، جہاد اور سفر سے واپسی پر پڑھنی چاہئے۔
(آیت 25) ➊ { وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا:} ان آیات میں غزوۂ احزاب کا انجام بیان فرمایا کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینے کے جس ارادے سے آئے تھے اس میں انھیں کوئی کامیابی نہ ہوئی، نہ مسلمانوں کو مٹا سکے، نہ مدینہ فتح ہوا اور نہ مال غنیمت یا اسیر حاصل کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں دل کی جلن اور غصے سے بھرے ہونے کی حالت میں کوئی بھی فائدہ حاصل کیے بغیر واپس لوٹا دیا۔ ➋ { وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ:} یعنی مسلمانوں کو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے لڑائی اپنے ذمے لے لی اور آندھی اور فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ کفار کے لشکروں کو مار بھگایا۔ اس کی تفصیل اسی سورت کی آیت (۹) کی تفسیر میں ملاحظہ کریں۔ ➌ {وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا:} چونکہ اتنی تعداد اور تیاری کے باوجود کفار کا بھاگ جانا عقل سے بعید اور نہایت حیران کن واقعہ تھا، اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے، اس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں۔
پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور جن اہلِ کتاب نے ان کی مدد کی تھی انہیں ان کے قلعوں سے اتارا اور ان کے دلوں میں رُعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو قید
علامہ محمد حسین نجفی
خدا نے ان اہلِ کتاب کو جنہوں نے ان (کفار) کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ چنانچہ تم ان میں سے بعض کو قتل کرنے لگے اور بعض کو قید کر لیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے ان اہل کتاب کو، جنھوں نے ان کی مدد کی تھی، ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، ایک گروہ کو تم قتل کرتے تھے اور دوسرے گروہ کو قید کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا ٭٭
اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین و یہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیمان ہو چکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بے وفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کر دیا۔ پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور ان کے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کر لیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا۔ آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آ جاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہو گا۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہو گا۔ بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت صدمہ ہوا اور بہت ہی بھاری پڑا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے غلاموں کی مدد کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب رضی اللہ عنہم کے مظفر و منصور مدینے شریف کو واپس آئے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہتھیار کھول دئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہتھیار اتاکر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گرد و غبار سے پاک صاف ہونے کے لیے غسل کرنے کو بیٹھے ہی تھے جو جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے آپ کے سر پر ریشمی عمامہ تھا خچر پر سوار تھے جس پر ریشمی گدی تھی فرمانے لگے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمر کھول لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں }۔
حضرت جبرائیل نے فرمایا ”لیکن فرشتوں نے اب تک اپنے ہتھیار الگ نہیں کئے۔ میں کافروں کے تعاقب سے ابھی ابھی آ رہا ہوں سنئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان کی پوری گوشمالی کیجئے۔ مجھے بھی اللہ کا حکم مل چکا ہے کہ میں انہیں تھرادوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے تیار ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا اور فرمایا کہ { تم میں سے ہر ایک عصر کی نماز بنو قریظہ میں ہی پڑھے }۔ ظہر کے بعد یہ حکم ملا تھا بنو قریظہ کا قلعہ یہاں سے کئی میل پر تھا۔ نماز کا وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کو راستہ میں آ گیا۔ تو بعض نے تو نماز ادا کر لی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم تیز چلیں۔ اور بعض نے کہا ہم تو وہاں پہنچے بغیر نماز نہیں پڑھیں گے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ لشکر کا جھنڈادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہام اجمعین کے پیچھے پیچھے بنو قریظہ کی طرف چلے اور جا کر ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک رہا۔ جب یہودیوں کے ناک میں دم آ گیا اور تنگ حال ہو گئے تو انہوں نے اپنا حاکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنایا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ بنو قریظہ میں اور قبیلہ اوس میں زمانہ جاہلیت میں اتفاق و یگانگت تھی ایک دوسرے کے حلیف تھے اس لیے ان یہودیوں کو یہ خیال رہا کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمارا لحاظ اور پاس کریں گے جیسے کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنو قینقاع کو چھڑوایا تھا۔
ادھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جنگ خندق میں انہیں اکحل کی رگ میں ایک تیر لگا تھا جس سے خون جاری تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر داغ لگوایا تھا اور مسجد کے خیمے میں ہی انہیں رکھا تھا کہ پاس ہی پاس عیادت اور بیمار پر سی کر لیا کریں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ ”اے پروردگار اگر اب بھی کوئی ایسی لڑائی باقی ہے جس میں کفار قریش تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ آئیں تو تو مجھے زندہ رکھ کہ میں اس میں شرکت کر سکوں اور اگر تو نے کوئی ایک لڑائی بھی ایسی باقی نہیں رکھی تو خیر میرا زخم خون بہاتا رہے لیکن اے میرے رب جب تک میں بنو قریظہ قبیلے کی سرکشی کی سزا سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر لوں تو میری موت کو مؤخر فرمانا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جیسے مستجاب الدعوات کی دعا کی قبولیت کی شان دیکھئیے کہ آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے ہیں ادھر یہودان بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اظہار رضا مندی کرکے قلعے کو مسلمانوں کے سپرد کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی بھیج کر آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے بلواتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ آ کر ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیں۔ یہ گدھے پر سوار کرالئے گیے اور سارا قبیلہ ان سے لپٹ گیا کہ دیکھئیے خیال رکھئے گا بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے آدمی ہیں انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر بھروسہ کیا ہے وہ آپ رضی اللہ عنہ کے حلیف ہیں آپ کے قوم کے دکھ کے ساتھی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ان پر رحم فرمائیے گا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا۔ دیکھئیے اس وقت ان کا کوئی نہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ کے بس میں ہیں وغیرہ لیکن سعد رضی اللہ عنہا محض خاموش تھے کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ ان لوگوں نے مجبور کیا کہ جواب دیں پیچھا ہی نہ چھوڑا۔ آخر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”وقت آگیا ہے کہ سعد (رضی اللہ عنہ) اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں۔“ یہ سنتے ہی ان لوگوں کے تو دل ڈوب گئے اور سمجھ لیا کہ بنو قریظہ کی خیر نہیں۔
جب سعد رضی اللہ عنہا کی سواری اس خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو اپنے سردار کے استقبال کے لیے اٹھو }، چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو عزت واکرام وقعت واحترام سے سواری سے اتارا یہ اس لیے تھا کہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ حاکم کی حیثیت میں تھے ان کے فیصلے پورے ناطق و نافذ سمجھے جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹھتے ہی حضور نے فرمایا کہ { یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہو کر قلعے سے نکل آئیں ہیں اب آپ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیجئیے }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا جو میں ان پر حکم کروں وہ پورا ہو گا؟ حضور نے فرمایا: { ہاں کیوں نہیں؟ } کہا اور اس خیمے والوں پر بھی اس کی تعمیل ضروری ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً } پوچھا اور اس طرف والوں پر بھی؟ اور اشارہ اس طرف کیا جس طرف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت و عظمت کی وجہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { ہاں اس طرف والوں پر بھی }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میرا فیصلہ سنئے ”میں کہتا ہوں بنو قریظہ میں جتنے لوگ لڑنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کر لیا جائے ان کے مال قبضے میں لائے جائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے سعد (رضی اللہ عنہ) تم نے ان کے بارے میں وہی حکم کیا جو اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے }۔ ۱؎ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے سچے مالک اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا وہی سنایا ہے } }۔
{ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندقیں کھائی کھدوا کر انہیں بندھا ہوا بلوا کر ان کی گردنیں ماری گئیں۔ یہ گنتی میں سات آٹھ سو تھے ان کی عورتیں نابالغ بچے اور مال لے لیے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4117] ہم نے یہ کل واقعات اپنی کتاب السیر میں تفصیل سے لکھ دئیے ہیں۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پس فرماتا ہے کہ ’ جن اہل کتاب یعنی یہودیوں نے کافروں کے لشکروں کی ہمت افزائی کی تھی اور ان کا ساتھ دیا تھا ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعے خالی کرا دئیے ‘۔ اس قوم قریظہ کے بڑے سردار جن سے ان کی نسل جاری ہوئی تھی اگلے زمانے میں آ کر حجاز میں اسی طمع میں بسے تھے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہماری کتابوں میں ہے وہ چونکہ یہیں ہونے والے ہیں تو ہم سب پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی سعادت سے مسعود ہونگے۔ لیکن ان ناحلقوں نے جب اللہ کی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ان کی تکذیب کی جس کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر نازل ہوئی۔ «صَیَاصِی» سے مراد قلعے ہیں اسی معنی کے لحاظ سے سینگوں کو بھی «صَیَاصِی» کہتے ہیں اس لیے کہ جانور کے سارے جسم کے اوپر اور سب سے بلند یہی ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا انہوں نے ہی مشرکین کو بھڑکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرائی تھی۔ عالم جاہل برابر نہیں ہوتے۔ یہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جڑوں سے اکھیڑ دینا چاہا تھا لیکن معاملہ برعکس ہو گیا پانسہ پلٹ گیا قوت کمزوری سے اور مراد نامرادی سے بدل گئی۔ نقشہ بگڑ گیا حمایتی بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ بے دست و پا رہ گئے۔ عزت کی خواہش نے ذلت دکھائی مسلمانوں کے برباد کرنے اور پیس ڈالنے کی خواہش نے اپنے تئیں پسوا دیا۔ اور ابھی آخرت کی محرومی باقی ہے۔ کچھ قتل کر دئیے گئے باقی قیدی کر دیئے گئے۔ عطیہ فرظی کا بیان ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو میرے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ تردد ہوا۔ فرمایا: { اسے الگ لے جاؤ دیکھو اگر اس کے ناف کے نیچے بال ہوں تو قتل کر دو ورنہ قیدیوں میں بٹھادو }۔ دیکھا تو میں بچہ ہی تھا زندہ چھوڑ دیا گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4404، قال الشيخ الألباني:صحیح] ان کی زمین گھر ان کے مال کے مالک مسلمان بن گئے بلکہ اس زمین کے بھی جو اب تک پڑی تھی اور جہاں مسلمان کے نشان قدم بھی نہ پڑے تھے یعنی خیبر کی زمین یا مکہ شریف کی زمین۔ یا فارس یا روم کی زمین اور ممکن ہے کہ یہ کل خطے مراد ہوں اللہ بڑی قدرتوں والا ہے۔
مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { خندق والے دن میں لشکر کا کچھ حال معلوم کرنے نکلی۔ مجھے اپنے پیچھے سے کسی کے بہت تیز آنے کی آہٹ اور اس کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی میں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ بیٹھ گئی دیکھا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ لشکر کی طرف جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈھال تھی۔ سعد رضی اللہ عنہ لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے لیکن بڑے لانبے چوڑے تھے زرہ پورے بدن پر نہیں آئی تھی ہاتھ کھلے تھے اشعار رجز پڑھتے ہوئے جھومتے جھامتے چلے جا رہے تھے میں یہاں سے اور آگے بڑھی اور ایک باغیچے میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ایک اور صاحب جو خود اوڑھے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا پس پھر کیا تھا؟ بڑے ہی بگڑے اور مجھ سے فرمانے لگے ”یہ دلیری؟ تم نہیں جانتیں لڑائی ہو رہی ہے؟ اللہ جانے کیا نتیجہ ہو؟ تم کیسے یہاں چلی آئیں وغیرہ وغیرہ۔“ جو صاحب مغفر سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر اپنے سر سے لوہے کا ٹوپ اتارا دیکھا اب میں پہچان گئی کہ وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش کیا کہ کیا ملامت شروع کر رکھی ہے نتیجے کا کیا ڈر ہے؟ کیوں تمہیں اتنی گھبراہٹ ہے؟ کوئی بھاگ کے جائے گا کہاں؟ سب کچھ اللہ کے ہاتھ ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کو ایک قریشی نے تاک کر تیر لگایا اور کہا لے میں ابن عرقہ ہوں۔ سعد رضی اللہ عنہ کی رگ اکحل پر وہ تیر پڑا اور پیوست ہوگیا۔ خون کے فوارے چھوٹ گئے اسی وقت آپ رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ ”اے اللہ مجھے موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔“ اللہ کی شان سے اسی وقت خون تھم گیا۔ مشرکین کو ہواؤں نے بھگادیا اور اللہ نے مومنوں کی کفایت کر دی ابوسفیان اور اس کے ساتھی تو بھاگ کر تہامہ میں چلے گئے عیینہ بن بدر اس کے ساتھی نجد میں چلے گئے۔ بنو قریظہ اپنے قلعہ میں جا کر پنا گزین ہو گئے۔ میدان خالی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں واپس تشریف لے آئے۔
{ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ہی چمڑے کا ایک خیمہ نصب کیا گیا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ کا چہرہ گرد آلود تھا، فرمانے لگے ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار کھول دئیے؟ حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں۔ اٹھئے بنو قریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ان پر چڑھائی کیجئے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہتھیار لگا لیے اور صحابہ میں بھی کوچ کی منادی کرا دی۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل ہی تھے راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا { کیوں بھئی؟ کسی کو جاتے ہوئے دیکھا؟ } انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہا گئے ہیں۔ حالانکہ تھے تو وہ جبرائیل علیہ السلام لیکن آپ کی ڈاڑھی چہرہ وغیرہ بالکل دحیہ کلبی سے ملتا جلتا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کیا پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ جب وہ گھبرائے اور تنگ آ گئے تو ان سے کہا گیا کہ قلعہ ہمیں سونپ دو اور تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرما دیں گے۔ انہوں نے ابولبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اس صورت میں تو اپنی جان سے ہاتھ دھولینا ہے۔ انہوں نے یہ معلوم کر کے اسے تو نامنظور کر دیا اور کہنے لگے ہم قلعہ خالی کر دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کو قبضہ دیتے ہیں ہمارے بارے کا فیصلہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرما لیا۔ سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے درخت کی چھال کی گدی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ اس پر بمشکل سوار کرادیئے گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوم آپ کو گھیرے ہوئے تھی اور سمجھارہی تھی کہ دیکھو بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ہمارے دوست ہیں ہماری موت زیست کے شریک ہیں اور ان کے تعلقات جو ہم سے ہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ خاموشی سے سب کی باتیں سنتے جاتے تھے جب ان کے محلہ میں پہنچے تو ان کی طرف نظر ڈالی اور کہا ”وقت آگیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقاً پرواہ نہ کروں۔“
{ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے پاس ان کی سواری پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے سید کی طرف اٹھو اور انہیں اتارو }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارا سید تو اللہ ہی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اتارو }۔ لوگوں نے مل جل کر انہیں سواری سے اتارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سعد (رضی اللہ عنہ) ان کے بارے میں جو حکم کرنا چاہو کر دو }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ان کے بڑے قتل کر دئیے جائیں اور ان کے چھوٹے غلام بنائیے جائیں ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سعد (رضی اللہ عنہ) تم نے اس حکم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری موافقت کی }۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی کہ ”اے اللہ اگر تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی کوئی اور چڑھائی ابھی باقی ہو تو مجھے اس کی شمولیت کے لیے زندہ رکھ ورنہ اپنی طرف بلالے۔“ اسی وقت زخم سے خون بہنے لگا حالانکہ وہ پورا بھر چکا تھا یونہی سا باقی تھا چنانچہ انہیں پھر اسی خیمے میں پہنچا دیا گیا اور آپ وہیں شہد ہو گئے رضی اللہ عنہ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی آئے سب رو رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز عمر رضی اللہ عنہ کی آواز میں پہچان بھی ہو رہی تھی میں اس وقت اپنے حجرے میں تھی۔ فی الواقع اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی تھے جیسے اللہ نے فرمایا آیت «مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29] ’ آپس میں ایک دوسرے کی پوری محبت اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والے تھے ‘۔ علقمہ رضی اللہ نے پوچھا ام المؤمنین یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رویا کرتے تھے؟ فرمایا ”آپ کی آنکھیں کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں ہاں غم ورنج کے موقعہ پر آپ داڑھی مبارک اپنی مٹھی میں لے لیتے تھے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4122]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) ➊ { وَ اَنْزَلَ الَّذِيْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ: ”صَيَاصِيْ“ ” صِيْصِيَةٌ “} کی جمع ہے۔ جولاہے کا تانے اور بانے کے دھاگوں کو سیدھا کرنے والا آلہ، مُرغ کا کانٹا جو اس کی ٹانگ کے ایک طرف نکلا ہوتا ہے، گائے اور ہرن وغیرہ کا سینگ، قلعہ اور ہر وہ چیز جس کے ساتھ کوئی اپنا دفاع اور حفاظت کرتا ہے۔ (قاموس) قریش، بنو غطفان اور ان کے ساتھ آنے والوں کے واپس جانے کے ساتھ ہی معرکۂ احزاب ختم ہو گیا، مگر بنو قریظہ کے ساتھ معرکہ ختم نہیں ہوا، جنھوں نے اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالا تھا۔ جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ باہر سے آنے والے حملہ آور کے مقابلے میں مسلمان اور یہودی ایک دوسرے کی مدد کریں گے، لیکن یہودیوں نے یہ عہد توڑ ڈالا اور قریش اور اتحادی لشکروں کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے سے مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ اور ایک اور انصاری صحابی رضی اللہ عنھم کو اس بات کی تحقیق کے لیے بھیجا اور فرمایا: ”اگر وہ صلح پر قائم ہوں تو سب کے سامنے بیان کر دینا اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو اشارے سے سمجھا دینا۔“ وہ ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ انھوں نے معاہدہ بری طرح توڑ ڈالا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی نازیبا الفاظ کہے اور کہنے لگے: ”محمد کون ہے؟ ہمارے اور محمد کے درمیان کوئی عہد ہے نہ پیمان۔“ سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنھما نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارے سے حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ بنو قریظہ کے ارادے نہایت خطرناک تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں ناکام و نامراد کر دیا۔ قریش اور ان کے درمیان بے اعتمادی پیدا ہو گئی اور ان کے قریش کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی نوبت نہیں آئی۔ آخر وہ قلعوں میں بند ہو کر مقابلے پر آمادہ ہو گئے۔ ➋ { وَ قَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ:} جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آئے تو ہتھیار اتار کر ابھی غسل ہی کیا تھا کہ جبریل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے ہتھیار رکھ دیے، مگر ہم فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں رکھے، بنوقریظہ کی طرف چلیں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِيْ بَنِيْ قُرَيْظَةَ ] [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۹، ۴۱۱۷ ] ”کوئی شخص عصر کی نماز نہ پڑھے، مگر بنو قریظہ کے پاس جا کر۔“ چنانچہ آپ نے جا کر بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ ایک ماہ کے قریب جاری رہا، حتیٰ کہ وہ مقابلے سے عاجز آگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا، آخر کار وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گئے، اس شرط پر کہ ان کے بارے میں سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ جو فیصلہ کریں انھیں قبول ہو گا۔ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو خندق کے دوران بازو کی رگ میں تیر لگا تھا، جس کے نتیجے میں آخر کار وہ شہید بھی ہو گئے۔ ان کے سامنے یہ بات بھی تھی کہ اگر بنو قریظہ قریش کے ساتھ بنائے ہوئے منصوبے کے مطابق کامیاب ہو جاتے تو مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیتے، یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔ ➌ { فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِيْقًا:} ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل قریظہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کی طرف پیغام بھیجا۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب مسجد کے قریب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: [ قُوْمُوْا إِلٰی سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ ] ”اپنے سردار یا (فرمایا)اپنے بہترین آدمی کی طرف اٹھو۔“ پھر آپ نے فرمایا: [ هٰؤُلَاءِ نَزَلُوْا عَلٰی حُكْمِكَ ] ”یہ لوگ تیرے فیصلے پر اترے ہیں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: [ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَ تُسْبٰی ذَرَارِيُّهُمْ ] ”ان کے لڑائی کے قابل مرد قتل کر دیے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنا لیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللّٰهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ] ”تو نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“ یا یہ فرمایا: ”بادشاہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا۔“ [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۲۱ ] بنو قریظہ کے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے تھا، مسلمان دیکھتے تھے جس کے (زیر ناف) بال اگے ہوتے اسے قتل کر دیتے اور جس کے نہ اگے ہوتے اسے قتل نہ کرتے، چنانچہ میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔“ [ أبوداوٗد، الحدود، باب في الغلام یصیب الحد: ۴۴۰۴ ]
اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا اللہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (خدا نے) تمہیں ان (کافروں) کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اور ان کی اس زمین کا جس پر تم نے قدم بھی نہیں رکھا تھا وارث بنا دیا اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا ٭٭
اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین و یہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیمان ہو چکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بے وفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کر دیا۔ پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور ان کے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کر لیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا۔ آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آ جاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہو گا۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہو گا۔ بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت صدمہ ہوا اور بہت ہی بھاری پڑا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے غلاموں کی مدد کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب رضی اللہ عنہم کے مظفر و منصور مدینے شریف کو واپس آئے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہتھیار کھول دئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہتھیار اتاکر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گرد و غبار سے پاک صاف ہونے کے لیے غسل کرنے کو بیٹھے ہی تھے جو جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے آپ کے سر پر ریشمی عمامہ تھا خچر پر سوار تھے جس پر ریشمی گدی تھی فرمانے لگے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمر کھول لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں }۔
حضرت جبرائیل نے فرمایا ”لیکن فرشتوں نے اب تک اپنے ہتھیار الگ نہیں کئے۔ میں کافروں کے تعاقب سے ابھی ابھی آ رہا ہوں سنئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان کی پوری گوشمالی کیجئے۔ مجھے بھی اللہ کا حکم مل چکا ہے کہ میں انہیں تھرادوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے تیار ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا اور فرمایا کہ { تم میں سے ہر ایک عصر کی نماز بنو قریظہ میں ہی پڑھے }۔ ظہر کے بعد یہ حکم ملا تھا بنو قریظہ کا قلعہ یہاں سے کئی میل پر تھا۔ نماز کا وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کو راستہ میں آ گیا۔ تو بعض نے تو نماز ادا کر لی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم تیز چلیں۔ اور بعض نے کہا ہم تو وہاں پہنچے بغیر نماز نہیں پڑھیں گے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ لشکر کا جھنڈادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہام اجمعین کے پیچھے پیچھے بنو قریظہ کی طرف چلے اور جا کر ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک رہا۔ جب یہودیوں کے ناک میں دم آ گیا اور تنگ حال ہو گئے تو انہوں نے اپنا حاکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنایا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ بنو قریظہ میں اور قبیلہ اوس میں زمانہ جاہلیت میں اتفاق و یگانگت تھی ایک دوسرے کے حلیف تھے اس لیے ان یہودیوں کو یہ خیال رہا کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمارا لحاظ اور پاس کریں گے جیسے کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنو قینقاع کو چھڑوایا تھا۔
ادھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جنگ خندق میں انہیں اکحل کی رگ میں ایک تیر لگا تھا جس سے خون جاری تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر داغ لگوایا تھا اور مسجد کے خیمے میں ہی انہیں رکھا تھا کہ پاس ہی پاس عیادت اور بیمار پر سی کر لیا کریں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ ”اے پروردگار اگر اب بھی کوئی ایسی لڑائی باقی ہے جس میں کفار قریش تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ آئیں تو تو مجھے زندہ رکھ کہ میں اس میں شرکت کر سکوں اور اگر تو نے کوئی ایک لڑائی بھی ایسی باقی نہیں رکھی تو خیر میرا زخم خون بہاتا رہے لیکن اے میرے رب جب تک میں بنو قریظہ قبیلے کی سرکشی کی سزا سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر لوں تو میری موت کو مؤخر فرمانا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جیسے مستجاب الدعوات کی دعا کی قبولیت کی شان دیکھئیے کہ آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے ہیں ادھر یہودان بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اظہار رضا مندی کرکے قلعے کو مسلمانوں کے سپرد کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی بھیج کر آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے بلواتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ آ کر ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیں۔ یہ گدھے پر سوار کرالئے گیے اور سارا قبیلہ ان سے لپٹ گیا کہ دیکھئیے خیال رکھئے گا بنو قریظہ آپ رضی اللہ عنہ کے آدمی ہیں انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر بھروسہ کیا ہے وہ آپ رضی اللہ عنہ کے حلیف ہیں آپ کے قوم کے دکھ کے ساتھی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ان پر رحم فرمائیے گا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا۔ دیکھئیے اس وقت ان کا کوئی نہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ کے بس میں ہیں وغیرہ لیکن سعد رضی اللہ عنہا محض خاموش تھے کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ ان لوگوں نے مجبور کیا کہ جواب دیں پیچھا ہی نہ چھوڑا۔ آخر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”وقت آگیا ہے کہ سعد (رضی اللہ عنہ) اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں۔“ یہ سنتے ہی ان لوگوں کے تو دل ڈوب گئے اور سمجھ لیا کہ بنو قریظہ کی خیر نہیں۔
جب سعد رضی اللہ عنہا کی سواری اس خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو اپنے سردار کے استقبال کے لیے اٹھو }، چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو عزت واکرام وقعت واحترام سے سواری سے اتارا یہ اس لیے تھا کہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ حاکم کی حیثیت میں تھے ان کے فیصلے پورے ناطق و نافذ سمجھے جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹھتے ہی حضور نے فرمایا کہ { یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہو کر قلعے سے نکل آئیں ہیں اب آپ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیجئیے }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا جو میں ان پر حکم کروں وہ پورا ہو گا؟ حضور نے فرمایا: { ہاں کیوں نہیں؟ } کہا اور اس خیمے والوں پر بھی اس کی تعمیل ضروری ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً } پوچھا اور اس طرف والوں پر بھی؟ اور اشارہ اس طرف کیا جس طرف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت و عظمت کی وجہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { ہاں اس طرف والوں پر بھی }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میرا فیصلہ سنئے ”میں کہتا ہوں بنو قریظہ میں جتنے لوگ لڑنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کر لیا جائے ان کے مال قبضے میں لائے جائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے سعد (رضی اللہ عنہ) تم نے ان کے بارے میں وہی حکم کیا جو اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے }۔ ۱؎ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے سچے مالک اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا وہی سنایا ہے } }۔
{ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندقیں کھائی کھدوا کر انہیں بندھا ہوا بلوا کر ان کی گردنیں ماری گئیں۔ یہ گنتی میں سات آٹھ سو تھے ان کی عورتیں نابالغ بچے اور مال لے لیے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4117] ہم نے یہ کل واقعات اپنی کتاب السیر میں تفصیل سے لکھ دئیے ہیں۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پس فرماتا ہے کہ ’ جن اہل کتاب یعنی یہودیوں نے کافروں کے لشکروں کی ہمت افزائی کی تھی اور ان کا ساتھ دیا تھا ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعے خالی کرا دئیے ‘۔ اس قوم قریظہ کے بڑے سردار جن سے ان کی نسل جاری ہوئی تھی اگلے زمانے میں آ کر حجاز میں اسی طمع میں بسے تھے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہماری کتابوں میں ہے وہ چونکہ یہیں ہونے والے ہیں تو ہم سب پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی سعادت سے مسعود ہونگے۔ لیکن ان ناحلقوں نے جب اللہ کی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ان کی تکذیب کی جس کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر نازل ہوئی۔ «صَیَاصِی» سے مراد قلعے ہیں اسی معنی کے لحاظ سے سینگوں کو بھی «صَیَاصِی» کہتے ہیں اس لیے کہ جانور کے سارے جسم کے اوپر اور سب سے بلند یہی ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا انہوں نے ہی مشرکین کو بھڑکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرائی تھی۔ عالم جاہل برابر نہیں ہوتے۔ یہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جڑوں سے اکھیڑ دینا چاہا تھا لیکن معاملہ برعکس ہو گیا پانسہ پلٹ گیا قوت کمزوری سے اور مراد نامرادی سے بدل گئی۔ نقشہ بگڑ گیا حمایتی بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ بے دست و پا رہ گئے۔ عزت کی خواہش نے ذلت دکھائی مسلمانوں کے برباد کرنے اور پیس ڈالنے کی خواہش نے اپنے تئیں پسوا دیا۔ اور ابھی آخرت کی محرومی باقی ہے۔ کچھ قتل کر دئیے گئے باقی قیدی کر دیئے گئے۔ عطیہ فرظی کا بیان ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو میرے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ تردد ہوا۔ فرمایا: { اسے الگ لے جاؤ دیکھو اگر اس کے ناف کے نیچے بال ہوں تو قتل کر دو ورنہ قیدیوں میں بٹھادو }۔ دیکھا تو میں بچہ ہی تھا زندہ چھوڑ دیا گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4404، قال الشيخ الألباني:صحیح] ان کی زمین گھر ان کے مال کے مالک مسلمان بن گئے بلکہ اس زمین کے بھی جو اب تک پڑی تھی اور جہاں مسلمان کے نشان قدم بھی نہ پڑے تھے یعنی خیبر کی زمین یا مکہ شریف کی زمین۔ یا فارس یا روم کی زمین اور ممکن ہے کہ یہ کل خطے مراد ہوں اللہ بڑی قدرتوں والا ہے۔
مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { خندق والے دن میں لشکر کا کچھ حال معلوم کرنے نکلی۔ مجھے اپنے پیچھے سے کسی کے بہت تیز آنے کی آہٹ اور اس کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی میں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ بیٹھ گئی دیکھا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ لشکر کی طرف جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈھال تھی۔ سعد رضی اللہ عنہ لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے لیکن بڑے لانبے چوڑے تھے زرہ پورے بدن پر نہیں آئی تھی ہاتھ کھلے تھے اشعار رجز پڑھتے ہوئے جھومتے جھامتے چلے جا رہے تھے میں یہاں سے اور آگے بڑھی اور ایک باغیچے میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ایک اور صاحب جو خود اوڑھے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا پس پھر کیا تھا؟ بڑے ہی بگڑے اور مجھ سے فرمانے لگے ”یہ دلیری؟ تم نہیں جانتیں لڑائی ہو رہی ہے؟ اللہ جانے کیا نتیجہ ہو؟ تم کیسے یہاں چلی آئیں وغیرہ وغیرہ۔“ جو صاحب مغفر سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر اپنے سر سے لوہے کا ٹوپ اتارا دیکھا اب میں پہچان گئی کہ وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش کیا کہ کیا ملامت شروع کر رکھی ہے نتیجے کا کیا ڈر ہے؟ کیوں تمہیں اتنی گھبراہٹ ہے؟ کوئی بھاگ کے جائے گا کہاں؟ سب کچھ اللہ کے ہاتھ ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کو ایک قریشی نے تاک کر تیر لگایا اور کہا لے میں ابن عرقہ ہوں۔ سعد رضی اللہ عنہ کی رگ اکحل پر وہ تیر پڑا اور پیوست ہوگیا۔ خون کے فوارے چھوٹ گئے اسی وقت آپ رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ ”اے اللہ مجھے موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔“ اللہ کی شان سے اسی وقت خون تھم گیا۔ مشرکین کو ہواؤں نے بھگادیا اور اللہ نے مومنوں کی کفایت کر دی ابوسفیان اور اس کے ساتھی تو بھاگ کر تہامہ میں چلے گئے عیینہ بن بدر اس کے ساتھی نجد میں چلے گئے۔ بنو قریظہ اپنے قلعہ میں جا کر پنا گزین ہو گئے۔ میدان خالی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں واپس تشریف لے آئے۔
{ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ہی چمڑے کا ایک خیمہ نصب کیا گیا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ کا چہرہ گرد آلود تھا، فرمانے لگے ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار کھول دئیے؟ حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں۔ اٹھئے بنو قریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ان پر چڑھائی کیجئے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہتھیار لگا لیے اور صحابہ میں بھی کوچ کی منادی کرا دی۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل ہی تھے راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا { کیوں بھئی؟ کسی کو جاتے ہوئے دیکھا؟ } انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہا گئے ہیں۔ حالانکہ تھے تو وہ جبرائیل علیہ السلام لیکن آپ کی ڈاڑھی چہرہ وغیرہ بالکل دحیہ کلبی سے ملتا جلتا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کیا پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ جب وہ گھبرائے اور تنگ آ گئے تو ان سے کہا گیا کہ قلعہ ہمیں سونپ دو اور تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرما دیں گے۔ انہوں نے ابولبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اس صورت میں تو اپنی جان سے ہاتھ دھولینا ہے۔ انہوں نے یہ معلوم کر کے اسے تو نامنظور کر دیا اور کہنے لگے ہم قلعہ خالی کر دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کو قبضہ دیتے ہیں ہمارے بارے کا فیصلہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرما لیا۔ سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے درخت کی چھال کی گدی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ اس پر بمشکل سوار کرادیئے گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوم آپ کو گھیرے ہوئے تھی اور سمجھارہی تھی کہ دیکھو بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ہمارے دوست ہیں ہماری موت زیست کے شریک ہیں اور ان کے تعلقات جو ہم سے ہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ خاموشی سے سب کی باتیں سنتے جاتے تھے جب ان کے محلہ میں پہنچے تو ان کی طرف نظر ڈالی اور کہا ”وقت آگیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقاً پرواہ نہ کروں۔“
{ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے پاس ان کی سواری پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے سید کی طرف اٹھو اور انہیں اتارو }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارا سید تو اللہ ہی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اتارو }۔ لوگوں نے مل جل کر انہیں سواری سے اتارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سعد (رضی اللہ عنہ) ان کے بارے میں جو حکم کرنا چاہو کر دو }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ان کے بڑے قتل کر دئیے جائیں اور ان کے چھوٹے غلام بنائیے جائیں ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سعد (رضی اللہ عنہ) تم نے اس حکم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری موافقت کی }۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی کہ ”اے اللہ اگر تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی کوئی اور چڑھائی ابھی باقی ہو تو مجھے اس کی شمولیت کے لیے زندہ رکھ ورنہ اپنی طرف بلالے۔“ اسی وقت زخم سے خون بہنے لگا حالانکہ وہ پورا بھر چکا تھا یونہی سا باقی تھا چنانچہ انہیں پھر اسی خیمے میں پہنچا دیا گیا اور آپ وہیں شہد ہو گئے رضی اللہ عنہ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی آئے سب رو رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز عمر رضی اللہ عنہ کی آواز میں پہچان بھی ہو رہی تھی میں اس وقت اپنے حجرے میں تھی۔ فی الواقع اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی تھے جیسے اللہ نے فرمایا آیت «مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29] ’ آپس میں ایک دوسرے کی پوری محبت اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والے تھے ‘۔ علقمہ رضی اللہ نے پوچھا ام المؤمنین یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رویا کرتے تھے؟ فرمایا ”آپ کی آنکھیں کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں ہاں غم ورنج کے موقعہ پر آپ داڑھی مبارک اپنی مٹھی میں لے لیتے تھے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4122]
27-1اس میں غزہ بنی قریظہ کا ذکر ہے جیسے کہ پہلے گزرا کہ اس قبیلے نے نقص عہد کر کے جنگ احزاب میں مشرکوں اور دوسرے یہودیوں کا ساتھ دیا۔ چناچہ جنگ احزاب سے واپس آکر رسول اللہ ابھی غسل ہی فرما سکے تھے کہ حضرت جبرائیل ؑ آگئے اور کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیئے؟ ہم فرشتوں نے تو نہیں رکھے ہیں چلئے، اب بنو قریظہ کے ساتھ نمٹنا ہے، مجھے اللہ نے اس لئے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ چناچہ آپ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا بلکہ ان کو تاکید کردی کہ عصر کی نماز وہاں جاکر پڑھنی ہے۔ ان کی آبادی مدینے سے چند میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ اپنے قلعوں میں بند ہوگئے، باہر سے مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا جو کم و بیش پچیس روز جاری رہا۔ بالآخر انہوں نے سعد بن معاذ کو اپنا (ثالث) تسلیم کرلیا کہ وہ فیصلہ ہماری بات پر دیں گے، ہمیں منظور ہوگا۔ چناچہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں سے لڑنے والے لوگوں کو قتل کردو اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے، نبی نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا کہ یہی فیصلہ آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا بھی ہے، اس کے مطابق ان کے جنگجو افراد کی گردنیں اڑا دی گئیں اور مدینے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کردیا گیا (صحیح بخاری) دیکھئے صحیح بخاری باب غزوہ خندق انزل قلعوں سے نیچے اتار دیا، ظاہروھم کافروں کی انہوں نے مدد کی 27-2بعض نے اس سے خیبر کی زمین مراد لی ہے کیونکہ اس کے بعد ہی-6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے خیبر فتح کیا ہے بعض نے کہا کہ مکہ ہے اور بعض نے ارض فارس و روم کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور بعض کے نزدیک تمام وہ زمینیں ہیں جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے۔ (فتح القدیر)
(آیت 27) ➊ { وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِيَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ:} غزوۂ بنو قریظہ میں ان کے مردوں کو قتل کرنے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنانے کے علاوہ ان کے کھیت، باغات، مکانات، قلعے، مویشی، ہتھیار اور درہم و دینار وغیرہ سب مسلمانوں کی ملکیت میں آ گئے، جو خُمس نکال کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ ➋ {وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَـُٔوْهَا: ”وَطِئَ يَطَأُ وَطْأً“ ”اَلشَّيْءَ بِرِجْلِهِ“} کسی چیز کو پاؤں سے روندنا۔ یعنی اس زمین کا بھی مالک بنا دیا جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا۔ مراد اس سے بنو قریظہ کی زمین ہی ہے، یعنی ان کی وہ زمین جہاں ان کی قوت و شوکت کی وجہ سے تم قدم تک نہ رکھ سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمھاری میراث بنا دی۔ بعض مفسرین نے اس سے بنو قریظہ کے بعد فتح ہونے والے علاقے، مثلاً خیبر، پھر مکہ، حنین، تبوک، فارس، روم، غرض قیامت تک مسلمانوں کی ملکیت میں آنے والے تمام علاقے مراد لیے ہیں۔ مگر اس صورت میں {” وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِيَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ “} کے بعد {”وَيُوَرِّثُكُمْ أَرْضًا لَمْ تَطَؤهَا“} ہونا چاہیے تھا، یعنی یہ کہنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بنو قریظہ کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ تمھیں ایسی زمین کا وارث بھی بنائے گا جس پر تم نے قدم نہیں رکھا۔ اگرچہ اس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن میں آئندہ ہونے والے واقعات کو یقینی ہونے کی وجہ سے ماضی کے صیغے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، مگر ایک ہی ماضی کے صیغے {” وَ اَوْرَثَكُمْ “} کے ساتھ ماضی اور مستقبل دونوں مراد لینا بہرحال قابلِ غور ہے۔ ➌ {وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا:} یعنی یہ سب کچھ تمھاری بہادری یا مہارت کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ محض اللہ کی مدد سے ہوا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر ہمیشہ سے پوری طرح قادر ہے، اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دﻻ دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں
احمد رضا خان بریلوی
اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دُوں اور اچھی طرح چھوڑ دُوں
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہا گر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ کہ تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کروں۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امہات المومنین سے پرسش! دین یا دنیا؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا ‘۔ اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ { میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا }۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کون سی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4785] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4786] اور روایت میں ہے کہ { تین دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ { دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا }، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور ہنس دیئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28464:] { پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے } وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28465:] فرماتی ہیں کہ { اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5262] مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔
{ پھر کہنے لگے ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔“ یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے { یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ } سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ”افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں۔“ وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا۔“
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1478] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا } ۱؎ [مسند احمد:78/1:ضعیف] لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ’ آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں ‘۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ …:} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے اور مال غنیمت میں سے خمس کا اختیار رکھنے کے باوجود سب کچھ ضرورت مندوں پر خرچ کر دیتے۔ نتیجہ اس کا گھر میں تنگی و ترشی کے ساتھ گزارا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ ] [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ…: ۶۴۵۴ ] ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے، جب سے آپ مدینہ میں آئے، تین دن پے در پے گندم کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا، یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا ہی نے بیان فرمایا: [ مَا أَكَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَكْلَتَيْنِ فِيْ يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ ] [ بخاري، الرقاق، کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۴۵۵ ] ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کسی دن دو دفعہ کھانا نہیں کھایا، مگر ان میں سے ایک دفعہ صرف کھجور ہوتی تھی۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے اپنے بھانجے عروہ سے فرمایا: [ ابْنَ أُخْتِيْ! إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الْهِلاَلِ ثَلاَثَةَ أَهِلَّةٍ فِيْ شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوْقِدَتْ فِيْ أَبْيَاتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ مَا كَانَ يُعِيْشُكُمْ؟ قَالَتِ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَ الْمَاءَ إِلاَّ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ جِيْرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُمْ مَنَائِحُ، وَكَانُوْا يَمْنَحُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنْ أَبْيَاتِهِمْ، فَيَسْقِيْنَاهُ ] [بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۴۵۹ ] ”بھانجے! ہم چاند دیکھتے تھے، دو مہینوں میں تین چاند، اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلی ہوتی تھی۔“ میں نے کہا: ”پھر تمھیں کیا چیز زندہ رکھتی تھی؟“ کہا: ”دو سیاہ چیزیں، کھجور اور پانی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار میں سے کچھ پڑوسی تھے جن کے پا س دودھ والے جانور تھے اور وہ اپنے گھروں سے (کچھ دودھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے اور آپ ہمیں وہ پلا دیتے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَبِيْتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَ أَهْلُهُ لَا يَجِدُوْنَ عَشَاءً] [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء في معیشۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم و أھلہ: ۲۳۶۰، وقال الألبانی حسن ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کئی راتیں خالی پیٹ گزار دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو شام کا کھانا نہیں ملتا تھا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کے متعلق بتایا: [ كَانَ فِرَاشُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ، وَحَشْوُهُ مِنْ لِيْفٍ ] [بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۴۵۶ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔“ لطف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال پر خوش تھے اور آپ نے اسے اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا ] [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ: ۱۰۵۵ ] ”اے اللہ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِنَّهُمْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا ] [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین…: ۲۳۵۲ ] ”اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! یہ کیوں؟“ آپ نے فرمایا: ”وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (۴۰) سال پہلے جائیں گے۔“ ظاہر ہے زندگی کا یہ معیار نہایت صبر آزما اور مشکل ہے، اس معیار زندگی میں آپ کے ساتھ ازواج مطہرات بھی شریک تھیں۔ ➋ { قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ:} بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک تمھارے پاس نہیں آؤں گا۔ اسے ”ایلاء“ کہتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۲۶، ۲۲۷) پھر آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت لینے کے لیے آئے تو دیکھا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہیں، ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت مل گئی، وہ اندر آ گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ اجازت کے لیے آئے، انھیں بھی اجازت مل گئی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہیں اور آپ کے گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں، آپ غمگین اور خاموش ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا۔“ چنانچہ وہ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! کبھی آپ خارجہ کی بیٹی (میری بیوی) کو دیکھتے، اس نے مجھ سے خرچہ مانگا تو میں نے اٹھ کر اس کی گردن دبا دی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے: ”یہ سب میرے اردگرد بیٹھی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، یہ مجھ سے خرچہ مانگتی ہیں۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی گردن دبانے کے لیے کھڑے ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنھا کی گردن دبانے کے لیے اٹھے۔ دونوں کہہ رہے تھے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ کے پاس نہیں ہے۔ وہ دونوں کہنے لگیں: ”اللہ کی قسم! ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چیز نہیں مانگیں گی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا }» [ الأحزاب: ۲۸ ] [ مسلم، الطلاق، باب بیان أن تخییرہ امرأتہ…: ۱۴۷۵ ] ➌ { اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا:} صحیح بخاری میں عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ بیویوں سے ایک ماہ تک علیحدہ رہنے کی قسم کا ایک باعث حفصہ رضی اللہ عنھا کا عائشہ رضی اللہ عنھا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز بتانا بھی تھا، جس کا ذکر سورۂ تحریم میں ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ جب انتیس دن گزر گئے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس تشریف لائے۔ انھوں نے آپ سے کہا: ”آپ نے تو ہمارے ہاں ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم کھائی تھی اور ابھی انتیس راتیں گزری ہیں، میں انھیں اچھی طرح گنتی رہی ہوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینا انتیس دنوں کا ہے۔“ اور وہ مہینا تھا بھی انتیس دنوں کا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”پھر اللہ تعالیٰ نے اختیار دینے کی آیت نازل فرمائی تو سب بیویوں سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کہنے لگا ہوں، کوئی حرج نہیں کہ اس کے جواب میں جلدی نہ کرو اور اپنے ماں باپ سے مشورہ کر لو۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”میں خوب جانتی تھی کہ میرے ماں باپ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کی رائے کبھی نہیں دیں گے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ … اَجْرًا عَظِيْمًا }» [ الأحزاب: ۲۸، ۲۹ ] میں نے کہا: ”کیا میں اس کے متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باقی بیویوں کو بھی اختیار دیا، انھوں نے بھی وہی بات کہی جو عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہی تھی۔ [ بخاري، المظالم، باب الغرفۃ و العلیۃ …: ۲۴۶۸ ] ➍ ابن کثیر نے عکرمہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ اس وقت آپ کے نکاح میں نو (۹) بیویاں تھیں، پانچ قریش سے تھیں: عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھن اور بنو نضیر سے صفیہ بنت حیی، بنو ہلال سے میمونہ بنت حارث، بنو اسد سے زینب بنت جحش اور بنو المصطلق سے جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنھن۔ ➎ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو پسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کچھ شمار نہیں کیا۔“ [ بخاري، الطلاق، باب من خیّر أزواجہ…: ۵۲۶۲ ] اس سے معلوم ہوا اختیار دینے کے بعد بیوی خاوند کے پاس رہنا پسند کرے تو اس سے کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ➏ { فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ: ”تَعَالَيْنَ“} (آؤ) {”عَلَا يَعْلُوْ“ } سے باب تفاعل میں سے جمع مؤنث امر حاضر کا صیغہ ہے۔ اصل اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص اونچی جگہ کھڑا ہو کر کسی سے کہے اوپر آؤ، پھر کسی کو بھی بلانے کے لیے {”تَعَالَ“} (آؤ) استعمال ہونے لگا۔ ➐ { اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا:} آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے لیے دو چیزوں میں سے ایک چیز پسند کر لو، پہلی یہ کہ اگر تم دنیا کی زندگی، اس کی زیب و زینت اور آرائش کو پسند کرتی ہو تو میرے ساتھ تمھارے رہنے کی کوئی صورت نہیں، پھر آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دیتا ہوں (جس کا طلاق دیتے وقت اپنی حیثیت کے مطابق دینے کا حکم ہے، جسے {”متعه طلاق“} کہتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ: ۲۳۶ تا ۲۴۱) اور تمھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دیتا ہوں، یعنی کوئی طعن و تشنیع کیے یا کوئی تکلیف دیے بغیر طلاق دے کر آزاد کر دیتا ہوں۔ دوسری چیز کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم خدا اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کی طلبگار ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے جو نیکوکار ہیں ان کیلئے اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امہات المومنین سے پرسش! دین یا دنیا؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا ‘۔ اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ { میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا }۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کون سی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4785] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4786] اور روایت میں ہے کہ { تین دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ { دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا }، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور ہنس دیئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28464:] { پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے } وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28465:] فرماتی ہیں کہ { اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5262] مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔
{ پھر کہنے لگے ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔“ یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے { یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ } سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ”افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں۔“ وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا۔“
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1478] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا } ۱؎ [مسند احمد:78/1:ضعیف] لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ’ آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں ‘۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ» ۔
29-1فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے کی نسبت کچھ بہتر ہوگئی تو انصار اور مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی نان نَفَقَہ میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ نہایت سادگی پسند تھے، اس لئے ازواج مطہرات کے اس مطالبے پر سخت کبیدہ خاطر ہوئے اور بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلی جو ایک مہینہ جاری رہی بالآخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ اس کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضرت عائشہ کو یہ آیت سنا کر انھیں اختیار دیا تاہم انھیں کہا کہ اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی بجائے اپنے والدین سے مشورے کے بعد کوئی اقدام کرنا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے بارے میں مشورہ کروں؟ بلکہ میں اللہ اور رسول کو پسند کرتی ہوں یہی بات دیگر ازواج مطہرات ؓ نے بھی کہی اور کسی نے بھی آپ کو چھوڑ کر دنیا کے عیش وآرام کو ترجیح نہیں دی۔ اس وقت رسول اللہ کے حبالہ عقد میں-9بیویاں تھیں، پانچ قریش میں سے تھیں۔ حضرت عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ اور ام سلمہ ؓ اور چار ان کے علاوہ، یعنی حضرت صفیہ، زینب اور جویریہ تھیں۔ بعض لوگ مرد کی طرف سے اختیار علیحدگی کو طلاق قرار دیتے ہیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ اختیار علیحدگی کے بعد اگر عورت علیحدگی کو پسند کرلے، پھر تو یقینا طلاق ہوجائے گی (اور یہ طلاق بھی رجعی ہوگی نہ کہ بائنہ، جیسا کہ بعض علماء کا مسلک ہے) تاہم اگر عورت علیحدگی نہیں کرتی تو پھر طلاق نہیں ہوگی، جیسے ازواج مطہرات ؓ نے علیحدگی کی بجائے حرم رسول میں ہی رہنا پسند کیا تو اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا گیا (صحیح بخاری)
(آیت 29) ➊ { وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} اور دوسری یہ کہ اگر تم اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہو اور اس کے لیے تنگی ترشی کی زندگی پر صبر کر سکتی ہو تو تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ ➋ {لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ:} شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یہ جو فرمایا {” لِلْمُحْسِنٰتِ “} (جو نیکی پر رہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سب نیک ہی رہیں، مگر حق تعالیٰ صاف خوش خبری کسی کو نہیں دیتا، تاکہ نڈر نہ ہو جائے، خاتمہ کا ڈر لگا رہے۔“ ➌ { اَجْرًا عَظِيْمًا:} مفسر آلوسی نے فرمایا: ”جب ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا اور انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو پسند کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی تعریف فرمائی اور فرمایا: «{ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ }» [ الأحزاب: ۵۲ ] ”تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے۔“ (روح المعانی) ان بیویوں سے مراد وہ نو بیویاں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ اس سے بڑا اجر کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کی صورت میں دوہرے اجر کی بشارت دی، پھر اس کے صلے میں انھیں زندگی بھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل رہا اور جنت میں بھی وہ آپ کے ساتھ ہوں گی۔ [ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ وَ أَرْضَاھُنَّ ]
نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا اور یہ اللہ کو آسان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی بے حیائی اور برائی کرے گی تو اسے دوہری سزا دی جائے گی اور یہ بات اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کھلی بے حیائی (عمل میں) لائے گی اس کے لیے عذاب دوگنا بڑھایا جائے گا اور یہ بات اللہ پر ہمیشہ سے آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امہات المومنین سب سے معزز قرار دے دی گئیں ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے یعنی مومنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لیے مقرر ہو چکیں، تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ ’ تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ اگر بالفرض تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہیئے۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی ‘۔ اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں، یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ فرمان بطور شرط کے ہے اور شرط کا ہونا ضروری نہیں ہوتا جیسے فرمان ہے آیت «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے ‘۔ نبیوں کا ذکر کرکے فرمایا آیت «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88] ’ اگر یہ شرک کریں تو ان کی نیکیاں بیکار ہو جائیں ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:81] ’ اگر رحمان کے اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے عابد ہوں ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:4] ، یعنی ’ اگر اللہ کو اولاد منظور ہوتی تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا پسند فرما لیتا وہ پاک ہے وہ یکتا اور ایک ہے وہ غالب اور سب پر حکمران ہے ‘۔ پس ان پانچوں آیتوں میں شرط کے ساتھ بیان ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ نہ نبیوں سے شرک ہونا ممکن نہ سردار رسولاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ممکن۔ نہ اللہ کی اولاد۔ اسی طرح امہات المؤمنین کی نسبت بھی جو فرمایا کہ ’ اگر تم میں سے کوئی کھلی لغو حرکت کرے تو اسے دگنی سزا ہو گی ‘ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ واقعی ان میں سے کسی نے کوئی ایسی نافرمانی اور بدخلقی کی ہو۔ نعوذ باللہ
30-1قرآن میں الفَاحِشَۃُ (مُعَرَّف بلام) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن فاحِشَۃ (نکرہ) کو برائی کے لئے، جیسے یہاں ہے۔ یہاں اس کے معنی بد اخلاقی اور نامناسب رویے کے ہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بد اخلاقی اور نامناسب رویہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانا ہے جس کا ارتکاب کفر ہے۔ علاوہ ازیں ازواج مطہرات ؓ خود بھی مقام بلند کی حامل تھیں اور بلند مرتبہ لوگوں کی معمولی غلطیاں بڑی شمار ہوتی ہیں، اس لئے انھیں دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔
(آیت 30) ➊ {يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ …:} قاموس میں ہے: {”اَلْفَاحِشَةُ الزِّنَا وَمَا يَشْتَدُّ قَبْحُهُ مِنَ الذُّنُوْبِ وَ كُلُّ مَا نَهَي اللّٰهُ عَنْهُ “} یعنی ”فاحشہ کا معنی ہے زنا اور وہ گناہ جو سخت قبیح ہوں اور ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“ قرآن مجید میں{ ”اَلْفَاحِشَةُ“} (خاص بے حیائی، معرف باللام) کا لفظ زنا کے لیے آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ الّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْاش عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ }» [ النساء: ۱۵ ] ”اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو۔“ جبکہ {”فَاحِشَةٌ“} (نکرہ) سے مراد کوئی بھی گناہ ہوتا ہے اور {”فَاحِشَةٌ مُّبَيِّنَةٌ“} سے مراد فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی یا کوئی بھی علانیہ گناہ لیا گیا ہے، جس میں زنا بھی شامل ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۹) یہاں سے امہات المومنین کو ادب سکھانے کے لیے چند نصیحتیں کی گئیں ہیں، کیونکہ وہ امت کے لیے نمونہ ہیں۔ فرمایا، اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کھلی بے حیائی عمل میں لائے گی اس کا عذاب دگنا بڑھایا جائے گا، یعنی تم میں سے جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدخلقی یا فحش کلامی یا ایذا رسانی کا معاملہ کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا، کیونکہ جس کا مقام جتنا بلند ہوتا ہے نافرمانی کی صورت میں اسے سزا بھی اتنی سخت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی طرف مائل ہونے کی صورت میں فرمایا: «{ اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ }» [ بني إسرائیل: ۷۵ ] ”اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب)کا مزہ چکھاتے۔“ الوسیط (للطنطاو ی) میں لکھا ہے: ”کسی نے حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے علی زین العابدین سے کہا، تم اہلِ بیت تو بخشے بخشائے ہو۔ تو وہ غصے میں آ گئے اور کہنے لگے کہ ہم پر تو وہ قانون زیادہ لاگو ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر لاگو کیا کہ ہمارے برائی کرنے والے کو دگنا عذاب ہو اور ہمارے نیکی کرنے والے کو دگنا ثواب ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے گناہ کے ارتکاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حرف آتا تھا اور یہ آپ کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہوتا، جو عام مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے سے بڑا گناہ اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا باعث ہے، فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا }» [ الأحزاب: ۵۷ ] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔“ ➋ { ” بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “} کا لفظ نکرہ ہونے کی وجہ سے عام ہے، اس لیے اس سے بد خلقی، فحش کلامی کے علاوہ زنا بھی مراد ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ معاذ اللہ، کیا ازواج مطہرات سے برائی کا اندیشہ تھا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے، واقع میں ایسا ہونا ضروری نہیں، مقصود صرف ازواج مطہرات کے مرتبے کے پیش نظر ان کو گناہ کے ارتکاب کی صورت میں دگنے عذاب سے خبردار کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی بڑے، بلکہ تمام گناہوں سے بڑے گناہ کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [ الزمر: ۶۵ ] ”اور بلاشبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا پہلے انبیاء سے شرک کے ارتکاب کا اندیشہ تھا۔ ➌ { وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا:} یعنی تمھیں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تم نبی کی بیویاں ہو اور تم پر کوئی گرفت نہ ہو گی۔
اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرتی رہے گی تو ہم اس کو اس کا اجر و دہرا دیں گے اور ہم نے اس کیلئے (جنت میں) عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی اسے ہم اس کا اجر دو بار دیں گے اور ہم نے اس کے لیے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازواج مطہرات اامہات المؤمنین کی اطاعت گزاری اور نیک کاری ٭٭
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل و فضل کا بیان فرما رہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری اطاعت گزاری اور نیک کاری پر تمہیں دگنا اجر ہے اور تمہارے لیے جنت میں باعزت روزی ہے ‘۔ کیونکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل میں ہوں گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل اعلیٰ علیین میں ہے جو تمام لوگوں سے بالا تر ہے۔ اسی کا نام وسیلہ ہے۔ یہ جنت کی سب سے اعلیٰ اور سب سے اونچی منزل ہے جس کی چھت عرش اللہ ہے۔
31-1یعنی جس طرح گناہ کا وبال دگنا ہوگا، نیکیوں کا اجر بھی دوہرا ہوگا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ) 17۔ الاسراء:75) ' پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا '
(آیت 31) ➊ { وَ مَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ …:} اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے فرمایا کہ جس طرح تمھارے لیے گناہ پر عذاب دگنا ہے اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری اور عمل صالح پر ثواب بھی دگنا ہے، کیونکہ جس طرح تمھارے گناہ میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے ساتھ ان کی ایذا بھی ہے، اسی طرح ان کی فرماں برداری پر اطاعت کے ساتھ ان کی خاص خوشی بھی ہے۔ دوہرے گناہ اور دوہرے ثواب کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ازواج مطہرات امت کے لیے نمونہ ہیں۔ انھیں دیکھ کر اگر کسی نے گناہ کیا تو اس کا وبال ان پر بھی ہو گا اور اگر انھیں دیکھ کر کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کی تو اس کا ثواب انھیں بھی ملے گا۔ ➋ { وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا:} ازواج مطہرات کو اختیار دینے کے حکم کا باعث ان کا خرچے میں اضافے کا مطالبہ تھا۔ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو آخرت کی طلب میں اللہ اور اس کے رسول کی فرماں بردار رہے اور عمل صالح کرے، ہم نے اس کے لیے بہت عزت والا رزق تیار کر رکھا ہے۔ مفسرین نے اس رزق کریم سے مراد جنت کا رزق بیان فرمایا ہے۔ یقینا اس سے زیادہ عزت والا رزق کوئی نہیں، مگر اس میں جنت کے علاوہ آئندہ ہونے والی فتوحات کے حوالے سے رزق کی فراخی کی بشارت بھی ہے، کیونکہ مالِ غنیمت بھی رزق کریم ہے، جس کے حصول میں رزق کے ساتھ فتح کی عزت بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: ”جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔“ [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر: ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ] یہ الگ بات ہے کہ امہات المومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتیں اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی۔
نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وه کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو
احمد رضا خان بریلوی
اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی کی بیویو! تم اور (عام) عورتوں کی طرح نہیں ہوا اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ پس تم ایسے نرم لہجہ میں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں کوئی بیماری ہے وہ طمع کرنے لگے اور قاعدے کے مطابق (باوقار طریقہ سے) بات کیا کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ’ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو ‘۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ’ بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو ‘۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں }۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند بزار میں ہے کہ { عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:1475:ضعیف]
ترمذی وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔“ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ’ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو ‘۔
’ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو ‘۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا ’ اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا ‘۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ۔
ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے { اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے } پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا]
مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں { میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:107/4:صحیح]
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھی میرے اہل میں سے ہے }۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] اور روایت میں ہے { واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: { اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے }۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں تو بھی }۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] مسند احمد میں ہے { ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو }۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ { الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر }۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:292/6:صحیح] اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔
دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: { کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا }۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا { الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے }۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: { تو خیر کی طرف ہے } }۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ { میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں }۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: { یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت }۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: { ہاں تو بھی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:304/6:ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: { تو میری اہل ہے } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2424] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو }۔ [ابن ابی حاتم] سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: { یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف]
صحیح مسلم شریف میں ہے { یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: { میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو } پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: { اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں } تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2408] دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ { میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2048]
اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو ‘۔
پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ { کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3775] یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ { میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں }۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:108] )، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ میری ہی مسجد ہے } یعنی مسجد نبوی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398] پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:33] ، اتری ہے۔“ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔“
پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا ‘۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔
32-1یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ اللہ نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا جو شرف عطا فرمایا ہے، اس کی وجہ سے تمہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تمہیں بھی امت کے لئے ایک نمونہ بننا چاہیے چناچہ انھیں ان کے مقام و مرتبے سے آگاہ کرکے انھیں کچھ ہدایت دی جا رہی ہے۔ اس کی مخاطب اگرچہ ازواج مطہرات ہیں جنہیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت مسلمہ کی عورتوں کو سمجھانا اور متنبہ کرنا ہے اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ 32-2اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لئے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لئے بھی خصو سی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عورت مرد کے لئے فتنے کا باعث نہ بنے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دلکشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، بنا بریں اس آواز کے لئے بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مردوں سے گفتگو کرتے وقت قصداً ایسا لب و لہجہ اختیار کرو کہ نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھا پن ہو، تاکہ کوئی بد ظن لہجے کی نرمی سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو۔ 32-3یعنی روکھا پن، صرف لہجے کی حد ہی ہو، زبان سے ایسا لفظ نہ نکالنا جو معروف قائدے اور اخلاق کے منافی ہو۔ اِنِ اتقیتن کہہ کر اشارہ کردیا کہ یہ بات اور دیگر ہدایات جو آگے آرہی ہیں متقی عورتوں کے لئے ہیں، کیونکہ انھیں ہی یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کی آخرت برباد نہ ہوجائے۔ جن کے دل خوف الٰہی سے عاری ہیں، انھیں ان ہدایات سے کیا تعلق؟ اور وہ کب ان ہدایات کی پروا کرتی ہیں؟
(آیت 32) ➊ { يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ …:} یعنی تمھاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں جیسا نہیں، بلکہ تمھیں نبی کی بیویاں ہونے کا جو شرف عطا ہوا ہے اس کی وجہ سے تمھارا مقام دوسری عورتوں سے بلند ہے اور تم ان کے لیے نمونہ ہو۔ اس آیت سے بعض اہلِ علم نے استدلال کیا ہے کہ ازواج مطہرات دوسری عورتوں سے افضل ہیں، البتہ آسیہ زوجہ فرعون، مریم بنت عمران اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ ان کی فضیلت صحیح نصوص سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۴۲) زمخشری نے فرمایا: {”أَحَدٍ“} کا لفظ مذکر، مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع سب کے لیے آتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم عورتوں کی جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت جیسی نہیں ہو۔ یعنی جب عورتوں کی قوم کو ایک ایک جماعت کر کے دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہیں جو فضیلت اور پیش قدمی میں تمھارے برابر ہو۔“ ➋ { اِنِ اتَّقَيْتُنَّ:} اس کا تعلق پہلے جملے سے ہے، یعنی دوسری عورتوں سے افضل ہونے کے لیے شرط تقویٰ ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ وہ بے خوف نہ ہو جائیں، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہیں اور ان کاموں سے بچتی رہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ازواج مطہرات کا آخر دم تک تقویٰ پر قائم رہنا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، لہٰذا ان کی فضیلت بھی مسلّم ہے۔ {” اِنِ اتَّقَيْتُنَّ “} کا تعلق بعد والے جملے سے بھی ہو سکتا ہے، یعنی اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں لوچ اور نرمی اختیار نہ کرو۔ ➌ { فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ …:} اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود میں مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے، جس کی حفاظت کے لیے پردے کا اور آنکھ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح عورت کی آواز میں بھی فطری طور پر دل کشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے، جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حکم دیا گیا کہ مردوں سے بات کرتے وقت ایسا لہجہ اختیار کریں جس میں نرمی اور دل کشی کے بجائے قدرے سختی اور مضبوطی ہو، تاکہ دل کا کوئی بیمار کسی غلط خیال میں مبتلا ہو کر آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امہات المومنین کو ایسے لہجے میں غیر محرم مردوں سے بات کرنے کی اجازت تھی جو لوچ اور ملائمت سے خالی ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی اور عورتوں کے مسائل کے متعلق امت کو وہی بہتر اور پوری طرح آگاہ کر سکتی تھیں اور فی الواقع انھوں نے یہ فریضہ بہترین طریقے سے ادا کیا۔ عام طور پر جو کہا جاتا ہے کہ عورت کی آواز غیر محرم کو سننا جائز نہیں، یہ بات درست نہیں۔ واضح رہے کہ یہ حکم امہات المومنین کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ امت کی تمام عورتوں کے لیے ہے، کیونکہ ازواج مطہرات امت کی عورتوں کے لیے نمونہ ہیں۔ اگلی آیت میں مذکور احکام بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اگرچہ ان کی اولین مخاطب امہات المومنین ہیں، مگر یہ حکم سب کے لیے ہے، ورنہ دوسری عورتوں کے لیے جاہلیت کے زمانے کی عورتوں کی طرح زیب و زینت کے عام اظہار کی اجازت ہو گی، جب کہ انھیں زور سے زمین پر پاؤں مار کر مخفی زینت کے اظہار کی بھی اجازت نہیں۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۱)۔ ➍ { وَ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا:} نرمی سے بات کرنے کی ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی بات کرو جو اخلاق کے منافی ہو اور اس میں مخاطب کی بے عزتی ہو، بلکہ صرف لہجے میں مضبوطی ہونی چاہیے، بات بہرصورت اچھی اور دستور کے مطابق ہونی لازم ہے۔
اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اﻇہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ا لله تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور سابقہ زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنی آرائش کی نمائش نہ کرتی پھرو (باہر نہ نکلا کرو) اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو۔ اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس (آلودگی) کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے ، خوب پاک کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ’ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو ‘۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ’ بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو ‘۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں }۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند بزار میں ہے کہ { عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:1475:ضعیف]
ترمذی وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔“ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ’ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو ‘۔
’ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو ‘۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا ’ اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا ‘۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ۔
ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے { اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے } پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا]
مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں { میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:107/4:صحیح]
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھی میرے اہل میں سے ہے }۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] اور روایت میں ہے { واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: { اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے }۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں تو بھی }۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] مسند احمد میں ہے { ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو }۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ { الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر }۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:292/6:صحیح] اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔
دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: { کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا }۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا { الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے }۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: { تو خیر کی طرف ہے } }۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ { میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں }۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: { یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت }۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: { ہاں تو بھی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:304/6:ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: { تو میری اہل ہے } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2424] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو }۔ [ابن ابی حاتم] سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: { یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف]
صحیح مسلم شریف میں ہے { یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: { میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو } پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: { اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں } تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2408] دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ { میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2048]
اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو ‘۔
پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ { کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3775] یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ { میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں }۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:108] )، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ میری ہی مسجد ہے } یعنی مسجد نبوی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398] پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:33] ، اتری ہے۔“ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔“
پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا ‘۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔
33-1یعنی ٹک کر رہو اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ اس کی وضاحت کردی گئی کہ عورت کا دائرہ عمل امور سیاست اور جہان بانی نہیں، معاشی جھمیلے بھی نہیں، بلکہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر امور خانہ داری سرانجام دینا ہے۔ 33-2اس میں گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتلادیئے کہ اگر باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو بناؤ سنگھار کر کے یا ایسے انداز سے جس سے تمہارا بناؤ سنگھار ظاہر ہو مت نکلو۔ جیسے بےپردہ ہو کر جس سے تمہارا سر چہرہ بازو اور چھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوت نظارہ دے بلکہ بغیر خوشبو لگائے سادہ لباس میں ملبوس اور باپردہ باہر نکلو تبرج بےپردگی اور زیب وزینت کے اظہار کو کہتے ہیں قرآن نے واضح کردیا ہے کہ یہ تبرج جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھے اور آئندہ بھی جب کبھی اسے اختیار کیا جائے گے یہ جاہلیت ہی ہوگی اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتناہی خوش نما دل فریب رکھ لیا جائے۔ 33-3پچھلی ہدایت، برائی سے اجتناب سے متعلق تھیں، یہ ہدایت نیکی اختیار کرنے سے متعلق ہیں۔ 33-4اہل بیت سے کون مراد ہیں؟ اس کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض نے ازواج مطہرات کو مراد لیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن کریم کے سیاق سے واضح ہے قرآن نے یہاں ازواج مطہرات ہی کو اہل بیت کہا۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، بعض روایات کی روح سے اہل بیت کا مصداق صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن وحسین ؓ کو مانتے ہیں اور ازواج مطہرات کو اس سے خارج سمجھتے ہیں۔ جبکہ اول الذکر ان اصحاب اربعہ کو اس سے خارج سمجھتے ہیں تاہم اعتدال کی راہ اور نقطہ متوسطہ یہ ہے دونوں ہی اہل بیت ہیں۔ ازواج مطہرات تو اس نص قرآنی کی وجہ سے اور داماد اور اولاد ان روایات کی رو سے جو صحیح سند سے ثابت ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ بھی میرے اہل بیت سے ہیں یا یہ دعا ہے کہ یا اللہ ان کو بھی ازواج مطہرات کی طرح میرے اہل بیت میں شامل فرمادے اس طرح تمام دلائل میں بھی تطبیق ہوجاتی ہے (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے فتح القدیر، للشوکانی)
(آیت 33) ➊ {وَ قَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ: ” قَرْنَ “} باب {”قَرَّ يَقَرُّ قَرَارًا“} (سمع) (کسی جگہ ٹھہرنا) سے جمع مؤنث امر حاضر کا صیغہ ہے، جو اصل میں {”اِقْرَرْنَ“} تھا۔ پہلی راء کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا اور اس کا فتحہ قاف کو دے دیا، ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی، اس لیے اسے حذف کر دیا گیا، جیسا کہ {”ظَلِلْتَ“} کو پہلا لام حذف کر کے {”ظَلْتَ“} کر دیا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے {”وَقَرَ يَقِرُ وَقَارًا“} (ض) سے مشتق قرار دیا ہے، مگر یہ صرف اس قراء ت کی صورت میں ہو سکتا ہے جس میں {” قَرْنَ “} کو قاف کے کسرہ کے ساتھ {”قِرْنَ“} پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں یہ {”وَعَدَ يَعِدُ“} میں سے {”عِدْنَ“} کے وزن پر ہو گا۔ قاف کے فتحہ کی صورت میں اسے {”وَقَارٌ“} سے مشتق قرار دینا مشکل ہے۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کو گھروں کے اندر ٹھہرے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اس میں ان کی زیادہ حفاظت اور سلامتی پائی جاتی ہے۔ یہی حکم دوسری عورتوں کے لیے بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ وَ إِنَّهَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ وَ إِنَّهَا لَا تَكُوْنُ أَقْرَبَ إِلَی اللّٰهِ مِنْهَا فِيْ قَعْرِ بَيْتِهَا ] [طبراني في الأوسط: 189/3، ح: ۲۸۹۰، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 187/6، ح: ۲۶۸۸ ] ”عورت پردے کی چیز ہے، وہ جب نکلتی ہے تو شیطان اسے گردن اٹھا کر دیکھتا ہے اور وہ اللہ کے اس سے زیادہ کبھی قریب نہیں ہوتی جس قدر وہ اپنے گھر کے اندر (رہ کر قریب) ہوتی ہے۔“ ➋ { وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى: ” تَبَرُّجَ “} کا معنی ہے عورت کا غیر محرم مردوں کے سامنے اپنی اس زینت کا اظہار کرنا جسے چھپانا واجب ہے، یعنی اسلام سے پہلے جاہلیت کے دور میں عورتیں جس طرح بن سنور کر اور زینت لگا کر مردوں کے سامنے آتی تھیں تم ایسا مت کرو۔ یہاں {” الْاُوْلٰى “} کا لفظ احتراز کے لیے نہیں بلکہ جاہلیت جہلا کی طرح یا تو ایک محاورہ ہے، یا اسلام سے پہلے کی حالت کے اعتبار سے {” الْاُوْلٰى “} فرما دیا ہے۔ جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتیں بناؤ سنگار کر کے بے پردہ باہر نکلا کرتی تھیں۔ افسوس! اب یہی رواج ثقافت اور دوسرے خوش نما ناموں سے مسلمانوں میں رائج ہو گیا ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوا کہ عورت زینت چھپا کر ضرورت کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد سودہ رضی اللہ عنھا اپنی حاجت کے لیے نکلیں، وہ جسیم عورت تھیں، پہچاننے والے پر مخفی نہیں رہتی تھیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: ”اے سودہ! اللہ کی قسم! تم ہم پر مخفی نہیں رہتیں، اس لیے دیکھا کرو کیسے نکلتی ہو؟“ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ وہ واپس پلٹ آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے، آپ شام کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ہاتھ میں گوشت کی بوٹی تھی کہ انھوں (سودہ رضی اللہ عنھا) نے آ کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنی کسی ضرورت کے لیے نکلی تو عمر(رضی اللہ عنہ) نے مجھے ایسے ایسے کہا۔“ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حال میں آپ پر وحی فرمائی کہ وہ بوٹی آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے رکھی نہ تھی، آپ نے فرمایا: [ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لا تدخلوا بیوت النبي…» : ۴۷۹۵ ] ”تم عورتوں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ اپنی حاجت کے لیے باہر نکلو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عورتوں کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی لگانے کے خواہش مند تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے لیے انھیں نکلنے کی اجازت عطا فرمائی۔ مگر اس کے لیے پردے کی پابندی لگائی، حتیٰ کہ وہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں جانا چاہیں تو بھی حکم ہے کہ زینت کا اظہار کرتی ہوئی نہ نکلیں اور خوشبو لگائے ہوئے نہ ہوں۔ ➌ { وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ …:} ازواج مطہرات کے لیے عار بننے والی چیزوں سے اجتناب کے حکم کے بعد انھیں فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا۔ چنانچہ بدنی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت نماز کا اور مالی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت زکوٰۃ کا حکم دیا۔ اس کے بعد جامع حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی ہر بات کی اطاعت کریں۔ اس میں ازواج مطہرات کے لیے بشارت بھی ہے کہ ان پر خوش حالی کا وقت آنے والا ہے، جس میں وہ زکوٰۃ ادا کریں گی، چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد تنگی کا وقت ختم ہو گیا، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو سونے) کے برابر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں۔ ➍ { اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ …:} یعنی تمھیں لوچ دار آواز کے ساتھ بات کرنے اور جاہلیت کے اظہارِ زینت کی طرح زینت کے اظہار سے منع کرنے کا مقصد تمھاری تذلیل یا تم سے ناراضی کا اظہار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ظاہری اور باطنی ہر قسم کی گندگی دور کرے اور تمھیں ہر قسم کے عیب سے خوب اچھی طرح پاک صاف رکھے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باللہ پہلے ان میں ایسی کوئی گندگی موجود تھی، بلکہ قرآن مجید میں کسی چیز سے بچے رہنے کے لیے بھی اسے چھوڑ دینے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: «{ اِنِّيْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ }» [ یوسف: ۳۷ ] ”بے شک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لائے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔“ ➎ { اَهْلَ الْبَيْتِ:} اس سے پہلے {”يَا“} کا لفظ محذوف ہے، جس کی وجہ سے یہ منصوب ہے، یعنی ”اے گھر والو!“ اس آیت سے پہلی اور اس کے بعد والی آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ پہلی آیات میں {” وَ قَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ “} اور بعد والی آیات میں {” وَ اذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ “} صریح دلیل ہے کہ گھر والیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ بعض لوگوں نے سیاق و سباق کی واضح شہادت کے باوجود صرف اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو اہلِ بیت ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ {” لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ “} میں ضمیر{”كُمْ“} مذکر استعمال ہوئی ہے، حالانکہ اہلِ عرب خواتین سے خطاب کے وقت ضمیر{”كُمْ“} عام استعمال کرتے ہیں، بلکہ قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو ان کے اہلِ بیت کہا گیا ہے اور ان سے ضمیر {”كُمْ“} کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ چنانچہ جب فرشتوں نے انھیں بیٹے اور پوتے کی بشارت دی اور انھوں نے اس بڑھاپے میں اولاد ہونے پر تعجب کا اظہار کیا تو فرشتوں نے ان سے کہا: «{ اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ }» [ ہود: ۷۳ ] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو!“ یہ آیت صریح نص ہے کہ بیوی اہلِ بیت ہوتی ہے اور عورت کو ضمیر {”كُمْ“} کے ساتھ خطاب کیا جاتا ہے۔ مشہور اسلامی شاعر عمر بن ابی ربیعہ نے کہا ہے: {فَإِنْ شِئْتُ حَرَّمْتُ النِّسَاءَ سِوَاكُمْ وَ إِنْ شِئْتُ لَمْ أَطْعَمْ نُقَاخًا وَلَا بَرْدًا} صحیح احادیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت ہیں۔ چنانچہ جب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائی گئی تو ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! مَنْ يَّعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ أَذَاهُ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ؟ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «لو لا إذ سمعتموہ…» : ۴۷۵۰ ] ”اے مسلمانوں کی جماعت! ایک ایسے شخص کے بارے میں کون میری مدد کرتا ہے جس کی اذیت رسانی اب میرے اہلِ بیت (یعنی میرے گھر والوں) تک پہنچ گئی ہے؟“ اگرچہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ بیت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں، مگر احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنھم کو بھی اہلِ بیت میں شمار فرمایا ہے۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے انھیں اپنے اہلِ بیت میں شامل کروایا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا }» [الأحزاب: ۳۳] فِيْ بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ اَللّٰهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِيْ فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيْرًا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَ أَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ، أَنْتِ عَلٰی مَكَانِكِ وَ أَنْتِ إِلٰی خَيْرٍ ] [ترمذي، المناقب، باب في مناقب أھل بیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۳۷۸۷، و قال الألباني صحیح ] ”جب یہ آیت: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا }» نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور انھیں ایک چادر کے اندر کر لیا اور علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے تھے، تو انھیں ایک چادر کے اندر کر لیا، پھر کہا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت (گھر والے) ہیں، سو ان سے گندگی دور کر دے اور انھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی جگہ پر ہے اور تو بھلائی کی طرف ہے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم کو دعا کر کے اہلِ بیت میں شامل کروایا اور ان کے لیے گندگی دور کرنے اور انھیں پاک کرنے کی دعا فرمائی۔ یہ آیت اس سے پہلے اتر چکی تھی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے پہلے آیت سے مراد صرف ازواج مطہرات تھیں۔ رہا ام سلمہ رضی اللہ عنھا کا سوال اور آپ کا انھیں جواب، تو بعض حضرات نے اس سے یہ بات نکالنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اہلِ بیت میں شامل نہیں فرمایا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اطمینان دلایا کہ تمھیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ تم پہلے ہی اس مقام پر ہو اور خیر پر ہو۔ ان لوگوں پر تعجب ہے جو آیت کے اصل مصداق کو اہلِ بیت ماننے کے لیے تیار نہیں اور جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اہلِ بیت میں شامل کیا گیا، صرف ان کے اہلِ بیت ہونے پر اصرار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیﺚ پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے واﻻ خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں تمہارے گھروں میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو بے شک اللہ بڑا باریک بین (اور) بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ’ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو ‘۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ’ بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو ‘۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں }۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند بزار میں ہے کہ { عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:1475:ضعیف]
ترمذی وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔“ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ’ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو ‘۔
’ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو ‘۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا ’ اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا ‘۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ۔
ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے { اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے } پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا]
مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں { میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:107/4:صحیح]
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھی میرے اہل میں سے ہے }۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] اور روایت میں ہے { واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: { اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے }۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں تو بھی }۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] مسند احمد میں ہے { ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو }۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ { الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر }۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:292/6:صحیح] اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔
دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: { کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا }۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا { الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے }۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: { تو خیر کی طرف ہے } }۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ { میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں }۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: { یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت }۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: { ہاں تو بھی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:304/6:ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: { تو میری اہل ہے } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2424] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو }۔ [ابن ابی حاتم] سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: { یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف]
صحیح مسلم شریف میں ہے { یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: { میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو } پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: { اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں } تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2408] دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ { میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2048]
اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو ‘۔
پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ { کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3775] یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ { میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں }۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:108] )، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ میری ہی مسجد ہے } یعنی مسجد نبوی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398] پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:33] ، اتری ہے۔“ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔“
پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا ‘۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔
34-1یعنی ان پر عمل کرو حکمت سے مراد احادیث ہیں۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ حدیث بھی قرآن کی طرح ثواب کی نیت سے پڑھی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ آیت بھی ازواج مطہرات کے اہل بیت ہونے پر دلالت کرتی ہے، اس لئے کہ وحی کا نزول، جس کا ذکر اس آیت میں ہے، ازواج مطہرات کے گھروں میں ہی ہوتا تھا، بالخصوص حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔
(آیت 34) ➊ { وَ اذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ …:} پچھلی آیات میں امہات المومنین کو عمل کا حکم دیا تھا، جس میں کچھ چیزوں سے اجتناب اور کچھ چیزوں کے ادا کرنے کا حکم تھا، اب انھیں علم حاصل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کا حکم دیا۔ {” اذْكُرْنَ “ ”ذِكْرٌ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی دل میں یاد کرنا اور یاد رکھنا بھی ہے اور کسی کلام کو زبان پر لانا بھی۔ یعنی تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تلاوت کی جاتی ہے، اسے یاد کرو اور یاد رکھو، کبھی اس سے غفلت نہ کرو اور اسے دوسرے لوگوں کے سامنے بھی ذکر کرو اور ان تک پہنچاؤ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری یہ تھی کہ اللہ کے احکام امت تک پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مرد یا ایک عورت تک کوئی حکم پہنچا دینے سے آپ کا فریضہ ادا ہو جاتا تھا، پھر اس مرد یا عورت کا فرض ہوتا کہ اسے آگے پہنچائے، جیسا کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بني إسرائیل: ۳۴۶۱ ] ”میری طرف سے آگے پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہو۔“ امت کے ہر فرد کو ہر حکم بہ نفس نفیس پہنچانا نہ آپ کے ذمے تھا، نہ آپ کے لیے ممکن تھا۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اقوال و افعال اور احوال ایسے تھے جن کا تعلق گھریلو زندگی سے تھا اور جن کا علم صرف ازواج مطہرات کو ہوتا تھا، اس لیے انھیں آیات و حکمت کو یاد کرنے، انھیں یاد رکھنے اور لوگوں کے سامنے ذکر کرنے کا حکم دیا اور امہات المومنین نے یہ فریضہ نہایت خوش اسلوبی اور پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا۔ چنانچہ دینی مسائل کا بہت بڑا حصہ انھی کے ذریعے سے امت تک پہنچا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی وہ ان سے پوچھتے اور انھیں ان کے پاس سے، خصوصاً عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس سے اس کا تسلی بخش حل مل جاتا۔ ➋ یہ آیت عورتوں کو دین کی تعلیم دلانے کی واضح دلیل ہے، مردوں کی طرح ان پر بھی لازم ہے کہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کریں اور اسے آگے پہنچائیں۔ ➌ {” اٰيٰتِ اللّٰهِ “} سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں۔ {” الْحِكْمَةِ “} کا لفظی معنی دانائی اور عقل کی بات ہے، مراد اس سے قرآن مجید کے علوم اور معانی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے تھے۔ اسی طرح اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال و افعال اور احوال بھی شامل ہیں، کیونکہ وہ بھی قرآن کی عملی تفسیر تھے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ ] [ مسند أحمد: 91/6، ح: ۲۴۶۵۵ ] ”قرآن آپ کا خلق تھا۔“ یعنی قرآن آپ کی طبعی عادت بن چکا تھا کہ آپ کا ہر کام خود بخود قرآن مجید کے مطابق ہوتا تھا۔ اس لیے امام شافعی اور دوسرے ائمہ نے بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ {” الْحِكْمَةِ “} سے مراد سنت ہے۔ بعض لوگ اس پر یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی طرح سنت کی بھی تلاوت ہوتی تھی، مگر یہ شبہ بے کار ہے، کیونکہ تلاوت کے لفظ کو صرف قرآن کی تلاوت کے لیے خاص کرنا بعد کی اصطلاح ہے۔ قرآن میں اس لفظ کو اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ سورۂ بقرہ میں یہی لفظ جادو کے ان الفاظ کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جو شیاطین سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو سناتے تھے، فرمایا: «{ وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ }» [ البقرۃ: ۱۰۲ ] ”اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کے عہد حکومت میں پڑھتے تھے۔“ ظاہر ہے وہاں تلاوت سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو سناتے تھے۔ ویسے یاد کرنے کرانے کے لیے حدیث رسول پڑھنا بھی کارِ ثواب ہے اور حدیث حفظ کرنے والے کو اسے بار بار پڑھنا پڑتا ہے۔ ہاں، پڑھنے پڑھنے میں فرق ضرور ہے۔ ➍ یہ آیت ازواج مطہرات کے اہلِ بیت ہونے کی بھی واضح دلیل ہے، کیونکہ {” فِيْ بُيُوْتِكُنَّ “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو ان کے گھر کہا گیا ہے۔ ➎ { اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا: ” لَطِيْفًا “} کے لفظ میں بے حد مہربانی کے ساتھ باریک بینی اور خفیہ طریقے سے کسی کام کے ادا کرنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ دونوں صفات ذکر کرنے میں کئی باتوں کی طرف اشارہ ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کا تمام عورتوں میں سے ازواج مطہرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے چننا، ان کی طہارت کا اہتمام کرنا، انھیں علم و عمل کا کمال حاصل کرنے کا موقع عطا کرنا، اس کے مخفی سے مخفی امور سے واقف ہونے، اس کے نہایت مہربان ہونے اور ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہونے کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے اس نے انھیں اس کا اہل سمجھ کر اس مرتبے کے لیے منتخب فرمایا۔ ایک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ چونکہ یہ آیات ازواج مطہرات کے خرچے میں اضافے کے مطالبے پر نازل ہوئیں، لہٰذا مطلب یہ ہے کہ حالات بظاہر تمھارے لیے مشکل ہیں، لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو ترجیح دو گی تو آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیا کی خوش حالی بھی کچھ دور نہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ایسے باریک طریقوں سے وجود میں لے آتا ہے جو کسی کی سوچ میں بھی نہیں آسکتے۔ وہ لطیف بھی ہے اور پوری طرح باخبر بھی، اس نے ان لوگوں کو جو دنیا کی زیب و زینت سے بے نیاز تھے، زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا اور جو دنیا کے طلب گار تھے اور جن کی ساری تگ و دو ہی دنیا کے لیے تھی انھیں غلام بنا دیا۔
بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں اللہ نے ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر و ثواب مہیا کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماںبردار مرد اور فرماںبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسلام اور ایمان میں فرق اور ذکر الٰہی ٭٭
{ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ مردوں کا ذکر تو قرآن میں آتا رہتا ہے لیکن عورتوں کا تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا؟ ایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھی اپنے سر کے بال سلجھا رہی تھی جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز منبر پر سنی میں نے بالوں کو تو یونہی لپیٹ لیا اور حجرے میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے }۔ [سنن نسائی:425:صحیح] ۔ اور بہت سی روایتیں آپ رضی اللہ عنہا سے مختصراً مروی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { چند عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28510:اسنادہ ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { عورتوں نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے یہ کہا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28505:] اسلام و ایمان کو الگ الگ بیان کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ایمان اسلام کا غیر ہے اور ایمان اسلام سے مخصوص و ممتاز ہے «قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا» ۱؎ [49-الحجرات:14] الخ، والی آیت اور بخاری و مسلم کی حدیث کہ { زانی زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا } ۱؎ [صحیح مسلم:2475] پھر اس پر اجماع کہ زنا سے کفر لازم نہیں آتا۔ یہ اس پر دلیل ہے اور ہم شرح بخاری کی ابتداء میں اسے ثابت کر چکے ہیں۔ (یہ یاد رہے کہ ان میں فرق اس وقت ہے جب اسلام حقیقی نہ ہو جیسے کہ امام المحدثین امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کتاب الایمان میں بدلائل کثیرہ ثابت کیا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مترجم ] ۔
قنوت سے مراد سکون کے ساتھ کی اطاعت گزاری ہے جیسے «ا اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [39-الزمر:9] ، میں ہے اور فرمان ہے «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:26] یعنی ’ آسمان و زمین کی ہر چیزاللہ کی فرماں بردار ہے ‘ اور فرماتا ہے «يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:43] ، اور فرماتا ہے «وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:238] یعنی ’ اللہ کے سامنے با ادب فرماں برداری کی صورت میں کھڑے ہوا کرو ‘۔ پس اسلام کے اوپر کا مرتبہ ایمان ہے اور ان کے اجتماع سے انسان میں فرماں برداری اور اطاعت گزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ باتوں کی سچائی اللہ کو بہت ہی محبوب ہے اور یہ عادت ہر طرح محمود ہے۔ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم میں تو وہ بزرگ بھی تھے جنہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا، { سچائی ایمان کی نشانی ہے اور جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔ سچا نجات پاتا ہے۔ سچ ہی بولا کرو۔ سچائی نیکی کی طرف رہبری کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور فسق وفجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سچ بولتے بولتے اور سچائی کا قصد کرتے کرتے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے اور جھوٹ کا قصد کرتے ہوئے اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6094] اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ صبر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں پر صبر ہوتا ہے اس علم پر کہ تقدیر کا لکھا ٹلتا نہیں۔ سب سے زیادہ سخت صبر صدمے کے ابتدائی وقت پر ہے اور اسی کا اجر زیادہ ہے۔ پھر تو جوں جوں زمانہ گزرتا ہے خواہ مخواہ ہی صبر آ جاتا ہے۔ خشوع سے مراد تسکین دلجمعی تواضح فروتنی اور عاجزی ہے۔ یہ انسان میں اس وقت آتی ہے جبکہ دل میں اللہ کا خوف اور رب کو ہر وقت حاضر ناظر جانتا ہو اور اس طرح اللہ کی عبادت کرتا ہو جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ نہیں تو کم از کم اس درجے پر وہ ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
صدقے سے مراد محتاج ضعیفوں کو جن کی کوئی کمائی نہ ہو نہ جن کا کوئی کمانے والا ہو انہیں اپنا فالتو مال دینا اس نیت سے کہ اللہ کی اطاعت ہو اور اس کی مخلوق کا کام بنے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ بھی ہے جو صدقہ دیتا ہے لیکن اسطرح پوشیدہ طور پر کہ داہنے ہاتھ کے خرچ کی بائیں ہاتھ کو خبر نہیں لگتی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660] اور حدیث میں ہے { صدقہ خطاؤں کو اسطرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔ روزے کی بابت حدیث میں ہے کہ { یہ بدن کی زکوٰۃ ہے } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1745، قال الشيخ الألباني:ضعیف] یعنی اسے پاک صاف کر دیتا ہے اور طبی طور پر بھی ردی اخلاط کو مٹا دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”رمضان کے روزے رکھ کر جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیے وہ «وَالصَّاىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:35] ، میں داخل ہو گیا۔“ روزہ شہوت کو بھی جھکا دینے والا ہے۔ حدیث میں ہے { اے نوجوانو! تم میں سے جسے طاقت ہو وہ تو اپنا نکاح کر لے تاکہ اس سے نگاہیں نیچی رہیں اور پاک دامنی حاصل ہو جائے اور جسے اپنے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، یہی اس کے لیے گویا خصی ہونا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905] اسی لیے روزوں کے ذکر کے بعد ہی بدکاری سے بچنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ’ ایسے مسلمان مرد و عورت حرام سے اور گناہ کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں۔ اپنی اس خاص قوت کو جائز جگہ صرف کرتے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:7-5] ’ یہ لوگ اپنے بدن کو روکے رہتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے اور لونڈیوں سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں اس کے سوا جو اور کچھ طلب کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے ‘۔
ذکر اللہ کی نسبت ایک حدیث میں ہے کہ { جب میاں اپنی بیوی کو رات کے وقت جگا کر دو رکعت نماز دونوں پڑھ لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لیے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1309، قال الشيخ الألباني:صحیح] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے درجے والا بندہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا }۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ کے مجاہد سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگرچہ وہ کافروں پر تلوار چلائے یہاں تک کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنے والا اس سے افضل ہی رہے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:411/2:حسن] مسند ہی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے راستے میں جا رہے تھے جمدان پر پہنچ کر فرمایا: { یہ جمدان ہے مفرد بن کر چلو }۔ آگے بڑھنے والوں نے پوچھا مفرد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: { اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے }۔ پھر فرمایا: { اے اللہ حج و عمرے میں اپنا سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! }۔ لوگوں نے کہا بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یا اللہ سر منڈوانے والوں کو بخش }۔ لوگوں نے پھر کتروانے والوں کے لیے درخواست کی تو،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کتروانے والے بھی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2676] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذابوں سے نجات دینے والا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑا نہیں }۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہیں سب سے بہتر سب سے پاک اور سب سے بلند درجے کا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے حق میں سونا چاندی اللہ کی راہ میں لٹانے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو جب تم کل دشمن سے ملو گے اور ان کی گردنیں مارو گے اور وہ تمہاری گردنیں ماریں گے }۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائے فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا مجاہد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا }۔ اس نے پھر روزے دار کی نسبت پوچھا یہی جواب ملا پھر نماز، زکوٰۃ، حج صدقہ، سب کی بابت پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا یہی جواب دیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ”پھر اللہ کا ذکر کرنے والے تو بہت ہی بڑھ گئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:438/3:ضعیف] کثرت ذکر اللہ کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اسی سورت کی آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:41] ، کی تفسیر میں ہم ان احادیث کو بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ پھر فرمایا ’ یہ نیک صفتیں جن میں ہوں ہم نے ان کے لیے مغفرت تیار کر رکھی ہے اور اجر عظیم ‘ یعنی جنت۔
35-1حضرت ام سلمہ ؓ اور بعض دیگر صحابیات نے کہا کہ کیا بات ہے اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں سے ہی خطاب فرماتا ہے عورتوں سے نہیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسندا-631ترمذی نمبر3211 اس میں عورتوں کی دل داری کا اہتمام کردیا گیا ہے ورنہ تمام احکام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں سوائے ان مخصوص احکام کے جو صرف عورتوں کے لیے ہیں۔ اس آیت اور دیگر آیات سے واضح ہے کہ عبادت واطاعت الہٰی اور اخروی درجات و فضائل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے دونوں کے لیے یکساں طور پر یہ میدان کھلا ہے اور دونوں زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور اجر وثواب کماسکتے ہیں جنس کی بنیاد پر اس میں کمی پیشی نہیں کی جائے گے علاوہ ازیں مسلمان اور مومن کا الگ الگ ذکر کرنے سے واضح ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے ایمان کا درجہ اسلام سے بڑھ کر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کے دیگر دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔
(آیت 35) ➊ { اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ …:} امہات المومنین کو پاکیزہ اعمال و اخلاق کی ترغیب، برے اطوار سے اجتناب کی تلقین اور کتاب و حکمت کے سیکھنے اور سکھانے کی تاکید کے بعد ان دس صفاتِ کمال کا ذکر فرمایا جن پر کاربند ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ مگر ان صفات والوں کو عام الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا اور تمام مردوں اور عورتوں دونوں کو الگ الگ صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا، تاکہ کوئی اسے امہات المومنین کے ساتھ خاص نہ سمجھ لے، نہ ان فضائل کو اور ان کے اجرو ثواب کو صرف مردوں کا حصہ سمجھ لے۔ ➋ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! قرآن میں جس طرح مردوں کا ذکر ہوتا ہے ہم عورتوں کا نہیں ہوتا۔“ تو اچانک ایک دن میں نے منبر پر آپ کی آواز سنی، میں نے دروازے کے قریب ہو کر کان لگایا تو آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «{ اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا }» [ الأحزاب: ۳۵ ] [ مسند أحمد: 301/6، ح: ۲۶۵۷۵، و قال المحقق صحیح ] ➌ { الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ:} اسلام کا معنی انقیاد (تابع ہو جانا) ہے اور ایمان کا معنی تصدیق ہے۔ پھر ان کا استعمال تین طرح ہوتا ہے، کبھی دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (35) فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ }» [ الذاریات: ۳۵، ۳۶ ] ” سو ہم نے اس (بستی) میں ایمان والوں سے جو بھی تھا نکال لیا۔ تو ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔“ کبھی الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا }» [ الحجرات: ۱۴] ”بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہو گئے۔“ اور کبھی مسلم کا لفظ عام ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو اسلام کے ظاہری اعمال بجا لائے، عام اس سے کہ اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اور مومن کا لفظ خاص ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو ظاہری اعمال بجا لانے کے ساتھ دل سے بھی اللہ اور اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں {” الْمُسْلِمِيْنَ “} سے مراد تمام مسلم ہیں، خواہ صرف ظاہر میں اعمال بجا لانے والے ہوں یا دل سے بھی یقین رکھنے والے ہوں۔ (ابن جَزیّ) ➍ { وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} چونکہ {” الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ “} میں مخلص اور منافق دونوں آ سکتے تھے، اس لیے مومنین اور مومنات کا ذکر فرمایا، یعنی جو ظاہری انقیاد کے ساتھ دل میں بھی ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ جب تک دل میں یقین نہ ہو ظاہر میں تابع ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔ ➎ { وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ:} ہمیشہ کے لیے اطاعت کرنے والے۔ اسلام کے بعد ایمان کا مرتبہ ہے، ان دونوں کے نتیجے میں قنوت، یعنی اطاعت اور فرماں برداری پیدا ہوتی ہے۔ ➏ { وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ:} اس کی تفصیل سورۂ توبہ کی آیت (۱۱۹): «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ }» کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➐ { وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۵ اور ۱۵۳)۔ ➑ { وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ …:} یعنی وہ تکبر اور غرور سے پاک ہیں، ہر وقت اللہ کے سامنے عاجز اور دل و زبان اور جسم و جان سے اس کے آگے جھکے رہتے ہیں، حق سامنے آنے پر اس سے نہ سر پھیرتے ہیں، نہ انکار کرتے ہیں۔ خشوع اور عاجزی کی تمام کیفیتیں نماز میں جمع ہیں، اس لیے خشوع کا اعلیٰ درجہ نماز میں خشوع ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (1) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ }» [ المؤمنون: ۱، ۲ ] ”یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔“ ممکن ہے یہاں عام حالات میں خشوع کے ساتھ خاص طور پر یہ مراد ہو، کیونکہ اس کے بعد صدقے اور روزے کا ذکر ہے اور نماز، صدقہ اور روزہ تینوں اسلام کے بنیادی ارکان ہیں۔ خشوع، صدقہ اور صیام کے الفاظ میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں۔ ➒ { وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ:} اس میں زنا سے اجتناب کے علاوہ ننگا ہونے سے اجتناب بھی شامل ہے اور ایسا لباس پہننے سے بھی جس سے جسم کا وہ حصہ نمایاں ہوتا ہو جسے چھپانا لازم ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵ تا ۷) اور معارج (۲۹ تا ۳۱)۔ ➓ { وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ …: } ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستے میں چل رہے تھے تو ایک پہاڑ پر گزرے، جسے جُمدان کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سِيْرُوْا هٰذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرَّدُوْنَ ] ”چلتے رہو، یہ جُمدان ہے، ”مفرد“ لوگ (اپنے کام میں اکیلے رہ جانے والے) سبقت لے گئے۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مفرد لوگوں سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذَّاكِرَاتُ ] [ مسلم، الذکر و الدعاء، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی: ۲۶۷۶ ] ”اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے مرد اور بہت زیادہ یاد کرنے والی عورتیں۔“ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَ أَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيْكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِيْ دَرَجَاتِكُمْ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَ الْوَرِقِ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَهُمْ وَ يَضْرِبُوْا أَعْنَاقَكُمْ؟ قَالُوْا بَلٰی قَالَ ذِكْرُ اللّٰهِ تَعَالٰی] [ترمذي، الدعوات، باب منہ: ۳۳۷۷، و قال الألباني صحیح ] ”کیا میں تمھیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمھارے اعمال میں سے سب سے بہتر ہے اور تمھارے مالک کے ہاں سب سے پاکیزہ ہے اور تمھارے درجات میں سب سے بلند ہے اور تمھارے لیے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ملو، پھر وہ تمھاری گردنیں اڑائیں اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”کیوں نہیں (یا رسول اللہ!)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کا ذکر ہے۔“ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! اسلام کے احکام مجھ پر بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ مجھے کوئی ایک چیز بتا دیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ] [ ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر: ۳۳۷۵، و قال الألباني صحیح ] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔“ یاد رہے زبانی ذکر ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو دل میں یاد رکھنا اور ہر وقت اس بات کا احساس ضروری ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں آدمی اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اگر نافرمانی کر بیٹھے تو اللہ کی یاد اسے اپنے رب کے ساتھ معاملہ درست کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کی صفت بیان فرمائی: «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ }» [ آل عمران: ۱۳۵ ] ”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے جب کہ وہ جانتے ہوں۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش نصیبوں میں سے ایک وہ ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ رَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ] [ بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد…: ۶۶۰ ] ”وہ آدمی جس نے اللہ کو خلوت میں یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“ اللہ کی نافرمانی پر اصرار کے ساتھ محض زبان سے ذکر کو اللہ کی یاد کہنا ”یاد“ کے مفہوم سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی بہکا،
علامہ محمد حسین نجفی
کسی مؤمن مرد اور کسی مؤمن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو انہیں اپنے (اس) معاملے میں کوئی اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقینا وہ گمراہ ہوگیا، واضح گمراہ ہونا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو رد کرنا گناہ عظیم ہے ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ کا پیغام لے کر زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا ”میں اس سے نکاح نہیں کروں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کر لو }۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”اچھا پھر کچھ مہلت دیجئیے میں سوچ لوں۔“ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔ اسے سن کر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح سے رضامند ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں }۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28513:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے زیادہ شریف تھیں۔ زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28516:] عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت عقبہ بن ابومعیط کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے قبول ہے }۔ پھر زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح زینب رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے بعد ہوا ہوگا۔ اس سے ام کلثوم رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کر دیا گیا اور فرما دیا گیا کہ «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں ‘۔ پس آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:36] خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28517:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ { ایک انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دو }۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کر لوں۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کر دیا اور اب جلیبیب رضی اللہ عنہ سے نکاح کر دیں۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کورد کرتے ہو؟ جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔“ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔ چنانچہ انصاری سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے خوش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں }۔ کہا ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کر دیجئیے“، چنانچہ نکاح ہو گیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لیے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں جلبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
ایک اور روایت میں سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لیے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کر لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔“ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا }۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { جلیبیب رضی اللہ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا: { سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں }۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چارپائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لیے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ ”انکار نہ کرو۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ { اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما }۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2472] انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد نہ کرو“ اس وقت یہ آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:36] ، نازل ہوئی تھی }۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے طاؤس رحمہ اللہ نے پوچھا کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھ سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے منع فرمایا اور اسی آیت کی تلاوت کی۔ پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کر سکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔ جیسے فرمایا «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:65] ، یعنی ’ قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو گا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:167،] اسی لیے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ ’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [24-النور:63] یعنی ’ جو لوگ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو ‘۔
36-1یہ آیت حضرت زینب ؓ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ، جو کہ اصلا عرب تھے، لیکن کسی نے انھیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خدیجہ کے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کردیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب کو نکاح کا پیغام بیجھا، جس پر انھیں اور ان کے بھائی کو خاندانی وضاحت کی بنا پر تامل ہوا، کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں اور ہمارا تعلق ایک اونچے خاندان سے ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا اختیار بروئے کار لائے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سر تسلیم خم کردے چناچہ یہ آیت سننے کے بعد حضرت زینب وغیرہ نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا باہم نکاح ہوگیا۔
(آیت 36) ➊ {وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ …: ” الْخِيَرَةُ “ ”تَخَيَّرَ يَتَخَيَّرُ“} (تفعّل) کا مصدر ہے، جیسا کہ {”تَطَيَّرَ “} کا مصدر {”اَلطِّيَرَةُ“} ہے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں، اس وزن پر اس باب سے یہی دو مصدر آتے ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے کا یا اپنے سے الگ ہونے کا اختیار دیں، تاکہ واضح ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ اب فرمایا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح بیویوں کو ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا گیا، اس طرح ہر آدمی کو ہر کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے یا نہ ماننے کا اختیار ہے۔ بلکہ کچھ کام ایسے ہیں جن میں کسی مومن مرد یا مومن عورت کو اپنی مرضی کا اختیار نہیں، یہ وہ کام ہیں جن کا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول واضح حکم دے دیں اور اسے کرنے یا نہ کرنے کی گنجائش نہ دیں۔ اگر وہ خود ہی گنجائش دے دیں تو الگ بات ہے، جیسا کہ بریرہ رضی اللہ عنھا لونڈی تھیں تو مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب وہ آزاد ہوئیں تو خاوند کے غلام ہونے کی وجہ سے انھیں اس کی زوجیت میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ بریرہ رضی اللہ عنھا نے اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ يَا عَبَّاسُ! أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيْثٍ بَرِيْرَةَ، وَ مِنْ بُغْضِ بَرِيْرَةَ مُغِيْثًا ] ”اے عباس! کیا تمھیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: [ لَوْ رَاجَعْتِهِ؟ ] ”کاش! تو اس سے رجوع کر لیتی؟“ اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ] ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ اس نے کہا: [ فَلَا حَاجَةَ لِيْ فِيْهِ ] [ بخاري، الطلاق، باب شفاعۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في زوج بریرۃ: ۵۲۸۳ ] ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ {” اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا “} کا یہی مطلب ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فیصلہ کن حکم آجائے تو کسی مسلمان کو اپنا اختیار استعمال کرنے کی کسی صورت میں گنجائش باقی نہیں رہتی۔ {” كَانَ “} کے ساتھ {” مَا “} نافیہ کی مزید تاکید ہو رہی ہے، کیونکہ {” كَانَ “} کے ساتھ نفی کا استمرار اور اس کی ہمیشگی مقصود ہے۔ یعنی کسی مومن مرد یا مومن عورت کو کبھی بھی یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول…۔ ➋ اکثر مفسرین نے اس آیت کی شان نزول یہ لکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی زینت بنت جحش رضی اللہ عنھا کو اپنے متبنٰی اور آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے لیے کہا تو انھوں نے یہ کہہ کر کہ میں حسب میں اس سے بہتر ہوں، انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت اتری تو وہ نکاح پر رضا مند ہو گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس شان نزول کی دو روایتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی عوفی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ہے، جو طبری نے روایت کی ہے، اس کی سند ضعیف ہے۔ دوسری ابن لہیعہ عن ابن ابی عمرہ عن عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ہے، اسے بھی طبری نے روایت کیا ہے اور یہ بھی ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یقینی نہیں کہ زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح زید رضی اللہ عنہ سے ہجرت کے بعد ہوا تھا، جب کہ یہ سورت مدنی ہے۔ ابن عاشور نے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ یہ نکاح ہجرت سے پہلے مکہ میں ہو چکا تھا اور ابن کثیر نے مقاتل بن حیان کا جو قول نقل کیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنھا زید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سال کے قریب رہیں، ثابت نہیں، کیونکہ مقاتل تبع تابعی ہیں، انھوں نے اس بات کو نقل کرنے والے تابعی کا ذکر کیا ہے نہ صحابی کا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اصول شریعت کی رُو سے دیکھا جائے تو گو نکاح کرنا ایک شرعی حکم ہے، مگر یہ بات کہ نبی کسی خاص عورت کو کسی خاص مرد، یا کسی خاص مرد کو کسی خاص عورت سے نکاح کرنے پر شرعی طور پر مامور کرے صحیح نہیں، یعنی نبی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو فلاں مرد سے شادی کر اور اگر وہ عورت نہ مانے تو نافرمان قرار پائے۔ ہمارے اس دعویٰ پر بریرہ رضی اللہ عنھا کی حدیث قوی شہادت ہے (جو اسی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے)۔“ (تفسیر ثنائی) اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ زینب رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے نزول سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، اس آیت کو اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کی تاکید سمجھا جائے، جس طرح یہ تاکید اسی سورت کے شروع میں اس سے بھی جامع الفاظ میں گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ }» [ الأحزاب: ۶ ] ”یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہے۔“ ➌ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت تمام احکام کے لیے عام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جب کسی چیز کا فیصلہ فرما دیں تو نہ کسی کے لیے اس کی ممانعت جائز ہے، نہ اسے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے، نہ اس کے مقابلے میں کسی قیاس یا رائے یا قول اقوال کی کوئی حیثیت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا }» [ النساء: ۶۵ ] ”پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔“ ➍ { وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} اس میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی شدید وعید ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ}» [ النور: ۶۳ ] ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آ پہنچے۔“
اے نبیؐ، یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ "اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر" اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو پھر جب زیدؓ اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب کہ وه اپنی غرض ان سے پوری کرلیں، اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے واﻻ تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول! وہ وقت یاد کرو) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور آپ نے احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے (اسے نہ چھوڑ) اور اللہ سے ڈر۔ اور آپ (اس وقت) وہ بات اپنے دل میں چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں (بہرحال) جب زید نے اس عورت (زینب) سے اپنی حاجت پوری کر لی (اسے طلاق دے دی) تو ہم نے اس خاتون کی شادی آپ سے کر دی تاکہ اہلِ ایمان پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے (نکاح کرنے) کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہ جائے جب وہ ان سے (اپنی) حاجت پوری کر چکے ہوں (اور انہیں طلاق دے کر فارغ کر چکے ہوں) اور اللہ کا حکم تو بہرحال ہوکر رہتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تو اس شخص سے جس پر اللہ نے انعام کیا اور جس پر تو نے انعام کیا کہہ رہا تھا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپاتا تھاجسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا، تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ ہو، جب وہ ان سے حاجت پوری کر چکیں اور اللہ کا حکم پورا کیا جانے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظمت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہر طرح سمجھایا۔ ان پر اللہ کا انعام تھا کہ اسلام اور متابعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق دی ‘۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان «حِبُّ الرَّسُوْل» کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی «الْحِبُّ ابْنُ الْحِبِّ» کہتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ { جس لشکر میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے اس لشکر کا سردار انہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بن جاتے }۔ [مسند احمد:227/6:حسن] مسند بزار میں ہے { اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما آئے اور مجھ سے کہا جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ } میں نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: { فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ }، یہ آئے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) }۔ انہوں نے کہا ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3819، قال الشيخ الألباني:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اسدیہ سے کرا دیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں۔ ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے کہ { گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو }۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔ مسند احمد میں بھی ایک روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لیے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { یہ آیت زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4787] ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی کہ زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔ یہی بات تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر نہ فرمایا اور زید رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
«وَطَرْ» کے معنی حاجت کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب سیدہ زید رضی اللہ عنہ ان سے سیر ہوگئے اور باوجود سمجھانے بجھانے کے بھی میل ملاپ قائم نہ رہ سکا بلکہ طلاق ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے دیا۔ اس لیے ولی کے ایجاب و قبول سے مہر اور گواہوں کی ضرورت نہ رہی۔ مسند احمد میں ہے { سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ { تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ }۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ رہی تھیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کر سکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ٹھہرو! میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر لوں۔“ یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ میں نے ان کا نکاح تجھ سے کر دیا ‘۔ چنانچہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے اطلاع چلے آئے،، پھر ولیمے کی دعوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حجاب ہو گیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بے اجازت نہ جاؤ ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428]
صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے فخراً کہا کرتی تھیں کہ ”تم سب کے نکاح تمہارے ولی وارثوں نے کئے اور میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر کرا دیا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7420] سورۃ النور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں کہ ”سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری برأت کی آیتیں آسمان سے اتریں“ جس کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا۔
ابن جریر میں ہے { ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا ”مجھ میں اللہ تعالیٰ نے تین خصوصیتیں رکھی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیویوں میں نہیں ایک تو یہ کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دادا ایک ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیا۔ تیسرے یہ کہ ہمارے درمیان سفیر جبرائیل علیہ السلام تھے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28526:ضعیف و مرسل] پھر فرماتا ہے ’ ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لیے جائز کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے ‘۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کر سکیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے زید کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کر دی اور حکم دیا کہ ’ انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارا کرو ‘۔
پھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو اللہ پاک نے انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے کر یہ بات بھی ہٹادی۔ جس آیت میں حرام عورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ تمہارے اپنے صلبی لڑکوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں ‘۔ تاکہ لے پالک لڑکوں کی لڑکیاں اس حکم سے خارج رہیں۔ کیونکہ ایسے لڑکے عرب میں بہت تھے۔ یہ امر اللہ کے نزدیک مقرر ہو چکا تھا۔ اس کا ہونا حتمی، یقینی اور ضروری تھا۔ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ شرف ملنا پہلے ہی سے لکھا جا چکا تھا کہ وہ ازواج مطہرات امہات المؤمنین میں داخل ہوں رضی اللہ عنہا۔
37۔ 1 لیکن چونکہ ان کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جب کہ زید کے دامن میں غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی جس کا تذکرہ حضرت زید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین فرماتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرمادیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اسکی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔ اس آیت میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت زید پر اللہ کا انعام یہ تھا کہ انھی قبول اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ان پر یہ تھا کہ انکی دینی تربیت کی۔ انکو آزاد کرکے اپنا بیٹا قرار دیا اور اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی سے ان کا نکاح کرادیا۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ کو حضرت زینب سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خوف اگرچہ فطری تھا، اسکے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی۔ ظاہر کرنے سے مراد یہی ہے کہ یہ نکاح ہوگا، جس سے یہ بات سب کے علم کے ہی علم میں آجائے گی۔ 37۔ 2 یعنی نکاح کے بعد طلاق دی اور حضرت زینب عدت سے فارغ ہوگئیں۔ 37۔ 3 یعنی یہ نکاح معرفت طریقے کے برعکس اللہ کے حکم سے قرار پا گیا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر ہی 37۔ 4 یہ حضرت زینب سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کی علت ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان اس بارے میں تنگی محسوس نہ کرے اور حسب ضرورت اقتضا لے پالک کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا جاسکے۔ 37۔ 5 یعنی پہلے سے ہی تقدیر الہٰی میں تھا بہر صورت ہو کر رہنا تھا۔
(آیت 37) ➊ { وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ …:} ان آیات کے نزول کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ حکم نازل کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کے حکم میں کسی طرح بھی نہیں ہیں اور یہ کہ اگر وہ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں، تو انھیں یعنی منہ بولے بیٹے بنانے والوں کے لیے ان سے نکاح جائز ہے، کیونکہ وہ عورتیں حقیقی بیٹوں کی بیویوں کی طرح ان کی بہو نہیں ہیں۔ تو اس وقت متبنّٰی کی رسم معاشرے میں اس قدر پختہ اور مستحکم ہو چکی تھی کہ بہت بڑے اقدام کے بغیر اس کی اصلاح ممکن نہ تھی اور ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے علاوہ آپ کے عمل کے ساتھ اس پر کاری ضرب لگائی جائے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جنھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں متبنّٰی بنایا تھا، جب آیت {”اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَائِهِمْ “} اتری تو انھیں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہا جانے لگا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کے ساتھ کیا تھا۔ مزاج کے اختلاف کی وجہ سے ان دونوں میاں بیوی میں موافقت نہ رہ سکی، اس لیے زید رضی اللہ عنہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے رویے کی شکایت کرتے اور طلاق دینے کی اجازت مانگتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہو چکا تھا کہ زید اسے طلاق دیں گے اور وہ آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ مگر اس ڈر سے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا اور منافقین، یہودی اور مشرکین اسے آپ کی عصمت پر طعن کا ذریعہ بنائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کو طلاق سے منع کرتے اور یہی فرماتے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔ ➋ { ” لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِ “} سے مراد زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت: «{ وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ }» زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنھما کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و تخفي في نفسک…» : ۴۷۸۷ ] اللہ تعالیٰ کا اس پر دوسرے بے شمار انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے اس کے مشرک خاندان سے نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا، پھر غلامی سے آزادی عطا فرمائی۔ اسلام قبول کرنے اور اس میں سبقت کرنے والے چار افراد میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔ قرآن مجید میں تمام صحابہ میں سے صرف اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر دوسرے کئی انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے آزاد کیا، اپنا بیٹا بنایا، اپنی پھوپھی زاد کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی خاص محبت سے نوازا، چنانچہ اسے اور اس کے بیٹے اسامہ کو حِبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب) کہا جاتا تھا۔ ➌ {وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ:} وہ بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپاتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، اس کے متعلق تفاسیر میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شانِ نبوت کے سراسر منافی ہیں، عقل کے بھی صاف خلاف ہیں اور صحیح سند کے ساتھ ثابت بھی نہیں، بعد کے لوگوں کی فضول باتیں ہیں۔ اس لیے حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: ”ان کا بیان مناسب نہیں۔“ اور حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے یہاں بعض سلف سے کچھ آثار نقل کیے ہیں، جنھیں ذکر کرنے سے ہم نے پہلو تہی اختیار کی ہے، کیونکہ وہ ثابت نہیں ہیں۔“ مگر چونکہ ان اقوال کو لے کر مستشرقین اور اسلام کے مخالفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زبانِ طعن دراز کی ہے، اس لیے انھیں بیان کرنا اور ان کی حقیقت کھولنا لازم ہے۔ چنانچہ قتادہ اور ابن زید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کی عدم موجودگی میں ان کے گھر گئے، تو زینب رضی اللہ عنھا کو اس کی زینت میں دیکھا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا سے اس کے گھر کا پردہ ہٹ گیا اور آپ نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا تو آپ کے دل میں اس کی محبت جاگزین ہو گئی اور آپ نے فرمایا: ”سبحان ہی ہے جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔“ جب زید آئے تو زینب نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بتائے، تو زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے گھر آئے، لیکن آپ اندر کیوں تشریف نہیں لائے؟ شاید آپ کو زینب پسند آئی ہے تو کیا میں اسے چھوڑ دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ تو یہ آیت اتری۔ تفسیر جلالین میں آیت کا سبب نزول یہی بیان کیا گیا ہے اور مفسر جلال نے اسی کے مطابق تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”تو اپنے دل میں اس کی محبت چھپانے والا تھا، جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور یہ کہ اگر زید اسے طلاق دے دے تو میں اس سے نکاح کر لوں۔“ یہی تفسیر زمخشری، نسفی، ابن جریر اور ثعلبی وغیرہ نے کی ہے۔ ہاں، ابن جریر نے اس باطل تفسیر کے ساتھ وہ تفسیر بھی لکھی ہے جس میں یہ فضول باتیں نہیں ہیں اور یہ باطل روایات بھی نقل کر دی ہیں، اگرچہ سند بیان کرنے کی وجہ سے ان کا نقصان کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آثار میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، نہ ہی قتادہ یا ابن زید اس واقعہ کے وقت موجود تھے، وہ تابعی ہیں اور اپنی بات کا حوالہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ انھوں نے کس سے یہ روایت سنی ہے اور پھر یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے۔ زینب کوئی اجنبی خاتون نہ تھی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک دیکھا ہو۔ وہ آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھی، آپ کے سامنے جوان ہوئی، آپ نے اپنے (منہ بولے) بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگا، اس کے ساتھ نکاح کیا، آپ کے ساتھ اس نے ہجرت کی، اس وقت تک پردے کا نہ رواج تھا، نہ اس کا حکم اترا تھا کہ اتنے سالوں تک آپ نے اسے نہ دیکھا ہو۔ غرض اس قسم کی روایات ہر لحاظ سے باطل اور جھوٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بازی اور عفت کو بطور چیلنج ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [ یونس: ۱۶ ] ”پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“ ➍ رہی یہ بات کہ پھر حقیقت میں بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں چھپا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، تو اس میں راجح قول وہی ہے جو اس آیت کے پہلے فائدے میں ذکر کیا گیا ہے اور جسے اکثر محقق مفسرین، مثلاً حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور ہمارے شیخ استاذ محمد عبدہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی پہلے سے خبردار کر دیا گیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہونے والی ہے، مگر آپ اس کے اظہار سے شرماتے تھے کہ مخالفین الزام لگائیں گے کہ دیکھیے اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ اس لیے جب زید نے آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا: «{ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ }» اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب آمیز لہجے میں فرمایا کہ جب میں نے آپ کو پہلے بتا دیا ہے کہ زینب کا نکاح آپ سے ہونے والا ہے تو آپ زید سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں، یعنی آپ کی شان کے لائق نہیں، بلکہ بہتر یہ تھا کہ آپ خاموش رہتے، یا زید سے کہہ دیتے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں، یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ یہ بات صراحت کے ساتھ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ آپ کا نکاح زینب سے ہو گا، یہ صرف سدی کا قول ہے، یا علی بن حسین (زین العابدین) سے کمزور سند کے ساتھ مروی قول ہے۔ البتہ قرآن مجید کے الفاظ: {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا “} اور {” مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ “} اور {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا “} سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔ ➎ { فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا: ” وَطَرًا “} کا معنی حاجت ہے، یعنی جب زید نے کچھ مدت تک اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد اسے طلاق دے دی اور اس کی عدت بھی پوری ہو گئی، جس میں انھوں نے رجوع نہیں کیا اور ثابت ہو گیا کہ ان کے دل میں زینب کے متعلق جو خواہش تھی پوری ہو چکی اور اب ان کی کوئی خواہش یا حاجت نہیں رہی، تو ہم نے اے نبی! اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”زینب کا آپ سے نکاح کرنے والا ولی خود اللہ تعالیٰ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ انسانوں میں سے کسی ولی یا عقد یا مہر یا گواہوں کے بغیر (اس کے خاوند ہیں) اس کے پاس چلے جائیں۔“ (ابن کثیر) انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زینب رضی اللہ عنھا کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ان سے میرا ذکر کرو۔“ زید جب ان کے پاس گئے تو وہ آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہتے ہیں کہ جب میں نے انھیں دیکھا تو میرے سینے میں ان کی اتنی عظمت چھا گئی کہ میں ان کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا۔ غرض میں نے ان کی طرف پیٹھ کر لی اور ایڑیوں پر پھر گیا اور کہا: ”اے زینب! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، وہ آپ کو یاد کر رہے ہیں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا ہے)۔“ زینب رضی اللہ عنھا نے کہا: ”میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کرتی جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں (یعنی استخارہ نہ کر لوں)۔“ پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اجازت کے بغیر تشریف لے آئے۔“ [ مسلم، النکاح، باب زواج زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا …: ۱۴۲۸ ] انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُوْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ اتَّقِ اللّٰهَ، وَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ، قَالَ أَنَسٌ لَوْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هٰذِهِ، قَالَ فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلٰي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تَقُوْلُ زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيْكُنَّ، وَ زَوَّجَنِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ] [بخاري، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء …» : ۷۴۲۰ ] ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آ کر شکایت کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں یہی کہتے رہے: ”اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھ۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو اس بات کو ضرور چھپا لیتے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر زینب رضی اللہ عنھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہتی تھیں: ”تمھارا نکاح تمھارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا۔“ ➏ { لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ …:} یعنی ہم نے زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح آپ سے اس لیے کر دیا کہ جاہلی رسم کے مطابق اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کو جو حرام سمجھا جاتا تھا، آپ کے عملی اقدام سے یہ رسم ختم کی جائے اور ایمان والوں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں کوئی تنگی نہ رہے اور وہ کسی گناہ یا عار کے احساس کے بغیر ان سے نکاح کر سکیں۔ ➐ { وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا:} یعنی اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہنے والا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، نہ اسے متبنّٰی بنانے والے کے لیے اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہے اور یہ فیصلہ بھی پورا ہو کر رہنا تھا کہ زینب رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔
نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس کام کے کرنے میں نبی(ص) پر کوئی مضائقہ نہیں ہے جو خدا نے ان کیلئے مقرر کیا ہے جو لوگ (انبیاء(ع)) اس سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کا یہی معمول رہا ہے اور اللہ کا حکم حقیقی اندازے کے مطابق مقرر کیا ہوا ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
نبی پر اس کام میں کبھی کوئی تنگی نہیں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کر دیا۔ یہی اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے اندازے کے مطابق ہے، جو طے کیا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا ‘۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔
38۔ 1 یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔ 38۔ 2 یعنی گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔ 38۔ 3 یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
(آیت 38) ➊ { مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو کام طے کر دیا اور اس کا حکم دے دیا اس کے ادا کرنے میں اس پر کوئی تنگی نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ {” كَانَ “} نفی کے استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کبھی کوئی تنگی نہیں۔“ اس لیے اسے وہ بات بتانے میں یا اس پر عمل کرنے میں کسی طعن و تشنیع یا ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرمایا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اسی طرح یہ بھی طے فرما دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح کریں گے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اظہار یا اس پر عمل کے سلسلے میں منافقین یا یہود کے طعن کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ وہی بات ہے جو سدی اور زین العابدین نے فرمائی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح محض مباح ہے، مگر بہت سی مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے طے کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا۔ ➋ { سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ:} لفظ {” سُنَّةَ “} پر نصب یا تو اس لیے ہے کہ اس سے پہلے حرف جر ”کاف“ محذوف ہے، جس کے حذف ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو کچھ طے فرمایا اسے ادا کرنے میں اس پر اسی طرح کوئی حرج نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں طریقہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے جو طے کر دیتا وہ اس کی ادائیگی میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ یا یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، یعنی {”سَنَّ اللّٰهُ هٰذَا سُنَّةً فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ“} مطلب ایک ہی ہے کہ گزشتہ انبیاء بھی ایسے کاموں کے کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض کر دیے جاتے تھے، چاہے ان کی اقوام اور زمانے کے رسم و رواج ان کے خلاف ہوتے تھے۔ ➌ {وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام خاص طور پر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں، دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے، اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
(یہ اللہ کی سنت ہے اُن لوگوں کے لیے) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو اللہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرے، اور اللہ بس ہے حساب لینے والا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (پیغمبر(ص)) ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے پیغامات (اس کے بندوں تک) پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کیلئے اللہ ہی کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔ قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7-الأعراف:158] ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ «سَلَامٌ عَلَیْهِ» ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصب تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔ پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتداء سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔
مسند احمد میں ہے { تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے! فرمایا: { خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ ”تو کیوں خاموش رہا؟“ یہ کہے گا کہ ”لوگوں کے ڈر سے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008، قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ ’ کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ کہا جائے ‘۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زید کے والد نہیں ‘۔ یہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے، ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک بچہ ہوا جس کا نام ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان میں سے تین تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد ہوا۔ پھر فرماتا ہے ’ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ’ اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے ‘۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں؟ کوئی نبی، رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ متواتر احادیث سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کر لی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3613، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ بات گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لیکن خوش خبریاں دینے والے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا: { مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزأ میں سے ایک جز ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2272، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں۔ محل کی مثال والی حدیث ابوداؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ { میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیاء علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3534] اسے بخاری، مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔ مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ { میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کر دی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2286]
مسند میں ہے { { میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے }۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اچھے خواب } یا فرمایا: { نیک خواب } }۔ ۱؎ [مسند احمد:454/5:صحیح] عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ { لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی؟ پس میں وہ اینٹ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3535] صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا گیا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:523] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ { میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کر دی }۔ مسند میں ہے { میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح] اور حدیث میں ہے { میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہو گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532] عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا: { میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہو جاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/2:ضعیف]
اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے اپنے رحم و کرم سے ایسے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔ رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کر دینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بے رنگ یاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دھوکہ اور مکاری ہے۔ یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہو گئ۔ یہی حال ہو گا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔ جیسے فرمان باری ہے۔ «هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:222-221] الخ، یعنی ’ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس ‘۔ سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔
39۔ 1 اس لئے کسی کا ڈر یا خوف انھیں صرف اللہ کا پیغام پہنچانے میں مانع بنتا نہ طعن و ملامت کی انھیں کوئی پرواہ ہوتی تھی۔ 39۔ 2 یعنی ہر جگہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے موجود ہے، اس لئے وہ اپنے بندوں کی مدد کے لئے کافی ہے اور اللہ کے دین کی تبلیغ و دعوت میں انھیں جو مشکلات آتیں ان میں وہ چارہ سازی فرماتا اور دشمنوں کے مذموم ارادوں اور سازشوں سے انھیں بچاتا ہے۔
(آیت 39) ➊ {الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ …:} پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ کا یہی طریقہ ان لوگوں میں رہا ہے جو اس سے پہلے تھے۔ اب ان کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کا پیغام پہنچانے میں اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرح اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچانے اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرنے کی تلقین ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ }» [ الأنعام: ۹۰ ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“ ➋ { وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا: ” حَسِيْبًا “} کا معنی حساب لینے والا بھی ہے اور کفایت کرنے والا بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ حَسْبِيَ اللّٰهُ }» [التوبۃ: ۱۲۹ ] ”مجھے اللہ ہی کافی ہے۔“ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس اکیلے سے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر چھوٹے بڑے عمل پر محاسبہ کرنے والا ہے اور اس محاسبے کے لیے وہ اکیلا ہی کافی ہے، اسے کسی معاون کی ضرورت نہیں۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس کے بندے جب اس کا پیغام پہنچاتے ہیں تو دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلے میں کفایت اور مدد کرنے کے لیے انھیں اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے۔ ➌ ان آیات میں تقیہ کا رد ہے، اس لیے کہ اللہ کے پیغمبر اس کا پیغام صراحت کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں، اس میں کسی کے خوف کو خاطر میں نہیں لاتے، نہ کسی سے ڈر کر اسے چھپاتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب کے سردار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام مشرق و مغرب میں تمام بنی آدم تک پہنچایا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دیا۔ پھر آپ کے صحابہ یہ پیغام پہنچانے میں آپ کے بہترین وارث بنے، انھوں نے اپنی زبان، اپنے ہاتھ اور اپنی تلوار کے ساتھ آپ کا دین کل عالم تک پہنچا دیا۔ آپ کے رات دن، سفرو حضر، گھر اور باہر کے تمام اقوال و افعال اور احوال امت تک پہنچا دیے۔ اس کے بعد ہر زمانے کے لوگ یہ پیغام آگے پہنچاتے رہے، اگر ان میں سے کوئی خوف کے مارے تقیہ اختیار کرتا تو اللہ کا دین ہم تک کیسے پہنچتا اور اس کے قیامت تک باقی رہنے کی کیا صورت ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں بھی ان میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
محمد (صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں البتہ وہ اللہ کے رسول(ص) اور خاتم النبیین(ص) (سلسلۂ انبیاء کے ختم کرنے والے اور مہرِ اختتام) ہیں اور خدا ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں اور لیکن وہ اللہ کا رسول اور تمام نبیوں کا ختم کرنے والا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔ قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7-الأعراف:158] ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ «سَلَامٌ عَلَیْهِ» ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصب تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔ پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتداء سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔
مسند احمد میں ہے { تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے! فرمایا: { خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ ”تو کیوں خاموش رہا؟“ یہ کہے گا کہ ”لوگوں کے ڈر سے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008، قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ ’ کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ کہا جائے ‘۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زید کے والد نہیں ‘۔ یہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے، ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک بچہ ہوا جس کا نام ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان میں سے تین تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد ہوا۔ پھر فرماتا ہے ’ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ’ اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے ‘۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں؟ کوئی نبی، رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ متواتر احادیث سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کر لی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3613، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ بات گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لیکن خوش خبریاں دینے والے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا: { مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزأ میں سے ایک جز ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2272، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں۔ محل کی مثال والی حدیث ابوداؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ { میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیاء علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3534] اسے بخاری، مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔ مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ { میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کر دی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2286]
مسند میں ہے { { میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے }۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اچھے خواب } یا فرمایا: { نیک خواب } }۔ ۱؎ [مسند احمد:454/5:صحیح] عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ { لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی؟ پس میں وہ اینٹ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3535] صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا گیا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:523] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ { میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کر دی }۔ مسند میں ہے { میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح] اور حدیث میں ہے { میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہو گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532] عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا: { میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہو جاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/2:ضعیف]
اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے اپنے رحم و کرم سے ایسے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔ رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کر دینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بے رنگ یاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دھوکہ اور مکاری ہے۔ یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہو گئ۔ یہی حال ہو گا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔ جیسے فرمان باری ہے۔ «هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:222-221] الخ، یعنی ’ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس ‘۔ سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔
(1) اس لیے وہ زید بن حارثہ ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انھیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انھیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب:5) کے نزول کے بعد انھیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن میں ہی فوت ہوگئے ان میں سے کوئی بھی عمر رجولیت کو نہیں پہنچا۔ بنابریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلبی اولاد میں سے بھی کوئی مرد نہیں بنا کہ جس کے آپ باپ ہوں (ابن کثیر) 40۔ 2 خاتم مہر کو کہتے ہیں اور مہر آخری عمل ہی کو کہا جاتا ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا خاتمہ کردیا گیا آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ نبی نہیں کذاب و دجال ہوگا احادیث میں اس مضمون کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس پر پوری امت کا اجماع و اتفاق ہے قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہوگا جو صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر آئیں گے اس لیے ان کا نزول عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔
(آیت 40) ➊ { مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ:} یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ زید کو متبنّٰی بنایا، مگر وہ آپ کے بیٹے نہیں، نہ آپ اس کے حقیقی باپ ہیں، اس لیے انھیں زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ ہی کہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا اتنی دیر زندہ نہیں رہا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچے۔ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین بیٹے قاسم، طیب اور طاہر پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہو گئے۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا سے ابراہیم پیدا ہوئے، وہ بھی دودھ پینے ہی کی عمر میں فوت ہو گئے، بیٹیاں چار پیدا ہوئیں، جو خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بطن سے تھیں، یعنی زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنھن، تین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فوت ہو گئیں اور فاطمہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صدمہ دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد فوت ہو گئیں۔ (ابن کثیر) ➋ { مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ …:} اس ایک آیت میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کر رہے تھے یا کر سکتے تھے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا، جب کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کو خود ہی حرام کہتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا ”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں“ یعنی آپ نے جس شخص (زید) کی مطلقہ سے نکاح کیا ہے وہ آپ کا بیٹا تھا ہی نہیں، تم خود جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا نہیں، تو وہ بہو کیسے بن گئی؟ دوسرا اعتراض یہ ہو سکتا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہ سہی، مگر اس کی بیوی سے نکاح زیادہ سے زیادہ جائز تھا، آخر اس کا کرنا ضروری تو نہیں تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا ”اور لیکن وہ اللہ کا رسول ہے“ یعنی رسول ہونے کی وجہ سے اس کی ذمہ داری ہے کہ جن رسوم کی وجہ سے حلال چیزوں کو تم نے حرام کر رکھا ہے، ان کے باطل ہونے کا پیغام اپنی زبان کے ساتھ ہی نہیں اپنے عمل کے ساتھ بھی پہنچائے۔ پھر مزید تاکید فرمائی کہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جو یہ پیغام پہنچائے۔ اس لیے آپ پر لازم ہے کہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کا ہر پیغام پہنچا دیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، یعنی اسے خوب معلوم ہے کہ جاہلیت کی کس رسم کو کس طرح ختم کرنا ہے۔ ➌ { وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ …:} یہ آیت صریح دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بالاولیٰ نہیں ہو سکتا، کیونکہ نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے جب کہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے متعلق بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے متواتر احادیث آئی ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کذّاب قرار دیا، ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِيْ بِالْمُشْرِكِيْنَ وَحَتّٰی يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ وَ إِنَّهُ سَيَكُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ كَذَّابُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ ] [ ترمذي، الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذّابون: ۲۲۱۹، و قال الألباني صحیح ] ”قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: [ أَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ ] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ: ۲۴۰۴ ] ”تم مجھ سے اس مرتبے پر ہو جس پر ہارون(علیہ السلام) موسیٰ(علیہ السلام) سے تھے، مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَ النُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَ لَا نَبِيَّ، قَالَ فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَی النَّاسِ، فَقَالَ لٰكِنِ الْمُبَشِّرَاتُ، فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ وَ هِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ ] [ ترمذي، الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ و بقیت المبشرات: ۲۲۷۲، و قال الألباني صحیح الإسناد ] ”رسالت اور نبوت ختم ہو گئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔“ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ نے فرمایا: ”لیکن مبشرات باقی ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مبشرات کیا ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب اور وہ نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مَثَلِيْ وَ مَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِيْ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَ أَجْمَلَهُ، إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَ يَعْجَبُوْنَ لَهُ، وَ يَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هٰذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ ] [ بخاري، المناقب، باب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم : ۳۵۳۵ ] ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی ہے جس نے ایک مکان بنایا، اسے ہر لحاظ سے خوب صورت بنایا، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور اس پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ تو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔“ یہ تمام احادیث اور دوسری بہت سی احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ رہا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تو وہ ختم نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ انھیں نبوت آپ سے پہلے مل چکی ہے۔ اب وہ آپ کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر چلیں گے۔ آج تک پوری امت کا یہی متفق علیہ عقیدہ ہے، اس لیے ختم نبوت کا منکر قطعی کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔ ➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہونے اور خاتم النّبیین رسول ہونے کے درمیان ایک اور مناسبت بھی ہے، جو صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہے اور وہ مناسبت اللہ تعالیٰ کے{” بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا “} ہونے کا نتیجہ ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے فرمایا: [ مَاتَ صَغِيْرًا، وَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَّكُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَ لٰكِنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَهُ ] [ بخاري، الأدب، باب من سمی بأسماء الأنبیاء: ۶۱۹۴ ] ”وہ چھوٹی عمر ہی میں فوت ہو گئے اور اگر فیصلہ ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہو تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ یہ بات اگرچہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، مگر یہ اپنی رائے سے کہنا مشکل ہے، کیونکہ نبی کا بیٹا نبی ہونا ضروری نہیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام کے بیٹے تھے۔
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کو یاد کرو، بہت یاد کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین دعا ٭٭
بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔ { ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:35] کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] { دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے }۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] { فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:224/2:صحیح]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔“ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» ۱؎ [30-الروم:18-17] ، ’ اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت ‘۔
پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ’ وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے ‘۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟ جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ۱؎ [2-البقرة:152-151] ، ’ جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو ‘۔ حدیث قدسی میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7405]
«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» ۱؎ [40-غافر:7-9] ، ’ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے ‘۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے { قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5999] جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-یس:58] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42،41) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ …:} ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت بعض اہلِ علم نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تمھیں زینب رضی اللہ عنھا کے نکاح جیسے معاملات میں منافقین اور اسلام کے دوسرے دشمنوں کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے ساتھ الجھنے یا انھیں برا بھلا کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کثرت سے کرو، اس سے تمھیں اطمینان عطا ہو گا، اسلام پر استقامت ملے گی اور فتنے کا دروازہ جلدی بند ہو گا۔ خصوصاً {” وَ سَبِّحُوْهُ “} کے مفہوم میں منافقین کی باتوں سے اپنے بری ہونے کا اظہار بھی شامل ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی مومن پر کسی طعن یا بہتان کا ذکر ہو تو اس سے اپنی براء ت کا اظہار کرو، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان کے متعلق فرمایا: «وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ» [ النور: ۱۶ ] ”اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔“ ➋ { ذِكْرًا كَثِيْرًا:} طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیات کی تفسیر ذکر فرمائی ہے، انھوں نے فرمایا: {”لَا يَفْرِضُ اللّٰهُ عَلٰي عِبَادِهِ فَرِيْضَةً إِلاَّ جَعَلَ لَهَا حَدًّا مَعْلُوْمًا، ثُمَّ عَذَرَ أَهْلَهَا فِيْ حَالِ عُذْرٍ، غَيْرَ الذِّكْرِ، فَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَجْعَلْ لَهُ حَدًّا يَنْتَهِيْ إِلَيْهِ وَ لَمْ يَعْذُرْ أَحَدًا فِيْ تَرْكِهِ إِلَّا مَغْلُوْبًا عَلٰي عَقْلِهِ قَالَ: «فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ» بِاللَّيْلِ وَ النَّهَارِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَالْغِنٰي وَالْفَقْرِ، وَالسَّقَمِ وَالصِّحَّةِ، وَالسِّرِ وَالْعَلاَنِيَةِ، وعَلٰي كُلِّ حَالٍ، وَ قَالَ: «وَ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا» فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِكَ صَلّٰي عَلَيْكُمْ هُوَ وَ مَلاَئِكَتُهُ قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ: «هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓىِٕكَتُهٗ» “} [ طبري: ۲۸۷۶۴ ] ”یعنی اللہ نے ہر فرض کی کوئی نہ کوئی حد مقرر فرمائی ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ بھی معاف ہے، لیکن نہ اللہ کے ذکر کی کوئی حد ہے، نہ وہ کسی عذر سے معاف ہوتا ہے۔ ہاں! عقل یا ہوش نہ رہے تو الگ بات ہے، فرمایا: ”اللہ کا ذکر کرو کھڑے، بیٹھے، لیٹے“ رات اور دن میں، خشکی اور تری میں، سفر اور حضر میں، غنا اور فقر میں، صحت اور بیماری میں، پوشیدگی اور ظاہر میں، غرض ہر حال میں اللہ کا ذکر لازم ہے اور فرمایا: ”اور اس کی تسبیح کرو پہلے پہر اور پچھلے پہر“ جب تم یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وہی ہے جو تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے۔“ اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کے متعلق کئی احادیث اسی سورت کی آیت (۳۵): «وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ» کی تفسیر میں ذکر ہو چکی ہیں۔ اس کے متعلق اہلِ علم نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے ”الو ابل الصیب“ میں ذکر کے ایک سو فوائد تفصیل سے ذکر فرمائے ہیں۔ ➌ { وَ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا:} زمخشری نے فرمایا: ”پچھلی آیت میں ذکر کثیر کا حکم تھا، اب تسبیح کا حکم دیا۔ تسبیح بھی ذکر میں شامل ہے، اس کا خاص طور پر ذکر اسی طرح فرمایا جیسے فرشتوں کے ذکر کے بعد جبریل اور میکائیل کا ذکر فرمایا، تاکہ دوسرے اذکار پر اس کی فضیلت بیان کرے، کیونکہ اس کا معنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان تمام صفات و افعال سے پاک بیان کرنا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں۔ دوسرے اذکار پر اس کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی کے تمام اوصاف مثلاً نماز، روزے وغیرہ کی کثرت وغیرہ پر اس بات کی فضیلت ہے کہ وہ شرک و بدعت کی نجاست اور ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے پاک ہے۔ پھر پہلے اور پچھلے پہر تسبیح کا خصوصاً ذکر فرمایا، مراد تمام نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا ہے، کیونکہ نماز دوسری چیزوں سے افضل ہے، یا فجر، مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے، کیونکہ ان کی ادائیگی میں زیادہ مشقت ہے۔“ (کشاف) بعض اہلِ علم نے اس سے مراد فجر اور عصر لی ہے۔ تسبیح بول کر نماز مراد لینے کے لیے دیکھیے سورۂ طہ (۱۳۰)۔
بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔ { ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:35] کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] { دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے }۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] { فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:224/2:صحیح]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔“ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» ۱؎ [30-الروم:18-17] ، ’ اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت ‘۔
پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ’ وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے ‘۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟ جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ۱؎ [2-البقرة:152-151] ، ’ جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو ‘۔ حدیث قدسی میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7405]
«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» ۱؎ [40-غافر:7-9] ، ’ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے ‘۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے { قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5999] جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-یس:58] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی (دعائے مغفرت) کرتے ہیں تاکہ تمہیں (دوزخ اور جحیم کی) تاریکیوں سے نور (جنت و نعیم) کی طرف نکال لائے اور وہ اہلِ ایمان پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جو تم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے، تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے اور وہ ایمان والوں پر ہمیشہ سے نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین دعا ٭٭
بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔ { ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:35] کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] { دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے }۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] { فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:224/2:صحیح]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔“ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» ۱؎ [30-الروم:18-17] ، ’ اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت ‘۔
پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ’ وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے ‘۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟ جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ۱؎ [2-البقرة:152-151] ، ’ جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو ‘۔ حدیث قدسی میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7405]
«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» ۱؎ [40-غافر:7-9] ، ’ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے ‘۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے { قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5999] جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-یس:58] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43) ➊ {هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓىِٕكَتُهٗ …:} صلاۃ کا معنی رحمت بھی ہے، ذکر خیر بھی اور دعا بھی۔ صحیح بخاری میں ابو العالیہ سے نقل ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی صلاۃ کا مطلب اس کا فرشتوں کے پاس تعریف کرنا ہے اور فرشتوں کی صلاۃ کا مطلب دعا کرنا ہے۔“ قاموس میں ہے: {” اَلصَّلَاةُ الدُّعَاءُ وَالرَّحْمَةُ وَالْإِسْتِغْفَارُ وَ حَسَنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللّٰهِ عزَّ وَجَلَّ عَلٰي رَسُوْلِهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عِبَادَةٌ فِيْهَا رُكُوْعٌ وَ سُجُوْدٌ، اسْمٌ يُوْضَعُ مَوْضِعَ الْمَصْدَرِ “} ”صلاۃ سے مراد دعا، رحمت، استغفار، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور رکوع و سجود والی عبادت ہے۔ یہ اسم ہے جو مصدر کے قائم مقام ہے۔“ ➋ فرشتوں کی صلاۃ سے مراد مسلمانوں کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّيْ عَلٰی أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِيْ مُصَلاَّهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِيْ صَلاَةٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلٰی أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلَاةُ ] [ بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ…: ۶۵۹ ] ”یقینا فرشتے تم میں سے ہر اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو اپنی نماز کی جگہ میں رہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ جب تک نماز نے اسے گھر جانے سے روک رکھا ہو، نماز کے سوا اسے کوئی چیز مانع نہ ہو۔“ سورۂ مومن کی آیات (۷ تا ۹) میں بھی فرشتوں کی اس دعا کا ذکر ہے جو وہ مومنوں کے لیے کرتے ہیں۔ ➌ اس آیت کا پچھلی آیت سے تعلق دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ پچھلی آیت میں اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم دیا، اس آیت میں اس کا نتیجہ بیان فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو گے تو وہ فرشتوں کے سامنے تمھارا ذکر خیر کرے گا، لوگوں میں تمھاری اچھی شہرت فرمائے گا، تم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمھارے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں گے۔ اس رحمت و مغفرت کے ذریعے سے دنیا میں وہ تمھیں جہالت اور نافرمانی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم و عمل کی روشنی میں لے آئے گا۔ اور قیامت کے دن عطا ہونے والی نعمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَ أَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِيْ، فَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِيْ نَفْسِيْ، وَ إِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِيْ مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَ إِنْ أَتَانِيْ يَمْشِيْ أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «و یحذرکم اللہ نفسہ …» : ۷۴۰۵ ] ”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے، سو اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دونوں ہاتھ پھیلانے کے برابر اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“ دوسری طرح اس کا پہلی آیات سے تعلق یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کا حکم دینے کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تمھارے کسی استحقاق کے بغیر محض اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمھارے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں، تاکہ وہ تمھیں دنیا میں اندھیروں سے روشنی میں لائے اور آخرت میں اجر کریم عطا کرے۔ سو تم پر لازم ہے کہ ایسے مہربان رب کا ذکر کثیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا: «كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (151) فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ» [ البقرۃ: ۱۵۱، ۱۵۲ ] ”جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول تمھی سے بھیجا ہے، جو تم پر ہماری آیات پڑھتا اور تمھیں پاک کرتا اور تمھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمھیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔“ یعنی ہمارے رسول بھیجنے کی نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو اور میرا شکر کرو۔ ➍ {وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا:} یعنی ان تمام مہربانیوں کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ایمان والوں پر بے حد رحم کرنے والا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم {” كَانَ “} کا لفظ ادا کر رہا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت دوسری نعمتوں کے ساتھ انھیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانا ہے اور آخر ت میں اس کی رحمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہو گا اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن وہ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو ان کو سلام سے دعا دی جائے گی (کہ تم سلامت رہو) اور اس نے ان کیلئے باعزت اجر (بہشت) تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کی دعا، جس دن وہ اس سے ملیں گے، سلام ہو گی اور اس نے ان کے لیے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین دعا ٭٭
بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔ { ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:35] کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] { دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے }۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] { فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:224/2:صحیح]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔“ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» ۱؎ [30-الروم:18-17] ، ’ اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت ‘۔
پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ’ وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے ‘۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟ جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ۱؎ [2-البقرة:152-151] ، ’ جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو ‘۔ حدیث قدسی میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7405]
«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» ۱؎ [40-غافر:7-9] ، ’ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے ‘۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے { قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5999] جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-یس:58] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔
44۔ 1 یعنی جنت میں فرشتے اہل ایمان کو یا مومن آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔
(آیت 44) ➊ {تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ:} یعنی جس دن اللہ تعالیٰ سے ان کی ملاقات ہو گی اللہ تعالیٰ انھیں سلام کہے گا، جیسا کہ فرمایا: «سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ» [ یٰسٓ: ۵۸ ] ”سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔“ فرشتے انھیں سلام کہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ (23) سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ» [ الرعد: ۲۳، ۲۴ ] ”اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔ سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔“ اور ایک دوسرے کے لیے ان کی دعا بھی سلام ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ یونس: ۱۰ ] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ بلکہ جنت میں ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بھی یہ مبارک کلمہ ہی ہو گا، فرمایا: «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا (25) اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا» [ الواقعۃ: ۲۵، ۲۶ ] ”وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔ مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔“ ➋ { وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا:} یعنی جنت کی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال تک آیا۔ مزید دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷)۔
اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے واﻻ، خوشخبریاں سنانے واﻻ، آگاه کرنے واﻻ بھیجا ہے
احمد رضا خان بریلوی
(اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! ہم نے آپ کو (لوگوں کا) گواہ بنا کر اور (نیکوکاروں کو) خوشخبری دینے والا اور (بدکاروں کو) ڈرانے والا
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭
عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ’ اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838]
ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ’ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا ‘۔
’ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں ‘۔ ابن ابی خاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھ پر یہ اترا ہے کہ ’ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے ‘ } }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] ’ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ‘۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔ ’ اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے ‘۔
45۔ 1 بعض لوگ شاہد کے معنی حاضر و ناظر کے کرتے ہیں جو قرآن کے اصل لفظ سے معنوی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی گواہی دیں گے، ان سے بھی جو آپ پر ایمان لائے اور ان کی بھی جنہوں نے تکذیب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کے اعضائے وضو سے پہچان لیں گے جو چمکتے ہونگے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ گواہی اللہ کے دیئے ہوئے یقینی علم کی بنیاد پر ہوگی۔ اس لئے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ہیں، یہ عقیدہ تو احکام قرآنی کے خلاف ہے۔
(آیت 45) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ صفات بیان فرمائیں، جن سے وہ عظیم الشان مراتب معلوم ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فائز فرمایا اور ان ذمہ داریوں پر روشنی پڑتی ہے جو رسول کی حیثیت سے آپ پر عائد ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو اتنے عالی مراتب عطا فرمائے ہیں کہ آپ کے مخالفین جتنے بہتان باندھ لیں اور جتنی زبان درازی کر لیں، آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس لیے آپ اپنا فرضِ منصبی ادا کرتے رہیں اور ان کی باتوں کی پروا مت کریں۔ ان میں سب سے پہلی صفت {” شَاهِدًا “} ہے۔ یہ شہادت دو طرح سے ہے، ایک دنیا میں اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور سچا دین صرف اسلام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (18) اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ }» [ آل عمران: ۱۸، ۱۹ ] ”اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری دنیا کے سامنے اپنے قول اور عمل کے ساتھ اس بات کی شہادت دی۔ دوسری آخرت کو شہادت، یعنی قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے تمام پیغام امت کو پہنچا دیے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا}» [ النساء: ۴۱ ] ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔“ اور فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا }» [ البقرۃ: ۱۴۳ ] ”اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔“ ➋ بعض حضرات نے {” شَاهِدًا “} کے لفظ کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے تمام اعمال دیکھ رہے ہیں اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔ ورنہ دیکھے بغیر شہادت کیسے دے سکتے ہیں؟ مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا کام بندوں کے اعمال پر شہادت دینا نہیں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں، بلکہ ان کا کام اس بات کی گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچا دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا: «{ يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ }» [ المائدۃ: ۱۰۹ ] ”جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر کہے گا تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بے شک تو ہی چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔“ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا؟ تو وہ عرض کریں گے: «{ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ }» [ المائدۃ: ۱۱۷ ] ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“ یہ آیات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ انبیاء لوگوں کے اعمال پر گواہ نہیں ہوں گے، پھر وہ کس چیز کے گواہ ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ نے خود اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا }» [ البقرۃ: ۱۴۳ ] ”اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے اور آپ کی امت لوگوں پر شہادت دے گی۔ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو شہادت دینے کے لیے پوری امت کا حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے اور اگر امت کے لوگ صرف اس شہادت کے لیے بلائے جائیں گے کہ خالق کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچ گیا تو یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی بات کی شہادت دیں گے۔ مزید دلائل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳)اور سورۂ مائدہ (۱۱۷) کی تفسیر۔ ➌ { وَ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا:} یہ دوسری اور تیسری صفت ہے، یعنی آپ ایمان والوں کو یہ بشارت دینے والے ہیں کہ عنقریب ان سے مصائب کے بادل چھٹ جانے والے ہیں اور جلد ہی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی فتح و نصرت سے سرفراز فرمائے گا اور مرنے کے بعد انھیں جنت کی ابدی نعمتیں اور اللہ کا دیدار میسر ہونے والا ہے۔ اسی طرح آپ حق کا انکار کرنے والوں کو دنیا میں ان کے برے انجام اور ذلت و خواری سے ڈرانے والے ہیں اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی۔
اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے واﻻ اور روشن چراغ
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا او ر چمکادینے دینے والا ا ٓ فتاب
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور (رشد و ہدایت کا) روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے اور روشنی کرنے والا چراغ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭
عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ’ اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838]
ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ’ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا ‘۔
’ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں ‘۔ ابن ابی خاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھ پر یہ اترا ہے کہ ’ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے ‘ } }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] ’ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ‘۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔ ’ اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے ‘۔
46۔ 1 جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوجائیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کر کے جو کمال وسعادت حاصل کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن رہے۔
(آیت 46) ➊ { وَ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ:} یعنی آپ اللہ کی توحید اور اس کے احکام کی اطاعت کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والے ہیں اور یہ دعوت اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ اب جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کو مامور کرنے والے کی مخالفت کرتا ہے۔ ➋ { وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا:} قرآن مجید میں دو جگہ سورج کو ”سراج“ کہا گیا ہے، جیسا کہ آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا: «{ وَ جَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا }» [ نوح: ۱۶ ] ”اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنا دیا۔“ اور دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا}» [ النبا: ۱۳ ] ”اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا۔“ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”سراج منیر“ فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکال کر ایمان کے نور کی طرف لانے کا ذریعہ بنایا، جس طرح سورج کو رات کی تاریکی ختم کر کے روشنی کا ذریعہ بنایا۔ سراجِ منیر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ رات کی تاریکی میں چاند کے نور کے باوجود روشنی کے لیے آگ یا مشعلیں جلانے کی ضرورت باقی رہتی ہے، مگر جب آفتاب عالم تاب طلوع ہوتا ہے تو کسی چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد نہ کسی نبی کی پیروی باقی رہی، نہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے کسی امام، بزرگ یا پیر کی تقلید کی گنجائش ہے۔
بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو (تم پر) ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے کہ اللہ کی طرف سے ان کیلئے بڑا فضل و کرم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایمان والوں کو خوش خبری دے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭
عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ’ اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838]
ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ’ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا ‘۔
’ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں ‘۔ ابن ابی خاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھ پر یہ اترا ہے کہ ’ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے ‘ } }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] ’ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ‘۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔ ’ اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 47) {وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِيْرًا: ” فَضْلًا “} کا معنی زائد ہونا، یعنی برتری ہے، جیسا کہ فرمایا: «مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ» [ المؤمنون: ۲۴ ] ”یہ نہیں ہے مگر تمھارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔“ یعنی اے نبی! مومنوں کو بشارت دے دے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی برتری عطا ہونے والی ہے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو عطا ہونے والے فضل اور برتری کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ شوریٰ میں فرمایا: «تَرَى الظّٰلِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [ الشورٰی: ۲۲ ] ”تو ظالموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو انھوں نے کمایا، حالانکہ وہ ان پر آکر رہنے والا ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔“ اور دوسری امتوں کے اہلِ ایمان کے مقابلے میں اس امت کی برتری کا ذکر سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳) اور آل عمران کی آیت (۱۱۰) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ علاوہ ازیں ہماری امت کی دوسری امتوں پر برتری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں وہ پیغمبر مبعوث فرمایا جو سید ولد آدم ہے اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو دوسری امتوں پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيْمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلٰي غُرُوْبِ الشَّمْسِ، أُوْتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوْا حَتّٰی إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوْا، فَأُعْطُوْا قِيْرَاطًا قِيْرَاطًا، ثُمَّ أُوْتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيْلِ الْإِنْجِيْلَ فَعَمِلُوْا إِلٰی صَلاَةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوْا، فَأُعْطُوْا قِيْرَاطًا قِيْرَاطًا، ثُمَّ أُوْتِيْنَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ، فَأُعْطِيْنَا قِيْرَاطَيْنِ قِيْرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ أَيْ رَبَّنَا! أَعْطَيْتَ هٰؤُلاَءِ قِيْرَاطَيْنِ قِيْرَاطَيْنِ، وَأَعْطَيْتَنَا قِيْرَاطًا قِيْرَاطًا، وَ نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلاً؟ قَالَ قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالُوْا لَا، قَالَ فَهُوَ فَضْلِيْ أُوْتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ] [بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب من أدرک رکعۃ من العصر قبل الغروب: ۵۵۷ ] ”تم سے پہلی قوموں کے مقابلے میں تمھارا عرصہ اتنا ہے جتنا عصر سے غروبِ آفتاب تک۔ اہل تورات کو تورات دی گئی، انھوں نے کام کیا، جب دوپہر ہوئی تو وہ تھک کر رہ گئے تو انھیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی، انھوں نے عصر کی نماز تک کام کیا، پھر تھک کر رہ گئے، انھیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر ہمیں قرآن دیا گیا تو ہم نے سورج غروب ہونے تک کام کیا تو ہمیں دو دو قیراط دیے گئے، تو دونوں کتابوں والے کہنے لگے: ”اے ہمارے رب! تو نے انھیں دو دو قیراط دیے اور ہمیں ایک ایک قیراط دیا، حالانکہ ہم نے زیادہ کام کیا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”کیا میں نے تمھاری مزدوری میں کچھ کمی کی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ فرمایا: ”پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔“
اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (خبردار) کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے گا اور ان کی اذیت رسانی کو چھوڑ دیجئے (اس کی پرواہ نہ کریں) اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کارسازی کیلئے اللہ کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان اور ان کی ایذا رسانی کی پروانہ کر اور اللہ پر بھروسا کر اور وکیل کی حیثیت سے اللہ کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭
عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ’ اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838]
ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ’ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا ‘۔
’ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں ‘۔ ابن ابی خاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھ پر یہ اترا ہے کہ ’ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے ‘ } }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] ’ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ‘۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔ ’ اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48) ➊ {وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ:} یعنی کفار و منافقین جو آپ کو مداہنت کے لیے کہتے ہیں، لوگوں کے کفر و شرک پر خاموش رہنے کے لیے اصرار کرتے ہیں اور جاہلیت کی رسوم توڑنے سے روکتے ہیں، ان کا کہنا مت مان، بلکہ دعوت حق پر استقامت اختیار کر۔ اس سورت کے شروع میں یہی حکم دیا تھا، یعنی: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ» اب تاکید کے لیے اسے دوبارہ ذکر فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ قلم (۸ تا ۱۵) اور شوریٰ (۱۵)۔ ➋ { وَ دَعْ اَذٰىهُمْ:} یعنی دعوت دین کی وجہ سے وہ آپ کو جو تکلیف پہنچاتے ہیں اس کی پروا مت کریں، جیسا کہ فرمایا: «لَتُبْلَوُنَّ فِيْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِيْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ» [ آل عمران: ۱۸۶ ] ”یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“ ➌ { وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ …:} یعنی آپ اپنے سب کام اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ جو کام اللہ کے سپرد کر دیا جائے وہ اس کے لیے کافی ہے۔
اَے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو، پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دو اور بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو تو انہیں کچھ فائدہ دو اور اچھی طرح سے چھوڑ دو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے (مباشرت کرنے) سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو (اور جس کے دنوں کو گنو) لہٰذا انہیں کچھ مال دے کر اور خوبصورتی سے رخصت کر دو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انھیں طلاق دے دو، اس سے پہلے کہ انھیں ہاتھ لگائو تو تمھارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں ، جسے تم شمار کرو، سو انھیں سامان دو اور انھیں چھوڑ دو، اچھے طریقے سے چھوڑنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نکاح کی حقیقت ٭٭
اس آیت میں بہت سے احکام ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عقد پر بھی نکاح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت میں اس سے زیادہ صراحت والی آیت اور نہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ لفظ نکاح حقیقت میں صرف ایجاب وقبول کے لیے ہے؟ یا صرف جماع کے لیے ہے؟ یا ان دونوں کے مجموعے کے لیے؟ قرآن کریم میں اس کا اطلاق عقد و وطی دونوں پر ہی ہوا ہے۔ لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہو گیا ہو اس آیت میں نکاح کے بعد طلاق کو فرمایا ہے۔ پس معلوم ہوا ہے کہ نکاح سے پہلے نہ طلاق صحیح ہے نہ وہ واقع ہوتی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور بہت بڑی جماعت سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ مالک اور ابو حنفیہ رحمہ اللہ علیہم کا خیال ہے کہ نکاح سے پہلے بھی طلاق درست ہو جاتی ہے۔ مثلاً کسی نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو اب جب بھی اس سے نکاح کرے گا طلاق پڑ جائے گی۔ پھر مالک اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم میں اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو کہے کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں پس وہ جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑ جائے گی اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ نہیں پڑے گی کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ”اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ کہا ہو کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا ”اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے طلاق کو نکاح کے بعد فرمایا ہے۔“ پس نکاح سے پہلے کی طلاق کوئی چیز نہیں۔ مسند احمد ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ابن آدم جس کا مالک نہ ہو اس میں طلاق نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2190،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے { جو طلاق نکاح سے پہلے کی ہو وہ کسی شمار میں نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2048،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جب تم عورتوں کو نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر کوئی عدت نہیں بلکہ وہ جس سے چاہیں اسی وقت نکاح کر سکتی ہیں ‘۔ ہاں اگر ایسی حالت میں ان کا خاوند فوت ہو گیا ہو تو یہ حکم نہیں اسے چار ماہ دس دن کی عدت گزارنی پڑے گی۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ پس نکاح کے بعد ہی میاں نے بیوی کو اس سے پہلے ہی اگر طلاق دے دی ہے تو اگر مہر مقرر ہو چکا ہے تو اس کا آدھا دینا پڑے گا۔ ورنہ تھوڑا بہت دے دینا کافی ہے۔ اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:237] یعنی ’ اگر مہر مقرر ہو چکا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو آدھے مہر کی وہ مستحق ہے ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے «لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ مَتَاعًا بالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:236] ، یعنی ’ اگر تم اپنی بیویوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو یہ کچھ گناہ کی بات نہیں۔ اگر ان کا مہر مقرر نہ ہوا ہو تو تم انہیں کچھ نہ کچھ دے دو ‘۔ اپنی اپنی طاقت کے مطابق، امیر و غریب دستور کے مطابق ان سے سلوک کریں اور بھلے لوگوں پر یہ ضروری ہے۔ چنانچہ ایسا ایک واقعہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گزرا کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شرجیل سے نکاح کیا یہ رخصت ہو کر آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے اسے پسند نہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کر دیں اور دو کپڑے ارزقیہ کے انہیں دے دیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5256] پس «سَرَاحًا جَمِيلًا» یعنی اچھائی سے رخصت کر دینا یہی ہے کہ اس صورت میں اگر مہر مقرر ہے تو آدھا دیدے۔ اور اگر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق اس کے ساتھ کچھ سلوک کر دے۔
49۔ 1 نکاح کے بعد جن عورتوں سے ہم بستری کی جاچکی ہو وہ بھی جوان ہوں، ایسی عورتوں کو طلاق مل جائے تو ان کی عدت تین حیض ہے اور جن سے نکاح ہوا ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان ہم بستری نہیں ہوئی۔ ان کو اگر طلاق ہوجائے تو عدت نہیں ہے یعنی ایسی غیر مدخولہ مطلقہ بغیر عدت گزارے فوری طور پر کہیں نکاح کرنا چاہے، تو کرسکتی ہے، البتہ ہم بستری سے قبل خاوند فوت ہوجائے تو پھر اسے 4 ماہ اور دس دن کی عدت گزارنا پڑے گی (فتح القدیر، ابن کثیر) چھونا یا ہاتھ لگانا، یہ کنایہ ہے۔ جماع (ہم بستری) سے نکاح لفظ خاص جماع اور عقد زواج دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عقد کے معنی میں ہے۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں۔ اس لئے کہ یہاں نکاح کے بعد طلاق کا ذکر ہے۔ اس لئے جو فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں عورت سے میں نے نکاح کیا تو اسے طلاق، تو ان کے نزدیک اس عورت سے نکاح ہوتے ہی طلاق ہوجائے گی۔ اسی طرح بعض جو کہتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہے کہ میں کسی بھی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق، تو جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، طلاق واقع ہوجائے گی۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ حدیث میں وضاحت ہے (لاطلاق قبل النکاح) اس سے واضح ہے ' کہ نکاح سے قبل طلاق، ایک فعل عبث ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے 49۔ 2 یہ متعہ، اگر مہر مقرر کیا گیا ہو تو نصف مہر ورنہ حسب توفیق کچھ دے دیا جائے۔ 49۔ 3 یعنی انھیں عزت و احترام سے بغیر کوئی ایذاء پہنچائے علیحدہ کردیا جائے۔
(آیت 49) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ …:} سورت کے شروع سے متبنّٰی بنانے کی رسم توڑنے کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنٰی زید رضی اللہ عنہ کے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کے ساتھ نکاح کا ذکر آ رہا تھا۔ اس پر منافقین کی باتوں کا تذکرہ بھی ہوا اور ان کی پروا نہ کرنے کا بھی، پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب، آپ کی رفعتِ شان اور آپ کی ذمہ داریاں نہایت جامع انداز میں بیان فرمائیں۔ اب دوبارہ نکاح و طلاق کے کچھ مسائل کا ذکر ہوتا ہے، جن میں سے اکثر کا سابقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آیا۔ ➋ { ” مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ “} میں ہاتھ لگانے سے مراد جماع ہے اور یہ قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ہے کہ وہ اس کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کا لفظ استعمال کرتا ہے، مثلاً ”مساس“ یا ”ملامسہ“ وغیرہ۔ اس میں ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ یہ مفہوم ادا کرنے کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ ➌ کسی مسلمان عورت کو اگر خاوند عقد نکاح کے بعد صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو عورت پر کوئی عدت نہیں، جس میں خاوند رجوع کر سکتا ہو، بلکہ اگر وہ عورت چاہے تو اسی وقت دوسرا نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ صحبت ہوئی ہی نہیں کہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کی ضرورت ہو کہ حمل تو نہیں ٹھہرا۔ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بعض اہلِ علم نے خلوت صحیحہ کو بھی بمنزلہ صحبت کے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مہر اور عدت لازم ہو گی، مگر یہ مسئلہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے۔“ (اشرف الحواشی) آیت میں اگرچہ مومن عورتوں کا ذکر ہے، مگر اس بات پر اجماع ہے کہ یہودی یا عیسائی عورت کا بھی یہی حکم ہے۔ مومن عورتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جب مومن عورت پر عدت نہیں، جسے مومن مرد کے نکاح میں رکھنے اور اسے رجوع کا موقع دینے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے، تو کتابیہ عورت پر تو بالاولیٰ عدت نہیں۔ (بقاعی) ➍ یہ حکم ان عورتوں کا ہے جنھیں دخول سے پہلے طلاق دی جائے، اگر نکاح کے بعد دخول سے پہلے خاوند فوت ہو جائے تو عورت پر عدت بھی ہو گی اور وہ خاوند کی وارث بھی ہو گی۔ معقل بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنھا کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا تھا۔ [ أبوداوٗد، النکاح، باب فیمن تزوج و لم یسم لھا صداقًا حتی مات: ۲۱۱۴، و قال الألباني صحیح ] ➎ { فَمَتِّعُوْهُنَّ:} جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو نکاح کے وقت اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو گا یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں کیا گیا تو اسے مہر نہیں ملے گا اور اگر مقرر کیا گیا ہے تو نصف مہر دیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ سامان مثلاً کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دینا ضروری ہے، اسے ”متعہ طلاق“ کہا جاتا ہے۔ مقصد اس کا طلاق سے ہونے والی دل شکنی کا کچھ نہ کچھ مداوا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیات (۲۳۶، ۲۳۷) میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کی مقدار کا اندازہ ہوتا ہے۔ چنانچہ سہل بن سعد اور ابو اسید رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جیسے اس نے نا پسند کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو اسید سے کہا کہ وہ اس کا سامان تیار کریں اور اسے دو رازقیہ (کتان سے بنے ہوئے سفید لمبے) کپڑے بھی دے دیں۔“ [ بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأ تہ بالطلاق؟: ۵۲۵۶، ۵۲۵۷ ] ➏ { ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ …:} لفظ {” ثُمَّ “} سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ طلاق وہ معتبر ہے جو نکاح کے بعد دی جائے، نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق ہے، تو طلاق نہیں ہو گی، کیونکہ یہ نکاح کے بعد نہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے (اس آیت کے حوالے سے) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے۔“ اور علی، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمان، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبدالرحمان، عمرو بن ہرم اور شعبی رحمۃ اللہ علیھم سے مروی ہے کہ ایسی عورت کو طلاق نہیں ہو گی۔ [ بخاري، الطلاق، باب لا طلاق قبل النکاح، بعد الحدیث: ۵۲۶۸ ] دوسرا مسئلہ یہ کہ نکاح کے بعد اگر دخول نہیں ہوا تو خواہ کتنی مدت کے بعد طلاق ہوئی ہو، عدت نہیں ہے۔ ➐ { وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا:} اچھے طریقے سے چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر اچھے طریقے سے اسے طلاق دے کر رخصت کر دے۔ لوگوں کے سامنے اس کے عیوب یا شکایات کے دفتر نہ کھولے کہ کوئی اور بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے اس حکم سے ظاہر ہے کہ طلاق کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے مرد نہ بھی چاہے تو اسے کوئی نہ کوئی شکوہ یا عیب بیان کرنا پڑے گا، جس سے عورت کی رسوائی ہو گی، جو اسے اچھے طریقے سے چھوڑنے کے خلاف ہے۔
اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں یہ خصوصیت تمہاری اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! ہم نے آپ کیلئے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر آپ نے ادا کر دیئے ہیں اور وہ مملوکہ کنیزیں جو اللہ نے بطورِ غنیمت آپ کو عطا کی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے (یہ سب بھی حلال ہیں) اور اس مؤمن عورت کو بھی (حلال کیا ہے) اگر وہ اپنا نفس نبی(ص) کو ھبہ کر دے بشرطیکہ نبی(ص) بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں یہ (اجازت) صرف آپ کیلئے ہے دوسرے مؤمنوں کیلئے نہیں ہے ہم جانتے ہیں جو (احکام) ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور مملوکہ کنیزوں کے بارے میں مقرر کئے ہیں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں جن کا تو نے مہر دیا ہے اور وہ عورتیں جن کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنا ہے، اس (غنیمت) میں سے جو اللہ تجھ پر لوٹا کر لایا ہے اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں، جنھوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مومن عورت اگر وہ اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، اگر نبی چاہے کہ اسے نکاح میں لے لے۔ یہ خاص تیرے لیے ہے، مومنوں کے لیے نہیں۔ بے شک ہم نے جان لیا جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان عورتوں کے بارے میں فرض کیا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المؤمنین حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا مہر نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ رضی اللہ عنہا بھی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا، اور ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو ادا کر کے ان سے عقد باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔ اسی طرح جو لونڈیاں غنیمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئیں وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اور جویریہ رضی اللہ عنہا کے مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ ریحانہ بنت شمعون نصریہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آئی تھیں۔ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرزند بھی ہوا۔ جن کا نام ابراہیم رضی اللہ عنہ تھا۔ چونکہ نکاح کے بارے میں نصرانیوں نے افراط اور یہودیوں نے تفریط سے کام لیا تھا اس لیے اس عدل و انصاف والی سہل اور صاف شریعت نے درمیانہ راہ حق کو ظاہر کر دیا۔ نصرانی تو سات پشتوں تک جس عورت مرد کا نسب نہ ملتا ہو، ان کا نکاح جائز جانتے تھے اور یہودی بہن اور بھائی کی لڑکی سے بھی نکاح کر لیتے تھے۔ پس اسلام نے بھانجی بھتیجی سے نکاح کرنے کو روکا۔ اور چچا کی لڑکی پھوپھی کی لڑکی ماموں کی لڑکی اور خالہ کی لڑکی سے نکاح کو مباح قرار دیا۔ اس آیت کے الفاظ کی خوبی پر نظر ڈالئے کہ عم اور خال چچا اور ماموں کے لفظ کو تو واحد لائے اور عمات اور خلات یعنی پھوپھی اور خالہ کے لفظ کو جمع لائے۔ جس میں مردوں کی ایک قسم کی فضیلت عورتوں پر ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ» ۱؎ [2-البقرة:257] اور جیسے «وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] یہاں بھی چونکہ ظلمات اور نور یعنی اندھیرے اور اجالے کا ذکر تھا اور اجالے کو اندھیرے پر فضیلت ہے اس لیے وہ لفظ ظلمات جمع لائے، اور لفظ نور مفرد لائے، اس کی اور بھی بہت سی نظیریں دی جا سکتی ہیں۔
پھر فرمایا ’ جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے ‘۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا آیا تو میں نے اپنی معذوری ظاہر کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کر لیا، اور یہ آیت اتری میں ہجرت کرنے والیوں میں نہ تھی بلکہ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والیوں میں تھی۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3214، قال الشيخ الألباني:ضعیف] مفسرین نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد ہے کہ جنہوں نے مدینے کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ قتادہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں اس سے مراد اسلام لانا بھی مروی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَاللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ» ہے۔ پھر فرمایا ’ اور وہ مومنہ عورت جو اپنا نفس اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں، تو بغیر مہر دیے اسے نکاح میں لا سکتے ہیں ‘۔ پس یہ حکم دو شرطوں کے ساتھ ہے جیسے آیت «وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [11-ھود:34] میں۔ یعنی ’ نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں اور اگر اللہ تمہیں اس نصیحت سے مفید کرنا نہ چاہے تو میری نصیحت تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتی ‘۔
اور جیسے موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان میں «يَا قَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ» ۱؎ [10-یونس:84] یعنی ’ اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو، اور اگر تم مسلمان ہو گئے ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے ‘۔ پس جیسے ان آیتوں میں دو دو شرائط ہیں اسی طرح اس آیت میں بھی دو شرائط ہیں۔ ایک تو اس کا اپنا نفس ہبہ کرنا دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اسے اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کرنا۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو میرے نکاح میں دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے پاس کچھ ہے؟ جو انہیں مہر میں دیں؟ } جواب دیا کہ اس تہمد کی سوا اور کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اگر تم انہیں دے دو گے تو خود بغیر تہمد کے رہ جاؤ گے کچھ اور تلاش کرو }۔ اس نے کہا میں اور کچھ نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تلاش تو کرو گو لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے }۔ انہوں نے ہر چند دیکھ بھال کی لیکن کچھ نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قرآن کی کچھ سورتیں بھی تمہیں یاد ہیں؟ } اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس انہی سورتوں پر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2310] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ { سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب یہ واقعہ بیان کرنے لگے تو ان کی صاحبزادی بھی سن رہی تھیں۔ کہنے لگیں اس عورت میں بہت ہی کم حیاء تھی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم سے وہ بہتر تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی رغبت کر رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا نفس پیش کر رہی تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5120]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کی بہت سی تعریفیں کرکے کہنے لگیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور وہ پھر بھی تعریف کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ وہ کبھی وہ بیمار پڑیں نہ سر میں درد ہوا یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:155/3:ضعیف] ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی بیوی صاحبہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا تھیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی السنن الکبری:55/7] اور روایت میں ہے یہ قبلہ بنو سلیم میں سے تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:] اور روایت میں ہے یہ بڑی نیک بخت عورت تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:] ممکن ہے ام سلیم ہی خولہ ہوں رضی اللہ عنہا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری کوئی عورت ہوں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے چھ تو قریشی تھیں۔ خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہن اجمعین اور تین بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلے میں سے تھیں اور دو عورتیں قبیلہ بنوہلال بن عامر میں سے تھیں اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ کوہبہ کیا تھا اور زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی۔ اور ایک عورت بنو ابی بکرین کلاب سے۔ یہ وہی ہے جس نے دنیا کو اختیار کیا تھا اور بنو جون میں سے ایک عورت جس نے پناہ طلب کی تھی، اور ایک عورت اسدیہ جن کا نام زینب بنت جحش ہے رضی اللہ عنہا۔ دو کنزیں تھیں۔ صفیہ بنت حی بن اخطب اور جویریہ بنت حارث بن عمرو بن مصطلق خزاعیہ }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:270/5:مرسل و ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا تھیں لیکن اس میں انقطاع ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی، یہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا تھیں، فبیلہ انصار میں سے تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی انتقال کر گئیں۔ رضی اللہ عنہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے نفس کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں ان عورتوں پر غیرت کیا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں اور مجھے بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ عورتیں اپنا نفس ہبہ کرتی ہیں۔ جب یہ آیت اتری کہ «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:51] ، ’ تو ان میں سے جسے چاہے اس سے نہ کر اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے اور جن سے تو نے یکسوئی کر لی ہے انہیں بھی اگر تم لے آؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں ‘۔ تو میں نے کہا بس اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوب وسعت و کشادگی کردی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1464]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { کوئی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ تھی جس نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا ہو }۔ یونس بن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مباح تھا کہ جو عورت اپنے تئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے گھر میں رکھ لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ یہ امر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر رکھا گیا تھا۔ یہ بات کسی اور کے لیے جائز نہیں ہاں مہر ادا کر دے تو بیشک جائز ہے۔“ چنانچہ بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں جنہوں نے اپنا نفس سونپ دیا تھا جب ان کے شوہر انتقال کر گئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کی اور عورتوں کے مثل انہیں مہر دیا جائے۔ جس طرح موت مہر کو مقرر کر دیتی ہے اسی طرح صرف دخول سے بھی مہر واجب ہو جاتا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم سے مستثنیٰ تھے۔ ایسی عورتوں کو کچھ دینا آپ پر واجب نہ تھا گو اسے شرف بھی حاصل ہو چکا ہو۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر مہر کے اور بغیر ولی کے اور بغیر گواہوں کے نکاح کر لینے کا اختیار تھا جیسا کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصے میں ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو بغیر ولی اور بغیر مہر کے کسی کے نکاح میں دیدے۔ ہاں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تھا۔“ ’ اور مومنوں پر جو ہم نے مقرر کر دیا ہے اسے ہم خوب جانتے ہیں ‘ یعنی وہ چار سے زیادہ بیویاں ایک ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ ہاں ان کے علاوہ لونڈیاں رکھ سکتے ہیں۔ اور ان کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔ اسی طرح ولی کی مہر کی گواہوں کی بھی شرط ہے۔ پس امت کا تو یہ حکم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی پابندیاں نہیں۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حرج نہ ہو۔ اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔
50۔ 1 بعض احکام شرعیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلا اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ؓ کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ ؓ کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔ 50۔ 2 چناچہ حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کرلیا اور رحانہ اور ماریہ قبطیہ ؓ یہ بطور لونڈی آپ کے پاس رہیں۔ 50۔ 3 اس کا مطلب ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اسی طرح انہوں نے بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔ 50۔ 4 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آپ ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس اپنے نکاح میں رکھنا جائز ہے۔ 50۔ 5 یہ اجازت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے (دیگر مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حق مہر ادا کریں، تب نکاح جائز ہوگا۔ 50۔ 6 یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلا چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آجکل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔ 50۔ 7 اس کا تعلق اِ نَّا اَ حْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اجازت اس لئے ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی تنگی محسوس نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کے نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
(آیت 50) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ …:} اس آیت میں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں ممنوع قرار دیتے ہیں تو خود انھوں نے چار سے زیادہ شادیاں کیسے کر لیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اے نبی! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ تمام بیویاں حلال کی ہیں جن کا آپ نے مہر دیا ہے۔ مراد وہ بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ کے نکاح میں تھیں۔ مطلب یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے ہم ہیں اور آپ کے لیے اس شرط کو ختم کرنے والے بھی ہم ہیں۔ جن عورتوں سے آپ نے نکاح فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی، جن میں سے نو بیویاں آپ کی وفات کے وقت زندہ تھیں۔ دو بیویاں خدیجہ اور زینب بنت خزیمہ ام المساکین رضی اللہ عنھما وفات پا چکی تھیں۔ ان کے علاوہ چند عورتوں کے متعلق اختلاف ہے کہ آپ کا ان سے عقد نکاح ہوا یا نہیں، مگر اس پر اتفاق ہے کہ وہ رخصت ہوکر آپ کے گھر نہیں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت یہ نو امہات المومنین حیات تھیں: (1) عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما (2) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا (3) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنھما (4) ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنھا (5) زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا (6) جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنھا (7) ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنھما (8) صفیہ بنت حُیی رضی اللہ عنھا (9) اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا۔ ➋ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، جو پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنھما کا مہر نجاشی رحمہ اللہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ صفیہ رضی اللہ عنھا کا مہر انھیں آزاد کرنا تھا، وہ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا۔ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنھا بنو المصطلق سے گرفتار ہو کر آئی تھیں، انھوں نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے جتنی رقم پر مکاتبت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اتنی رقم ادا کر کے ان سے عقد کر لیا تھا۔“ (ابن کثیر) ➌ { وَ مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ: ”أَفَاءَ يُفِيْءُ“} کا معنی ”لوٹا کر لانا“ ہے۔ ”فے“ عموماً ان اموال کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے بغیر دشمن سے حاصل ہوں۔ بعض اوقات جنگ کے ساتھ ملنے والی غنیمت کو بھی ”فے“ کہہ لیتے ہیں۔ ان اموال کو ”فے“ اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام اموال حقیقت میں مسلمان کی ملکیت ہیں جو عارضی طور پر کفار کے قبضے میں ہیں، جب مسلمان انھیں حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنا ہی مال واپس لیتے ہیں۔ ان عورتوں کے آپ کے لیے حلال کرنے کے ذکر کے بعد جن کے ساتھ آپ نے مہر دے کر نکاح کیا تھا، تین قسم کی عورتیں حلال کرنے کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے پہلی قسم لونڈیاں ہیں، جو بطور فے آپ کو حاصل ہوئیں اور آپ نے لونڈی کی حیثیت سے ان سے فائدہ اٹھایا۔ یہ ماریہ قبطیہ تھیں، جنھیں مقوقس مصر نے آپ کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ اس لیے وہ فے کے حکم میں تھیں، ان سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ {” مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ “} کا یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں بطور فے آپ کے پاس نہ آئیں وہ آپ کے لیے حلال نہیں، بلکہ ”سراری“ (لونڈیوں) کی تو آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے عام اجازت ہے۔ (قرطبی) ➍ { وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ …:} پہلی بیویوں کے بعد آپ کے لیے حلال کی جانے والی عورتوں کی یہ دوسری قسم ہے، یعنی وہ عورتیں جو باپ یا ماں کی طرف سے آپ کی قریبی رشتہ دار ہیں اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے۔ ان کے ساتھ نکاح آپ کے لیے حلال ہے۔ یہ تفسیر اس لیے کی گئی ہے کہ آپ کے ماموں یا خالہ کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں۔ آپ کی والدہ کے خاندان بنو زہرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں کہا جاتا تھا۔ ➎ { وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ …:} یہ تیسری قسم ہے، یعنی مندرجہ بالا عورتوں کے علاوہ کوئی مومن عورت اگر اپنا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دے، یعنی مہر کے بغیر نکاح میں دینے کی پیش کش کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا چاہیں تو آپ کے لیے ولی اور مہر کے بغیر اس سے نکاح حلال ہے۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کر رہی تھی، تو انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: ”اس کی حیا کتنی کم تھی؟“ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تجھ سے بہتر تھی، اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا تھا۔“ [ بخاري، الأدب، باب ما لا یستحیا من الحق للتفقہ في الدین: ۶۱۲۳ ] ➏ { خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی یہ اجازت صرف آپ کے ساتھ خاص ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے وہی حکم ہے جو سورۂ نساء (۲۴) میں فرمایا: «اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ» یعنی بن مہر نکاح جائز نہیں۔ (موضح) اسی طرح چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت صرف آپ کے لیے ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے نہیں۔ ➐ { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ:} یعنی عام مسلمانوں کو نکاح کے لیے جن شرائط کا پابند کیا گیا ہے، ان کاپابند رہنا ان کے لیے ضروری ہے اور وہ یہ کہ مہر، ولی اور گواہوں کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں، اس کے علاوہ وہ ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ مسائل سورۂ نساء (۳، ۴ اور ۲۴، ۲۵) میں گزر چکے ہیں۔ ➑ { لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ:} یعنی دعوت دین کی مصلحت کے لیے آپ کو ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ آپ پر زیادہ نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے۔ کیونکہ بہت سی مصلحتوں کی وجہ سے آپ کو زیادہ نکاح کرنے ہوں گے۔ اہلِ علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کے ساتھ نکاح میں جو مصلحتیں مدنظر تھیں ان کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور اسلام کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعددِ ازواج پر جو جو اعتراض کرتے ہیں ان کا مدلل جواب دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تصنیف ”مقدس رسول“ لاجواب کتاب ہے۔ الرحیق المختوم میں بھی یہ مصلحتیں اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ ➒ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} یعنی ہم نے رفع حرج کے لیے آپ کو جو اجازتیں عطا فرمائی ہیں ان کا باعث ہماری مغفرت و رحمت کی صفت ہے۔ (ابن عاشور)