بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 19
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ ۚۖ فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَیۡتَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ تَدُوۡرُ اَعۡیُنُہُمۡ کَالَّذِیۡ یُغۡشٰی عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ۚ فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۹﴾
جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے
تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے
تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے اور یہ اللہ کو آسان ہے،
وہ تمہارے معاملہ میں سخت بخیل ہیں اور جب خوف (کا وقت) آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھوم رہی ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو یہ لوگ (اپنی) تیز زبانوں سے طعنہ دیتے ہیں یہ مال (غنیمت) کے بڑے حریص ہیں (دراصل) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں چنانچہ اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے ہیں اور ایسا کرنا اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔
تمھارے بارے میں سخت بخیل ہیں، پس جب خوف آپہنچے تو توُانھیں دیکھے گا کہ تیری طرف ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہیں جس پر موت کی غشی طاری کی جا رہی ہو، پھر جب خوف جاتا رہے تو تمھیں تیز زبانوں کے ساتھ تکلیف دیں گے، اس حال میں کہ مال کے سخت حریص ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے اور یہ ہمیشہ سے اللہ پر بہت آسان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ’ ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے ‘۔

📖 احسن البیان

19-1یعنی تمہارے ساتھ خندق کھود کر تم سے تعاون کرنے میں یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں یا تمہارے ساتھ مل کر لڑنے میں بخیل ہیں۔ 19-2یہ ان کی بزدلی اور پست ہمتی کی کیفیت کا بیان ہے۔ 19-3یعنی اپنی شجاعت و مردانگی کی ڈینگیں مارتے ہیں، جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، یا غنیمت کی تقسیم کے وقت اپنی زبان کی تیزی و طراری سے لوگوں کو مثاثر کرکے زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں، غنیمت کی تقسیم کے وقت یہ سب سے زیادہ بخیل اور سب سے زیادہ بڑا حصہ لینے والے اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ بزدل اور ساتھیوں کو بےیارو مددگار چھوڑنے والے ہیں۔ 19-3یا دوسرا مفہوم ہے کہ خیر کا جذبہ بھی ان کے اندر نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ خرابیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ خیر اور بھلائی سے بھی وہ محروم ہیں۔ 19-4یعنی دل سے بلکہ یہ منافق ہیں، کیونکہ ان کے دل کفر وعناد سے بھرے ہوئے ہیں۔ 19-5ان کے اعمال کا برباد کردینا، یا ان کا نفاق۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19){ اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ …: ” اَشِحَّةً”شَحِيْحٌ“} کی جمع ہے، سخت حرص اور بخل کے مجموعے کو {”اَلشُّحُّ“} کہتے ہیں۔ {” حِدَادٍ “} جمع ہے {”حَدِيْدٌ“} کی، تیز۔ {” سَلَقُوْكُمْ”سَلَقَ يَسْلُقُ“} (ن) {”سَلَقَهُ بِالسَّوْطِ“} یعنی اس نے اسے کوڑے سے اتنا مارا کہ کھال اتار دی۔ {”سَلَقَ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ“} ہڈی سے گوشت اتار دیا۔ جب کوئی کسی کو بہت سخت بات کہے تو کہتے ہیں: {”سَلَقَهُ بِالْكَلَامِ۔“ ” الْخَيْرِ “} سے مراد مال غنیمت ہے۔ مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ نے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر کا جو اردو ترجمہ کیا ہے وہ بہت پر لطف ہے، لکھتے ہیں: ”یہ بڑے بخیل ہیں، نہ ان سے تمھیں کوئی مدد پہنچے، نہ ان کے دل میں تمھاری کوئی ہمددری، نہ مال غنیمت میں تمھارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں، آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہیں، مایوسانہ نگاہوں سے تکنے لگتے ہیں، لیکن خوف دور ہوا کہ انھوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو، ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں، ہم آپ کے ساتھی ہیں، ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں، ہمارا حصہ ہے اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے، بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہا کرتے ہیں۔ دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری، بد خلقی، بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی، روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے دل شروع ہی سے ایمان سے خالی ہیں، اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے۔“
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →