بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 18
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الۡقَآئِلِیۡنَ لِاِخۡوَانِہِمۡ ہَلُمَّ اِلَیۡنَا ۚ وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۙ۱۸﴾
اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ "آؤ ہماری طرف" جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو
اللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔ اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے ہیں
بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے
اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جہاد سے) روکتے ہیں اور انہیں بھی جو اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ (محاذِ جنگ چھوڑ کر) ہماری طرف آجاؤ اور یہ لوگ میدانِ جنگ میں بہت کم آتے ہیں۔
یقینا اللہ تم میں سے رکاوٹیں ڈالنے والوں کو جانتا ہے اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والوں کو بھی کہ ہماری طرف آجائو اور وہ لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت کم۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ’ ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے ‘۔

📖 احسن البیان

18-1یہ کہنے والے منافقین تھے، جو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے سے روکتے تھے۔ 18-2کیونکہ وہ موت کے خوف سے پیچھے ہی رہتے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ { قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ۠ مِنْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے یار دوست لوگوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے کے بجائے ہمارے پاس چلے آؤ اور ہماری طرح آرام سے گھروں میں رہو۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔ ➋ { وَ لَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی کبھی کبھار دکھاوے اور نام لکھوانے کے لیے چلے آتے ہیں۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →