یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ آور ہو جائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر یہ کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے
سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام
وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر تمہاری خبریں پوچھتے اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے
(دشمن چلا گیا مگر) یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ابھی لشکر گئے نہیں ہیں اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو یہ پسند کریں گے کہ کاش ہم صحرا میں بدوؤں کے ساتھ جا کر رہیں اور وہاں سے تمہاری خبریں پوچھتے رہیں اور اگر تم میں ہوتے تو جب بھی (دشمن سے) جنگ نہ کرتے مگر بہت کم۔
وہ لشکروں کو سمجھتے ہیں کہ نہیں گئے اور اگر لشکر آجائیں تو وہ پسند کریں گے کاش! واقعی وہ بدویوں میں باہر نکلے ہوئے ہوتے، تمھاری خبریں پوچھتے رہتے اور اگر وہ تم میں موجود ہوتے تو نہ لڑتے مگر بہت کم۔