بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 16
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 16
آیت نمبر: 16 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾
اے نبیؐ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا
کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے
تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گا اگر ایسا کیا بھی تو پھر بھی (زندگانی دنیا سے) تمہیں لطف اندوز ہونے کا بہت تھوڑا موقع دیا جائے گا۔
کہہ دے تمھیں بھاگنا ہرگز نفع نہیں دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو اور اس وقت تمھیں فائدہ نہیں دیا جائے گا مگر بہت کم۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں ‘۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

16-1یعنی موت سے کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آ بھی جاؤ گے تو کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا پڑے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 16) ➊ { قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ …:} یعنی فرار سے تمھاری عمر کچھ بڑھ نہیں جائے گی، نہ ہی فرار اختیار کرنے سے تم قتل سے یا موت سے بچ جاؤ گے، کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہو چکا ہے۔ پھر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا رتبہ پاؤ۔ ➋ { وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی اگر تم نے فرار اختیار کیا اور تمھاری کچھ عمر باقی ہوئی تب بھی دنیا کی لذتوں سے تم تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے، کیونکہ ایسے بزدلوں کا مقدر دشمن کے غلبہ کی صورت میں ذلت اور غلامی ہوتا ہے اور اگر اس سے بچ بھی گئے تو کتنی دیر زندہ رہ لو گے۔
← پچھلی آیت (15) پوری سورۃ اگلی آیت (17) →