بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأحزاب
سورۃ الأحزاب — 73 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 33
تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعۡیُنُہُنَّ وَ لَا یَحۡزَنَّ وَ یَرۡضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَلِیۡمًا ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے اِس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم اُن کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے، اور اللہ علیم و حلیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(آپ کو اختیار ہے کہ) اپنی ازواج میں سے جس کو چاہیں دور کر دیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ نے علیٰحدہ کر دیا تھا اگر ان میں سے کسی کو (دوبارہ) طلب کرنا چاہیں تو اس میں بھی آپ کیلئے کوئی مضائقہ نہیں ہے یہ (اختیار جو آپ کو دیا گیا ہے) اس سے قریب تر ہے کہ ان (ازواج) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور آپ انہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ سب کی سب اس پر خوش ہو جائیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے اور (بے شک) اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا بردبار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کریں اور وہ سب کی سب اس پر راضی ہوں جو تو انھیں دے اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، بڑے حلم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روایات و احکامات ٭٭

بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں ان عورتوں پر عار رکھا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کریں اور کہتی تھیں کہ عورتیں بغیر مہر کے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرنے میں شرماتی ہیں؟ یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشادگی کرتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5113] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں۔ عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جنہیں مؤخر کر رکھا تھا ان میں ام شریک رضی اللہ عنہا تھیں۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں مؤخر کریں۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم واجب تھی۔ بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز نہ جانے دوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4789] ‏‏‏‏

پس صحیح بات جو بہت اچھی ہے اور جس سے ان اقوال میں مطابقت بھی ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیت عام ہے۔ اپنے نفس سونپنے والیوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سب کو شامل ہے۔ ہبہ کرنے والیوں کے بارے میں نکاح کرنے نہ کرنے اور نکاح والیوں میں تقسیم کرنے نہ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سہولت والا ہے۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داد دیں گی۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے ‘۔ مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ { الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کر دیا۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:144/6:ضعیف] ‏‏‏‏ یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں، اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے، لیکن حلم و کرم والا ہے۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے۔
51۔ 1 اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور خصوصیت کا بیان ہے، وہ یہ کہ بیویوں کے درمیان باریاں مقرر کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی باری چاہیں موقوف کردیں یعنی اسے نکاح میں رکھتے ہوئے اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیں یہ تعلق قائم رکھیں۔ 51۔ 2 یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ 51۔ 3 یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہونگی، غمگین نہیں ہونگی اور جتنا کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انھیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی اسلئے کہ انھیں معلوم ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلے پر راضی اور مطمن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ملنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت حضرت عائشہ کے لئے ہبہ کردی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر مقرر کر رکھی تھیں، اسی لیے آپ نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ کے پاس گزارے (ان تقر اعینھن) کا تعلق آپ کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی اس کے باوجود آپ نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حسن سلوک اور عدل وانصاف سے خوش ہوجائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔ 52۔ 4 یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ان میں یہ بات بھی یقینا ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیونکہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لئے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان، نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کرسکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار میں ہی نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث ہو۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ' یا اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا اس میں مجھے ملامت نہ کرنا (مسند احمد)
(آیت 51) ➊ { تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ …:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیویوں کے بارے میں مزید رعایتوں کا بیان ہے۔ ان میں سے ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں اپنے نفس آپ کے لیے ہبہ کریں، ان میں سے آپ جسے چاہیں مؤخر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں، آپ پر ان کی پیش کش قبول کرنا لازم نہیں اور ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں آپ کے نکاح میں ہیں، آپ پر ان کے پاس باری باری جانے کی پابندی نہیں، آپ جس کے پاس چاہیں رات بسر کریں، جسے چاہیں مؤخر رکھیں۔ ➋ { وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ:} تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی باری آپ نے ختم کی ہو اور دوبارہ اسے طلب کرنا چاہیں، تو اس میں بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔ ➌ { ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ …:} بیویوں کا حق ساقط کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں دونوں سے تنگی دور کرنا مقصود تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگی دور کرنا تو ظاہر ہی ہے، بیویوں کی تنگی دور کرنا اس لحاظ سے ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے ہاں رات بسر کرنا اس کا حق نہیں تو آپ کے ساتھ اور آپس میں ایک دوسری کے ساتھ بھی ان کی چپقلش اور تنازعات ازخود ختم ہو جائیں گے، کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق کا دعویٰ ہے۔ جب حق ہی نہ رہا تو جھگڑا کیسا۔ پھر جب آپ کسی بیوی کے پاس جائیں گے تو اس احساس سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے اس کے پاس جانا ضروری نہیں تھا، اسے آپ کے آنے سے خوشی ہو گی اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور انھیں یہ جان کر آپ کے نہ آنے سے غم بھی نہیں ہو گا کہ آپ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے کر رہے ہیں اور آپ اپنی بیویوں کو جتنا وقت یا جتنی توجہ دیں گے، سب اسی پر خوش رہیں گی اور شکر گزار ہوں گی۔ ➍ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان رعایتوں کے باوجود آپ نے ان سے فائدہ اٹھایا نہ اپنا نفس ہبہ کرنے والی کسی خاتون سے آپ نے نکاح کیا، نہ کسی بیوی کی باری ختم کی، صرف سودہ رضی اللہ عنھا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کو دی تو آپ نے اس کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری تمام بیویوں کے پاس باری باری جاتے تھے۔ آپ اس کا کس قدر اہتمام کرتے تھے وہ ان احادیث سے ظاہر ہے: (1) معاذہ عدویہ نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے بیان کیا کہ اس آیت: «‏‏‏‏تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِيْۤ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ» (ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے) کے نازل ہونے کے بعد بھی جب آپ ہم میں سے کسی عورت کی باری کے دن میں ہوتے تو ہم سے اجازت مانگتے۔ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «ترجي من تشاء منھن…» : ۴۷۸۹ ] فتح الباری میں ہے، یعنی آپ جس بیوی کی باری کے دن میں ہوتے دوسری کے پاس جانا چاہتے تو اس سے اجازت مانگتے۔ (2) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس باری باری ایک دن رات رہتے، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا کے کہ اس نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کے لیے ہبہ کر دی تھی، اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتی تھیں۔“ [ بخاري، الھبۃ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا…: ۲۵۹۳ ] (3) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کی وجہ سے) بوجھل ہو گئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت مانگی تو انھوں نے آپ کو اجازت دے دی۔“ [ بخاري، الھبۃ، باب ہبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا: ۲۵۸۸ ] (4) عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا: ”میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہو گا، ورنہ آپ ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگاتے اور بغیر مساس (بغیر صحبت) ہر ایک کے پاس ٹھہرتے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے۔ سودہ رضی اللہ عنھا جب عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے علیحدگی اختیار کریں گے تو انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سے قبول کر لیا۔“ فرماتی ہیں: ”ہم کہا کرتی تھیں کہ اس اور اس جیسی عورتوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «‏‏‏‏وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۲۸ ] ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بے رخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب في القسم بین النساء: ۲۱۳۵، و قال الألباني حسن صحیح ] ➎ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بھی خطاب ہے اور تمام مومنوں سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کے پیشِ نظر جو رعایتیں دی ہیں، تاکہ وہ گھریلو پریشانیوں سے آزاد رہ کر اطمینان سے دعوت کا فریضہ سر انجام دے سکیں، اس کے متعلق اگر تمھارے دلوں میں تسلیم و رضا ہو گی یا کراہت و انکار تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان کو جناب رسالت میں معمولی سوئے ظن سے بھی سخت اجتناب لازم ہے۔ ➏ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، مگر اس کے حلم کی بھی انتہا نہیں، اس لیے وہ تمھاری کسی خطا پر فوری گرفت نہیں کرتا، بلکہ تمھیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے۔
لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے اللہ ہر چیز پر نگران ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگر چہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر جو تیری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے بعد اور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اب اس کے بعد اور عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ ان کے بدلے اور بیویاں لے آئیں اگرچہ ان کا حسن و جمال آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ سوائے ان (کنیزوں) کے جو آپ کی ملکیت میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا نگران ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے مگر جس کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازواج مطہرات کا عہد و فا ٭٭

پہلی آیتوں میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہو جائیں۔ لیکن امہات المؤمنین «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» نے دامن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا۔ اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت میں حکم ہوا کہ ’ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے ‘۔ اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے۔ چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور عورتیں بھی حلال کر دی تھیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3216، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ حلال کرنے والی آیت «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:51] ‏‏‏‏، ہے جو اس آیت سے پہلے گزر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے۔ سورۃ البقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس آیت کے ایک اور معنی بھی بہت سے حضرات سے مروی ہیں، وہ کہتے ہیں مطلب اس سے یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر اس سے پہلے ہے ان کے سوا اور حلال نہیں جن میں یہ صفتیں ہوں وہ ان کے علاوہ بھی حلال ہیں۔ چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے تھے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ کیوں؟“ تو سائل نے «لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:52] ‏‏‏‏ والی آیت پڑھی۔ یہ سن کر ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتاً بیویاں، لونڈیاں، چچا کی، پھوپیوں کی، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہیں ہیں۔‏‏‏‏“ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کر دی گئی۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کر دیا گیا۔ قرآن میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [5-المائدة:5] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ» ۱؎ [ 33- الأحزاب: 50 ] ‏‏‏‏ الخ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں۔‏‏‏‏“۱؎ [سنن ترمذي:3215،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔‏‏‏‏“ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔‏‏‏‏“ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اعرابیہ اور انجان عورتوں سے نکاح سے روک دیئے گئے۔ لیکن جو عورتیں حلال تھیں ان میں سے اگر چاہیں سینکڑوں کرلیں حلال ہیں۔‏‏‏‏“ الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے۔ لہٰذا کوئی منفی نہیں۔ ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کر لیا تھا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔ اس کا جواب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا والے واقعہ میں آیت «وَإِنِ امْرَ‌أَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَ‌اضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ‌ وَأُحْضِرَ‌تِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا» ۱؎ [4-النساء:128] ‏‏‏‏، اتری ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2283،قال الشيخ الألباني:صحیح [4-النساء:128] ‏‏‏‏

ابو یعلیٰ میں ہے کہ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن آئے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں پوچھا کہ ”شاید تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی۔ سنو اگر رجوع ہو گیا اور پھر یہی موقعہ پیش آیا تو قسم اللہ کی میں مرتے دم تک تم سے کلام نہ کروں گا“ }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:172:ضعیف] ‏‏‏‏ آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کر لیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا۔‏‏‏‏“

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ { عیینہ بن حصن فزاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اپنی جاہلیت کی عادت کے مطابق بغیر اجازت لیے چلے آئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بغیر اجازت کیوں چلے آئے؟ } اس نے کہا واہ! میں نے تو آج تک قبیلہ مفر کے خاندان کے کسی شخص سے اجازت مانگی ہی نہیں۔ پھر کہنے لگا یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کون سی عورت بیٹھی ہوئی تھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں }۔ تو کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیں میں ان کے بدلے اپنی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتا ہوں جو خوبصورتی میں بے مثل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا حرام کر دیا ہے }۔ جب وہ چلے گئے تو مائی صاحبہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک احمق سردار تھا۔ تم نے ان کی باتیں سنیں؟ اس پر بھی یہ اپنی قوم کا سردار ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2251:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اس روایت کا ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بالکل گرے ہوئے درجے کا ہے۔
52۔ 1 آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد 9 تھی اور دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نکاح نہیں کیا (ابن کثیر) 52۔ 2 یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی اور بعض نے (وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ) 60۔ الممتحنہ:10) کے پیش نظر اسے آپ کے لیے حلال نہیں سمجھا (فتح القدیر)
(آیت 52) ➊ { لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ …:} پچھلی آیات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہو جائیں، لیکن جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا پسند نہ کیا اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دی تو انھیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلا یہ ملا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اب آپ ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے، نہ ہی ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لا سکتے ہیں، گو اس کا حُسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ یہ صراحت اس لیے فرمائی کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ بیویوں کی تعداد نو (۹) سے زیادہ کرنا جائز نہیں، ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کے بدلے میں بیوی لا کر نو کا عدد پورا کر لیں تو اجازت ہے۔ فرمایا، انھیں طلاق دے کر ان کی جگہ بھی اور بیویاں لانے کی اجازت نہیں، خواہ نو سے زیادہ نہ بھی ہوں۔ ہاں، لونڈیوں کی بات دوسری ہے، ان پر کوئی پابندی نہیں۔ ➋ ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے کہ پچھلی آیت (۵۰): «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ …» میں چار قسم کی جو عورتیں آپ کے لیے حلال کی گئی ہیں، ان کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ نہ موجود بیویوں کو طلاق دے کر ان کی جگہ اور بیوی لانا جائز ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں امہات المومنین کے بلند مرتبے کا اظہار ہو رہا ہے۔ ➌ {” وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ “} سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو آدمی اسے دیکھ سکتا ہے۔ ➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے، اس لیے کوئی بھی کام کرتے ہوئے ذہن میں حاضر رکھو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ] [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰ ] ”اللہ کی عبادت (اس طرح) کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبیؐ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبیؐ کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسولؐ کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! نبی(ص) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔ مگر جب تمہیں کھانے کیلئے (اندر آنے کی) اجازت دی جائے (اور) نہ ہی اس کے پکنے کا انتظار (نبی(ص) کے گھر میں بیٹھ کر کیا) کرو۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو (عین وقت پر) اندر داخل ہو جاؤ پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور دل بہلانے کیلئے باتوں میں نہ لگے رہو کیونکہ تمہاری باتیں نبی(ص) کو اذیت پہنچاتی ہیں مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کچھ نہیں کہتے) اور اللہ حق بات (کہنے سے) نہیں شرماتا اور جب تم ان (ازواجِ نبی(ص)) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ (طریقۂ کار) تمہارے دلوں کیلئے اور ان کے دلوں کیلئے پاکیزگی کا زیادہ باعث ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم رسولِ(ص) خدا کو اذیت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو بیشک یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی (برائی گناہ کی) بات ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں مت داخل ہو مگر یہ کہ تمھیں کھانے کی طرف اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور لیکن جب تمھیں بلایا جائے تو داخل ہو جائو، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور نہ (بیٹھے رہو) اس حال میں کہ بات میں دل لگانے والے ہو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے نبی کو تکلیف دیتی ہے، تو وہ تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمھارا کبھی بھی حق نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکامات پردہ ٭٭

اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى» ۱؎ [2-البقرة:125] ‏‏‏‏، میں نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو۔‏‏‏‏“ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا ”کسی غرور میں نہ رہنا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دلوائے گا“، چنانچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4483] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2399] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [2-البقرة:125] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے گھر میں تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے بھی جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کر لیا اور یہ آیت اتری“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4791] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب دستر خوان بڑھا دو }۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ۔ انہوں نے جواب دیا ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تمہیں برکت دے }۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4783] ‏‏‏‏ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4794] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: { اچھا اسے رکھ دو }۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: { جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ } بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: { ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے } میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ }۔ میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: { چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو }۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پیالہ اٹھالو }۔

{ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزر رہا تھا لیکن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے۔ اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428] ‏‏‏‏ پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا لے جانے کی روایت آیت «فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔

ابن جریر میں ہے کہ { رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا یہ نکلنا بند ہو اس لیے انہیں ان کے قد و قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ”ہم نے تمہیں اے سودہ (‏‏‏‏رضی اللہ عنہا) پہچان لیا۔‏‏‏‏“ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28619:] ‏‏‏‏ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ { حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4895] ‏‏‏‏ آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ { خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232] ‏‏‏‏ پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ’ مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو ‘۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔

پھر فرمایا ’ جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1429] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے { اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2568] ‏‏‏‏ دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ’ جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ‘۔ جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ’ تمہارا بے اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چلے جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے ‘۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ’ اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے ”کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی“ اس وقت پردے کا حکم اترا }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ ’ مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے ‘۔ کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لیے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔ یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔ قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ گراں گزرا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ ”اے خلیفہ رسول یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نہ تھی نہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بری کر دیا“، یہ سن کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا اطمینان ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28624:مرسل] ‏‏‏‏ پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» ۱؎ [40-غافر:19] ‏‏‏‏ تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے ‘۔
53۔ 1 اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر حضرت زینب کے ولیمے میں صحابہ کرام تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا اور اخلاق کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جانے کے لئے نہ کہا (صحیح بخاری) چناچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہوچکا ہو پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو۔ کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے ورنہ ملطب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے اجازت کے بغیر گھر کے اندر داخل مت ہو۔ 53۔ 2 یہ حکم حضرت عمر ؓ کی خواہش پر نازل ہوا۔ حضرت عمر ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں کاش آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں تو کیا اچھا ہو جس پر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا (صحیح بخاری) 53۔ 3 یہ پردے کی حکمت اور علت ہے کہ اس سے مرد اور عورت کے دل ریب و شک سے ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔ 53۔ 4 چا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے بغیر گھر میں بیٹھے رہنا اور بغیر حجاب کے ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا یہ امور بھی ایذا کے باعث ہیں ان سے بھی اجتناب کرو۔ 53۔ 2 یہ حکم ان ازواج مطہرات کے بارے میں ہے جو وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حبالہ عقد میں تھیں۔ تاہم جن کو آپ نے ہم بستری کے بعد زندگی میں طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کردیا ہو وہ اس کے عموم میں داخل ہیں یا نہیں؟ اس میں دو رائے ہیں۔ بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں لیکن آپ کی ایسی کوئی بیوی تھی ہی نہیں اس لیے یہ محض ایک فرضی شکل ہے علاوہ ازیں ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ کا نکاح ہوا لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ نے طلاق دے دی دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 53) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ …:} گزشتہ آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات کے باہمی معاملات کے متعلق راہ نمائی فرمائی گئی، اب امت کو امہات المومنین کے چند آداب بتائے جاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخلے کے متعلق چند احکام بیان ہوتے ہیں، جو کچھ عرصہ بعد سورۂ نور میں تمام مسلمانوں کے گھروں میں داخلے کے لیے بھی نافذ کر دیے گئے۔ دور جاہلیت میں عرب لوگ بلا تکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے، کسی سے ملنے کے لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہوکر اجازت لینے یا انتظار کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی، بلکہ ہر شخص گھر کے اندر جا کر عورتوں سے بات کر لیتا اور صاحب خانہ کے متعلق پوچھ لیتا اور عورتیں بھی پردہ نہیں کرتی تھیں۔ بعض اوقات اس سے بہت سی اخلاقی خرابیوں کا آغاز ہوتا تھا، اس لیے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی دوست ہو یا رشتہ دار اجازت کے بغیر آپ کے گھروں میں داخل نہ ہو، پھر سورۂ نور (۲۷) میں تمام گھروں میں داخلے کے لیے اس قاعدے کا اعلان کر دیا گیا۔ ➋ {اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ …: ” اِنٰىهُ “} میں {”إِنًي“ ”أَنٰي يَأْنِيْ“} (ض) کا مصدر ہے، اس کا معنی ہے ”کسی چیز کا وقت ہو جانا۔“ جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ» [ الحدید: ۱۶ ] ”کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے جھک جائیں۔“ یہ لفظ کھانا پک جانے کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ پکنے پر اس کے کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ اہلِ عرب میں جو غیر مہذب عادات پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ کھانے کے وقت کا اندازہ کر کے کسی کے گھر پہنچ جاتے، یا اس کے گھر آکر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہو جاتا۔ اس سے صاحب خانہ مشکل میں پڑ جاتا، نہ یہ کہہ سکتا کہ میرے کھانے کا وقت ہے، آپ تشریف لے جائیں، نہ اس کے بس میں ہوتا کہ اپنے کھانے کے ساتھ آنے والوں کے لیے بھی کھانا تیار کرے۔ بعض اوقات کھانے کے لیے دعوت دی جاتی، مگر مدعو حضرات وقت سے پہلے ہی آکر بیٹھ جاتے، جس سے گھر والے سخت کوفت میں مبتلا ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بے ہودہ عادت سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ کھانا تیار ہونے کے انتظار میں پہلے ہی جا کر نہ بیٹھ جاؤ، بلکہ جب گھر والا کھانے کے لیے بلائے اس وقت جاؤ۔ یہ حکم بھی نمونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے شروع ہوا، ورنہ ساری امت کے گھروں کے لیے یہی حکم ہے۔ ➌ { وَ لَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ:} یہ ایک اور بے ہودہ عادت کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ کھانے کی دعوت میں بلائے جاتے ہیں تو کھانے سے فارغ ہو کر وہیں باتوں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ انھیں پروا نہیں ہوتی کہ اس سے گھر والوں کو کس قدر کوفت ہو رہی ہے کہ نہ وہ حیا کی وجہ سے انھیں جانے کو کہہ سکتے ہیں اور نہ آزادی سے اپنا کوئی کام کر سکتے ہیں۔ ➍ { اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ:} یعنی کھانے پینے سے فارغ ہو کر تمھارا باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ تکلیف دیتا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم {” كَانَ “} سے ظاہر ہو رہا ہے۔ پھر وہ تم سے حیا کرتے ہوئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اب اٹھ جاؤ۔ مگر اللہ تعالیٰ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اس لیے اس نے یہ احکام دیے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طفیلیوں (بن بلائے مہمانوں) اور بوجھ بن جانے والوں کو اپنے نبی کے لیے برداشت نہیں فرمایا، پھر عام آدمی انھیں کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ ➎ اس آیت میں امہات المومنین کے حجاب کا حکم نازل ہوا، اس لیے اسے آیت حجاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی موافقات، یعنی ان باتوں میں سے ہے جن میں ان کی بات کے مطابق قرآن نازل ہوا، مگر ان کا حسن ادب یہ ہے کہ انھوں نے یہ کہنے کے بجائے کہ قرآن نے میری بات کی موافقت کی، یہ کہا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی۔ چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے: [ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ] [ بخاري، الصلاۃ، باب ما جاء في القبلۃ…: ۴۰۲ ] ”میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ کی بیویوں کے پاس اچھے اور برے ہر قسم کے لوگ (دینی یا دنیوی مسائل کے لیے) آتے ہیں کاش! آپ انھیں حجاب کا حکم دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیتِ حجاب کو نازل فرمایا۔“ ➏ اس آیت کا نزول جس موقع پر ہوا اسے انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی زینب رضی اللہ عنھا سے ہوئی تو (ولیمے میں) گوشت اور روٹی کھلائی گئی۔ مجھے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا، لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے، پھر اور لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو دعوت دی، حتیٰ کہ کوئی شخص باقی نہ رہا۔ آخر میں میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اب کوئی شخص نہیں ملتا جسے میں دعوت دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اب کھانا اٹھا دو۔“ (سب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے) اور تین شخص گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی طرف چلے گئے اور کہا: ”اے اہلِ بیت (گھر والو)! { ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ } “ انھوں نے کہا: [ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ ] ”آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا، اللہ آپ کے لیے برکت کرے۔“ اسی طرح آپ اپنی تمام بیویوں کے گھروں میں گئے اور سب کو عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح سلام کیا، سب نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح جواب دیا۔ پھر جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ تین آدمی (ابھی تک) گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت حیا والے تھے، آپ پھر عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو جا کر بتایا یا کسی اور نے بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ چنانچہ آپ واپس آئے اور اس حالت میں کہ دروازے کی دہلیز میں آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور دوسرا باہر تھا، آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور حجاب کی آیت نازل ہو گئی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏لا تدخلوا بیوت النبي…» : ۴۷۹۳ ] ➐ { وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا …:} اس آیت کے نزول کے ساتھ حکم ہوا کہ محرم مردوں کے سوا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر نہ آئے اور جسے بھی خواتین سے کوئی کام ہو وہ پردے کے پیچھے سے بات کرے، خواہ کوئی چیز مانگنے کی ضرورت ہو، یا کوئی بات یا دینی مسئلہ پوچھنے کی۔ ➑ { ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ:} اس جملے پر تھوڑی سی توجہ سے بھی یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جب امہات المومنین، جو دنیا کی پاک باز ترین خواتین تھیں اور صحابہ کرام، جو دنیا کے پاک باز ترین مرد تھے، انھیں دلوں کو پاک رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے کوئی بات کرتے وقت حجاب کا حکم ہے تو عام لوگوں کو بلاحجاب ایک دوسرے سے ملنے کی، یعنی گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، پارکوں، عدالتوں اور اسمبلیوں میں مردوں اور عورتوں کے بلا تکلف میل جول اور مخلوط معاشرے کی اسلام میں کیا گنجائش ہو سکتی ہے اور ان کے دلوں کی طہارت و پاکیزگی کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے۔ اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ اصل پردہ دل کا ہے، کیونکہ شرم و حیا کا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے، یہ ظاہر پردہ کچھ ضروری نہیں، ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو دل سے مانا ہی نہیں۔ ➒ { وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ:} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا، خواہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا ہو، یا آپ کی خواہش کے بغیر آپ کے گھر میں بیٹھے رہنا ہو، یا حجاب کے بغیر ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا ہو، یا منافقین کی طرح کسی قسم کی دل آزار باتیں کرنا ہو، غرض کسی بھی طریقے سے ہو، تمھارے لیے جائز نہیں، نہ ہی یہ تمھیں کبھی زیب دیتا ہے۔ ➓ { وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا:} یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا، پھر جو احترام اللہ نے انھیں بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا، بلکہ اپنی عاقبت برباد کرے گا۔
اِنۡ تُبۡدُوۡا شَیۡئًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم کسی چیز کو ﻇاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اگر کسی چیز کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ۔ بہرحال اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو، یا اسے چھپائو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکامات پردہ ٭٭

اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى» ۱؎ [2-البقرة:125] ‏‏‏‏، میں نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو۔‏‏‏‏“ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا ”کسی غرور میں نہ رہنا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دلوائے گا“، چنانچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4483] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2399] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [2-البقرة:125] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے گھر میں تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے بھی جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کر لیا اور یہ آیت اتری“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4791] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب دستر خوان بڑھا دو }۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ۔ انہوں نے جواب دیا ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تمہیں برکت دے }۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4783] ‏‏‏‏ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4794] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: { اچھا اسے رکھ دو }۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: { جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ } بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: { ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے } میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ }۔ میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: { چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو }۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پیالہ اٹھالو }۔

{ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزر رہا تھا لیکن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے۔ اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428] ‏‏‏‏ پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا لے جانے کی روایت آیت «فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔

ابن جریر میں ہے کہ { رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا یہ نکلنا بند ہو اس لیے انہیں ان کے قد و قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ”ہم نے تمہیں اے سودہ (‏‏‏‏رضی اللہ عنہا) پہچان لیا۔‏‏‏‏“ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28619:] ‏‏‏‏ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ { حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4895] ‏‏‏‏ آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ { خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232] ‏‏‏‏ پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ’ مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو ‘۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔

پھر فرمایا ’ جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1429] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے { اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2568] ‏‏‏‏ دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ’ جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ‘۔ جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ’ تمہارا بے اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چلے جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے ‘۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ’ اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے ”کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی“ اس وقت پردے کا حکم اترا }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ ’ مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے ‘۔ کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لیے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔ یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔ قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ گراں گزرا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ ”اے خلیفہ رسول یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نہ تھی نہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بری کر دیا“، یہ سن کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا اطمینان ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28624:مرسل] ‏‏‏‏ پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» ۱؎ [40-غافر:19] ‏‏‏‏ تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 54) {اِنْ تُبْدُوْا شَيْـًٔا اَوْ تُخْفُوْهُ …:} یعنی زبان سے تو کجا، کسی مومن کے دل میں ایسا خیال بھی نہیں آنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو ظاہر و باطن اور دل کے خیالات یکساں روشن ہیں، کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔
لَا جُنَاحَ عَلَیۡہِنَّ فِیۡۤ اٰبَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اَخَوٰتِہِنَّ وَ لَا نِسَآئِہِنَّ وَ لَا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ ۚ وَ اتَّقِیۡنَ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ازواج نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے، ان کے بھانجے، ان کے میل جول کی عورتیں اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں (اے عورتو) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہیے اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان عورتوں پر کوئی گناه نہیں کہ وه اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں۔ (عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر شاہد ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان پر مضائقہ نہیں ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں میں اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان (ازواج النبی(ص)) کیلئے اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے، بھانجے اور ان کی اپنی (مسلمان) عورتیں اور ان کی مملوکہ کنیزیں (ان کے) سامنے آئیں اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان (کے سامنے آنے) میں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں اور (اے عورتو!) اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح شاہد ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پردہ کی تفصیلات ٭٭

چونکہ اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا تھا اس لیے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس آیت میں کر دیا۔ سورۃ النور میں بھی اسی طرح فرمایا کہ ’ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں، باپوں، سسروں، لڑکوں، خاوند کے لڑکوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، عورتوں اور ملکیت جن کی ان کے ہاتھوں میں ہو۔ ان کے سامنے یا کام کاج کرنے والے غیر خواہشمند مردوں یا کمسن بچوں کے سامنے ‘۔ ۱؎ [24-النور:31] ‏‏‏‏ اس کی پوری تفسیر اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔ چچا اور ماموں کا ذکر یہاں اس لیے نہیں کیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے لڑکوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کریں۔ شعبی اور عکرمہ تو ان دونوں کے سامنے عورت کا دوپٹہ اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ «نِسَاۤئِهِنَّ» سے مراد مومن عورتیں ہیں۔ ماتحت سے مراد لونڈی غلام ہیں۔ جیسے کہ پہلے ان کا بیان گزر چکا ہے اور حدیث بھی ہم وہیں وارد کر چکے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد صرف لونڈیاں ہی ہیں۔‏‏‏‏“ ’ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو، اللہ ہرچیز پر شاہد ہے، چھپا کھلا سب اسے معلوم ہے، اس موجود اور حاضر کا خوف رکھو اور اس کا لحاظ کرتی رہو ‘۔
55۔ 1 جب عورتوں کے لئے پردے کا حکم نازل ہوا تو پھر گھروں میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے جانے والے رشتے داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں؟ چناچہ اس آیت میں ان اقارب کا ذکر کردیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں۔ اس کی تفصیل (وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَاۗىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰي عَوْرٰتِ النِّسَاۗءِ ۠ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۭ وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 24۔ النور:31) میں بھی گزر چکی ہے، اسے ملاحظہ فرما لیا جائے۔ 55۔ 2 اس مقام پر عورتوں کو تقوٰی کا حکم دے کر واضح کردیا کہ اگر تمہارے دلوں میں تقوٰی ہوگا تو پردے کا جو اصل مقصد، قلب و نظر کی طہارت اور عصمت کی حفاظت ہے، وہ یقینا تمہیں حاصل ہوگا، ورنہ حجاب کی ظاہری پابندیاں تمہیں گناہ میں ملوث ہونے سے نہیں بچاسکیں گی۔
(آیت 55) {لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِيْۤ اٰبَآىِٕهِنَّ …:} یعنی ان رشتہ داروں کے سامنے آنے اور حجاب کے بغیر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے محرم رشتہ داروں کا بھی یہی حکم ہے، خواہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ پردے کے متعلق امہات المومنین کا حکم بھی وہی ہے جو عام مسلمان عورتوں کا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نور کی آیت (۳۱) کی تفسیر۔
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی(ص) پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جس طرح بھیجنے کا حق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صلوۃ و سلام کی فضیلت ٭٭

صحیح بخاری شریف میں ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ”اللہ کا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء و صفت کا بیان کرنا ہے اور فرشتوں کا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرنا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی برکت کی دعا۔‏‏‏‏“ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ ”اللہ کا درود رحمت ہے فرشتوں کا درود استغفار ہے۔‏‏‏‏“ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صلوٰۃ «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي» ہے۔ مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت عزت و مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں جچ جائے وہ جان لیں کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کا ثناء خواں ہے اور اس کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی کے لوگوں کا اس پر اجتماع ہو جائے ‘۔ موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے پوچھا تھا کہ کیا اللہ تم پر صلٰواۃ بھیجتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ’ ان سے کہدو کہ ہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر رحمت بھیجتا رہتا ہے ‘۔ اسی کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ’ یہی رحمت اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر بھی نازل فرماتا ہے ‘، ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا» [33-الأحزاب:41-43] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے رہا کرو اور صبح شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو وہ خود تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی ‘۔ اور آیت میں ہے «وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:155-157] ‏‏‏‏، ’ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے۔ جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرة:156] ‏‏‏‏، پڑھتے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے درود نازل ہوتے ہیں ‘۔ حدیث شریف میں ہے { اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صفوں کی داہنی طرف والوں پر صلٰواۃ بھیجتے رہتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:676، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ دوسری حدیث میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شخص کے لیے یہ دعا مروی ہے کہ { «اللَّهُمَّ، صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» اے اللہ آلِ ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1497] ‏‏‏‏ { سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ”میرے لیئے اور میرے خاوند کے لیے صلٰواۃ بھیجئے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، وَعَلَى زَوْجِكَ» ”اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر درود نازل فرمائے“ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ درود شریف کے بیان کی بہت سی حدیثیں ہیں جن میں تھوڑی ہم یہاں وارد کرتے ہیں۔ «وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» بخاری شریف میں ہے، { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کرنا تو جانتے ہیں، صلٰواۃ کا طریقہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { التحیات کے بعد کے دونوں درود بتلائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6357] ‏‏‏‏ لیکن دونوں میں «وَعَلَى آَلِ إِبْرَاهِيْمَ» کا لفظ نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے «آَلِ إِبْرَاهِيْمَ» کا لفظ نہیں۔ اور روایت میں پہلا درود تو پہلے لفظوں کے ساتھ ہے اور دوسرا کچھ تغیر کے ساتھ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی آخر میں «وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ» بھی کہتے تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:483،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔

جس سلام کی یہاں ذکر ہے، وہ التحیات میں «اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُهَا النَّبِيُ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ» ہے۔ یہ التحیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثل قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ ایک روایت میں { «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ نَبِیِّکَ وَ رَسُوْلِکَ» بھی ہے اور پچھلے درود میں قدرے تغیر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4798] ‏‏‏‏ ایک روایت میں درود کے الفاظ یہ ہیں { «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3369] ‏‏‏‏ بعض روایتوں میں «عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ» کے بعد «فِي الْعَالَمِينَ» کا لفظ بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:906] ‏‏‏‏ ایک روایت میں سوال میں یہ لفظ بھی ہیں کہ درود نماز میں ہم کس طرح پڑھیں۔ ۱؎ [مسند احمد:119/4:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ”نماز کے آخری تشہد میں اگر کسی نے درود نہیں پڑھا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔ درود کا پڑھنا اس جگہ واجب ہے۔‏‏‏‏“ بعض متاخرین نے اس مسئلے میں امام صاحب کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف انہی کا قول اور اس کے خلاف اجماع ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے یہی کہا ہے مثلاً سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابومسعود بدری، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم۔ تابعین میں بھی اس مذہب کے لوگ گزرے ہیں جیسے شعمی، ابو جعفر باقر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ اور شافعیہ کا سب کا تو یہی مذہب ہے۔ امام احمدرحمہ اللہ کا بھی آخری قول یہی ہے۔ جیسے ابوزرعہ دمشقی رحمہ اللہ کا بیان ہے، اسحٰق بن راہویہ رحمہ اللہ، امام محمد بن ابراہیم فقیہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ بلکہ بعض حنبلی آئمہ نے یہی کہا ہے کہ کم از کم «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» کا نماز میں کہنا واجب ہے جیسے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور ہمارے بعض ساتھیوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود بھیجنا بھی واجب کہا ہے۔ الغرض درود کا نماز میں واجب ہونے کا قول بہت ظاہر ہے اور حدیث میں اس کی دلیل بھی موجود ہے اور سلف و خلف میں امام شافعی رحمہ اللہ کے علاوہ اور آئمہ بھی اس کے قائل رہے ہیں۔ پس یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں کہ امام صاحب ہی کا یہ قول ہے اور یہ خلاف اجماع ہے۔ اس کی تائید اس صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابنِ خزیمہ، ابنِ حبان وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے۔ ایک شخص نے بغیر اللہ کی حمد و ثنأ کیئے اور بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درود پڑھے اپنی نماز میں دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس نے بہت جلدی کی }، پھر اسے بلا کر فرمایا: یا کسی اور کو فرمایا کہ { جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اللہ کی تعریفیں بیان کرے، پھر درود پڑھے، پھر جو چاہے دعا مانگے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1481،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابنِ ماجہ میں ہے کہ { جس کا وضو نہیں، اس کی نماز نہیں۔ جو وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ کہے، اس کا وضو نہیں۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے، اس کی نماز نہیں۔ جو انصار سے محبت نہ رکھے، اس کی نماز نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:400،قال الشيخ الألباني:منکر] ‏‏‏‏ اس کی سند میں عبدالمہیمن نامی راوی متروک ہے۔

طبرانی میں یہ روایت ان کے بھائی سے مروی ہے لیکن اس میں بھی نظر ہے اور معروف روایت پہلی ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند میں ہے کہ { ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہنا تو جانتے ہیں درود سکھا دیجیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یوں کہو «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» } }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی ابوداؤد اعمیٰ جس کا نام نفیع بن حارث ہے وہ متروک ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لوگوں کو اس دعا کا سکھانا بھی مروی ہے، «اللَّهُمَّ دَاحِي الْمَدْحُوَّات وَبَارِئ الْمَسْمُوكَات وَجَبَّار الْقُلُوب عَلَى فِطْرَتهَا شَقِيّهَا وَسَعِيدهَا اِجْعَلْ شَرَائِف صَلَوَاتك وَنَوَامِي بَرَكَاتك وَرَأْفَة تَحَنُّنِك عَلَى مُحَمَّد عَبْدك وَرَسُولِك الْفَاتِح لِمَا أُغْلِقَ وَالْخَاتَم لِمَا سَبَقَ وَالْمُعْلِن الْحَقّ بِالْحَقِّ وَالدَّامِغ لِجَيْشَاتِ الْأَبَاطِيل كَمَا حَمَلَ فَاضْطَلَعَ بِأَمْرِك بِطَاعَتِك مُسْتَوْفِزًا فِي مَرْضَاتك غَيْر نَكِل فِي قَدَم وَلَا وَهَن فِي عَزْم وَاعِيًا لِوَحْيِك حَافِظًا لِعَهْدِك مَاضِيًا عَلَى نَفَاذ أَمْرك حَتَّى أَوْرَى قَبَسًا لِقَابِس , آلَاء اللَّه تَصِل بِأَهْلِهِ أَسْبَابه بِهِ هُدِيَتْ الْقُلُوب بَعْد خَوْضَات الْفِتَن وَالْإِثْم وَأَبْهَج مُوَضِّحَات الْأَعْلَام وَنَائِرَات الْأَحْكَام وَمُنِيرَات الْإِسْلَام فَهُوَ أَمِينك الْمَأْمُون وَخَازِن عِلْمك الْمُخْزُونَ وَشَهِيدك يَوْم الدِّين وَبَعِيثُك نِعْمَة وَرَسُولُك بِالْحَقِّ رَحْمَة , اللَّهُمَّ أَفْسِحْ لَهُ فِي عَدْنك وَاجْزِهِ مُضَاعَفَات الْخَيْر مِنْ فَضْلِك مُهَنَّآت غَيْر مُكَدَّرَات مِنْ فَوْز ثَوَابك الْمَحْلُول وَجَزِيل عَطَائِك الْمَلُول اللَّهُمَّ أَعْلِ عَلَى بِنَاء النَّاس بِنَاءَهُ وَأَكْرِمْ مَثْوَاهُ لَدَيْك وَنُزُله وَأَتْمِمْ لَهُ نُوره وَاجْزِهِ مِنْ اِبْتِعَاثك لَهُ مَقْبُول الشَّهَادَة مَرَضِيّ الْمَقَالَة ذَا مَنْطِق عَدْل وَخُطَّة فَصْل . وَحُجَّة وَبُرْهَان عَظِيم» مگر اس کی سند ٹھیک نہیں اس کا راوی ابو الحجاج مزی سلامہ کندی نہ تو معروف ہے نہ اس کی علامات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔۱؎ [التاریخ الکبیر للبخاری:195/4:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو تو بہت اچھا درود پڑھا کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا یہ درود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر آپ رضی اللہ عنہ ہی ہمیں کوئی ایسا درود سکھائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بہتر ہے یہ پڑھو «اللَّهُمَّ اِجْعَلْ صَلَوَاتك وَرَحْمَتك وَبَرَكَتك عَلَى سَيِّد الْمُرْسَلِينَ وَإِمَام الْمُتَّقِينَ وَخَاتَم النَّبِيِّينَ مُحَمَّد عَبْدك وَرَسُولك إِمَام الْخَيْر وَقَائِد الْخَيْر وَرَسُول الرَّحْمَة اللَّهُمَّ اِبْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ» اس کے بعد التحیات کے بعد کے دونوں درود (‏‏‏‏درود ابراھیمی) ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت بھی موقف ہے۔ ابن جریر کی ایک روایت میں ہے کہ { یونس بن خباب رحمہ اللہ نے اپنے فارس کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کی، پھر لوگوں کے درود کے طریقے کے سوال کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں «وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّد كَمَا رَحِمْت آلَ إِبْرَاهِيم» کو بھی بیان فرمایا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28635:] ‏‏‏‏ اس سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحم کی دعا بھی ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے۔ اس کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ { ایک اعرابی نے اپنی دعا میں کہا تھا ”اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔‏‏‏‏“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: { تو نے بہت ہی زیادہ کشادہ چیز تنگ کر دی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6010] ‏‏‏‏ قاضی عیاض نے جمہور مالکیہ سے اس کا عدم جواز نقل کیا ہے۔ ابو محمد بن ابوزید بھی اس کے جواز کی طرف گئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جب تک کوئی شخص مجھ پر درد بھیجتا رہتا ہے تب تک فرشتے بھی اس کے لیے دعا رحم کرتے رہتے ہیں۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ کمی کرو یا زیادتی کرو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:907،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے قریب روز قیامت مجھ سے وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود پڑھا کرتا تھا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:484،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره] ‏‏‏‏

فرمان ہے { مجھ پر جو ایک مرتبہ درود بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ اس پر ایک شخص نے کہا پھر میں اپنی دعا کا آدھا وقت درود میں ہی خرچ کروں گا۔ فرمایا: { جیسی تیری مرضی }۔ اس نے کہا پھر میں دو تہائیاں کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر چاہے }۔ اس نے کہا پھر تو میں اپنا سارا وقت اس کے لیے ہی کر دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس وقت اللہ تعالیٰ تجھے دین و دنیا کے غم سے نجات دیدے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا } }۔ [ ترمذی ] ‏‏‏‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { آدھی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے اور فرماتے ہیں { ہلا دینے والی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی بھی ہے }۔ ابی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رات کو کچھ نماز پڑھا کرتا ہوں، تو اس کا تہائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا رہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آدھا حصہ }۔ انہوں نے کہا کہ آدھا کر لوں؟ فرمایا: { دو تہائی } کہا اچھا میں پورا وقت اسی میں گزاروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تب تو اللہ تیرے تمام گناہ معاف فرما دے گا } } [ ترمذی ] ‏‏‏‏ اسی روایت کی ایک اور سند میں ہے { دو تہائی رات گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو اللہ کی یاد کرو۔ لوگو ذکر الٰہی کرو۔ دیکھو کپکپا دینے والی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ رہی ہے۔ موت اپنے ساتھ کی کل مصیبتوں اور آفتوں کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے }۔ ابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود پڑھتا ہوں پس کتنا وقت اس میں گزاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جتنا تو چاہے }۔ کہا چوتھائی؟ فرمایا: { جتنا چاہو اور زیادہ کرو تو اور اچھا ہے }۔ کہا آدھا تو یہی جواب دیا پوچھا دو تہائی تو یہی جواب ملا۔ کہا تو بس میں سارا ہی وقت اس میں گزاروں گا۔ فرمایا: { پھر اللہ تعالیٰ تجھے تیرے تمام ہم و غم سے بچا لے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

{ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنی تمام تر صلوۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر کر دوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دنیا اور آخرت کے تمام مقاصد پورے ہو جائیں گے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/5:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گھر سے نکلے۔ میں ساتھ ہو لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں گئے وہاں جا کر سجدے میں گرگئے اور اتنا لمبا سجدہ کیا، اس قدر دیر لگائی کہ مجھے تو یہ کھٹکا گزرا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو۔ قریب جا کر غور سے دیکھنے لگا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا مجھ سے پوچھا { کیا بات ہے؟ } تو میں نے اپنی حالت ظاہر کی۔ فرمایا: { بات یہ تھی کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا ”تمہیں بشارت سناتا ہوں کہ جناب باری عزاسمہ فرماتا ہے ’ جو تجھ پر درود بھیجے گا میں بھی اس پر درود بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:191/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ { یہ سجدہ اس امر پر اللہ کے شکریے کا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:191/5:حسن لغیره] ‏‏‏‏ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام کے لیے نکلے کوئی نہ تھا جو آپ کے ساتھ جاتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے پیچھے پیچھے گئے۔ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہیں، دور ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: { تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ مجھے سجدے میں دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ سنو میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا ”آپ کی امت میں سے جو ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے گا۔ اللہ اس پر دس رحمتیں اتارے گا اور اس کے دس درجے بلند کرے گا“ }۔ [طبرانی] ‏‏‏‏

{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، چہرے سے خوشی ظاہر ہورہی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سبب دریافت فرمایا کیا تو تو فرمایا: { ایک فرشتے نے آکر مجھے یہ بشارت دی کہ میرا امتی جب مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں اس پر اتریں گی۔ اسی طرح ایک سلام کے بدلے دس سلام } }۔ ۱؎ [سنن نسائی:1284،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک درود کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی، دس گناہ معاف ہوں گے، دس درجے بڑھیں گے اور اسی کے مثل اس پر لوٹایا جائے گا }۔ [مسند احمد:29/4:حسن] ‏‏‏‏ { جو شخص مجھ پر ایک درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:408] ‏‏‏‏ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ پر درود بھیجا کرو وہ تمہارے لیے زکوٰۃ ہے اور میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے جو ایک شخص کو ہی ملے گا کیا عجب کہ وہ میں ہی ہوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:365/2:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم پر جو درود بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر درود بھیجتے ہیں۔ اب جو چاہے کم کرے اور جو چاہے اس میں زیادتی کرے سنو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ایسے کہ گویا کوئی کسی کو رخصت کر رہا ہو، تین بار فرمایا کہ { میں امی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مجھے نہایت کھلا بہت جامع اور ختم کر دینے والا کلام دیا گیا ہے۔ مجھے جہنم کے داروغوں کی عرش کے اٹھانے والوں کی گنتی بتادی گئی ہے۔ مجھ پر خاص عنایت کی گئی ہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت عطا فرمائی گئی ہے۔ جب تک میں تم میں موجود ہوں سنتے اور مانتے رہو۔ جب مجھے میرا رب لے جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوط تھامے رہنا اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/2:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اسے چاہیئے کہ مجھ پر درود بھیجے۔ ایک مرتبہ کے درود بھیجنے سے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:9889:جید] ‏‏‏‏ { ایک درود دس رحمتیں دلواتا ہے اور دس گناہ معاف کراتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384] ‏‏‏‏ { بخیل ہے وہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3546،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { ایسا شخص سب سے بڑا بخیل ہے }۔ ۱؎ [فضل الصلواۃ علی النبی:37] ‏‏‏‏ ایک مرسل حدیث میں ہے { انسان کو یہ بخل کافی ہے کہ میرا نام سن کر درود نہ پڑھے }۔ فرماتے ہیں { وہ شخص برباد ہوا جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ وہ برباد ہوا جس کی زندگی میں رمضان آیا اور نکل جانے تک اس کے گناہ معاف نہ ہوئے۔ وہ بھی برباد ہوا جس نے اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کے زمانے کو پا لیا پھر بھی انہوں نے اسے جنت میں نہ پہنچایا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3535،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

یہ حدیثیں دلیل ہیں اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا واجب ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے۔ جیسے طحاوی حلیمی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ابن ماجہ میں ہے { جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا اس نے جنت کی راہ سے خطا کی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:908،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے۔ لیکن پہلی احادیث سے اس کی پوری تقویت ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں مجلس میں ایک دفعہ تو واجب ہے پھر مستحب ہے۔ چنانچہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے { جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کے ذکر اور درود کے بغیر اٹھ کھڑے ہوں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر وبال ہو جائے گی۔ اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب کرے چاہے معاف کر دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3380،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ذکر اللہ کا ذکر نہیں، اس میں یہ بھی ہے کہ { گو وہ جنت میں جائیں لیکن محرومی ثواب کے باعث انہیں سخت افسوس رہے گا }۔ ۱؎ [فضل الصلواۃ علی النبی:55] ‏‏‏‏ بعض کا قول ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ آپ پر درود واجب ہے پھر مستحب ہے تاکہ آیت کی تعمیل ہو جائے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کو بیان فرما کر اسی قول کی تائید کی ہے۔ لیکن طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت سے تو استحاب ہی ثابت ہوتا ہے اور اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان کا مطلب بھی یہی ہو کہ ایک مرتبہ واجب پھر مستحب جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی۔ لیکن میں کہتا ہوں بہت سے ایسے اوقات ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا ہمیں حکم ملا ہے لیکن بعض وقت واجب ہے اور بعض جگہ واجب نہیں۔ چنانچہ [ 1 ] ‏‏‏‏ اذان سن کر۔ دیکھئیے مسند کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو تم بھی کہو پھر مجھ پر درود بھیجو ایک کے بدلے دس درود اللہ تم پر بھیجے گا پھر میرے لیے وسیلہ مانگو جو جنت کی ایک منزل ہے اور ایک ہی بندہ اس کا مستحق ہے مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں سنو جو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرتا ہے اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384] ‏‏‏‏ پہلے درود کے زکوٰۃ ہونے کی حدیث میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے۔ فرمان ہے کہ { جو شخص درود بھیجے اور کہے «اَللّٰهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» اس کے لیے میری شفاعت قیامت کے دن واجب ہو جائے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/4:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ دعا منقول ہے «اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ الْکُبْرٰی وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ الْعُلْيَا وَآتِه سُؤْلَه فِي الْأخِرَةِ وَالْأَوْلٰی کَمَا آتَيْتَ إِبْرَاهيْمَ وَمُوْسٰی عليهما السّلام» ۔

[2] ‏‏‏‏ مسجد میں جانے اور مسجد سے نکلنے کے وقت۔ چنانچہ مسند میں ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جاتے تو درود و سلام پڑھ کر «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود و سلام کے بعد «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:314، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”جب مسجدوں میں جاؤ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا کرو۔‏‏‏‏“

[3] ‏‏‏‏ نماز کے آخری قعدہ میں التحیات کا دورد۔ اس کی بحث پہلی گزر چکی۔ ہاں اول تشہد میں اسے کسی نے واجب نہیں کہا۔ البتہ مستحب ہونے کا ایک قول شافعی کا ہے۔ گو دوسرا قول اس کے خلاف بھی انہی سے مروی ہے۔

[4] ‏‏‏‏ جنازے کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا۔ چنانچہ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورۃ فاتحہ پڑھے۔ دوسری میں درود پڑھ۔ تیسری میں میت کے لیے دعا کرے چوتھی میں «اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَا بَعْدَهُ» پڑھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { مسنون نماز جنازہ یوں ہے کہ امام تکبیر کہہ کر آہستہ سلام پھیر دے }۔ ۱؎ [بیهقی فی السنن الکبری:39/4] ‏‏‏‏

[5] ‏‏‏‏ عید کی نماز میں۔ سیدنا ابن مسعود، ابوموسیٰ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر ولید بن عقبہ کہتا ہے عید کا دن ہے بتلاؤ تکبیروں کی کیا کفیت ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ
56۔ 1 اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو (آسمانوں) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ثنا و تعریف کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالم سفلی (اہل زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ اور سلام بھیجیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہوجائیں۔ حدیث میں آیا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں (یعنی التحیات میں السلام علیک ایھا النبی! پڑھتے ہیں) ہم درود کس طرح پڑھیں؟ اس پر آپ نے وہ درود ابراہیمی بیان فرمایا جو نماز میں پڑھا جاتا ہے (صحیح بخاری) علاوہ ازیں احادیث میں درود کے اور بھی صیغے آتے ہیں جو پڑھے جاسکتے ہیں۔ نیز مختصرا صلی اللہ علی رسول اللہ وسلم بھی پڑھا جاسکتا ہے تاہم الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ وسلم! پڑھنا اس لیے صحیح نہیں کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے اور یہ صیغہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عام درود کے وقت منقول نہیں ہے اور تحیات میں السلام علیک ایھا النبی! چونکہ آپ سے منقول ہے اس وجہ سے اس وقت میں پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں مزید برآں اس کا پڑھنے والا اس فاسد عقیدے سے پڑھتا ہے کہ آپ اسے براہ راست سنتے ہیں یہ عقیدہ فاسدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور اس عقیدے سے مذکورہ خانہ ساز درود پڑھنا بھی بدعت ہے جو ثواب نہیں گناہ ہے احادیث میں درود کی بڑی فضیلت وارد ہے نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے یا سنت؟ جمہور علماء اسے سنت سمجھتے ہیں اور امام شافعی اور بہت سے علماء واجب اور احادیث سے اس کے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے اسی طرح احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب ہے پہلے تشہد میں بھی درود پڑھنے کی وہی حیثیت ہے اس لیے نماز کے دونوں تشہد میں درود پڑھنا ضروری اس کے دلائل مختصراحسب ذیل ہیں ایک دلیل یہ ہے کہ مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یارسول اللہ آپ پر سلام کس طرح پڑھنا ہے یہ تو ہم نے جان لیا (کہ ہم تشہد میں السلام علیک پڑھتے ہیں) لیکن جب ہم نماز میں ہوں تو آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے درود ابراہیمی کی تلقین فرمائی (الفتح الربانی) مسند احمد کے علاوہ یہ روایت صحیح ابن حبان، سنن کبری بیہقی، مستدرک حاکم اور ابن خزیمہ میں بھی ہے اس میں صراحت ہے کہ جس طرح سلام نماز میں پڑھا جاتا ہے یعنی تشہد میں اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درود ابراہیمی پڑھنے کا حکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیے اور اس کا مقام تشہد ہے اور حدیث میں یہ عام ہے اسے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے) دونوں تشہد میں سلام اور درود پڑھا جائے اور جن روایات میں تشہد کا بغیر درود کے ذکر ہے انھیں سورة احزاب کی آیت صلوا علیہ وسلم وا کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے گا لیکن اس آیت کے نزول یعنی 5 ہجری کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے استفسار پر درود کے الفاظ بھی بیان فرمادیئے تو اب نماز میں سلام کے ساتھ صلوۃ (درودشریف) کا پڑھنا بھی ضروری ہوگیا چاہے وہ پہلا تشہد ہو یا دوسرا اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ (بعض دفعہ) رات کو 9 رکعات ادا فرماتے آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھتے تو اس میں اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے اور نویں رکعت پوری کر کے تشہد میں بیٹھتے تو اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے اور پھر دعا کرتے پھر سلام پھیر دیتے (السنن الکبری مزید ملائظہ ہو صفۃ صلات النبی للألبانی) اس میں بالکل صراحت ہے کہ نبی نے اپنی رات کی نماز میں پہلے اور آخری دونوں تشہد میں درود پڑھا ہے یہ اگرچہ نفلی نماز کا واقعہ ہے لیکن مذکورہ عمومی دلائل کی آپ کے اس عمل سے تائید ہوجاتی ہے اس لیے اسے صرف نفلی نماز تک محدود کردینا صحیح نہیں ہوگا۔
(آیت 56) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ …:} لفظ {”صلاة“} کی تفسیر اس سے پہلے آیت (۴۳) میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے اور فرشتوں اور مومنوں کی نسبت سے {”صلاة“} کا کیا معنی ہے۔ اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی کئی خصوصیات کا ذکر فرمایا، مثلاً آپ کا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھنا، آپ کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا حلال ہونا، آپ کا خاتم النّبیین ہونا، آپ کی بیویوں کا امہات المومنین ہونا، ان کے حجاب و احترام کا خصوصی اہتمام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کی حرمت وغیرہ۔{ ” اِنَّ “} کا لفظ عموماً تعلیل کے لیے، یعنی پہلی باتوں کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بلند مراتب کا خاص خیال رکھنے اور ان کے تحفظ و احترام کا حکم دینے کی وجہ ذکر فرمائی۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”مقصود اس آیت سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ”ملأ اعلیٰ“ یعنی آسمانوں کی بلند مجلس میں اپنے بندے اور نبی کے مرتبہ و منزلت کی بلندی کی خبر دے رہا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف و ثنا کرتا اور آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی آپ کے لیے رحمت و مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ آسمانوں والوں کی خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی آپ پر صلاۃ و سلام بھیجو، تاکہ آپ کی تعریف و ثنا پر اور آپ کے لیے مغفرت و رحمت اور برکت کی دعا پر عالم علوی (آسمانوں والے) اور عالم سفلی (زمین والے) سب متحد ہو جائیں۔“ ➋ آیت کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ کلام میں کچھ الفاظ حذف ہیں، جو خود بخود معلوم ہو رہے ہیں، یعنی {” صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا “} سے ظاہر ہے کہ آیت کی ابتدا اس طرح ہے: {” إِنَّ اللّٰهَ وَ مَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ وَ يُسَلِّمُوْنَ“} اسے احتباک کہتے ہیں اور یہ کلامِ الٰہی کے حسن کا ایک مظہر ہے۔ (بقاعی) انبیاء علیھم السلام پر اللہ تعالیٰ کے سلام کا ذکر قرآن میں الگ الگ بھی آیا ہے، جیسے: «‏‏‏‏سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏، «‏‏‏‏وَ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ» ‏‏‏‏ وغیرہ اور اکٹھا بھی آیا ہے، جیسے: «‏‏‏‏وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ» ‏‏‏‏ [ دیکھیے الصافات: ۷۹، ۱۰۹، ۱۸۱ ] ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ پر صلاۃ کے لیے کئی الفاظ مروی ہیں، جو سبھی اس مقصد کے لیے پڑھے جا سکتے ہیں۔ ان میں زیادہ مشہور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں: [ سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ؟ فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ، قَالَ قُوْلُوْا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلٰی آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ، اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۳۷۰ ] ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”ہم نے کہا: ”آپ اہلِ بیت (گھر والوں) پر صلاۃ کس طرح ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوں کہو کہ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر صلاۃ بھیج، جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر صلاۃ بھیجی، بے شک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے اور اے اللہ! محمد اور آل محمد پر برکتیں نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں، بے شک تو تعریف کیا ہوا ہے، بزرگی والا ہے۔“ اس حدیث اور دوسری احادیث میں صحابہ کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اس سلام سے مراد نماز کے تشہد میں سلام کی تعلیم ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ عَلَّمَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، وَ كَفِّيْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّوْرَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ ] [بخاري، الاستئذان، باب الأخذ بالیدین: ۶۲۶۵ ] ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد اس طرح سکھایا جس طرح مجھے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی: ”تمام قولی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں اور تمام بدنی عبادتیں اور تمام مالی عبادتیں، سلام ہو تجھ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔“ جس طرح اس حدیث سے ظاہر ہے کہ آیت میں {” سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا “} پر عمل کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تشہد کے اندر سلام کے الفاظ کے ساتھ دی ہے، اسی طرح صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ کے بھی وہی الفاظ سیکھنے کی درخواست کی جو نماز میں پڑھے جائیں۔ چنانچہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ نَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّيْ عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِيْ صَلَاتِنَا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ حَتّٰی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ فَقَالَ إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُوْلُوْا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَ آلِ إِبْرَاهِيْمَ وَ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ كَمَا بَارَكْتَ عَلیٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ] [مسند أحمد: 119/4، ح: ۱۷۰۷۶، مسند احمد کے محقق نے بارہ کتب حدیث سے اس حدیث کا حوالہ نقل کر کے اس کی صحت بیان فرمائی ہے ] ”ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ پر سلام کو تو ہم جان چکے، اب ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں، جب ہم اپنی نماز میں صلاۃ بھیجیں، اللہ تعالیٰ آپ پر صلاۃ نازل فرمائے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ یہ شخص یہ سوال نہ کرتا کہ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ پر صلاۃ بھیجو تو اس طرح کہو۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ کے ان الفاظ کی تعلیم دی جو اوپر حدیث میں مذکور ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے حکم {”صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا “} سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر عمل کے لیے تشہد میں سلام اور صلاۃ کے الفاظ کی بہ نفس نفیس تعلیم سے ظاہر ہے کہ کم از کم نماز میں یہ صلاۃ و سلام پڑھنا ضروری ہے۔ بعض حضرات کی اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ صلاۃ و سلام زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ کلمۂ شہادت بھی زندگی میں صرف ایک دفعہ قبولِ اسلام کے وقت پڑھنا فرض ہے۔ حالانکہ صلاۃ کے علاوہ کلمہ شہادت پڑھنے کا حکم بھی ہر تشہد میں، اذان کا جواب دینے میں اور دوسرے کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ زندگی میں صرف ایک دفعہ کلمہ اور درود پڑھنا فرض ہونے پر امت کے اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ انھیں خوب معلوم ہے کہ کتنے جلیل القدر ائمہ نے نماز میں درود و سلام کو فرض تسلیم کیا ہے، پھر بھی اپنے غلط دعویٔ اجماع پر اصرار کرتے چلے جاتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ایسے کئی مواقع مذکور ہیں جہاں درود پڑھنے کا حکم ہے۔ ➍ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آنے پر صلاۃ بھیجنے کی تاکید آئی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْبَخِيْلُ الَّذِيْ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ] [ ترمذي، الدعوات، باب رغم أنف رجل ذکرت عندہ…: ۳۵۴۶ ] ”بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ پڑھے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلاَهُ الْجَنَّةَ ] [ ترمذي، الدعوات، باب رغم أنف رجل ذکرت عندہ…: ۳۵۴۵، و قال الألباني حسن صحیح ] ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ بھیجے اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر ماہ رمضان آئے، پھر وہ اس کی بخشش ہونے سے پہلے گزر جائے اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے والدین اس کے پاس بڑھاپے کو پائیں پھر وہ اسے جنت میں داخل نہ کروائیں۔“ ان احادیث کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر صلاۃ پڑھنا لازم ہے، اگرچہ آپ کا نام آنے پر ہر مرتبہ صلاۃ پڑھنی چاہیے اور محدثین کا یہی قول ہے، تاہم کسی مجلس میں آپ کا نام آنے پر اگر ایک مرتبہ صلاۃ پڑھ لے تو امید ہے کہ صلاۃ نہ پڑھنے کی وعید سے بچ جائے گا۔ جیسا کہ امام ترمذی نے بعض اہلِ علم سے نقل فرمایا ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ میں اس کی گنجائش موجود ہے اور آگے فائدہ (۶) میں مذکور دوسری حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ➎ نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جن الفاظ میں صلاۃ پڑھی جاتی ہے نماز کے علاوہ بھی انھی الفاظ میں پڑھی جائے گی، مگر اس کے علاوہ مختصر الفاظ میں بھی پڑھی جا سکتی ہے، جیسا کہ تمام صحابہ کرام جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے یا آپ کا نام لیتے تھے تو {”صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ“} کے الفاظ ادا کرتے تھے، جیسا کہ تمام کتب احادیث کی تمام احادیث سے ثابت ہے۔ اگر ہر محدث نے اپنے استاذ سے حتیٰ کہ تابعی نے صحابی سے یہ الفاظ نہ سنے ہوتے تو وہ نقل نہ فرماتے، کیونکہ وہ نقل میں نہایت امین تھے، بلکہ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرے ہوئے کسی وقت کو یاد کرتے تو یہی مختصر صلاۃ پڑھتے تھے۔ چنانچہ بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما کے مولیٰ عبداللہ نے بیان کیا: [ أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ تَقُوْلُ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُوْنِ: صَلَّی اللّٰهُ عَلٰی رَسُوْلِهِ مُحَمَّدٍ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا، وَ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافٌ ] [بخاري، العمرۃ، باب متی یحل المعتمر؟: ۱۷۹۶ ] ”اسماء رضی اللہ عنھا جب بھی حجون کے پاس سے گزرتیں تو یہ کہتیں {”صَلَّي اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهِ مُحَمَّدٍ“} ہم آپ کے ساتھ یہاں اترے تھے، ان دنوں ہم ہلکی پھلکی تھیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر کے وقت {”صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ“} کے الفاظ پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کے صیغے کے ساتھ {”الصلاة“} کا لفظ، مثلاً {”اَلصَّلَاةُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!“} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی صحابی سے ثابت نہیں، کیونکہ مخلوق کے پاس صلاۃ (رحمت و برکت) ہے ہی نہیں، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ ہی سے اسے نازل کرنے کی دعا کر سکتے ہیں۔ ➏ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کی فضیلت اور نہ پڑھنے کی وعید میں بہت سی احادیث مروی ہیں، یہاں دو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں: (1) عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ] [ مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن…: ۳۸۴ ] ”جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر صلاۃ پڑھو، کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس دفعہ صلاۃ بھیجتا ہے۔“ (2) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْهِ وَ لَمْ يُصَلُّوْا عَلٰی نَبِيِّهِمْ إِلاَّ كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ ] [ ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في القوم یجلسون…: ۳۳۸۰، و قال الألباني صحیح ] ”کوئی قوم کسی مجلس میں نہیں بیٹھی جس میں انھوں نے نہ اللہ کا ذکر کیا اور نہ اپنے نبی پر صلاۃ بھیجی، مگر وہ (مجلس) قیامت کے دن ان کے لیے باعث حسرت ہو گی، پھر اگر اس نے چاہا تو انھیں سزا دے گا اور اگر چاہا تو انھیں بخش دے گا۔“
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول(ص) کو اذیت پہنچاتے ہیں اللہ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کیلئے رسوا کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ملعون و معذب لوگ ٭٭

جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔ بخاری و مسلم میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔ جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔

پھر رافضی شیعہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ’ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے ‘۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ { سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ } انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [شعب الإيمان:393/4] ‏‏‏‏
57۔ 1 اللہ کو ایذا دینے کا مطلب ان کے افعال کا ارتکاب ہے جو وہ ناپسند فرماتا ہے ورنہ اللہ پر ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے؟ جسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے (صحیح بخاری) یعنی یہ کہنا کہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کردیا یہ صحیح نہیں اس لیے کہ افعال اللہ کے ہیں زمانے یا فلک کے نہیں اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانا آپ کی تکذیب آپ کو شاعر کذاب ساحر وغیرہ کہنا ہے علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام کو ایذا پہنچانے اور ان کی تنقیص واہانت کو بھی آپ نے ایذا قرار دیا ہے لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔
(آیت 57) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} قرآن مجید میں وعدہ و وعید اور ترغیب و ترہیب دونوں کا تذکرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، شان اور ان کے پاس آپ کی مدح و ثنا کے حوالے کے ساتھ ایمان والوں کو آپ کی مدح و ثنا اور آپ پر صلاۃ و سلام کا حکم دینے کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو مدح و ثنا کے بجائے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیں۔ فرمایا ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مراد ان لوگوں سے منافقین ہیں، جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ کسی مومن سے اس بات کا تصور ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ جان بوجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دے۔ ➋ اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی شان میں گستاخی کرنا اور ان کاموں کا ارتکاب ہے جو اس نے حرام قرار دیے ہیں، مثلاً یہود کا کہنا: «‏‏‏‏يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ» [ المائدۃ: ۶۴ ] ، نصاریٰ کا کہنا: «‏‏‏‏الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ» [التوبۃ: ۳۰ ] اور مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور بتوں کو اور اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک قرار دینا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلٰی أَذًی سَمِعَهُ مِنَ اللّٰهِ، يَدَّعُوْنَ لَهُ الْوَلَدَ، ثُمَّ يُعَافِيْهِمْ وَ يَرْزُقُهُمْ ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏إن اللّٰہ ھو الرزاق…» : ۷۳۷۸ ] ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں، پھر بھی وہ انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ عزوجل نے فرمایا: [ يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَ أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَ النَّهَارَ ] [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر: 2246/2 ] ”ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، (اس طرح کہ) وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کو میں بدلتا ہوں۔“ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اہلِ ایمان کو ایذا بھی اللہ تعالیٰ کو ایذا ہے، جیسا کہ کعب بن اشرف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی ہجو کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ ] [ بخاري، الرھن، باب رھن السلاح: ۲۵۱۰ ] ”کعب بن اشرف (کے قتل) کے لیے کون تیار ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔“ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا سے مراد کسی بھی طرح کی ایذا ہے، جسمانی ہو یا روحانی، آپ کو جھٹلانا ہو یا مخالفت کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح کی تکلیف پہنچائی گئی، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللّٰهِ وَ مَا يُخَافُ أَحَدٌ وَ لَقَدْ أُوْذِيْتُ فِي اللّٰهِ وَمَا يُؤْذٰی أَحَدٌ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب: ۲۴۷۲ ] ”مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ڈرایا گیا اتنا کہ کسی کو اتنا نہیں ڈرایا جاتا اور مجھے اللہ کی خاطر ایذا دی گئی اتنی کہ کسی کو اتنی نہیں دی جاتی۔“ ان ایذاؤں میں مکہ مکرمہ میں شاعر، کاہن، ساحر کہنا، مذاق اڑانا، سجدے کی حالت میں اونٹنی کی اوجھڑی اور آلائش لا کر اوپر ڈال دینا، چادر کے ساتھ گلا گھونٹ دینا، شعب ابی طالب میں تین سال محصور رکھنا، اہلِ طائف کا زبانی بدسلوکی کے علاوہ سنگ باری کرنا وغیرہ شامل ہیں اور مدینہ میں منافقوں کی بد زبانی اور طعنہ زنی بھی، مثلاً {” لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ “} اور {” وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ “} جیسی باتیں آپ کے لیے شدید ایذا کا باعث تھیں۔ پچھلی آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والی بعض ایسی چیزوں سے بھی منع کیا گیا ہے جن کا ایذا ہونا عام طور پر معلوم نہیں تھا، خصوصاً آیت (۵۳) میں بیان کردہ چیزیں۔ ➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا میں آپ کی تکذیب اور مخالفت کے علاوہ یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر طعن و تشنیع کی جائے، یا آپ کے پیاروں کے متعلق بدزبانی کی جائے۔
وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو اذیت پہنچاتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (جرم) کیا ہو۔ بے شک وہ ایک بڑے بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں، بغیر کسی گناہ کے جو انھوں نے کمایا ہو تو یقینا انھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ملعون و معذب لوگ ٭٭

جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔ بخاری و مسلم میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔ جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔

پھر رافضی شیعہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ’ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے ‘۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ { سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ } انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [شعب الإيمان:393/4] ‏‏‏‏
یعنی ان کو بدنام کرنے کے لیے ان پر بہتان باندھنا ان کی ناجائز تنقیص و توہین کرنا جیسے روافض صحابہ کرام ؓ پر سب وشتم کرتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں رافضی منکوس القلوب ہیں ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔
(آیت 58) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا …:} یعنی انھیں بدنام کرنے کے لیے ان کی طرف ایسے کاموں کی نسبت کرتے ہیں جو انھوں نے کیے ہی نہیں۔ یہ بہتان ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ] ”تمھارا اپنے بھائی کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ کہا گیا: ”یہ بتائیں اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِنْ كَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَ إِنْ لَّمْ يَكُنْ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَهَتَّهُ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۷۴، و قال الألباني صحیح ] ”اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ چیز نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لیتے وقت شرک، چوری، زنا اور قتل نہ کرنے کا عہد لینے کے ساتھ بہتان نہ باندھنے کا بھی عہد لیتے تھے۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ (۱۲)۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مِنْ أَرْبَی الرِّبَا الْاِسْتِطَالَةَ فِيْ عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۷۶، و قال الألباني صحیح ] ”سود کی سب سے بڑی قسموں میں سے ایک کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی یا زبان درازی ہے۔“ ابن کثیر نے فرمایا: ”آیت: «‏‏‏‏وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ …» اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں، پھر رافضی شیعہ جو صحابہ کے نقص بیان کرتے اور ان کے ذمے وہ عیب لگاتے ہیں جن سے انھیں اللہ تعالیٰ نے بری قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جو تعریف فرمائی یہ صاف اس کے الٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کی تعریف کی اور ان کے متعلق بتایا کہ وہ ان سے راضی ہو گیا اور یہ جاہل اور غبی انھیں برا بھلا کہتے، ان کے نقص نکالتے اور ان کے ذمے وہ چیزیں لگاتے ہیں جو حقیقت میں انھوں نے کبھی کی ہی نہیں، یہ الٹے دلوں والے ہیں کہ جو لوگ تعریف کے لائق ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور جو مذمت کے لائق ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں۔ “ (ابن کثیر) ➋ قاسمی نے فرمایا: ”اکلیل میں ہے کہ اس آیت سے مسلمان کو ایذا دینا حرام ثابت ہوا۔ ہاں کسی شرعی وجہ سے ہو تو الگ بات ہے، جیسے کسی گناہ کی سزا اور اس میں وہ تمام چیزیں آ جاتی ہیں جو مسلمان کو ایذا کی وجہ سے حرام کی گئی ہیں، مثلاً دوسرے کی بیع پر بیع یا اس کے خِطبہ (منگنی) پر خِطبہ اور امام شافعی نے صراحت فرمائی کہ کسی شخص کے آگے سے کھانا جب اسے اس سے تکلیف ہوتی ہو، حرام ہے۔“
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور (عام) اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ (باہر نکلتے وقت) اپنے اوپر چادر (بطور گھونگھٹ) لٹکا لیا کریں یہ طریقہ قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے ‘۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ‘۔‏‏‏‏“ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏‏‏‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏‏‏‏“ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏‏‏‏“

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏‏‏‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو ‘۔
59۔ 1 جلابیب، جلباب کی جمع ہے جو ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے اپنے اوپر چادر لٹکانے سے مراد اپنے چہرے پر اس طرح گھونگٹ نکالنا ہے کہ جس سے چہرے کا بیشتر حصہ بھی چھپ جائے اور نظریں جھکا کر چلنے سے اسے راستہ بھی نظر آتا جائے پاک وہند یا دیگر اسلامی ممالک میں برقعے کی جو مختلف صورتیں ہیں عہد رسالت میں یہ برقعے عام نہیں تھے پھر بعد میں معاشرت میں وہ سادگی نہیں رہی جو عہد رسالت اور صحابہ وتابعین کے دور میں تھی عورتیں نہایت سادہ لباس پہنتی تھیں بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کے اظہار کا کوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک بڑی چادر سے بھی پردے کے تقاضے پورے ہوجاتے تھے لیکن بعد میں یہ سادگی نہیں رہی اس کی جگہ تجمل اور زینت نے لے لی اور عورتوں کے اندر زرق برق لباس اور زیورات کی نمائش عام ہوگئی جس کی وجہ سے چادر سے پردہ کرنا مشکل ہوگیا اور اس کی جگہ مختلف انداز کے برقعے عام ہوگئے گو اس سے بعض دفعہ عورت کو بالخصوص سخت گرمی میں کچھ دقت بھی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ ذرا سی تکلیف شریعت کے تقاضوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تاہم جو عورت برقعے کے بجائے پردے کے لیے بڑی چادر استعمال کرتی ہے اور پورے بدن کو ڈھانکتی اور چہرے پر صحیح معنوں میں گھونگٹ نکالتی ہے وہ یقینا پردے کے حکم کو بجالاتی ہے کیونکہ برقعہ ایسی لازمی شئی نہیں ہے جسے شریعت نے پردے کے لیے لازمی قرار دیا ہو لیکن آج کل عورتوں نے چادر کو بےپردگی اختیار کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے پہلے وہ برقعے کی جگہ چادر اوڑھنا شروع کرتی ہیں پھر چادر بھی غائب ہوجاتی ہے صرف دوپٹہ رہ جاتا ہے اور بعض عورتوں کے لیے اس کا لینا بھی گراں ہوتا ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ اب برقع کا استعمال ہی صحیح ہے کیونکہ جب سے برقعے کی جگہ چادر نے لے لی ہے بےپردگی عام ہوگئ ہے بلکہ عورتیں نیم برہنگی پر بھی فخر کرنے لگی ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون بہرحال اس آیت میں نبی کی بیویوں، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت پردے کا حکم دیا گیا جس سے واضح ہے کہ پردے کا حکم علماء کا ایجاد کردہ نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگ باور کراتے ہیں یا اس کو قرار واقعی اہمیت نہیں دیتے بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے جو قرآن کریم کی نص سے ثابت ہے۔ اس سے اعراض، انکار اور بےپردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ نبی کی ایک بیٹی نہیں تھی جیسا کہ رافضیوں کا عقیدہ ہے بلکہ آپ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں جیسا کہ نص قرآنی سے واضح ہے اور یہ چار تھیں جیسا کہ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔ 59۔ 2 یہ پردے کی حکمت اور اس کے فائدے کا بیان ہے کہ اس سے ایک شریف زادی اور باحیا عورت اور بےشرم اور بدکار عورت کے درمیان پہچان ہوگی۔ پردے سے معلوم ہوگا کہ یہ خاندانی عورت ہے جس سے چھیڑ خانی کی جرات کسی کو نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس بےپردہ عورت اوباشوں کی نگاہوں کا مرکز اور ان کی ابو الہوسی کا نشانہ بنے گی
(آیت 59) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ …:} مسلمانوں کو ایذا دینے والوں کے لیے وعید کے بیان کے بعد مسلم عورتوں کو ایذا سے بچنے کے لیے پردے کی تاکید فرمائی۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں ایک سے زیادہ تھیں۔ بعض لوگ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے علاوہ دوسری بیٹیوں کو آپ کی بیٹیاں تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے کہنے کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں سے مراد امت کی عورتیں ہیں، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور آپ کی بیٹیوں کے بعد مومنوں کی عورتوں کا الگ ذکر فرمایا ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں مذکور ہیں، زینب، ام کلثوم، رقیہ اور فاطمہ رضی اللہ عنھن {” نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ “} میں مومنوں کی بیویوں کے علاوہ ان سے تعلق رکھنے والی تمام عورتیں، مثلاً ان کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بھتیجیاں اور بھانجیاں وغیرہ سب شامل ہیں۔ ➋ {”جَلَابِيْبُ“ ”جِلْبَابٌ“} کی جمع ہے، بڑی چادر جو جسم کو ڈھانپ لے۔ {” مِنْ “} کا لفظ تبعیض کے لیے ہے، یعنی اپنی چادروں کا کچھ حصہ۔ {” يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ “}، {”أَدْنٰي يُدْنِيْ“} کا معنی قریب کرنا ہے، {” عَلَيْهِنَّ “} کے لفظ سے اس میں لٹکانے کا مفہوم پیدا ہو گیا۔ عرب کی عورتیں تمام جاہل معاشروں کی طرح سب لوگوں کے سامنے کھلے منہ پھرتی تھیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔“ اس لٹکانے سے مراد کیا ہے؟ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا: {” أَمَرَ اللّٰهُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ فِيْ حَاجَةٍ أَنْ يُّغَطِّيْنَ وُجُوْهَهُنَّ مِنْ فَوْقِ رُؤُوْسِهِنَّ بِالْجَلاَبِيْبِ، وَ يُبْدِيْنَ عَيْنًا وَاحِدَةً “} [طبري: ۲۸۸۸۰ ] ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے نکلیں تو اپنے چہرے کو اپنے سروں کے اوپر سے پڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ لَمَّا نَزَلَتْ: «‏‏‏‏يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ» خَرَجَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ كَأَنَّ عَلٰی رُءُوْسِهِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الْأَكْسِيَةِ ] [ أبو داوٗد، اللباس، باب في قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏یدنین علیھن من جلا بیبھن» ‏‏‏‏: ۴۱۰۱، و قال الألباني صحیح ] ”جب آیت {” يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ“} نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں اس طرح نکلیں جیسے ان کے سروں پر (سیاہ) چادروں کی وجہ سے کوّے ہوں۔“ ➌ { ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اپنے آپ پر چادروں کا کچھ حصہ اس طرح لٹکایا جائے کہ صرف ایک آنکھ کھلی رہے، چہرہ نظر ہی نہ آئے تو اس طرح تو عورت کی پہچان ہو ہی نہیں سکتی، پھر یہ فرمانے کا کیا مطلب ہے کہ ”یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ پہچانی جائیں سے یہ مراد نہیں کہ یہ فلاں عورت ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ پردہ کرنے کی وجہ سے ان کی پہچان ہو جائے کہ یہ شریف اور باحیا عورتیں ہیں، پھر کوئی انھیں چھیڑنے کی جرأت نہیں کرے گا، نہ کسی کے دل میں انھیں اپنی طرف مائل کرنے کا لالچ پیدا ہو سکے گا۔ اس کے برعکس بے پردہ عورت کی کیا پہچان ہو سکتی ہے کہ وہ شریف ہے یا بازار میں پیش ہونے والا سامان، جسے کوئی بھی حاصل کر سکتا ہے۔ پردہ اتارنے کے بعد اسے ایذا سے محفوظ رہنے کے بجائے فاسق و فاجر لوگوں کی چھیڑ چھاڑ، زبردستی اور بعض اوقات اغوا کا منتظر رہنا چاہیے۔ ➍ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چہرے کا پردہ نہیں، مگر یہ آیت ان کا رد کرتی ہے، اس کے علاوہ سورۂ نور کی آیت (۳۱ اور ۶۰) سے اور سورۂ احزاب کی آیت (۵۳ اور ۵۵) سے بھی واضح طور پر پردے کا حکم ثابت ہو رہا ہے۔ زیر تفسیر آیت کے ساتھ ایک مرتبہ ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بھی دیکھ لیں۔ واقعۂ افک میں عائشہ رضی اللہ عنھا کا کہنا کہ صفوان نے مجھے پردے کی آیات اترنے سے پہلے دیکھا تھا، بھی چہرے کے پردے کی واضح دلیل ہے۔ ➎ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:غَفُوْرًا “} پردہ ڈالنے والا، {” رَحِيْمًا “} بے حد مہربان۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے لیے پردے کا جو حکم دیا ہے اس کی وجہ اس کی صفت مغفرت و رحمت ہے۔ وہ تم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے اور تم پر رحم کرنا چاہتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل ہی سے تم اس کی پردہ پوشی اور رحمت کے حق دار بنو گے، اگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی تو اپنی کوتاہیوں پر اس کی پردہ پوشی کی اور رحمت کی امید نہ رکھو۔
لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۖۛۚ۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر منافقین، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر (اب بھی) یہ منافق اور وه جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وه لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان (کی تباہی) پر مسلط کردیں گے پھر تو وه چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں ره سکیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن
علامہ محمد حسین نجفی
اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے (اپنی حرکتوں سے) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے خلاف حرکت میں لے آئیں گے پھر وہ (مدینہ) میں آپ کے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت کم۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اگر یہ منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ باز نہ آئے تو ہم تجھے ضرور ہی ان پر مسلط کر دیں گے، پھر وہ اس میں تیرے پڑوس میں نہیں رہیںگے مگر کم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے ‘۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ‘۔‏‏‏‏“ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏‏‏‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏‏‏‏“ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏‏‏‏“

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏‏‏‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو ‘۔
60۔ ا مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے منافقین افواہیں اڑاتے رہتے تھے کہ مسلمان فلاں علاقے میں مغلوب ہوگئے، یا دشمن کا لشکر جرار حملہ آور ہونے کے لئے آرہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
(آیت 60) {لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ …: ” لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ”أَغْرٰي يُغْرِيْ“} کا معنی ہے ابھارنا، اکسانا، بھڑکا دینا، مسلط کر دینا۔ گزشتہ اور زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ سے بعض منافقین اور دل میں فسق و فجور کا روگ رکھنے والے لوگ راستے میں عورتوں کو چھیڑتے تھے اور جھوٹی خبریں پھیلا کر مسلمانوں کو پریشان کرتے تھے، جیسا کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان کے معاملے میں کیا۔ ان آیات میں پہلے تو عورتوں کو پردے کا حکم دیا، تا کہ ایسے بدطینت لوگوں کو دست درازی کی جرأت نہ ہو سکے۔ پھر اس آیت میں دھمکی دی کہ اگر یہ منافق لوگ اور جن کے دلوں میں بدکاری کی بیماری ہے اس چھیڑ چھاڑ اور دست درازی سے اور افواہ بازی سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کا قلع قمع کرنے کے لیے ان پر مسلط کر دیں گے، پھر یہ لوگ مدینہ میں آپ کے ساتھ کم ہی رہ سکیں گے، پھر یا تو انھیں جلاوطن کر دیا جائے گا، یا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پوشیدہ زنا اور دوسرے گناہ معاشرے کے لیے اتنے نقصان دہ نہیں، جس قدر دیدہ دلیری سے راہ چلتی خواتین کو چھیڑنا اور ان پر دست درازی کی کوشش کرنا، یا جرأت اور دلیری کے ساتھ علانیہ برائی کا ارتکاب نقصان دہ ہے۔ اس لیے اس کی روک تھام کے لیے نہایت سخت دھمکی دی۔
مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں
احمد رضا خان بریلوی
پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ بھی لعنت کے مارے ہوئے وہ جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے، بری طرح ٹکڑے کیا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے ‘۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ‘۔‏‏‏‏“ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏‏‏‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏‏‏‏“ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏‏‏‏“

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏‏‏‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو ‘۔
61۔ 1 یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر
(آیت 61){ مَلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا:} یعنی ایسے لوگ ملعون ہیں، جہاں پائے جائیں گے انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں مذکورہ احکام وقتی اور عارضی نہیں، بلکہ قرآن مجید کے دوسرے احکام کی طرح قیامت تک کے لیے ہیں۔ اب بھی حکومت پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کا یہی علاج کرے، جو لوگ بھرے بازار سے لڑکیاں اٹھا لیں، لڑکے اٹھا کر ان سے قوم لوط کا عمل کریں، پورے معاشرے کے سامنے نکاح کے بغیر بدکار مرد عورت اکٹھے رہ کر اللہ کی حدود کو للکارتے رہیں ان کا علاج یہی ہے کہ انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے، تاکہ دوبارہ کسی کو ایسا کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اغوا اور ایسے دوسرے معاملات سادہ زنا کے کیس نہیں ہیں، بلکہ زنا کے علاوہ یہ فساد فی الارض کے تحت بھی آتے ہیں، جن کی سزا ایسے لوگوں کا صفایا ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ لَقِيْتُ عَمِّيْ وَ مَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰی رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيْهِ فَأَمَرَنِيْ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ ] [أبو داوٗد، الحدود، باب في الرجل یزني بحریمہ: ۴۴۵۷، و قال الألباني صحیح ] ”میں اپنے چچا سے ملا، اس کے پاس جھنڈا تھا، میں نے اس سے کہا: ”کہاں جانے کا ارادہ ہے؟“ اس نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتاردوں اور اس کا مال لے لوں۔“ مزید دیکھیے سورۂ مائدہ (۳۳)۔
سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز ردوبدل نہ پائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو (ایسے لوگ) ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور آپ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کے طریقے کی طرح ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور تو اللہ کے طریقے میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے ‘۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ‘۔‏‏‏‏“ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏‏‏‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏‏‏‏“ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏‏‏‏“

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏‏‏‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 62) {سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ …:} یعنی معاشرے کو پاک رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ عورتوں کو چھیڑنے والے اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کو گرفتار کیا جاتا تھا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا تھا۔ یہ سزا کوئی نئی نہیں، بلکہ پہلی تمام آسمانی شریعتوں میں ہمیشہ یہی سزا دی جاتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور نہ آئندہ اس میں تبدیلی ہو گی۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”تورات میں بھی یہ نقل ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کر دو۔“ (موضح)
یَسۡـَٔلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی کہو، اُس کا علم تو اللہ ہی کو ہے تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو
احمد رضا خان بریلوی
لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو
علامہ محمد حسین نجفی
لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کب آئے گی؟) آپ کہہ دیجئے! کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے (اے سائل!) تمہیں کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو؟
عبدالسلام بن محمد
لوگ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو کہہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تجھے کیا چیز معلوم کرواتی ہے، شاید قیامت قریب ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 63) ➊ { يَسْـَٔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ:} قرطبی نے فرمایا: ”ان سوال کرنے والوں سے مراد وہی پیغمبر کو ایذا دینے والے، دل کے بیمار، منافق اور جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ ہیں، جن کا پیچھے ذکر ہوا، جب ان کو عذاب مہین سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے {”اَلسَّاعَةُ“} عذاب کی وہ گھڑی، یعنی قیامت کب ہے؟ مقصد ان کا پوچھنا نہیں تھا، بلکہ اس کا انکار اور مذاق اڑانا اور پیغمبر کو لاجواب کرنا تھا کہ انھیں اتنا بھی علم نہیں کہ قیامت کب ہو گی۔“ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷)، طٰہٰ (۱۵)، نمل (۶۶)، نازعات (۴۲ تا ۴۴) اور سورۂ ملک (۲۵ تا ۲۷) وغیرہ۔ ➋ { قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ:} یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا علم دوسرے تمام لوگوں کی طرح مجھ سے بھی مخفی رکھا ہے تو اس سے میرے صدق پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ نبی ہونے کی یہ شرط ہے کہ وہ غیب دان ہو اور ان باتوں کو بھی جانتا ہو جو اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں بتائیں۔ ➌ {وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِيْبًا:} یعنی اگرچہ اس کے متعین وقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر بھی یہ جان لو کہ وہ بہت نزدیک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ» ‏‏‏‏ [ القمر: ۱ ] ”قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔“ اور فرمایا: «اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۱ ] ”لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ» [ النحل: ۱ ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“ اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ بِإِصْبَعَيْهِ هٰكَذَا بِالْوُسْطٰی وَالَّتِيْ تَلِی الْإِبْهَامَ بُعِثْتُ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ] [ بخاري، التفسیر، باب سورۃ: «‏‏‏‏والنازعات» ‏‏‏‏: ۴۹۳۶ ] ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اپنی دو انگلیوں درمیانی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح (ساتھ ساتھ) بھیجا گیا ہے۔“ ➍ یہاں ایک سوال ہے کہ {” السَّاعَةِ “} مؤنث کی خبر {” قَرِيْبًا “} مذکر کیوں ہے؟ جواب کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف کی آیت (۵۶): «اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔
اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿ۙ۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 64){ اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ …:} مفردات راغب میں ہے {”لَعَنَ“} کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں سزا دینا ہے اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم رکھنا ہے اور انسان کی لعنت کسی کے لیے بددعا کرنا ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والے یہ کافر، خواہ علانیہ منکر ہیں یا منافق، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور کر دیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ۚ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۚ۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، کوئی حامی و مدد گار نہ پا سکیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وه کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار
علامہ محمد حسین نجفی
جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ (وہاں) کوئی حامی و مددگار نہیں پائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں ہمیشہ رہنے والے ہمیشہ، نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 65) ➊ {خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا:} پھر یہ نہیں کہ کچھ دیر رہ کر اس سے نکل آئیں گے کہ اس خیال سے بھی تکلیف کچھ کم ہو جاتی ہے، بلکہ {” خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ “} وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ {” خٰلِدِيْنَ “} کا لفظ صرف لمبی مدت کے لیے ہے، بلکہ {” اَبَدًا “} یعنی یہ ہمیشگی ابدی ہے، کبھی اس سے نکلنے والے نہیں۔ ➋ { لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا:} عذاب کی ہمیشگی کی مزید تاکید کے لیے فرمایا کہ عذاب میں مبتلا آدمی کو یا تو کوئی دوست سفارش کر کے چھڑوا سکتا ہے، یا مددگار جو زبردستی چھڑوالے، مگر کفار کو وہاں کوئی دوست ملے گا نہ مددگار۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)۔
یَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ یَقُوۡلُوۡنَ یٰلَیۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰہَ وَ اَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ "کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت وافسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرتے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ان کے چہرے (دوزخ کی) آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ کہیں کہ کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور (کاش) ہم نے رسول(ص) کی اطاعت کی ہوتی۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، کہیں گے اے کاش کہ ہم نے اللہ کا کہنا مانا ہوتا اور ہم نے رسول کا کہنامانا ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 66) ➊ { يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ:} یہ بیان کرنے کے بعد کہ کوئی سفارش کرنے والا یا مددگار ان سے عذاب نہیں ہٹا سکے گا، اب بیان فرمایا کہ ان کے جسم کے اعضا میں سے کوئی عضو بھی دوسرے عضو کو آگ سے نہیں بچا سکے گا۔ دنیا میں چہرے پر آنے والی کسی ضرب یا آگ کی لپٹ سے ہاتھ ڈھال بن جاتا ہے، یا آدمی سرجھکا لیتا ہے، مگر وہاں چہرے اور آگ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۳۹)، زمر (۲۴) اور سورۂ قمر (۴۸) پھر جب چہرے کا یہ حال ہو گا، جو جسم کا سب سے باشرف حصہ ہے تو ددسرے اعضا کا کیا حال ہو گا!؟ ➋ آگ میں چہرے الٹ پلٹ کیے جانے کے ذکر سے مقصود ان کی بری حالت کی منظر کشی ہے کہ اگرچہ چہروں کو چاروں طرف سے آگ نے گھیر رکھا ہو گا، اس کے باوجود انھیں الٹ پلٹ بھی کیا جائے گا، تاکہ نئی سے نئی آگ کے سامنے آتے رہیں اور ایک جگہ سے اگر تکلیف میں کوئی کمی ممکن ہو تو وہ بھی نہ ہو سکے۔ (دیکھیے توبہ: ۳۵) نئے سے نئے عذاب کے لیے چہروں کے الٹ پلٹ کیے جانے کے ساتھ چمڑوں کی مسلسل تبدیلی کا عمل بھی جاری رہے گا۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۶) [ اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَ مِنْ حَالِ أَھْلِ النَّارِ ] ➌ { يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا: ”لَيْتَ“} (کاش) کا لفظ تَمَنّی کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسی چیز کی خواہش جو ممکن نہ ہو۔ ابن کثیر نے فرمایا، اس حال میں جب کہ ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جا رہے ہوں گے، وہ تمنا کریں گے کہ کاش! دنیا میں انھوں نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے میدانِ حشر میں ان کا حال بیان فرمایا: «وَ يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا (27) يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا (28) لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِيْ وَ كَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا» ‏‏‏‏ [ الفرقان: ۲۷ تا ۲۹ ] ”اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔ ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» [ الحجر: ۲ ] ”بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“
وَ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کہیں گے "اے رب ہمارے، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راه راست سے بھٹکا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے تو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہی کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی سرداروں کی اطاعت کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور کہیں گے اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تو انھوں نے ہمیں اصل راہ سے گمراہ کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔
67۔ 1 یعنی ہم نے تیرے پیغمبروں اور داعیان دین کی بجائے اپنے ان بڑے اور برزگوں کی پیروی کی، لیکن آج ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمیں تیرے پیغمبروں سے دور رکھ کر راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ آبا پرستی اور تقلید فرنگ آج بھی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہے کاش مسلمان آیات الٰہی پر غور کر کے ان پگڈنڈیوں سے نکلیں اور قرآن و حدیث کی صراط مستقیم کو اختیار کرلیں کہ نجات صرف اور صرف اللہ اور رسول کی پیروی میں ہی ہے نہ کہ مشائخ واکابر کی تقلید میں یا آبا واجداد کے فرسودہ طریقوں کے اختیار کرنے میں۔
(آیت 67) {وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا …: ”سَادَةٌ“ ”سَيِّدٌ“} کی جمع ہے اور {”كُبَرَاءُ“ ”كَبِيْرٌ“} کی جمع ہے۔ ابن کثیر میں ہے: ”طاؤس نے فرمایا {” سَادَتَنَا “} سے مراد سردار اور چودھری ہیں اور {” كُبَرَآءَنَا “} سے مراد عالم ہیں۔“ قرآن مجید میں لوگوں کی گمراہی کا باعث بننے والے طبقے تین بتائے گئے ہیں، مستکبرین (چودھری، سردار)، احبار (علماء) اور رہبان (درویش)۔ عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا: {وَ هَلْ أَفْسَدَ الدِّيْنَ إِلَّا الْمُلُوْكُ وَ أَحْبَارُ سَوْءٍ وَ رُهْبَانُهَا} ”دین کو بادشاہوں، برے علماء اور درویشوں ہی نے خراب کیا ہے۔“ یعنی جہنمی کہیں گے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے اپنے سرداروں، عالموں اور درویشوں کی اطاعت کی اور سمجھتے رہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ انھوں نے ہمیں سیدھے راستے پر لے جانے کے بجائے اصل راستے سے گمراہ کر دیا۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص قرآن مجید کی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث معلوم ہونے کے باوجود اس کے خلاف اپنے سادات و اکابر، یعنی کسی بادشاہ، عالم یا پیر کی اطاعت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن یہی تمنا کرے گا جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷)۔
رَبَّنَاۤ اٰتِہِمۡ ضِعۡفَیۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَ الۡعَنۡہُمۡ لَعۡنًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر"
مولانا محمد جوناگڑھی
پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما
احمد رضا خان بریلوی
اے ہمارے رب! انہیں آگ کا دُونا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر،
علامہ محمد حسین نجفی
سو انہوں نے (سیدھے) راستہ سے ہمیں بھٹکا دیا اے ہمارے پرورگار! انہیں دوہرا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت کر۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! انھیں دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر، بہت بڑی لعنت۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 68) {رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ …:} اپنی لاحاصل تمناؤں اور حسرتوں کے اظہار کے ساتھ ہی دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے اپنے سادات و اکابر کو دگنا عذاب دینے کی دعا کریں گے، مگر اس سے بھی انھیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (39،38) اور سورۂ ص (۵۵ تا ۶۱)۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اٰذَوۡا مُوۡسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ وَ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ وَجِیۡہًا ﴿ؕ۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں، پھر اللہ نے اُن کی بنائی ہوئی باتوں سے اُس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ(ع) کو اذیت پہنچائی تھی تو اللہ نے انہیں ان کی ان باتوں (تہمتوں) سے بَری کر دیا اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے معزز تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کا مزاج ٭٭

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام بہت ہی شرمیلے اور بڑے لحاظ دار تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4799] ‏‏‏‏ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا۔ کتاب التفسیر میں تو امام صاحب رحمہ اللہ اس حدیث کو اتنا ہی مختصر لائے ہیں، لیکن احادیث انبیاء علیہم السلام کے بیان میں اسے مطول لائے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { وہ بوجہ سخت حیاء و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے۔ بنو اسرائیل آپ علیہ السلام کو ایذاء دینے کے درپے ہو گئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ علیہ السلام سے دور کر دے۔ ایک دن موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام تنہائی میں ننگے نہا رہے تھے، ایک پتھر پر آپ علیہ السلام نے کپڑے رکھ دیئے تھے، جب غسل سے فارغ ہو کر آئے، کپڑے لینے چاہے تو پتھر آگے کو سرک گیا۔ آپ علیہ السلام اپنی لکڑی لیے اس کے پیچھے گئے وہ دوڑنے لگا۔ آپ علیہ السلام بھی اے پتھر میرے کپڑے میرے کپڑے کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے۔ بنی اسرائیل کی جماعت ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی۔ جب آپ علیہ السلام وہاں تک پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پتھر ٹھہر گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے پہن لیے۔ بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے تمام جسم کو دیکھ لیا اور جو فضول باتیں ان کے کانوں میں پڑی تھیں ان سے اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بری کر دیا۔ غصے میں موسیٰ علیہ السلام نے تین یا چار پانچ لکڑیاں پتھر پر ماری تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { واللہ لکڑیوں کے نشان اس پتھر پر پڑ گئے }۔ اسی برأت وغیرہ کا ذکر اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3404] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم میں نہیں یہ روایت بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں ہے۔ بعض روایتیں موقوف بھی ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایک مرتبہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام پہاڑ پر گئے جہاں ہارون علیہ السلام کا انتقال ہو گیا لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بدگمانی کی اور آپ علیہ السلام کو ستانا شروع کیا۔ پروردگار عالم نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ اسے اٹھا لائے اور بنو اسرائیل کی مجلس کے پاس سے گزرے اللہ نے اسے زبان دی اور قدرتی موت کا اظہار کیا۔ ان کی قبر کا صحیح نشان نامعلوم ہے صرف اس ٹیلے کا لوگوں کو علم ہے اور وہی ان کی قبر کی جگہ جانتا ہے لیکن بے زبان ہے۔‏‏‏‏“ تو ہوسکتا ہے کہ ایذاء یہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایذاء ہو جس کا بیان پہلے گزرا۔ لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اور یہ دونوں ہوں بلکہ ان کے سوا اور بھی ایذائیں ہوں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ تقسیم کیا اس پر ایک شخص نے کہا اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب یہ سنا تو میں نے کہا اے اللہ کے دشمن میں تیری اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا۔ چنانچہ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر فرمایا: { اللہ کی رحمت ہو موسیٰ علیہ السلام پر وہ اس سے بہت زیادہ ایذاء دے گئے لیکن صبر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4335] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام ارشاد تھا کہ { کوئی بھی میرے پاس کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں تم میں آ کر بیٹھوں تو میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی بات چبھتی ہوئی نہ ہو }۔ ایک مرتبہ کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوگوں میں تقسیم کیا۔ دو شخض اس کے بعد آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ واللہ اس تقسیم سے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا نہ آخرت کے گھر کا۔ میں ٹھہر گیا اور دونوں کی باتیں سنیں۔ پھر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ { کسی کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو }۔ ابھی کا واقعہ ہے کہ میں جا رہا تھا جو فلاں اور فلاں سے میں نے یہ باتیں سنیں اسے سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بہت ہی گراں گزری۔ پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عبداللہ جانے دو دیکھو موسیٰ علیہ السلام اس سے بھی زیادہ ستائے گئے لیکن انہوں نے صبر کیا } }۔ [مسند احمد:395/1:ضعیف] ‏‏‏‏ قرآن فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے۔ مستجاب الدعوت تھے۔ جو دعا کرتے تھے قبول ہوتی تھی۔ ہاں اللہ کا دیدار نہ ہوا اس لیے کہ یہ طاقت انسانی سے خارج تھا۔ سب سے بڑھ کر ان کی وجاہت کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کیلئے نبوت مانگی اللہ نے وہ بھی عطا فرمائی۔ فرماتا ہے «وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53] ‏‏‏‏ ’ ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔
69۔ 1 اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نہایت با حیا تھے، چناچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنو اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ ؑ کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے۔ پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ حتٰی کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ ؑ نہایت حسین و جمیل ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کے اس الزام اور شبہہ سے صفائی کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحیح بخاری) حضرت موسیٰ ؑ کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جارہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ قلق اور اضطراب محسوس کریں جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا جب آپ تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ کا چہر مبارک سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا موسیٰ ؑ پر اللہ کی رحمت ہو انھیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا (صحیح بخاری)
(آیت 69) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى:} اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں پر لعنت اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ سورت کے شروع ہی سے منافقین کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے کا ذکر چلا آرہا ہے، جو کبھی جنگ احزاب میں یہ کہنے کی صورت میں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول نے محض دھوکا دینے کے لیے ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا تھا، کبھی میدان چھوڑ کر گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے کی صورت میں اور کبھی یہ کہہ کر کہ اب مسلمانوں کی مدینہ میں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی یہود اور دوسرے کفار کے ساتھ دوستی اور ان کی فتح کی خواہش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت تکلیف دہ تھی۔ آپ کی ذاتی زندگی کے متعلق تکلیف دہ باتیں اس پر مزید تھیں۔ مثلاً آپ کی چار سے زائد بیویوں پر اعتراض، اپنے متبنّٰی زید رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح وغیرہ۔ سورت کے آخر میں پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا سے یہ کہہ کر منع فرما رہے ہیں کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی۔ ➋ موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دینے والوں کی باتوں کا قرآن میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ ظاہر ہے تمام بنی اسرائیل ایسے نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرح ہونے سے منع فرمایا جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی۔ ان لوگوں کا یہ رویہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے سخت تکلیف دہ تھا کہ عموماً وہ حکم ماننے سے صاف انکار کر دیتے تھے اور اس کے لیے لفظ بھی {”لَنْ“} (ہر گز نہیں) کا استعمال کرتے جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے، مثلاً: «‏‏‏‏لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۶۱ ] ، «‏‏‏‏لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۵۵ ] اور: «لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا» [ المائدۃ: ۲۴ ] ہارون علیہ السلام کے بچھڑے کی عبادت سے منع کرنے پر کہنے لگے: «‏‏‏‏لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى» [ طٰہٰ: ۹۱ ] ”ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔“ کبھی حکم کی تعمیل میں ٹال مٹول سے کام لیتے تھے، جیسا کہ گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو پہلے {” اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا “} کہا، پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔ ان کا یہ رویہ ان کے اس محسن کے ساتھ تھا جس نے ان کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من و سلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری تھے۔ ➌ { فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا:} ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی ایذا موسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی پر الزام اور دھبے لگانے تک پہنچ گئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ان کے تمام الزامات سے پاک ہونا روز روشن کی طرح ظاہر فرما دیا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت مرتبے والے تھے۔ ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی داغ لگنے دیتا۔ ➍ بنی اسرائیل کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کی ایذا کا ایک نمونہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام بہت حیا والے، بہت پردے والے تھے۔ شدید حیا کی وجہ سے ان کی جلد کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بنی اسرائیل کے ایذا دینے والوں میں سے بعض نے انھیں ایذا دی اور کہنے لگے: ”موسیٰ اپنا جسم اتنا سخت چھپاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی عیب ہے، یا برص ہے، یا خصیہ پھولا ہوا ہے، یا کوئی اور بیماری ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کا ان چیزوں سے پاک ہونا ظاہر کرے، جو وہ ان کے متعلق کہتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اکیلے ہوئے تو اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کے لیے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے پاس جا پہنچا اور انھوں نے انھیں ننگا دیکھ لیا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق میں سب سے خوب صورت اور ان عیبوں سے بالکل بری تھے جو وہ کہتے تھے۔ الغرض! پتھر رک گیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنی لاٹھی سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم! پتھر پر ان کے مارنے کی وجہ سے لاٹھی کے تین یا چار یا پانچ نشان پڑ گئے۔ یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا» ‏‏‏‏ [ الأحزاب: ۶۹ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۰۴ ] ➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض اوقات کسی بظاہر مسلمان کی طرف سے ایذا دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی ایذا اور اس پر ان کے صبر کا ذکر فرمایا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی کہنے لگا: ”اس تقسیم میں اللہ کی رضا مقصود نہیں رکھی گئی۔“ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ غصے میں آ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے چہرے میں غصے کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰي قَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۰۵ ] ”اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ ایذا دی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔“ ➏ بعض تفاسیر میں اس ایذا کے ضمن میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام پر ہارون علیہ السلام کے قتل کا الزام لگا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے بھیجے، جنھوں نے ہارون علیہ السلام کی میت اٹھا کر دکھا دی اور اس میں ایسا کوئی نشان نہیں تھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی براء ت فرما دی۔ مگر یہ قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں، ظاہر ہے یہ اسرائیلی روایت ہے جسے ہم نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ﴿ۙ۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور درستی و راستی کی بات کہا کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقویٰ کی ہدایت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے تقویٰ کی ہدایت کرتا ہے ان سے فرماتا ہے کہ ’ اس طرح وہ اس کی عبادت کریں کہ گویا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور بات بالکل صاف، سیدھی، سچی، اچھی بولا کریں، جب وہ دل میں تقویٰ، زبان پر سچائی اختیار کر لیں گے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انہیں اعمال صالحہ کی توفیق دے گا اور ان کے تمام اگلے گناہ معاف فرما دے گا بلکہ آئندہ کیلئے بھی انہیں استغفار کی توفیق دے گا تاکہ گناہ باقی نہ رہیں۔ اللہ رسول کے فرمانبردار اور سچے کامیاب ہیں جہنم سے دور اور جنت سے سرفراز ہیں ‘۔ { ایک دن ظہر کی نماز کے بعد مردوں کی طرف متوجہ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے اور سیدھی بات بولنے کا حکم دوں۔ پھر عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/4:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی الدنیا کی کتاب التقویٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ منبر پر ہر خطبے میں یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے }۔ ۱؎ [میزان:5119:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کی سند غریب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے ”جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کی عزت کریں اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قول سدید «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ خباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں سچی بات قول سدید ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں ہر سیدھی بات قول سدید میں داخل ہے۔
70۔ 1 یعنی ایسی بات جس میں کجی اور انحراف ہو، نہ دھوکا اور فریب۔ بلکہ سچ اور حق ہو، یعنی جس طرح تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے تاکہ ٹھیک نشانے پر جا لگے اسی طرح تمہاری زبان سے نکلی ہوئی بات اور تمہارا کردار راستی پر مبنی ہو، حق اور صداقت سے بال برابر انحراف نہ ہو۔
(آیت 70) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا: ”سَدَّ يَسُدُّ“} (ن) بند کرنا، پُر کرنا اور {”سَدَّ يَسَدُّ“} (س، ض) سیدھا ہونا۔ {” سَدِيْدًا “} سیدھا، درست۔ {”سَدَّدَ يُسَدِّدُ“} (تفعیل) سیدھا کرنا۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قُلِ اللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ وَسَدِّدْنِيْ وَاذْكُرْ بِالْهُدٰی هِدَايَتَكَ الطَّرِيْقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ ] [ مسلم، الذکر والدعاء، باب في الأدعیۃ: ۲۷۲۵ ] ”یوں کہو کہ اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور سیدھا کر دے اور ہدایت کی دعا کرتے ہوئے صحیح راستے پر جانے کو دل میں رکھو اور سیدھا کرنے کی دعا کرتے ہوئے تیر کے سیدھا کرنے کو دل میں رکھو۔“ ➋ گزشتہ آیت میں مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا دہی سے منع فرمایا۔ ایذا تبھی ہوتی ہے جب کوئی شخص غلط بات کرے اور الزام لگائے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مال کی تقسیم میں نا انصافی کا الزام لگایا گیا۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص اسی وقت غلط بیانی اور الزام تراشی کر سکتا ہے جب وہ اللہ سے نہ ڈرے۔ اس لیے ایذا دہی سے منع کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا اور سیدھی بات کہنے کا حکم دیا۔
یُّصۡلِحۡ لَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقویٰ کی ہدایت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے تقویٰ کی ہدایت کرتا ہے ان سے فرماتا ہے کہ ’ اس طرح وہ اس کی عبادت کریں کہ گویا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور بات بالکل صاف، سیدھی، سچی، اچھی بولا کریں، جب وہ دل میں تقویٰ، زبان پر سچائی اختیار کر لیں گے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انہیں اعمال صالحہ کی توفیق دے گا اور ان کے تمام اگلے گناہ معاف فرما دے گا بلکہ آئندہ کیلئے بھی انہیں استغفار کی توفیق دے گا تاکہ گناہ باقی نہ رہیں۔ اللہ رسول کے فرمانبردار اور سچے کامیاب ہیں جہنم سے دور اور جنت سے سرفراز ہیں ‘۔ { ایک دن ظہر کی نماز کے بعد مردوں کی طرف متوجہ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے اور سیدھی بات بولنے کا حکم دوں۔ پھر عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/4:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی الدنیا کی کتاب التقویٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ منبر پر ہر خطبے میں یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے }۔ ۱؎ [میزان:5119:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کی سند غریب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے ”جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کی عزت کریں اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قول سدید «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ خباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں سچی بات قول سدید ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں ہر سیدھی بات قول سدید میں داخل ہے۔
71۔ 1 یہ تقویٰ اور قول کا نتیجہ ہے کہ تمہارے عملوں کی اصلاح ہوگی اور مزید تو فیق سے نوازے جاؤ گے اور کچھ کمی کوتاہی رہ جائیگی، تو اسے اللہ معاف فرما دے گا۔
(آیت 71) ➊ { يُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ:} اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور سیدھی صاف بات کہنے کے دو فائدے بیان فرمائے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال درست کر دے گا اور دوسرا یہ کہ گناہوں پر پردہ ڈال دے گا۔ عام طور پر لوگ بگڑے ہوئے کاموں کو درست کرنے کے لیے جھوٹ بولتے اور چالاکی و ہوشیاری سے کام لیتے ہیں۔ ان کے ایچ پیچ اور غلط بیانی کی وجہ سے سننے والے مزید بھڑکتے اور بدگمان ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کام مزید بگڑتے ہیں اور کبھی درست نہیں ہوتے، مگر جب آدمی اللہ سے ڈرے اور سیدھی صاف بات کہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ سارے کام درست بھی ہو جائیں گے اور گزشتہ گناہوں کی مغفرت بھی ہو جائے گی۔ کیونکہ سیدھی بات دلوں سے کدورت ختم کرنے اور باہمی صلح صفائی کا باعث بن جاتی ہے اور سیدھا ہو جانے پر اللہ تعالیٰ بھی درگزر فرماتا ہے۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح اور دوسری حاجات کے موقع پر پڑھے جانے والے جس خطبہ کی تعلیم دی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار آیات پڑھتے تھے، جن میں سے دو یہ ہیں۔ کیونکہ اللہ سے ڈرنا اور سیدھی بات کہنا ہر معاملے میں ضروری ہے، خصوصاً میاں بیوی کے معاملے میں تو اس کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ ان کے درمیان معاملات کا کوئی گواہ نہیں ہوتا، صرف اللہ کا خوف اور سیدھی بات ان کے معاملات کو درست رکھ سکتی ہے اور معمولی سی چالاکی اور غلط بیانی باہمی اعتماد کو ختم کر کے گھر برباد کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ➌ {وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} کیونکہ اصل کامیابی جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے، جو صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳، ۱۴) اور آل عمران (۱۸۵)۔
اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ﻇالم جاہل ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا مگر ان سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے (بلا تامل) اٹھا لیا بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرائض، حدود امانت ہیں ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔‏‏‏‏“ اسے آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام پر پیش کیا کہ ’ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں، تم کہو ‘۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے؟ فرمایا ’ اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے ‘۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”میں تیار ہوں۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہو سکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھا لیا۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عصر کے قریب یہ امانت اٹھائی تھی اور مغرب سے پہلے ہی خطا سرزد ہو گئی۔‏‏‏‏“ ابی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”عورت کی پاکدامنی بھی اللہ کی امانت ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے دین فرائض حدود سب اللہ کی امانت ہیں۔ جنابت کا غسل بھی بقول بعض امانت ہے۔ زید بن اسلام فرماتے ہیں تین چیزیں اللہ کی امانت ہیں غسل جنابت، روزہ اور نماز۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں سب کی سب امانت میں داخل ہیں۔ تمام احکام بجا لانے تمام ممنوعات سے پرہیز کرنے کا انسان مکلف ہے۔ جو بجالائے گا ثواب پائے گا جہاں گناہ کرے گا سزا پائے گا۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”خیال کرو آسمان باوجود اس پختگی، زینت اور نیک فرشتوں کا مسکن ہونے کے اللہ کی امانت برداشت نہ کر سکا جب اس نے یہ معلوم کر لیا کہ بجا آوری اگر نہ ہوئی تو عذاب ہوگا۔ زمین صلاحیت کے باوجود اور سختی کے لمبائی اور چوڑائی کے ڈرگئی اور اپنی عاجزی ظاہر کرنے لگی۔ پہاڑ باوجود اپنی بلندی اور طاقت اور سختی کے اس سے کانپ گئے، اور اپنی لاچاری ظاہر کرنے لگے۔‏‏‏‏“ مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے آسمانوں نے جواب دیا اور کہا یوں تو ہم مطیع ہیں لیکن ہاں ہمارے بس کی یہ بات نہیں کیونکہ عدم بجا آوری کی صورت میں بہت بڑا خطرہ ہے۔ پھر زمین سے کہا گیا کہ ’ اگر پوری اتری تو فضل و کرم سے نواز دوں گا ‘۔ لیکن اس نے کہا یوں تو ہر طرح طابع فرمان ہوں جو فرمایا جائے عمل کروں لیکن میری وسعت سے تو یہ باہر ہے۔ پھر پہاڑوں سے کہا گیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ نافرمانی تو ہم کرنے کے نہیں امانت ڈال دی جائے تو اٹھالیں گے لیکن یہ بس کی بات نہیں ہمیں معاف فرمایا جائے۔ پھر آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا گیا انہوں نے کہا ”اے اللہ اگر پورا اتروں تو کیا ملے گا؟“ فرمایا ’ بڑی بزرگی ہو گی جنت ملے گی رحم و کرم ہو گا اور اگر اطاعت نہ کی نافرمانی کی تو پھر سخت سزا ہوگی اور آگ میں ڈال دیئے جاؤ گے ‘۔ انہوں نے کہا ”یا اللہ منظور ہے۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آسمان نے کہا میں نے ستاروں کو جگہ دی فرشتوں کو اٹھا لیا لیکن یہ نہیں اٹھا سکوں گا یہ تو فرائض کا بوجھ ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ زمین نے کہا مجھ میں تو نے درخت بوئے دریا جاری کئے۔ لوگوں کو بسائے گا لیکن یہ امانت تو میرے بس کی نہیں۔ میں فرض کی پابند ہو کر ثواب کی امید پر عذاب کے احتمال کو نہیں اٹھاسکتی۔ پہاڑوں نے بھی یہی کہا لیکن انسان نے لپک کر اسے اٹھا لیا۔‏‏‏‏“

بعض روایات میں ہے کہ ”تین دن تک وہ گریہ زاری کرتے رہے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے لیکن انسان نے اسے اپنے ذمے لے لیا۔‏‏‏‏“ اللہ نے اسے فرمایا ’ اب سن اگر تو نیک نیت رہا تو میری اعانت ہمیشہ تیرے شامل حال رہے گی تیری آنکھوں پر میں دو پلکیں کر دیتا ہوں کہ میری ناراضگی کی چیزوں سے تو انہیں بند کر لے۔ میں تیری زبان پر دو ہونٹ بنا دیتا ہوں کہ جب وہ مرضی کے خلاف بولنا چاہے تو تو اسے بند کر لے۔ تیری شرمگاہ کی حفاظت کیلئے میں لباس اتارتا ہوں کہ میری مرضی کے خلاف تو اسے نہ کھولے ‘۔ زمین و آسمان نے ثواب و عذاب سے انکار کر دیا اور فرمانبرداری میں مسخر رہے لیکن انسانوں نے اسے اٹھا لیا۔ ایک بالکل غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { امانت اور وفا انسانوں پر نبیوں کی معرفت نازل ہوئیں۔ اللہ کا کلام ان کی زبانوں میں اترا نبیوں کی سنتوں سے انہوں نے ہر بھلائی برائی معلوم کر لی۔ ہر شخص نیکی بدی کو جان گیا۔ یاد رکھو! سب سے پہلے لوگوں میں امانت داری تھی پھر وفا اور عہد کی نگہبانی اور ذمہ داری کو پورا کرنا تھا۔ امانت داری کے دھندلے سے نشان لوگوں کے دلوں پر رہ گئے۔ کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ عالم عمل کرتے ہیں جاہل جانتے ہیں لیکن انجان بن رہے ہیں اب یہ امانت وفا مجھ تک اور میری امت تک پہنچی۔ یاد رکھو اللہ اسی کو ہلاک کرتا ہے جو اپنے آپ کو ہلاک کر لے۔ اسے چھوڑ کر غفلت میں پڑ جائے۔ لوگو! ہوشیار رہو اپنے آپ پر نظر رکھو۔ شیطانی وسوسوں سے بچو۔ اللہ تمہیں آزما رہا ہے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28689:ضعیف] ‏‏‏‏

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ایمان کے ساتھ ان چیزوں کو لائے گا جنت میں جائے گا۔ پانچوں وقتوں کی نماز کی حفاظت کرتا ہو، وضو، رکوع، سجدہ اور وقت سجدہ اور وقت سمیت زکوٰۃ ادا کرتا ہو۔ دل کی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم نکالتا ہو۔ سنو واللہ یہ بغیر ایمان کے ہو ہی نہیں سکتا اور امانت کو ادا کرے }۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جنابت کا فرضی غسل۔ پس اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اپنے دین میں سے کسی چیز کی اس کے سوا امانت نہیں دی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:429،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ تفسیر ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کی راہ کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر امانت کی خیانت کو نہیں مٹاتا ان خائنوں سے قیامت کے دن کہا جائے گا جاؤ ان کی امانتیں ادا کرو یہ جواب دیں گے اللہ کہاں سے ادا کریں؟ دنیا تو جاتی رہی تین مرتبہ یہی سوال جواب ہو گا پھر حکم ہوگا کہ انہیں ان کی ماں ہاویہ میں لے جاؤ۔ فرشتے دھکے دیتے ہوئے گرا دیں گے۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے تو انہیں اسی امانت کی ہم شکل جہنم کی آگ کی چیز نظر پڑے گی۔ یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھیں گے جب کنارے تک پہنچیں گے تو وہاں پاؤں پھسل جائے گا۔ پھر گر پڑیں گے اور جہنم کے نیچے تک گرتے چلے جائیں گے۔ پھر لائیں گے پھر گریں گے ہمیشہ اسی عذاب میں رہیں گے۔ امانت وضو میں بھی ہے۔ نماز میں بھی امانت بات چیت میں بھی ہے اور ان سب سے زیادہ امانت ان چیزوں میں ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائیں }۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کیا حدیث بیان فرما رہے ہیں؟ تو آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہا ہاں ٹھیک ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28694:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے دو حدیثیں سنی ہیں۔ ایک کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور دوسری کے ظہور کا مجھے انتظار ہے ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { امانت لوگوں کی جبلت میں اتاری گئی } پھر قرآن اترا حدیثیں بیان ہوئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کی بابت فرمایا: { انسان سوئے گا جو اس کے دل سے امانت اٹھ جائے گی اور ایسا نشان رہ جائے گا جیسے کسی کے پیر پر کوئی انگارہ لڑھک کر آ گیا ہو اور پھپھولا پڑ گیا ہو کہ ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اندر کچھ بھی نہیں }۔ پھر آپ نے ایک کنکر لے کر اسے اپنے پیر پر لڑھکا کر دکھا دیا کہ اس طرح لوگ لین دین خرید و فروخت کیا کریں گے۔ لیکن تقریباً ایک بھی ایماندار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ مشہور ہو جائے گا کہ فلاں قبیلے میں کوئی امانت دار ہے۔ اور یہاں تک کہ کہا جائے گا یہ شخص کیسا عقلمند، کس قدر زیرک، دانا اور فراست والا ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیکھو اس سے پہلے تو میں ہر ایک سے ادھار سدھار کر لیا کرتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہے تو وہ خود میرا حق مجھے دے جائے گا اور اگر یہودی یا نصرانی ہے تو حکومت اسلام مجھے اس سے دلوا دے گی۔ لیکن اب تو صرف فلاں فلاں کو ہی ادھار دیتا ہوں باقی بند کر دیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6497] ‏‏‏‏

مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { چار باتیں تجھ میں ہوں پھر اگر ساری دنیا بھی فوت ہو جائے تو تجھے نقصان نہیں۔ امانت کی حفاظت، بات چیت کی صداقت، حسن اخلاق اور وجہ حلال کی روزی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:177/2:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کتاب الزھد میں ہے کہ جبلہ بن سحیم زیاد کے ساتھ تھے اتفاق سے ان کے منہ سے باتوں ہی باتوں میں نکل گیا ”قسم ہے امانت کی۔‏‏‏‏“ اس پر زیاد رونے لگے اور بہت روئے۔ میں ڈرگیا کہ مجھ سے کوئی سخت گناہ سرزد ہوا۔ میں نے کہا کیا وہ اسے مکروہ جانتے تھے فرمایا ”ہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسے بہت مکروہ جانتے تھے اور اس سے منع فرماتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ ہم میں سے نہیں جو امانت کی قسم کھائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:0000،قال الشيخ الألباني:] ‏‏‏‏ امانتداری جو آدم علیہ السلام نے کی اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ منافق مرد و عورت اور مشرک مرد و عورت یعنی وہ جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے اور وہ جو اندر باہر یکساں کافر تھے انہیں تو سخت سزا ملے اور مومن مرد و عورت پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ جو اللہ کو اس کے فرشتوں کو اس کے رسولوں کو مانتے تھے اور اللہ کے سچے فرمانبردار رہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الاحزاب کی تفسیر ختم ہوئی۔
72۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے اہل اطاعت کا اجر وثواب اور اہل مصیت کا وبال اور عذاب بیان کردیا تو اب شرعی احکام اور اس کی صعوبت کا تذکرہ فرما رہا ہے۔ امانت سے وہ احکام شرعیہ اور فرائض و واجبات مراد ہیں جن کی ادائیگی پر ثواب اور ان سے اعراض و انکار پر عذاب ہوگا۔ جب یہ تکالیف شرعیہ آسمان اور زمین پر پیش کی گئیں تو وہ ان کے اٹھانے سے ڈر گئے۔ لیکن جب انسان پر یہ چیز پیش کی گئی تو وہ اطاعت الٰہی (امانت) کے اجر وثواب اور اس کی فضیلت کو دیکھ کر اس بار گراں کو اٹھانے پر آمادہ ہوگیا۔ احکام شریعہ کو امانت سے تعبیر کر کے اشارہ فرما دیا کہ ان کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پیش کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور آسمان اور زمین اور پہاڑوں نے کس طرح اس کا جواب دیا؟ اور انسان نے کس طرح قبول کیا؟ اس کی پوری کیفیت نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ اسے بیان کرسکتے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اپنی ہر مخلوق کیلئے ایک خاص قسم کا احساس و شعور رکھا ہے، گو ہم اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو ان کی بات سمجھنے پر قادر ہے، اس نے ضرور اس امانت کو ان پر پیش کیا ہوگا جسے قبول کرنے سے انہوں نے انکار کردیا۔ اور یہ انکار انہوں نے سرکشی و بغاوت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس میں یہ خوف کار فرما تھا کہ اگر ہم اس امانت کے تقاضے پورے نہ کرسکے تو اس کی سزا ہمیں بھگتنی ہوگی۔ انسان چونکہ جلد باز ہے۔ اس نے عذاب کے پہلو پر زیادہ غور نہیں کیا اور حصول فضیلت کے شوق میں اسے نے ذمے داری کو قبول کرلیا۔ 72۔ 2 یعنی بار گراں اٹھا کر اس نے اپنے نفس پر ظلم کا ارتکاب اور اس کے مقتضیات سے اعراض یا اس کی قدر و قیمت سے غفلت کر کے جہالت کا مظاہرہ کیا۔
(آیت 72) ➊ { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ …:} کائنات میں اللہ تعالیٰ کے دو قسم کے احکام جاری و ساری ہیں، ایک اس کا حکم {”كُنْ“} (ہو جا) ہے، جب وہ کسی چیز کو یہ حکم دیتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، ممکن نہیں کہ وہ اس کے حکم کے مطابق نہ ہو۔ اسے کونی حکم کہتے ہیں۔ دوسرا حکم وہ ہے جس میں اس نے اختیار دے دیا ہے کہ جسے حکم دیا گیا ہے چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ ساتھ ہی تعمیل پر ثواب کا وعدہ اور عمل نہ کرنے پر عذاب کی وعید ہے، اسے شرعی حکم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان شرعی احکام و فرائض کا نام ”امانت“ ہے۔ جنّ و انس کو چھوڑ کر باقی پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے کونی احکام کی پابند ہے۔ ان میں سے کسی کو اللہ کی نافرمانی کا اختیار ہی نہیں۔ نہ وہ نافرمانی کرتے ہیں، نہ کر سکتے ہیں۔ انسان بعض چیزوں میں دوسری مخلوقات کی طرح کونی احکام کا پابند ہے، مثلاً اس کا پیدا ہونا، اس کے جسم کے تمام نظام، سانس کی آمدورفت، دل کی دھڑکن، جوانی، بڑھاپے، صحت، بیماری، زندگی اور موت کے مراحل اس کے اختیار میں نہیں، البتہ بعض چیزوں یعنی شرعی احکام میں اسے اختیار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے لیے ثواب یا عذاب رکھا گیا ہے۔ اس آیت میں امانت سے مراد شرعی احکام، یعنی فرائض و محرمات ہیں جو انسان پر عائد کیے گئے ہیں۔ ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چنانچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ان کا قول نقل کیا ہے: {” اَلْأَمَانَةُ الْفَرَائِضُ «‏‏‏‏اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ» ‏‏‏‏ إِنْ أَدَّوْهَا أَثَابَهُمْ، وَ إِنْ ضَيَّعُوْهَا عَذَّبَهُمْ، فَكَرِهُوْا ذٰلِكَ، وَ أَشْفَقُوْا مِنْ غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَ لٰكِنْ تَعْظِيْمًا لِّدِيْنِ اللّٰهِ أَنْ لَّا يَقُوْمُوْا بِهَا، ثُمَّ عَرَضَهَا عَلٰي آدَمَ، فَقَبِلَهَا بِمَا فِيْهَا، وَ هُوَ قَوْلُهُ: «‏‏‏‏وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا» غُرًّا بِأَمْرِ اللّٰهِ “} [ طبري: ۲۸۹۱۹، ۲۸۹۱۷ ] ”امانت سے مراد فرائض ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا کہ اگر وہ انھیں ادا کریں گے تو وہ انھیں ثواب دے گا اور اگر انھوں نے وہ ضائع کیے تو انھیں عذاب دے گا۔ تو انھوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے ڈر گئے، کسی نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کہ وہ اس پر قائم نہیں رہ سکیں گے، پھر ان (فرائض) کو آدم (یعنی انسان) پر پیش کیا تو اس نے ان کو اس (ثواب و عذاب) سمیت قبول کر لیا جو ان میں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مطلب ہے: «‏‏‏‏وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا» ‏‏‏‏ ”اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ ہمیشہ سے بہت ظالم بہت جاہل ہے۔“ یعنی وہ اللہ کے حکم سے غافل ہے۔“ صحابہ اور تابعین سے جتنی تفسیریں آئی ہیں وہ سب اس میں آ جاتی ہیں، جو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، مثلاً ابن کثیر میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کو اس کی شرم گاہ کا امانت دار بنایا گا۔“ بعض نے کہا: ”اس سے مراد غسل جنابت ہے۔“ زید بن اسلم نے فرمایا: ”مراد نماز، روزہ اور غسل جنابت ہے۔“ خلاصہ یہ کہ تمام اوامر و نواہی، فرائض و محرمات انسان کے لیے اللہ کی طرف سے امانت ہیں اور یہ امانت اتنی عظیم اور بھاری چیز ہے کہ آسمان و زمین اور پہاڑوں نے اتنی بڑی مخلوقات ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے۔ ➋ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بات تمثیلی طور پر بیان کی گئی ہے، یعنی اتنی بڑی مخلوقات میں یہ ذمہ داری اٹھانے کی استعداد نہیں جو انسان میں موجود ہے، ورنہ ایسا نہیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑ کے سامنے امانت پیش کی ہو اور انھوں نے اسے قبول نہ کیا ہو۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ تاویل کی ضرورت تب ہوتی ہے جب ظاہری معنی مراد لینا ممکن نہ ہو، جب کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں میں ادراک اور سمجھ کا ہونا، ان کا اللہ کی تسبیح کرنا، ان کا رونا اور خوش ہونا متعدد آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۷۳)، بنی اسرائیل (۴۴)، نور (۴۱)، حشر (۲۱)، نحل (۴۸)، دخان (۲۹) اور سورۂ حم السجدہ (۲۱)۔ ➌ شاہ عبدالقادر نے {” ظَلُوْمًا جَهُوْلًا “} کا ترجمہ ”بے ترس نادان“ کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں: ”یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر، زمین و آسمان میں اپنی خواہش کچھ نہیں، یا ہے تو وہی ہے جس پر قائم ہیں۔ آسمان کی خواہش پھرنا، زمین کی خواہش ٹھہرنا۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے۔ اس پرائی چیز کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ اس کا انجام یہ کہ منکروں کو قصور پر پکڑنا اور ماننے والوں کا قصور معاف کرنا۔ اب بھی یہی حکم ہے کہ کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کرے تو بدلا ہے اور بے اختیار ضائع ہو تو بدلا نہیں۔“ (موضح) شاہ صاحب کے کلام کا آخری حصہ (اس کا انجام یہ…) اگلی آیت {” لِيُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ “} کی تفسیر ہے۔ ➍ لفظ امانت جس طرح ان فرائض اور اوامر و نواہی پر بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر عائد ہوئے اور اس نے انھیں قبول کیا، اسی طرح اس صفت پر بھی بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے، جس کی بدولت وہ ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرتا اور ان فرائض کو ادا کرتا ہے جو حق تعالیٰ نے اس پر عائد کیے ہیں۔ چنانچہ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا: [ أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِيْ جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ ] ”یعنی امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر انھوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر انھوں نے سنت سے سیکھا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے متعلق بتایا، فرمایا: [ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ فَيَبْقٰی أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلٰی رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَ لَيْسَ فِيْهِ شَيْئٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُوْنَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، فَيُقَالُ إِنَّ فِيْ بَنِيْ فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِيْنًا وَ يُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَ مَا أَظْرَفَهُ وَ مَا أَجْلَدَهُ وَ مَا فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ ] [ بخاري، الرقاق، باب رفع الأمانۃ: ۶۴۹۷ ] ”آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا نشان ہلکے سے داغ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر ایک اور دفعہ سوئے گا تو (مزید) اٹھا لی جائے گی، تو اس کا نشان ایک چھالے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تو کوئی انگارا اپنے پاؤں پر لڑھکائے تو ایک چھالا پھول آتا ہے، تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو، حالانکہ اس میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور قریب نہیں ہو گا کہ کوئی بھی امانت ادا کرے، حتیٰ کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کس قدر عقل مند، کس قدر ذہین اور کتنا مضبوط ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔“ ➎ لفظ ”امانت“ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا ] [ أبو داوٗد، الإیمان و النذور، باب کراھیۃ الحلف بالأمانۃ: ۳۲۵۳، و قال الألباني صحیح ] ”جس نے امانت کی قسم اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔“ اس حدیث میں امانت سے کیا مراد ہے، اکثر شارحین حدیث نے فرمایا کہ آدمی کی طرح اس کی امانت بھی چونکہ مخلوق ہے اور مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں، اس لیے اس پر یہ سخت حکم لگایا گیا ہے۔ مگر میری دانست میں اس کا مصداق عیسائیوں کی شریعت کے عقائد و احکام پر مشتمل وہ کتاب ہے جو ان کے بادشاہ قسطنطین کے زمانہ میں اس کے حکم سے تین سو اٹھارہ پادریوں نے تصنیف کی تھی اور اس کا نام {”اَلْأَمَانَةُ الْكَبِيْرَةُ“} رکھا تھا۔ جس میں بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا گیا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”انھوں نے اس کا نام {”اَلْأَمَانَةُ الْكَبِيْرَةُ“} رکھا، حالانکہ درحقیقت وہ {”اَلْخِيَانَةُ الْحَقِيْرَةُ“} ہے۔“ تفسیر ابن کثیر میں اس کی تفصیل سورۂ آل عمران کی آیات (۵۵ تا ۵۸) اور سورۂ روم کی ابتدائی آیات اور کئی اور مقامات کی تفسیر میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ ”امت مسلمہ بھی یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چل پڑے گی“ ہماری امت کے بعض بادشاہوں نے بھی اپنے زمانے کے علماء کے ذمے یہ ذمہ داری لگائی کہ وہ شریعت کے احکام کے لیے کتاب تصنیف کریں، مگر ان علماء نے کتاب و سنت کے بجائے اقوال جمع کر کے اسے شریعت کے قوانین قرار دیا اور شاید ہی کوئی اللہ کی حد باقی رہی ہو جسے انھوں نے حیلے بہانے سے ختم نہ کیا ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اس امت پر احسان عظیم ہے کہ آسمانی ہدایت قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس لیے لوگوں کے اقوال کو شریعت اسلام قرار دینے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ان شاء اللہ کامیاب ہو بھی نہیں سکیں گے۔ مختصر یہ کہ امانت نامی کتاب، جسے عیسائی مقدس کتاب سمجھتے اور اس کی قسم اٹھاتے تھے، مسلمانوں کو نہایت سختی کے ساتھ اس کی قسم کھانے سے منع کر دیا گیا۔
لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ وَ یَتُوۡبَ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(یہ اس لئے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ اور مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور منافق عورتوں کو سزا دے اور (تاکہ) مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی توبہ قبول کرے (ان پر نظرِ توجہ فرمائے) اور بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور (تاکہ) اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا ، نہایت رحم والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرائض، حدود امانت ہیں ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔‏‏‏‏“ اسے آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام پر پیش کیا کہ ’ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں، تم کہو ‘۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے؟ فرمایا ’ اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے ‘۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”میں تیار ہوں۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہو سکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھا لیا۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عصر کے قریب یہ امانت اٹھائی تھی اور مغرب سے پہلے ہی خطا سرزد ہو گئی۔‏‏‏‏“ ابی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”عورت کی پاکدامنی بھی اللہ کی امانت ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے دین فرائض حدود سب اللہ کی امانت ہیں۔ جنابت کا غسل بھی بقول بعض امانت ہے۔ زید بن اسلام فرماتے ہیں تین چیزیں اللہ کی امانت ہیں غسل جنابت، روزہ اور نماز۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں سب کی سب امانت میں داخل ہیں۔ تمام احکام بجا لانے تمام ممنوعات سے پرہیز کرنے کا انسان مکلف ہے۔ جو بجالائے گا ثواب پائے گا جہاں گناہ کرے گا سزا پائے گا۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”خیال کرو آسمان باوجود اس پختگی، زینت اور نیک فرشتوں کا مسکن ہونے کے اللہ کی امانت برداشت نہ کر سکا جب اس نے یہ معلوم کر لیا کہ بجا آوری اگر نہ ہوئی تو عذاب ہوگا۔ زمین صلاحیت کے باوجود اور سختی کے لمبائی اور چوڑائی کے ڈرگئی اور اپنی عاجزی ظاہر کرنے لگی۔ پہاڑ باوجود اپنی بلندی اور طاقت اور سختی کے اس سے کانپ گئے، اور اپنی لاچاری ظاہر کرنے لگے۔‏‏‏‏“ مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے آسمانوں نے جواب دیا اور کہا یوں تو ہم مطیع ہیں لیکن ہاں ہمارے بس کی یہ بات نہیں کیونکہ عدم بجا آوری کی صورت میں بہت بڑا خطرہ ہے۔ پھر زمین سے کہا گیا کہ ’ اگر پوری اتری تو فضل و کرم سے نواز دوں گا ‘۔ لیکن اس نے کہا یوں تو ہر طرح طابع فرمان ہوں جو فرمایا جائے عمل کروں لیکن میری وسعت سے تو یہ باہر ہے۔ پھر پہاڑوں سے کہا گیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ نافرمانی تو ہم کرنے کے نہیں امانت ڈال دی جائے تو اٹھالیں گے لیکن یہ بس کی بات نہیں ہمیں معاف فرمایا جائے۔ پھر آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا گیا انہوں نے کہا ”اے اللہ اگر پورا اتروں تو کیا ملے گا؟“ فرمایا ’ بڑی بزرگی ہو گی جنت ملے گی رحم و کرم ہو گا اور اگر اطاعت نہ کی نافرمانی کی تو پھر سخت سزا ہوگی اور آگ میں ڈال دیئے جاؤ گے ‘۔ انہوں نے کہا ”یا اللہ منظور ہے۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آسمان نے کہا میں نے ستاروں کو جگہ دی فرشتوں کو اٹھا لیا لیکن یہ نہیں اٹھا سکوں گا یہ تو فرائض کا بوجھ ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ زمین نے کہا مجھ میں تو نے درخت بوئے دریا جاری کئے۔ لوگوں کو بسائے گا لیکن یہ امانت تو میرے بس کی نہیں۔ میں فرض کی پابند ہو کر ثواب کی امید پر عذاب کے احتمال کو نہیں اٹھاسکتی۔ پہاڑوں نے بھی یہی کہا لیکن انسان نے لپک کر اسے اٹھا لیا۔‏‏‏‏“

بعض روایات میں ہے کہ ”تین دن تک وہ گریہ زاری کرتے رہے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے لیکن انسان نے اسے اپنے ذمے لے لیا۔‏‏‏‏“ اللہ نے اسے فرمایا ’ اب سن اگر تو نیک نیت رہا تو میری اعانت ہمیشہ تیرے شامل حال رہے گی تیری آنکھوں پر میں دو پلکیں کر دیتا ہوں کہ میری ناراضگی کی چیزوں سے تو انہیں بند کر لے۔ میں تیری زبان پر دو ہونٹ بنا دیتا ہوں کہ جب وہ مرضی کے خلاف بولنا چاہے تو تو اسے بند کر لے۔ تیری شرمگاہ کی حفاظت کیلئے میں لباس اتارتا ہوں کہ میری مرضی کے خلاف تو اسے نہ کھولے ‘۔ زمین و آسمان نے ثواب و عذاب سے انکار کر دیا اور فرمانبرداری میں مسخر رہے لیکن انسانوں نے اسے اٹھا لیا۔ ایک بالکل غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { امانت اور وفا انسانوں پر نبیوں کی معرفت نازل ہوئیں۔ اللہ کا کلام ان کی زبانوں میں اترا نبیوں کی سنتوں سے انہوں نے ہر بھلائی برائی معلوم کر لی۔ ہر شخص نیکی بدی کو جان گیا۔ یاد رکھو! سب سے پہلے لوگوں میں امانت داری تھی پھر وفا اور عہد کی نگہبانی اور ذمہ داری کو پورا کرنا تھا۔ امانت داری کے دھندلے سے نشان لوگوں کے دلوں پر رہ گئے۔ کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ عالم عمل کرتے ہیں جاہل جانتے ہیں لیکن انجان بن رہے ہیں اب یہ امانت وفا مجھ تک اور میری امت تک پہنچی۔ یاد رکھو اللہ اسی کو ہلاک کرتا ہے جو اپنے آپ کو ہلاک کر لے۔ اسے چھوڑ کر غفلت میں پڑ جائے۔ لوگو! ہوشیار رہو اپنے آپ پر نظر رکھو۔ شیطانی وسوسوں سے بچو۔ اللہ تمہیں آزما رہا ہے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28689:ضعیف] ‏‏‏‏

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ایمان کے ساتھ ان چیزوں کو لائے گا جنت میں جائے گا۔ پانچوں وقتوں کی نماز کی حفاظت کرتا ہو، وضو، رکوع، سجدہ اور وقت سجدہ اور وقت سمیت زکوٰۃ ادا کرتا ہو۔ دل کی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم نکالتا ہو۔ سنو واللہ یہ بغیر ایمان کے ہو ہی نہیں سکتا اور امانت کو ادا کرے }۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جنابت کا فرضی غسل۔ پس اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اپنے دین میں سے کسی چیز کی اس کے سوا امانت نہیں دی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:429،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ تفسیر ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کی راہ کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر امانت کی خیانت کو نہیں مٹاتا ان خائنوں سے قیامت کے دن کہا جائے گا جاؤ ان کی امانتیں ادا کرو یہ جواب دیں گے اللہ کہاں سے ادا کریں؟ دنیا تو جاتی رہی تین مرتبہ یہی سوال جواب ہو گا پھر حکم ہوگا کہ انہیں ان کی ماں ہاویہ میں لے جاؤ۔ فرشتے دھکے دیتے ہوئے گرا دیں گے۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے تو انہیں اسی امانت کی ہم شکل جہنم کی آگ کی چیز نظر پڑے گی۔ یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھیں گے جب کنارے تک پہنچیں گے تو وہاں پاؤں پھسل جائے گا۔ پھر گر پڑیں گے اور جہنم کے نیچے تک گرتے چلے جائیں گے۔ پھر لائیں گے پھر گریں گے ہمیشہ اسی عذاب میں رہیں گے۔ امانت وضو میں بھی ہے۔ نماز میں بھی امانت بات چیت میں بھی ہے اور ان سب سے زیادہ امانت ان چیزوں میں ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائیں }۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کیا حدیث بیان فرما رہے ہیں؟ تو آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہا ہاں ٹھیک ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28694:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے دو حدیثیں سنی ہیں۔ ایک کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور دوسری کے ظہور کا مجھے انتظار ہے ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { امانت لوگوں کی جبلت میں اتاری گئی } پھر قرآن اترا حدیثیں بیان ہوئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کی بابت فرمایا: { انسان سوئے گا جو اس کے دل سے امانت اٹھ جائے گی اور ایسا نشان رہ جائے گا جیسے کسی کے پیر پر کوئی انگارہ لڑھک کر آ گیا ہو اور پھپھولا پڑ گیا ہو کہ ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اندر کچھ بھی نہیں }۔ پھر آپ نے ایک کنکر لے کر اسے اپنے پیر پر لڑھکا کر دکھا دیا کہ اس طرح لوگ لین دین خرید و فروخت کیا کریں گے۔ لیکن تقریباً ایک بھی ایماندار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ مشہور ہو جائے گا کہ فلاں قبیلے میں کوئی امانت دار ہے۔ اور یہاں تک کہ کہا جائے گا یہ شخص کیسا عقلمند، کس قدر زیرک، دانا اور فراست والا ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیکھو اس سے پہلے تو میں ہر ایک سے ادھار سدھار کر لیا کرتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہے تو وہ خود میرا حق مجھے دے جائے گا اور اگر یہودی یا نصرانی ہے تو حکومت اسلام مجھے اس سے دلوا دے گی۔ لیکن اب تو صرف فلاں فلاں کو ہی ادھار دیتا ہوں باقی بند کر دیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6497] ‏‏‏‏

مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { چار باتیں تجھ میں ہوں پھر اگر ساری دنیا بھی فوت ہو جائے تو تجھے نقصان نہیں۔ امانت کی حفاظت، بات چیت کی صداقت، حسن اخلاق اور وجہ حلال کی روزی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:177/2:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کتاب الزھد میں ہے کہ جبلہ بن سحیم زیاد کے ساتھ تھے اتفاق سے ان کے منہ سے باتوں ہی باتوں میں نکل گیا ”قسم ہے امانت کی۔‏‏‏‏“ اس پر زیاد رونے لگے اور بہت روئے۔ میں ڈرگیا کہ مجھ سے کوئی سخت گناہ سرزد ہوا۔ میں نے کہا کیا وہ اسے مکروہ جانتے تھے فرمایا ”ہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسے بہت مکروہ جانتے تھے اور اس سے منع فرماتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ ہم میں سے نہیں جو امانت کی قسم کھائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:0000،قال الشيخ الألباني:] ‏‏‏‏ امانتداری جو آدم علیہ السلام نے کی اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ منافق مرد و عورت اور مشرک مرد و عورت یعنی وہ جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے اور وہ جو اندر باہر یکساں کافر تھے انہیں تو سخت سزا ملے اور مومن مرد و عورت پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ جو اللہ کو اس کے فرشتوں کو اس کے رسولوں کو مانتے تھے اور اللہ کے سچے فرمانبردار رہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الاحزاب کی تفسیر ختم ہوئی۔
73۔ 1 اس کا تعلق حَمَلَھَا سے ہے یعنی انسان کو اس امانت کا ذمے دار بنانے سے مقصد یہ ہے کہ اہل نفاق و اہل شرک کا نفاق و شرک اور اہل ایمان کا ایمان ظاہر ہوجائے اور پھر اس کے مطابق انھیں جزا و سزا دی جائے۔
(آیت 73) {لِيُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ …:} اس آیت میں انسان کے امانت کی ذمہ داری کو اٹھانے کا نتیجہ بیان ہوا ہے۔ سورت کی ابتدا اس حکم کے ساتھ ہوتی ہے کہ ”اے نبی! اللہ سے ڈر اور کفار و منافقین کی اطاعت مت کر“ پھر سورت کے درمیان میں منافقوں کی خیانتوں کا اور ان کے اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں سے لیے ہوئے تمام عہد توڑنے کا ذکر فرمایا۔ سورت کے آخر میں امانت کی اہمیت اور اس میں خیانت کرنے والے منافق اور مشرک لوگوں کے عذاب اور امانت کا حق ادا کرنے والے مومنوں کا ثواب ذکر فرمایا۔ کچھ تفسیر اس کی پچھلی آیت کے فائدہ (۳) میں شاہ عبدالقادر کے کلام میں گزر چکی ہے۔