بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 61
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 61
آیت نمبر: 61 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا ﴿۶۱﴾
ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے
ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں
پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں،
وہ بھی لعنت کے مارے ہوئے وہ جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔
اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے، بری طرح ٹکڑے کیا جانا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکا لیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے ‘۔ «جلباب» اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ‘۔‏‏‏‏“ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ ”یہ مطلب اس آیت کا ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔‏‏‏‏“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔‏‏‏‏“ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بے خاوند کی ہوں؟ فرمایا ”دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے۔‏‏‏‏“

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔‏‏‏‏“ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لیے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لیے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہل اس کے۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا کہ ”جاہلیت کے زمانے میں جو بے پردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا۔‏‏‏‏“

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو، ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کر دیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے۔ بہت جلد تباہ کر دیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو ‘۔

📖 احسن البیان

61۔ 1 یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر

📖 القرآن الکریم

(آیت 61){ مَلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا:} یعنی ایسے لوگ ملعون ہیں، جہاں پائے جائیں گے انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں مذکورہ احکام وقتی اور عارضی نہیں، بلکہ قرآن مجید کے دوسرے احکام کی طرح قیامت تک کے لیے ہیں۔ اب بھی حکومت پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کا یہی علاج کرے، جو لوگ بھرے بازار سے لڑکیاں اٹھا لیں، لڑکے اٹھا کر ان سے قوم لوط کا عمل کریں، پورے معاشرے کے سامنے نکاح کے بغیر بدکار مرد عورت اکٹھے رہ کر اللہ کی حدود کو للکارتے رہیں ان کا علاج یہی ہے کہ انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے، تاکہ دوبارہ کسی کو ایسا کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اغوا اور ایسے دوسرے معاملات سادہ زنا کے کیس نہیں ہیں، بلکہ زنا کے علاوہ یہ فساد فی الارض کے تحت بھی آتے ہیں، جن کی سزا ایسے لوگوں کا صفایا ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ لَقِيْتُ عَمِّيْ وَ مَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰی رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيْهِ فَأَمَرَنِيْ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ ] [أبو داوٗد، الحدود، باب في الرجل یزني بحریمہ: ۴۴۵۷، و قال الألباني صحیح ] ”میں اپنے چچا سے ملا، اس کے پاس جھنڈا تھا، میں نے اس سے کہا: ”کہاں جانے کا ارادہ ہے؟“ اس نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتاردوں اور اس کا مال لے لوں۔“ مزید دیکھیے سورۂ مائدہ (۳۳)۔
← پچھلی آیت (60) پوری سورۃ اگلی آیت (62) →