بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 67
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 67
آیت نمبر: 67 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ﴿۶۷﴾
اور کہیں گے "اے رب ہمارے، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا
اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راه راست سے بھٹکا دیا
اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے تو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا،
اور وہی کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی سرداروں کی اطاعت کی۔
اور کہیں گے اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تو انھوں نے ہمیں اصل راہ سے گمراہ کر دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت قریب تر سمجھو ٭٭

لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔ سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔

’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘ اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67] ‏‏‏‏۔

📖 احسن البیان

67۔ 1 یعنی ہم نے تیرے پیغمبروں اور داعیان دین کی بجائے اپنے ان بڑے اور برزگوں کی پیروی کی، لیکن آج ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمیں تیرے پیغمبروں سے دور رکھ کر راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ آبا پرستی اور تقلید فرنگ آج بھی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہے کاش مسلمان آیات الٰہی پر غور کر کے ان پگڈنڈیوں سے نکلیں اور قرآن و حدیث کی صراط مستقیم کو اختیار کرلیں کہ نجات صرف اور صرف اللہ اور رسول کی پیروی میں ہی ہے نہ کہ مشائخ واکابر کی تقلید میں یا آبا واجداد کے فرسودہ طریقوں کے اختیار کرنے میں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 67) {وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا …: ”سَادَةٌ“ ”سَيِّدٌ“} کی جمع ہے اور {”كُبَرَاءُ“ ”كَبِيْرٌ“} کی جمع ہے۔ ابن کثیر میں ہے: ”طاؤس نے فرمایا {” سَادَتَنَا “} سے مراد سردار اور چودھری ہیں اور {” كُبَرَآءَنَا “} سے مراد عالم ہیں۔“ قرآن مجید میں لوگوں کی گمراہی کا باعث بننے والے طبقے تین بتائے گئے ہیں، مستکبرین (چودھری، سردار)، احبار (علماء) اور رہبان (درویش)۔ عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا: {وَ هَلْ أَفْسَدَ الدِّيْنَ إِلَّا الْمُلُوْكُ وَ أَحْبَارُ سَوْءٍ وَ رُهْبَانُهَا} ”دین کو بادشاہوں، برے علماء اور درویشوں ہی نے خراب کیا ہے۔“ یعنی جہنمی کہیں گے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے اپنے سرداروں، عالموں اور درویشوں کی اطاعت کی اور سمجھتے رہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ انھوں نے ہمیں سیدھے راستے پر لے جانے کے بجائے اصل راستے سے گمراہ کر دیا۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص قرآن مجید کی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث معلوم ہونے کے باوجود اس کے خلاف اپنے سادات و اکابر، یعنی کسی بادشاہ، عالم یا پیر کی اطاعت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن یہی تمنا کرے گا جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷)۔
← پچھلی آیت (66) پوری سورۃ اگلی آیت (68) →