بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 33
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾
اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اﻇہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ا لله تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور سابقہ زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنی آرائش کی نمائش نہ کرتی پھرو (باہر نہ نکلا کرو) اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو۔ اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس (آلودگی) کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔
اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے ، خوب پاک کرنا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں، اس لیے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لیے ہیں پس فرمایا کہ ’ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو ‘۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ’ بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو ‘۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے { اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں }۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے کہ { عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:1475:ضعیف] ‏‏‏‏

ترمذی وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1173، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نوح اور ادریس علیہم السلام کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لیے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہو گئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزار ہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔‏‏‏‏“ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ’ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو ‘۔

’ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو ‘۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا ’ اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا ‘۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں عکرمہ رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے، یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔‏‏‏‏“ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لیے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے { اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے } پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا] ‏‏‏‏

مسند میں ہے شداد بن عمار کہتے ہیں { میں ایک دن واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے واثلہ نے فرمایا تونے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ”ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔‏‏‏‏“ تو فرمایا ”سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:107/4:صحیح] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھی میرے اہل میں سے ہے }۔ واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لیے بہت ہی بڑی امید کا ہے } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:706/22:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: { اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے }۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں تو بھی }۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو }۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ { الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر }۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:292/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔

دوسری سند سے انہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { ایک مرتبہ ان کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے اور فرمایا: { کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا }۔ تھوڑی دیر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا { الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے }۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: { تو خیر کی طرف ہے } }۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ { میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں }۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: { یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت }۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: { ہاں تو بھی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ { میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:304/6:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: { تو میری اہل ہے } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2424] ‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔‏‏‏‏“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو }۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] ‏‏‏‏ اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: { یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں ہے { یزید بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا: { میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو } پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا: { اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں } تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2408] ‏‏‏‏ دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ { میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2048] ‏‏‏‏

اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو ‘۔

پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ { کسی عورت کے بستر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3775] ‏‏‏‏ یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ { میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں }۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:108] ‏‏‏‏)‏‏‏‏، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ میری ہی مسجد ہے } یعنی مسجد نبوی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398] ‏‏‏‏ پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ رضی اللہ عنہ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہو گئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا ”اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:33] ‏‏‏‏، اتری ہے۔‏‏‏‏“ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔‏‏‏‏“

پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہیئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا ‘۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔

📖 احسن البیان

33-1یعنی ٹک کر رہو اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ اس کی وضاحت کردی گئی کہ عورت کا دائرہ عمل امور سیاست اور جہان بانی نہیں، معاشی جھمیلے بھی نہیں، بلکہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر امور خانہ داری سرانجام دینا ہے۔ 33-2اس میں گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتلادیئے کہ اگر باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو بناؤ سنگھار کر کے یا ایسے انداز سے جس سے تمہارا بناؤ سنگھار ظاہر ہو مت نکلو۔ جیسے بےپردہ ہو کر جس سے تمہارا سر چہرہ بازو اور چھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوت نظارہ دے بلکہ بغیر خوشبو لگائے سادہ لباس میں ملبوس اور باپردہ باہر نکلو تبرج بےپردگی اور زیب وزینت کے اظہار کو کہتے ہیں قرآن نے واضح کردیا ہے کہ یہ تبرج جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھے اور آئندہ بھی جب کبھی اسے اختیار کیا جائے گے یہ جاہلیت ہی ہوگی اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتناہی خوش نما دل فریب رکھ لیا جائے۔ 33-3پچھلی ہدایت، برائی سے اجتناب سے متعلق تھیں، یہ ہدایت نیکی اختیار کرنے سے متعلق ہیں۔ 33-4اہل بیت سے کون مراد ہیں؟ اس کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض نے ازواج مطہرات کو مراد لیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن کریم کے سیاق سے واضح ہے قرآن نے یہاں ازواج مطہرات ہی کو اہل بیت کہا۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، بعض روایات کی روح سے اہل بیت کا مصداق صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن وحسین ؓ کو مانتے ہیں اور ازواج مطہرات کو اس سے خارج سمجھتے ہیں۔ جبکہ اول الذکر ان اصحاب اربعہ کو اس سے خارج سمجھتے ہیں تاہم اعتدال کی راہ اور نقطہ متوسطہ یہ ہے دونوں ہی اہل بیت ہیں۔ ازواج مطہرات تو اس نص قرآنی کی وجہ سے اور داماد اور اولاد ان روایات کی رو سے جو صحیح سند سے ثابت ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ بھی میرے اہل بیت سے ہیں یا یہ دعا ہے کہ یا اللہ ان کو بھی ازواج مطہرات کی طرح میرے اہل بیت میں شامل فرمادے اس طرح تمام دلائل میں بھی تطبیق ہوجاتی ہے (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے فتح القدیر، للشوکانی)

📖 القرآن الکریم

(آیت 33) ➊ {وَ قَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ:قَرْنَ “} باب {”قَرَّ يَقَرُّ قَرَارًا“} (سمع) (کسی جگہ ٹھہرنا) سے جمع مؤنث امر حاضر کا صیغہ ہے، جو اصل میں {”اِقْرَرْنَ“} تھا۔ پہلی راء کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا اور اس کا فتحہ قاف کو دے دیا، ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی، اس لیے اسے حذف کر دیا گیا، جیسا کہ {”ظَلِلْتَ“} کو پہلا لام حذف کر کے {”ظَلْتَ“} کر دیا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے {”وَقَرَ يَقِرُ وَقَارًا“} (ض) سے مشتق قرار دیا ہے، مگر یہ صرف اس قراء ت کی صورت میں ہو سکتا ہے جس میں {” قَرْنَ “} کو قاف کے کسرہ کے ساتھ {”قِرْنَ“} پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں یہ {”وَعَدَ يَعِدُ“} میں سے {”عِدْنَ“} کے وزن پر ہو گا۔ قاف کے فتحہ کی صورت میں اسے {”وَقَارٌ“} سے مشتق قرار دینا مشکل ہے۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کو گھروں کے اندر ٹھہرے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اس میں ان کی زیادہ حفاظت اور سلامتی پائی جاتی ہے۔ یہی حکم دوسری عورتوں کے لیے بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ وَ إِنَّهَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ وَ إِنَّهَا لَا تَكُوْنُ أَقْرَبَ إِلَی اللّٰهِ مِنْهَا فِيْ قَعْرِ بَيْتِهَا ] [طبراني في الأوسط: 189/3، ح: ۲۸۹۰، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 187/6، ح: ۲۶۸۸ ] ”عورت پردے کی چیز ہے، وہ جب نکلتی ہے تو شیطان اسے گردن اٹھا کر دیکھتا ہے اور وہ اللہ کے اس سے زیادہ کبھی قریب نہیں ہوتی جس قدر وہ اپنے گھر کے اندر (رہ کر قریب) ہوتی ہے۔“ ➋ { وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى:تَبَرُّجَ “} کا معنی ہے عورت کا غیر محرم مردوں کے سامنے اپنی اس زینت کا اظہار کرنا جسے چھپانا واجب ہے، یعنی اسلام سے پہلے جاہلیت کے دور میں عورتیں جس طرح بن سنور کر اور زینت لگا کر مردوں کے سامنے آتی تھیں تم ایسا مت کرو۔ یہاں {” الْاُوْلٰى “} کا لفظ احتراز کے لیے نہیں بلکہ جاہلیت جہلا کی طرح یا تو ایک محاورہ ہے، یا اسلام سے پہلے کی حالت کے اعتبار سے {” الْاُوْلٰى “} فرما دیا ہے۔ جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتیں بناؤ سنگار کر کے بے پردہ باہر نکلا کرتی تھیں۔ افسوس! اب یہی رواج ثقافت اور دوسرے خوش نما ناموں سے مسلمانوں میں رائج ہو گیا ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوا کہ عورت زینت چھپا کر ضرورت کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد سودہ رضی اللہ عنھا اپنی حاجت کے لیے نکلیں، وہ جسیم عورت تھیں، پہچاننے والے پر مخفی نہیں رہتی تھیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: ”اے سودہ! اللہ کی قسم! تم ہم پر مخفی نہیں رہتیں، اس لیے دیکھا کرو کیسے نکلتی ہو؟“ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ وہ واپس پلٹ آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے، آپ شام کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ہاتھ میں گوشت کی بوٹی تھی کہ انھوں (سودہ رضی اللہ عنھا) نے آ کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنی کسی ضرورت کے لیے نکلی تو عمر(رضی اللہ عنہ) نے مجھے ایسے ایسے کہا۔“ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حال میں آپ پر وحی فرمائی کہ وہ بوٹی آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے رکھی نہ تھی، آپ نے فرمایا: [ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏لا تدخلوا بیوت النبي…» : ۴۷۹۵ ] ”تم عورتوں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ اپنی حاجت کے لیے باہر نکلو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عورتوں کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی لگانے کے خواہش مند تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے لیے انھیں نکلنے کی اجازت عطا فرمائی۔ مگر اس کے لیے پردے کی پابندی لگائی، حتیٰ کہ وہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں جانا چاہیں تو بھی حکم ہے کہ زینت کا اظہار کرتی ہوئی نہ نکلیں اور خوشبو لگائے ہوئے نہ ہوں۔ ➌ { وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ …:} ازواج مطہرات کے لیے عار بننے والی چیزوں سے اجتناب کے حکم کے بعد انھیں فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا۔ چنانچہ بدنی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت نماز کا اور مالی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت زکوٰۃ کا حکم دیا۔ اس کے بعد جامع حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی ہر بات کی اطاعت کریں۔ اس میں ازواج مطہرات کے لیے بشارت بھی ہے کہ ان پر خوش حالی کا وقت آنے والا ہے، جس میں وہ زکوٰۃ ادا کریں گی، چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد تنگی کا وقت ختم ہو گیا، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو سونے) کے برابر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں۔ ➍ { اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ …:} یعنی تمھیں لوچ دار آواز کے ساتھ بات کرنے اور جاہلیت کے اظہارِ زینت کی طرح زینت کے اظہار سے منع کرنے کا مقصد تمھاری تذلیل یا تم سے ناراضی کا اظہار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ظاہری اور باطنی ہر قسم کی گندگی دور کرے اور تمھیں ہر قسم کے عیب سے خوب اچھی طرح پاک صاف رکھے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باللہ پہلے ان میں ایسی کوئی گندگی موجود تھی، بلکہ قرآن مجید میں کسی چیز سے بچے رہنے کے لیے بھی اسے چھوڑ دینے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: «{ اِنِّيْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ }» [ یوسف: ۳۷ ] ”بے شک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لائے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔“ ➎ { اَهْلَ الْبَيْتِ:} اس سے پہلے {”يَا“} کا لفظ محذوف ہے، جس کی وجہ سے یہ منصوب ہے، یعنی ”اے گھر والو!“ اس آیت سے پہلی اور اس کے بعد والی آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ پہلی آیات میں {” وَ قَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ “} اور بعد والی آیات میں {” وَ اذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ “} صریح دلیل ہے کہ گھر والیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ بعض لوگوں نے سیاق و سباق کی واضح شہادت کے باوجود صرف اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو اہلِ بیت ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ {” لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ “} میں ضمیر{”كُمْ“} مذکر استعمال ہوئی ہے، حالانکہ اہلِ عرب خواتین سے خطاب کے وقت ضمیر{”كُمْ“} عام استعمال کرتے ہیں، بلکہ قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو ان کے اہلِ بیت کہا گیا ہے اور ان سے ضمیر {”كُمْ“} کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ چنانچہ جب فرشتوں نے انھیں بیٹے اور پوتے کی بشارت دی اور انھوں نے اس بڑھاپے میں اولاد ہونے پر تعجب کا اظہار کیا تو فرشتوں نے ان سے کہا: «{ اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ }» [ ہود: ۷۳ ] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو!“ یہ آیت صریح نص ہے کہ بیوی اہلِ بیت ہوتی ہے اور عورت کو ضمیر {”كُمْ“} کے ساتھ خطاب کیا جاتا ہے۔ مشہور اسلامی شاعر عمر بن ابی ربیعہ نے کہا ہے: {فَإِنْ شِئْتُ حَرَّمْتُ النِّسَاءَ سِوَاكُمْ وَ إِنْ شِئْتُ لَمْ أَطْعَمْ نُقَاخًا وَلَا بَرْدًا} صحیح احادیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت ہیں۔ چنانچہ جب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائی گئی تو ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! مَنْ يَّعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ أَذَاهُ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ؟ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏لو لا إذ سمعتموہ…» ‏‏‏‏: ۴۷۵۰ ] ”اے مسلمانوں کی جماعت! ایک ایسے شخص کے بارے میں کون میری مدد کرتا ہے جس کی اذیت رسانی اب میرے اہلِ بیت (یعنی میرے گھر والوں) تک پہنچ گئی ہے؟“ اگرچہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ بیت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں، مگر احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنھم کو بھی اہلِ بیت میں شمار فرمایا ہے۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے انھیں اپنے اہلِ بیت میں شامل کروایا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا[الأحزاب: ۳۳] فِيْ بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ اَللّٰهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِيْ فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيْرًا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَ أَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ، أَنْتِ عَلٰی مَكَانِكِ وَ أَنْتِ إِلٰی خَيْرٍ ] [ترمذي، المناقب، باب في مناقب أھل بیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۳۷۸۷، و قال الألباني صحیح ] ”جب یہ آیت: «{ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا }» نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور انھیں ایک چادر کے اندر کر لیا اور علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے تھے، تو انھیں ایک چادر کے اندر کر لیا، پھر کہا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت (گھر والے) ہیں، سو ان سے گندگی دور کر دے اور انھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی جگہ پر ہے اور تو بھلائی کی طرف ہے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم کو دعا کر کے اہلِ بیت میں شامل کروایا اور ان کے لیے گندگی دور کرنے اور انھیں پاک کرنے کی دعا فرمائی۔ یہ آیت اس سے پہلے اتر چکی تھی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے پہلے آیت سے مراد صرف ازواج مطہرات تھیں۔ رہا ام سلمہ رضی اللہ عنھا کا سوال اور آپ کا انھیں جواب، تو بعض حضرات نے اس سے یہ بات نکالنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اہلِ بیت میں شامل نہیں فرمایا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اطمینان دلایا کہ تمھیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ تم پہلے ہی اس مقام پر ہو اور خیر پر ہو۔ ان لوگوں پر تعجب ہے جو آیت کے اصل مصداق کو اہلِ بیت ماننے کے لیے تیار نہیں اور جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اہلِ بیت میں شامل کیا گیا، صرف ان کے اہلِ بیت ہونے پر اصرار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →