بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 38
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 38
آیت نمبر: 38 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنۡ حَرَجٍ فِیۡمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ؕ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَۨا ﴿۫ۙ۳۸﴾
نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے
جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں
نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
اس کام کے کرنے میں نبی(ص) پر کوئی مضائقہ نہیں ہے جو خدا نے ان کیلئے مقرر کیا ہے جو لوگ (انبیاء(ع)) اس سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کا یہی معمول رہا ہے اور اللہ کا حکم حقیقی اندازے کے مطابق مقرر کیا ہوا ہوتا ہے۔
نبی پر اس کام میں کبھی کوئی تنگی نہیں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کر دیا۔ یہی اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے اندازے کے مطابق ہے، جو طے کیا ہوا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا ‘۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔

📖 احسن البیان

38۔ 1 یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔ 38۔ 2 یعنی گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔ 38۔ 3 یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 38) ➊ { مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو کام طے کر دیا اور اس کا حکم دے دیا اس کے ادا کرنے میں اس پر کوئی تنگی نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ {” كَانَ “} نفی کے استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کبھی کوئی تنگی نہیں۔“ اس لیے اسے وہ بات بتانے میں یا اس پر عمل کرنے میں کسی طعن و تشنیع یا ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرمایا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اسی طرح یہ بھی طے فرما دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح کریں گے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اظہار یا اس پر عمل کے سلسلے میں منافقین یا یہود کے طعن کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ وہی بات ہے جو سدی اور زین العابدین نے فرمائی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح محض مباح ہے، مگر بہت سی مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے طے کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا۔ ➋ { سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ:} لفظ {” سُنَّةَ “} پر نصب یا تو اس لیے ہے کہ اس سے پہلے حرف جر ”کاف“ محذوف ہے، جس کے حذف ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو کچھ طے فرمایا اسے ادا کرنے میں اس پر اسی طرح کوئی حرج نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں طریقہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے جو طے کر دیتا وہ اس کی ادائیگی میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ یا یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، یعنی {”سَنَّ اللّٰهُ هٰذَا سُنَّةً فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ“} مطلب ایک ہی ہے کہ گزشتہ انبیاء بھی ایسے کاموں کے کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض کر دیے جاتے تھے، چاہے ان کی اقوام اور زمانے کے رسم و رواج ان کے خلاف ہوتے تھے۔ ➌ {وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام خاص طور پر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں، دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے، اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
← پچھلی آیت (37) پوری سورۃ اگلی آیت (39) →