بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحزاب — Surah Ahzab
آیت نمبر 43
کل آیات: 73
قرآن کریم الأحزاب آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ الأحزاب islamicurdubooks.com ↗
ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ کَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾
وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے
وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے
وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
وہ (اللہ) وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی (دعائے مغفرت) کرتے ہیں تاکہ تمہیں (دوزخ اور جحیم کی) تاریکیوں سے نور (جنت و نعیم) کی طرف نکال لائے اور وہ اہلِ ایمان پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔
وہی ہے جو تم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے، تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے اور وہ ایمان والوں پر ہمیشہ سے نہایت مہربان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بہترین دعا ٭٭

بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہیئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجر و ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے ‘۔ { ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟ } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3377،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث پہلے «وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:35] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے «اللَّهُمَّ، اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» یعنی اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3604،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے پوچھا ”سب سے اچھا شخص کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو لمبی عمر پائے، اور نیک اعمال کرے }۔ دوسرے نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئیے کہ اس میں چمٹ جاؤں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3375،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:517:ضعیف] ‏‏‏‏ { فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12786:ضعیف] ‏‏‏‏ { فرماتے ہیں جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:224/2:صحیح] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہر فرض کام کی کوئی حد ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے۔ کھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیئے۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیئے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے ہر وقت دعاگو رہیں گے۔‏‏‏‏“ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں۔ اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے امام نسائی، امام معمری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر امام نووی رحمہ اللہ علیہ کی ہے۔ صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ جیسے فرمایا «فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ» ۱؎ [30-الروم:18-17] ‏‏‏‏، ’ اللہ کے لیے پاکی ہے۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت ‘۔

پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے ’ وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے ‘۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟ جیسے فرمایا «كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ۱؎ [2-البقرة:152-151] ‏‏‏‏، ’ جس طرح ہم نے تم میں خود تم ہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔ پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو ‘۔ حدیث قدسی میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7405] ‏‏‏‏

«الصَّلَاةُ» جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے۔ فرشتوں کی «الصَّلَاةُ» ان کی دعا اور استغفار ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ» ۱؎ [40-غافر:7-9] ‏‏‏‏، ’ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس والے اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومن بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرچیز کو رحمت و علم سے گھیر لیا ہے۔ اے اللہ تو انہیں بخش جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں عذاب جہنم سے بھی نجات دے۔ انہیں ان جنتوں میں لے جا جن کا تو ان سے وعدہ کر چکا ہے۔ اور انہیں بھی ان کے ساتھ پہنچا جو ان کے باپ دادوں بیویوں اور اولادوں میں سے نیک ہیں، انہیں برائیوں سے بچا لے۔ وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مومنوں پر رحیم و کریم ہے ‘۔ دنیا میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں گھبراہٹ اور ڈر خوف سے بچا لے گا۔ فرشتے آ کر انہیں بشارت دیں گے کہ تم جہنم سے آزاد ہو اور جنتی ہو۔ کیونکہ ان فرشتوں کے دل مومنوں کی محبت و الفت سے پُر ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ راستے میں تھا اس کی ماں نے ایک جماعت کو آتے ہوئے دیکھا تو میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی اور بچے کو گود میں لے کر ایک طرف ہٹ گئی۔ ماں کی اس محبت کو دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال تو فرمائیے کیا یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مطلب کو سمجھ کر فرمانے لگے { قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ بھی اپنے دوستوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قیدی عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے بچے کو دیکھتے ہی اٹھا لیا اور اپنے کلیجے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بتاؤ تو اگر اس کے اختیار میں ہو تو کیا یہ اپنی خوشی سے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قسم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے، اللہ کی طرف سے ان کا ثمرہ جس دن یہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5999] ‏‏‏‏ جیسے فرمایا «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-یس:58] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرے گا۔‏‏‏‏“ اس کی تائید بھی آیت «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ‏‏‏‏، سے ہوتی ہے۔ اللہ نے ان کے لیے اجر کریم یعنی جنت مع اس کی تمام نعمتوں کے تیار کر رکھی ہے۔ جن میں سے ہر نعمت کھانا پینا پہننا اوڑھنا عورتیں لذتیں منظر وغیرہ ایسی ہیں کہ آج تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں، چہ جائیکہ دیکھنے میں یا سننے میں آئیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) ➊ {هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓىِٕكَتُهٗ …:} صلاۃ کا معنی رحمت بھی ہے، ذکر خیر بھی اور دعا بھی۔ صحیح بخاری میں ابو العالیہ سے نقل ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی صلاۃ کا مطلب اس کا فرشتوں کے پاس تعریف کرنا ہے اور فرشتوں کی صلاۃ کا مطلب دعا کرنا ہے۔“ قاموس میں ہے: {” اَلصَّلَاةُ الدُّعَاءُ وَالرَّحْمَةُ وَالْإِسْتِغْفَارُ وَ حَسَنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللّٰهِ عزَّ وَجَلَّ عَلٰي رَسُوْلِهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عِبَادَةٌ فِيْهَا رُكُوْعٌ وَ سُجُوْدٌ، اسْمٌ يُوْضَعُ مَوْضِعَ الْمَصْدَرِ “} ”صلاۃ سے مراد دعا، رحمت، استغفار، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور رکوع و سجود والی عبادت ہے۔ یہ اسم ہے جو مصدر کے قائم مقام ہے۔“ ➋ فرشتوں کی صلاۃ سے مراد مسلمانوں کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّيْ عَلٰی أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِيْ مُصَلاَّهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِيْ صَلاَةٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلٰی أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلَاةُ ] [ بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ…: ۶۵۹ ] ”یقینا فرشتے تم میں سے ہر اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو اپنی نماز کی جگہ میں رہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ جب تک نماز نے اسے گھر جانے سے روک رکھا ہو، نماز کے سوا اسے کوئی چیز مانع نہ ہو۔“ سورۂ مومن کی آیات (۷ تا ۹) میں بھی فرشتوں کی اس دعا کا ذکر ہے جو وہ مومنوں کے لیے کرتے ہیں۔ ➌ اس آیت کا پچھلی آیت سے تعلق دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ پچھلی آیت میں اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم دیا، اس آیت میں اس کا نتیجہ بیان فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو گے تو وہ فرشتوں کے سامنے تمھارا ذکر خیر کرے گا، لوگوں میں تمھاری اچھی شہرت فرمائے گا، تم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمھارے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں گے۔ اس رحمت و مغفرت کے ذریعے سے دنیا میں وہ تمھیں جہالت اور نافرمانی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم و عمل کی روشنی میں لے آئے گا۔ اور قیامت کے دن عطا ہونے والی نعمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَ أَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِيْ، فَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِيْ نَفْسِيْ، وَ إِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِيْ مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَ إِنْ أَتَانِيْ يَمْشِيْ أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏و یحذرکم اللہ نفسہ …» ‏‏‏‏: ۷۴۰۵ ] ”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے، سو اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دونوں ہاتھ پھیلانے کے برابر اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“ دوسری طرح اس کا پہلی آیات سے تعلق یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کا حکم دینے کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تمھارے کسی استحقاق کے بغیر محض اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمھارے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں، تاکہ وہ تمھیں دنیا میں اندھیروں سے روشنی میں لائے اور آخرت میں اجر کریم عطا کرے۔ سو تم پر لازم ہے کہ ایسے مہربان رب کا ذکر کثیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا: «كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (151) فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۵۱، ۱۵۲ ] ”جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول تمھی سے بھیجا ہے، جو تم پر ہماری آیات پڑھتا اور تمھیں پاک کرتا اور تمھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمھیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔“ یعنی ہمارے رسول بھیجنے کی نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو اور میرا شکر کرو۔ ➍ {وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا:} یعنی ان تمام مہربانیوں کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ایمان والوں پر بے حد رحم کرنے والا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم {” كَانَ “} کا لفظ ادا کر رہا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت دوسری نعمتوں کے ساتھ انھیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانا ہے اور آخر ت میں اس کی رحمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →