بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 185
صفحہ 9 از 10
حدیث نمبر: 22297 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ , أَوْ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ: رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ" , فَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّمَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ , قَالَ:" إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22297]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال قائل: إنما ربيعة من مضر....، فهي شاذة
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال قائل: إنما ربيعة من مضر....، فهي شاذة
حدیث نمبر: 22298 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پڑوسی کے متعلق اتنی مرتبہ وصیت کی کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بھی قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22298]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل بقية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل بقية
حدیث نمبر: 22299 مسند احمد
حَيْوَةٌ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبُو رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيُّ ، أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ
حَدَّثَنَا حَيْوَةٌ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنِي أَبُو رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيُّ , قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ , قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا أُمَامَةَ , إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ! وہ شخص مومنین میں سے ہے کہ جس کا دل میرے لئے نرم ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22299]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به بقية ، وهو ضعيف عند التفرد
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به بقية ، وهو ضعيف عند التفرد
حدیث نمبر: 22300 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ , إِلَّا أَتَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ , فَكَّهُ بِرُّهُ , أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ , أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ , وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ , وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے معاملات کا ذمہ دار بنتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے جنہیں اس کی نیکی ہی کھول سکے گی ورنہ اس کے گناہ اسے ہلاک کردیں گے حکومت کا آغاز ملامت سے ہوتا ہے درمیان ندامت سے اور اختتام قیامت کے دن رسوائی پر ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22300]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرب إسماعيل بن عياش فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرب إسماعيل بن عياش فيه
حدیث نمبر: 22301 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، السَّرِيُّ بْنُ يَنْعُمَ ، عَامِرُ بْنُ جَشِيبٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَنْعُمَ , حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ جَشِيبٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: دُعِينَا إِلَى وَلِيمَةٍ وَهُوَ مَعَنَا , فَلَمَّا شَبِعَ مِنَ الطَّعَامِ , قَامَ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُومُ مَقَامِي هَذَا خَطِيبًا , كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَبِعَ مِنَ الطَّعَامِ , قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , غَيْرَ مَكْفِيٍّ , وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عبدالاعلیٰ بن بلال کی دعوت میں شریک تھے کھانے سے فراغت کے بعد حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس جگہ کھڑا تو ہوگیا ہوں لیکن میں خطیب ہوں اور نہ ہی تقریر کے ارادے سے کھڑا ہوا ہوں البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعاء پڑھتے ہوتے سنا ہے " الحمدللہ کثیرا طیبا مبارکا فیہ غیر مکفی ولامودع ولامستغنی عنہ " خالد کہتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات اتنی مرتبہ دہرائے کہ ہمیں حفظ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22301]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22302 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً , فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ , فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ , وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا , ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ , فَقَالَ لَهُ: يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ؟ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ" , فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خالد بن یزید کے پاس گئے اس نے ان کے لئے تکیہ پیش کیا حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ یہ ریشمی تکیہ ہے اس لئے وہ الٹے پاؤں واپس چلتے ہوئے صف کے آخر میں پہنچ گئے خالد ایک دوسرے آدمی سے محو گفتگو تھا کچھ دیر بعد اس نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو کہنے لگا بھائی جان! آپ کیا سمجھے؟ کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ ریشمی تکیہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ریشم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا جو اللہ سے ملنے کی امید رکھتاہو خالد نے پوچھا اے ابو امامہ! کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ معافی یہ سوال کہ کیا آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے، ہم ایک ایسی قوم میں رہتے تھے جو ہمارے ساتھ جھوٹ بولتے تھے اور نہ ہم ان کے ساتھ جھوٹ بولتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22302]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر الغساني
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر الغساني
حدیث نمبر: 22303 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ , مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا , وَثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کو بلا حساب کتاب جنت میں داخل فرمائے گا، ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار ہوں گے اور اس پر تین گنا کا مزید اضافہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22303]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22304 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِي ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِي , عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهِّرٌ , كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ , وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى , كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ , وَصَلَاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا , كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ" , وقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کر کے فرض نماز کے لئے روانہ ہوتا ہے اسے احرام باندھنے والے حاجی کے برابر ثواب ملتا ہے جو شخص چاشت کی نماز کے لئے روانہ ہوتا ہے اسے عمرہ کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ درمیان میں کوئی لغو کام نہ ہو علیین میں لکھا جاتا ہے اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صبح و شام ان مساجد کی طرف جانا جہاد فی سبیل اللہ کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22304]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22305 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاتِكَةِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَمَّنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَاحَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَإِلَى جَانِبِهِ بِلَالٌ , بِيَدِهِ عُودٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ يُظِلُّ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے صحابی رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آٹھ ذی الحجہ کے دن منٰی کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک جانب حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس پر ایک کپڑا تھا اور وہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22305]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، من أجل على بن يزيد، وعمان بن أبى العاتكة ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف جدا، من أجل على بن يزيد، وعمان بن أبى العاتكة ضعيف
حدیث نمبر: 22306 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ , عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُذِنَ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا , وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ , وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ" يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی انسان کو کسی چیز کے متعلق اس سے افضل اجازت نہیں دی گئی جو دو رکعتوں کے متعلق دی گئی ہے جنہیں وہ ادا کرتا ہے اور انسان جب تک نماز میں مشغول رہتا ہے اس وقت تک نیکی اس کے سر پر بکھرتی رہتی ہے اور انسان کو اللہ کا اس جیسا قرب حاصل نہیں ہوتا جو اس سے نکلنے والے کلام یعنی قرآن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22306]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث ، ولانقطاعه، زيد بن أرطاة حديثه عن أبى أمامة مرسل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث ، ولانقطاعه، زيد بن أرطاة حديثه عن أبى أمامة مرسل
حدیث نمبر: 22307 مسند احمد
الْهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْفَرَجُ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا الْفَرَجُ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ , وَأَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ , وَالْمَزَامِيرِ , وَالْأَوْثَانِ , وَالصُّلُبِ , وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ , وَحَلَفَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ: لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ , مَغْفُورًا لَهُ أَوْ مُعَذَّبًا , وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا ضَعِيفًا مُسْلِمًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفُورًا لَهُ أَوْ مُعَذَّبًا , وَلَا يَتْرُكُهَا مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ الْقُدُسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَلَا يَحِلُّ بَيْعُهُنَّ , وَلَا شِرَاؤُهُنَّ , وَلَا تَعْلِيمُهُنَّ , وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ" يَعْنِي: الضَّارِبَاتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جہاں والوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ موسقی کے آلات، طبلے، آلات لہو ولعب اور ان تمام بتوں کو مٹا ڈالوں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش کی جاتی تھی اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ میرا جو بندہ بھی شراب کا ایک گھونٹ پئے گا میں اس کے بدلے میں اسے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور اگر کسی نابالغ بچے کو بھی اس کا ایک گھونٹ پلایا تو اسے بھی اس کے بدلے میں جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور میرا جو بندہ میرے خوف کی وجہ سے اسے چھوڑ دے گا میں اسے اپنی پاکیزہ شراب پلاؤں گا اور مغنیہ عورتوں کی بیع وشراء انہیں گانا بجانا سکھانا اور ان کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22307]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، فرج وعلى بن يزيد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا، فرج وعلى بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22308 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ دِلَافٍ الْمُزَنِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ دِلَافٍ الْمُزَنِيِّ , لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ , ثُمَّ يَغْمُرُونَ فِيكُمْ حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ , فَيَقُولُ: مِمَّنْ اشْتَرَيْتَهُ؟ فَيَقُولُ: اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ" , وقَالَ يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ : ثُمَّ يَغْمُرُونَ فِيكُمْ , وَلَمْ يَشُكَّ , قَالَ: فَرَفَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دابۃ الارض کا خروج ہوگا تو وہ لوگوں کے منہ پر نشان لگا دے گا اور وہ اس نشان کے ساتھ ہی زندہ رہیں گے حتیٰ کہ اگر ایک آدمی کوئی آونٹ خریدے گا اور کوئی شخص اس سے پوچھے گا کہ یہ اونٹ تم نے کس سے خریدا ہے؟ تو وہ جواب دے گا کہ یہ میں نے اس شخص سے خریدا ہے جس کے منہ پر نشانی لگی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22309 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِدُ الْمَرِيضِ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ , وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَرِكِهِ , ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا , وَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیمار کی عیادت کرنے والا رحمت الہٰی کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا وہ اس طرح آگے پیچھے ہوتا ہے اور جب اس کے پاس بیٹھتا ہے تو رحمت الہٰی اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22309]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22310 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ ، شَهْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ شَهْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا , وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا , وَغَسَلَ وَجْهَهُ , وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ مِنَ الْعَيْنِ , قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً , وَكَانَ يَقُولُ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چہرے اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا سر کا مسح کیا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقے مسلتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22310]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: والأذنان من الرأس، والمسح على المأقين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وأبن ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله: والأذنان من الرأس
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: والأذنان من الرأس، والمسح على المأقين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وأبن ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله: والأذنان من الرأس
حدیث نمبر: 22311 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، مَنْصُورٌ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ابْنَانِ لَهَا وَهِيَ حَامِلٌ , فَمَا سَأَلَتْهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا أَعْطَاهَا , ثُمَّ قَالَ: " حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ , لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ , دَخَلْنَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے ایک بچے کے ہمراہ اسے اٹھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ مانگنے کے لئے آئی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بھی مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دے دیا پھر فرمایا بچوں کو اٹھانے والی یہ مائیں اپنی اولاد پر کتنی مہربان ہیں اگر وہ چیز نہ ہوتی جو یہ اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نمازی عورتیں جنت میں داخل ہوجائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22311]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمعه من أبى أمامة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمعه من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22312 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَغَيْرُهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ , وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حیاء اور بےضرر گفتگو کرنا ایمان کے دو شعبے ہیں جبکہ فحش گوئی اور بےجا گفتگو کرنا نفاق کے دو شعبے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22312]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: والعي والبيان، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين حسان بن عطية وبين أبى أمامة
الحكم: حديث صحيح دون قوله: والعي والبيان، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين حسان بن عطية وبين أبى أمامة
حدیث نمبر: 22313 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، أَبُو غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ , حَتَّى إِذَا بَدَّنَ وَكَثُرَ لَحْمُهُ , أَوْتَرَ بِسَبْعٍ , وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَقَرَأَ بِ إِذَا زُلْزِلَتْ و َقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں نو رکعت وتر پڑھتے تھے بعد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک بھاری ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر کے بعد بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں سورت زلزال اور سورت کافروں کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22313]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون تعيين قراءة النبىصلى الله عليه و آله وسلم فى الركعتين بعد الوتر، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب وعمارة بن زاذان
الحكم: صحيح لغيره دون تعيين قراءة النبىﷺ فى الركعتين بعد الوتر، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب وعمارة بن زاذان
حدیث نمبر: 22314 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ ، أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , قَالَ: سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ , يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ دِمَشْقَ , فَرَأَى رُءُوسَ حَرُورَاءَ قَدْ نُصِبَتْ , فَقَالَ: " كِلَابُ النَّارِ , كِلَابُ النَّارِ , ثَلَاثًا , شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ , خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا" , ثُمَّ بَكَى , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , هَذَا الَّذِي تَقُولُ مِنْ رَأْيِكَ أَمْ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ كَيْفَ أَقُولُ هَذَا عَنْ رَأْيٍ , قَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , قَالَ: فَمَا يُبْكِيكَ , قَالَ: أَبْكِي لِخُرُوجِهِمْ مِنْ الْإِسْلَامِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَفَرَّقُوا , وَاتَّخَذُوا دِينَهُمْ شِيَعًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صفوان بن سلیم کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ دمشق میں داخل ہوئے تو خوارج کے سر لٹکے ہوئے نظر آئے انہوں نے تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا اور رونے لگے۔ تھوڑی دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا اے ابوامامہ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا، اس نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے؟ انہوں نے فرمایا اس لئے کہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہوگئے اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تفرقہ بازی کی اور اپنے دین کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرلیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22314]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، صفوان بن سليم لم يسمع من أبى أمامة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، صفوان بن سليم لم يسمع من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22315 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟" , قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ" . حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَقَالَ:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے؟ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں جماعت ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22315]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا مرسل إسناده صحيح
الحكم: حديث صحيح، وهذا مرسل إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22316 مسند احمد
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَقَالَ:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ"
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد وأهي الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد وأهي الحديث