بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 185
صفحہ 8 از 10
حدیث نمبر: 22277 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَيْمَنَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي , وَطُوبَى سَبْعَ مِرَارٍ لِمَنْ آمَنْ بِي وَلَمْ يَرَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22277]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22278 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، وَعَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ , وَعَتَّابٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ , إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی پہلی نظر کسی عورت کے محاسن پر پڑے اور وہ اپنی نگاہیں جھکا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت میں وہ لذت پیدا کردیں گے جس کی حلاوت وہ خود محسوس کرے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22278]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا ، على بن يزيد وعبيد الله بن زحر ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا ، على بن يزيد وعبيد الله بن زحر ضعيفان
حدیث نمبر: 22279 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ , قَالَ: " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22279]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبيد الله بن زحر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبيد الله بن زحر
حدیث نمبر: 22280 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الْمُغَنِّيَاتِ , وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ , وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ , وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ , وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گانا گانے والی باندیوں کی خریدوفروخت نہ کرو اور انہیں گانے بجانے کی تعلیم نہ دلواؤ اور ان کی تجارت میں کوئی خیر نہیں اور ان کی قیمت میں (کمائی) کھانا حرام ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22280]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22281 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَبْعَ مِرَارٍ , مَا حَدَّثْتُ بِهِ , قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ كَمَا أُمِرَ , ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ , وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اگر میں نے یہ حدیث کم از کم سات مربہ نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بیان نہ کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص حکم کے مطابق وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22281]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22282 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ , فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا , وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ , وَقَالَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" , قَالَ حَمَّادٌ: فَلَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ , أَوْ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْمُوقَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چہرے اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا سر کا مسح کیا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقے مسلتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22282]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس ....، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وابن ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله:الأذنان من الرأس
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس ....، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وابن ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله:الأذنان من الرأس
حدیث نمبر: 22283 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، الْقَاسِمُ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ , حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِيضٌ لِحَاهُمْ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ , حَمِّرُوا , وَصَفِّرُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلَونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ , , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" , قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ , وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کے کچھ عمر رسیدہ افراد کے پاس " جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں " تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ انصار! اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کرلو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں تہنبد نہیں باندھتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم شلوار بھی پہن سکتے ہو اور تہبند بھی باندھ سکتے ہو، البتہ اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، جوتے نہیں پہنتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم موزے بھی پہنا کرو اور جوتے بھی پہنا کرو اور اس طرح اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اہل کتاب ڈاڑھی کٹاتے اور مونچھیں بڑھاتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیاں بڑھایا کرو اور اس طرح اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22284 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ أَوْ يَتِيمَةٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ , وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ , كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ" وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی یتیم بچے یا بچی کے سر پر ہاتھ پھیرے اور صرف اللہ کی رضا کے لئے پھیرے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پھر جائے گا، اسے ہر بال کے بدلے نیکیاں ملیں گی اور جو شخص اپنے زیر تربیت کسی یتیم بچے یا بچی کے ساتھ حسن سلوک کرے میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر دکھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22284]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، دون شطر الأول منه بقصة المسح على رأس اليتيم، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبدالله بن زحر
الحكم: صحيح لغيره، دون شطر الأول منه بقصة المسح على رأس اليتيم، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبدالله بن زحر
حدیث نمبر: 22285 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 17 - 17 قَالَ: " يُقَرَّبُ إِلَيْهِ , فَيَتَكَرَّهُهُ , فَإِذَا دَنَا مِنْهُ شُوِيَ وَجْهُهُ , وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ , وَإِذَا شَرِبَهُ , قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ , يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ اللَّهُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی و یسقی من ماء صدید " کی تفسیر میں فرمایا کہ جہنمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا وہ پانی اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے گھن کھائے گا جب مزید قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کے بال جھڑ جائیں گے اور جب وہ پانی اپنے حلق سے اتارے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ پانی اس کی پچھلی شرمگاہ سے باہر آجائے گا اسی کے متعلق ارشادربانی ہے " وسقو ماء حمیما فقطع امعاہ م " اور " وان یستغیثوا یغاثوا بماء کلمہل یشوی۔۔۔۔۔۔۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22285]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات معروفون غير عبيدالله بن بسر، فقد اختلف فيه على عبدالله بن المبارك
الحكم: رجاله ثقات معروفون غير عبيدالله بن بسر، فقد اختلف فيه على عبدالله بن المبارك
حدیث نمبر: 22286 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ , حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَامَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَقَالَ: " هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ:" هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کتاب اللہ کی روشنی میں سزا دے دیجئے اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور فراغت کے بعد جب واپس جانے لگے تو وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے چلا گیا میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا، اس نے پھر اپنی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا ایسا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تمہارا گناہ معاف کردیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22287 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِشِسْعٍ , فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ شدید گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا ایک آدمی دوسرا تسمہ لے کر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جوتی میں ڈالنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اگر تمہیں یہ معلوم ہوتا کہ تم نے اللہ کے پیغمبر پر کتنا بوجھ لاد دیا ہے تو وہ اتنا بلند نہ ہوتا جو تم نے اللہ کے رسول پر ڈال دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22287]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22288 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِم أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِم أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا , وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ , فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ , فَأَتَى , فَجَلَسَ إِلَيْهِ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ , هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ" , فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ , فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ , تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ" , قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَهَلْ لَلْإِنْسِ شَيَاطِينٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ , شَيَاطِينُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا" , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ , أَلَا أُعَلِّمُكَ كلمة مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟" , قَالَ: بَلَى , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي , فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعَبَدَةَ أَوْثَانٍ , فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ , أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ:" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ , مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ , وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ , مَاذَا هُوَ؟ قَالَ:" فَرْضٌ مُجْزِئٌ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ , مَاذَا هِيَ؟ قَالَ:" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ , وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّمَا أُنَزَلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 آيَةُ الْكُرْسِيِّ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ سُفِكَ دَمُهُ , وَعُقِرَ جَوَادُهُ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا , وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ:" آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام" , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ أَوَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ:" نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ , خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ , ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ رُوحَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا آدَمُ قُبْلًا" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَمْ وَفَّى عِدَّةُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ:" مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا , الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صدقہ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ نبی تھے؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ! رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟ فرمایا آیت الکرسی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22288]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22289 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , فَقَالَ: " أَوْجَبَ هَذَا" أَو" وَجَبَتْ لِهَذَا الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22289]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، من أجل على بن يزيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22290 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمُ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ مَوْلَى بَنِي يَزِيدَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ , وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ" وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ سورة المائدة آية 101 , قَالَ: فَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ , وَاتَّقَيْنَا ذَاكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ , قَالَ: فَاعْتَمَّ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ خَارِجَةً مِنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ , قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ , وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا , وَعَلَّمْنَا نِسَاءَنَا , وَذَرَارِيَّنَا , وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ , قَالَ: فَقَالَ:" أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ! وهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ الْمَصَاحِفُ , لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ , أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ" ثَلَاثَ مِرَارٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ایک گندمی رنگ کے اونٹ پر کھڑے ہوئے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ردیف حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور فرمایا اے لوگو! علم حاصل کرو قبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے اور قبل اس کے کہ علم قبض کرلیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ہے " اے اہل ایمان! ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جن کی وضاحت اگر تمہارے سامنے کردی جائے تو تمہیں ناگوار گذرے۔۔۔۔۔۔۔ " اس آیت کے نزول کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور اس سے احتیاط کرتے تھے۔ ایک دن ہم ایک دیہاتی کے پاس گئے اس نے ہماری خاطر اپنی چادر بچھائی اور دیر تک بیٹھا رہاحتیٰ کہ میں نے چادر کے کنارے نکل کر اس کی دائیں ابرو پر لٹکتے ہوئے دیکھے تھوڑی دیر بعد ہم نے اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی سوال پوچھو، چنانچہ اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! جب ہمارے درمیان قرآن کے نسخے موجود ہوں گے تو ہمارے درمیان سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہم خود بھی اس کے احکامات کو سیکھ چکے ہیں اور اپنی بیویوں، بچوں اور خادموں کو بھی سکھا چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو چہرہ مبارک پر غصے کی وجہ سے سرخی چھا چکی تھی پھر فرمایا تیری ماں تجھے روئے ان یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی تو آسمانی کتابوں کے مصاحف موجود ہیں لیکن اب وہ کسی ایک حرف سے بھی نہیں چمٹے ہوئے جو ان کے انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے تھے یاد رکھو! علم اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ حاملین علم اٹھ جائیں گے تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22290]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22291 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ , قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ , قَالَ: فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ , فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ , وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ , وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا , ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ , وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ , فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ , فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ , وَأَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ , وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا , وَلَمُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں نکلے تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گذرا جہاں کچھ پانی بھی موجود تھا، اس کے دل میں خیال آیا کہ اسی غار میں مقیم ہوجائے اور وہاں موجود پانی سے اپنی زندگی کا سہارا قائم رکھے اور آس پاس موجود سبزیاں کھالیا کرے اور دنیا سے گوشہ نشینی اختیار کرلے پھر اس نے سوچا کہ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اس کا تذکرہ کرلوں اگر انہوں نے اجازت دے دی تو میں ایسا ہی کروں گا ورنہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرا ایک غار کے پاس سے گذر ہوا جس میں میرے گذارے کے بقدر پانی اور سبزی موجود ہے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہیں مقیم ہوجاؤں اور دنیا سے کنارہ کشی کرلوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودیت یا عیسائیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا مجھے تو صاف ستھرے دین حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کو نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کا جہاد کی صف میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22291]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22292 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , قَال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ , قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ , قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ , وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ , فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ , فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ , إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ , قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ دَفَنْتُمْ هَاهُنَا الْيَوْمَ؟" , قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فُلَانٌ وَفُلَانٌ , قَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ , وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فِيمَ ذَاكَ؟ قَالَ:" أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ , وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ" وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا , ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ , قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ:" لِيُخَفَّفَ عَنْهُمَا" , قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَحَتَّى مَتَى يُعَذِّبُهُمَا اللَّهُ؟ قَالَ:" غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ" , قَالَ:" وَلَوْلَا تَمَزُّعُ قُلُوبِكُمْ أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ , لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کی موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بقیع غرقد کے پاس سے گذرے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب جوتیوں کی آواز سنی تو دل میں اس کا خیال پیدا ہوا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ گئے اور انہیں آگے روانہ کردیا تاکہ دل میں کسی قسم کی بڑائی کا کوئی خیال نہ آئے، اس کے بعد وہاں سے گذرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گذرے جہاں دو آدمیوں کو دفن کیا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا کہ آج تم نے یہاں کسے دفن کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ! فلاں فلاں آدمی کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت انہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے اور ان کی آزمائش ہو رہی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک تو پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلخوری کیا کرتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی درخت کی ایک تر شاخ لے کر اس کے دو ٹکڑے کئے اور دونوں قبروں پر اسے لگا دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا اے اللہ کے نبی! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تاکہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا اے اللہ کے نبی! انہیں کب تک عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اگر تمہارے دلوں میں بات خلط ملط نہ ہوجاتی یا تمہارا آپس میں اس پر بحث کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جو آوازیں میں سن رہا ہوں وہ تم بھی سنتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22292]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22293 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِم أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِم أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا , فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ , فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ , فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سَعْدُ , أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟" , فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ:" يَا سَعْدُ , إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ , أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ , فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتیں فرمائیں جس پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت دیر تک روتے رہے اور کہنے لگے اے کاش! میں مرچکا ہوتا نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے سعد! میرے سامنے تم موت کی تمنا کر رہے ہو اور تین مرتبہ اس بات کو دہرایا پھر فرمایا اے سعد! اگر تم جنت کے لئے پیدا ہوئے ہو تو تمہاری عمر جتنی لمبی ہو اور تمہارے اعمال جتنے اچھے ہوں یہ تمہارے حق میں اتنا ہی بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22293]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22294 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَّ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ , فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ , وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ , وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ , أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ , فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا" , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ:" ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا" , قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ , وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ , وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ , وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا وارث کے لئے وصیت نہیں ہوگی بچہ بستر والے کا ہوگا اور بدکار کے لئے پتھر ہیں اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے اور جو شخص اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ یا اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی اور کی طرف کرتا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے جو قیامت تک اس کا پیچھا کرے گی، کوئی عورت اپنے گھر میں سے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! کھانا بھی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ تو ہمارا افضل مال ہے پھر فرمایا عاریت ادا کی جائے اور ہدیئے کا بدلہ دیا جائے، قرض ادا کیا جائے اور قرض دار ضامن ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22294]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22295 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُرَحْبِيلَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ شُرَحْبِيلَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الزَّعِيمُ غَارِمٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرض دار ضامن ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22295]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22296 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَرِيزٌ ، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: " مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح