بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 185
صفحہ 5 از 10
حدیث نمبر: 22217 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سُمَيْعٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ سُمَيْعٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ , فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کیا تو تین تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا تین مرتبہ کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22217]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سميع مجهول، وعمرو لم يسمع من سميع، وسميع لم يسمع من أبى أمامة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سميع مجهول، وعمرو لم يسمع من سميع، وسميع لم يسمع من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22218 مسند احمد
يَزِيدُ ، فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ الْحِمْصِيُّ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَنْبَأَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ الْحِمْصِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ , وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكَبَارَاتِ يَعْنِي: الْبَرَابِطَ , وَالْمَعَازِفَ , وَالْأَوْثَانَ الَّتِي كَانَتْ تُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَأَقْسَمَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ: لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ , إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ , وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا , إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ , وَلَا يَدَعُهَا عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مِنْ مَخَافَتِي , إِلَّا سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ , وَلَا يَحِلُّ بَيْعُهُنَّ , وَلَا شِرَاؤُهُنَّ , وَلَا تَعْلِيمُهُنَّ , وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ , وَأَثْمَانُهُنَّ حَرَامٌ لِلْمُغَنِّيَاتِ" . قَالَ يَزِيدُ: الْكَبَارَاتِ: الْبَرَابِطُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جہان والوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ موسقی کے آلات، طبلے، آلات لہو ولعب اور ان تمام بتوں کو مٹا ڈالوں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش کی جاتی تھی اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ میرا جو بندہ بھی شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا میں اس کے بدلے میں اسے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور اگر کسی نابالغ بچے کو بھی اس کا ایک گھونٹ پلایا تو اسے بھی اس کے بدلے میں جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور میرا جو بندہ میرے خوف کی وجہ سے اسے چھوڑ دے گا میں اسے اپنی پاکیزہ شراب پلاؤں گا اور مغنیہ عورتوں کی بیع وشراء انہیں گانابجانا سکھانا اور ان کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22218]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة ضعيف، وعلي بن يزيد ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة ضعيف، وعلي بن يزيد ضعيف
حدیث نمبر: 22219 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا تَحْمِلُهُ , وَبِيَدِهَا آخَرُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: وَهِيَ حَامِلٌ , فَلَمْ تَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يَوْمَئِذٍ إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ , ثُمَّ قَالَ: " حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ , لَوْلَا مَا يَأْتُينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ , دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے ایک بچے کے ہمراہ اسے اٹھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ مانگنے کے لئے آئی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بھی مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دے دیا پھر فرمایا بچوں کو اٹھانے والی یہ مائیں اپنی اولاد پر کتنی مہربان ہیں اگر وہ چیز نہ ہوتی جو یہ اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نمازی عورتیں جنت میں داخل ہوجائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22219]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمعه من أبى أمامة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمعه من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22220 مسند احمد
يَزِيدُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلَاثًا أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ , فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , فَمُرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ" , قَالَ: وَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لَا يَكَادُ يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ , فَإِذَا رُئِيَ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ , عَرَفُوا أَنَّ ضَيْفًا اعْتَرَاهُمْ , مِمَّا كَانَ يَصُومُ هُوَ وَأَهْلُهُ , قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ , فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ , قَالَ:" اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً , إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرمادیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22221 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْعَدَّاءِ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْعَدَّاءِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَوَجَدُوا فِي مِئْزَرِهِ دِينَارًا , أَوْ دِينَارَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيَّةٌ أَوْ كَيَّتَانِ" عَبْدُ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَشُكُّ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کا ایک یا دو داغ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22221]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22222 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ بَنِي الْعَدَّاءِ مِنْ كِنْدَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22222]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22223 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: " وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَر ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ , وَقَالَ: وَالْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ , قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ , وَقَالَ: بِأُصْبُعَيْهِ" , وَأَرَانَا حَمَّادٌ وَمَسَحَ مَاقَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وضو کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا عدد مجھے یاد نہیں رہا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقوں کو مسلتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22223]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس، والمسح على المأقين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وأبي ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله: الأذنان من الرأس
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس، والمسح على المأقين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وأبي ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله: الأذنان من الرأس
حدیث نمبر: 22224 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سُمَيْعٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ سُمَيْعٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " كَانَ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا , وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا , وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ کلی کرتے تھے تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور چہرہ اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22224]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سميع مجهول، وعمرو لم يسمع من سميع، وسميع لم يسمع من أبى أمامة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سميع مجهول، وعمرو لم يسمع من سميع، وسميع لم يسمع من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22225 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أَنَّهُ قَالَ: " لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوفَ , أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوهُكُمْ , وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَكُمْ , , أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو ورنہ تمہارے چہرے مسخ کردیئے جائیں گے اور نگاہیں نیچی رکھا کرو، ورنہ تمہاری بینائی سلب کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22225]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر، وعلي بن يزيد ضعيفان، لكنه صح بغير هذه السياقة
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر، وعلي بن يزيد ضعيفان، لكنه صح بغير هذه السياقة
حدیث نمبر: 22226 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا گذر خالد بن یزید پر ہوا تو اس نے ان سے پوچھا کہ کوئی نرم بات جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یاد رکھو! تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس آدمی کے جو اللہ کی اطاعت سے اس طرح بدک کر نکل جائے جیسے اونٹ اپنے مالک کے سامنے بدک جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22226]
حکم دارالسلام
إسناد حسن
الحكم: إسناد حسن
حدیث نمبر: 22227 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْدِمْنَا , فَقَالَ: " خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ" , فَقَالَ: خِرْ لِي , قَالَ:" خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ , فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ , وَإِنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ" , وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ الْغُلَامَ الْآخَرَ , فَقَالَ:" اسْتَوْصِ بِهِ خَيْرًا" , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ , مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ؟" , قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ خَيْرًا , فَأَعْتَقْتُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے جن میں سے ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا اسے مارنا نہیں کیونکہ میں نے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا غلام حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کودے دیا اور فرمایا میں تمہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں انہوں نے اسے آزاد کردیا ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا وہ غلام کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی تھی لہٰذا میں نے اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22227]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
الحكم: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
حدیث نمبر: 22228 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " يَا ابْنَ آدَمَ , إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ , فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى , لَمْ أَرْضَ لَكَ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! اگر میں تیری پیاری آنکھیں واپس لے لوں اور تو اس پر ثواب کی نیت سے ابتدائی صدمہ کے اوقات میں صبر کرلے تو میں تیرے لئے جنت کے علاوہ کسی اور بدلے پر راضی نہیں ہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22228]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22229 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ کی رضاء کے لئے کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی عزت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22229]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22230 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ عَنِ النَّافِلَةِ , فَقَالَ: " كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَافِلَةً , وَلَكُمْ فَضِيلَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو غالب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے " نافلہ " کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے نافلہ ہے جبکہ تمہارے لئے باعث اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22230]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
الحكم: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
حدیث نمبر: 22231 مسند احمد
سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، جَعْفَرٌ ، فَرْقَدًا ، عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، أَبِي أُمَامَةَ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ
حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قَالَ: أَتَيْتُ فَرْقَدًا يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ خَالِيًا , فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أُمِّ فَرْقَدٍ لَأَسْأَلَنَّكَ الْيَوْمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكَ فِي الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ , أَشَيْءٌ تَقُولُهُ أَنْتَ , أَوْ تَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا , بَلْ آثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ: وَمَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , وَحَدَّثَنِي بِهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَبِيتُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ , وَشُرْبٍ , وَلَهْوٍ , وَلَعِبٍ , ثُمَّ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ , فَيُبْعَثُ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَائِهِمْ رِيحٌ , فَتَنْسِفُهُمْ كَمَا نَسَفَتْ مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ , بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْخُمُورَ , وَضَرْبِهِمْ بِالدُّفُوفِ , وَاتِّخَاذِهِمْ الْقَيْنَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن میں " فرقد " کے پاس آیا تو انہیں تنہا پایا، میں نے ان سے کہا اے ابن ام فرقد! آج میں آپ سے اس حدیث کے متعلق ضرور پوچھ کر رہوں گا یہ بتائیے کہ خسف اور قذف سے متعلق بات آپ اپنی رائے کہتے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتا ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا عاصم بن عمرو بجلی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کی ہے۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ رات بھر کھانے پینے اور لہو ولعب میں مصروف رہے گا جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل چکی ہوں گی، پھر ان کے محلوں پر ایک ہوا بھیجی جائے گی جو انہیں اس طرح بکھیر کر رکھ دے گی جیسے پہلے لوگوں کو بکھیر کر رکھ دیا تھا کیونکہ وہ شراب کو حلال سمجھتے ہوں گے، دف (آلات موسیقی) بجاتے ہوں گے اور گانے والی عورتیں (گلو کارائیں) بنا رکھی ہوں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22231]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له ثلاثة أسانيد، الأول ضعيف لضعف سيار فرقد، والثاني مرسل، والثالث: معضل
الحكم: هذا الحديث له ثلاثة أسانيد، الأول ضعيف لضعف سيار فرقد، والثاني مرسل، والثالث: معضل
حدیث نمبر: 22232 مسند احمد
الْهُذَيْلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْكُوفِيُّ الْجُعْفِيُّ ، مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْكُوفِيُّ الْجُعْفِيُّ , كَانَ يَجْلِسُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ يَعْنِي: مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ كُوفِيٌّ , عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ , فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ , فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ , قَالَ: فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ , وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ , وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ , قِيلَ لِي: أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَاهُنَا بِالْبَابِ يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ , وَأَمَّا النِّسَاءُ , فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ , قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ , فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ , أُتِيتُ بِكِفَّةٍ , فَوُضِعْتُ فِيهَا , وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ , فَرَجَحْتُ بِهَا , ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ , وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي , فوُضعَتْ فِي كِفَّةٍ , فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , ثم أتى بِعُمَرَ , فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ , وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا , فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , وَعُرِضَتْ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا , فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ , فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ , ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ , فَقُلْتُ: عَبْدُ الرُّحْمَنِ! فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ , قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ بلال ہیں، میں آگے چل پڑا تو دیکھا کہ جنت میں اکثریت مہاجر فقراء اور مسلمانوں کے بچوں کی ہے اور میں نے وہاں مالداروں اور عورتوں سے زیادہ کم تعداد کسی طبقے کی نہیں دیکھی اور بتایا گیا کہ مالدار تو یہاں جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں جہاں ان سے حساب کتاب اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور خواتین کو سونے اور ریشم نے ہی غفلت میں ڈالے رکھا۔ پھر ہم جنت کے آٹھ میں سے کسی دروازے سے نکل کر باہر آگئے ابھی میں دروازے پر ہی تھا کہ ایک ترازو لایا گیا جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا اور دوسرے میں میری ساری امت کو تو میرا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو میرے سامنے پیش کیا گیا اور وہ میرے آگے سے گذرتے رہے لیکن میں نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن عوف نے آنے میں بہت تاخیر کردی ہے کافی دیر بعد جب امید ٹوٹنے لگی تو وہ آئے میں نے ان سے پوچھا عبدالرحمن! کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میری تو جان خلاصی اس وقت ہوئی ہے جب کہ میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اب کبھی آپ کی زیارت نہیں کرسکوں گا، الاّ یہ کہ ٹھنڈے دن آجائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کس وجہ سے؟ عرض کیا مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے میرا حساب کتاب اور جانچ پڑتال کی جا رہی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22232]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، على بن يزيد واهي الحديث، وعبيد الله وأبو المهلب ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا، على بن يزيد واهي الحديث، وعبيد الله وأبو المهلب ضعيفان
حدیث نمبر: 22233 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ ، شَرِيكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي ظَبْيَةَ الشَّامِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ الشَّامِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمِقَةُ فِي السَّمَاءِ , فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا , قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ" , قَالَ:" فَتَنْزِلُ لَهُ الْمِقَةُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا محبت (اللہ کی طرف سے اور ناموری) آسمان سے آتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو (حضرت جبرائیل علیہ السلام سے) فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پھر یہ محبت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22233]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 22234 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: إِنِّي لَتَحْتَ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ , فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِيلًا , وَكَانَ فِيمَا قَالَ: " مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ , وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا , وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ , وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کے نیچے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر بڑی عمدہ باتیں فرمائیں، انہی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اہل کتاب کا جو آدمی مسلمان ہوجائے گا اسے دوگنا اجر ملے گا اور حقوق و فرائض میں وہ ہماری طرح ہوجائے گا اور مشرکین میں سے جو آدمی مسلمان ہوجائے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور وہ بھی حقوق و فرائض میں ہماری طرح ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22234]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن الهيعة، لكنه توبع
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن الهيعة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22235 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: " أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ , وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ , وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مؤمن کی نجات کس طرح ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ بکاء کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22235]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22236 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ , أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ , فَيَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمْ الْمُصَافَحَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مریض کی مکمل بیمار پرسی یہ ہے کہ تم اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھو کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہاری باہمی ملاقات کے آداب کا مکمل ہونا " مصافحہ " سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22236]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان