بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 185
صفحہ 4 از 10
حدیث نمبر: 22197 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي , عَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ , أَطَاعَ رَبَّهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَتَهُ فِي السِّرِّ , وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ , وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا" , قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُرُ بِأُصْبُعَيْهِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا , وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا , عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ , وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ , وَقَلَّ تُرَاثُهُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَأَلْتُ أَبِي , قُلْتُ: مَا تُرَاثُهُ؟ قَالَ: مِيرَاثُهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک انسان وہ بندہ مومن ہے جو ہلکے پھلکے سامان والا ہو نماز کا بہت سا حصہ رکھتا ہوا پنے رب کی اطاعت اور چھپ کر عمدگی سے عبادت کرتا ہو، لوگوں کی نظروں میں مخفی ہو، انگلیوں سے اس کی طرف سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں، بقدر کفایت اس کی روزی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ جملہ دہراتے ہوئے چٹکی بجانے لگے پھر فرمایا اس کی موت جلدی آجائے، اس کی وراثت بھی تھوڑی ہو اور اس پر رونے والے بھی تھوڑے ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22197]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، ليث بن أبى سليم وعبيد الله ضعيفان، وعبيد الله لم يسمعه من القاسم
الحكم: إسناده ضعيف جدا، ليث بن أبى سليم وعبيد الله ضعيفان، وعبيد الله لم يسمعه من القاسم
حدیث نمبر: 22198 مسند احمد
أَسْوَدُ ، الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَنَقَرَ بِيَدِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22198]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، أبو المهلب وعبيد الله بن زحر ضعيفان، وعلي بن يزيد واهي الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جدا، أبو المهلب وعبيد الله بن زحر ضعيفان، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22199 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، مَمْطُورٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْإِثْمُ؟ قَالَ:" إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ , فَدَعْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22199]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
الحكم: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
حدیث نمبر: 22200 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ ثَوْرٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رُفِعَتْ الْمَائِدَةُ , قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , غَيْرَ مَكْفِيٍّ , وَلَا مُوَدَّعٍ , وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوجاتے یا دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو یہ دعاء پڑھتے الحمدللہ کثیرا طیبامبارکا فیہ غیر مکفی ولامودع ولامستغنی عنہ ربنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22201 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مِسْعَرٍ ، أَبُو الْعَدَبَّسِ ، أَبَا خَلَفٍ ، أَبُو مَرْزُوقٍ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْعَدَبَّسِ , عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ أَبَا خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَرْزُوقٍ , قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا , قَالَ: " فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي , فَلَا تَقُومُوا كَمَا يَفْعَلُ الْعَجَمُ , يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا" , قَالَ: كَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَدْعُوَ لَنَا , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا , وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لاٹھی سے ٹیک لگاتے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو ہم احتراماً کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو جو ایک دوسرے کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں ہماری خواہش تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے لئے دعاء فرما دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم سے راضی ہوجا ہماری نیکیاں قبول فرما ہمیں جنت میں داخل فرما جہنم سے نجات عطاء فرما اور ہمارے تمام معاملات کو درست فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22201]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
حدیث نمبر: 22202 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ" . حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْت أَبِي , يَقُولُ: حُسَيْنٌ الْخُرَاسَانِيُّ هَذَا هُوَ حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا روزانہ افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22202]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، فقد اختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، فقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22203 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: " قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22203]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22204 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ الْوَاسِطِيُّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ , إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ" , ثُمَّ قَرَأَ: مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ سورة الزخرف آية 58 ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا راہ ہدایت پر گامزن ہونے کے بعد جو قوم بھی دوبارہ گمراہ ہوتی ہے وہ لڑائی جھگڑوں میں پڑجاتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " یہ لوگ آپ کے سامنے جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے بلکہ یہ تو جھگڑالو لوگ ہیں " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22204]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، أبو غالب يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف فيه
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، أبو غالب يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22205 مسند احمد
يَعْلَى ، حَجَّاجٌ
حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22205]
حکم دارالسلام
إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، فقد اختلف فيه
الحكم: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، فقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22206 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، شِمْرٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شِمْرٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ , خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ , وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ , فَإِنْ قَعَدَ , قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کان، آنکھ ہاتھ اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ بیٹھتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22206]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر ، وقد توبع
حدیث نمبر: 22207 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ , وَلَمْ يُجِبْهُ , ثُمَّ سَأَلَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ , فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ , فَلَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ , وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ , قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" قَالَ: " كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت جمرات کو کنکریاں مار رہے تھے اس نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! سب سے زیادہ پسندیدہ جہاد اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا جہاد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثانیہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثالثہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق بات جو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے کہی جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22207]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22208 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنُهْ رَأَى رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: " كِلَابُ النَّارِ , كِلَابُ النَّارِ, ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ , خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ" , ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ سورة آل عمران آية 106 الْآيَتَيْنِ , قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , أَوْ أَرْبَعًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سِتًّا , أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو غالب کہتے ہیں کہ عراق سے کچھ خوارج کے سر لا کر مسجد دمشق کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ آئے اور رونے لگے اور تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا۔ تھوڑے دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان پر ترس آرہا تھا اے ابو امامہ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22208]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، وقد توبع
حدیث نمبر: 22209 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، سَيَّارٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ: جُعِلَتْ الْأَرْضُ لِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا , وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً , وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ , وَأُحِلَّتْ لِأُمَّتِي الْغَنَائِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) یا امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں مجھے ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے روئے زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہی اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کے لئے مٹی موجود ہے اور ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22209]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22210 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , نَافِلَةً لَك سورة الإسراء آية 79 , قَالَ: " إِنَّمَا كَانَتْ النَّافِلَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی " نافلۃ لک " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نوافل کی پابندی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22210]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر ، وقد تابعه راو ضعيف أيضا
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر ، وقد تابعه راو ضعيف أيضا
حدیث نمبر: 22211 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَرِيزٌ ، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا , فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ , فَزَجَرُوهُ , قَالُوا: مَهْ مَهْ , فَقَالَ:" ادْنُهْ" , فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا , قَالَ: فَجَلَسَ , قَالَ: " أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ" , قَالَ:" أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ , قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ , قَال: أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ , قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ , قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ , وَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ , وَطَهِّرْ قَلْبَهُ , وَحَصِّنْ فَرْجَهُ" , فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22212 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَرِيزٌ ، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ غُلَامًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22213 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ , فَإِنَّهُ يَأْتِي شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا , وَاقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: هَذَا الْحَدِيثُ أَمْلَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِوَاسِطٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22213]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22214 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَيْمَنَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي , وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22214]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22215 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ , مِثْلُ الْحَيَّيْنِ , أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ: رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ" , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أوَ مَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَقُولُ مَا أُقَوَّلُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22215]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زيادة شاذة
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زيادة شاذة
حدیث نمبر: 22216 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَرِيزٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22216]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زياده شاذة
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زياده شاذة