يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مِسْعَرٍ ، أَبُو الْعَدَبَّسِ ، أَبَا خَلَفٍ ، أَبُو مَرْزُوقٍ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْعَدَبَّسِ , عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ أَبَا خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَرْزُوقٍ , قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا , قَالَ: " فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي , فَلَا تَقُومُوا كَمَا يَفْعَلُ الْعَجَمُ , يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا" , قَالَ: كَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَدْعُوَ لَنَا , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا , وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لاٹھی سے ٹیک لگاتے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو ہم احتراماً کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو جو ایک دوسرے کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں ہماری خواہش تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے لئے دعاء فرما دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم سے راضی ہوجا ہماری نیکیاں قبول فرما ہمیں جنت میں داخل فرما جہنم سے نجات عطاء فرما اور ہمارے تمام معاملات کو درست فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22201]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه