بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 185
صفحہ 1 از 10
حدیث نمبر: 22137 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، سَيَّارٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضَّلَنِي رَبِّي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ , أَوْ قَالَ: عَلَى الْأُمَمِ بِأَرْبَعٍ , قَالَ: أُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً , وَجُعِلَتْ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا , فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ , وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ , وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يَقْذِفُهُ فِي قُلُوبِ أَعْدَائِي , وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام انبیاء (علیہم السلام) یا امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں مجھے ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے روئے زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہی اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کے لئے مٹی موجود ہے اور ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22137]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22138 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَيْمَنَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي , وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي" , سَبْعَ مِرَارٍ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22138]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22139 مسند احمد
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، هَمَّامُ بَنُ يَحْيَى ، وَحَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ ، قَتَادَةَ ، أَيْمَنَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامُ بَنُ يَحْيَى , وَحَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22139]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، هذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
الحكم: حسن لغيره، هذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22140 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٍ ، وَاصِلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا ثَالِثًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ , فَسَأَلْتُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسَلِّمَنَا وَيُغَنِّمَنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ" , قَالَ: فَمَا رُئِيَ أَبُو أُمَامَةَ , وَلَا امْرَأَتُهُ , وَلَا خَادِمُهُ إِلَّا صُيَّامًا , قَالَ: فَكَانَ إِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِمْ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ , قِيلَ: اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ , نَزَلَ بِهِمْ نَازِلٌ , قَالَ: فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَرْتَنَا بِالصِّيَامِ , فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِيهِ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمُرْنِي بِعَمَلٍ آخَرَ , قَالَ:" اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22140]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22141 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا , فَأَتَيْتُهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22142 مسند احمد
فِطْرُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ وَاقِدٍ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل فطر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل فطر
حدیث نمبر: 22143 مسند احمد
فِطْرُ بْنُ حَمَّادٍ ، أَبِي ، مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ , يَقُولُ: يَقُولُ النَّاسُ: مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَعْنِي: مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ زَاهِدٌ " إِنَّمَا الزَّاهِدُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الَّذِي أَتَتْهُ الدُّنْيَا , فَتَرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مالک بن دینار رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے لوگوں کا خیال ہے کہ مالک بن دینار بڑا پرہیزگار ہے اصل پرہیز تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں جن کے پاس دنیا آئی اور پھر بھی انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22143]
حکم دارالسلام
هذا الأثر فى زهد عمر بن عبدالعزيز، ولا تعلق له بمسند أبى أمامة، و إسناده ضعيف، حماد بن واقد متفق على ضعفه وفطر بن حماد مختلف فيه
الحكم: هذا الأثر فى زهد عمر بن عبدالعزيز، ولا تعلق له بمسند أبى أمامة، و إسناده ضعيف، حماد بن واقد متفق على ضعفه وفطر بن حماد مختلف فيه
حدیث نمبر: 22144 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ سَالِمٍ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ , وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَهَا , فَأَعْظِمْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ کلمات کہہ لے اسے عظمت نصیب ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس کی مخلوقات کے بھرپور ہونے کے بقدر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں آسمان و زمین کی چیزوں کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں آسمان و زمین کے بھرپور کے بقدر، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس کی تقدیر کے احاطے میں آنے والی چیزوں کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں احاطہ تقدیر میں آنے والی چیزوں کے بھرپور ہونے کے بقدر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہر چیز کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہر چیز کے بھرپور ہونے کے بقدر اور اسی طرح اللہ کی پاکیزگی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22144]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22145 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْمَشَّاءِ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ الْمَشَّاءِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي الْمَشَّاءِ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ الْمَشَّاءِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَحَوَّلَ خِيَارُ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ , وَيَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى الْعِرَاقِ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو الْمشاء يُقَالُ لَهُ: لَقِيطٌ , وَيَقُولُونَ: ابْنُ الْمشاء , وَأَبُو الْمشاء.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین لوگ عراق منتقل نہ ہوجائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم شام کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22145]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو المشاء لقيط بن المشاء يخطئ ويخالف
الحكم: إسناده ضعيف، أبو المشاء لقيط بن المشاء يخطئ ويخالف
حدیث نمبر: 22146 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , حَدَّثَهُ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اقْرَؤا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ شَافِعٌ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ: الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ , يُحَاجَّانِ عَنْ أَهْلِهِمَا" , ثُمَّ قَالَ:" اقْرَؤا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22146]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22147 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22147]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي سماع يحيى بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وفي سماع يحيى بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، وقد توبع
حدیث نمبر: 22148 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَيْخٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَيْخٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ فِي السَّلَاسِلِ إِلَى الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22148]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى أمامة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى أمامة
حدیث نمبر: 22149 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، أَبَا نَصْرٍ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ" , ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ:" عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے جیسا کوئی عمل نہیں ہے پھر میں دوبارہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزے ہی کو اپنے اوپر لازم رکھو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22150 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ ، سَيَّارٌ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ , حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ ذَكَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ , أَوْ قَالَ: يَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ , مَعَهُمْ أَسْيَاطٌ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ , يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ , وَيَرُوحُونَ فِي غَضَبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کے آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے آئیں گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے ان کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اس کے غضب میں گذرے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22150]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22151 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ ، سَيَّارٌ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ , حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , قَالَ: جِيءَ بِرُءُوسٍ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ , فَنُصِبَتْ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ , وَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ , فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ , فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: " شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ ثَلَاثًا , وَخَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مَنْ قَتَلُوهُ , وَقَالَ: كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا , ثُمَّ إِنَّهُ بَكَى , ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُمْ , فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَرَأَيْتَ هَذَا الْحَدِيثَ حَيْثُ قُلْتَ: كِلَابُ النَّارِ , شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ , لَوْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ , حَتَّى ذَكَرَ سَبْعًا , لَخِلْتُ أَنْ لَا أَذْكُرَهُ , فَقَالَ الرَّجُلُ: لِأَيِّ شَيْءٍ بَكَيْتَ؟ قَالَ: رَحْمَةً لَهُمْ , أَوْ مِنْ رَحْمَتِهِمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیار کہتے ہیں کہ عراق سے کچھ لوگوں کے سر لا کر مسجد کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ آئے اور مسجد میں داخل ہو کردو رکعتیں پڑھیں اور باہر نکل کر ان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور تین مرتبہ فرمایا آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا پھر تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں اور رونے لگے۔ تھوڑے دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا اے ابو امامہ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا، اس نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان پر ترس آرہا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22151]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22152 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنِ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْتِ أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ , وَلَا يَدْخُلْ بَيْتًا إِلَّا بِإِذْنٍ , وَلَا يَؤُمَّنَّ إِمَامٌ قَوْمًا , فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص پیشاب وغیرہ کو زبردستی روک کر نماز کے لئے مت آیا کرے کوئی شخص اجازت لئے بغیر گھر میں داخل نہ ہو اور جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے وہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ مانگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22152]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ولا يؤمن... وهذا إسناد ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم قد اختلف فيه على يزيد بن شريح
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ولا يؤمن... وهذا إسناد ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم قد اختلف فيه على يزيد بن شريح
حدیث نمبر: 22153 مسند احمد
أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ , وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ , كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ" , وقَرنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے اور صرف اللہ کی رضا کے لئے پھیرے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پھر جائے گا، اسے ہر بال کے بدلے نیکیاں ملیں گی اور جو شخص اپنے زیر تربیت کسی یتیم بچے یا بچی کے ساتھ حسن سلوک کرے میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر دکھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22153]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون الشطر الأول منه بقصة المسح على رأس اليتيم، وهذا إسناد ضعيف جدا، فيه على بن يزيد ضعيف، وعبيد الله بن زحر ضعيف أيضا
الحكم: صحيح لغيره دون الشطر الأول منه بقصة المسح على رأس اليتيم، وهذا إسناد ضعيف جدا، فيه على بن يزيد ضعيف، وعبيد الله بن زحر ضعيف أيضا
حدیث نمبر: 22154 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ , وَهَبَ أَحَدَهُمَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , وَقَالَ: " لَا تَضْرِبْهُ , فَإِنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ , وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي" , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ , فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْدِمْنَا , قَالَ:" خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ" , قَالَ: خِرْ لِي , قَالَ:" خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ , فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ , وَإِنِّي قَدْ نَهَيْتُ" , وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا , وَقَالَ:" اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا" , فَأَعْتَقَهُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ الْغُلَامُ؟" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا , فَأَعْتَقْتُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے جن میں سے ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا اسے مارنا نہیں کیونکہ میں نے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا غلام حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا میں تمہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں انہوں نے اسے آزاد کردیا ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا وہ غلام کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی تھی لہٰذا میں نے اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22154]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل أبى غالب
الحكم: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22155 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، إِسْرَائِيلُ ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بَعْضُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22155]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 22156 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيِّ ، وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيِّ , وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ" , فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنسَ السُّلَمِيُّ: وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا , وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ" , قَالَ: فَمَا سِعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ , وَأَوْسَعَ , وَأَوْسَعَ" يُشِيرُ بِيَدِهِ , قَالَ:" فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ , وَفِضَّةٍ" , قَالَ: فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ , وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ , مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا , وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کو بلاحساب کتاب جنت میں داخل فرمائے گا، یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے بخدا! یہ تو آپ کی امت میں سے صرف اتنے ہی لوگ ہوں گے جیسے مکھیوں میں سرخ مکھی ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے رب نے مجھ سے ستر ہزار کا وعدہ اس طرح کیا ہے کہ ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور اس پر تین گنا کا مزید اضافہ ہوگا، یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے اللہ کے نبی! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جتنی عدن اور عمان کے درمیان ہے اس سے بھی دوگنی جس میں سونے چاندی کے دو پرنالوں سے پانی گرتا ہوگا، انہوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیرین اور مشک سے زیادہ مہکتا ہوا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور اس کے چہرے کا رنگ کبھی سیاہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22156]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح، وهذا إسناد قوي