بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22148
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22148
حدیث نمبر: 22148 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَيْخٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَيْخٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ فِي السَّلَاسِلِ إِلَى الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22148]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى أمامة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى أمامة
← پچھلی حدیث (22147) باب پر واپس اگلی حدیث (22149) →