بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 185
صفحہ 3 از 10
حدیث نمبر: 22177 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، شَيْخًا ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , أَنَّهُ سَمِعَ شَيْخًا مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ , كَبَّرَ ثَلَاثًا , وَسَبَّحَ ثَلَاثًا , وَهَلَّلَ ثَلَاثًا , ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ , مِنْ هَمْزِهِ , وَنَفْخِهِ , وَشِرْكِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کی نماز شروع کرنے لگتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر تین مرتبہ سبحان اللہ اور تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میں شیطان کے کچوکے اس کی پھونک اور اس کے شرک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22177]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي له عن أبى أمامة، وقوله: وشركه غير محفوظ فى هذا الحديث، والمحفوظ: ونفثه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي له عن أبى أمامة، وقوله: وشركه غير محفوظ فى هذا الحديث، والمحفوظ: ونفثه
حدیث نمبر: 22178 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، شَيْخٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ بَخٍ بَخٍ: سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يَمُوتُ لِلرَّجُلِ , فَيَحْتَسِبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں کیا ہی خوب ہیں سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور انسان کا وہ نیک لڑکا جو فوت ہوجائے اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22178]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة
حدیث نمبر: 22179 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ , كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ," وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ" , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ:" أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ , مِنْ هَمْزِهِ , وَنَفْخِهِ , وَنَفْثِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز شروع کرنے لگتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر تین مرتبہ سبحان اللہ اور تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میں شیطان کے کچوکے اس کی پھونک اور اس کے شرک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22179]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22180 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ بَنِي الْعَدَّاءِ مِنْ كِنْدَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ , وَتَرَكَ دِينَارًا , أَوْ دِينَارَيْنِ , يَعْنِي: قَالَ له: " لَهُ كَيَّةٌ , أَوْ كَيَّتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کا ایک یا دو داغ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22181 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي الْعَنْبَس ، أَبِي الْعَدَبَّسِ ، أَبِي مَرْزُوقٍ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ أَبِي الْعَنْبَس , عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى عَصًا , فَقُمْنَا إِلَيْهِ , فَقَالَ: " لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا" , قَالَ: فَكَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَدْعُوَ اللَّهَ لَنَا , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا , وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ" , فَكَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَزِيدَنَا , فَقَالَ:" قَدْ جَمَعْتُ لَكُمْ الْأَمْرَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لاٹھی سے ٹیک لگاتے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو ہم احتراماً کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو جو ایک دوسرے کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں ہماری خواہش تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے لئے دعاء فرما دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم سے راضی ہوجا ہماری نیکیاں قبول فرما ہمیں جنت میں داخل فرما جہنم سے نجات عطاء فرما اور ہمارے تمام معاملات کو درست فرما ہم چاہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزید دعاء فرمائیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اس دعاء میں تمہارے لئے ساری چیزوں کو شامل کرلیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22181]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
حدیث نمبر: 22182 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي ، أَبِي ، أَبِي ، أَبُو غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ أَبِي , عَنْ أَبِي , عَنْ أَبِي , مِنْهُمْ أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22182]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
حدیث نمبر: 22183 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبَا غَالِبٍ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا غَالِبٍ , يَقُولُ: لَمَّا أُتِيَ بِرُءُوسِ الْأزَارِقَةِ , فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ , جَاءَ أَبُو أُمَامَةَ , فَلَمَّا رَآهُمْ , دَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ: " كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ هَؤُلَاءِ شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ , وَخَيْرُ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ هَؤُلَاءِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا شَأْنُكَ دَمَعَتْ عَيْنَاكَ؟ قَالَ: رَحْمَةً لَهُمْ , إِنَّهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ , قَالَ: قُلْنَا: أَبِرَأْيِكَ , قُلْتَ: هَؤُلَاءِ كِلَابُ النَّارِ , أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي لَجَرِيءٌ , بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا ثِنْتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , قَالَ: فَعَدَّ مِرَارًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو غالب کہتے ہیں کہ عراق سے کچھ خوارج کے سر لا کر مسجد دمشق کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ آئے اور رونے لگے اور تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا۔ تھوڑی دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان پر ترس آرہا تھا اے ابو امامہ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22183]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22184 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: " مَا كَانَ يَفْضُلُ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22184]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22185 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ طُلُوعِ الشَّمْسِ: أُكَبِّرُ , وَأُهَلِّلُ , وَأُسَبِّحُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22185]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22186 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ , وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا , يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تغْلِي الْقُدُورُ , يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ , مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سورج صرف ایک میل کی مسافت کے برابر قریب آجائے گا اور اس کی گرمی میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ دماغ ہانڈیوں کی طرح ابلنے لگیں گے اور تمام لوگ اپنے اپنے گناہوں کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا کسی کا پنڈلی تک کسی کا جسم کے درمیان تک اور کسی کے منہ میں پسینے کی لگام ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22186]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22187 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى سورة طه آية 55" , قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا , طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمْ الْجَبُوبَ , وَيَقُولُ:" سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ" , ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ , وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " کہا یا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22187]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22188 مسند احمد
نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ نُوحٍ وَهُوَ الْمَضْرُوبُ , حَدَّثَنَا أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ , أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ , فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ , فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ , فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ وُضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ , وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ" , قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا , غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , وَلَا أَرْبَعٍ , وَلَا خَمْسٍ , وَلَا سِتٍّ , وَلَا سَبْعٍ , وَلَا ثَمَانٍ , وَلَا تِسْعٍ , وَلَا عَشْرٍ , وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو غالب راسبی کہتے ہیں کہ شہر حمص میں ان کی ملاقات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کچھ سوالات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھے اسی دوران حضرت ابو امام رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلم نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اور وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر پانی کا پہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کے گناہ معاف ہونے لگتے ہیں اور پانی کے ان قطرات کی تعداد کے اعتبار سے جب وہ وضو کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ اور غالب نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بشیرونذیر بنا کر بھیجا تھا ایک دو مرتبہ نہیں دسیوں مرتبہ سنا ہے اور سارے اعداد ذکر کے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22188]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى غالب
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى غالب
حدیث نمبر: 22189 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي , فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا , يُصَلِّي مَعَهُ" , فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے؟ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں جماعت ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22189]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22190 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَحُدِّثْنَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا , فَقُلْتُ: لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا , وَأَجُوعُ يَوْمًا , أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ , فَإِذَا جُعْتُ , تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ , وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ , وَشَكَرْتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پروردگار نے مجھے یہ پیشکش کی کہ وہ بطحاء مکہ کو میرے لئے سونے کا بنا دے لیکن میں نے عرض کیا کہ پروردگار! نہیں میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیراب ہوجاؤں تاکہ جب بھوکا رہوں تو تیری بارگاہ میں عاجزی وزاری کروں اور تجھے یاد کروں اور جب سیراب ہوں تو تیری تعریف اور شکر ادا کروں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22190]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22191 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ , النُّصْحُ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت " جو وہ میری کرتا ہے " میرے ساتھ خیر خواہی ہے (میرے احکامات پر عمل کرنا) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22191]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا ، عبيد الله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا ، عبيد الله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22192 مسند احمد
عَتَّابٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ , فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22192]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22193 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ , فَإِنَّهُ يَأْتِي شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِصَاحِبِهِ , اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا , اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22193]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
الحكم: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
حدیث نمبر: 22194 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ , وَأُكَبِّرُهُ , وَأَحْمَدُهُ , وَأُسَبِّحُهُ وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22194]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22195 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَالِثًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ أَتَيْتُكَ تَتْرَى مَرَّتَيْنِ , أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ" , قَالَ: فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ , وَامْرَأَتُهُ , وَخَادِمُهُ , لَا يُلْفَوْنَ إِلَّا صِيَامًا فَإِذَا رَأَوْا نَارًا , أَوْ دُخَانًا بِالنَّهَارِ فِي مَنْزِلِهِمْ , عَرَفُوا أَنَّهُمْ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ , قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ , وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ , فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً , إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً , أَوْ حَطَّ , أَوْ قَالَ: وَحَطَّ , شَكَّ مَهْدِيٌّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دوربارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہا جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22196 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبُو غَالِبٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: " إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ , قَعَدْتَ مَغْفُورًا لَكَ , فَإِنْ قَامَ يُصَلِّي , كَانَتْ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا , وَإِنْ قَعَدَ , قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ فَصَلَّى تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً؟ قَالَ:" لَا , إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً , وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا؟! تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم اچھی طرح وضو کرو تو جب بیٹھو گے اس وقت تمہارے سارے گناہ بخشے جاچکے ہوں گے اگر اس کے بعد کوئی شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا تو وہ اس کے لئے فضیلت اور باعث اجربن جاتی ہے وہ بیٹھتا ہے توبخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اے ابو امامہ! یہ بتائیے کہ اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے تو وہ اس کے لئے نفل ہوگی؟ انہوں نے فرمایا نہیں، نفل ہونا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیت تھی، عام آدمی کے لئے کیسے ہوسکتی ہے جبکہ وہ گناہوں اور لغزشوں میں بھاگا پھرتا ہے اس کے لئے وہ باعث اجر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22196]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري، وقد اضطرب فى هذا الحديث
الحكم: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري، وقد اضطرب فى هذا الحديث