بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22188
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22188
حدیث نمبر: 22188 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ نُوحٍ وَهُوَ الْمَضْرُوبُ , حَدَّثَنَا أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ , أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ , فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ , فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ , فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ وُضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ , وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ" , قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا , غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , وَلَا أَرْبَعٍ , وَلَا خَمْسٍ , وَلَا سِتٍّ , وَلَا سَبْعٍ , وَلَا ثَمَانٍ , وَلَا تِسْعٍ , وَلَا عَشْرٍ , وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو غالب راسبی کہتے ہیں کہ شہر حمص میں ان کی ملاقات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کچھ سوالات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھے اسی دوران حضرت ابو امام رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلم نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اور وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر پانی کا پہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کے گناہ معاف ہونے لگتے ہیں اور پانی کے ان قطرات کی تعداد کے اعتبار سے جب وہ وضو کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ اور غالب نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بشیرونذیر بنا کر بھیجا تھا ایک دو مرتبہ نہیں دسیوں مرتبہ سنا ہے اور سارے اعداد ذکر کے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22188]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى غالب
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى غالب
← پچھلی حدیث (22187) باب پر واپس اگلی حدیث (22189) →