عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى سورة طه آية 55" , قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا , طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمْ الْجَبُوبَ , وَيَقُولُ:" سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ" , ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ , وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " کہا یا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22187]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان