بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22211
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22211
حدیث نمبر: 22211 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَرِيزٌ ، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا , فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ , فَزَجَرُوهُ , قَالُوا: مَهْ مَهْ , فَقَالَ:" ادْنُهْ" , فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا , قَالَ: فَجَلَسَ , قَالَ: " أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ" , قَالَ:" أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ , قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ , قَال: أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ , قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟" , قَالَ: لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ:" وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ , قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ , وَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ , وَطَهِّرْ قَلْبَهُ , وَحَصِّنْ فَرْجَهُ" , فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (22210) باب پر واپس اگلی حدیث (22212) →