هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ , عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُذِنَ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا , وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ , وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ" يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی انسان کو کسی چیز کے متعلق اس سے افضل اجازت نہیں دی گئی جو دو رکعتوں کے متعلق دی گئی ہے جنہیں وہ ادا کرتا ہے اور انسان جب تک نماز میں مشغول رہتا ہے اس وقت تک نیکی اس کے سر پر بکھرتی رہتی ہے اور انسان کو اللہ کا اس جیسا قرب حاصل نہیں ہوتا جو اس سے نکلنے والے کلام یعنی قرآن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22306]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث ، ولانقطاعه، زيد بن أرطاة حديثه عن أبى أمامة مرسل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث ، ولانقطاعه، زيد بن أرطاة حديثه عن أبى أمامة مرسل