أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً , فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ , فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ , وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا , ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ , فَقَالَ لَهُ: يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ؟ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ" , فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خالد بن یزید کے پاس گئے اس نے ان کے لئے تکیہ پیش کیا حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ یہ ریشمی تکیہ ہے اس لئے وہ الٹے پاؤں واپس چلتے ہوئے صف کے آخر میں پہنچ گئے خالد ایک دوسرے آدمی سے محو گفتگو تھا کچھ دیر بعد اس نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو کہنے لگا بھائی جان! آپ کیا سمجھے؟ کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ ریشمی تکیہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ریشم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا جو اللہ سے ملنے کی امید رکھتاہو خالد نے پوچھا اے ابو امامہ! کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ معافی یہ سوال کہ کیا آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے، ہم ایک ایسی قوم میں رہتے تھے جو ہمارے ساتھ جھوٹ بولتے تھے اور نہ ہم ان کے ساتھ جھوٹ بولتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22302]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر الغساني
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر الغساني