بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 2 از 10
حدیث نمبر: 19835 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا جَمْرَةَ ، زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا جَمْرَةَ ، زَهْدَمٌ فِي دَارِي ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: جَاءَنِي زَهْدَمٌ فِي دَارِي، فَحَدَّثَنِي , قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً , ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ" , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ يَقُولُ: جَاءَنِي زَهْدَمٌ فِي دَارِي فَحَدَّثَنِي , قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي" فَذَكَرَ مِثْلَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19836 مسند احمد
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ يَقُولُ: جَاءَنِي زَهْدَمٌ فِي دَارِي فَحَدَّثَنِي قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي" فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ"
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19837 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، مُطَرِّفًا ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ: أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَجَاءَ إِلَى إِحْدَاهُمَا , قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ بِهِ عِمَامَتَهُ، وَقَالَتْ: جِئْتَ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِكَ! قَالَ: جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ان کی دو بیویاں تھیں، ایک مرتبہ وہ اپنی ایک بیوی کے پاس آئے تو وہ ان کا عمامہ اتارتے ہوئے پوچھنے لگی کہ آپ اپنی دوسری بیوی کے پاس سے آرہے ہیں؟ انہوں سے کہا میں تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آرہا ہوں اور انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم رہائشی افراد خواتین ہوں گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2738
الحكم: إسناده صحيح، م: 2738
حدیث نمبر: 19838 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، رَجُلًا ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ , قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ عِمْرَانُ:" أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْحَنَاتِمِ أَوْ قَالَ الْحَنْتَمِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنتم، سونے کی انگوٹھی اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19838]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الرجل الليثي: هو حفص بن عبدالله، وهو مجهول لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الرجل الليثي: هو حفص بن عبدالله، وهو مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19839 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، مُطَرِّفًا ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟" يَعْنِي شَعْبَانَ، فَقَالَ: لَا , فَقَالَ لَهُ:" إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ" شَكَّ الَّذِي شَكَّ فِيهِ قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ:" يَوْمَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19839]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أخي مطرف بن الشخير
الحكم: حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أخي مطرف بن الشخير
حدیث نمبر: 19840 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، صَاحِبٍ لَهُ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنِ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ , أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِالْكُوفَةِ، فَصَلَّى بِنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ، وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ عِمْرَانُ: صَلَّى بِنَا هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی نماز پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19840]
حکم دارالسلام
حديث صحيح الإسناد الأول منقطع، سعيد لم يسمعه من غيلان لكنه توبع ، والإسناد الثاني فيه شيخ عبدالوهاب لم يسمعه
الحكم: حديث صحيح الإسناد الأول منقطع، سعيد لم يسمعه من غيلان لكنه توبع ، والإسناد الثاني فيه شيخ عبدالوهاب لم يسمعه
حدیث نمبر: 19841 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي، وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ، وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ , وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں مجھے بلا بھیجا، میں حاضر ہوا تو فرمایا میں تم سے بہت سی احادیث بیان کرتا رہا ہوں جن سے ہوسکتا ہے کہ میرے بعد اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے اور یہ بات بھی اپنی معلومات میں شامل کرلو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے سلام کرتے تھے، جب تک میں زندہ رہوں، اسے مخفی رکھنا اور جب مرجاؤں تو اگر تمہارا دل چاہے تو بیان کردینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1226
الحكم: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19842 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: لَا تُحَدِّثْ بِهِمَا حَتَّى أَمُوتَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1226
الحكم: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19843 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، سَعِيدٌ ، وَيَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَا: ثَنَا سَعِيدٌ , وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا عَضَّ رَجُلًا عَلَى ذِرَاعِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَجَذَبَهَا، فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا، وَقَالَ: " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور یاد رکھو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا، اب جو آدمی اس کے متعلق کچھ کہتا ہے وہ اپنی رائے سے کہتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6892 ، م: 1673
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6892 ، م: 1673
حدیث نمبر: 19844 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّ هَيَّاجَ بْنَ عِمْرَانَ , أَتَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي قَدْ نَذَرَ: لَئِنْ قَدَرَ عَلَى غُلَامِهِ، لَيَقْطَعَنَّ مِنْهُ طَابِقًا أَوْ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ , فَقَالَ: قُلْ لِأَبِيكَ يُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ , وَلَا يَقْطَعْ مِنْهُ طَابِقًا , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ" ، ثُمَّ أَتَى سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے باطل قرار دے کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ۔ ہیاج بن عمران ایک مرتبہ عمران رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرے والد نے یہ منت مانی ہے کہ اگر میرا غلام میرے قابو میں آگیا تو میں اس کے جسم کا کوئی عضو کاٹ کر رہوں گا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر وہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19844]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19845 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ :" أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ رُءُوسًا سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا اور مرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19845]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19846 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، سَمُرَةَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، هَيَّاجٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ المعنى , قَالَا: ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ عَفَّانُ , إِنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ : أَنَّ غُلَامًا لِأَبِيهِ أَبَقَ، فَجَعَلَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ، أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ , قَالَ: فَقَدَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَعَثَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ: أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ" , قَالَ: وَبَعَثَنِي إِلَى سَمُرَةَ ، فَقَالَ: أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ هَيَّاجٍ فذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہیاج بن عمران کہتے ہیں کہ ان کے والد کا غلام فرار ہوگیا، انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر انہیں اس پر قدرت مل گئی تو وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، بعد میں وہ غلام ان کے قابو میں آگیا چناچہ انہوں نے مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیج دیا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر میرا سلام اور یوں کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے مجھے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19846]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
الحكم: إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
حدیث نمبر: 19847 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ هَيَّاجِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حکم دارالسلام
إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
الحكم: إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
حدیث نمبر: 19848 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنُ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: " لَكَ السُّدُسُ" قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، قَالَ:" لَكَ سُدُسٌ آخَرُ" قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، قَالَ:" إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا فوت ہوگیا ہے، اس کی وراثت میں سے مجھے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا تمہیں ایک چھٹا حصہ اور بھی ملے گا، جب وہ دوبارہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لئے ایک زائد لقمہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19848]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين
حدیث نمبر: 19849 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ قَالَ:" أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ , وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنتم میں پینے اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19850 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ الْمَعْنَى، قَالَا: ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُنْزِلَ فِيهَا الْقُرْآنُ , قَالَ عَفَّانُ: وَنَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا، وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور یاد رکھو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا، اب جو آدمی اس کے متعلق کچھ کہتا ہے وہ اپنی رائے سے کہتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1571، م: 1226
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1571، م: 1226
حدیث نمبر: 19851 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ، وَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوجائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19852 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي رَجَاءٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، أَبُو رَجَاءٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، الْخَفَّافُ ، سَعِيدٌ ، أَبِي رَجَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ" , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطَّلَعْتُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ , حَدَّثَنَا الْخَفَّافُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5198
حدیث نمبر: 19853 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطَّلَعْتُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3241، وهذا إسناد حسن فى الشواهد
الحكم: حديث صحيح، خ: 3241، وهذا إسناد حسن فى الشواهد
حدیث نمبر: 19854 مسند احمد
حَدَّثَنَا الْخَفَّافُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي