بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 8 از 10
حدیث نمبر: 19955 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَبِي ، رَجُلًا ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَشْهَدَ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدٍ، فَقَالَ عِمْرَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19955]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك ، وأبوه مجهول، وفيه رجل مبهم
الحكم: إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك ، وأبوه مجهول، وفيه رجل مبهم
حدیث نمبر: 19956 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِي ، رَجُلًا ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا بمَكَّةَ , فَحَدَّثَهُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19956]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف جداً، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 19957 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ" , قَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا، فَغَضِبَ عِمْرَانُ , فَقَالَ: لَا أَرَانِي أُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّه" , وَتَقُولُ إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا! قَالَ: فَجَفَاهُ وَأَرَادَ أَنْ لَا يُحَدِّثَهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ كَمَا تُحِبُّ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19957]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ثابت البناني لم يسمع من عمران لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ثابت البناني لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19958 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19959 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبَا نَضْرَةَ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ عَلَى مَسْجِدِنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ، وَأَبُو بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ، وَعُمَرُ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ، وَعُثْمَانُ سِتَّ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ، ثُمَّ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہماری مسجد کے پاس سے گذرے، میں ان کی طرف بڑھا اور ان کی سواری کی لگام پکڑ کر ان سے نماز سفر کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا، چھ یا آٹھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا، اس کے بعد وہ منٰی میں چار رکعتیں پڑھنے لگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19959]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد
حدیث نمبر: 19960 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَلَّمَ" ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ: أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ؟ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ كَمَا قَالَ، فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی تین رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا اور سلام پھیر کر گھر چلے گئے، ایک آدمی جس کا نام " خرباق " تھا اور اس کے ہاتھ کچھ زیادہ ہی لمبے تھے، اٹھ کر گیا اور " یا رسول اللہ " کہہ کر پکارا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو اس نے بتایا کہ آپ نے تین رکعتیں پڑھائی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور لوگوں سے پوچھا کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 574
الحكم: إسناده صحيح، م: 574
حدیث نمبر: 19961 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" أَيُّكُمْ قَرَأَ أَوْ أَيُّكُمْ الْقَارِئُ؟" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا , قَالَ: " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے سبح اسم ربک الاعلی والی سورت پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلی کس نے پڑھی ہے؟ ایک آدمی نے کہا میں نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 398
الحكم: إسناده صحيح، م: 398
حدیث نمبر: 19962 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19963 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 953
الحكم: إسناده صحيح، م: 953
حدیث نمبر: 19964 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، وَرَوْحٌ ، هِشَامٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنُ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وَرَوْحٌ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَقُومُ دَهِشًا إِلَى طَهُورِهِ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْكُنُوا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّيْنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُعِيدُهَا فِي وَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ قَالَ: " أَيَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟!" , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: زَعَمَ الْحَسَنُ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: أَسْرَيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے، رات کے وقت ایک مقام پر پڑواؤ کیا، تو فجر کی نماز کے وقت سب لوگ سوتے ہی رہ گئے، اس وقت بیدار ہوئے جب سورج طلوع ہوچکا تھا، جب سورج خوب بلند ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور لوگوں نے دو سنتیں پڑھیں، پھر انہوں نے فرض نماز ادا کی، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا ہم اسے کل آئندہ اس کے وقت میں دوبارہ نہ لوٹا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں سود سے منع کرے اور خود اسے قبول کرلے؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19964]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: أينهاكم ربكم الحسن لم يسمع من عمران لكنه توبع بدون هذآ الحرف
الحكم: حديث صحيح دون قوله: أينهاكم ربكم الحسن لم يسمع من عمران لكنه توبع بدون هذآ الحرف
حدیث نمبر: 19965 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ: زَعَمَ الْحَسَنُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ قَالَ: أَسْرَيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من أحد رواته
الحكم: حديث صحيح، الحسن لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من أحد رواته
حدیث نمبر: 19966 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ کر علاج نہیں کرتے، تعویذ نہیں لٹکاتے، پرندوں سے فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 218
الحكم: إسناده صحيح، م: 218
حدیث نمبر: 19967 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مَصْبُورَةٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوچھ کر کسی بات پر ناحق جھوٹی قسم کھائے، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنا لے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19968 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي دَهْمَاءَ الْعَدَوِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي دَهْمَاءَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ مِنْهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا , فَإِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِيهِ يَتَّبِعُهُ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ بِمَا يُبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص خروج دجال کے متعلق سنے، وہ اس سے دور ہی رہے (یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا) کیونکہ انسان اس کے پاس جائے گا تو یہ سمجھے گا کہ وہ مسلمان ہے لیکن جوں جوں دجال کے ساتھ شبہ میں ڈالنے والی چیزیں دیکھتاجائے گا، اس کی پیروی کرتا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19969 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ ، أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا رَجُلٌ وَالرَّجُلُ كَانَ يُسَمَّى فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ , قَالَ: ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَكَانَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، وَكَتَبَ عَلَيْهِ صَحَّ صَحَّ، إِنَّمَا ضَرَبَ أَبِي عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ , لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ الرَّجُلَ الَّذِي حَدَّثَ عَنْه يَزِيدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت کبھی جو کی روٹی سے سالن کے ساتھ سیراب نہیں ہوئے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19969]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، عمرو بن عبيد متروك متهم
الحكم: إسناده ضعيف جداً، عمرو بن عبيد متروك متهم
حدیث نمبر: 19970 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سِرَارِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟" فَقَالَ: لَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو اس کی جگہ دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19970]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، روي يزيد عن الجريري بعد الاختلاط لكنه توبع ، ثم الجريري متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، روي يزيد عن الجريري بعد الاختلاط لكنه توبع ، ثم الجريري متابع
حدیث نمبر: 19971 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ سُلَيْمَانُ: وَأَشُكُّ فِي عِمْرَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا عِمْرَانُ، هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ" , وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: سِرَارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو اس کی جگہ دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19971]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، وهذا إسناد منقطع، أبو العلاء بن الشخير لم يسمعه من عمران
الحكم: حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، وهذا إسناد منقطع، أبو العلاء بن الشخير لم يسمعه من عمران
حدیث نمبر: 19972 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّه" , فَقَالَ بُشَيْرٌ: فَقُلْتُ: إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا، وَإِنَّ مِنْهُ عَجْزًا , فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجِيئَنِي بِالْمَعَارِيضِ؟! لَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ مَا عَرَفْتُكَ , فَقَالُوا: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّهُ طَيِّبُ الْهَوَى، وَإِنَّهُ وَإِنَّهُ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى سَكَنَ وَحَدَّثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو، آئندہ میں تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا، لوگ کہنے لگے اے ابونجید! یہ اچھا آدمی ہے اور انہیں مسلسل مطمئن کرانے لگے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور حدیث بیان کرنے لگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 19973 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، وَعَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ الضُّبَعِيِّ ، شَيْخٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ , وَعَفَّانُ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ عِصَامٍ الضُّبَعِيُّ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ سورة الفجر آية 3 , فَقَالَ: " هِيَ الصَّلَاةُ: مِنْهَا شَفْعٌ، وَمِنْهَا وَتْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سورة الفجر کے لفظ " واشفع والوتر " کا معنی منقول ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طاق۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19973]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19974 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حُسَيْنٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ، فَقَالَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا، فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سب سے افضل ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نصف ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19974]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1117
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1117